Explained with ayahs 1–7
سب کو ڈھانپنے والی حقیقت
غاشیہ قیامت کا نام ہے اس لیے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہوگی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت ھل اتک پڑھی یعنی کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے ؟ تو آپ نے جواباً فرمایا نعم قد جآءنی یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہوں گی ان کے اعمال غارت ہوگئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے اعمال کیے تھے سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگئے ایک مرتبہ حضرت عمر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
سورة الْغَاشِیَة 3
قرآن مجید میں کہیں فرمایا گیا ہے کہ جہنم کے لوگوں کو زقوم کھانے کے لیے دیا جائے گا کہیں ارشاد ہوا ہے کہ ان کے لیے غسلین (زخموں کے دھو ون) کے سوا کوئی کھانا نہ ہوگا، اور یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ انہیں خاردار سوکھی گھاس کے سوا کچھ کھانے کو نہ ملے گا۔ ان بیانات میں در حقیقت کوئی تضاد نہیں ہے۔ ان کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہنم کے بہت سے درجے ہوں گے جن میں مختلف قسم کے مجرمین اپنے جرائم کے لحاظ سے ڈالے جائیں گے اور مختلف قسم کے عذاب ان کو دیے جائیں گے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ زقوم کھانے سے بچنا چاہیں گے تو غسلین ان کو ملے گا، اس سے بھی بچنا چاہیں تو خاردار گھاس کے سوا کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
لایسمن ولایغنی من جوع آیت سابقہ میں جو اہل جہنم کی غذاضریع بتلائی گئی ہے بعض کفار مکہ نے جب یہ آیت سنی تو کہنے لگے کہ ہمارے اونٹ تو ضریع کھا کر خوب فربہ ہوجاتے ہیں ان کے جواب میں فرمایا کہ جہنم کے ضریع کو دنیا کے ضریع پر قیاس نہ کرو۔ وہاں کے ضریع سے نہ فربہی پیدا ہوگی اور نہ بھوک سے نجات ملے گی۔
Read the full tafseer →’لَا یُسْمِنُ وَلَا یُغْنِیْ مِنۡ جُوۡعٍ‘۔ غذا کے اصل فائدے دو ہیں۔ جسم کی توانائی کو قائم رکھنا اور بھوک کی اذیت کو رفع کرنا۔ اس سے نہ جسم میں توانائی آئے گی اور نہ بھوک ہی رفع ہو گی۔ گویا صرف اس کے چبانے اور نگلنے کی اذیت ان کے حصے میں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
یہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے جسے خشک ہونے پر جانور بھی کھانا پسند نہیں کرتے، بہرحال یہ بھی زقوم کی طرح ایک نہایت تلخ، بدمزہ، اور ناپاک ترین کھانا ہوگا جو جزو بدن بنے گا نہ اس سے بھوک ہی مٹے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1: یہ ”غاشیہ“ کا ترجمہ ہے، اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام غاشیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
لیس لھم ............................ من جوع (7:88) ” خاردار سوکھی گھاس کے سوا کوئی کھانا ان کے لئے نہ ہوگا جو نہ موٹا کرے نہ بھوک مٹائے۔ “” ضریع “ کے معنی کے بارے میں دوقول ہیں ، ایک یہ کہ یہ ایک درخت ہوگا جو جہنم کے اندر ہی پیدا ہوگا جیسا کہ خود قرآن مجید میں زقوم آیا ہے کہ وہ ایک درخت ہے ، جو جہنم کی تہہ میں پیدا ہوگا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک کانٹے دار جھاڑی ہے جو زمین کے ساتھ چپکی ہوئی ہوتی ہے ، اور جب یہ سبز ہوتی ہے تو اسے شبرق کہتے ہیں اور جب اسے کاٹ لیا جائے اور خشک ہو تو ضریع کہتے ہیں ، اسے اونٹ چرتے ہیں۔ جب یہ خشک ہو تو اونٹ بھی اسے کھا نہیں سکتے کیونکہ اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ غرض…
Read the full tafseer →1 کھانے سے مقصود یا محض لذت حاصل کرنا ہوتا ہے یا بدن کو فربہ کرنا یا بھوک کو دفع کرنا۔ " ضریع " کے کھانے سے کوئی بات حاصل نہ ہوگی۔ لذت و مزہ کی نفی تو اس کے نام سے ظاہر ہے، رہے باقی دو فائدے ان کی نفی اس آیت میں تصریحاً کردی۔ غرض کوئی لذیذ و مرغوب کھانا ان کو میسر نہ ہوگا۔ یہاں تک دوزخیوں کا حال تھا۔ آگے ان کے بالمقابل جنتیوں کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →آیت 7{ لَّایُسْْمِنُ وَلَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ۔ } ”جو نہ تو موٹا کرے اور نہ ہی بھوک مٹائے۔“
اسے کھانے سے نہ تو انہیں کوئی تقویت ملے گی اور نہ ہی بھوک کا احساس ختم ہوگا۔ کسی بھی غذا کے یہی دو فائدے ہوتے ہیں ‘ لیکن اہل جہنم کو اس کھانے سے ان میں سے کوئی فائدہ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ اب اگلی آیات میں نیک لوگوں کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
5 غذا کے تین فائدے :۔ یعنی کوئی چیز کھانے کے تین ہی سبب ہوتے ہیں۔ ایک لذت حاصل کرنے کے لیے کھایا جائے۔ دوسرے بھوک دور کرنے کے لیے اور تیسرے غذائیت اور جسم کی تقویت کے لیے۔ ضریع سے لذت کے بجائے اس سے نفرت ہوگی کیونکہ وہ خاردار، بدبودار، تلخ اور زہریلا ہوگا۔ باقی دو اغراض کی قرآن نے صراحت سے نفی کردی۔ گویا اس کے کھانے سے تکلیف ہی بڑھے گی اور فائدہ کچھ حاصل نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
2۔ (کہ یہی دو مقصد غذا کے ہوسکتے ہیں) (آیت) ” لیس ...... ضریع “۔ طعام کا حصر آیت میں حصر اضافی ہے، مقصود صرف ایسی غذاؤں کی نفی ہے، جو جزوبدن بن سکیں، کھانے کے لائق ہوں، معدہ وطبیعت کے لیے قابل قبول ہو کر بھوک کی تکلیف دور کرسکیں، (آیت) ” عاملۃ ناصبۃ “۔ لفظی معنی نساک اہل کتاب مروی ہیں، یعنی اہل کتاب میں سے بڑی بڑی ریاضتیں کرنے والے۔ ھولآء النساک من الیھود والنصاری کمااخرجہ ابن ابی حاتم عن ابن عباس ؓ (روح) اور انہیں ابن عباس ؓ صحابی سے متعلق صحیح بخاری میں یہ مذکور ہے کہ آپ ان الفاظ سے نصاری مراد لیتے ہیں۔ وقال البخاری قال ابن عباس ؓ عاملۃ ناصبۃ النصاری (ابن کثیر) بعض نے وسعت دے کر کل اہل باطل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
لیس لھم طعام الامن ضریع قرآن مجید میں کہیں فرمایا گیا کہ دو زخیوں کو زقوم کھانے کو دیا جائے گا اور کہیں ارشاد ہوا کہ غسلین ملے گا اور یہاں فرمایا گیا کہ انہیں (ضریع) خار دار سوکھی گھاس کے سوا کچھ کھانے کو نہ ملے گا ان میں درحققیت کوئی تضاد نہیں ہے، مطلب یہ ہے کہ جہنم کے بہت سے درجے ہوں گے جن میں مختلف قسم کے مجرمین اپنے جرائم کے لحاظ سے ڈالے جائیں گے اور ان کو مختلف قسم کے عذاب دیئے جائیں گے، اس سے یہ شبہ دور ہوگیا کہ دوزخیوں کو دوزخ میں مختلف قسم کی غذائیں دی جائیں گی ؟ جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اور اس آیت میں حصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ ان کو ضریع کے علاوہ کچھ نہ ملے گا یہ حصر حقیقی نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →لا یمسن ولا یغنی من جوع . نہ وہ فربہی پیدا کرے گا ‘ نہ بھوک کے کام آئے گا اور کھانے کا مقصد انہی دو چیزوں میں سے کوئی چیز ہوتی ہے۔ لیس لھم طعام سے مراد یہ ہے کہ طعام اور طعام جیسی اور کوئی چیز جو فربہی اور بھوک کے لیے مفید ہو۔ دوزخ میں ان کے لیے نہ ہوگی جیسے آیت : وما محمد الا رسول کا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ نہ کاہن ہیں ‘ نہ شاعر ‘ نہ ساحر ‘ نہ کسی ایسے وصف کے حامل ہیں جو منافی رسول ﷺ ہو۔ آیت میں بعض کافروں کا طعام بیان کیا گیا ہے کہ ان کی خوراک صرف ضریع ہوگی لیکن کچھ دوسرے کافروں کا طعام ضریع بھی ہوگا اور زقوم بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
(4۔ 7) اور پھر جہنم میں داخل ہوں گے اور دوزخ میں کھولتے ہوئے چشمہ سے پانی پلائے جائیں گے اور ان کو ماسوائے ایک خاردار درخت کے اور کوئی کھانا نصیب نہیں ہوگا، ضریع یہ مکہ کے راستہ میں ایک خاردار درخت ہے جب یہ ہرا اور تازہ ہوتا ہے تو اسے اونٹ کھاتے ہیں اور خشک ہوجانے کے بعد بلی کے ناخنوں کی طرح ہوجاتا ہے، غرض وہ درخت نہ فربہ کرے گا اور نہ بھوک ہی کو دور کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
(لیس لھم طعام الا من ضریع :”ضریع“ ایک خار دار پودا ہے جو تازہ ہو تو اہل حجاز اسے ”شبرق“ کہتے ہیں اور خشک ہو تو ”ضریع“ جو سخت زہریلا ہوتا ہے۔ (دیکھیے بخاری، التفسیر، سورة :(ھل اتاک …) ، بعد ج : 31931)
Read the full tafseer →لایسمن ولایغنی من جوع۔
یعنی ضریع کو کھانے والا موٹا نہیں ہوگا جو کانٹے کھاتا ہے وہ کیسے موٹا ہوگا ؟ مفسرین نے کہا، یہ آیت نازل ہوئی تو مشرکوں نے کہا ہمارے اونٹ توضریع کھاکر موٹے ہوجاتے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی انہوں نے جھوٹ بوالا کیونکہ اونٹ اسے اس وقت کھاتا ہے جب وہ تر ہو جب وہ خشک ہوجائے تو اسے نہیں کھاتا ایک قول یہ کیا گیا ہے ان پر اس کا معاملہ مشتبہ ہوگیا انہوں نے اسے گمان یہ کیا کہ یہ بھی دوسری نفع مند چیزوں جڑی بوٹیوں کی طرح ہے کیونکہ مضارعۃ کا معنی مشابہت ہے انہوں نے اسے پایا کہ وہ نہ موٹا کرتی ہے اور نہ ہی بھوک مٹاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
14۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لیس لہم طعام الا من ضریع ان کے لیے کوئی کھانا سوائے کانٹے دار جھاڑی کے نہ ہوگا یعنی کانٹے دار اور خشک۔
15۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ قریش کی لغت میں ضریع کو موسم بہار میں شبرق کہتے ہیں جس کا معنی ہے کانٹے دار جھاڑ اور گرمی کی موسم میں ضریع کہتے ہیں۔
16۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ضریع سے مراد ہے شبرق جو کانٹے دار بوٹی جو زمین پر بچھی ہوتی ہے۔
17۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابوالجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ ضریع سلم کو کہتے ہیں اور یہ کانٹے ہوتے ہیں اور وہ کیسے…
Read the full tafseer →[لَّا يُسْمِنُ : وہ موٹا نہیں کرے گا ][ وَلَا يُغْنِيْ : اور نہ وہ بےنیاز کرے گا ][ مِنْ جوعٍ : بھوک سے ]
Read the full tafseer →﴿لَّا يُسْمِنُ وَ لَا يُغْنِيْ مِنْ جُوْعٍؕ007﴾ یہ ضریع نہ موٹا کرے گا اور نہ بھوک دفع کرے گا۔
حضرت ابو الدرداء ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا دوزخیوں کو (اتنی زبردست) بھوگ لگا دی جائے گی جو اکیلی ہی اس عذاب کے برابر ہوگی جو بھوک کے علاوہ ہوگا، لہٰذا وہ کھانے کے لیے فریاد کریں گے۔ اس پر ان کو ضریع کا کھانا دیا جائے گا جو نہ موٹا کرے گا نہ بھوک دفع کرے گا پھر دوبارہ کھانا طلب کریں گے تو ان کو ﴿ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ ﴾ (گلے میں اٹکنے والا کھانا) دیا جائے گا جو گلوں میں اٹک جائے گا، اس کے اتارنے کے لیے تدبیریں سوچیں گے تو یاد کریں گے کہ دنیا میں پینے کی چیزوں سے گلے کی اٹکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5:۔ ” لیس لہم “ دوزخیوں کے مشروب کا ذکر کر کے ان کے طعام کا ذکر فرمایا۔ ” ضریع “ ایک خاردار پودا ہے زمین پر مفروش، نہایت زہریلا کوئی جانور یا چوپایہ اس کے قریب بھی نہیں جاتا۔ سرسبز ہو تو شبرق اور خشک ہونے پر ضریع کہلاتا ہے۔ قال عکرمۃ و مجاھد الضریع نبت ذو شوک لاصق بالارض تسمیہ قیش الشبرق اذا کان رطبا، فاذا یبس فھو الضریع، لاتقربہ دابۃ ولا بھیمۃ ولا ترعاہ، وھو سم قاتل، وھو اخبث الطعام واشنعہ، علی ھذا عامۃ المفسرین (قرطبی ج 20 ص 29) ۔ دوزخیوں کو کھانے کے لیے ضریع کی قسم کا خاردار اور بدبودار نہایت زہریلا پودا دیا جائے گا جو کھانے والے کو موٹا کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(نام اور کوائف )
اس سورة کا نام سورة الغاشیۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں غاشیہ کا لفظ مذکور ہے ۔ اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے ۔ یہ سورة بھی مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھبیس 26 آیات ہیں ۔ یہ سورة بانوے 92 الفاظ اور تین سو اکیاسی 181 حروف پر مشتمل ہے۔
(موضوع)
سابقہ سورتوں کی طرح اس سورة میں قیامت ہی کا ذکر ہے۔ گذشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا تھا ۔ ایک وہ گروہ جس کے دل میں خدا کا حوف موجود ہے ۔ وہ تو قرآن کریم کی نصیحت کو حاصل کرے گا ۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو بدبخت ہے۔ وہ قرآن پاک کی نصیحت سے کنارہ کش رہے گا ۔ ان دو گروہوں کے ذکر کے بعد اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِيْ مِنْ جُوْعٍ 7 ۭ
سمن
السِّمَنُ : ضدّ الهزال، يقال : سَمِينٌ وسِمَانٌ ، قال : أَفْتِنا فِي سَبْعِ بَقَراتٍ سِمانٍ [يوسف/ 46] ، وأَسْمَنْتُهُ وسَمَّنْتُهُ : جعلته سمینا، قال :
( س م ن ) السمن
کے معنی موٹا پہ کے ہیں اور یہ ھزال کی ضد ہے اور سمین ( صیغہ صفت کے معنی ہیں فریہ ج سمان قرآن میں ہے : ۔ أَفْتِنا فِي سَبْعِ بَقَراتٍ سِمانٍ [يوسف/ 46] ہمیں ( اس خواب گی تعبیر) بتایئے کہ سات موٹی گایوں کو۔
غنی( فایدة)
أَغْنَانِي كذا، وأغْنَى عنه كذا : إذا کفاه . قال تعالی: ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] ، ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] ، لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب ¦ ھل بمعنی قد وبہ قال قطرب وقیل استفہامیۃ الغاشیۃ القیامۃ وسمیت بھا لا نھا تغشی الخلائق باھوالھا وقال سعید بن جبیر و محمد بن کعب الغاشیۃ النار تغشی وجوہ الکفار وعن ابن عباس انھا من اسما القیامۃ وعنہ انھا الساعۃ وجوہ الخ الجملۃ مستانفۃ وجوہ مرفوع علی الابتداء وان کان نکرۃ لوقوعہ فی مقام التفصیل خاشعۃ خبرہ۔ یومئذ ظرف للخبر۔ عاملۃ وصف لھا وکذانا صبۃ تصلی قراء الجمہور بفتح التاء مبنیا للفاعل وقریٔ بضمھا مبینا للمفعول والضمیر راجع الی الوجوہ والمرادواصحابھا وھی خبر آخر للمبتداء وکذ الشقی لیس لہم الجملۃ مستانفۃ لبیان حال اھل النار الامن ضریع یجوزان یکون فی موضع نصب علیٰ اصل الباب وان یکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
لَیْسَ لَہُمْ طَعَامٌ اِلاَّ مِنْ ضَرِیْعٍ ۔ لاَّیُسْمِنُ وَلاَ یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ ۔ (الغاشیۃ : 6، 7)
(ان کے کھانے کو صرف جھاڑ کانٹے ہوں گے۔ جو نہ موٹا کریں گے اور نہ بھوک ہی کو مٹائیں گے۔ )
ضَرِیْعٍ ، ایک خاردار زہریلی جھاڑی ہے جس کو کوئی جانور نہیں چھوتا۔
اہلِ جہنم کی غذا
ان بدنصیبوں کو پینے کو کھولتے ہوئے چشمے کا پانی ملے گا اور کھانے کو صرف جھاڑ کانٹے ملیں گے۔ اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ قرآن کریم کے بیان میں تضاد معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ سورة دخان میں فرمایا گیا ہے کہ ان شجرۃ الزقوم۔ طعام الاثیم ” بیشک زقوم کی جھاڑی گنہگاروں کی غذا ہوگی۔ “ سورة الحاقہ میں فرمایا گیا ہے ولاطعام الا من غسلین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
فہم القرآن
ربط سورت : الاعلیٰ کے آخر میں اچھے اور برے انجام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ آخرت ہر اعتبار سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے اس کا ذکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف میں بھی موجود ہے۔ الغاشیہ میں برے لوگوں کی سزا اور نیک لوگوں کی جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔
الغاشیہ کا معنٰی ہے ہر طرف سے لوگوں کو ڈھانپ لینے والی۔ قیامت کی ہولناکیاں اور اس کے اثرات اس قدرہمہ گیر ہوں گے کہ جاندار تو درکنار زمین و آسمانوں کی کوئی چیز بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی۔ قیامت کی ہمہ گیر شدّت اور ہولناکیوں کو واضح کرنے کے لیے فرمایا ہے کہ کیا آپ کے پاس ہر چیز پر چھا…
Read the full tafseer →7 : لَّا یُسْمِنُ وَلَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ (جو نہ فربہ کرے گا۔ اور نہ بھوک کو دور کرے گا) لایُسْمِنُؔ یہ محلاً مجرور ہے۔ کیونکہ ضریع کی صفت ہے۔ ولا یغنی من جوعؔ کہہ کر بتلایا کہ بھوک اور غذا کے فوائد اس میں بالکل نہ ہونگے۔ وہ دونوں فائدے ازالہ بھوک اور بدن کو تقویت دینا ہیں۔
Read the full tafseer →7 ۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا۔ ” لا یسمن ولا یغنی من جوع “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ حضرت عبد اللہ بن 3 ؎ عباس کے قول کے موافق غاشیۃ قیامت کا نام ہے غشاء کے معنی پردے کے ہیں قیامت کی سختیاں لوگوں کی عقل اور ان کے حواس پر پردہ کی طرح چھا جائیں گی جس سے وہ بالکل بدحواس ہوجائیں گے اس لئے قیامت کو غاشیہ کہا گیا۔ آدمی کے اعضاء میں منہ ایک بڑی دکھاوے کی چیز ہے اس لئے منہ کا ذکر کرکے سارا بدن اس سے مراد لیا گیا ہے اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں ھل کے معنی قد کے ہیں حاصل یہ ہے کہ اے نبی اللہ کے قیامت کے دن نیک و بد جو کچھ حالت گزرے گی اس کا حال تم کو اور تمہاری امت کو اکثر آیات قرآنی سے معلوم ہوچکا ہے پھر اس حالت کی تفصیل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل دوزخ اس دن طرح طرح سے خوار ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
رہا ان کا طعام تو (لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۔ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِيْ مِنْ جُوْعٍ ) خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔ یہ اس وجہ سے کہا گیا کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنا یا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کے کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ کھانا کرواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہوگا ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(5) دوزخیوں کا کھانا ضریع، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں ان کے لیے کھانے کا کوئی سامان نہیں ہوگا سوائے اس کے "۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ " ضریع " اصل میں زمین پر پھیلی پڑی ایک خاص قسم کی ایسی خادار گھاس کو کہا جاتا ہے جو کہ خشک ہوچکی ہو، خشک ہونے سے قبل اسے عرب " شبرق " کہتے ہیں۔ یہ نہایت گندی اور بدبودار گھاس ہوتی ہے، قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ یہ بڑی خبیث اور بری خوراک ہوگی جو اہل دوزخ کو کھلائی جائے گی، والعیاذ باللہ العظیم۔ ( روح، قرطبی، ابن کثیر، محاسن التاویل، مدارک التنزیل، صفوۃ التفاسیر اور خازن وغیرہ) یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ اہل دوزخ کے لیے جو " ضریع " کی خوراک کا ذکر یہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
دوزخ کی سختیاں اور جنت کے نظارے
تشریح : ان آیات میں جو مرنے کے بعد زندہ ہونا ' قیامت کا آنا میدان حشر میں لوگوں کی حالت ' اچھے لوگوں کا پر سکون ہونا ' بہترین زندگی کی خوشخبری ' جنت کا آنکھوں دیکھا نقشہ بیان کرنا ' اسی طرح برے لوگوں کی پریشانی اور ان کو ملنے والے عذاب جہنم کا نقشہ کھینچنا یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو اللہ قادر مطلق الہ العٰلمین نے کتاب مقدس قرآن پاک میں بتائی ہیں۔ کیونکہ بتانے والا بھیجنے والے کا بہترین نبی آخر الزمان ہیں اور لانے والا اللہ کا برگزیدہ فرشتہ حضرت جبرائیل امین اور وہ کتاب کہ جس کی قسم اللہ نے خود اٹھائی ہے کہ ہرگز نہ بدلنے والی بہترین کتاب ہدایت اور تمام کائنات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة الغاشیہ۔
آیات 1 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔
شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔
یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ف 9 یعنی مطمئن ہوں گے کہ دنیا میں نیک اعمال کی جو کمائی کی، اس کا پھل ملا۔
Read the full tafseer →(88:7) لا یمسن ولا یغنی من جوع۔ یہ ضریع کی صفت ہے (جو) نہ موٹا کرے گا اور نہ بھوک دور کرے گا۔
لا یسمن مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ اسمان (افعال) مصدر سے۔ وہ فریہ (موٹا) نہیں کرتا ہے یا کرے گا۔ سمن گھی۔ سمین موٹا۔ واؤ عاطفہ لا یغنی مضارع منفی واحد مذکر غائب اغناء (افعال) مصدر سے۔ دفع نہیں کرے گا۔ فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ یعنی نہ وہ بھوک کو دور کرے گا۔ جوع۔ بھوک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
لغات القرآن۔
الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔
تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…
Read the full tafseer →(ف 2) شان نزول : جب اوپر کی آیت نازل ہوئی کہ دوزخیوں کی خوراک ضریع کانٹوں دار گھانس ہوگی تو مشرکین کہنے لگے ضریع تو اچھی چیز ہے اس سے تو ہمارے اونٹ موٹے ہوجاتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتوں کا ٹکڑا نازل فرمایا کہ اس گھاس سے نہ کسی کا پیٹ بھرے گا اور نہ کوئی موٹا ہوگا بلکہ وہ شدید عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–19
[2] چہروں سے مراد لوگ ہیں، ان کو چہروں سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا نمایاں اظہار چہرے ہی سے ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الغاشیۃ
قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو
خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…
Read the full tafseer →(7) جو نہ جسم کو فربہ اور موٹا کرے اور نہ بھوک کو دفع کرے - ضریع ایک درخت ہے جس کو قریش شیرق کہتے ہیں جب تک یہ ہرا رہتا ہے اونٹ اس کو کھاتا ہے لیکن خشک ہونے کے بعد کوئی جانور اس کے پاس نہیں پھٹکتا نہایت بدبودار اور کڑوا ، غذا جو جزو بدن ہوکر جس کو موٹا کرتی ہے اور بھوک سے بےبنیاز کرتی ہے وہ بات اس غذا میں بالکل مفقود ہوگی یعنی نہ تو انگ ہی لگے گی اور نہ بھوک ہی ختم ہوگی۔
زقوم اور غسلین جس کا ذکر اور جگہ آیا ہے وہ اس کے منافی نہیں شاید بعض کو یہ غذا اور بعض کو وہ غذادیجائیگی اور مقصود تو اصل میں مرغوب اور لذیذ غذا کی نفی ہے ۔ یہ تمام اوصاف دین حق کے منکروں کے بتائے کہ جہنم میں ان کی یہ حالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
ف 1۔ یعنی نہ اس میں تغذی ہے نہ سد جوع ہے اور مصیبت جھیلنے سے مراد حشر میں پریشان پھرنا اور دوزخ میں سلاسل و اغلال کو لادنا، دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھنا اور اس کے اثر سے خستگی ظاہر ہے اور کھلوتا ہوا دشمہ وہی جس کو دوسری آیتوں میں حمیم فرمایا ہے اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اس کا بھی چشمہ ہوگا اور ضریع میں طعام کا حصر اضافی ہے یعنی اطعمہ مرغوبہ لذیذہ کی نفی مقصود ہے، پس زقوم و غسلین کے اثبات سے اس کا تعارض نہیں، یہ دوزخیوں کا حال ہوا۔ آگے اہل جنت کا حال ہے۔
Read the full tafseer →جو نہ تو فربہ کرے گا اور نہ ہی بھوک کو رفع کرے گا
7 ؎ کفار کو کھانے کے لیے جو پیش کیا جائے گا وہ ( زقوم) ہے یا ( ضریع) ہے یا دونوں ہیں یا دونوں نام ایک ہی چیز کے ہیں یا ایک جیسا ہونے کے باعث ان کو کھانے میں پیش کرنے کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے ۔ فرمایا وہ کھائیں گے تو مجبوراً کھائیں گے گویا ان کو وہ سزا ً کھانا پڑے گا اور یہ بھی ہے کہ وہ بھوک ہڑتال سے مر نہیں سکیں گے اور انجام کار کچھ کھانا ہی پڑے گا حالانکہ کھانے کے جو مقصد ہوتے ہیں وہ بھی اس پورے نہیں ہوں گے کیونکہ نہ تو بھوک میں کمی آئے گی اور نہ ہی اس سے بدن موٹا اور تازہ ہوگا اور غذا کے یہ دو ہی فائدے ہوتے ہیں ایک یہ کہ وہ معدہ میں ہضم ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ (that will neither nourish, nor satisfy hunger...88:7). When the preceding verse was revealed in which it was stated that the inmates of Hell will get food like Dari`, some of the pagans of Makkah [ mockingly ] said that their camels eat Dari` and yet they are fat and healthy. In response to their statement, the following verse of the Qur'an was revealed which means that they should not compare the Dari` of this world with that of the Hereafter. The latter will neither provide nutrition, nor satisfy their hunger.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
3 At some places in the Qur'an it has been stated that the dwellers of Hell will be given zaqqum to eat; at another place it has been said that they will have no other food but glhislin (washing from wounds) , and here that "their only food will he thorny, dry grass." There is, in fact, no contradiction between these statements. This may as welt mean that Hell will have many different compartment in which different categories of the criminals will be lodged according to their crimes, and subjected to different punishments. This may also mean that if they try to avoid zaqqum they will be given…
Read the full tafseer →