لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌ ۟ۙلِّسَعۡيِهَا رَاضِيَةٌ
اپنے اعمال (کی جزا) سے خوش دل
— Fateh Muhammad Jalandhari
With their effort [they are] satisfied
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz
لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌ ۟ۙلِّسَعۡيِهَا رَاضِيَةٌ
اپنے اعمال (کی جزا) سے خوش دل
— Fateh Muhammad Jalandhari
With their effort [they are] satisfied
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya
اپنی کار گزاری پر خوش ہونگے
اپنے اعمال (کی جزا) سے خوش دل
اپنی کوشش پر خوش ہوں گے
(دنیا میں) اپنی کی ہوئی محنت کی وجہ سے پوری طرح مطمئن۔
اپنی کوشش پر راضی
اپنی (نیک) کاوشوں کے باعث خوش و خرم ہوں گے،
اپنی کوشش پر خوش۔
اپنی کارکردگی پر خوش ہوں گے
اپنی کوشش پر شاد و مطمئن۔
وہ اپنی کارگزاری پر خوش ہوں گے
اپنے کام کی بدولت خوش ہوں گے
وہ اپنی کوشش (کے نتائج) پر راضی ہوں گے۔
اپنی کمائی سے راضی
well-pleased with their striving.
well pleased with their endeavor,
well pleased with their endeavor,
Glad with their endeavor.
Glad for their effort past,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
With their effort [they are] satisfied
and pleased with the result of their deeds in the past.
Well-pleased because of their striving,
With their endeavour well pleased.
Pleased with their striving,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 8–16
ہر طرف سلام ہی سلام اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے، چناچہ فرمایا کہ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے خوش ہوں گے، جنتوں کے بلند بالا خانوں میں ہوں گے جس میں کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی۔ جیسے فرمایا آیت (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا ۭ وَلَهُمْ رِزْقُـهُمْ فِيْهَا بُكْرَةً وَّعَشِيًّا 62) 19۔ مریم :62) اس میں سوائے سلامتی اور سلام کے کوئی بری بات نہ سنیں گے اور فرمایا آیت (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا 25 ۙ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
سورة الْغَاشِیَة 4 یعنی دنیا میں جو سعی و عمل کر کے وہ آئے ہوں گے اس کے بہترین نتائج آخرت میں دیکھ کر خوش ہوجائیں گے۔ انہیں اطمینان ہوجائے گا کہ دنیا میں ایمان اور صلاح وتقوی کی زندگی اختیار کر کے انہوں نے نفس اور اس کی خواہشات کی جو قربانیاں کیں، فرائض کو ادا کرنے میں جو تکلیفیں اٹھائیں، احکام الہی کی اطاعت میں جو زحمتیں برداشت کیں، معصیتوں سے بچنے کی کوشش میں جو نقصانات اٹھائے اور جن فائدوں اور لذتوں سے اپنے آپ کو محروم کرلیا یہ سب کچھ فی الواقع بڑے نفع کا سودا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
لایسمن ولایغنی من جوع آیت سابقہ میں جو اہل جہنم کی غذاضریع بتلائی گئی ہے بعض کفار مکہ نے جب یہ آیت سنی تو کہنے لگے کہ ہمارے اونٹ تو ضریع کھا کر خوب فربہ ہوجاتے ہیں ان کے جواب میں فرمایا کہ جہنم کے ضریع کو دنیا کے ضریع پر قیاس نہ کرو۔ وہاں کے ضریع سے نہ فربہی پیدا ہوگی اور نہ بھوک سے نجات ملے گی۔
Read the full tafseer →’لِسَعْیِہَا رَاضِیَۃٌ‘۔ یہ بشاشت ان کے چہروں پر اس وجہ سے نمایاں ہو گی کہ انھوں نے دنیا میں آخرت کے لیے جو کمائی کی اس کا حاصل ان کے سامنے ہو گا اور وہ اس سے پوری طرح مطمئن ہوں گے کہ ان کے ہر عمل کا صلہ ان کو بھرپور ملا اور ان کے رب نے جو وعدے ان سے کیے وہ سب پورے کیے۔ اس کی تفصیل آگے کی آیات میں بھی موجود ہے اور اس کے بعد والی سورہ میں بھی اس کا ایک خاص پہلو بیان ہوا ہے۔ وہاں ان شاء اللہ ہم اس کے بعض دقیق مضمرات پر روشنی ڈالیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
یہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے جسے خشک ہونے پر جانور بھی کھانا پسند نہیں کرتے، بہرحال یہ بھی زقوم کی طرح ایک نہایت تلخ، بدمزہ، اور ناپاک ترین کھانا ہوگا جو جزو بدن بنے گا نہ اس سے بھوک ہی مٹے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1: یہ ”غاشیہ“ کا ترجمہ ہے، اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام غاشیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
وجوہ یومئذ ........................................ مبثوثة اہل جنت کے چہروں سے معلوم ہوگا کہ یہ کھاتے پیتے لوگ ہیں۔ وہ رضائے الٰہی کی وجہ سے بےحد مطمئن ہوں گے۔ نعمتوں میں بس رہے ہوں گے۔ ان کے اعمال کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جائے گا ، تعریف کی جائے گی اور انعامات پائیں گے۔ اس کے علاوہ ان کو بلند روحانی شعور حاصل ہوگا کہ اللہ ان کے اعمال سے راضی ہے۔ اور ان کو نظرآئے گا کہ اللہ راضی ہے۔ اس سے زیادہ روحانی سکون کسی کو نہیں مل سکتا کہ کوئی بھلائی کے کاموں پر مطمئن ہوجائے ، اور اس کا انجام اچھا ہو ، اور پھر وہ دیکھے گا کہ اس کا مالک اس سے راضی ہے اور جنتوں میں داخل ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
2 یعنی خوش ہوں گے کہ اپنی کوشش ٹھکانے لگی اور محنت کا پھل بہت خوب ملا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
آیت 9{ لِّسَعْیِہَا رَاضِیَۃٌ۔ } ”وہ اپنی کوشش کے نتائج پر راضی ہوں گے۔“ وہ لوگ اپنی دنیوی زندگیوں میں آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتے رہے تھے اور آخرت کی کامیابی کے لیے مسلسل کوشاں بھی تھے۔ چناچہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی کوششیں اور محنتیں قبول فرمائے گا۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کی اس آیت میں فرمایا گیا ہے : { وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَہَا سَعْیَہَا وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُہُمْ مَّشْکُوْرًا۔ } ”اور جو کوئی آخرت کا طلب گار ہو ‘ اور اس کے لیے اس کے شایانِ شان کوشش کرے اور وہ مومن بھی ہو تو یہی لوگ ہوں گے جن کی کوشش کی قدر افزائی کی جائے گی۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
6 اب دوسرے گروہ کا حال سنیے۔ ان لوگوں نے دنیا میں اسلام کی خاطر جو سختیاں برداشت کی تھیں آج وہ اپنے زندگی کے کارناموں پر بہت خوش ہوں گے۔ اس لیے کہ انہیں ان کا بہترین بدلہ ملنے کی توقع ہوگی۔ اسی لیے ان کے چہرے پررونق، امید افزا اور ہشاش بشاش ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
3۔ (آیت) ” لا ..... لاغیۃ “۔ ماحول کے انتہائی خوشگوار ودلپذیر ہونے کا بیان ہے کہ اہل جنت کے کان میں بھنک تک کسی ایسی آواز کی نہ پڑے گی، جو طبعی یا عقلی یا کسی اور حیثیت سے گراں گزرے۔ (آیت) ” عین “۔ صورۃ مفرد ہے، معنی جمع ہے، یعنی اسم جنس۔
Read the full tafseer →لسعیھا راضیۃ یعنی دنیا میں جو سعی صالح اور عمل نیک کر کے جب آخرت میں پہنچیں گے اور اس کے بہترین اور خوشگوار نتائج دیکھیں گے تو خوش ہوں گے اور انہیں اطمینان ہوجائے گا کہ دنیا میں ایمان اور صلاح وتقویٰ کی زندگی بسر کر کے انہوں نے جو نفس کی خواہشات کی قربانیاں دیں فرائض کو ادا کرنے میں جو تکلیف اٹھائیں معصیتوں سے بچنے کی کوشش میں جو نقصانتا اٹھائے اور جن فائدوں اور لذتوں سے خود کو محروم رکھا یہ سب کچھ فی الواقع بڑے نفع کا سودا تھا۔
Read the full tafseer →لسعیھا راضیۃ . اللہ کی اطاعت میں دنیا میں رہ کر جو کوششیں انہوں نے کی تھیں ‘ آخرت میں انکا ثواب دیکھ کر خوش ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(8۔ 11) اور سچے مومنین کے چہرے قیامت میں بارونق اور اپنے نیک کاموں کی بدولت خوش اور جنت میں ہوں گے اور وہاں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
(لیس لھم طعام الا من ضریع :”ضریع“ ایک خار دار پودا ہے جو تازہ ہو تو اہل حجاز اسے ”شبرق“ کہتے ہیں اور خشک ہو تو ”ضریع“ جو سخت زہریلا ہوتا ہے۔ (دیکھیے بخاری، التفسیر، سورة :(ھل اتاک …) ، بعد ج : 31931)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
وجوہ یومئذ ناعمۃ، لسعیھا راضیہ، فی جنۃ عالیہ۔ یہاں ناعمہ نسبت کے معنی میں ہے یعنی ذات نعمہ یہ مومنوں کے چہرے ہوں گے انہوں نے اپنے امر اور اپنے عمل صالح کا انجام دیکھا تو وہ خوش ہوگئے جب انہیں اپنے عمل کے بدلے جنت دی جائے گی تو وہ ناراض ہوجائیں گے اس کا مجازی معنی یہ ہوگا انہوں نے جو عمل کیا ہوگا اس پر وہ راضی ہوگا یہاں واؤ مضمر ہے معنی ہے ووجوہ یومئذ واؤ مضمر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اور متقدم وجوہ کے درمیان فاصلہ ہے وجوہ سے مراد نفوس (ذاتیں) ہیں۔ وہ بلند جنت میں ہوں گے کیونکہ یہ آسمانوں سے بھی اوپر ہے جس طرح یہ پ ہے گزرچکا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ قدرومنزلت میں بلند ہیں کیونکہ ان میں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
22۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے سورة الغاشیہ میں پڑھا متکئین فیہا یعنی اس دن کتنے ہی چہرے بارونق ہوں گے۔ 23۔ ابن ابی حاتم نے سفیان ؓ سے رویت کیا کہ آیت لسعیہا راضیۃ اپنی کوشش سے خوش ہوں گے یعنی اپنے عمل سے خوش ہوں گے۔
Read the full tafseer →[لِسَعْيِهَا : اپنی کوشش (کے نتیجے) سے ][ رَاضِيَةٌ: راضی ہونے والے ہیں ]
Read the full tafseer →﴿لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌۙ009﴾ اپنی کوشش کی وجہ سے خوش ہوں گے یعنی دنیا میں جو انہوں نے اعمال صالحہ والی زندگی گزاری اور احکام الٰہیہ پر عمل کرنے کے سلسلہ میں جو محنت اور کوشش کی ان کی وجہ سے خوش ہوں گے کیونکہ دنیا میں جو اچھے اعمال کیے تھے وہ انہیں وہاں کی نعمتیں ملنے کا سبب بنیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
6:۔ ” جوہ یومئذ “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ قرآن مجید کا یہ قانون ہے کہ جہاں تخویف کا ذکر آئیگا اس کے ساتھ بشارت کا ذکر بھی ہوگا یہاں بھی ” وجوہ “ سے اصحاب الوجوہ یعنی مومنین مراد ہیں۔ مومنین قیامت کے دن خوش وخرم ہوں گے۔ دنیا میں انہوں نے جو کام کیے ہوں گے ان کا اجر وثواب اور ان کی احسن جزاء دیکھ کر بہت خوش ہوں گے۔ عالیشان باغوں میں رہیں گے اور وہاں کوئی لغو اور بیہودہ بات نہیں سنیں گے ان باغوں میں ہر قسم کے اعلی مشروبات کے چشمے جاری ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(نام اور کوائف ) اس سورة کا نام سورة الغاشیۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں غاشیہ کا لفظ مذکور ہے ۔ اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے ۔ یہ سورة بھی مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھبیس 26 آیات ہیں ۔ یہ سورة بانوے 92 الفاظ اور تین سو اکیاسی 181 حروف پر مشتمل ہے۔ (موضوع) سابقہ سورتوں کی طرح اس سورة میں قیامت ہی کا ذکر ہے۔ گذشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا تھا ۔ ایک وہ گروہ جس کے دل میں خدا کا حوف موجود ہے ۔ وہ تو قرآن کریم کی نصیحت کو حاصل کرے گا ۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو بدبخت ہے۔ وہ قرآن پاک کی نصیحت سے کنارہ کش رہے گا ۔ ان دو گروہوں کے ذکر کے بعد اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →لِّسَعْيِہَا رَاضِيَۃٌ 9 ۙ سعی السَّعْيُ : المشي السّريع، وهو دون العدو، ويستعمل للجدّ في الأمر، خيرا کان أو شرّا، قال تعالی: وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] ، وقال : نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8] ، وقال : وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] ، وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] ، وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] ، إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] ، وقال تعالی: وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] ، كانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُوراً [ الإسراء/ 19] ، وقال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ترکیب ¦ وجوہ مبتداء ناعمۃ خبرہ یومئذ ظرف للخبر لسعیھا واللام تتعلق براضیۃ وھی خبر بعد خبر۔ وکذافی جنۃ عالیۃ لا تسمع قرء الجہور بفتح الفوقیۃ ونصب لاغیۃ وقریٔ بصیغۃ المجھول ورفع لاغیۃ ولاغیۃ اما صفۃ موصوف محذوف ای کلمۃ لاغیۃ او مصدر ای لاتسمع انت یا ایھا المخاطب فی الجنۃ لغواً ای اذا وباطلا ھذہ الجملۃ وکذاما بعد ھا صفۃ جنۃ واکواب جمع کو ب وانہ قدح الذی لاعروۃ ولا خرطوم نما رق جمع نمرقۃ بضم النون وبکسرھا عند الفراء وھی وسادۃ صغیرۃ (تکیہ) زرابی جمع زربی وزربیۃ فی القاموس الزرابی النمارق والبسط و کل مایبسط وتیکاء علیھا الواحد زربی بالکسر وبالضم۔ تفسیر ¦ اب دوسرے فریق کا حال بیان فرماتا ہے یعنی نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَۃٌ۔ لِّسَعْیِھَا رَاضِیَۃٌ۔ فِیْ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ۔ (الغاشیۃ : 8 تا 10) (کچھ چہرے اس دن شگفتہ ہوں گے۔ اپنی کارگزاری پر خوش ہوں گے۔ عالی مقام جنت میں ہوں گے۔ ) قیامت کے دن اہل ایمان کا حال قیامت کے دن دوسرا گروہ اہل ایمان کا ہوگا۔ اب ان کا حال بیان کیا جارہا ہے۔ ان کے چہرے تروتازہ اور شگفتہ ہوں گے۔ وہ جب یہ دیکھیں گے کہ انھوں نے دنیا میں آخرت کا یقین پیدا کرکے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی میں جس طرح زندگی گزاری اور انھوں نے دنیا میں آخرت کے لیے جو کمائی کی، آج اس کا حاصل ان کے سامنے ہے تو وہ اپنے سعی و عمل کے بہترین نتائج کو دیکھ کر نہایت خوش اور مطمئن ہوں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کے مقابلے میں جنتی کا اکرام، مقام اور انعام۔ جہنمی اپنی ذلّت اور ناکامی کی وجہ سے تھکے تھکے دکھائی دیں گے اور ان پر انتہا درجے کی ذلّت چھائی ہوگی، ان کے مقابلے میں جنتی اپنے اعمال اور انعام دیکھ کر بےانتہا خوش ہوں گے اور ان کے چہروں پر شادمانی اور کامیابی کی مسکراہٹیں بکھر رہی ہوں گی انہیں اعلیٰ قسم کی جنت میں داخل کیا جائے گا۔ جنتی جنت میں کسی قسم کی آلودگی اور بےہودگی نہیں پائیں گے، جنت میں چشمے اور آبشاریں جاری ہوں گی، جنت میں اعلیٰ قسم کے تخت اونچی جگہ پر رکھے جائیں گے، جنتی ان پر تشریف فرما ہوں گے، ان کے سامنے آبخورے ہوں گے، جنت کے تختوں پر قطار اندر قطار تکیے…
Read the full tafseer →9 : لِّسَعْیِھَا رَاضِیَۃٌ (اپنے کاموں کی بدولت خوش خوش ہونگے) اپنے اعمال اور نیکیوں پر خوش ہونگے۔ جب وہ ان پر ملنے والے ثواب و کرامت کو دیکھیں گے۔
Read the full tafseer →9 ۔” لسعیھا “ دنیا میں۔ ” راضیۃ “ آخرت میں جب ان کے اعمال کی وجہ سے جنت دیئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
8۔ 16۔ اہل دوزخ کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ایک ایک نیکی کا دس گنے سے سات سو تک اور بعضی نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ اجر پائیں گے تو اپنے عملوں کے نتیجہ سے خوش ہوجائیں گے اوپر گزر چکا ہے کہ جنت کے درجے ہیں جیسا جس کا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو درجہ ملے گا لیکن دوزخ کے مقابلہ میں جنت کا ہر درجہ بلند اور عالی ہے۔ اس لئے فی جنۃ عالیہ فرمایا۔ سورة بقر میں آیت اذتبرا الذین اتبعوا من الذین اتبعوا گزر چکی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل دوزخ آپس میں لغو باتیں اور ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے اس واسطے فرمایا اہل جنت نہ کوئی لغو بات کہیں گے اور نہ کسی لغو بات کسی دوسرے سے سنیں گے…
Read the full tafseer →(لِّسَعْيِهَا) اپنے اعمال سے۔ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا (رَاضِيَةٌ) خوش ہوں گے کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا پس انہوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انہیں ہر وہ چیز حاصل ہوگئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(6) کامیاب اور فرائز المرام لوگوں کے حال کا ذکرو بیان : سو کامیاب اور فائز المرام لوگوں کے حال اور ان کے انجام کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا " اور کتنے ہی چہرے اس روز شگفتہ ہوں گے " ( اپنی فائز المرامی اور دائمی کامیابی پر) اللھم اجعلنا منھم بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین۔ بہر کیف اس سے دوسرے گروہ کا حال بیان فرمایا گیا ہے جو کامیاب اور فائز المرام لوگوں کا گروہ ہوگا۔ جو اپنی اس آخری حقیقی اور دائمی کامیابی پر شاداں وفرحاں ہوں گے، ان کی اس بےمثال خوشی کے آثار ان کے چہروں پر مہروں پر رقصاں ہوں گے، اور ان کے چہرے شگفتہ و شاداب ہوں گے، جیسا کہ سورة قیامہ میں ارشاد فرمایا گیا ( آیت،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
دوزخ کی سختیاں اور جنت کے نظارے تشریح : ان آیات میں جو مرنے کے بعد زندہ ہونا ' قیامت کا آنا میدان حشر میں لوگوں کی حالت ' اچھے لوگوں کا پر سکون ہونا ' بہترین زندگی کی خوشخبری ' جنت کا آنکھوں دیکھا نقشہ بیان کرنا ' اسی طرح برے لوگوں کی پریشانی اور ان کو ملنے والے عذاب جہنم کا نقشہ کھینچنا یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو اللہ قادر مطلق الہ العٰلمین نے کتاب مقدس قرآن پاک میں بتائی ہیں۔ کیونکہ بتانے والا بھیجنے والے کا بہترین نبی آخر الزمان ہیں اور لانے والا اللہ کا برگزیدہ فرشتہ حضرت جبرائیل امین اور وہ کتاب کہ جس کی قسم اللہ نے خود اٹھائی ہے کہ ہرگز نہ بدلنے والی بہترین کتاب ہدایت اور تمام کائنات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ف 9 یعنی مطمئن ہوں گے کہ دنیا میں نیک اعمال کی جو کمائی کی، اس کا پھل ملا۔
Read the full tafseer →(88:9) لسعیہا راضیۃ : لام تعلیل کا نہیں بلکہ بمعنی ب ہے اور متعلق خبر ہے۔ ای راضیۃ لسعیھا۔ (وجوہ مبتدائ، راضیۃ خبر بعد خبر۔ لسعیہا متعلق خبر) سعیہا مضاف مضاف الیہ اس کی سعی ۔ اس کی کوشش ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کے لئے ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ وہ اپنی کاوشوں پر خوش ہوں گے۔ (ضیاء القرآن) ۔ اپنی کوشش سے خوش ہوں گے (تفسیر حقانی) تشریح میں لکھتے ہیں :۔ اپنی دنیاوی کوششوں سے جو انہوں نے اللہ کی راہ میں کی تھیں خوش ہوں گے کہ ہماری کا ششیں نیک ثمرہ لائیں۔ انہوں نے اللہ کی اطاعت میں رہ کردینا میں جو کوششیں کی تھیں آخرت میں ان کا ثواب دیکھ کر وہ خوش ہوں گے۔ ای لسعھا فی الدنیا راضیۃ فی الاخرۃ حیث اعطیت الجنۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر۔ (ف 3) اہل دوزخ کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ایک ایک نیکی کا دس گنا سے سات سو تک اور بعض نیکوں کا اس سے بھی زیادہ اجرپائیں گے تو اپنے نیک عملوں کے نتیجہ سے خوش ہوجائیں گے اوپرگذرچکا ہے کہ جنت کے درجے ہیں جیسا جس کا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو درجہ ملے گا، لیکن دوزخ کے مقابلے میں جنت کا ہر درجہ بلند اور عالی ہے ، اس لیے فی جنۃ عالیہ۔ فرمایا سورة بقرہ میں آیت ، اذ تبرالذین اتبعوا من الذین انتبعواگذرچ کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل دوزخ آپس میں لغوباتیں اور ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے اس واسطے فرمایا اہل جنت نہ کوئی لغو بات کہین گے اور نہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–19
[2] چہروں سے مراد لوگ ہیں، ان کو چہروں سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا نمایاں اظہار چہرے ہی سے ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الغاشیۃ قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…
Read the full tafseer →(9) اپنی کمائی اور اپنے اعمال کی بدولت خوش اور راضی ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
ف 1۔ یعنی نہ اس میں تغذی ہے نہ سد جوع ہے اور مصیبت جھیلنے سے مراد حشر میں پریشان پھرنا اور دوزخ میں سلاسل و اغلال کو لادنا، دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھنا اور اس کے اثر سے خستگی ظاہر ہے اور کھلوتا ہوا دشمہ وہی جس کو دوسری آیتوں میں حمیم فرمایا ہے اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اس کا بھی چشمہ ہوگا اور ضریع میں طعام کا حصر اضافی ہے یعنی اطعمہ مرغوبہ لذیذہ کی نفی مقصود ہے، پس زقوم و غسلین کے اثبات سے اس کا تعارض نہیں، یہ دوزخیوں کا حال ہوا۔ آگے اہل جنت کا حال ہے۔
Read the full tafseer →اپنے اعمال سے وہ خوش ہوں گے 9 ؎ یہ بات ان خوش نصیبوں ہی کی کی جا رہی ہے کہ جن کے چہرے ترو تازہ ہوں گے۔ فرمایا یہ تازگی ان میں اس لیے ہوگی کہ ان کی سعی و کوشش جو انہوں نے دنیوی زندگی میں کی تھی وہ مقبول ہوگی اور آج ان کو ان کو پھل مل گیا اور یہ امر بھی اپنی جگہ محقق ہے کہ نتیجہ اگر کامیابی کا ہو اور خصوصاً ہو بھی حسب منشا تو محنت کی تکان تو نتیجہ سنتے ہی دور ہوجاتی ہے اور ان کی مسرت اور خوشی کی پھر کوئی حد ہی نہیں رہتی اور ہر طرف سے مبارکبادیاں کی جاتی ہیں اور جب ان کی زبان سے اللہ تعالیٰ کی حمد و شکر کے الفاظ نکلتے ہیں تو وہ بہت پیارے اور بھلے معلوم ہوتے ہیں اور اب ان کو کسی اچھی پوسٹ کی امید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ (that will neither nourish, nor satisfy hunger...88:7). When the preceding verse was revealed in which it was stated that the inmates of Hell will get food like Dari`, some of the pagans of Makkah [ mockingly ] said that their camels eat Dari` and yet they are fat and healthy. In response to their statement, the following verse of the Qur'an was revealed which means that they should not compare the Dari` of this world with that of the Hereafter. The latter will neither provide nutrition, nor satisfy their hunger.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
4 That is. they will be overjoyed to see the best results in the Hereafter of their endeavours and deeds in the world; they will be satisfied to see that they had, in fact, made a profitable bargain in that they had adopted a life of faith, virtue and piety, by sacrificing the desires of the flesh, undergone hardships in carrying out their obligations, endured afflictions in obeying the Divine Commands, incurred losses and suffered deprivation of benefits and pleasures while trying to avoid sins and acts of disobedience.
Read the full tafseer →