Al-Burooj 85:19

Al-Burooj · from ayah 19

85:19

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍ ۟ۙبَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِىۡ تَكۡذِيۡبٍۙ

لیکن کافر (جان بوجھ کر) تکذیب میں (گرفتار) ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But they who disbelieve are in [persistent] denial,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Burooj

All translations of 85:19

مگر جنہوں نے کفر کیا ہے وہ جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

لیکن کافر (جان بوجھ کر) تکذیب میں (گرفتار) ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

(کچھ نہیں) بلکہ کافر تو جھٹلانے میں پڑے ہوئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس کے باوجود کافر لوگ حق کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بلکہ کافر جھٹلا نے میں ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بلکہ ایسے کافر (ہمیشہ حق کو) جھٹلانے میں (ہی کوشاں رہتے) ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلکہ کافر تو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

لیکن یہ کفار جھٹلانے ہی میں لگے رہیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جن لوگوں نے کفر (کی گندگی) کو اپنا رکھا ہے وہ جھٹلانے ہی میں لگے ہوئے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اصل یہ ہے کہ کافر تکذیب میں لگے ہوئے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

لیکن یہ کافر جو ہیں یہ جھٹلانے ہی میں لگے رہیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لیکن کافر جان بوجھ کر تکذیب میں گرفتار ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

The unbelievers are indeed engaged in denying it, calling it a lie,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But those who disbelieve are (engaged) in denying (the truth) .

— Muhammad Taqi Usmani

But those who disbelieve are (engaged) in denying (the truth) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay! The disbelievers (persisted) in denying.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, but those who disbelieve live in denial

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But they who disbelieve are in [persistent] denial,

— Saheeh International

In fact, the disbelievers had always rejected (Our revelations).

— Muhammad Sarwar

Nay! those who disbelieve are in (the act of) giving the lie to the truth.

— Muhammad Habib Shakir

But those who disbelieve are engaged in denial.

— Abdul Majid Daryabadi

And yet the Unbelievers (persist) in rejecting (the Truth)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 85:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–22

عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی ؟ پھر فرمایا ہے کہ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کیساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہوجاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–21

سورة الْبُرُوْج 8 روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو اپنے طاقتور جتھوں کے زعم میں خدا کی زمین پر سرکشیاں کر رہے ہیں۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ کچھ تمہیں خبر بھی ہے کہ اس سے پہلے جن لوگوں نے اپنے جتھوں کی طاقت کے بل پر یہی سرکشیاں کی تھیں وہ کس انجام سے دوچار ہوچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

ان الذین فتنوالمومنین یہ ان ظالموں کی سا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر اگٓ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا، اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے، دوسرا ولھو عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے ہی جملے کا بیان اور تاکید ہو اور معنے یہ ہوں کہ جہنم میں جا کر اس کو ہمیشہ آگ میں جلتے رہنے کا عذاب ملے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی دنیا میں سزا کا ذکر ہو، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن مؤمنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو تو تکلیف سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

انکار کا اصل سبب ضد ہے: اس ’بَلْ‘ سے پہلے کلام کا کچھ حصہ بربنائے قرینہ محذوف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ جو کچھ ان کو سنایا جا رہا ہے، ہے تو یہ حرف حرف حق۔ کسی کے لیے بھی اس سے انکار کی گنجائش نہیں ہے لیکن یہ قیامت کے منکرین جان بوجھ کر جھٹلانے کے درپے ہیں اور اب ایسی پچ آ پڑی ہے کہ کسی طرح اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–19

17۔ 1 یعنی ان پر میرا عذاب آیا اور میں نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، جسے کوئی ٹال نہیں سکا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–22

4: یعنی کفر کا برا انجام معلوم ہوجانے کے باوجود وہ اپنے کفر سے باز نہیں آ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–20

ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ یہ رات دن جھٹلاتے ہی رہتے ہیں ، حالانکہ اللہ نے انہیں گھیررکھا ہے اور اللہ کا قہر وغضب بھی انہیں گھیرے ہوئے رہے اور اللہ کا علم بھی۔ وہ تو ایسے ہیں جیسے ایک عام سیلابی طوفان میں چوہوں کا حال ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی کفار ان قصوں سے عبرت نہیں پکڑتے اور عذاب الہٰی سے ذرا نہیں ڈرتے۔ بلکہ ان قصوں کے اور قرآن کے جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 16–21

آیت 16{ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔ } ”وہ جو ارادہ کرلے ‘ کر گزرنے والا ہے۔“ ظاہر ہے اس کے ارادے کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 19–21

13 یعنی ان کفار مکہ کا شغل اور وطیرہ ہی یہ بن گیا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو آیات نازل ہوتی ہیں یہ انہیں جھٹلانے پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔ فرعون اور ثمود کے لشکر بھی یہی کچھ کیا کرتے تھے اور یہ قریش مکہ تو قوت اور جمعیت کے لحاظ سے ان کا دسواں حصہ بھی نہیں۔ پھر یہ بیچارے آخر کس کھیت کی مولی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر طرف سے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے اور کسی وقت بھی انہیں برے انجام سے دوچار کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 19–20

11۔ (کہ وہ اس کے قبضہ قدرت وپنجہ عقوبت سے کسی طرح بچ کر نہیں جاسکتے) (آیت) ” بل .... تکذیب “۔ یہ کفار ناہنجار، بجائے اس کے کہ ان واقعات و حکایات پر غور کرتے، اور ان سے سبق لیتے، الٹے ان کی تردید وتکذیب ہی میں لگے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–22

ان الذین فتنوا المئومنین یہ ان ظالموں کی سزا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر آگ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے دوسری ولھم عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے، ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے جملہ کا بیان اور تاکید ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی سزا کا ذکر ہو جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن ومنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ نے ان کو تو تکلیف سے اس طرح بچا لیا کہ آگ کے چھونے سے پہلے ہی ان کی ارواح قبض کرلی گئیں، پھر یہ آگ اس قدر بھڑک اٹھی کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بل الذین کفروا فی تکذیب . بلکہ تمہاری قوم کے یہ کافر تو نزول عذاب کے گزشتہ اقوام اور سابق امتوں کے مقابلہ میں زیادہ مستحق ہیں۔ انہوں نے تو گزشتہ اقوام کی ہلاکت کے قصے سن بھی لیے اور ان کی بربادی کے نشانات بھی دیکھ لیے ‘ اس کے باوجود یہ قرآن کی تکذیب میں اس قدر منہمک ہیں کہ پچھلے کافر تکذیب انبیاء میں اتنا انہماک نہیں رکھتے تھے حالانکہ گزشتہ آسمانی کتابیں اعجازی نہیں تھیں اور قرآن کی عبارت بھی معجزہ ہے۔ تکذیب میں تنوین تعظیم ہے یعنی بڑی تکذیب۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ اس جگہ بل کلام سابق سے رخ پھیرنے کے لیے نہیں بلکہ ابتدائیہ ہے جس کا معنی ہے لیکن اور جملہ استدراکیہ ہے جس کا ربط جواب قسم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–20

(17۔ 20) کیا آپ کو ان لشکروں کا واقعہ معلوم ہے یعنی فرعون اور ثمود کا اور جو لوگ ان سے پہلے ہوئے اور جو ان کے بعد میں ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے تکذیب پر ان کی کیسی سخت پکڑ کی بلکہ یہ مکہ کے کافر قرآن و حضور کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے اور ان کے اعمال سے باخبر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 19–20

(بل الذین کفروا…: حق تو یہ تھا کہ پہلے سرکشوں کا انجام دیکھ کر یہ لوگ ایمان لے آتے، مگر یہ الٹا خواہ مخواہ جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں، حالانکہ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں چ اورں طرف سے گھیرے ہوئے ہے، وہ جب چاہے پکڑ لے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–19

ھل اتاک حدیث الجنود۔۔۔ تا۔۔۔ فی تکذیب یعنی اے محمد یقینا آپ تک ان کافر جماعتوں کی خبر پہنچی ہے جنہوں نے انبیاء کو جھٹلایا اور اس کے ذریعے آپ کو مانوس کیا جارہا ہے اور آپ کو تسلی دی جارہی ہے پھر ان جماعتوں کی وضاحت کی اور فرمایا، فرعون وثمود، یہ دونوں الجنود سے بدل ہیں معنی اس کا یہ ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جو کیا ہے آپ نے اس پہچان لیا ہے جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا بلکہ یہ لوگ جو آپ پر ایمان نہیں رکھتے وہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں جس طرح پہلے لوگوں کا طریقہ تھا فرعون اور ثمود کو خاص کیا گیا کیونکہ قوم ثمود عرب علاقوں میں سے تھی اور ان کا قصہ مشہور ومعروف تھا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–21

5۔ ابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الودود سے مراد ہے حبیب یعنی بہت محبت کرنے والا آیت ذوالعرش المجید۔ عرش کا مالک بڑی شان والا۔ یعنی وہ صاحب عرش ہے اور کریم ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوْا : بلکہ جنھوں نے انکار کیا وہ لوگ ] فِيْ تَكْذِيْبٍ : جھٹلانے میں (پڑے ہوئے) ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–22

﴿هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُنُوْدِۙ0017﴾ (الی آخر السورۃ) (کیا آپ کے پاس لشکروں کی بات پہنچی ہے یعنی فرعون اور ثمود کی، بلکہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ تکذیب میں ہیں اور اللہ ان کو ادھر ادھر سے گھیرے ہوئے ہے بلکہ وہ قرآن مجید ہے جو لوح محفوظ میں ہے) ۔ ان آیات میں بعض بڑے بڑے کافروں باغیوں یعنی فرعون وثمود کا تذکرہ فرمایا ہے، ارشاد فرمایا کیا آپ کے پاس لشکروں کا قصہ پہنچا ہے یعنی فرعون اور اس کے لشکروں کا واقعہ اور قوم ثمود کا واقعہ آپ کو معلوم ہے ؟ یہ استفہام تقریری ہے یعنی آپ کو ان لوگوں کے کبر نخوت اور غرور اور بغاوت پھر ان کی تعذیب اور ہلاکت کے واقعات معلوم ہوچکے ہیں آپ یہ واقعات موجودہ منکرین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

تنبیہ خداوندی بدوام عذاب جہنم برتعذیب مومنین و مومن ات : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین فتنوا ال مومنین وال مومنت ......... الی ....... فی لوح محفوظ “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اصحاب الاخدود اور آگ کی خندقین کھودنے اور ان میں اہل ایمان کو ڈال کر ستانے والوں کا ذکر تھا، اب اس مناسبت سے ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ خداوند عالم کا قہر وغضب جو بیان کیا گیا ہے، ان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جس دور اور قرن میں مجرمین اس قسم کا رویہ اختیار کریں گے اور ایمان لانے والوں کو ستائیں گے، خواہ وہ کفار اہل مکہ ہوں یا آج کے بعد کوئی اور قوم ہو سب کو اپنا انجام سمجھ لینا، اور جان لینا چاہئے کہ وہ عذاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–20

11:۔ ” بل الذین “ یہ بھی پہلے شاہد سے متعلق ہے۔ اس قدر بیان و تذکیر کے بعد اب کوئی شبہ تو باقی نہیں رہا۔ مگر وہ پھر بھی تکذیب کرتے ہیں بلکہ تکذیب میں منہمک ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت میں اس کی سزا دے گا وہ ان کو احاطہ کیے ہوئے ہے اس لیے وہ اس سے بھاگ نہیں سکتے۔ جس طرح آسمان سب کو محیط ہے۔ ” یمعشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا من اقطار السموت والارض فانفذوا۔ الایۃ “ (الرحمن) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–22

(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ذکر اس صورت میں ہے کہ اس دنیا میں ظلم و زیادتی کرنا اس امر کا متقاضی ہے۔ کہ قیامت ضرور قائم ہو اس سلسلے میں اصحب الاخدود جیسے واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں ظلم کرنے والوں کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ مفسرین کرام (ب 1 تفسیر عزیزی ص 150 پ 30 ، معالم التنزیل ص 225 ج 4) فرماتے ہیں کہ ابتداء میں جن چار قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ یہ تمام اشیاء اس بات کی گواہ ہیں کہ تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے جب وہ گرفت کرتا ہے۔ تو مجرمین کو ضرور سزا دیتا ہے۔ یمن کے ایک ظالم بادشاہ نے جب اہل ایمان کو آگ کے گڑھوں میں ڈالا تو وہ بھی خدا کے غضب سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ تَكْذِيْبٍ۝ 19 ۙ بل بَلْ كلمة للتدارک، وهو ضربان : - ضرب يناقض ما بعده ما قبله، لکن ربما يقصد به لتصحیح الحکم الذي بعده وإبطال ما قبله، وربما يقصد تصحیح الذي قبله وإبطال الثاني، فممّا قصد به تصحیح الثاني وإبطال الأول قوله تعالی: إِذا تُتْلى عَلَيْهِ آياتُنا قالَ أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ كَلَّا بَلْ رانَ عَلى قُلُوبِهِمْ ما کانوا يَكْسِبُونَ [ المطففین/ 13- 14] ، أي : ليس الأمر کما قالوا بل جهلوا، فنبّه بقوله : رانَ عَلى قُلُوبِهِمْ علی جهلهم، وعلی هذا قوله في قصة إبراهيم قالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هذا بِآلِهَتِنا يا إِبْراهِيمُ قالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هذا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–22

ترکیب ¦ ھل اتاک الجملۃ مستانفۃ مقررۃ لما تقدم من شدۃ بطشہ و کونہ فعالاً لما یرید فرعون وثمود بدل من الجنود والمراد بفرعون ھو وقومہ وثمود قوم معروفون عند العرب والمراد بحدیثھم ماوقع منھم من الکفر والعنا دوما وقع علیھم من العذاب واللہ الخ الجملۃ حال من فاعل کفروا محفوظ بالجر نعت للوح وبالرفع نعت للقرآن و الاول قراءۃ الجمہور۔ تفسیر ¦ پہلے فرمایا تھا کہ تیرے رب کی پکڑ سخت ہے اور اس کے ثبوت کے لیے اول اصحاب الاخدود کا قصہ نقل کیا تھا۔ اجمالاً جو آنحضرت ﷺ سے تھوڑے ہی برسوں پہلے گزرا تھا اور عرب میں زبان زد تھا۔ اس کے بعد پھر اسی بات کے ثبوت کے لیے اجمالی طور پر وہ واقعات کو یاد دلاتا ہے جن میں سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ تَـکْذِیْبٍ ۔ (البروج : 19) (مگر جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کی صفات بھی بیان ہوئیں، عقلی دلائل بھی دیئے گئے، کفار کو تنبیہات بھی کی گئیں، تاریخ سے بھی استدلال کیا گیا، تبلیغ و دعوت اور ابلاغ و تفہیم میں کوئی کمی نہیں رہی۔ اس کے باوجود کفار کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی تکذیب پر اڑے ہوئے ہیں۔ نہ قیامت کو ماننے پر تیار ہیں نہ آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان لاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–22

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا ذکر ہوا اب اس کی پکڑ کی دو مثالیں بیان کی جاتی ہیں۔ اس سورت کی آٹھویں اور نویں آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں سخت پکڑ کرنے والا ہوں، لوگوں کو معاف کرنے والا اور ان کے ساتھ محبت کرنے والا ہوں اور جو چاہتا ہوں وہ کرتا ہوں۔ میرے سامنے کوئی پَر نہیں مار سکتا کیونکہ میں بڑے عرش کا مالک اور بڑی عظمت والا ہوں۔ اس کی عظمت کی نظیر دیکھنا چاہو تو ان لشکروں کا حال جانو جن کے سامنے کوئی دم نہیں مارسکتا تھا۔ فرعون اپنی طاقت اور لشکر وسپاہ پر اس قدر مغرور ہوا کہ اس نے ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلیٰ “ کا دعویٰ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

19 : بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ تَکْذِیْبٍ (بلکہ کافر تکذیب میں ہیں) الذین کفروا سے کفار قریش مراد ہیں۔ یعنی یہ کفار فی تکذیبؔ تکذیب میں مبتلا ہو کر عذاب کو اپنے لئے لازم کررہے ہیں۔ اور ان سابقہ اقوام سے کچھ عبرت نہیں لیتے۔ اس بناء پر نہیں کہ ان اقوام کے حالات پورے طور پر ان کے سامنے نہیں بلکہ وہ عناد و ضد کی وجہ سے آپ کی تکذیب پر تلے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19 ۔ بل الذین کفروا “ آپ (علیہ السلام) کی قوم میں سے اے محمد ! (ﷺ )…” فی تکذیب “ آپ (علیہ السلام) اور قرآن کی ان لوگوں کے طریقہ پر ہیں جو ان سے پہلے تھے اور انہوں نے اپنے سے پہلے کفار سے عبرت حاصل نہیں کی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–22

11۔ 22۔ اوپر ان اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبیٰ ان کے لئے بڑی راحت کی جگہ ہے مکہ کے مشرک لوگ مکہ کے اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے بہت ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کی تسکین کے لئے فرمایا کہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے گھر اگر مکہ کے یہ سرکش مشرک باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا وہ دنیا میں بھی اپنی کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ تَكْذِيْبٍ ) بلکہ کفار تکذیب اور عناد پر جمے ہوئے ہیں آیات الٰہی ان کو کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ نصیحتیں ان کے کسی کام آتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(15) انکار و تکذیب حق محرومیوں کی محرومی، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انکار و تکذیب حق محرومیوں کی محرومی ہے، سو منکرین کے انکار اور ان کی تکذیب کے اصل سبب کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کچھ نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کافر لوگ جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں "۔ سو تکذیب ان کا اوڑھنا بچھونا بن گئی ہے، اور اس کی دلدل میں یہ ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ اس سے نکلنے ہی نہیں پاتے، اور اس کو انہوں نے ایسے اپنا رکھا ہے کہ گویا کہ یہ ان کی روزی ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَتَجْعَلُونَ رِزْقَکُمْ أَنَّکُمْ تُکَذِّبُونَ ( الواقعہ 82 پ 27) یعنی تم لوگ اپنی روزی اس بات…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–22

خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة البروج۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(85:19) بل الذین کفروا فی تکذیب : بل حرف اضراب ہے ماقبل کی حالت کو برقرار رکھے ہوئے مابعد کے حکم کو اس پر اور زیادہ کیا گیا ہے۔ الذین کفروا موصول و صلہ ۔ مراد اس سے کفار مکہ ہیں ۔ ای من قومک یا محمد ﷺ ۔ (الخازن) تکذیب جھٹلانا، جھوٹ کی طرف منسوب کرنا۔ بروزن تفعیل مصدر ہے۔ فی تکذیب : ای فی تکذیب لک وللقران کما کذب من کان قبلہم من الامم ولم یعتبروا بمن اھلکنا منہم۔ یعنی آپ کی اور قرآن حکیم کی تکذیب میں اس طرح منہمک ہیں جس طرح ان سے پہلی امتیں (اپنے پیغمبروں اور کتب سماوی کی) تکذیب میں لگی رہتی تھیں۔ لیکن ان میں سے جن (پہلی امتوں) کو ہم نے (ان کے اس فعل پر) ہلاک کردیا ان سے انہوں نے سبق حاصل نہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔ تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–22

(ف 1) اوپران اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبی ان ک لیے راحت کی جگہ ہے مشرک لوگ اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کو تسکین کے لیے فرمایا کہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے پھر اگر یہ سرکش مشرک لوگ باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا، وہ دنیا میں بھی اپنے کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے دنی اسے اٹھ گئے تو جس اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–22

[4] خندق میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں پھینکنے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں لیکن سب سے مشہور واقعہ یمن کے یہودی بادشاہ کا ہے جس نے نجران کو جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کردے۔ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصل دین پر قائم تھے۔ انہوں نے یہودیت قبول کرنے سے انکار کیا جس پر بادشاہ نے بکثرت لوگوں کو خندق میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کردیا۔ قیصر روم جو عیسائی تھا اس کی تحریک و ایما سے حبشہ کے مسیحی بادشاہ نے یمن پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرلیا اور یہودی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–22

خدا اور اس کی نوازش 1: ان آیتوں میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ۔ اس کے ارادوں میں کوئی قوت اور کوئی شخصیت حائل نہیں ہوسکتی ۔ وہ اگر مجرموں اور منکروں کو سزا دینا چاہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہے اور اگر اپنے بندوں کو مغفرت اور دوستی سے نوازنا چاہے تو وہ غفور اور ودود ہے جو لوگ خدا کے اسلامی تخیل سے متوحش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس تصور میں وہ پیار نہیں ہے جو عیسائی مذہب میں ہے ، وہ ودود کے لفظ پر غورکریں کہ اس کے معنی دوست کے ہیں ۔ یعنی احکم الحاکمین رب السموت والارض خدا اور محبت کے لئے منتخب فرماتا ہے کیا اس سے بڑھ کرنوازش اور محبت کا کوئی دوسرا انداز ہو سکتا ہے ؟ وہ جس کے ہم ادنی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) لیکن یہ منکر تو ڈرتے ہی نہیں بلکہ یہ لوگ جو کفروانکار کے خوگر ہوچکے ہیں یہ تکذیب کرنے اور جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں - یعنی یہ کافران واقعات سے ڈرتے نہیں بلکہ قرآن کی تکذیب کے درپے ہیں اور قرآن کو جھٹلاتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–22

ف 1۔ اس سورت میں ایک واقعہ کا اجمالی تذکر ہے جو صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ کسی کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن تھا، اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھ کو کوئی ہوشیار لڑکا دو تو میں اسکو اپنا علم کہنات سکھا دوں۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا، اس کے راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جو اس وقت کے دین حق مسیحیت کا سچا پیرو تھا، اس لڑکے کی راہب کے پاس بھی آمدورفت شروع ہوگئی۔ چناچہ وہ خفیہ مسلمان ہوگیا، ، ایک مرتبہ اس لڑکے نے دیکھا کہ ایک شیر نے راستہ روک رکھا ہے اور لوگ پریشان ہیں، اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لیکر دعا کی کہ اے اللہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے، یہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کافروں کا کام ہی جھٹلانا ہے 19 ؎ قوم قریش کے کفار ہوں یا ان سے پہلے ساری قوموں میں سے کوئی ایک قوم ہو دراصل بات تو یہ ہے کہ کافروں کا کام ہی کیا ہے ؟ یہی کہ وہ انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کو جھٹلائیں پھر یہ کام انہوں نے کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اس لیے ہر قوم کو کفار نے رسولوں اور نبیوں کو جھٹلایا اور اسی باعث وہ کافر کہلائے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہر قوم کے کفار اسی باعث کفار تھے کہ انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور اس تکذیب کے باعث وہ عذالت الٰہی کے مستحق ٹھہرے ، نتیجہ کیا رہا ؟ یہی کہ ان کو اس صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا گزشتہ قوموں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–22

إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا (Surely, those who persecuted the believing men and the believing women, then did not repent,...85:10) This verse describes the torment of the wrong-doers who burned the Muslims in the fire pit only on account of their faith. The description points out two things: [ 1] فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ them there is the torment of Jahannam) and [ 2] وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ (and for them there is the torment of burning). The second sentence may be treated as explicative of the first sentence, a statement for emphasis.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–21

8 The address is directed to the people who in their false pride of having powerful hosts, are breaking the law of God on His earth. They are being warned. as if to say: "Do you know what evil fate was stet before by those who broke the hounds set by AIIah on the strength of the power of their hosts'"

Read the full tafseer →