Al-Mursalaat 77:20

Al-Mursalaat · from ayah 20

77:20

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍ ۟ۙاَلَمۡ نَخۡلُقۡكُّمۡ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍۙ

کیا ہم نے تم کو حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Did We not create you from a liquid disdained?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat

All translations of 77:20

کیا ہم نے ایک حقیر پانی سے تمہیں پیدا نہیں کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا ہم نے تم کو حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے (منی سے) پیدا نہیں کیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا ہم نے تمہیں ایک بے قدر پانی سے پیدا نہ فرمایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی (کی ایک بوند) سے پیدا نہیں کیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا ہم نے تم کو ایک حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ہم نے تم کو پیدا نہیں کیا ایک بےقدرے (اور حقیر) پانی سے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ہم نے تمہیں ایک بےقدر پانی سے نہیں بنایا ہے ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا ہم نے تم کو حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Did We not create you of a mean fluid,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Did We not create you from a worthless fluid?

— Muhammad Taqi Usmani

Did We not create you from a worthless fluid?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Did We not create you from a despised water

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Did We not create you from a base fluid

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Did We not create you from a liquid disdained?

— Saheeh International

Did We not create you from an insignificant drop of fluid

— Muhammad Sarwar

Did We not create you from contemptible water?

— Muhammad Habib Shakir

Created We you not of water despicable,

— Abdul Majid Daryabadi

Have We not created you from a fluid (held) despicable?-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 77:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–28

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کردیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کردیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہوگی، پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا، جیسے سورة یس کی تفسیر میں گذر چکا کہ اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کرسکے گا میں نے تو تجھے اسی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 20–21

سورة الْمُرْسَلٰت 11 اصل الفاظ ہیں قدر معلوم۔ اس کا صرف یہی مطلب نہیں ہے کہ وہ مدت مقرر ہے، بلکہ اس میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ اس کی مدت اللہ ہی کو معلوم ہے۔ کسی بچے کے متعلق کسی ذریعہ سے بھی انسان کو یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ وہ کتنے مہینے، کتنے گھنٹے اور کتنے منٹ اور سکنڈ ماں کے پیٹ میں رہے گا، اور اس کا ٹھیک وقت ولادت کیا ہوگا۔ اللہ ہی نے ہر بچے کے لیے ایک خاص مدت مقرر کی ہے اور وہی اس کو جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–24

عُذْرًا اَوْ نُذْرًا یہ فالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا سے متعلق ہے کہ یہ ذکر اور وحی انبیاء (علیہم السلام) پر اس لئے نازل کی جائے گی کہ وہ اہل حق مومنین کے لئے ان کی کوتاہیوں سے معذرت کا سبب بنے اور اہل باطل کفار کے لئے نذیر اور عذاب سے ڈرانے والا ثابت ہو۔ ہواؤں یا فرشتوں یا دونوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِـع یعنی تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب اجزاء و سزا کا وعدہ بذریعہ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا۔ آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے اول یہ کہ سب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ جس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ یہ سب بالکلیہ فنا ہی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ایک انفسی دلیل: اوپر کی دلیل آفاقی تھی۔ اسی دعوے پر انسان کی خلقت سے یہ انفسی دلیل پیش کی گئی ہے۔ انسان کی خلقت سے قرآن نے قیامت پر متعدد پہلوؤں سے دلیل قائم کی ہے۔ مثلاً o مٹی اور پانی کی ایک بوند سے اس کی پیدائش کا حوالہ دے کر امکان بعث اور امکان حشر و نشر کو ثابت کیا ہے۔ o اس کی خلقت کے اندر خدا کی قدرت، حکمت اور صنعت گری کے جو شواہد نمایاں ہیں ان سے جزا اور سزا کے لازم ہونے پر استدلال کیا ہے۔ o انسان کی پرورش کے لیے اس نے جو اہتمام فرمایا ہے اس سے بھی جزا اور سزا کے لزوم پر دلیل قائم کی ہے۔ o انسان کے اندر خیر و شر کے امتیاز کی جو صفت ودیعت فرمائی ہے اس سے ایک روز عدل کے لازمی ہونے پر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–20

6: یعنی جس طرح پچھلے زمانے کے کافر ہلاک ہوئے، عرب کے یہ کافر جو آنحضرت ﷺ کو جھٹلا رہے ہیں یہ بھی ہلاک ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–22

الم نخلقکم ............................ للمکذبین اس سے مراد جنین کا طویل اور عجیب سفر ہے۔ اس طویل نامیاتی سفر کو قرآن کریم چند جھلکیوں کے اندر بیان کردیتا ہے۔ ایک حقیر پانی کی بوند ، پھر قرار مکین اور محفوظ جگہ میں رکھنا ، ایک متعین وقت تک ایک واضح نظام اور اندازے کے مطابق ، اور اس نظام اور اندازے کے بارے میں یہ تبصرہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 20–21

12 یعنی ایک ٹھہراؤ کی جگہ میں محفوظ رکھا۔ مراد اس سے رحم مادر ہے جسے ہمارے محاورات میں بچہ دان کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 20{ اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّآئٍ مَّہِیْنٍ۔ } ”کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟“ انسان کا مادئہ تخلیق ایسی گھٹیا چیز ہے کہ جس کا نام بھی کوئی اپنی زبان پر لانا پسند نہیں کرتا۔ سورة الدھر میں اس حقیقت کا ذکر اس طرح آیا ہے : { ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا۔ } ”کیا انسان پر اس زمانے میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 20–21

12 یعنی تین پردوں کے اندر نطفہ کو اس قدر محفوظ کردیا اور اتنا سختی سے جما دیا کہ کسی شدید حادثہ سے دوچار ہوئے بغیر حمل کا اسقاط نہیں ہوتا۔ اور اگر کوئی خود حمل کو ساقط کرنا چاہے تو حاملہ یا ماں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 20–23

7۔ (تو ممکن نہیں کہ ہمارے اندازہ میں کسی خطاوغلطی یا بھول چوک کی گنجائش ہو) (آیت) ” من مآء مھین یعنی نطفہ منی سے۔ باغی و سرکش انسان کی تحقیر تو اس بیان سے ظاہری ہی ہے۔ باقی یہ بھی مستحضر رہے کہ دنیا میں بعض مشرک قومیں نطفہ منی کے تقدس واحترام کی بھی قائل ہوئی ہیں۔ اور قرآن مجید ضمنا اس جہل کی بھی تردید کرتا جارہا ہے۔ (آیت) ” فی قرار مکین “۔ یعنی رحم مادر میں۔ (آیت) ” فقدرنا “۔ یعنی ان سارے تصرفات کا ایک اندازہ ٹھہرالیا۔ (آیت) ” الی قدر معلوم “۔ یعنی وقت کی ایک مقدار معلوم تک۔ (آیت) ” فنعم القدرون “۔ قادرون یہاں مقدرون کے معنی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–40

الم نھلک الاولین ثم نتبعھم الاخرین، کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ان کے کفر وعناد کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا ؟ ثم نتبعھم مشہور قرأت کی رو سے عین پر جزم کے ساتھ ہے، اور نھلک پر عطف ہے معنی یہ ہیں کہ کیا ہم نے اولین کے بعد آخرین کو ان کے پیچھے ہلاک نہیں کردیا ؟ اس لئے آخرین سے مراد بھی سابقہ امتوں ہی کے آخرین مراد ہوں گے، جن کی ہلاکت نزول قرآن سے پہلے ہوچکی ہے، دوسری ایک قرأت میں عین کے ضمہ کے ساتھ ہے، اس قرأت کے مطابق یہ جملہ اور آخرین سے مراد امت محمدیہ ﷺ کے کفار ہیں، پچھلی امتوں کی ہلاکت کی خبر دینے کے بعد موجودہ کفار اہل مکہ کو آئندہ ان پر آنے والے عذاب کی خبر دینا مقصود ہے جیسا کہ غزوہ ٔ بدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم نخلقکم من ماء مھین . استفہام تقریری ہے۔ مھین سے مراد ہے ‘ حقیر ‘ گندہ یعنی نطفہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 20–21

(20۔ 21) اے جھٹلانے والوں کی جماعت کیا ہم نے تمہیں ایک بےقدر پانی سے نہیں بنایا پھر ہم نے اس کو نو مہینے تک یا اس سے کم یا زائد تک ایک محفوظ جگہ یعنی رحم مادر میں رکھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 20–24

(1) الم نخلقکم من مآء مھین…: اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حقیر پانی یعنی منی کے قطرے سے پیدا فرمایا، پھر اسے ایک محفوظ ٹھکانے یعنی ماں کے رحم میں رکھا، جو تین اطراف سے ہڈیوں سے گھبرا ہوا ہے۔ حمل قرار پاتے ہی بچے کو اتنی مضبوطی سے رحم میں جمایا جاتا ہے اور اس کی حفاظت کا اتنا انتظام ہوتا ہے کہ شدید حادثے کے بغیر اس کا سقاط نہیں ہوسکتا۔ (2) الی قدر معلوم :“ اس اندازے تک جو معلوم ہے“ یعنی نو ماہ یا اس سے کم یا زیادہ، جس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے کہ وہ اتنے مہینوں، دنوں، گھنٹوں یا منٹوں میں پیدا ہوگا، کسی دوسرے کو اس کا علم نہیں۔ (3) فقدرنا فنعم القدرون : یعنی ہم نے ایک اسی مدت مقرر کی جس میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

الم نخلقکم من مائ۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔ الم نخلقکم من ماء مھین۔ مھین، کا معنی کمزور اور حقیر ہے۔ اس سے مراد نطفہ ہے اس کا ذکر ہوچکا ہے جو آدمی یہ کہتا ہو کہ جنین کی پیدائش صرف مرد کے پانی سے ہوتی ہے اس کی دلیل یہی آیت ہے اس کے بارے میں گفتگو گزرچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–22

1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الم نخلقکم من ماء مہین۔ کیا ہم نے تمہیں ایک ذلیل پانی سے نہیں پیدا کیا۔ یعنی ” بالمہین “ سے مراد ہے کمزور اور حقیر پانی۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت من ماء مہین یعنی ایسا پانی جو ٹھہرانے کی محفوظ جگہ میں ضعیف اور کمزور ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَاۗءٍ مَّهِيْنٍ : کیا ہم نے پیدا نہیں کیا تم کو ایک حقیر پانی سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–23

پہلی امتیں ہلاک ہوچکی ہیں ان سے عبرت حاصل کرو، اللہ کی نعمتوں کی قدر دانی کرو، جھٹلانے والوں کے لیے بڑی خرابی ہے جب تکذیب پر عذاب میں مبتلا کیے جانے کی وعید سنائی جاتی تھی تو مکذبین و منکرین کہتے تھے کہ یہ ایسی ہی باتیں ہیں عذاب وزاب کچھ آنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا کیا دنیا میں ہم نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک نہیں کیا ؟ اسے تو تم مانتے ہو کہ تم سے پہلی قومیں ہلاک ہوئی ہیں اور ان پر عذاب آیا ہم نے انہیں ہلاک کیا ان کے بعد والوں کو بھی ان کے ساتھ کردیں گے یعنی بعد والوں کو بھی عذاب دیں گے اور ہلاک کریں گے اور ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں یعنی کافروں کے کفر پر سزا دینا طے شدہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–50

اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 20–24

5:۔ ” الم نخلقکم “ یہ حشر و نشر پر عقلی دلیل ہے۔ ان سے پوچھو تو سہی کیا ہم نے ان کو ایک حقیر اور ناپاک پانی سے پیدا نہیں کیا ؟ اس نطفہ کو ایک میعاد معین تک جائے قرار (رحم) میں رکھا۔ پھر اس کے بارے میں ہر چیز کا نداز مقرر کیا۔ رحم مادر میں اس کے ٹھہرنے کی مدت، اس کی عمر، اس کا عمل، اس کا رزق اور اس کی سعادت و شقاوت وغیرہ۔ ہم کیسے ہی قادر ہیں کہ کوئی چیز ہماری قدرت اور دسترس سے باہر نہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہم حشر و نشر پر بھی قادر ہیں تو ان لوگوں کے لیے ہے اس دن ہلاکت اور بربادی ہوگی جو حشر و نشر کا یا اس پر ہماری قدرت کا انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّہِيْنٍ۝ 20 ۙ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–28

ترکیب : الیٰ قدر الجارمتعلق یجعلنا بمعنی اثبناہ فقدرنا قرء نافع و عبداللہ بن عامر بالتشدید والباقون بالتخفیف علی الاول من التقدیر (اندازہ کردن) وعلی الثانی من القدرۃ کفاتا قیل ھو جمع کا فت کالصائم و الصیام وقیل مصدر مثل کتاب و حساب و التقدیر ذات کفت ای جمع۔ و معنی الکفت فی اللغۃ الضم والجمع یقال کفت الشیء اے ضممۃ ویقال جراب کفیت ٌ و کفت ٌ اذاکان لایضیع شیئا ممایجعل فیہ وقال صاحب الکشاف ھواسم مایکفت کقولھم الصمام والجماع لمایضم ویجمع احیائً وامواتًا منصوبات اماعلی انھما مفعول کفات ای الم نجعل الارض کفات احیائٍ و امواتٍ فاذانون نصب مابعدہ واماعلی انھما المفعول الثانی لجعلنا ای جعلنا بعض الارض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–24

اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّـآئٍ مَّھِیْنٍ ۔ فَجَعَلْنٰـہُ فِیْ قَرَارٍمَّکِیْنٍ ۔ اِلٰی قَدَرٍمَّعْلُوْمٍ ۔ فَقَدَرْنَا صلے ق فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 20 تا 24) (کیا ہم نے تم کو ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا۔ پھر ہم نے اس کو رکھا ایک محفوظ جگہ میں۔ ایک معین مدت تک۔ پس ہم نے اس کو ٹھہرایا، ہم کیا ہی اچھی قدرت رکھنے والے ہیں۔ خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ ) قیامت کے وقوع پر ایک انفسی دلیل گزشتہ آیت کریمہ میں قیامت کے وقوع اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر آفاقی دلیل قائم کی تھی۔ پیش نظر آیات میں انفسی دلیل سے کام لیا گیا ہے۔ سب سے پہلی بات…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–28

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کو اپنی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت۔ سور ۃ الدّھر کی ابتدائی آیات میں یہ بیان ہوا کہ کیا انسان کو معلوم نہیں کہ اس پر ایک ایسا زمانہ گزرا ہے کہ اس کا کائنات میں ذکر تک نہیں تھا۔ اب ارشاد فرمایا ہے کہ کیا لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہم نے انہیں ایک حقیر پانی سے پیدا کیا اور اپنی قدرت سے اسے ایک محفوظ مقام پر ٹھہرایا اور ہم پوری قدرت رکھنے والے ہیں یعنی انسان کی پوری زندگی اور اسے دوبارہ زندہ کرنے پھر اپنے حضور پیش کرنے پر قادر ہیں۔ گویا کہ انسان اپنے رب کے سامنے بےبس ہے نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے جیتا اور مرتا ہے۔ لیکن اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

20 : اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّآ ئٍ مَّھِیْنٍ (کیا ہم نے تم کو ایک بےقدر پانی سے نہیں بنایا) مھینؔ حقیر اور وہ نطفہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 18–20

17 ۔” ثم نتبعھم الآخرین “ کفر و تکذیب میں ان کے راستہ پرچلنے والوں کو۔ یعنی کفار مکہ ان کے محمد ﷺ کی تکذیب کرنے کی وجہ سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–28

16۔ 28۔ قوم نوح سے لے کر فرعون تک کے ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔ اسی واسطے فرمایا ہم یہی کچھ کرتے ہیں گناہ گاروں سے۔ کفار مکہ اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے منکر شریعت لوگوں کو آخرین فرمایا۔ اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخر زمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت اور اللہ کے کلام کے جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں کے لئے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے کا اور مردہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 20–21

اے انسانو۔ کیا ہم نے تمہیں پیدا نہیں کیا۔ (من ماء مھین) اس پانی سے جو انتہائی حقیر ہے جو پشت اور سینے کے درمیان سے خارج ہوتا ہے ؟ یہاں تک کہ اللہ نے اسے رکھ دیا۔ (فی قرار مکین) ایک محفوظ جگہ میں اس سے مراد رحم ہے یہیں نطفہ ٹھہرتا اور نشونما پاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 19–22

13 ۔ منکرین و مکذبین کے لئے بڑی ہی خرابی و ہلاکت۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی خرابی اور ہلاکت ہوگی اس روز جھٹلانے والوں کے لئے جنہوں نے تاریخ اقوام او واقعات عالم کے اس دستور سے بھی کوئی سبق نہ لیا، اس سے بھی ان کی آنکھیں نہ کھل سکیں اور وہ حق اور حقیقت کو جھٹلاتے ہی گئے یہاں تک کہ فرصت حیات جو ان کو حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے دراصل آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی کو بنانے سنوارنے ہی کے لئے دی گئی تھی، وہ تمام ہوئی اور یہ کفر و تکذیب اور انکار وعناد کی ظلمتوں ہی کے ساتھ اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگئے اور اپنے کئے کرائے کے نتیجے میں یہ اس دائمی خسران و ہلاکت سے ہمکنار…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–40

ہر زمانے کا اللہ ہی بادشاہ ہے تشریح : دنیا کا نظام جس خوبصورتی اور کامل طریقے سے چل رہا ہے وہ اللہ کی حکمت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ فرد اور قومیں آتی ہیں جاتی ہیں اچھائی برائی کے بدلے عبرت کے طور پر اپنے پیچھے چھوڑتی چلی جاتی ہیں اور یوں نئے آنے والوں کے لیے سچی حقیقتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں کہ سبق سکھیں اور زندگی گزاریں۔ انسان کی پیدائش اور ہر مخلوق کی پیدائش کا طریقہ جو اللہ نے بنا رکھا ہے بےحد حیرت انگیز ہے۔ انسان کی پیدائش ایک قطرے سے ہوتی ہے جو بڑے خاص طریقہ سے عورت کے رحم کے اندر تین پردوں میں بحفاظت نشوونما پانے لگتا ہے اور مقررہ وقت پر پورا انسان بن کر باہر آجاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے انسان کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–40

سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–23

ف 12 یعنی ہم نے ایک ایسی مدت مقرر کی جس میں بچہ کی ساخت مکمل ہوجاتی ہے، نہ کوئی چیز ضرورت سے زائد بنتی ہے اور نہ کوئی ضروری چیز رہ جاتی ہے۔ جب تک اس کے لئے رحم کے اندر رہنا ضروری ہوتا ہے وہ اس میں رہتا ہے اور جب باہر آنا ضروری ہوتا ہے تو وہ باہر آجاتا ہے۔ یہ مدت ہم نے مقرر کی اور ہم کتنا ٹھیک اندازہ کرنے والے ہیں۔ ” قدرنا “ کا دوسرا ترجمہ ” ہم قادر ہوئے “ بھی ہوسکتا ہے یعنی ہم نے پانی کی ایک بوند کو بتدریج ترقی دیتے دیتے کامل وعاقل انسان بنایا۔ اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ ہم کیا خوب قدرت رکھنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(77:20) الم نخلقکم : أ ھمزہ استفہامیہ ہے لم نخلق مضارع نفی جحد بلم کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ کیا ہم نے تم کو پیدا نہیں کیا ماء مھین موصوف و صفت ، مھین ھون (باب نصر) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر۔ یہ اصل میں مہیون تھا۔ بروزن مفعول۔ حقیر، ذلیل، گندہ مرادیہاں نطفہ منی سے ہے۔ کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا۔ یعنی ضرور کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–50

لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–28

انسان کی پیدائش اور نیک وبد کا ہونا۔ (ف 1) قوم نوح سے لے کر فرعون تک ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے اسی واسطے فرمایا ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ کفار مکہ نبی ﷺ کے زمانہ کے منکر لوگوں کو آخرین فرمایا اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخرزمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت کی اور اللہ کے کلام کو جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی، قیامت کے دن ایسے لوگوں کے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–22

ف 2: اس قانون مکافات کا ذکر ہے ۔ جو اس دنیا میں جاری وساری ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ گو افراد کو تو برے اور اچھے عمل کی آزادی حاصل ہے ۔ مگر جب پوری قوم بدکار ہوجائے ۔ اس وقت ان کو گوارا نہیں کیا جاتا ۔ اس وقت اللہ کا قانون حرکت میں آتا ہے ۔ اور زندگی کے حق سے ان کو محروم کردیتا ہے ۔ اسی لئے فرمایا ۔ کہ پہلوں کو دیکھو ۔ کہ ان کو ان کے اعمال کی کیا سزا ملی ۔ پھر پچھلے کیوں ۔ اپنی سرکشی اور بداعمال پر نازاں ہیں ؟ ۔ باقی صفحہ حل لغات :۔ ریل ۔ اظہار تاسف کے لئے ہے ۔ فی پر مکین ۔ یعنی عورت کا رحم ۔ یہ قرآن کی لطافت بیان ہے ۔ کہ وہ نازک سے نازک مسائل کی تشیرح میں بھی انچیزوں کا اس طرح سے نام نہیں لیتا ۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–30

ف 1۔ مراد اس سائبان سے ایک دھواں ہے جو جہنم سے نکلے گا اور چونکہ کثرت سے ہوگا اس لئے بلند ہو کر پھٹ کر کئی ٹکڑے ہوجاوے گا فراغ حساب تک کفار اسی دھوئیں کے احاطہ میں رہیں گے جب مقبولین ظل عرش میں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 20–23

(کیا نہیں پیدا فرمایا ہم نے تمہیں ایک بےقدر قطرہ سے) ؟ یعنی ذلیل و خوار بےمقدار منی سے ۔ (پھر کردیا ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ میں) یعنی مضبوط قرار گاہ میں اور وہ رحم ہے (وقت معلوم تک) کے لیے ، اور وہ پیدا ہونے کا زمانہ ہے۔ (تو اندازہ مقرر کیا ہم نے۔ تو کتنے اچھے ہم قادر ہیں) کہ کیسا اچھا اندازہ کرنے والے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بچہ کی پیدائش کے لیے جس مدت کا اندازہ فرماتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور بہت بڑا احسان ہے۔ عام طور پر حمل کی مدت نو ماہ ہوتی ہے ۔ اس مدت میں پیٹ میں بچہ بتدریج نشو ونما کے مراحل طے کرتا ہے ، اور اس کی ماں بتدریج اس کا بوجھ اٹھانے کی عادی ہوجاتی ہے۔ اس میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–24

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرِ‌ينَ (Then We will cause the later ones to follow them....77:17) According to popular reading, Verse 17 purports to say that the present-day infidels, the people of Makkah, will receive punishment soon. They were punished and destroyed by Muslims in the Battle of Badr and so on. The difference between the punishment of former nations and the community of the Holy Prophet ﷺ is as follows: The former nations used to be destroyed by celestial punishment with all their habitations. The infidels in the community of the Holy Prophet ﷺ do not receive celestial punishment,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–21

11 "A secure place": the mother's womb in which the child is so firmly lodged as soon as it has been conceived and where such arrangements are made for its security and nourishment that abortion cannot take place unless there is a disaster, and even for artificial abortion extraordinary devices have to be adopted, which are both risky and harmful in spite of modern developments in medical science.

Read the full tafseer →