وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ۟وَيۡلٌ يَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Woe, that Day, to the deniers.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ۟وَيۡلٌ يَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Woe, that Day, to the deniers.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat
تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
آج ان جھٹلانے والوں کی درگت ہے
بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے،
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے
… اس دن جھٹلانے والوں کو خرابی ہے !
بڑی خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے
بڑی خرابی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے۔
(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
Woe on that Day to those that give the lie to the Truth!
Woe that Day to the deniers!
Woe that Day to the deniers!
Woe that Day to the deniers (of the Day of Resurrection)!
Woe unto the repudiators on that day!
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Woe, that Day, to the deniers.
On that day, woe would be upon those who have rejected God's revelations!
Woe on that day to the rejecters.
Woe on that day Unto the beliers!
Ah woe, that Day, to the Rejecters of Truth!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 29–40
جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
سورة الْمُرْسَلٰت 20 یہ ان کی آخری حالت ہوگی جو جہنم میں داخلہ کے وقت ان پر طاری ہوگی۔ اس سے پہلے میدان حشر میں تو یہ لوگ بہت کچھ کہیں گے۔ بہت سی معذرتیں پیش کریں گے، ایک دوسرے پر اپنے قصوروں کا الزام ڈال کر خود بےقصور بننے کی کوشش کریں گے، اپنے گمراہ کرنے والے سرداروں اور پیشواؤں کو گالیاں دیں گے، حتیٰ کہ بعض لوگ پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنے جرائم کا انکار کر گزریں گے، جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ مگر جب تمام شہادتوں سے ان کا مجرم ہونا پوری طرح ثابت کردیا جائے گا، اور جب ان کے اپنے ہاتھ پاؤں اور ان کے اعضاء تک ان کے خلاف گواہی دے کر ثبوت جرم میں کوئی کسر نہ چھوڑیں گے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
اِنَّهَا تَرْمِيْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ 32ۚكَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْر، قصر کے معنی بڑا عالیشان محل اور جمالہ بمعنے جمل اونٹ کو کہا جاتا ہے۔ صفر، اصفر کی جمع ہے جس کے معنے زرد کے ہیں۔ مراد آیت کی یہ ہے کہ اس جہنم کی آگ سے اتنے بڑے بڑے شرارے اٹھیں گے جو ایک مستقل محل عالیشیان کی برابر ہوں گے پھر وہ متفرق ہو کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہوں گے وہ ٹکڑے زرد اونٹوں کہ برابر ہوں گے اور بعض حضرات نے اس جگہ صفر کا ترجمہ سیاہ کیا ہے کیونکہ زرد اونٹ کی زردی سیاہی مائل ہوتی ہے۔ (روح)
Read the full tafseer →آگے وہی آیت ترجیع ہے جو اوپر گزر چکی ہے۔ اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے کہ جس دن اس ہولناک منظر سے سابقہ پیش آئے گا اس دن ان تکذیب کرنے والوں کی تباہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
33۔ 1 اس معنی کی بناء پر مطلب یہ ہے کہ اس کی ایک ایک چنگاڑی اتنی اتنی بڑی ہوگی جیسے محل یا قلعہ۔ پھر ہر چنگاڑی کے مذید اتنے بڑے بڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے اونٹ ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
10: یہاں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ دوزخ کی آگ کے شعلے اتنے بڑے ہوں گے جیسے عظیم الشان محل ہوتے ہیں، اور ان سے جو شاخیں نکلیں گی، وہ زرد رنگ کے اونٹوں جیسی ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
ویل ........................ للمکذبین (34:77) تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ یہ خوفناک خاموشی بتارہی ہوگی کہ کس قدر خوف میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔ کس قدر دباﺅ ہے ان پر ، کس قدر ہیبت ناک عاجزی ہے ، نہ بات کرسکتے ہیں اور نہ عذرات پیش کرسکتے ہیں۔ کیونکہ بات اور عذرات کا وقت ہی گزر گیا۔ آج تو۔ ویل یومئذ للمکذبین (37:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ بعض دوسرے مناظر میں یہ ذکر ہوا ہے کہ وہ حسرت اور افسوس کریں گے ، قسمیں اٹھائیں گے ، معذرتیں پیش کریں گے لیکن اب ان پر تو طویل دن آپڑا ہے۔ اس میں کبھی وہ مہیب سکوت میں ہوں گے اور کبھی چلاتے بھی رہیں گے ، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا۔…
Read the full tafseer →4 جو سمجھتے تھے کہ قیامت آنے والی نہیں، اور اگر آئی تو ہم وہاں بھی آرام سے رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
آیت 30{ اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍ۔ } ”چلو اس تین شاخوں والے سائے کی طرف !“ میدانِ محشر کی چلچلاتی دھوپ اور شدید گرمی میں جب وہ لوگ جہنم کو دیکھیں گے تو دور سے وہ انہیں تین اطراف میں پھیلے ہوئے سائے والی کسی جگہ کی طرح نظرآئے گی۔ چناچہ انہیں کہا جائے گا کہ اگر تمہیں وہ سایہ نظر آتا ہے تو چلو اس سائے کی طرف ! لیکن اس ”سائے“ کی حقیقت یہ ہوگی کہ :
Read the full tafseer →21 یہ ہولناک منظر دیکھ کر جھٹلانے والوں کو پوری طرح یقین ہوجائے گا کہ ہم ہی اس دوزخ کا ایندھن بننے والے ہیں۔ اور انہوں نے قیامت کے دن کا انکار کرکے جو حماقت کی تھی اس کا نتیجہ ہماری تباہی ہی تباہی ہے۔
Read the full tafseer →12۔ (جو جہنم کے شدائد کو آج بھلائے ہوئے ہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
الم نھلک الاولین ثم نتبعھم الاخرین، کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ان کے کفر وعناد کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا ؟ ثم نتبعھم مشہور قرأت کی رو سے عین پر جزم کے ساتھ ہے، اور نھلک پر عطف ہے معنی یہ ہیں کہ کیا ہم نے اولین کے بعد آخرین کو ان کے پیچھے ہلاک نہیں کردیا ؟ اس لئے آخرین سے مراد بھی سابقہ امتوں ہی کے آخرین مراد ہوں گے، جن کی ہلاکت نزول قرآن سے پہلے ہوچکی ہے، دوسری ایک قرأت میں عین کے ضمہ کے ساتھ ہے، اس قرأت کے مطابق یہ جملہ اور آخرین سے مراد امت محمدیہ ﷺ کے کفار ہیں، پچھلی امتوں کی ہلاکت کی خبر دینے کے بعد موجودہ کفار اہل مکہ کو آئندہ ان پر آنے والے عذاب کی خبر دینا مقصود ہے جیسا کہ غزوہ ٔ بدر…
Read the full tafseer →ویل یومئذ للمکذبین . دوزخ اور عذاب کی تکذیب کرنے والوں کیلئے اس روز ویل ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
(34۔ 36) قیامت کے دن جھٹلانے والوں کے لیے سخت عذاب ہے یہ وہ وقت ہوگا جس میں وہ نہ بول سکیں گے اور بولنے کی کوشش کریں گے تو ان کو عذر پیش کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
(انطلقوا الی ماکنتم بہ تکذبون :”شعب“ ”شعبۃ“ کی جمع ہے، شاخیں۔”جملت“ ”حمل“ کی جمع ہے، جیسے ”حجارۃ“”حجر“ کی جمع ہے۔ یہ بات قیامت کے دن جھٹلانے والوں سے کہی جائے گی، اس دن جب متوقی لوگوں کو عرش الٰہی کا اور جنت کے گھنے درختوں کا سایہ ملے گا، تو جھٹلانے والوں کو ایسے سائے کی طرف جانے کا حکم ہوگا جو ھجہنم سے نکلنے والے دھوئیں کا ہوگا، جو پھیل کر تین تین شاخوں میں تقسیم ہوجائیگا، جس میں نہ سایہ ہوگا نہ ٹھنڈک۔ جہنم سے اتنی بڑی بڑی چنگاریاں اڑیں گی جیسے محل ہوں اور اس طرح دکھئای دیں گی جیسے زرد رنگ کے اونٹوں کی جماعت۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بہت بڑی بربادی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
انھا ترمی بشرر کالقصر۔ شرر کا واحد شررہ ہے، اور شرار کا واحد شرارہ ہے اس سے مراد وہ چیز ہے جو آگ کی جانب سے اڑتی ہے اصل میں شررت الثوب سے مشتق ہے یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب تو اسے دھوپ میں پھیلائے تاکہ وہ خشک ہوجائے۔ قصر سے مراد بلند عمارت ہے عام قرات کالقصر صاد کے سکون کے ساتھ ہے، اس سے مراد قلعے اور شہر ہیں اس کی جمع قصور آتی ہے، یہ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود کا نقطہ نظر ہے یہ جنس کے طبقہ پر جمع کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، قصر یہ قصر کی جمع ہے جس طرح جمرہ کی جمع جمر، تمرہ کی جمع تمر آتی ہے قصر ولکڑی کے موٹے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ بخاری شریف میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
13۔ عبدالرزاق والفریابی والبخاری وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ والحاکم نے عبدالرحمن بن عابس (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ کو اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت انہا ترمی بشرر کا القصر کے بارے میں سنا کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم محل یعنی خیمے کی لکڑیوں کو تین ذراع یا اس سے کم بلند کرتے تھے اور ہم اس کو سردی کے موسم کے لیے اٹھاتے تھے۔ اور ہم اس کا قصر نام رکھتے تھے۔ راوی نے کہا اور میں نے سنا کہ آپ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت جملت صفر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے کشتیوں کی رسیاں کہ بعض کو بعض کی طرف جمع کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اوسط الرجال…
Read the full tafseer →[وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ : تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
منکرین سے خطاب ہوگا کہ ایسے سائبان کی طرف چلو جو گرمی سے نہیں بچاتا وہ بڑے بڑے انگارے پھینکتا ہے، انہیں اس دن معذرت پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی منکرین اور مکذبین جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اس کی طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے یہ لوگ دوزخ کو اور دوزخ کے عذابوں کو جھٹلاتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یوں ہی کہنے کی باتیں ہیں جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہوں گے ابھی اس میں داخل نہ ہوں گے کہ دوزخ سے ایک بڑا دھواں نکلے گا دیکھنے میں سایہ کی طرح ہوگا (جس کا ترجمہ سائبان کیا گیا ہے) اس سایہ کے تین ٹکڑے ہوجائیں گے دیکھنے میں سایہ ہوگا لیکن سایہ کا کام نہ دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
8:۔ ” انہا “ یہ آتش جہنم کی چنگاریوں کا بیان ہے۔ جہنم اونچے اونچے محلات کی مقدار میں چنگاریاں پھینکے گی۔ اور وہ چنگاریاں قطار در قطار اڑیں گی۔ جیسے کہ زرد اونٹوں کی قطاریں ہوں۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ویل ہے۔ ” جمالۃ “ جمل کی جمع یا اس کی اسم جمع ہے (روح) ۔
Read the full tafseer →وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ 34 ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–40
ترکیب : ذی ثلٰث شعب نعت لظل وکذالا ظلیل نعت لہ۔ بشرر۔ قرء الجمھور بفتح السین وقرء ابن عباس و ابن مقسم شرار بکسرہا مع الف بین الرائین قال الواحدی شررۃ و شرر وشرارۃ وھو مانظائر من النارتبدو فی کل جہتٍ واصلہ من شررت الثوب اذا اظھرتہ وبسطتہ للشمس والشرارینبسط مبتداء کالقصر فیہ قولان الاول ان المرادمنہ البناء المسمٰی بالقصر والثانی انھا جمع قصرۃ ساکنۃ الصادکتمرۃ وتمرو جمرۃ وجمر قال المبرد یقال للواحدمن الحطب الجزل الغلیظ قصرۃ والجمع قصر عن ابن عباس قال ھو خشب کناندخرہ للشتاء نقطعہ وکنانسمیۃ والقصر وھذا قول سعید بن جبیرو مقاتل والضحاک۔ قرء الجمہور باسکان الصادوقری بفتحھا وھو جمع قصرۃ وھی اصل النخلۃ…
Read the full tafseer →وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 34) (اس دن خرابی ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔ ) گزشتہ آیات ترجیع کی طرح یہ بھی آیت ترجیع ہے جس میں اس بات کی توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ یوم الفصل جس کی یہاں منظرکشی کی گئی ہے اس دن جن لوگوں کو اس منظر سے سابقہ پیش آئے گا ان کے لیے اس سے بڑھ کر خرابی اور تباہی کا دن کیا ہوگا۔ اور چونکہ اس سے دوچار ہونے والے سب سے زیادہ وہی لوگ ہوں گے جو قیامت کی تکذیب کرتے رہے ہیں اس لیے بطور خاص ان کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–40
فہم القرآن ربط کلام : جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا اور حساب و کتاب ہوجائے گا تو مجرموں کو حکم ہوگا کہ اب اس کی طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ چلو ! اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے نہ ٹھنڈک دینے والا ہے اور نہ آگ سے بچانے والا ہے اس آگ سے محلات کی مانند بڑے بڑے انگارے اچھل رہے ہوں گے۔ دیکھنے میں یوں لگیں گے جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہوں۔ اس دن مجرم نہ بول سکیں گے اور نہ ہی انہیں اپنا عذر پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس دن تمام مجرموں کو جمع کرلیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ اگر تم میرے مقابلے میں چال چل سکتے ہو تو چل کر دکھاؤ ! لیکن یہ جھٹلانے والوں کے لیے تباہی کا…
Read the full tafseer →34 : وَیْلٌ یَّوْمَپذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ (اس دن جھٹلانے والوں کیلئے بڑی خرابی ہے) بڑی خرابی اس لئے ہے کیونکہ وہ ان صفات سے متصف ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
33 ۔” کانہ “ ضمیر کو لفظ کی طرف لوٹایا ہے۔ ” جمالۃ “ حمزہ اور کسائی اور حفص رحمہم اللہ نے ” جمالۃ “ حمل کی جمع پڑھا ہے جیسے حجر اور حجارۃ اور یعقوب (رح) نے جیم کے پیش کے ساتھ بغیر الف کے ” بڑی اشیاء جو جمع کی گئی ہوں “ مراد ہیں اور دیگر حضرات نے ” جمالات “ الف کے ساتھ اور جیم کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے جمال کی جمع ہونے کی بناء پر اور ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں وہ کشتیوں کی رسیاں ہیں جوان کو ایک دوسرے کے ساتھ جمع کیا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ درمیانے قد کے مردوں کی طرح ہوجاتی ہیں۔ ” صفر “ اصفر کی جمع ہے یعنی ان کا رنگ اور کہا گیا ہے الصفر کا معنی سیاہ ہے اس لئے کہ حدیث میں آیا ہے جہنم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–40
29۔ 40۔ منکرین سزا و جزا کو جب فرشتے دوزخ میں لے جانے لگیں گے تو ان منکروں کو قائل کرنے کے لئے ان سے یہ کہیں گے چگو ذرا اس آگ کا مزہ چکھو جس کے تم دنیا میں منکر تھے صحیح 1 ؎ مسلم میں انس ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں بڑے عیش و آرام سے جن دوزخیوں نے اپنی تمام عمر گزاری ہے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کیب عد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کا عیش و آرام تمہیں کچھ یاد ہے وہ لوگ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ آج کے دن کی تکلیف کے سامنے دنیا کا سب عیش و آرام ہم بھول گئے۔ حساب و کتاب سے فارغ ہونے کے تک اہل دوزخ کو دوزخ کی آگ کی لپٹ کے نیچے رکھا جائے گا جس میں دھواں بھی…
Read the full tafseer →وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ ) اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–50
میت کی کوئی چیز فروخت نہیں ہوسکتی، دفن کردینی چاہیے قول باری ہے (الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی) شعبی کا قول ہے کہ زمین کا ظاہری حصہ زندوں کے لئے ہے اور باطنی حصہ مردوں کے لئے کفات ضمام یعنی سمیٹنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ زمین دونوں حالتوں میں انہیں سمیٹ کر رکھتی ہے۔ اسرائیل نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ درج بالا آیت کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا : ” زمین میت کو سمیٹ لیتی ہے اور اس کا کوئی حصہ باہر نظر نہیں آتا۔ زمین زندوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں ہوتا ہے اور اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
25 منکرین و مکذبین کے لئے بڑی ہی خرابی اور ہلاکت۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی خرابی اور ہلاکت ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے جو بار بار کی ان تنبیہات کے باوجود اپنے کفر و تکذیب سے باز نہ آئے اور انہوں نے اس صاف وصریح حق کو مان کر نہ دیا یہاں تک کہ وہ دنیا سے کفر و تکذیب کی ظلمات کے ساتھ ہی رخصت ہوئے اور انجام کار دوزخ کی اس ہولناک آگ کا لقمہ بن گئے، جس کی چنگاریوں کی ہولناکی اس درجہ کی ہوگی اور اس کا لقمہ بھی وہ ہمیشہ کے لئے بنے اور ایسے کہ اس سے گریز و فرار کی پھر کوئی راہ ان کے لئے ممکن نہ ہوگی، سو کفر و انکار اور تکذیب حق و صدق خرابیوں کی خرابی اور دائمی ہلاکت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
ہر زمانے کا اللہ ہی بادشاہ ہے تشریح : دنیا کا نظام جس خوبصورتی اور کامل طریقے سے چل رہا ہے وہ اللہ کی حکمت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ فرد اور قومیں آتی ہیں جاتی ہیں اچھائی برائی کے بدلے عبرت کے طور پر اپنے پیچھے چھوڑتی چلی جاتی ہیں اور یوں نئے آنے والوں کے لیے سچی حقیقتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں کہ سبق سکھیں اور زندگی گزاریں۔ انسان کی پیدائش اور ہر مخلوق کی پیدائش کا طریقہ جو اللہ نے بنا رکھا ہے بےحد حیرت انگیز ہے۔ انسان کی پیدائش ایک قطرے سے ہوتی ہے جو بڑے خاص طریقہ سے عورت کے رحم کے اندر تین پردوں میں بحفاظت نشوونما پانے لگتا ہے اور مقررہ وقت پر پورا انسان بن کر باہر آجاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
ف 3 ایسا قیامت کے بعض مواقف میں ہوگا، بعض مواقف میں وہ بولیں گے، جیسا کہ دوسری آیات میں بیان ہوا ہے۔
Read the full tafseer →(77:34) ویل یومئذ للمکذبین : دوزخ کی عذاب کی تکذیب کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–40
(ف 1) کافروں کو جب فرشتے دوزخ میں لے جانے لگیں گے تو ان منکروں کو قائل کرنے کے لیے ان سے یہ کہیں گے چلوذرا اس آگ کا مزہ چکھو، جس کے تم دنیا میں منکر تھے ، صحیح مسلم میں حضرت انس سے روایت ہے کہ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا دنیا میں بڑے عیش و آرام سے جن دوزخیوں نے اپنی تمام عمرگذاری ہے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کے بعد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کا عیش و آرام تمہیں کچھ یاد ہے وہ لوگ قسمین کھاکر کہیں گے کہ آج کے دن کی تکلیف کے سامنے دنیا کا سب عیش و آرام بھول گئے حساب وکتاب سے فارغ ہونے تک اہل دوزخ کو آگ کی لپیٹ کے نیچے رکھاجائے گا جس میں دھواں ہوگا، اس دھوئیں کی تین شاخیں ہوں گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
[13] جو سمجھتے تھے کہ قیامت آنے والی نہیں اور اگر آئی تو ہم وہاں بھی آرام سے رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
مہ شاخہ شعلے 1: جہاں مومنین اور مومنین اور مخلصین اللہ کے سایہ رحمت وفضل میں آسودہ ہونگے ۔ وہاں ان منکرین کے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی ۔ ان سے فرشتے کہیں گے ۔ کہ جاؤ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ اور وہی تمہارا ملجا اور ماویٰ ہے ۔ اسی کی آگ اور دھوئیں کی طرف چلو ۔ پھر اس دھوئیں کے سائے کی تین شاخیں ہونگی ۔ جو دائیں بائیں اور اوپر کی جانب پر مشتمل ہونگی اور ان میں ٹھنڈا سایہ نہ ملے گا ۔ اور نہ یہ شعلوں کے حملوں سے بچاسکیں گی ۔ اور شعلے بھی بڑے بڑے محل جیسے نکلیں گے ۔ اور کالے کالے بلند قامت اونٹوں کی طرح ہونگے ۔ اور یہ تین ظلمتیں یا دھوئیں وہ ہونگ ۔ جو ان لوگوں نے خود دنیا میں پیدا کئے ہیں ۔ یہاں…
Read the full tafseer →(34) اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–50
ف 3۔ ان تفریعات و تہدید ات قرآنیہ کا مقتضا یہ تھا کہ یہ سنتے ہی ڈر کر ایمان لے آتے مگر جب اس پر بھی ان کو اثر نہیں تو پھر اس قرآن بلیغ الالفاظ والانداز کے بعد اور کس بات پر ایمان لائیں گے اس میں کفار پر توبیخ اور ان کے ایمان سے آپ کا اقناط ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
(بیشک وہ جہنم پھینکتی ہے چنگاریاں ، جیسے بلند محل۔ گو یا وہ ) شرر (اونٹ ہیں زرد زرد) آتش دوزخ کے رنگ پر۔ بعض کہتے ہیں صفر سود کے معنی میں ہے۔ اور چونکہ دوزخ کی آگ سیاہ ہے تو اس کا شرارہ بھی سیاہ ہوگا۔ اور اونچے محل کے ساتھ شرارہ کی تشبیہ بڑائی کی جہت سے ہے ۔ اور زرد اور سیاہ اونٹوں کے ساتھ شبیہ رنگ اور کثرت کے باعث سے ، اور ایک کے پیچھے ایک رہنے اور جلدی حرکت کرنے کی وجہ سے ہے۔ (ہلاکی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی) جو دوزخ اور اس کے شراروں کی کیفیت اور صفت باور نہیں رکھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ (It emits sparks [ as huge ] as castles...77:32) The word gasr means a 'huge, magnificent castle'. The word jimalah is used in the sense of jamal, and means 'camel'. The word sufr is the plural of asfar which means 'yellow'. The verse describes the fire of Hell. It will emit such huge sparks of fire, as if they were huge and magnificent castles. Then they will break up into little splinters, as if they were yellowish camels. Some scholars have translated the word 'sufr' as 'black' because yellowish colour of camels tends…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
20 This will be their ultimate state at the time they will be entering Hell. Before this in the plain of Resurrection they will be offering all sorts of excuses, blaming others for their errors and proving their own selves to be innocent, abusing their leaders and guides who led them astray; so much so that some of them will even disown their crimes shamelessly, as has been stated at several places in the Qur'an. But when their being criminals will have been established by every kind of evidence, and when their own hands and feet and limbs will have borne witness against them to prove their…
Read the full tafseer →