النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ ۟ۙالنَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ
(یعنی) آگ (کی خندقیں) جس میں ایندھن (جھونک رکھا) تھا
— Fateh Muhammad Jalandhari
[Containing] the fire full of fuel,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz
النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ ۟ۙالنَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ
(یعنی) آگ (کی خندقیں) جس میں ایندھن (جھونک رکھا) تھا
— Fateh Muhammad Jalandhari
[Containing] the fire full of fuel,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Burooj
(اُس گڑھے والے) جس میں خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی
(یعنی) آگ (کی خندقیں) جس میں ایندھن (جھونک رکھا) تھا
وه ایک آگ تھی ایندھن والی
اس آگ والوں پر جو ایندھن سے بھری ہوئی تھی۔
اس بھڑکتی آ گ والے،
(یعنی) اس بھڑکتی آگ (والے) جو بڑے ایندھن سے (جلائی گئی) تھی،
جو سرا سر آگ تھی بہت ایندھن والی۔
جن میں آگ تھی بہت ایندھن والی
ایندھن بھری آگ کی
جن میں سخت دہکتے (بھڑکتے) ایندھن کی آگ تھی
ایندھن کی آگ والے
وہ آگ جو بڑی ایندھن والی تھی۔
یعنی آگ کی خندقیں جن میں ایندھن جھونک رکھا تھا
with fire abounding in fuel,
the (people of the) fire that was rich with fuel,
the (people of the) fire that was rich with fuel,
Of fire fed with fuel.
Of the fuel-fed fire,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
[Containing] the fire full of fuel,
by a burning fire
Of the fire (kept burning) with fuel,
Of fire fuel-fed,
Fire supplied (abundantly) with fuel:
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–10
سب سے افضل اور اعلیٰ دن اور ذکر ایک موحد کا بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت (جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61) 25۔ الفرقان :61) کی تفسیر میں گزر چکا، حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ بروج وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
سورة الْبُرُوْج 3 دیکھنے والے اور دیکھی جانے والی چیز کے بارے میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں، مگر ہمارے نزدیک سلسلہ کلام سے جو بات مناسبت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ دیکھنے والے سے مراد ہر وہ شخص ہے جو قیامت کے روز حاضر ہوگا اور دیکھی جانے والی چیز سے مراد خود قیامت ہے جس کے ہولناک احوال کو سب دیکھنے والے دیکھیں گے۔ یہ مجاہد، عکرمہ، ضحاک، ابن نجیح اور بعض دوسرے مفسرین کا قول ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
والیوم المرعودہ وشاھد ومشھود خلاصہ تفسیر میں ترمذی کی مرفوع حدیث کے حوالہ سے ان الفاظ کی تفسیر لکھدی گئی ہے کہ یوم موعود سے مراد روز قیامت اور شاہد سے مراد روز جمعہ اور مشہود سے مراد روز عرفہ ہے اس آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھائی اول برجوں والے آسمان کی۔ پھر قیامت کے روز کی پھر جمعہ اور عرفہ کے دنوں کی۔ مناسبت ان چیزوں کی قسم کی جواب قسم کیساتھ یہ کہ یہ سب چیزیں حق تعالیٰ جل شانہ کی قدرت کاملہ پر اور پھر قیامت کے روز حساب کتاب اور جزا سزا پر دلیل ہیں اور روز جمعہ و عرفہ مؤمنین کے لئے ذخیرہ آخرت جمع کرنے کے مبارک دن ہی، آگے جواب قسم میں ان کفار پر لعنت آئی ہے جنہوں نے مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →ہمارے نزدیک یہ قریش کے ان فراعنہ کو، جو مسلمانوں کو ایمان سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کی اذیتوں کا تختۂ مشق بنائے ہوئے تھے، جہنم کی وعید ہے۔ ان کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر وہ اس شقاوت سے باز نہ آئے تو وہ جہنم کی اس خندق میں پھینکے جائیں گے جو کبھی نہ بجھنے والی آگ سے بھری ہو گی۔
Read the full tafseer →5۔ 1 یہ خندقیں کیا تھیں ؟ ایندھن والی آگ تھیں، جو اہل ایمان کو اس میں جھونکنے کے لئے دہکائی گئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–18
3: مشہور تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے جو حضور اقدس ﷺ سے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں منقول ہے۔ اور وہ یہ کہ پچھلی کسی امت میں ایک بادشاہ تھا جو ایک جادوگر سے کام لیا کرتا تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیا کرو جسے میں جادو سکھاؤں، تاکہ میرے بعد وہ تمہارے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیجنا شروع کردیا۔ یہ لڑکا جب جادوگر کے پاس جاتا تو راستے میں ایک عبادت گزار شخص کے پاس سے گذرتا جو حضرت عیسیٰ ؑ کے اصلی دین پر تھا (ایسے شخص کو راہب کہتے تھے) اور توحید کا قائل تھا۔ یہ لڑکا اس کے پاس بیٹھ جاتا اور اس کی باتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
اس کے بعد اخدود (گڑھوں) کی تشریح کی جاتی ہے کہ وہ کیا ہیں ؟ وہ آگ ہے بڑھکتی ہوئی ، دراصل انہوں نے زمین کے اندر گڑھے بنوائے تھے ان میں آگ جلائی تھی اور ان کو آگ سے بھر دیا تھا ، یوں گڑھوں کو دہکتی ہوئی آگ بنایا گیا۔ یعنی وہ گڑھے دہکتی ہوئی آگ سے بھرے ہوئے تھے۔ ” گڑھوں والے قتل ہوئے “ وہ قتل ہونے اور اسی طرح جلائے جانے کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے جب یہ ظلم کیا تو وہ کیسے حالات میں تھے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
5 یعنی ملعون و مغضوب ہوئے وہ لوگ جنہوں نے بڑی بڑی خندقیں کھود کر آگ سے بھریں اور بہت سا ایندھن ڈال کر ان کو دھونکایا۔ ان " اصحاب الاخدود " سے کون مراد ہیں ؟ مفسرین نے کئی واقعات نقل کئے ہیں۔ لیکن صحیح مسلم، جامع ترمذی اور مسند احمد وغیرہ میں جو قصہ مذکور ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں کوئی کافر بادشاہ تھا۔ اس کے ہاں ایک ساحر (جادوگر) رہتا تھا۔ جب ساحر کی موت کا وقت قریب ہوا۔ اس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ ایک ہوشیار اور ہونہار لڑکا مجھے دیا جائے تو میں اس کو اپنا علم سکھا دوں تاکہ میرے بعد یہ علم مٹ نہ جائے۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا جو روزانہ ساحر کے پاس جا کر اس کا علم سیکھتا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت 5{ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ۔ } ”وہ آگ جو بڑی ایندھن والی تھی۔“ یعنی وہ خوفناک آگ جسے بہت زیادہ ایندھن جمع کر کے بھڑکایا گیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
3 اُخدود۔ الخدّ والاخدود۔ اخدود کا لفظ صاحب منجد کے نزدیک واحد ہے جبکہ بعض دوسرے اسے خدّ کی جمع بتاتے ہیں۔ بمعنی ایک لمبا اور گہرا گڑھا جو خود کھودا گیا ہو بمعنی خندق اور جمع کی صورت میں اس کا معنی خندقیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
3۔ آیت میں ایک خاص واقعہ کی تلمیح ہے۔ 523 ء میں یمن کا بادشاہ ایک ظالم یہودی ذونواس نامی حمیری خاندان کا تھا۔ مذہب حق اس وقت نصرانیت تھا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی صحیح تعلیمات کے مطابق، نصرانیوں پر اس نے شدید ظلم توڑنے شروع کیے۔ یہاں تک کہ آگ کی ایک بڑی بھٹی بنا کر اس میں انہیں جھونکا، اور ہزار ہا کی تعداد میں انہیں بھون ڈالا، روم کے تخت پر اس وقت شہنشاہ جسٹینن فرمانروائی کررہا تھا، اس کی تحریک اور ایما سے حبشہ کے مسیحی بادشاہ (نجاشی) نے یمن پر حملہ کرکے بالآکر اس پر اپنا قبضہ کرلیا، تاریخی حیثیت سے یہ خود تو اس کی تعدی خاص اہمیت رکھتی ہے، اور قرآن کی اس تلمیح میں خود اس کی اہمیت کی تصدیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
اصحاب اخدود کا واقعہ : اس سورت میں ” اصحاب اخدود “ کا واقعہ بیان ہوا ہے اور یہی واقعہ اس سورت کے نزول کا سبب ہے، گڑھوں میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں ڈال کر جلا دینے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں متعدد مرتبہ اس قسم کے واقعات ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک واقعہ صہیب رومی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک ساحر تھا، (بعض روایتوں میں کاہن کا لفظ ہے) جب وہ ساحر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں لہٰذا مجھے ایک ذہین لڑکا دے دیا جائے تاکہ میں اس کو اپنا علم سحر سکھا دوں میرے مرنے کے بعد اس علم کے ضائع ہونے کا…
Read the full tafseer →النار۔ ذوات الوقود یعنی آگ والے . بھڑکتی ہوئی۔ یہ آگ کی صفت ہے کو کثرت التہاب کی وجہ سے آگ کی بڑائی کو ظاہر کر رہی ہے۔ الف لام جنسی ہے۔ ربیع بن انس کا قول ہے جن مؤمنوں کو آگ میں پھینکا گیا تھا۔ آگ کے مس کرنے سے پہلے ہی اللہ نے ان کی روحوں کو قبض کرلیا تھا اور اس طرح (جلنے سے) ان کو محفوظ رکھا تھا اور خندق کے کناروں پر بیٹھے ہوئے کافروں کو آگ کے شعلوں نے خندق سے نکل کر جلا دیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
(4۔ 7) ان تمام چیزوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ کافر کے لیے آپ کے رب کا عذاب بڑا سخت ہے، خندق والے یعنی بہت سے ایندھن کی آگ والے ملعون ہوئے، یا یہ کہ اس سے مسلمان مراد ہیں جن کی آگ کی خندقوں میں ڈال کر بادشاہ نے جلوا دیا تھا جس وقت کفار جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کو آگ میں جلوایا تھا بیٹھے ہوئے تھے اور جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ کر رہے تھے اس کو دیکھ رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(1) قتل اصحب الاخدود :”خد یخد خدا“ (ي)”الارض وفی الارض“ زمین میں لمبا گڑھا کھودنا۔”الاخدود“ لمبا گڑھا۔ خندق، کھائی۔ اس کی جمع ”اخادید“ ہے۔ یعنی عظیم الشان برجوں والا آسمان، قیامت کا دن، کسی بھی مقام پر حاضر ہونے والے لوگ اور کوئی بھی موقع جس میں لوگ حاضر ہوتے ہیں، یہ سب چیزیں اگر اپنا وجود رکھتی ہیں اور یقیناً ان کے وجود میں کوئی شبہ نہیں تو یہ بات بھی یقینی سمجھو کہ جن لوگوں نے بڑی بڑی خندقیں کھدوا کر انہیں آگ سے بھرا ، پھر جو اہل ایمان اپنے ایمان پر ڈٹے رہے اور مرتد نہ ہوئے انہیں اس آگ میں پھینک کر ان کے جلنے کا تماشا دیکھتے رہے ، وہ مارے گئے، کیونا کہ وہ زبردست ہستی جو ان برجوں والے آسمان…
Read the full tafseer →النارذات الوقود :، النار، الاخدود سے بدل ہے، یہ بدل اشتمال ہے عام قرات وقود میں واؤ کے فتحہ کے ساتھ ہے جس کا معنی ایندھن ہے، قتادہ اور ابورجاء اور نصر بن عاصم نے واؤ کے ضمہ کے ساتھ مصدر کی صورت میں پڑھا ہے یعنی شعلوں والی، ایک قول یہ کیا گیا ہے لوگوں نے بدنوں کو جلانے والی، ابن اشہب، عقیلی اور ابوسمال عدوی اور ابن سمقیع نے النارذات دونوں کو مرفوع پڑھا ہے یعنی اسے ایسی آگ میں جلادیا جو ایندھن والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
23۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن نجی کے طریق سے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ اصحاب الاخدود گھاٹی والوں کے نبی حبشی تھے۔ اصحاب الاخدود کا ذکر 24۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر حسن کے طریق سے علی بن ابی طالب ؓ سے آیت اصحب الاخدود کے بارے میں روایت کیا کہ اصحاب الاخدود حبشہ کے رہنے والے تھے۔ 25۔ ابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے قتل اصحب الاخدود خندقوں والے ہلاک ہوئے کے بارے میں روایت کیا کہ کہ اصحاب الاخدود نبطی تھے۔ 26۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت قتل اصحاب الاخدود کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ بنی اسرائیل میں سے تھے کہ جنہوں نے زمین میں خندقیں کھودیں، پھر ان میں آگ جلائی، پھر ان خندقوں…
Read the full tafseer →[النَارِ : اس آگ (والے) جو ][ ذَاتِ الْوَقُوْدِ : ایندھن والی ہے ] (آیت۔ 5) ۔ اَلنَّارِ کی جر بتارہی ہے کہ اس سے پہلے اس کا مضاف اَصحٰبُ محذوف ہے۔ یہ مرکب اضافی اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ کا بدل ہے، جبکہ ذَاتِ الْوَقُوْدِ صفت ہے اَلنَّارِ کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ان آیات میں اللہ جل شانہ نے آسمان کی قسم کھائی ہے اور اس کی صفت ذات البروج بتائی ہے (ان بروج سے بڑے بڑے ستارے مراد ہیں) نیز ﴿وَ الْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ002﴾ کی اور شاہد اور مشہود کی بھی قسمیں کھائی ہیں، سنن ترمذی (ابواب التفسیر من سورة البروج) میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ﴿وَ الْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ﴾ سے یوم القیامة اور الیوم المشھود سے یوم عرفہ اور الشاھد سے یوم الجمعہ مراد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کوئی دن ایسا نہیں جس پر سورج نکلتا چھپتا ہو جو یوم جمعہ سے افضل ہو، اس دن میں ایسی گھڑی ہے کہ جو بھی کوئی مومن بندہ اس میں اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تنبیہ وتہدید برسرتابی انسان از طاعت خداوندی وتاکید استقامت بر ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء ذات البروج ...... الی ........ واللہ علی کل شیء شھید “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کا ذکر تھا اور یہ کہ خداوند عالم جب عالم پر قیامت برپا فرمانے کا ارادہ کرے گا تو آسمان شق کردیا جائے گا اور ستارے منتشر ہوجائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے غرض نظام عالم سب ہی درہم برہم ہوجائے گا، اب اس سورت میں حق تعالیٰ اپنی عظمت وکبریائی اور اس کے دلائل و شواہد کا ذکر کرتے ہوئے انسان کی نافرمانی اور اطاعت خداوندی سے سرتابی پر وعید اور تنبیہ فرمارہا ہے اور ساتھ ہی یہ کہ ایمان والوں کو صبر و استقامت اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
4:۔ ” قتل “ یہ تیسرے شاہد سے متعلق ہے۔ قتل ای لعن۔ ” الاخدود “ خندق۔ ” النار “ اس سے بدل الاشتمال ہے۔ ” الوقود “ ایندھن۔ اصحاب الاخدود سے وہ مشرک بادشاہ اور اس کے حواری مراد ہیں۔ جو اہل توحید کو خندقوں میں جلاتے تھے کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا جو ایک صنم کی عبادت کرتا اور لوگوں کو بھی اس کی عبادت پر مجبور کرتا تھا۔ اس نے بڑی بڑی خندقیں کھود کر ان میں کافی ایندھن ڈلوا کر آگ بھڑکائی جو شخص بت کی پوجا سے انکار کرتا اسے اس آگ میں ڈال دیا جاتا۔ اسی اثناء میں ایک عوت کو پکڑ کر لائے جس کی گود میں بچہ تھا اس عورت سے انہوں نے کہا اگر تو بت کی عبادت نہیں کرتے گی تو تیرا بچہ آگ میں ڈال دیا جائیگا مگر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
(سابقہ سورة کے ساتھ ربط) اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر انسان کی فطری ترقی کو سامنے رکھ کر کیا تھا۔ کہ اگر انسان فطرت کے مطابق ترقی کی منازل طے کرے گا۔ تو اس کا اگلا قدم قیامت اور بلند ی کی طرف ہوگا۔ اس سورة میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت اس کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ اور نوع انسانی میں بدامنی کے پیش نظر قیامت پر دلیل قائم کی ہے۔ بنی نوع انسان میں بدامنی ظلم اور زیادتی قدرتی تقاضا ہے۔ کہ قیامت واقع ہو۔ اور جزائے عمل کی نوبت آئے۔ حدیث شریف (ب 2 تفسیر ابن کثیر ص 491 ج 4) میں حضرت ابوہریرہ اور بعض دوسرے صحابہ سے منقو ل ہے کہ حضور ﷺ عشاء کی نماز میں سورة بروج سورة…
Read the full tafseer →النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ 5 ۙ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ وقد يقال : وَقَدَتِ النارُ تَقِدُ وُقُوداً ووَقْداً ، والوَقُودُ يقال للحطب المجعول للوُقُودِ ، ولما حصل من اللهب . قال تعالی: وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجارَةُ [ البقرة/ 24] ، أُولئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ [ آل عمران/ 10] ، النَّارِ ذاتِ الْوَقُودِ ( و ق د ) وقدت النار (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ترکیب ¦ والسماء الوا وللقسم۔ ذات البروج صفۃ السماء والیوم موصوف الموعود وصفۃ المجموع معطوف علی السماء وکذا شاھد و مشھود و جواب القسم محذوف ای لتبعثن ونحوہ وقیل جو ابہ قتل اصحاب الاخدود الخ وقیل جو ابہ ان بطش ربک لشدید الاخدود جمع خدوھو الشق العظیم المستطیل فی الارض کالخندق و منہ الخد لمجاری الدموع النار قرء الجمہور بالجر علی انھا بدل اشتمال من الاخدود لان الاخدود مشتمل علیھا وقیل التقدیر ذی النار وقرء بالرفع علی انھا خبر مبتدء محذوف ایھی النار ذات الوقود صفۃ النار بانھا نا رعظیمۃ والوقود عند الجمہور بفتح الواو وقریٔ بضمھا وھو الحطب اذہم ظرف لقتل ای لعنواحین احرقوا بالنار قاعدین علی جو انبھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ ۔ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ ۔ اِذْھُمْ عَلَیْھَا قُعُوْدٌ۔ وَّھُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُھُوْدٌ۔ (البروج : 4 تا 7) (مارے گئے ایندھن بھری آگ کی گھاٹی والے۔ جبکہ وہ اس پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور جو کچھ وہ اہل ایمان کے ساتھ کررہے تھے اسے دیکھ رہے تھے۔ ) قریش کو تنبیہ اور اصحاب الاخدود کی وضاحت پیشِ نظر آیات کریمہ میں بعض تاریخی واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قریش کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تم سے پہلے بھی ایسے لوگ گزرے ہیں جنھوں نے ایمان والوں پر بےپناہ مظالم کیے حتیٰ کہ ان کو آگ میں جلایا۔ لیکن آخر ان کا انجام ہلاکت و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
فہم القرآن ربط سورت : سورة الانشقاق کے آخر میں دو کردار اور ان کا الگ الگ انجام بیان ہوا۔ اسی بات کو البروج میں تھوڑی سی تفصیل کے ساتھ ذکر فرما کر یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں پر بڑا مہربان ہے، فرعون اور ثمود جیسا کردار رکھنے والوں کے لیے بڑا سخت ہے۔ فلکیات کے ماہرین نے آسمان دنیا کے بارہ برج متعین کر رکھے ہیں مگر قرآن مجید کے بروج سے مراد یہ برج نہیں ہیں۔ کچھ اہل علم نے قرآنی بروج سے مراد پہلے آسمان کے دروازے لیے ہیں جن دروازوں کے ذریعے ملائکہ زمین پر اترتے اور پھر آسمان میں داخل ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی گنجائش ہے کہ بروج سے مراد آسمان کے دروازوں میں…
Read the full tafseer →5 : النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ (بہت سے ایندھن کی آگ والے) نحو : یہ الاخدود سے بدل الاشتمال ہے۔ ذات الوقودؔ یہ النار کی صفت ہے کیونکہ وہ بہت بڑی آگ تھی۔ زیادہ لکڑیاں ڈالنے اور لوگوں کے ابدان سے بہت بلند لپٹ مارنے والی تھی۔
Read the full tafseer →5 ۔” النار ذات الوقود “ بھڑکتی ہوئی۔ یہ آگ کی صفت ہے کہ کثرت التہاب کی وجہ سے آگ کی بڑائی کو ظاہر کررہی ہے۔ الف لام جنسی ہے۔ ربیع بن انس کا قول ہے جن مومنوں کو آگ میں پھینکا گیا تھا۔ آگ کے مس کرنے سے پہلے ہی اللہ نے ان کی روحوں کو قبض کرلیا تھا اور اس طرح (جلنے سے) ان کو محفوظ رکھا تھا اور خندق کے کناروں پر بیٹھے ہوئے کافروں کو آگ کے شعلوں نے خندق سے نکال کر جلا دیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ ان سات تاروں اور بارہ برجوں کا ذکر سورة فرقان میں گزر چکا ہے حاصل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ حصے ہیں ان کے ہر ایک حصہ کو برج کہتے ہیں۔ چاند ‘ سورج ‘ زہرہ ‘ مریخ ‘ عطارد ‘ مشتری ‘ زحل ‘ تاروں کا دورہ جب ان برجوں میں ہوتا ہے تو اس سے مہینہ سال کی گنتی ‘ تبدیلی موسم ‘ طرح طرح کی اللہ کی قدرتیں نمودار ہوتی ہیں۔ ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس آیت میں یوم موعہد قیامت کا نام ہے اور یوم مشھود عرفہ اور شاھد جمعہ کا اس حدیث کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس باب میں اور بھی متفرق روایتیں ہیں جن سے ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کی تقویت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بےپایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد (قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ ) ، ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے والے۔ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے ( الْاُخْدُوْدِ ) سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا اہل ایمان نے اس سے انکار کردیا کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(4) منکرین جزا و سزا کے لیے سخت تنبیہ و تذکیر کا ذکرو بیان : سو منکرین جزا و سزا کی تذکیر و تنبیہ کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " مارے گئے خندقوں والے " کہ وہ حق کی دشمنی اور اپنے ظلم وعدوان کے سبب اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کی رحمت و عنایت سے محروم و مطر ود اور اس کی لعنت و پھٹکار کے مورد و مستحق ہوگئے، اور اس طرح وہ دارین کی ہلاکت و تباہی اور بربادی کا شکار ہوگئے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اپنی اس دشمنی اور حق بیزاری کے نتیجے میں ان کو کل قیامت کے اس روز جزا میں ایسی ہولناک خندقوں سے واسطہ پڑے گا جن میں وہاں کی ہولناک آگ دہکتی بھڑکتی ہوگی، جہاں پہلے ان کو ان خندقوں کے کناروں پر بٹھایا جائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة البروج۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
ف 1 ” اصحاب الاخدود “ (کھائیاں کھودنے والوں) کا قصہ کتب صحاح وغیرہ میں مذکور ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں ایک کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن رہتا تھا جب وہ کاہن بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے عرض کی کہ کوئی زیرک قسم کا لڑکا مجھے دو تاکہ میں اسے اپنا علم سکھلا دوں بادشاہ نے ایک لڑکا اس کے حوالے کردیا۔ وہ لڑکا ہر روز کاہن کی خدمت میں جا کر جادو کا علم حاصل کرنے لگا۔ اس کے راستہ میں ایک راہبر رہتا تھا جو مسلمان تھا ہوتے ہوتے وہ لڑکا خفیہ طور پر اس کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا۔ ایک روز اس نے دیکھا کہ ایک بڑے جانور (شیر یا سانپ) نے لوگوں کا راستہ روک رکھا ہے جسے راستہ سے ہاٹنے سے وہ عاجز ہیں اس…
Read the full tafseer →(85:5) النار ذات الوقود : ذات الوقود مضاف مضاف الیہ مل کر صفت ہے النار کی۔ یعنی ایسی آگ جو ایندھن سے بھڑکائی گئی ہو۔ وقود بمعنی ایندھن۔ جیسے اور جگہ آتا ہے فاتقوا النار التی وقود ھا الناس والحجارۃ (2:24) تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
لغات القرآن۔ ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔ تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
خدا پر ایمان لانے پر ظالم بادشاہ کی سرکشی اور انجام۔ (ف 3) اس سورت میں ایک بادشاہ کا قصہ لوگوں کو آگ میں جلانے کا بیان فرمایا ہے۔ اس قصہ کی روایت صحیح مسلم ترمذی اور نسائی وغیرہ میں ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں کوئی کافر بادشاہ تھا اس کے ہاں ایک جادوگر رہتا تھا جب جادوگر بوڑھا ہوا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس ایک ہوشیار اور ہونہار لڑکا بھیج دو جسے میں اپناجادو سکھاسکوں، کہ میرے بعد یہ علم مٹ نہ جائے۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا جو روزانہ جادوگر کے پاس جاکرجادو سیکھتا تھا، راستہ میں ایک راہب رہتا تھا اس کے پاس بیٹھنے لگا اور اس کا کلام اس کے دل نشین ہوتا گیا اور خفیہ طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
[3] دیکھنے والے اور دیکھی جانے والی چیز کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں لیکن جو قول رائج اور سلسلہ کلام کے مناسب ہے وہ یہ ہے کہ دیکھنے والے سے مراد ہر وہ شخص ہے جو قیامت کے روز حاضر ہوگا اور دیکھی جانے والی چیز سے مراد خود قیامت ہے جس کی ہولناکیاں سب دیکھنے والے دیکھیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
قاتل کی توبہ 1: ایک طرف اصحاب اخدود کے مظالم ہیں کہ بارہ ہزار عیسائیوں کو محض اس پاداش میں نذر آتش کردیا کہ انہوں نے ایک خدا کو کیوں تسلیم کیا اور دوسری جانب اللہ کا عفو وکرم دیکھئے کہ وہ ان لوگوں کو توبہ مغفرت کی دعوت دیتا ہے ۔ اور کہتا ہے کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت پہنچانا بہت بڑا گناہ ہے اور جب تک ظالم توبہ نہیں کرتا ، اللہ کی بخشش کا حق دار نہیں ہے ، بلکہ جہنمی ہے ۔ اور عذاب احتراق کا مستحق ہے ۔ اس آیت سے بعض مفسرین نے یہ استدلال کیا ہے کہ قاتل بھی اگر خلوص کے ساتھ توبہ کرلے تو اس کی توبہ عنداللہ مقبول ہوسکتی ہے ۔ کیونکہجب ان لوگوں کو دعوت دی جارہی ہے ، جنہوں نے ہزاروں عیسائیوں…
Read the full tafseer →(5) جو خندقیں ایندھن والی آگ بنی ہوئی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
ف 6۔ حدیث ترمذی میں مرفوعا ہے کہ یوم معود قیامت کا دن ہے اور شاہد جمعہ کا دن، لیکن علی قول المشہور وہ یوم عرفہ ہے جس میں حجاج اپنے اپنے مقامات سے سفر کر کے عرفات میں اس یوم کے قصد سے جمع ہوتے ہیں، تو گویا وہ دن مقصود اور دوسرے لوگ حاضری کا قصد کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →جن میں خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی 5 ؎ مطلب یہ ہے کہ ( اصحب الاخدود) نے جو کھائیاں کھدوائی تھیں ان میں خوب ایندھن ڈال کر اس کو جلایا گیا ۔ یہ گویا ان کی ترکیب تھی اس مقصد کے لے اہل ایمان کو ڈرایا جائے کہ وہ اس جلتی ہوئی آگ کے الائو کو دیکھ کر ڈر جائیں اور اپنے مؤقف سے باز آجائیں ۔ عین ممکن ہے کہ ان کے خیال میں یہ تجویز کارگر ہونے کے امکانات ہوں لیکن اس معاملہ میں حکومت کے اعوان و انصار بری طرح ناکام ہوئے جب کہ لوگوں نے بخوشی اس عذاب کو قبول کرلیا کہ آخرت کے عذاب کے مقابلہ میں اس آگ کی کچھ حیثیت نہیں ہے۔ اس میں ہمارے لیے یہ سبق بھی موجود ہے کہ مصلحت اندیشانہ اسلام کہ جس طرح کی سوسائٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (and by the Promised Day, and by that which attends, and that which is attended...85:2-3) With reference to a prophetic Hadith reported by Tirmidhi, the phrase 'the Promised Day' refers to the Day of Judgment; the phrase 'that which attends' refers to 'Friday'; and the phrase 'that which is attended' refers to the day of ` Arafah. Thus in this verse, Allah has taken oath by four objects: [ 1] 'the sky, the one having stellar formations'; [ 2] 'the Day of Judgment'; [ 3] 'Friday'; and [ 4] 'the Day of ` Arafah'. The relationship between the objects of oath and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
3 The conunentators have expressed many different views about "the seer" and "that which is seen". In our opinion what fits in well with the context is that the seer is every such person who will witness the Day of Resurrection and that which is seen is the Resurrection itself, the dreadful scenes of which will be seen by aII This is the view of Mujahid. 'Ikrimah, Dahhak, lbn Nujaih and some other conunentators.
Read the full tafseer →