وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ۟وَيۡلٌ يَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Woe, that Day, to the deniers.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ۟وَيۡلٌ يَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Woe, that Day, to the deniers.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat
تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
اُس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی ہلاکت ہے،
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے
اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے !
بڑی ہی خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے
بڑی خرابی ہے اس روز جھٹلانے والوں کیلئے۔
(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
Woe on that Day to those that give the lie to the Truth!
Woe that Day to the deniers!
Woe that Day to the deniers!
Woe that Day to the deniers (of the Day of Resurrection)!
Woe unto the repudiators on that day!
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Woe, that Day, to the deniers.
On that day, woe would be those who have rejected God's revelations!
Woe on that day to the rejecters.
Woe on that day Unto the beliers!
Ah woe, that Day, to the Rejecters of Truth!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 29–40
جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
سورة الْمُرْسَلٰت 21 یعنی دنیا میں تو تم بہت مکاریاں اور چالبازیاں کرتے رہے، اب یہاں کوئی چال چل کر میری پکڑ سے بچ سکتے ہو تو ذرا بچ دکھاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–45
هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35ۙوَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُوْن، یعنی اس دن میں کوئی بول نہ سکے گا اور نہ کسی کو اپنے کئے ہوئے عمل کا عذر پیش کرنے کی اجازت ہوگی، اور دوسری آیات قرآن میں جو کفار کا بولنا اور عذر پیش کرنا مذکور ہے وہ اس کے منافی نہیں کیونکہ محشر میں مختلف مواقف اور مقامات آئیں گے، کسی مقام میں کلام اور عذر پیش کرنا ممنوع ہوگا، کسی میں اجازت ہوگی۔ (روح)
Read the full tafseer →’وَیْْلٌ یَوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ‘۔ ان کی اس بے بسی کے بیان کے بعد وہی آیت ترجیع ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے کہ جب حال یہ ہو کہ نہ وہ خود کوئی بات زبان سے نکالنے میں پہل کر سکیں گے اور نہ ان کو کوئی عذر پیش کرنے کی اجازت ہی ملے گی تو ہلاکی اور تباہی کے سوا ان کے لیے کیا چیز باقی رہی!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
3 6 ۔ 1 مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس پیش کرنے کے لیے معقول عذر ہی نہیں ہوگا جسے وہ پیش کرسکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
10: یہاں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ دوزخ کی آگ کے شعلے اتنے بڑے ہوں گے جیسے عظیم الشان محل ہوتے ہیں، اور ان سے جو شاخیں نکلیں گی، وہ زرد رنگ کے اونٹوں جیسی ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
ویل ........................ للمکذبین (34:77) تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ یہ خوفناک خاموشی بتارہی ہوگی کہ کس قدر خوف میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔ کس قدر دباﺅ ہے ان پر ، کس قدر ہیبت ناک عاجزی ہے ، نہ بات کرسکتے ہیں اور نہ عذرات پیش کرسکتے ہیں۔ کیونکہ بات اور عذرات کا وقت ہی گزر گیا۔ آج تو۔ ویل یومئذ للمکذبین (37:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ بعض دوسرے مناظر میں یہ ذکر ہوا ہے کہ وہ حسرت اور افسوس کریں گے ، قسمیں اٹھائیں گے ، معذرتیں پیش کریں گے لیکن اب ان پر تو طویل دن آپڑا ہے۔ اس میں کبھی وہ مہیب سکوت میں ہوں گے اور کبھی چلاتے بھی رہیں گے ، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا۔…
Read the full tafseer →7 یعنی جنہوں نے دنیا کی عدالتوں پر قیاس کر کے سمجھ رکھا ہوگا کہ اگر ایسا موقع پیش آگیا وہاں بھی زبان چلا کر اور کچھ عذر معذرت کر کے چھوٹ جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
آیت 30{ اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍ۔ } ”چلو اس تین شاخوں والے سائے کی طرف !“ میدانِ محشر کی چلچلاتی دھوپ اور شدید گرمی میں جب وہ لوگ جہنم کو دیکھیں گے تو دور سے وہ انہیں تین اطراف میں پھیلے ہوئے سائے والی کسی جگہ کی طرح نظرآئے گی۔ چناچہ انہیں کہا جائے گا کہ اگر تمہیں وہ سایہ نظر آتا ہے تو چلو اس سائے کی طرف ! لیکن اس ”سائے“ کی حقیقت یہ ہوگی کہ :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
23 یعنی دنیا میں تم لوگ میری راہ روکنے کے لیے ہزاروں قسم کی چالیں چلتے تھے۔ لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے تھے۔ میرے پیروکاروں کو ایذائیں اور دکھ پہنچاتے تھے اور انہیں اس طرح گھور کر دیکھتے تھے جیسے انہیں کچا ہی چبا جاؤ گے۔ ان کی تحقیر کرتے، تمسخر اڑاتے اور ان کے زندہ رہنے کا حق بھی ان سے سلب کرتے تھے۔ آج بھی کوئی تدبیر میرے خلاف کر دیکھو۔ اس وقت تم سب کے سب اگلے اور پچھلے اس میدان میں جمع ہو۔ سب مل کر اپنی قوت کا مظاہرہ کر دیکھو یا کوئی سوچ سمجھ کر سازش ہی تیار کرلو اور دیکھو کہ تمہاری کوئی تدبیر آج کے دن کی تباہی سے تمہیں بچا سکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
13۔ (جو یوم حشر اور اس کی ہولناکیوں کی واقعیت سے اب تک انکار کررہے ہیں) ۔ (آیت) ” ولا ..... یعتذرون “۔ بولنے کی اجازت بھی اسی لئے نہ ہوگی کہ کوئی عذر ہی موجود نہ ہوگا جسے پیش کرسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
الم نھلک الاولین ثم نتبعھم الاخرین، کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ان کے کفر وعناد کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا ؟ ثم نتبعھم مشہور قرأت کی رو سے عین پر جزم کے ساتھ ہے، اور نھلک پر عطف ہے معنی یہ ہیں کہ کیا ہم نے اولین کے بعد آخرین کو ان کے پیچھے ہلاک نہیں کردیا ؟ اس لئے آخرین سے مراد بھی سابقہ امتوں ہی کے آخرین مراد ہوں گے، جن کی ہلاکت نزول قرآن سے پہلے ہوچکی ہے، دوسری ایک قرأت میں عین کے ضمہ کے ساتھ ہے، اس قرأت کے مطابق یہ جملہ اور آخرین سے مراد امت محمدیہ ﷺ کے کفار ہیں، پچھلی امتوں کی ہلاکت کی خبر دینے کے بعد موجودہ کفار اہل مکہ کو آئندہ ان پر آنے والے عذاب کی خبر دینا مقصود ہے جیسا کہ غزوہ ٔ بدر…
Read the full tafseer →ویل یومئذ للمکذبین . جو لوگ اللہ کے انعامات اور احسانات کے منکر ہیں اور اپنے منعم و محسن سے روگرداں ہیں ‘ ان کے لیے اس روز ویل ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
(37۔ 38) قیامت کے دن یہ جھٹلانے والے دوزخ کے گڑھے میں ہوں گے، یہ ہے مخلوق کے درمیان فیصلہ کا دن اے جھٹلانے والو آج ہم نے تمہیں اور تم سے اگلوں اور پچھلوں کو سب کو جمع کرلیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
(ھذا یوم لاینطقون……) یہاں یہ فرمایا کہ جھٹلانے والے لوگ قیامت کے دن نہ بولیں گے نہ انہیں عذر کرنے کی اجازت ہوگی ، جبکہ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر مذکور ہے کہ وہ اپنے عذر پیش کریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ایک طویل دن ہے، وقوع قیامت کے وقت وہ ہیبت سے بول نہیں سکیں گے، پھر اپنی جان بچانے کے لئے جھوٹے عذر بہانے پیش کرنے لگیں گے، اپنے مجرم ہونے یہی سے انکار کردیں گے اور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم نے کبھی شرک نہیں کیا، بلکہ مطالبہ کریں گے کہ ہمارے خلاف کوئی ثبوت ہو تو پیش کیا جائے۔ جب ان کے اعمال نامے پیش ہوں گے، ان کو حق پہنچانے والوں کی شہادتیں پیش ہوں گی اور ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ھذا یوم لاینطقون۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔ وہ اس وقت گفتگو نہ کریں گے، قیامت کے دن کے کئی مواقع اور محل ہیں یہ ان اوقات میں سے ہے جس میں وہ گفتگو نہ کریں گے اور انہیں معذرت کرنے کی اجازت نہ دی جائے گی۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے، کہ ابن ارزق نے ان سے، ھذا یوم لاینطقون، اور فلا تسمع الاھمسا۔ طہ) کے بارے میں پوچھا جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، واقبل بعضھم علی بعض یتساء لون۔ الطور) تو حضرت ابن عباس نے اسے فرمایا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے تیرے رب کے ہاں ایک دن ان ہزارسالوں کی طرح ہے جنہیں تم شمار کرتے ہو، ان دونوں میں سے ہر ایک دن کی مقدار کا اندازہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ نفع مند بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–42
قیامت کے دن کے مختلف حالات 28۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں بتائیے یعنی ہذا یوم لا ینطقون ولا یوذن لہم فیعتذرون۔ یہ وہ دن ہے جس میں بات بھی نہ کرسکیں گے اور نہ انہیں عذر کرنے کی اجازت ہوگی۔ تو فرمایا کہ یہ قیامت کا وہ دن ہے جس میں مختلف حالات ہوں گے کسی حال میں وہ نہیں بول سکیں گے۔ اور کسی حالت میں وہ بولیں گے اور کسی حال میں کہ وہ عذر پیش کریں گے میں تم کو کوئی بات نہیں بتاؤ گا مگر وہ بات جو ہم کو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی پھر فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا۔ تو جبار مطلق بادل کے سائے میں نازل ہوں…
Read the full tafseer →[وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ : تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
مجرمین سے کہا جائے گا کہ یہ فیصلہ کا دن ہے آج ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو جمع کیا آج ہمارا ہی فیصلہ چلے گا ہمارے فیصلہ سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے نہ عذاب سے بچ سکتے ہیں نہ بھاگ سکتے ہیں اگر کوئی تدبیر کرسکتے ہو تو میرے مقابلہ میں کرلو لیکن وہاں کوئی تدبیر نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ 00﴾ (خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
9:۔ ” ھذا یوم “ یہ دن ایسا ہولناک ہوگا کہ کافروں پر اس کی دہشت کی وجہ سے سکتہ چھا جائے گا اور وہ بول بھی نہیں سکیں گے۔ اور نہ ان کو کوئی عذر و بہانہ پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ بس اس دن ان کے لیے ہلاکت اور ویل ہی ہوگی۔ نطق کی نفی سے یا تو نطق مفید کی نفی رماد ہے یا مراد یہ ہے کہ بعض مواطن حشر میں وہ حیرت و دہشت کی وجہ سے بول نہ سکیں گے اور بعض مواقع پر وہ کلام کرسکیں گے۔ نطقا یفیدھم اولا ینطقون شیئا من فرط الدہشۃ والحیرۃ وھذا فی بعض المواقف وینطقون فی بعضہا (مظہری ج 10 ص 169) ۔
Read the full tafseer →وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ 37 ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–40
ترکیب : ذی ثلٰث شعب نعت لظل وکذالا ظلیل نعت لہ۔ بشرر۔ قرء الجمھور بفتح السین وقرء ابن عباس و ابن مقسم شرار بکسرہا مع الف بین الرائین قال الواحدی شررۃ و شرر وشرارۃ وھو مانظائر من النارتبدو فی کل جہتٍ واصلہ من شررت الثوب اذا اظھرتہ وبسطتہ للشمس والشرارینبسط مبتداء کالقصر فیہ قولان الاول ان المرادمنہ البناء المسمٰی بالقصر والثانی انھا جمع قصرۃ ساکنۃ الصادکتمرۃ وتمرو جمرۃ وجمر قال المبرد یقال للواحدمن الحطب الجزل الغلیظ قصرۃ والجمع قصر عن ابن عباس قال ھو خشب کناندخرہ للشتاء نقطعہ وکنانسمیۃ والقصر وھذا قول سعید بن جبیرو مقاتل والضحاک۔ قرء الجمہور باسکان الصادوقری بفتحھا وھو جمع قصرۃ وھی اصل النخلۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ھٰذَا یَوْمُ لاَ یَنْطِقُوْنَ ۔ وَلاَ یُؤْذَنُ لَہُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 35 تا 37) (یہ وہ دن ہے جس میں وہ نہ کچھ بولیں گے۔ اور نہ ان کو اجازت دی جائے گی کہ کوئی عذر پیش کرسکیں۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔ ) مکذبینِ قیامت جس ہولناک صورتحال سے دوچار ہوں گے اس کا تعلق آخری فیصلے سے پہلی حالت سے ہوگا۔ اس وقت تک وہ برابر کوشش جاری رکھیں گے کہ کسی طرح آخری انجام سے دوچار ہونے سے بچ جائیں۔ معذرتیں پیش کریں گے، دوسروں پر اپنے قصوروں کا الزام دھریں گے، گمراہ کرنے والے سرداروں اور پیشوائوں کو گالیاں دیں گے۔ لیکن جب تمام شہادتوں سے ان کا مجرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–40
فہم القرآن ربط کلام : جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا اور حساب و کتاب ہوجائے گا تو مجرموں کو حکم ہوگا کہ اب اس کی طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ چلو ! اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے نہ ٹھنڈک دینے والا ہے اور نہ آگ سے بچانے والا ہے اس آگ سے محلات کی مانند بڑے بڑے انگارے اچھل رہے ہوں گے۔ دیکھنے میں یوں لگیں گے جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہوں۔ اس دن مجرم نہ بول سکیں گے اور نہ ہی انہیں اپنا عذر پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس دن تمام مجرموں کو جمع کرلیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ اگر تم میرے مقابلے میں چال چل سکتے ہو تو چل کر دکھاؤ ! لیکن یہ جھٹلانے والوں کے لیے تباہی کا…
Read the full tafseer →37 : وَیْلٌ یَّوْمَپذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ (اس دن جھٹلانے والوں کیلئے بڑی خرابی ہوگی) جو کہ اس دن کو جھٹلانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →36 ۔” ولا یوذن لھم فیعتذرون “ جنید (رح) فرماتے ہیں یعنی اس شخص کا کوئی عذر قبول نہیں ہے جو اپنے انعام کرنے والے سے اعراض کرے اور اس کی نعمتوں و رحمتوں کا انکارکرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–40
29۔ 40۔ منکرین سزا و جزا کو جب فرشتے دوزخ میں لے جانے لگیں گے تو ان منکروں کو قائل کرنے کے لئے ان سے یہ کہیں گے چگو ذرا اس آگ کا مزہ چکھو جس کے تم دنیا میں منکر تھے صحیح 1 ؎ مسلم میں انس ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں بڑے عیش و آرام سے جن دوزخیوں نے اپنی تمام عمر گزاری ہے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کیب عد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کا عیش و آرام تمہیں کچھ یاد ہے وہ لوگ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ آج کے دن کی تکلیف کے سامنے دنیا کا سب عیش و آرام ہم بھول گئے۔ حساب و کتاب سے فارغ ہونے کے تک اہل دوزخ کو دوزخ کی آگ کی لپٹ کے نیچے رکھا جائے گا جس میں دھواں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُوْنَ ) اور نہ انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں۔ اگر وہ معذرت پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی۔ (فیومئذ لاینفع الذین ظلموا معذرتھم ولا ھم یستعتبون۔ الروم 57) ۔ پس اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ دے گی نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–50
میت کی کوئی چیز فروخت نہیں ہوسکتی، دفن کردینی چاہیے قول باری ہے (الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی) شعبی کا قول ہے کہ زمین کا ظاہری حصہ زندوں کے لئے ہے اور باطنی حصہ مردوں کے لئے کفات ضمام یعنی سمیٹنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ زمین دونوں حالتوں میں انہیں سمیٹ کر رکھتی ہے۔ اسرائیل نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ درج بالا آیت کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا : ” زمین میت کو سمیٹ لیتی ہے اور اس کا کوئی حصہ باہر نظر نہیں آتا۔ زمین زندوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں ہوتا ہے اور اس کا…
Read the full tafseer →27 ۔ منکرین و مکذبین کے بڑی ہی خرابی و ہلاکت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی خرابی اور ہلاکت ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے جنہوں نے دنیا میں حق کی دعوت کو ہمیشہ جھٹلایا تاآنکہ فرصت عمران کے ہاتھ سے نکل گئی اور یہ اپنے اس آخری اور دائمی انجام سے اس طرح ہمکنار ہوگئے کہ اب اس سے چھٹکارے اور گلو خلاصی کی کوئی صورت ان کے لئے ممکن نہیں ہوگی۔ والعیاذ باللہ اور قرآن حکیم کی ایسی ایسی تنبیہات و تذکیرات کے باوصف اور پغیمبر کی زبان حق ترجمان سے اس یوم مہیب کی ان ہولناکیوں کو سننے کے باوجود ان لوگوں نے اس کے بارے میں نہ کوئی فکر کی نہ پرواہ، نہ دعوت حق پر کان دھرا اور نہ راہ حق و ہدایت کو اپنایا یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
ہر زمانے کا اللہ ہی بادشاہ ہے تشریح : دنیا کا نظام جس خوبصورتی اور کامل طریقے سے چل رہا ہے وہ اللہ کی حکمت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ فرد اور قومیں آتی ہیں جاتی ہیں اچھائی برائی کے بدلے عبرت کے طور پر اپنے پیچھے چھوڑتی چلی جاتی ہیں اور یوں نئے آنے والوں کے لیے سچی حقیقتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں کہ سبق سکھیں اور زندگی گزاریں۔ انسان کی پیدائش اور ہر مخلوق کی پیدائش کا طریقہ جو اللہ نے بنا رکھا ہے بےحد حیرت انگیز ہے۔ انسان کی پیدائش ایک قطرے سے ہوتی ہے جو بڑے خاص طریقہ سے عورت کے رحم کے اندر تین پردوں میں بحفاظت نشوونما پانے لگتا ہے اور مقررہ وقت پر پورا انسان بن کر باہر آجاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
ف 5 یعنی جیسے تم دنیا میں ہمارے عائد کردہ احکام و فرائض سے بچنے کے لئے بہت سے دائوں کیا کرتے تھے۔ آج بھی اگر ہمارے عذاب سے نکل بھاگنے کے لئے کوئی چال چل سکتے ہو تو چل دیکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(77:36) ولا یؤذن لہم فیعتذرون : ولا یؤذن کا عطف لا ینطقون پر ہے۔ یعنی عذر پیش کرنے کی ان کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں ۔ فیعتذرون کا عطف لا یؤذن پر ہے۔ یعنی نہ ان کو اجازت ملے گی نہ وہ معذرت کریں گے۔ فیعتذرون : لا یؤذن لہم کی نفی کو جواب ہی نہیں ہے۔ یعنی عدم معذرت کی وجہ عدم اذن نہیں ہے ورنہ یہ وہم پیدا ہوسکتا ہے کہ :۔ چونکہ ان کی معذرت پیش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اس لئے معذرت پیش نہ کرسکیں گے حقیقت میں ان کے پاس عذر نہ ہوگا۔ اگر اجازت اس کی مل جائے تو پیش کرسکیں۔ (تفسیر مظہری) لیکن قیامت کے روز ان کے لبوں کو بند کردیا جائے گا۔ اور ان کو کسی قسم کا عذر بہانہ پیش کرنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–40
(ف 1) کافروں کو جب فرشتے دوزخ میں لے جانے لگیں گے تو ان منکروں کو قائل کرنے کے لیے ان سے یہ کہیں گے چلوذرا اس آگ کا مزہ چکھو، جس کے تم دنیا میں منکر تھے ، صحیح مسلم میں حضرت انس سے روایت ہے کہ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا دنیا میں بڑے عیش و آرام سے جن دوزخیوں نے اپنی تمام عمرگذاری ہے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کے بعد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کا عیش و آرام تمہیں کچھ یاد ہے وہ لوگ قسمین کھاکر کہیں گے کہ آج کے دن کی تکلیف کے سامنے دنیا کا سب عیش و آرام بھول گئے حساب وکتاب سے فارغ ہونے تک اہل دوزخ کو آگ کی لپیٹ کے نیچے رکھاجائے گا جس میں دھواں ہوگا، اس دھوئیں کی تین شاخیں ہوں گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–44
[15] یعنی جب یہ حال ہو کہ نہ وہ خود کوئی بات زبان سے نکالنے میں پہل کرسکیں گے اور نہ ان کو کوئی عذر پیش کرنے کی اجازت ملے گی تو تباہی و ہلاکت کے سوا ان کے لئے کیا باقی رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
مہ شاخہ شعلے 1: جہاں مومنین اور مومنین اور مخلصین اللہ کے سایہ رحمت وفضل میں آسودہ ہونگے ۔ وہاں ان منکرین کے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی ۔ ان سے فرشتے کہیں گے ۔ کہ جاؤ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ اور وہی تمہارا ملجا اور ماویٰ ہے ۔ اسی کی آگ اور دھوئیں کی طرف چلو ۔ پھر اس دھوئیں کے سائے کی تین شاخیں ہونگی ۔ جو دائیں بائیں اور اوپر کی جانب پر مشتمل ہونگی اور ان میں ٹھنڈا سایہ نہ ملے گا ۔ اور نہ یہ شعلوں کے حملوں سے بچاسکیں گی ۔ اور شعلے بھی بڑے بڑے محل جیسے نکلیں گے ۔ اور کالے کالے بلند قامت اونٹوں کی طرح ہونگے ۔ اور یہ تین ظلمتیں یا دھوئیں وہ ہونگ ۔ جو ان لوگوں نے خود دنیا میں پیدا کئے ہیں ۔ یہاں…
Read the full tafseer →(37) اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–50
ف 3۔ ان تفریعات و تہدید ات قرآنیہ کا مقتضا یہ تھا کہ یہ سنتے ہی ڈر کر ایمان لے آتے مگر جب اس پر بھی ان کو اثر نہیں تو پھر اس قرآن بلیغ الالفاظ والانداز کے بعد اور کس بات پر ایمان لائیں گے اس میں کفار پر توبیخ اور ان کے ایمان سے آپ کا اقناط ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
( یہ دن ہے اس کا کہ ) کفار (بول نہ سکیں گے ) بعضے مواقف پر۔۔ یا ۔۔ خدا کے سامنے دلیل اور حجت قائم کر کے بات نہ کریں گے۔ (اور نہ اجازت دی جائے گی انہیں کہ بہانے تراشیں ) اور عذر خوارہی کریں۔ اور عذر بھی کچھ فائدہ نہ دے گا۔ (ہلاکی) یعنی سختی اور رنج (ہے اس دن جھٹلانے والوں کی) جو تکذیب کرتے ہیں ان چیزوں کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–45
هَـٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ (This is a day when they will not speak, nor will they be allowed to offer excuses....77:35, 36) In other words, this is the Day in which they will not be able to talk, nor will they be permitted to offer pleas for their misdeeds. However, other verses of the Qur'an inform us that they will speak and will be permitted to offer excuses. There is no discrepancy between the two verses, because there will be various stages on the Plain of Gathering (Mahshar) through which people will have to pass. Sometimes they will pass…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
21 That is, "ln the world you used every kind of deception and trick in self-interest. Now, if you have any trick to escape My punishment, you may use it to defeat Me and My plan."
Read the full tafseer →