Al-Mursalaat 77:32

Al-Mursalaat · from ayah 32

77:32

اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ ۟ۚاِنَّهَا تَرۡمِىۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِ‌ۚ‏

اس سے (آگ کی اتنی اتنی بڑی) چنگاریاں اُڑتی ہیں جیسے محل

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, it throws sparks [as huge] as a fortress,

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat

All translations of 77:32

وہ آگ محل جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس سے (آگ کی اتنی اتنی بڑی) چنگاریاں اُڑتی ہیں جیسے محل

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً دوزخ چنگاریاں پھینکتی ہے جو مثل محل کے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ آگ تو محل جیسے بڑے بڑے شعلے پھینکے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک دوزخ چنگاریاں اڑاتی ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک وہ (دوزخ) اونچے محل کی طرح (بڑے بڑے) شعلے اور چنگاریاں اڑاتی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ وہ (آگ) محل جیسے شرارے پھینکے گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ (اتنے بڑے بڑے) شرارے پھینکے گی جیسے محل

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ آگ اونچے محلوں کی طرح شعلے پھینکتی ہوگی…

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ آگ ایسی ہولناک چنگاریاں پھینک رہی ہوگی جو کہ (اپنی جسامت میں) محل کی طرح ہوں گی

— مولانا اسحاق مدنی

وہ انگارے برسائے گا جیسے بڑے بڑے محل

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ آگ اتنے بڑے بڑے انگارے پھینک رہی ہوگی جیسے کہ وہ محل ہوں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس سے آگ کی اتنی بڑی چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل

— محترمہ رفعت اعجاز

it indeed throws up sparks like castles,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It emits sparks (as huge) as castles,

— Muhammad Taqi Usmani

It emits sparks (as huge) as castles,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, it (Hell) throws sparks (huge) as Al-Qasr,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! it throweth up sparks like the castles,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, it throws sparks [as huge] as a fortress,

— Saheeh International

The fire will shoot out sparks as big as huge towers

— Muhammad Sarwar

Surely it sends up sparks like palaces,

— Muhammad Habib Shakir

Verily it shall cast forth sparks like Unto a castle.

— Abdul Majid Daryabadi

"Indeed it throws about sparks (huge) as Forts,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 77:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–40

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 31–33

سورة الْمُرْسَلٰت 19 بعنی ہر چنگاری ایک قصر جیسی بڑی ہوگی، اور جب یہ بڑی بڑی چنگاریاں اٹھ کر پھٹیں گی اور چاروں طرف اڑنے لگیں گی تو یوں محسوس ہوگا جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–34

اِنَّهَا تَرْمِيْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ 32؀ۚكَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْر، قصر کے معنی بڑا عالیشان محل اور جمالہ بمعنے جمل اونٹ کو کہا جاتا ہے۔ صفر، اصفر کی جمع ہے جس کے معنے زرد کے ہیں۔ مراد آیت کی یہ ہے کہ اس جہنم کی آگ سے اتنے بڑے بڑے شرارے اٹھیں گے جو ایک مستقل محل عالیشیان کی برابر ہوں گے پھر وہ متفرق ہو کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہوں گے وہ ٹکڑے زرد اونٹوں کہ برابر ہوں گے اور بعض حضرات نے اس جگہ صفر کا ترجمہ سیاہ کیا ہے کیونکہ زرد اونٹ کی زردی سیاہی مائل ہوتی ہے۔ (روح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’اِنَّہَا‘ میں ضمیر کا مرجع وہ آگ ہے جو دھوئیں کے ذکر سے بطور اس کے لازم کے مفہوم ہوتی ہے۔ فرمایا کہ وہ گنبد کے برابر چنگاریاں اور شعلے پھینک رہی ہو گی۔ ’قصر‘ کی قراء ت اور معنی میں بعض لوگوں نے اختلاف کیا ہے لیکن ہم نے اپنی اس کتاب میں ہر جگہ متواتر قراء ت ہی کو ترجیح دی ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں یہ محل اور گنبد ہی کے معنی میں ہے اور یہ نہایت عمدہ تشبیہ ہے آگ کے کسی بڑے الاؤ سے اٹھتے شعلوں کی۔ یہ تشبیہ شعلوں کے پھیلاؤ، ان کی بلندی اور ان کے رنگ کی دی گئی ہے۔ محل بالعموم بلند جگہوں پر بنائے جاتے ہیں۔ دور سے دیکھیے تو وہ چمکتے ہوئے نظر آئیں گے اور اوپر کا رنگ نیچے کے رنگ سے مختلف ہو گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 30–32

9: اس سے مراد دوزخ کی آگ کا دھواں ہے جو سائبان کی طرح بلند ہوگا، اور تین شاخوں میں تقسیم ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 32–33

انھا ترمی .................... صفر (33:77) ” وہ محل جیسی بڑی چنگاریاں پھینکے گی گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں “۔ شرارے یوں نکل رہے ہوں گے کہ گویا بڑے بڑے پتھروں کے محلات آگے پیچھے آکر گر رہے ہیں۔ (عرب پتھرون کے بنے ہوئے مکانات کو محلات کہتے تھے۔ ضروری نہیں ہے کہ مراد آج کے دیوہیکل محلات ہوں) اور یہ شرارے آگے پیچھے یوں لگ رہے ہوں گے جیسے زرد اونٹ۔ یہ تو ہوں گے اس آگ کے شرارے۔ اب آگ کیسی ہوگی ، اللہ ہی اس سے بچائے۔ اس خوفناک حالت میں مکرر تبصرہ آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی اونچی ہوتی ہیں، چنگاریاں بڑے اونچے محل کے برابر۔ یا اس کے انگارے کلانی میں محل کے برابر ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 30–40

آیت 30{ اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍ۔ } ”چلو اس تین شاخوں والے سائے کی طرف !“ میدانِ محشر کی چلچلاتی دھوپ اور شدید گرمی میں جب وہ لوگ جہنم کو دیکھیں گے تو دور سے وہ انہیں تین اطراف میں پھیلے ہوئے سائے والی کسی جگہ کی طرح نظرآئے گی۔ چناچہ انہیں کہا جائے گا کہ اگر تمہیں وہ سایہ نظر آتا ہے تو چلو اس سائے کی طرف ! لیکن اس ”سائے“ کی حقیقت یہ ہوگی کہ :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 31–33

20 جہنم سے اٹھنے والے چنگارے اور شرارے اتنے بڑے ہوں گے۔ جیسے بلند وبالا عمارتیں ہوں پھر جب وہ ٹوٹ کر اور بکھر کر نیچے جہنم کی طرف گریں گے تو ایسا معلوم ہوگا جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 32–33

11۔ دونوں تشبیہیں ایک دوسرے کی منافی نہیں، ایک ہی چیز کی دو تشبیہیں دو مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے ہیں۔ (آیت) ” بشرر کالقصر “۔ وہ جن ہم کے انگارے اپنی بڑائے کے لحاظ سے بڑے بڑے محل جیسے ہوں گے۔ (آیت) ” کانہ جملت صفر “۔ یہ تشبیہ رنگ کے لحاظ سے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–40

الم نھلک الاولین ثم نتبعھم الاخرین، کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ان کے کفر وعناد کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا ؟ ثم نتبعھم مشہور قرأت کی رو سے عین پر جزم کے ساتھ ہے، اور نھلک پر عطف ہے معنی یہ ہیں کہ کیا ہم نے اولین کے بعد آخرین کو ان کے پیچھے ہلاک نہیں کردیا ؟ اس لئے آخرین سے مراد بھی سابقہ امتوں ہی کے آخرین مراد ہوں گے، جن کی ہلاکت نزول قرآن سے پہلے ہوچکی ہے، دوسری ایک قرأت میں عین کے ضمہ کے ساتھ ہے، اس قرأت کے مطابق یہ جملہ اور آخرین سے مراد امت محمدیہ ﷺ کے کفار ہیں، پچھلی امتوں کی ہلاکت کی خبر دینے کے بعد موجودہ کفار اہل مکہ کو آئندہ ان پر آنے والے عذاب کی خبر دینا مقصود ہے جیسا کہ غزوہ ٔ بدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انھا . یہ ضمیر ظل کی طرف راجع ہے بشرطیکہ ظل سے مراد نار جہنم ہو۔ ورنہ اس کا مرجع مذکور نہیں مگر رفتار کلام سے معلوم ہو رہا ہے یعنی جہنم۔ ترمی بشرر . چنگاریاں پھینکے گی۔ دوزخ کی لپٹ کو دور نہ کرنے کی وجہ کا بیان ہے۔ شرر ‘ شررۃ کی جمع ہے۔ چنگاریاں۔ کالقصر . ہر چنگاری قصر کی طرح بڑی ہوگی۔ قصر ‘ پتھر کا مکان یا ایک گاؤں یا قلعہ۔ (قاموس) اس صورت میں قصر مفرد ہوگا۔ بعض نے اس کو قَصْرَۃٌ کی جمع کہا ہے اور قَصْرَۃٌ کا معنی ہے کھجور کے درخت کی جڑ یا موٹا درخت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 27–33

(27۔ 33) اور ہم نے اس زمین کی میخوں کے لیے اونچے اونچے پہاڑ بنائے اور اے جھٹلانے والو تمہیں میٹھا پانی یا یہ کہ دودھ پلایا تو قیامت کے دن ان جھٹلانے والوں کے لیے بڑی تباہی ہے۔ اے جھٹلانے والو تم اس عذاب کی طرف چلو جس کو تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے ان سے فرشتے حساب سے فارغ ہونے کے بعد کہیں گے اور اے گروہ مکذبین تم دوزخ کے اس دھوئیں کی طرف چلو جس میں تین شاخیں ہیں جس میں نہ دوزخ کی گرمی سے ٹھنڈا سایہ ہے اور اس کی لپٹوں سے بچاتا ہے اور وہ انگارے برساتا ہے جیسا کہ بڑے درخت کے تنے جیسے کالے کالے اونٹ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 29–34

(انطلقوا الی ماکنتم بہ تکذبون :”شعب“ ”شعبۃ“ کی جمع ہے، شاخیں۔”جملت“ ”حمل“ کی جمع ہے، جیسے ”حجارۃ“”حجر“ کی جمع ہے۔ یہ بات قیامت کے دن جھٹلانے والوں سے کہی جائے گی، اس دن جب متوقی لوگوں کو عرش الٰہی کا اور جنت کے گھنے درختوں کا سایہ ملے گا، تو جھٹلانے والوں کو ایسے سائے کی طرف جانے کا حکم ہوگا جو ھجہنم سے نکلنے والے دھوئیں کا ہوگا، جو پھیل کر تین تین شاخوں میں تقسیم ہوجائیگا، جس میں نہ سایہ ہوگا نہ ٹھنڈک۔ جہنم سے اتنی بڑی بڑی چنگاریاں اڑیں گی جیسے محل ہوں اور اس طرح دکھئای دیں گی جیسے زرد رنگ کے اونٹوں کی جماعت۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بہت بڑی بربادی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–34

انھا ترمی بشرر کالقصر۔ شرر کا واحد شررہ ہے، اور شرار کا واحد شرارہ ہے اس سے مراد وہ چیز ہے جو آگ کی جانب سے اڑتی ہے اصل میں شررت الثوب سے مشتق ہے یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب تو اسے دھوپ میں پھیلائے تاکہ وہ خشک ہوجائے۔ قصر سے مراد بلند عمارت ہے عام قرات کالقصر صاد کے سکون کے ساتھ ہے، اس سے مراد قلعے اور شہر ہیں اس کی جمع قصور آتی ہے، یہ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود کا نقطہ نظر ہے یہ جنس کے طبقہ پر جمع کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، قصر یہ قصر کی جمع ہے جس طرح جمرہ کی جمع جمر، تمرہ کی جمع تمر آتی ہے قصر ولکڑی کے موٹے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ بخاری شریف میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–34

13۔ عبدالرزاق والفریابی والبخاری وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ والحاکم نے عبدالرحمن بن عابس (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ کو اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت انہا ترمی بشرر کا القصر کے بارے میں سنا کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم محل یعنی خیمے کی لکڑیوں کو تین ذراع یا اس سے کم بلند کرتے تھے اور ہم اس کو سردی کے موسم کے لیے اٹھاتے تھے۔ اور ہم اس کا قصر نام رکھتے تھے۔ راوی نے کہا اور میں نے سنا کہ آپ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت جملت صفر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے کشتیوں کی رسیاں کہ بعض کو بعض کی طرف جمع کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اوسط الرجال…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انهَا تَرْمِيْ : بیشک وہ (آگ) پھینکتی ہے ] [بِشَرَرٍ : ایسی چنگاریاں جو ] [كَالْقَصْرِ : محل کے مانند ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–34

منکرین سے خطاب ہوگا کہ ایسے سائبان کی طرف چلو جو گرمی سے نہیں بچاتا وہ بڑے بڑے انگارے پھینکتا ہے، انہیں اس دن معذرت پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی منکرین اور مکذبین جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اس کی طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے یہ لوگ دوزخ کو اور دوزخ کے عذابوں کو جھٹلاتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یوں ہی کہنے کی باتیں ہیں جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہوں گے ابھی اس میں داخل نہ ہوں گے کہ دوزخ سے ایک بڑا دھواں نکلے گا دیکھنے میں سایہ کی طرح ہوگا (جس کا ترجمہ سائبان کیا گیا ہے) اس سایہ کے تین ٹکڑے ہوجائیں گے دیکھنے میں سایہ ہوگا لیکن سایہ کا کام نہ دے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–50

اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 32–34

8:۔ ” انہا “ یہ آتش جہنم کی چنگاریوں کا بیان ہے۔ جہنم اونچے اونچے محلات کی مقدار میں چنگاریاں پھینکے گی۔ اور وہ چنگاریاں قطار در قطار اڑیں گی۔ جیسے کہ زرد اونٹوں کی قطاریں ہوں۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ویل ہے۔ ” جمالۃ “ جمل کی جمع یا اس کی اسم جمع ہے (روح) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّہَا تَرْمِيْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ۝ 32 ۚ رمی الرَّمْيُ يقال في الأعيان کالسّهم والحجر، نحو : وَما رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلكِنَّ اللَّهَ رَمى [ الأنفال/ 17] ، ويقال في المقال، كناية عن الشّتم کالقذف، نحو : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْواجَهُمْ [ النور/ 6] ، يَرْمُونَ الْمُحْصَناتِ [ النور/ 4] ، وأَرْمَى فلان علی مائة، استعارة للزّيادة، وخرج يَتَرَمَّى: إذا رمی في الغرض . ( ر م ی ) الرمی ( ض ) کے معنی پھینکنے کے ہیں یہ اجسام ( مادی چیزیں ) جیسے تیر وغیرہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَما رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلكِنَّ اللَّهَ رَمى [ الأنفال/ 17] اے پیغمبر جب تو نے تیر چلائے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–40

ترکیب : ذی ثلٰث شعب نعت لظل وکذالا ظلیل نعت لہ۔ بشرر۔ قرء الجمھور بفتح السین وقرء ابن عباس و ابن مقسم شرار بکسرہا مع الف بین الرائین قال الواحدی شررۃ و شرر وشرارۃ وھو مانظائر من النارتبدو فی کل جہتٍ واصلہ من شررت الثوب اذا اظھرتہ وبسطتہ للشمس والشرارینبسط مبتداء کالقصر فیہ قولان الاول ان المرادمنہ البناء المسمٰی بالقصر والثانی انھا جمع قصرۃ ساکنۃ الصادکتمرۃ وتمرو جمرۃ وجمر قال المبرد یقال للواحدمن الحطب الجزل الغلیظ قصرۃ والجمع قصر عن ابن عباس قال ھو خشب کناندخرہ للشتاء نقطعہ وکنانسمیۃ والقصر وھذا قول سعید بن جبیرو مقاتل والضحاک۔ قرء الجمہور باسکان الصادوقری بفتحھا وھو جمع قصرۃ وھی اصل النخلۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 32–33

اِنَّھَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍکَالْقَصْرِ ۔ کَاَنَّـہٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌ۔ (المرسلات : 32، 33) (بیشک وہ آگ محل جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی۔ گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں۔ ) پیچھے دھویں کا ذکر ہوچکا ہے اس لیے قرین قیاس یہ ہے کہ اِنَّھَا میں ضمیر کا مرجع وہ آگ ہے جو دھویں کے بعد بھڑکے گی۔ وہ آگ ایسی ہولناک ہوگی جس کی ایک ایک چنگاری محل کی طرح عظیم ہوگی۔ اور جب یہ بڑی بڑی چنگاریاں اٹھ کر پھٹیں گی اور چاروں طرف اڑنے لگیں گی تو یوں محسوس ہوگا کہ جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–40

فہم القرآن ربط کلام : جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا اور حساب و کتاب ہوجائے گا تو مجرموں کو حکم ہوگا کہ اب اس کی طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ چلو ! اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے نہ ٹھنڈک دینے والا ہے اور نہ آگ سے بچانے والا ہے اس آگ سے محلات کی مانند بڑے بڑے انگارے اچھل رہے ہوں گے۔ دیکھنے میں یوں لگیں گے جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہوں۔ اس دن مجرم نہ بول سکیں گے اور نہ ہی انہیں اپنا عذر پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس دن تمام مجرموں کو جمع کرلیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ اگر تم میرے مقابلے میں چال چل سکتے ہو تو چل کر دکھاؤ ! لیکن یہ جھٹلانے والوں کے لیے تباہی کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

محل جیسی چنگاری : 32 : اِنَّہَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِ (وہ انگارے برسائے گا جیسے بڑے بڑے محل) انھاؔ یعنی وہ آگ الشررؔ آگ سے اڑنے والی چنگاریاں کالقصرؔ محل کی طرح بڑی بڑی ہونگی۔ ایک قول یہ ہے گھنے درخت اس کا واحد قَصْرَۃٌہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

31 ۔ پھر اس سائے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ” لاظلیل “ گرمی سے سایہ حاصل کرے۔ ” ولایغنی من اللھب “ کلبی (رح) فرماتے ہیں جہنم کے شعلے تم سے نہ ہٹا سکے گا اور معنی یہ ہے کہ وہ جب اس سایہ کے نیچے آجائیں گے تو وہ شعلوں کی کی گرمی ان سے دور نہ کرے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–40

29۔ 40۔ منکرین سزا و جزا کو جب فرشتے دوزخ میں لے جانے لگیں گے تو ان منکروں کو قائل کرنے کے لئے ان سے یہ کہیں گے چگو ذرا اس آگ کا مزہ چکھو جس کے تم دنیا میں منکر تھے صحیح 1 ؎ مسلم میں انس ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں بڑے عیش و آرام سے جن دوزخیوں نے اپنی تمام عمر گزاری ہے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کیب عد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کا عیش و آرام تمہیں کچھ یاد ہے وہ لوگ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ آج کے دن کی تکلیف کے سامنے دنیا کا سب عیش و آرام ہم بھول گئے۔ حساب و کتاب سے فارغ ہونے کے تک اہل دوزخ کو دوزخ کی آگ کی لپٹ کے نیچے رکھا جائے گا جس میں دھواں بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 32–33

پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عظیم انگاروں کا ذکر کیا جو جہنم کی بڑائی اس کی برائی اور اس کے برے منظر پر دلالت کرتے ہیں چناچہ فرمایا (اِنَّهَا تَرْمِيْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ ۔ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌ) اس سے چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل، گویا زرد اونٹ ہیں۔ یہ سایہ رنگ کے اونٹ ہیں جن میں ایسے رنگ کی جھلک ہے جو زردی مائل ہے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جہنم کی آگ، اس کے شعلے، اس کے انگارے اور اس کی چنگاریاں تاریک اور سیاہ رنگ کی ہوگی، ان کا منظر نہایت کر یہ اور ان کی حرارت انتہائی سخت ہوگی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جہنم اور ان اعمال سے عافیت عطا کرے وج جہنم کے قریب لے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–50

میت کی کوئی چیز فروخت نہیں ہوسکتی، دفن کردینی چاہیے قول باری ہے (الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی) شعبی کا قول ہے کہ زمین کا ظاہری حصہ زندوں کے لئے ہے اور باطنی حصہ مردوں کے لئے کفات ضمام یعنی سمیٹنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ زمین دونوں حالتوں میں انہیں سمیٹ کر رکھتی ہے۔ اسرائیل نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ درج بالا آیت کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا : ” زمین میت کو سمیٹ لیتی ہے اور اس کا کوئی حصہ باہر نظر نہیں آتا۔ زمین زندوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں ہوتا ہے اور اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 31–32

23 ۔ دوزخ کے دھوئیں کی ہولناکی کا ذکر وبیان : سو دوزخ کے اس دھوئیں کی ہولناکی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جس میں نہ کوئی ٹھنڈک ہوگی اور نہ آگ کی لپیٹ سے کوئی بچاؤ اور یہی دو اصل فائدے ہوتے ہیں جو کہ سایہ سے اصل میں مقصود ہوتے ہیں، مگر ان دونوں میں سے کوئی بھی فائدہ وہاں کے اس دھوئیں سے حاصل نہیں ہوگا، سو اس دھوئیں کے اندر اذیت اور تکلیف کے سب پہلو تو موجود ہوں گے اور پوری شدت کے ساتھ موجود ہوں گے لیکن آرام و راحت اور نفع و فائدے کی کوئی چیز اس میں بہرحال نہیں ہوگی، یہاں پر بھی واضح رہے کہ سمتیں بہرحال چار ہی ہوتی ہیں، ان لوگوں کے لئے ایک سمت کو کھلا اور اس دھوئیں سے محفوظ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–40

ہر زمانے کا اللہ ہی بادشاہ ہے تشریح : دنیا کا نظام جس خوبصورتی اور کامل طریقے سے چل رہا ہے وہ اللہ کی حکمت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ فرد اور قومیں آتی ہیں جاتی ہیں اچھائی برائی کے بدلے عبرت کے طور پر اپنے پیچھے چھوڑتی چلی جاتی ہیں اور یوں نئے آنے والوں کے لیے سچی حقیقتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں کہ سبق سکھیں اور زندگی گزاریں۔ انسان کی پیدائش اور ہر مخلوق کی پیدائش کا طریقہ جو اللہ نے بنا رکھا ہے بےحد حیرت انگیز ہے۔ انسان کی پیدائش ایک قطرے سے ہوتی ہے جو بڑے خاص طریقہ سے عورت کے رحم کے اندر تین پردوں میں بحفاظت نشوونما پانے لگتا ہے اور مقررہ وقت پر پورا انسان بن کر باہر آجاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے انسان کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–40

سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(77:32) انھا ترمی بشرر کالقصر : انھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب ظل کی طرف راجع ہے بشرطیکہ ظل سے مراد جہنم لیا جائے۔ ورنہ اس کا مرجع مذکور نہیں ہے۔ گو رفتار کلام سے یہی معلوم ہو رہا ہے کہ مرجع جہنم ہے۔ ترمی : مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب رمی (باب ضرب) مصدر سے وہ پھینکتی ہے۔ وہ پھینکے گی۔ شرر : شررۃ کی جمع۔ چنگاریاں۔ شرارے۔ کالقصر : ک تشبیہ کیلئے۔ القصر بمعنی پتھر کا مکان۔ قلعہ۔ ایک گاؤں۔ وہ (جہنم کی آگ) بڑے بڑے شرارے پھینک رہی ہوگی جیسے محل ہوں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–50

لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–40

(ف 1) کافروں کو جب فرشتے دوزخ میں لے جانے لگیں گے تو ان منکروں کو قائل کرنے کے لیے ان سے یہ کہیں گے چلوذرا اس آگ کا مزہ چکھو، جس کے تم دنیا میں منکر تھے ، صحیح مسلم میں حضرت انس سے روایت ہے کہ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا دنیا میں بڑے عیش و آرام سے جن دوزخیوں نے اپنی تمام عمرگذاری ہے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کے بعد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کا عیش و آرام تمہیں کچھ یاد ہے وہ لوگ قسمین کھاکر کہیں گے کہ آج کے دن کی تکلیف کے سامنے دنیا کا سب عیش و آرام بھول گئے حساب وکتاب سے فارغ ہونے تک اہل دوزخ کو آگ کی لپیٹ کے نیچے رکھاجائے گا جس میں دھواں ہوگا، اس دھوئیں کی تین شاخیں ہوں گی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–33

[12] سایہ سے مراد معروف سایہ نہیں بلکہ دھوئیں کا سایہ ہے جیسا کہ سورة واقعہ (آیات 43 اور 44) میں فرمایا۔ سائے کی تین شاخوں کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی بڑا دھواں اٹھتا ہے تو وہ آگے جا کر کئی شاخوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–40

مہ شاخہ شعلے 1: جہاں مومنین اور مومنین اور مخلصین اللہ کے سایہ رحمت وفضل میں آسودہ ہونگے ۔ وہاں ان منکرین کے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی ۔ ان سے فرشتے کہیں گے ۔ کہ جاؤ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ اور وہی تمہارا ملجا اور ماویٰ ہے ۔ اسی کی آگ اور دھوئیں کی طرف چلو ۔ پھر اس دھوئیں کے سائے کی تین شاخیں ہونگی ۔ جو دائیں بائیں اور اوپر کی جانب پر مشتمل ہونگی اور ان میں ٹھنڈا سایہ نہ ملے گا ۔ اور نہ یہ شعلوں کے حملوں سے بچاسکیں گی ۔ اور شعلے بھی بڑے بڑے محل جیسے نکلیں گے ۔ اور کالے کالے بلند قامت اونٹوں کی طرح ہونگے ۔ اور یہ تین ظلمتیں یا دھوئیں وہ ہونگ ۔ جو ان لوگوں نے خود دنیا میں پیدا کئے ہیں ۔ یہاں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 31–33

ف 2۔ قاعدہ ہے کہ جب چنگاری آگ سے جھڑتی ہے تو بڑی ہوتی ہے، پھر بہت سے چھوٹے ٹکڑے ہو کر زمین پر گرتی ہے، پس پہلی تشبیہ ابتدائی حالت کے اعتبار سے ہے اور دوسری تشبیہ انتہائی حالت کے اعتبار سے ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 32–34

(بیشک وہ جہنم پھینکتی ہے چنگاریاں ، جیسے بلند محل۔ گو یا وہ ) شرر (اونٹ ہیں زرد زرد) آتش دوزخ کے رنگ پر۔ بعض کہتے ہیں صفر سود کے معنی میں ہے۔ اور چونکہ دوزخ کی آگ سیاہ ہے تو اس کا شرارہ بھی سیاہ ہوگا۔ اور اونچے محل کے ساتھ شرارہ کی تشبیہ بڑائی کی جہت سے ہے ۔ اور زرد اور سیاہ اونٹوں کے ساتھ شبیہ رنگ اور کثرت کے باعث سے ، اور ایک کے پیچھے ایک رہنے اور جلدی حرکت کرنے کی وجہ سے ہے۔ (ہلاکی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی) جو دوزخ اور اس کے شراروں کی کیفیت اور صفت باور نہیں رکھتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–34

إِنَّهَا تَرْ‌مِي بِشَرَ‌رٍ‌ كَالْقَصْرِ كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ‌ ‌ (It emits sparks [ as huge ] as castles...77:32) The word gasr means a 'huge, magnificent castle'. The word jimalah is used in the sense of jamal, and means 'camel'. The word sufr is the plural of asfar which means 'yellow'. The verse describes the fire of Hell. It will emit such huge sparks of fire, as if they were huge and magnificent castles. Then they will break up into little splinters, as if they were yellowish camels. Some scholars have translated the word 'sufr' as 'black' because yellowish colour of camels tends…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–33

19 That is, each spark will be like a castle, and when these huge sparks will rise and burst and fly about in all directions it will seem as though they were yellow camels running and jumping about ceaselessly.

Read the full tafseer →