وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ ۟ۙوُجُوۡهٌ يَّوۡمَئِذٍ نَّاعِمَةٌ
اور بہت سے منہ (والے) اس روز شادماں ہوں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
[Other] faces, that Day, will show pleasure.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz
وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ ۟ۙوُجُوۡهٌ يَّوۡمَئِذٍ نَّاعِمَةٌ
اور بہت سے منہ (والے) اس روز شادماں ہوں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
[Other] faces, that Day, will show pleasure.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya
کچھ چہرے اُس روز با رونق ہوں گے
اور بہت سے منہ (والے) اس روز شادماں ہوں گے
بہت سے چہرے اس دن تروتازه اور (آسوده حال) ہوں گے
بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔
کتنے ہی منہ اس دن چین میں ہیں
(اس کے برعکس) اس دن بہت سے چہرے (حسین) بارونق اور ترو تازہ ہوں گے،
کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے۔
اور کچھ چہرے اس دن ہشاش بشاش ہوں گے
کتنے چہرے اس دن شگفتہ ہوں گے
(اور) کتنے ہی چہرے اس دن ہشاش بشاش (اور بارونق) ہوں گے
(بہت سے) چہرے اس روز بارونق ہوں گے
بہت سے چہرے اس روز تروتازہ ہوں گے۔
اور بہت چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے
On that very Day some faces shall be radiant with joy,
Many faces that day will be full of glamour,
Many faces that day will be full of glamour,
Faces that Day will be joyful,
In that day other faces will be calm,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
[Other] faces, that Day, will show pleasure.
However, on that day the faces of other people will be happy.
(Other) faces on that day shall be happy,
Faces on that Day shall be de lighted,
(Other) faces that Day will be joyful,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 8–16
ہر طرف سلام ہی سلام اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے، چناچہ فرمایا کہ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے خوش ہوں گے، جنتوں کے بلند بالا خانوں میں ہوں گے جس میں کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی۔ جیسے فرمایا آیت (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا ۭ وَلَهُمْ رِزْقُـهُمْ فِيْهَا بُكْرَةً وَّعَشِيًّا 62) 19۔ مریم :62) اس میں سوائے سلامتی اور سلام کے کوئی بری بات نہ سنیں گے اور فرمایا آیت (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا 25 ۙ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
سورة الْغَاشِیَة 3 قرآن مجید میں کہیں فرمایا گیا ہے کہ جہنم کے لوگوں کو زقوم کھانے کے لیے دیا جائے گا کہیں ارشاد ہوا ہے کہ ان کے لیے غسلین (زخموں کے دھو ون) کے سوا کوئی کھانا نہ ہوگا، اور یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ انہیں خاردار سوکھی گھاس کے سوا کچھ کھانے کو نہ ملے گا۔ ان بیانات میں در حقیقت کوئی تضاد نہیں ہے۔ ان کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہنم کے بہت سے درجے ہوں گے جن میں مختلف قسم کے مجرمین اپنے جرائم کے لحاظ سے ڈالے جائیں گے اور مختلف قسم کے عذاب ان کو دیے جائیں گے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ زقوم کھانے سے بچنا چاہیں گے تو غسلین ان کو ملے گا، اس سے بھی بچنا چاہیں تو خاردار گھاس کے سوا کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
لایسمن ولایغنی من جوع آیت سابقہ میں جو اہل جہنم کی غذاضریع بتلائی گئی ہے بعض کفار مکہ نے جب یہ آیت سنی تو کہنے لگے کہ ہمارے اونٹ تو ضریع کھا کر خوب فربہ ہوجاتے ہیں ان کے جواب میں فرمایا کہ جہنم کے ضریع کو دنیا کے ضریع پر قیاس نہ کرو۔ وہاں کے ضریع سے نہ فربہی پیدا ہوگی اور نہ بھوک سے نجات ملے گی۔
Read the full tafseer →اہل ایمان کا بیان: اب یہ دوسرے گروہ، یعنی اہل ایمان کا بیان ہے۔ فرمایا کہ بہت سے چہرے اس دن شگفتہ و شاداب ہوں گے۔ یہی بات سورۂ قیامہ میں ’وُجُوۡہٌ یَوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ۵ إِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ‘ (۲۲-۲۳) کے الفاظ میں گزر چکی ہے۔ اوپر منکرین قیامت کے چہروں کی مایوسی، افسردگی اور تھکاوٹ کا ذکر ہوا، یہ ان کے مقابل میں ان لوگوں کا بیان ہے جنھوں نے دنیا کو آخرت کے لیے برتا اور اس امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ ان کے چہروں پر ابدی فتح مندی کی بشاشت اور شگفتگی جھلک رہی ہو گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
یہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے جسے خشک ہونے پر جانور بھی کھانا پسند نہیں کرتے، بہرحال یہ بھی زقوم کی طرح ایک نہایت تلخ، بدمزہ، اور ناپاک ترین کھانا ہوگا جو جزو بدن بنے گا نہ اس سے بھوک ہی مٹے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1: یہ ”غاشیہ“ کا ترجمہ ہے، اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام غاشیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
وجوہ یومئذ ........................................ مبثوثة اہل جنت کے چہروں سے معلوم ہوگا کہ یہ کھاتے پیتے لوگ ہیں۔ وہ رضائے الٰہی کی وجہ سے بےحد مطمئن ہوں گے۔ نعمتوں میں بس رہے ہوں گے۔ ان کے اعمال کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جائے گا ، تعریف کی جائے گی اور انعامات پائیں گے۔ اس کے علاوہ ان کو بلند روحانی شعور حاصل ہوگا کہ اللہ ان کے اعمال سے راضی ہے۔ اور ان کو نظرآئے گا کہ اللہ راضی ہے۔ اس سے زیادہ روحانی سکون کسی کو نہیں مل سکتا کہ کوئی بھلائی کے کاموں پر مطمئن ہوجائے ، اور اس کا انجام اچھا ہو ، اور پھر وہ دیکھے گا کہ اس کا مالک اس سے راضی ہے اور جنتوں میں داخل ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
2 یعنی خوش ہوں گے کہ اپنی کوشش ٹھکانے لگی اور محنت کا پھل بہت خوب ملا۔
Read the full tafseer →آیت 8{ وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَۃٌ۔ } ”بہت سے چہرے اس روز تروتازہ ہوں گے۔“ ان کے چہرے ناز و نعمت میں پلے بڑھے لوگوں کے چہروں کی طرح بارونق ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
5 غذا کے تین فائدے :۔ یعنی کوئی چیز کھانے کے تین ہی سبب ہوتے ہیں۔ ایک لذت حاصل کرنے کے لیے کھایا جائے۔ دوسرے بھوک دور کرنے کے لیے اور تیسرے غذائیت اور جسم کی تقویت کے لیے۔ ضریع سے لذت کے بجائے اس سے نفرت ہوگی کیونکہ وہ خاردار، بدبودار، تلخ اور زہریلا ہوگا۔ باقی دو اغراض کی قرآن نے صراحت سے نفی کردی۔ گویا اس کے کھانے سے تکلیف ہی بڑھے گی اور فائدہ کچھ حاصل نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
3۔ (آیت) ” لا ..... لاغیۃ “۔ ماحول کے انتہائی خوشگوار ودلپذیر ہونے کا بیان ہے کہ اہل جنت کے کان میں بھنک تک کسی ایسی آواز کی نہ پڑے گی، جو طبعی یا عقلی یا کسی اور حیثیت سے گراں گزرے۔ (آیت) ” عین “۔ صورۃ مفرد ہے، معنی جمع ہے، یعنی اسم جنس۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
لیس لھم طعام الامن ضریع قرآن مجید میں کہیں فرمایا گیا کہ دو زخیوں کو زقوم کھانے کو دیا جائے گا اور کہیں ارشاد ہوا کہ غسلین ملے گا اور یہاں فرمایا گیا کہ انہیں (ضریع) خار دار سوکھی گھاس کے سوا کچھ کھانے کو نہ ملے گا ان میں درحققیت کوئی تضاد نہیں ہے، مطلب یہ ہے کہ جہنم کے بہت سے درجے ہوں گے جن میں مختلف قسم کے مجرمین اپنے جرائم کے لحاظ سے ڈالے جائیں گے اور ان کو مختلف قسم کے عذاب دیئے جائیں گے، اس سے یہ شبہ دور ہوگیا کہ دوزخیوں کو دوزخ میں مختلف قسم کی غذائیں دی جائیں گی ؟ جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اور اس آیت میں حصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ ان کو ضریع کے علاوہ کچھ نہ ملے گا یہ حصر حقیقی نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →وجوہ یومئذ . بہت چہرے اس روز (تنوین تکثیر) یا مؤمنوں کے چہرے (تنوین عوض مضاف الیہ) اس جگہ بھی چہروں سے چہروں والے آدمی مراد ہیں۔ ناعمہ . نعومت والے تروتازہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(8۔ 11) اور سچے مومنین کے چہرے قیامت میں بارونق اور اپنے نیک کاموں کی بدولت خوش اور جنت میں ہوں گے اور وہاں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
(لیس لھم طعام الا من ضریع :”ضریع“ ایک خار دار پودا ہے جو تازہ ہو تو اہل حجاز اسے ”شبرق“ کہتے ہیں اور خشک ہو تو ”ضریع“ جو سخت زہریلا ہوتا ہے۔ (دیکھیے بخاری، التفسیر، سورة :(ھل اتاک …) ، بعد ج : 31931)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
وجوہ یومئذ ناعمۃ، لسعیھا راضیہ، فی جنۃ عالیہ۔ یہاں ناعمہ نسبت کے معنی میں ہے یعنی ذات نعمہ یہ مومنوں کے چہرے ہوں گے انہوں نے اپنے امر اور اپنے عمل صالح کا انجام دیکھا تو وہ خوش ہوگئے جب انہیں اپنے عمل کے بدلے جنت دی جائے گی تو وہ ناراض ہوجائیں گے اس کا مجازی معنی یہ ہوگا انہوں نے جو عمل کیا ہوگا اس پر وہ راضی ہوگا یہاں واؤ مضمر ہے معنی ہے ووجوہ یومئذ واؤ مضمر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اور متقدم وجوہ کے درمیان فاصلہ ہے وجوہ سے مراد نفوس (ذاتیں) ہیں۔ وہ بلند جنت میں ہوں گے کیونکہ یہ آسمانوں سے بھی اوپر ہے جس طرح یہ پ ہے گزرچکا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ قدرومنزلت میں بلند ہیں کیونکہ ان میں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
14۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لیس لہم طعام الا من ضریع ان کے لیے کوئی کھانا سوائے کانٹے دار جھاڑی کے نہ ہوگا یعنی کانٹے دار اور خشک۔ 15۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ قریش کی لغت میں ضریع کو موسم بہار میں شبرق کہتے ہیں جس کا معنی ہے کانٹے دار جھاڑ اور گرمی کی موسم میں ضریع کہتے ہیں۔ 16۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ضریع سے مراد ہے شبرق جو کانٹے دار بوٹی جو زمین پر بچھی ہوتی ہے۔ 17۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابوالجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ ضریع سلم کو کہتے ہیں اور یہ کانٹے ہوتے ہیں اور وہ کیسے…
Read the full tafseer →[وُجوهٌ يَّوْمَىِٕذٍ : کچھ چہرے (لوگ) اس دن ][ نَاعِمَةٌ: تروتازہ ہونے والے ہیں ]
Read the full tafseer →اہل کفر کے بعض عذابوں کا تذکرہ فرمانے کے بعد اہل ایمان کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا۔ ﴿وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌۙ008﴾ (اس دن بہت سے چہرے بارونق ہوں گے) ۔ یعنی خوب خوش و خرم ہوں گے۔ اپنی عمدہ حالت اور نعمتوں کی خوبی اور فراوانی کی وجہ سے ان کے چہروں میں روشنی کی وجہ سے چمک اور دمک دیکھنے میں آرہی ہوگی، جیسے سورة تطفیف میں فرمایا ہے : ﴿تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيْمِۚ0024﴾ (اے مخاطب ! تو ان کے چہروں میں نعمتوں کی ترو تازگی کو پہچان لے گا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
6:۔ ” جوہ یومئذ “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ قرآن مجید کا یہ قانون ہے کہ جہاں تخویف کا ذکر آئیگا اس کے ساتھ بشارت کا ذکر بھی ہوگا یہاں بھی ” وجوہ “ سے اصحاب الوجوہ یعنی مومنین مراد ہیں۔ مومنین قیامت کے دن خوش وخرم ہوں گے۔ دنیا میں انہوں نے جو کام کیے ہوں گے ان کا اجر وثواب اور ان کی احسن جزاء دیکھ کر بہت خوش ہوں گے۔ عالیشان باغوں میں رہیں گے اور وہاں کوئی لغو اور بیہودہ بات نہیں سنیں گے ان باغوں میں ہر قسم کے اعلی مشروبات کے چشمے جاری ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(نام اور کوائف ) اس سورة کا نام سورة الغاشیۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں غاشیہ کا لفظ مذکور ہے ۔ اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے ۔ یہ سورة بھی مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھبیس 26 آیات ہیں ۔ یہ سورة بانوے 92 الفاظ اور تین سو اکیاسی 181 حروف پر مشتمل ہے۔ (موضوع) سابقہ سورتوں کی طرح اس سورة میں قیامت ہی کا ذکر ہے۔ گذشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا تھا ۔ ایک وہ گروہ جس کے دل میں خدا کا حوف موجود ہے ۔ وہ تو قرآن کریم کی نصیحت کو حاصل کرے گا ۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو بدبخت ہے۔ وہ قرآن پاک کی نصیحت سے کنارہ کش رہے گا ۔ ان دو گروہوں کے ذکر کے بعد اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →وُجُوْہٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَۃٌ 8 ۙ وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معنی چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ترکیب ¦ وجوہ مبتداء ناعمۃ خبرہ یومئذ ظرف للخبر لسعیھا واللام تتعلق براضیۃ وھی خبر بعد خبر۔ وکذافی جنۃ عالیۃ لا تسمع قرء الجہور بفتح الفوقیۃ ونصب لاغیۃ وقریٔ بصیغۃ المجھول ورفع لاغیۃ ولاغیۃ اما صفۃ موصوف محذوف ای کلمۃ لاغیۃ او مصدر ای لاتسمع انت یا ایھا المخاطب فی الجنۃ لغواً ای اذا وباطلا ھذہ الجملۃ وکذاما بعد ھا صفۃ جنۃ واکواب جمع کو ب وانہ قدح الذی لاعروۃ ولا خرطوم نما رق جمع نمرقۃ بضم النون وبکسرھا عند الفراء وھی وسادۃ صغیرۃ (تکیہ) زرابی جمع زربی وزربیۃ فی القاموس الزرابی النمارق والبسط و کل مایبسط وتیکاء علیھا الواحد زربی بالکسر وبالضم۔ تفسیر ¦ اب دوسرے فریق کا حال بیان فرماتا ہے یعنی نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَۃٌ۔ لِّسَعْیِھَا رَاضِیَۃٌ۔ فِیْ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ۔ (الغاشیۃ : 8 تا 10) (کچھ چہرے اس دن شگفتہ ہوں گے۔ اپنی کارگزاری پر خوش ہوں گے۔ عالی مقام جنت میں ہوں گے۔ ) قیامت کے دن اہل ایمان کا حال قیامت کے دن دوسرا گروہ اہل ایمان کا ہوگا۔ اب ان کا حال بیان کیا جارہا ہے۔ ان کے چہرے تروتازہ اور شگفتہ ہوں گے۔ وہ جب یہ دیکھیں گے کہ انھوں نے دنیا میں آخرت کا یقین پیدا کرکے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی میں جس طرح زندگی گزاری اور انھوں نے دنیا میں آخرت کے لیے جو کمائی کی، آج اس کا حاصل ان کے سامنے ہے تو وہ اپنے سعی و عمل کے بہترین نتائج کو دیکھ کر نہایت خوش اور مطمئن ہوں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کے مقابلے میں جنتی کا اکرام، مقام اور انعام۔ جہنمی اپنی ذلّت اور ناکامی کی وجہ سے تھکے تھکے دکھائی دیں گے اور ان پر انتہا درجے کی ذلّت چھائی ہوگی، ان کے مقابلے میں جنتی اپنے اعمال اور انعام دیکھ کر بےانتہا خوش ہوں گے اور ان کے چہروں پر شادمانی اور کامیابی کی مسکراہٹیں بکھر رہی ہوں گی انہیں اعلیٰ قسم کی جنت میں داخل کیا جائے گا۔ جنتی جنت میں کسی قسم کی آلودگی اور بےہودگی نہیں پائیں گے، جنت میں چشمے اور آبشاریں جاری ہوں گی، جنت میں اعلیٰ قسم کے تخت اونچی جگہ پر رکھے جائیں گے، جنتی ان پر تشریف فرما ہوں گے، ان کے سامنے آبخورے ہوں گے، جنت کے تختوں پر قطار اندر قطار تکیے…
Read the full tafseer →8 : وُجُوْہٌ یَّوْمَپذٍ (بہت سے چہرے اس روز) نَّاعِمَۃٌ ( بارونق ہونگے) ایمان والوں کے چہروں کی تعریف بیان کی گئی۔ ووجوہؔ نہیں فرمایا کیونکہ کلام اول طویل ہو کر منقطع ہوگیا۔ اس لئے مستقل جملہ لائے۔ ناعمہؔ خوش عیش نعمت یافتہ۔
Read the full tafseer →8 ۔ پھر اہل جنت کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا ” وجوہ یومئذ ناعمۃ “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں نعمتوں اور اعزاز میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
8۔ 16۔ اہل دوزخ کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ایک ایک نیکی کا دس گنے سے سات سو تک اور بعضی نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ اجر پائیں گے تو اپنے عملوں کے نتیجہ سے خوش ہوجائیں گے اوپر گزر چکا ہے کہ جنت کے درجے ہیں جیسا جس کا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو درجہ ملے گا لیکن دوزخ کے مقابلہ میں جنت کا ہر درجہ بلند اور عالی ہے۔ اس لئے فی جنۃ عالیہ فرمایا۔ سورة بقر میں آیت اذتبرا الذین اتبعوا من الذین اتبعوا گزر چکی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل دوزخ آپس میں لغو باتیں اور ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے اس واسطے فرمایا اہل جنت نہ کوئی لغو بات کہیں گے اور نہ کسی لغو بات کسی دوسرے سے سنیں گے…
Read the full tafseer →رہے نیکوکار تو روز ان کے چہرے ( نَّاعِمَةٌ) تروتازہ ہوں گے۔ یعنی ان نعمتوں کی تازگی عیاں ہوگی ان کے بدن تروتازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(6) کامیاب اور فرائز المرام لوگوں کے حال کا ذکرو بیان : سو کامیاب اور فائز المرام لوگوں کے حال اور ان کے انجام کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا " اور کتنے ہی چہرے اس روز شگفتہ ہوں گے " ( اپنی فائز المرامی اور دائمی کامیابی پر) اللھم اجعلنا منھم بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین۔ بہر کیف اس سے دوسرے گروہ کا حال بیان فرمایا گیا ہے جو کامیاب اور فائز المرام لوگوں کا گروہ ہوگا۔ جو اپنی اس آخری حقیقی اور دائمی کامیابی پر شاداں وفرحاں ہوں گے، ان کی اس بےمثال خوشی کے آثار ان کے چہروں پر مہروں پر رقصاں ہوں گے، اور ان کے چہرے شگفتہ و شاداب ہوں گے، جیسا کہ سورة قیامہ میں ارشاد فرمایا گیا ( آیت،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
دوزخ کی سختیاں اور جنت کے نظارے تشریح : ان آیات میں جو مرنے کے بعد زندہ ہونا ' قیامت کا آنا میدان حشر میں لوگوں کی حالت ' اچھے لوگوں کا پر سکون ہونا ' بہترین زندگی کی خوشخبری ' جنت کا آنکھوں دیکھا نقشہ بیان کرنا ' اسی طرح برے لوگوں کی پریشانی اور ان کو ملنے والے عذاب جہنم کا نقشہ کھینچنا یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو اللہ قادر مطلق الہ العٰلمین نے کتاب مقدس قرآن پاک میں بتائی ہیں۔ کیونکہ بتانے والا بھیجنے والے کا بہترین نبی آخر الزمان ہیں اور لانے والا اللہ کا برگزیدہ فرشتہ حضرت جبرائیل امین اور وہ کتاب کہ جس کی قسم اللہ نے خود اٹھائی ہے کہ ہرگز نہ بدلنے والی بہترین کتاب ہدایت اور تمام کائنات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ف 9 یعنی مطمئن ہوں گے کہ دنیا میں نیک اعمال کی جو کمائی کی، اس کا پھل ملا۔
Read the full tafseer →(88:8) ووجوہ یومئذ ناعمۃ : وجوہ۔ مبتدا۔ ناعمۃ اس کی خبر۔ یومئذ خبر کا ظرف۔ بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ ناعمۃ : نعوم (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے خوش، تروتازہ ، ہشاش بشاش۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر۔ (ف 3) اہل دوزخ کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ایک ایک نیکی کا دس گنا سے سات سو تک اور بعض نیکوں کا اس سے بھی زیادہ اجرپائیں گے تو اپنے نیک عملوں کے نتیجہ سے خوش ہوجائیں گے اوپرگذرچکا ہے کہ جنت کے درجے ہیں جیسا جس کا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو درجہ ملے گا، لیکن دوزخ کے مقابلے میں جنت کا ہر درجہ بلند اور عالی ہے ، اس لیے فی جنۃ عالیہ۔ فرمایا سورة بقرہ میں آیت ، اذ تبرالذین اتبعوا من الذین انتبعواگذرچ کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل دوزخ آپس میں لغوباتیں اور ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے اس واسطے فرمایا اہل جنت نہ کوئی لغو بات کہین گے اور نہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–19
[2] چہروں سے مراد لوگ ہیں، ان کو چہروں سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا نمایاں اظہار چہرے ہی سے ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الغاشیۃ قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…
Read the full tafseer →(8) بہت سے چہرے ان دن پررونق۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
ف 1۔ یعنی نہ اس میں تغذی ہے نہ سد جوع ہے اور مصیبت جھیلنے سے مراد حشر میں پریشان پھرنا اور دوزخ میں سلاسل و اغلال کو لادنا، دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھنا اور اس کے اثر سے خستگی ظاہر ہے اور کھلوتا ہوا دشمہ وہی جس کو دوسری آیتوں میں حمیم فرمایا ہے اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اس کا بھی چشمہ ہوگا اور ضریع میں طعام کا حصر اضافی ہے یعنی اطعمہ مرغوبہ لذیذہ کی نفی مقصود ہے، پس زقوم و غسلین کے اثبات سے اس کا تعارض نہیں، یہ دوزخیوں کا حال ہوا۔ آگے اہل جنت کا حال ہے۔
Read the full tafseer →کتنے چہرے اس روز تر و تازہ ہوں گے 8 ؎ بد بختوں کے ذکر کے بعد اب نیک بختوں کیا ذکر کیا جا رہا ہے جو دنیا میں نیک عمل کرتے رہے ، آخرت کو انہوں نے تسلیم کیا اور اللہ کی کتاب قرآن کریم کو ابدی ہدایت کی کتاب مانا اور محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی ہیں انہوں نے کیا جو کچھ کیا اور پھر جن حالات سے بھی وہ دو چار ہوئے ان کو انہوں نے بخوشی قبول کیا اور آج بحمد اللہ قیامت کے روز وہ پاس ہوگئے ان میں ایسے بھی ہیں جن کو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخلہ مل گیا اور وہ بھی ہیں جن کے اعمالنامے ان کے داہنے ہاتھ میں دیئے گئے جو ان کے پاس (Pass) ہوجانے کی علامت ہے۔ ان کے ناموں کے متعلق قرآن کریم نے پہلے ہی بتا دیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ (that will neither nourish, nor satisfy hunger...88:7). When the preceding verse was revealed in which it was stated that the inmates of Hell will get food like Dari`, some of the pagans of Makkah [ mockingly ] said that their camels eat Dari` and yet they are fat and healthy. In response to their statement, the following verse of the Qur'an was revealed which means that they should not compare the Dari` of this world with that of the Hereafter. The latter will neither provide nutrition, nor satisfy their hunger.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
3 At some places in the Qur'an it has been stated that the dwellers of Hell will be given zaqqum to eat; at another place it has been said that they will have no other food but glhislin (washing from wounds) , and here that "their only food will he thorny, dry grass." There is, in fact, no contradiction between these statements. This may as welt mean that Hell will have many different compartment in which different categories of the criminals will be lodged according to their crimes, and subjected to different punishments. This may also mean that if they try to avoid zaqqum they will be given…
Read the full tafseer →