Al-Mursalaat 77:29

Al-Mursalaat · from ayah 29

77:29

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰی مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ ۟ۚاِنْطَلِقُوۡۤا اِلٰى مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ‌ۚ

جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ (اب) اس کی طرف چلو

— Fateh Muhammad Jalandhari

[They will be told], "Proceed to that which you used to deny.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat

All translations of 77:29

چلو اب اُسی چیز کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ (اب) اس کی طرف چلو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس دوزخ کی طرف جاؤ جسے تم جھٹلاتے رہے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(ان سے کہا جائے گا کہ) چلو اب اسی چیز کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

چلو اس کی طرف جسے جھٹلاتے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اب) تم اس (عذاب) کی طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس چیز کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چلو اسی (دوزخ) کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

چلو اس کی طرف جس کو جھٹلاتے رہے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اس روز کہا جائے گا کہ) اب چلو تم لوگ اسی چیز کی طرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

چلو تم اس (عذاب) کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

چلو اب اسی چیز کی طرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کی طرف چلو

— محترمہ رفعت اعجاز

Proceed now towards that which you were wont to deny as false;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(It will be said to them on that day,) :Push on to what you used to deny.

— Muhammad Taqi Usmani

(It will be said to them on that day,) :Push on to what you used to deny.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(It will be said to the disbelievers): "Depart you to that which you used to deny!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(It will be said unto them:) Depart unto that (doom) which ye used to deny;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[They will be told], "Proceed to that which you used to deny.

— Saheeh International

Proceed to that (the Day of Judgment) which you have rejected.

— Muhammad Sarwar

Walk on to that which you called a lie.

— Muhammad Habib Shakir

'Depart Unto that which ye were wont to belie.

— Abdul Majid Daryabadi

(It will be said:) "Depart ye to that which ye used to reject as false!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 77:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–40

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُرْسَلٰت 17 اب آخرت کے دلائل دینے کے بعد یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب وہ واقع ہوجائے گی تو وہاں ان منکرین کا حشر کیا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–31

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًا 25؀ۙاَحْيَاۗءً وَّاَمْوَاتًا یعنی ہم نے زمین کو کفات بنایا ہے زندہ اور مردہ انسانوں کے لئے کفات، کفت سے مشتق ہے جس کے معنے ملانے اور جمع کرلینے کے ہیں کفات وہ چیز جو بہت سی چیزوں کو اپنے اندر جمع کرے۔ زمین کو حق تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ زندہ انسان اس کی پیٹھ پر سوار ہیں اور مردے سب اس کے پیٹ میں جمع ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قیامت کی تصویر آنکھوں کے سامنے: اوپر والی آیت میں آپ نے دیکھا کہ اس فیصلہ کے دن کا مشاہدہ آفاق و انفس کے آثار و شواہد کے اندر کرایا گیا ہے۔ اب چند آیتوں میں اس کی تصویر سامنے رکھ دی گئی ہے تاکہ جو چیز نگاہوں سے اوجھل ہے اس کا مشاہدہ ایک حاضر و مشہور چیز کی طرح منکرین کر لیں۔ چنانچہ اسلوب کلام ایسا اختیار فرمایا ہے گویا وہ چیز سامنے موجود ہے اور ان کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اب تک جس چیز کو جھٹلاتے رہے ہیں اس کی طرف چلیں اور اس کا مزا چکھیں۔ فرمایا کہ چلو اس چیز کی طرف جس کو اب تک جھٹلاتے رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–29

8: یعنی انسان کو ہم نے صرف پیدا ہی نہیں کیا، بلکہ اس کی بناوٹ میں ایسا بہترین توازن رکھا ہے جو ہمارے سوا کوئی قائم نہیں رکھ سکتا۔ انسان کے جسم کے مختلف حصوں پر جتنا غور کیا جائے، یہ حقیقت اتنی ہی زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یعنی جاﺅ، اب تم آزادہو ، قیامت کے طویل دن کے فیصلے اب ہوچکے ، لیکن یہ آزادی اب دائمی قید ہے ، جہنم کے اندر۔ انطلقو .................... بہ تکذبون (29:77) ” چلو اب اسی چیز کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہ چیز اب تمہارے سامنے حاضر موجود ہے ۔ وہ کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

19 جو سمجھتے تھے کہ ایک جگہ اور ایک وقت میں تمام اولین و آخرین کی اثابت و تعذیب کے اس قدر مختلف اور متضاد کام کیونکر سرانجام پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 29 { اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی مَا کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ۔ } ”چلو اب اسی چیز کی طرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔“ یعنی جہنم کی آگ کی طرف۔ یہ وہ حکم ہے جو میدانِ محشر میں اہل جہنم کو سنایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 29–30

19 اس دن دوزخ سے گرم بخارات اٹھیں گے جو دوزخیوں کے اوپر سایہ کردیں گے یہ نام کو سایہ ہوگا مگر شدید گرم جو ان کو سایہ، ٹھنڈک یا سکون پہنچانے کے بجائے اپنی حرارت کی وجہ سے ان میں مزید گھبراہٹ اور اضطراب پیدا کردے گا۔ یہ سایہ اوپر اٹھ کر تین بڑی شاخوں میں منقسم ہوجائے گا اور ان کے آگے سے، پیچھے سے اور اوپر سے غرض ہر طرف سے انہیں گھیرے میں لے لے گا اس دن اللہ کے فرمانبردار بندے عرش کے سایہ تلے ہوں گے اور نافرمانوں کو اگر سایہ مہیا کیا بھی جائے گا تو وہ ان کے عذاب میں اضافہ ہی کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 29–31

10۔ اب ذکر ظاہر ہے کہ میدان حشر کا ہورہا ہے اور یہ اہل دوزخ سے کہا جائے گا۔ (آیت) ” الی ظل “۔ ظل یا سائبان سے یہاں مراد ایک دھواں ہے جو دوزخ سے نکلے گا۔ اور شدت اور کثرت سے نکلے گا کہ اوپر جاکر کئی ٹکڑوں میں پھٹ جائے گا۔ اور حساب چک جانے کے وقت تک کافر اسی دھوئیں کے احاطہ میں گھرے رہیں گے جیسے کہ مقبولین سایہ عرش میں ہوں گے۔ (آیت) ” ذی ثلث شعب “۔ محققین عارفین نے کہا ہے کہ علم صحیح کی راہ میں ٗحجابات تین ہوتے ہی۔ (1) حس (2) خیال اور (3) وہم اور عمل کی رہ میں بھی تین حجابات ہوتے ہیں۔ (1) قوت وہمیہ (2) قوت غضبیہ (3) قوت شہویہ۔ جددی نفسیات کی اصطلاح میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ انسان کو عذاب کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–40

الم نھلک الاولین ثم نتبعھم الاخرین، کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ان کے کفر وعناد کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا ؟ ثم نتبعھم مشہور قرأت کی رو سے عین پر جزم کے ساتھ ہے، اور نھلک پر عطف ہے معنی یہ ہیں کہ کیا ہم نے اولین کے بعد آخرین کو ان کے پیچھے ہلاک نہیں کردیا ؟ اس لئے آخرین سے مراد بھی سابقہ امتوں ہی کے آخرین مراد ہوں گے، جن کی ہلاکت نزول قرآن سے پہلے ہوچکی ہے، دوسری ایک قرأت میں عین کے ضمہ کے ساتھ ہے، اس قرأت کے مطابق یہ جملہ اور آخرین سے مراد امت محمدیہ ﷺ کے کفار ہیں، پچھلی امتوں کی ہلاکت کی خبر دینے کے بعد موجودہ کفار اہل مکہ کو آئندہ ان پر آنے والے عذاب کی خبر دینا مقصود ہے جیسا کہ غزوہ ٔ بدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انطلقوا الی ما کنتم بہ تکذبون . یہ جملہ مستانفہ ہے ایک (فرضی) سوال کا جواب ہے (سوال یہ ہو سکتا تھا کہ) اس روز ان کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ اس جواب دیا ‘ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں آتش جہنم کے تم قائل نہ تھے ‘ اب اس کی طرف چلو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 27–33

(27۔ 33) اور ہم نے اس زمین کی میخوں کے لیے اونچے اونچے پہاڑ بنائے اور اے جھٹلانے والو تمہیں میٹھا پانی یا یہ کہ دودھ پلایا تو قیامت کے دن ان جھٹلانے والوں کے لیے بڑی تباہی ہے۔ اے جھٹلانے والو تم اس عذاب کی طرف چلو جس کو تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے ان سے فرشتے حساب سے فارغ ہونے کے بعد کہیں گے اور اے گروہ مکذبین تم دوزخ کے اس دھوئیں کی طرف چلو جس میں تین شاخیں ہیں جس میں نہ دوزخ کی گرمی سے ٹھنڈا سایہ ہے اور اس کی لپٹوں سے بچاتا ہے اور وہ انگارے برساتا ہے جیسا کہ بڑے درخت کے تنے جیسے کالے کالے اونٹ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 29–34

(انطلقوا الی ماکنتم بہ تکذبون :”شعب“ ”شعبۃ“ کی جمع ہے، شاخیں۔”جملت“ ”حمل“ کی جمع ہے، جیسے ”حجارۃ“”حجر“ کی جمع ہے۔ یہ بات قیامت کے دن جھٹلانے والوں سے کہی جائے گی، اس دن جب متوقی لوگوں کو عرش الٰہی کا اور جنت کے گھنے درختوں کا سایہ ملے گا، تو جھٹلانے والوں کو ایسے سائے کی طرف جانے کا حکم ہوگا جو ھجہنم سے نکلنے والے دھوئیں کا ہوگا، جو پھیل کر تین تین شاخوں میں تقسیم ہوجائیگا، جس میں نہ سایہ ہوگا نہ ٹھنڈک۔ جہنم سے اتنی بڑی بڑی چنگاریاں اڑیں گی جیسے محل ہوں اور اس طرح دکھئای دیں گی جیسے زرد رنگ کے اونٹوں کی جماعت۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بہت بڑی بربادی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 29–31

انطلقوا الی ماکنتم۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔ انطلقوا الی ماکنتم بہ تکذبون۔ یعنی کفار کو کہا جائے گا جس عذاب کو تم جھٹلاتے تھے اس کی طرف تم چلو تم نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ انطلقوا الی ظل ذی ثلاث شعب، لاظلیل ولایغنی من اللھب۔ ایسے دھویں کی طرف چلو جو اوپر اٹھتا ہے تو تین حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے عظیم دھویں کی یہی صورت حال ہوتی ہے جب وہ اوپر اٹھتا ہے تو شاخوں والاہوجاتا ہے، پھر سایہ کی صفت بیان کی، یعنی وہ ایسا سایہ نہیں ہوگا جو سورج کی گرمی سے بچائے اور جہنم کی لپک سے کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ جب آگ بھڑکتی ہے تو جو چیز اس پر بلند ہوتی ہے اسے لہب کہتے ہیں وہ سرخ ہو، زرد ہو یا سبز ہو، ایک قول یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–29

9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” رواسی “ سے مراد ہے اونچے اور بلند پہاڑ ” فراتا “ سے مراد ہے میٹھا ” بشرر کالقصر “ سے مراد ہے ایسے انگارے جو عظیم محل کی طرح ہوں گے۔ ” جملت صفر “ یعنی ایسے اونٹ جو رنگ میں خاص تانبے کی طرح ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انــطَلِقُوْٓا اِلٰى مَا : تم لوگ چلو اس کی طرف ] [كُنْتم بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ : تم لوگ جس کو جھٹلایا کرتے تھے جس کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–34

منکرین سے خطاب ہوگا کہ ایسے سائبان کی طرف چلو جو گرمی سے نہیں بچاتا وہ بڑے بڑے انگارے پھینکتا ہے، انہیں اس دن معذرت پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی منکرین اور مکذبین جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اس کی طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے یہ لوگ دوزخ کو اور دوزخ کے عذابوں کو جھٹلاتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یوں ہی کہنے کی باتیں ہیں جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہوں گے ابھی اس میں داخل نہ ہوں گے کہ دوزخ سے ایک بڑا دھواں نکلے گا دیکھنے میں سایہ کی طرح ہوگا (جس کا ترجمہ سائبان کیا گیا ہے) اس سایہ کے تین ٹکڑے ہوجائیں گے دیکھنے میں سایہ ہوگا لیکن سایہ کا کام نہ دے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–50

اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–31

7:۔ ” انطلقوا “ یہ تخویف اخروی ہے قیامت کے دن کافروں سے کہا جائے گا کہ اب اس عذاب کی طرف چلو جس کا دنیا میں انکار کیا کرتے تھے یعنی جہنم میں داخل ہونے کے لیے چلو اگر تمہارا خیال ہو کہ وہاں بچاؤ کیلئے کوئی سایہ یا آڑ ہوگی تو سن لو ہاں، وہاں سایہ ہوگا لیکن درختوں کا نہیں بلکہ جہنم کی آگ کے دھوئیں کا جو تین شاخوں میں اوپر اٹھے گا، کیونکہ دھوئیں کی یہ خاصیت ہے کہ جب وہ زور سے نکلتا ہے تو اوپر جا کر متعدد شاخوں میں بٹ جاتا ہے۔ ” لا ظلیل “ یہ ظل کی صفت ہے وہ سایہ ایسا نہیں ہوگا جیسا کہ دھوپ سے بچانے والا سایہ ہوتا ہے اور نہ وہ کسی وقت آگ کے شعلوں کی تپش ہی سے کچھ مفید ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْــطَلِقُوْٓا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِہٖ تُكَذِّبُوْنَ۝ 29 ۚ طلق أصل الطَّلَاقِ : التّخليةُ من الوثاق، يقال : أَطْلَقْتُ البعیرَ من عقاله، وطَلَّقْتُهُ ، وهو طَالِقٌ وطَلِقٌ بلا قيدٍ ، ومنه استعیر : طَلَّقْتُ المرأةَ ، نحو : خلّيتها فهي طَالِقٌ ، أي : مُخَلَّاةٌ عن حبالة النّكاح . قال تعالی: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1] ، الطَّلاقُ مَرَّتانِ [ البقرة/ 229] ، وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَ [ البقرة/ 228] ، فهذا عامّ في الرّجعيّة وغیر الرّجعيّة، وقوله : وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ [ البقرة/ 228] ، خاصّ في الرّجعيّة، وقوله : فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–40

ترکیب : ذی ثلٰث شعب نعت لظل وکذالا ظلیل نعت لہ۔ بشرر۔ قرء الجمھور بفتح السین وقرء ابن عباس و ابن مقسم شرار بکسرہا مع الف بین الرائین قال الواحدی شررۃ و شرر وشرارۃ وھو مانظائر من النارتبدو فی کل جہتٍ واصلہ من شررت الثوب اذا اظھرتہ وبسطتہ للشمس والشرارینبسط مبتداء کالقصر فیہ قولان الاول ان المرادمنہ البناء المسمٰی بالقصر والثانی انھا جمع قصرۃ ساکنۃ الصادکتمرۃ وتمرو جمرۃ وجمر قال المبرد یقال للواحدمن الحطب الجزل الغلیظ قصرۃ والجمع قصر عن ابن عباس قال ھو خشب کناندخرہ للشتاء نقطعہ وکنانسمیۃ والقصر وھذا قول سعید بن جبیرو مقاتل والضحاک۔ قرء الجمہور باسکان الصادوقری بفتحھا وھو جمع قصرۃ وھی اصل النخلۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی مَا کُنْـتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ۔ (المرسلات : 29) (چلو اس چیز کی طرف جس کو تم جھٹلاتے رہے ہو۔ ) قیامت میں منکرین کا حشر فیصلے کے دن کا اثبات بلکہ مشاہدہ، آفاق وانفس کے آثار و شواہد کے اندر کرایا گیا۔ اب بتایا جارہا ہے کہ جب وہ یوم الفصل آجائے گا یعنی قیامت برپا ہوجائے گی تو وہاں منکرین کا کیا حشر ہوگا۔ ان سے کہا جائے گا کہ چلو اس چیز کی طرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے، وہ اب تمہارے انتظار میں ہے۔ اب تمہیں اندازہ ہوجائے گا کہ تم کس خطرناک غلطی کا ارتکاب کرتے رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–40

فہم القرآن ربط کلام : جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا اور حساب و کتاب ہوجائے گا تو مجرموں کو حکم ہوگا کہ اب اس کی طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ چلو ! اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے نہ ٹھنڈک دینے والا ہے اور نہ آگ سے بچانے والا ہے اس آگ سے محلات کی مانند بڑے بڑے انگارے اچھل رہے ہوں گے۔ دیکھنے میں یوں لگیں گے جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہوں۔ اس دن مجرم نہ بول سکیں گے اور نہ ہی انہیں اپنا عذر پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس دن تمام مجرموں کو جمع کرلیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ اگر تم میرے مقابلے میں چال چل سکتے ہو تو چل کر دکھاؤ ! لیکن یہ جھٹلانے والوں کے لیے تباہی کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

29 : اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی مَاکُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ (تم اس عذاب کی طرف چلو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے) یعنی کفار کو قیامت کے دن کہا جائے گا تم اس آگ کی طرف چلو جس کو تم جھٹلاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28 ۔” ویل یومئذ للمکذبین “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اور یہ سب اس بعث سے زیادہ عجیب ہے جس کو تم جھٹلاتے ہو۔ پھر خبر دی کہ ان کو قیامت کے دن کہا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–40

29۔ 40۔ منکرین سزا و جزا کو جب فرشتے دوزخ میں لے جانے لگیں گے تو ان منکروں کو قائل کرنے کے لئے ان سے یہ کہیں گے چگو ذرا اس آگ کا مزہ چکھو جس کے تم دنیا میں منکر تھے صحیح 1 ؎ مسلم میں انس ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں بڑے عیش و آرام سے جن دوزخیوں نے اپنی تمام عمر گزاری ہے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کیب عد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کا عیش و آرام تمہیں کچھ یاد ہے وہ لوگ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ آج کے دن کی تکلیف کے سامنے دنیا کا سب عیش و آرام ہم بھول گئے۔ حساب و کتاب سے فارغ ہونے کے تک اہل دوزخ کو دوزخ کی آگ کی لپٹ کے نیچے رکھا جائے گا جس میں دھواں بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یہ ہلاکت ہے جو جھٹلانے والے مجرموں کے لیے تیاری کی گئی ہے، ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا۔ (اِنْــطَلِقُوْٓا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ ) جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کی طرف چلو۔ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–50

میت کی کوئی چیز فروخت نہیں ہوسکتی، دفن کردینی چاہیے قول باری ہے (الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی) شعبی کا قول ہے کہ زمین کا ظاہری حصہ زندوں کے لئے ہے اور باطنی حصہ مردوں کے لئے کفات ضمام یعنی سمیٹنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ زمین دونوں حالتوں میں انہیں سمیٹ کر رکھتی ہے۔ اسرائیل نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ درج بالا آیت کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا : ” زمین میت کو سمیٹ لیتی ہے اور اس کا کوئی حصہ باہر نظر نہیں آتا۔ زمین زندوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں ہوتا ہے اور اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 29–30

22 ۔ مشاہد قیامت کی تصویر اور منکرین و مکذبین کی تذلیل و تخیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز منکرین و مکذبین سے کہا جائے گا کہ اب چلو تم لوگ اس چیز کیطرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ سو اب چلو تم لوگ تین شاخوں والے اس ہولناک دھوئیں کی طرف جس میں نہ کسی طرح کا کوئی سایہ ہوگا اور نہ ہی آگ کی لپیٹ سے کوئی بچاؤ۔ جو کہ نام کا تو سایہ ہوگا مگر حقیقت میں وہ دوزخ کا ایسا شدید دھواں اور ہولناک عذاب ہوگا جسے تہکم اور تذلیل کے طور پر سایہ فرمایا گیا ہے اور وہ ان کفار و فجار اور منکرین و مکذبین پر وہاں پر چھایا ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ جب کہ اہل ایمان وتقویٰ عرش عظیم کے سایہ حمت کے نیچے ہوں گے اور پھر جنت کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–40

ہر زمانے کا اللہ ہی بادشاہ ہے تشریح : دنیا کا نظام جس خوبصورتی اور کامل طریقے سے چل رہا ہے وہ اللہ کی حکمت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ فرد اور قومیں آتی ہیں جاتی ہیں اچھائی برائی کے بدلے عبرت کے طور پر اپنے پیچھے چھوڑتی چلی جاتی ہیں اور یوں نئے آنے والوں کے لیے سچی حقیقتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں کہ سبق سکھیں اور زندگی گزاریں۔ انسان کی پیدائش اور ہر مخلوق کی پیدائش کا طریقہ جو اللہ نے بنا رکھا ہے بےحد حیرت انگیز ہے۔ انسان کی پیدائش ایک قطرے سے ہوتی ہے جو بڑے خاص طریقہ سے عورت کے رحم کے اندر تین پردوں میں بحفاظت نشوونما پانے لگتا ہے اور مقررہ وقت پر پورا انسان بن کر باہر آجاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے انسان کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–40

سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(77:29) انطلقوا الی ما کنتم بہ تکذبون : ای قیل لہم انطلقوا۔ فعلامر جمع مذکر حاضر ۔ (ان سے کہا جائے گا کہ تم اس کے وقوع پذیر ہونے کی تکذیب کیا کرتے تھے۔ (اب) واقع ہوگئی ہے چلو اور اپنی ہٹ دھرمی کا مزہ چکھو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–50

لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–40

(ف 1) کافروں کو جب فرشتے دوزخ میں لے جانے لگیں گے تو ان منکروں کو قائل کرنے کے لیے ان سے یہ کہیں گے چلوذرا اس آگ کا مزہ چکھو، جس کے تم دنیا میں منکر تھے ، صحیح مسلم میں حضرت انس سے روایت ہے کہ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا دنیا میں بڑے عیش و آرام سے جن دوزخیوں نے اپنی تمام عمرگذاری ہے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کے بعد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کا عیش و آرام تمہیں کچھ یاد ہے وہ لوگ قسمین کھاکر کہیں گے کہ آج کے دن کی تکلیف کے سامنے دنیا کا سب عیش و آرام بھول گئے حساب وکتاب سے فارغ ہونے تک اہل دوزخ کو آگ کی لپیٹ کے نیچے رکھاجائے گا جس میں دھواں ہوگا، اس دھوئیں کی تین شاخیں ہوں گی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–30

[11] یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کے احاطہ قدرت کے اتنے بدیہی شواہد کو دیکھتے ہوئے روز قیامت کو جھٹلاتے ہیں اس دن ان کے لئے تباہی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–29

ف 3: انسان کی توجہ کو اس کی پیدائش کی طرف منعلف کیا ہے ۔ کہ دیکھوہم نے کیونکر حقیرودلیل قطرہ آب سے تمہیں پیدا کیا ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ ایک طرف تو یہ معلوم ہو کہ حضرت انسان قدروقیمت کے لحاظ سے کسی معزاز اور بخیر کا استحقاق رکھتا ہے ۔ اور دوسری جانب یہ معلوم ہو کہ خدا کتناحلیم اور کس درجہ حکیم ودانا ہے ۔ کہ پانی کے ایک قطرہ سے انسان جیسے اشرف المخلوق وجود کو پیدا کیا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(29) چلو اس عذاب کی طرف جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے۔ یہ اس دن منکروں سے کہا جائیگا کہ چلو اور چل کر اس عذاب کو دیکھو جس کو تم جھٹلاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–30

ف 1۔ مراد اس سائبان سے ایک دھواں ہے جو جہنم سے نکلے گا اور چونکہ کثرت سے ہوگا اس لئے بلند ہو کر پھٹ کر کئی ٹکڑے ہوجاوے گا فراغ حساب تک کفار اسی دھوئیں کے احاطہ میں رہیں گے جب مقبولین ظل عرش میں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 29–31

(چلو ادھر جسے جھٹلاتے تھے) یعنی جہنم اور اس کے عذاب کی طرف۔ اور (چل پڑو ایک سایہ کی طرف تین شاخوں والا) جو (نہ) تو (سایہ دار) ہے کہ ٹھنڈا ہو اور اس میں رہنے میں راحت ہو (اور نہ) ہی (بچا سکے) گا دوزخی کو جہنم کی (لپٹ سے) اس سے دوزخ کے دھویں کا سایہ مراد ہے کہ بڑائی اور زیادتی کے سبب سے متفرق ہوجائے گا کئی شاخ ہو کر ، اور ہر شاخ ایک طرف جائے گی ، انوار میں ہے کہ جہنم کے دھوئیں کے تین شعبے ہوں گے۔ ایک کافر کے سر پر ٹھہرے گا اور ایک اس کے داہنے پر اور ایک اس کے بائیں پر۔ اور اس عذاب میں ڈالنے والی دماغ میں ، قوت واہمہ ، اور قلب کے داہنی طرف ، قوت غضبیہ ہے ، اور بائیں طرف قوت شہویہ ہے۔ تو جو چاہتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–31

أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْ‌ضَ كِفَاتًا أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا (Did We not make the earth a container that collects the living and the dead?....25, 26) The word kit is derived from kaft. It means 'to gather things together'. Thus kit is a thing that embodies many things within itself. Earth is created by Allah in a fashion that humans when alive, remain on its back, and when dead, in its belly.

Read the full tafseer →