كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ ۟كَذٰلِكَ نَفۡعَلُ بِالۡمُجۡرِمِيۡنَ
ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Thus do We deal with the criminals.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ ۟كَذٰلِكَ نَفۡعَلُ بِالۡمُجۡرِمِيۡنَ
ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Thus do We deal with the criminals.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat
مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں
ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں
ہم گنہگاروں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں
ایسا ہی سلوک ہم مجرموں کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔
مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں،
ہم مجرموں کے ساتھ اِسی طرح (کا معاملہ) کرتے ہیں،
ہم مجرموں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں۔
ہم مجرموں سے ایسا ہی برتاؤ کیا کرتے ہیں
ہم مجرموں کے ساتھ یہی معاملہ کرتے ہیں۔
اسی طرح کرتے ہیں ہم مجرموں کے ساتھ
ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی (معاملہ) کیا کرتے ہیں
اسی طرح ہم کرتے رہے ہیں مجرموں کے ساتھ۔
ہم گناہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں
Thus do We deal with the guilty.
Thus We deal with the guilty people.
Thus We deal with the guilty people.
Thus do We deal with the criminals.
Thus deal We ever with the guilty.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Thus do We deal with the criminals.
Thus do We deal with the sinful ones.
Even thus shall We deal with the guilty.
In this wise We do with the culprits.
Thus do We deal with men of sin.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 16–28
حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کردیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کردیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہوگی، پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا، جیسے سورة یس کی تفسیر میں گذر چکا کہ اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کرسکے گا میں نے تو تجھے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
سورة الْمُرْسَلٰت 10 یہاں یہ فقرہ اس معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ دنیا میں ان کا جو انجام ہوا ہے یا آئندہ ہوگا وہ ان کی اصل سزا نہیں ہے، بلکہ اصلی تباہی تو ان پر فیصلے کے دن نازل ہوگی۔ یہاں کی پکڑ تو صرف یہ حیثیت رکھتی ہے کہ جب کوئی شخص مسلسل جرائم کرتا چلا جائے اور کسی طرح اپنی بگڑی ہوئی روش سے باز نہ آئے تو آخر کار اسے گرفتار کرلیا جائے گا۔ عدالت، جہاں اس کے مقدمے کا فیصلہ ہونا ہے اور اسے اس کے تمام کرتوتوں کی سزا دی جانی ہے، اس دنیا میں قائم نہیں ہوگی بلکہ آخرت میں ہوگی، اور وہی اس کی تباہی کا اصل دن ہوگا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف، حواشی 5۔ 6۔ ہود، حاشیہ 105)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–24
عُذْرًا اَوْ نُذْرًا یہ فالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا سے متعلق ہے کہ یہ ذکر اور وحی انبیاء (علیہم السلام) پر اس لئے نازل کی جائے گی کہ وہ اہل حق مومنین کے لئے ان کی کوتاہیوں سے معذرت کا سبب بنے اور اہل باطل کفار کے لئے نذیر اور عذاب سے ڈرانے والا ثابت ہو۔ ہواؤں یا فرشتوں یا دونوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِـع یعنی تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب اجزاء و سزا کا وعدہ بذریعہ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا۔ آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے اول یہ کہ سب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ جس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ یہ سب بالکلیہ فنا ہی…
Read the full tafseer →’کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ‘۔ اگرچہ یہ ایک کلیہ بیان ہوا ہے کہ ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے آئے ہیں اور ایسا ہی کریں گے لیکن اس میں خاص طور پر قریش کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ہم یہی معاملہ ان کے ساتھ بھی کریں گے۔ اگر یہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے اور قیامت کے دن جو حشر تمام مجرموں کا ہو گا وہی حشر ان کا بھی ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کے لیے یکساں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
18۔ 1 یعنی سزا دیتے ہیں دنیا میں اور آخرت میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
6: یعنی جس طرح پچھلے زمانے کے کافر ہلاک ہوئے، عرب کے یہ کافر جو آنحضرت ﷺ کو جھٹلا رہے ہیں یہ بھی ہلاک ہوں گے۔
Read the full tafseer →کذلک ................ مین (18:77) ” مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں “۔ یہ تو اللہ کی سنت جاریہ ہے۔ کبھی رکتی نہیں ، کبھی اپنا راستہ بدلتی نہیں۔ جب مجرمین جان لیتے ہیں کہ ان کا انجام ان دور کے مجرمین اور قریب کے مجرمین والا ہونے والا ہے تو ان پر ہلاکت کی بددعا آتی ہے اور اللہ کی طرف سے بددعا تو حکم ہلاکت ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
10 منکرین قیامت سمجھتے تھے کہ اتنی بڑی دنیا کہاں ختم ہوتی ہے ؟ بھلا کون باور کرے گا کہ سب آدمی بیک وقت مرجائیں گے اور نسل انسانی بالکل نابود ہوجائے گی ؟ یہ دوزخ اور عذاب کے ڈراوے سب فرضی اور بناوٹی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ اس کا جواب دیا کہ پہلے کتنے آدمی مرچکے اور کتنی قومیں اپنے گناہوں کی پاداش میں تباہ کی جا چکی ہیں۔ پھر ان کے پیچھے بھی موت و ہلاکت کا یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔ جب ہماری قدیم عادت مجرموں کی نسبت معلوم ہوچکی تو سمجھ لو کہ دور حاضر کے کفار کو بھی ہم ان ہی اگلوں کے پیچھے چلتا کردیں گے۔ جو ہستی الگ الگ زمانوں میں بڑے بڑے مضبوط آدمیوں کو مار سکتی اور طاقتور مجرموں کو پکڑ کر ہلاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
آیت 17{ ثُمَّ نُتْبِعُہُمُ الْاٰخِرِیْنَ۔ } ”پھر ہم ان کے پیچھے لگاتے رہے بعد میں آنے والوں کو۔“ اس سے نوع انسانی کی مختلف نسلوں کا یکے بعد دیگرے معمول کے مطابق دنیا میں آنا بھی مراد ہے اور ایک قوم کی تباہی کے بعد اس کی جگہ دوسری قوم کا اٹھایا جانا بھی۔ جیسے قوم نوح علیہ السلام کی ہلاکت کے بعد قوم عاد اور قوم عاد کی بربادی کے بعد قوم ثمود کو پیدا کیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
11 یعنی ہمارا یہ دستور اسی بات پر ختم نہیں ہوجاتا کہ آخرت کے منکروں کو تباہ و برباد کرکے صفحہ ئہستی سے مٹا دیں۔ بلکہ اس کی حیثیت تو محض ایک مجرم کی گرفتاری کی ہے۔ کہ باقی لوگ ان کے مظالم سے نجات پائیں اور محفوظ رہیں۔ اصل تباہی تو ان کی قیامت کے دن ہوگی۔ جس دن انہیں ان کے جرائم کی قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
6۔ (جو ہمارے اس نظام آخرت اور سارے سلسلہ جزاء وسزا سے انکار کرتے رہتے ہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
الم نھلک الاولین ثم نتبعھم الاخرین، کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ان کے کفر وعناد کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا ؟ ثم نتبعھم مشہور قرأت کی رو سے عین پر جزم کے ساتھ ہے، اور نھلک پر عطف ہے معنی یہ ہیں کہ کیا ہم نے اولین کے بعد آخرین کو ان کے پیچھے ہلاک نہیں کردیا ؟ اس لئے آخرین سے مراد بھی سابقہ امتوں ہی کے آخرین مراد ہوں گے، جن کی ہلاکت نزول قرآن سے پہلے ہوچکی ہے، دوسری ایک قرأت میں عین کے ضمہ کے ساتھ ہے، اس قرأت کے مطابق یہ جملہ اور آخرین سے مراد امت محمدیہ ﷺ کے کفار ہیں، پچھلی امتوں کی ہلاکت کی خبر دینے کے بعد موجودہ کفار اہل مکہ کو آئندہ ان پر آنے والے عذاب کی خبر دینا مقصود ہے جیسا کہ غزوہ ٔ بدر…
Read the full tafseer →کذلک نفعل بالمجرمین . یعنی مجرموں کا ہم اسی طرح ستیاناس کردیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
(16۔ 19) کیا ہم پہلے لوگوں کو عذاب اور موت سے نہیں ہلاک کرچکے اور پچھلوں کو بھی عذاب اور موت کے ذریعے اگلوں ہی کے ساتھ ساتھ کردیں گے آپ کی قوم جو مشرک ہے ہم ان کے ساتھ ایسا ہی کریں گے قیامت کے دن ان جھٹلانے والوں کو سخت عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
الم نھلک الاولین…: رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے پہلے کے کفار کو ”الاولین“ فرمایا، جن میں نوح ؑ کے زمانے کے کفار سے لے کر عیسیٰ ؑ کے زمانے کے تمام کفار شامل ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد تمام زمانوں کے کفار کو ”الاخرین“ فرمایا۔ پہلے لوگوں کی بربادی کا سبب بھی یہ تھا کہ وہ آخرت پر یقین رکھتے تھے اور اس دنیا کی زندگی ہی کو اصل زندگی سمجھتے تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لوگ آخر کار تباہ و برباد ہوگئے۔ اب بھی یہی قانون ہے کہ جو قوم آخرت کا انکار کرے گی تباہ و برباد ہوگی۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں پر جو ہلاکت آئے گی وہ اس دنیاوی بربادی کے علاوہ ہے اور ان کی اصل بربادی کا دن وہی ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
الم نھلک الاولین۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد تک گزشتہ امتوں میں سے جن کفار کو ہلاک کیا گیا اس کی خبر دی جارہی ہے پھ رہم بعد والوں کو پہلوں کے ساتھ ملادیں گے جس طرح ہم نے پہلے لوگوں کے ساتھ کیا ہم قریش کے مشرکوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کریں گے یاتوتلوار کا وار کرکے یا ہلاک کرکے۔ عام قراء نے ثم نتبعھم رفع کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ جملہ مستانفہ ہے اعرج نے نتبعھم جزم کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ نھلک الاولین۔ پر معطوف ہے جس طرح تو کہتا ہے الم تزرنی اکرم۔ مراد اس سے یہ ہے کہ رسولوں کے اوقات کے مختلف ہونے کے ساتھ اس نے مختلف قوموں کو یکے بعد دیگرے، ہلاک کیا پھر اس کلام سے نیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
22۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذ الرسل اقتت۔ اور جب رسول وقت معین پر جمع کیے جائیں گے۔ یعنی جب رسولوں سے وعدہ لیاجائے گا۔ 23۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اقتت سے مراد ہے اجلت یعنی جبکہ رسولوں کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ 24۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقتت سے مراد ہے جب رسول جمع کیے جائیں گے۔ 25۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” یوم الفصل “ سے مراد وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان ان کے اعمال کے بدلے میں جنت یا دوزخ کی طرف فیصلہ…
Read the full tafseer →[كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِيْنَ : اس کے جیسا ہی ہم کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
پہلی امتیں ہلاک ہوچکی ہیں ان سے عبرت حاصل کرو، اللہ کی نعمتوں کی قدر دانی کرو، جھٹلانے والوں کے لیے بڑی خرابی ہے جب تکذیب پر عذاب میں مبتلا کیے جانے کی وعید سنائی جاتی تھی تو مکذبین و منکرین کہتے تھے کہ یہ ایسی ہی باتیں ہیں عذاب وزاب کچھ آنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا کیا دنیا میں ہم نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک نہیں کیا ؟ اسے تو تم مانتے ہو کہ تم سے پہلی قومیں ہلاک ہوئی ہیں اور ان پر عذاب آیا ہم نے انہیں ہلاک کیا ان کے بعد والوں کو بھی ان کے ساتھ کردیں گے یعنی بعد والوں کو بھی عذاب دیں گے اور ہلاک کریں گے اور ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں یعنی کافروں کے کفر پر سزا دینا طے شدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
4:۔ ” الم نہلک “ یہ تخویف دنیوی ہے ذرا ان سے پوچھو تو سہی کیا ہم نے ان سے پہلے سرکشوں اور معاندوں کو ہلاک نہیں کیا ؟۔ ” ثم نتبعہم الاخرین “ یہ استیناف ہے اور اس میں اہل مکہ کے لیے وعید ہے۔ ان اولین کی طرح ہم ان باقیوں کو بھی ہلاک کریں گے کیونکہ مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کرتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود وہ پھر بھی نہیں مانتے اور مکذبین کے لیے تو ہے ہی ہلاکت اور ویل۔ رفع علی الاستیناف وھو وعید لاھل مکۃ واخبار بعد الھجرۃ کبدر کانہ قیل ثم نحن نفعل بامثالہم من الاخرین مثل ما فعلنا بالاولین الخ (روح ج 29 ص 174) ۔
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِيْنَ 18 فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، (ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔ جرم أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة : ردیء التمر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ترکیب : فاذا ھذہ ومابعدھا کلھا شرط وجوابھا محذوف تقدیرہ بان الامراو فصل طمست یقال طمس الشیء اذادس و ذہب اثرہ نسفت یقال نسفت الشیء وانسفۃ اذا اخذتہ بسرعۃ وقیل جعلت کالحب الذی ینسف بالمنسف 1 ؎ قال المبرد نسفت قلعت من مواضعہا اقتت الھمزۃ بدل من الواوا المضمومۃ وکل واو مضمومۃ بضمۃ لازمہ یجوزا ابدالھا بالھمزۃ وقدقریٔ بالوا ولاھیّ یوم اجلت الامور اوالرسل الجملۃ استفھامیۃ والاستفھام للتعظیم والتعجب مقولۃ یقول مقدر اے یقال۔ قبل ھو جواب لاذاللمکذبین خبرہ و کر رت ھذہ الآیۃ فی ھذہ السورۃ عشر مرات علی تعداد مستحقی الویل ثم نبتعھما لجمھور علی الرفع ای ثم نحن نبتعھم ولیس بمعطوف لان العطف یوجب ان یکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
اَلَمْ نُھْلِکِ الْاَوَّلِیْنَ ۔ ثُمَّ نُتْبِعُـہُمُ الْاٰخِرِیْنَ ۔ کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 16 تا 19) (کیا ہم نے پہلوں کو ہلاک نہیں کیا ؟ پھر ان کے پیچھے ہم بعد والوں کو چلتا کریں گے۔ ہم مجرموں کے ساتھ یہی معاملہ کرتے ہیں۔ خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی۔ ) قیامت کے حق میں تاریخ سے استدلال آخرت اور قیامت کے حق میں تاریخ سے استدلال فرمایا گیا ہے۔ انسان بعض دفعہ عقلی دلائل کو سمجھ نہیں پاتا یا سمجھ کر جھٹلا دیتا ہے، لیکن تاریخی دلائل کا انکار بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے کہ تاریخ سے آگاہ لوگ اکا دکا نہیں بلکہ بکثرت ہوتے ہیں جبکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–19
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جس دن کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے پانچ قسمیں اٹھائی ہیں اس دن کی حالت یہ ہوگی۔ ہوا کی طاقت بیان کرنے کے بعد قیامت کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ جس آندھی سے تم خوف زدہ ہوتے ہو وہ قیامت کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جو ہر صورت واقع ہو کر رہے گی۔ اس کا آغاز اس طرح خوفناک ہوگا کہ اس دن ستاروں کی روشنی ختم کردی جائے گی، آسمان پھاڑ دیا جائے گا، پہاڑ اڑا دیئے جائیں گے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ آپ کو کیا خبر ! کہ فیصلے کا دن کیسا ہوگا ؟ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی اور بربادی ہوگی۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر بتلایا ہے کہ قیامت…
Read the full tafseer →18 : کَذٰلِکَ (اسی طرح) اس جیسا سخت معاملہ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ (ہم مجرمین کے ساتھ کیا کرتے ہیں) ۔ ہر اس شخص سے جو جرم کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
17 ۔” ثم نتبعھم الآخرین “ کفر و تکذیب میں ان کے راستہ پرچلنے والوں کو۔ یعنی کفار مکہ ان کے محمد ﷺ کی تکذیب کرنے کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
16۔ 28۔ قوم نوح سے لے کر فرعون تک کے ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔ اسی واسطے فرمایا ہم یہی کچھ کرتے ہیں گناہ گاروں سے۔ کفار مکہ اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے منکر شریعت لوگوں کو آخرین فرمایا۔ اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخر زمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت اور اللہ کے کلام کے جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں کے لئے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے کا اور مردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
کیا ہم نے جھٹلانے والے گزشتہ لوگوں کو ہلاک نہیں کرڈالا پھر ہم آخر میں آنے والے لوگوں کو ان کے بعد ہلاک کریں گے جو جھٹلائیں گے۔ ہر مجرم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سابقہ سنت بھی یہی ہے اور آئندہ سنت الٰہی بھی یہی ہوگی ان کے لیے سزا حتمی ہے تو جو کچھ دیکھتے اور جو کچھ سنتے ہو اس سے عبرت کیوں نہیں پکڑتے ؟
Read the full tafseer →12 مجرموں کے لئے ایک قاعدہ کلیہ کا ذکر وبیان : سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں اللہ کا قانون ہے لاگ اور سب کے یکساں ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اسی طرح کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ۔ یعنی یہ ہمارا ایک ایسا قاعدہ کلیہ، اٹل ضابطہ اور عام قانون ہے کہ اس میں کوئی استثناء نہ اس سے پہلے تھا نہ اب ہوگا، ہم اگلوں کی ہلاکت کے بعد ان کی روش پر چلنے والے پچھلوں کو بھی انہی کے ساتھ شامل کرتے رہے، سو ہماری اس سنت میں کسی تبدیل کا کوئی امکان نہیں، نہ پہلے کبھی اس میں کوئی استثناء ہوا نہ آئندہ کبھی ہوگا، مجرموں کے ساتھ ہمارا معاملہ ہمیشہ یہی رہا اور یہی رہے گا اور اللہ کے رسول نے مجرموں کے لئے جس انجام کی خبر دی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
ہر زمانے کا اللہ ہی بادشاہ ہے تشریح : دنیا کا نظام جس خوبصورتی اور کامل طریقے سے چل رہا ہے وہ اللہ کی حکمت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ فرد اور قومیں آتی ہیں جاتی ہیں اچھائی برائی کے بدلے عبرت کے طور پر اپنے پیچھے چھوڑتی چلی جاتی ہیں اور یوں نئے آنے والوں کے لیے سچی حقیقتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں کہ سبق سکھیں اور زندگی گزاریں۔ انسان کی پیدائش اور ہر مخلوق کی پیدائش کا طریقہ جو اللہ نے بنا رکھا ہے بےحد حیرت انگیز ہے۔ انسان کی پیدائش ایک قطرے سے ہوتی ہے جو بڑے خاص طریقہ سے عورت کے رحم کے اندر تین پردوں میں بحفاظت نشوونما پانے لگتا ہے اور مقررہ وقت پر پورا انسان بن کر باہر آجاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
ف 12 یعنی ہم نے ایک ایسی مدت مقرر کی جس میں بچہ کی ساخت مکمل ہوجاتی ہے، نہ کوئی چیز ضرورت سے زائد بنتی ہے اور نہ کوئی ضروری چیز رہ جاتی ہے۔ جب تک اس کے لئے رحم کے اندر رہنا ضروری ہوتا ہے وہ اس میں رہتا ہے اور جب باہر آنا ضروری ہوتا ہے تو وہ باہر آجاتا ہے۔ یہ مدت ہم نے مقرر کی اور ہم کتنا ٹھیک اندازہ کرنے والے ہیں۔ ” قدرنا “ کا دوسرا ترجمہ ” ہم قادر ہوئے “ بھی ہوسکتا ہے یعنی ہم نے پانی کی ایک بوند کو بتدریج ترقی دیتے دیتے کامل وعاقل انسان بنایا۔ اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ ہم کیا خوب قدرت رکھنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →(77:18) کذلک۔ کاف تشبیہ کا۔ ذلک کا اشارہ ہے کفار سلف کے ارتکاب جرم کی پاداش میں ہلاک ہونا۔ مطلب یہ کہ ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
انسان کی پیدائش اور نیک وبد کا ہونا۔ (ف 1) قوم نوح سے لے کر فرعون تک ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے اسی واسطے فرمایا ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ کفار مکہ نبی ﷺ کے زمانہ کے منکر لوگوں کو آخرین فرمایا اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخرزمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت کی اور اللہ کے کلام کو جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی، قیامت کے دن ایسے لوگوں کے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے…
Read the full tafseer →[5] اشارہ ہے قوم نوح، عاد، ثمود اور ان کے بعد آنے والی قوموں کی طرف جن کی سرگزشتیں قرآن میں بیان ہوئی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب تاریخ اس بات کی مسلسل شہادت دے رہی ہے کہ روز آخرت اور جزا و سزا کا انکار کرنے والوں کو ہم نے ہلاک کر مارا تو آخر انہی کی روش پر چلنے والے دورحاضر کے مجرموں کے بارے میں ہماری سنت کیوں بدل جائے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
ف 2: اس قانون مکافات کا ذکر ہے ۔ جو اس دنیا میں جاری وساری ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ گو افراد کو تو برے اور اچھے عمل کی آزادی حاصل ہے ۔ مگر جب پوری قوم بدکار ہوجائے ۔ اس وقت ان کو گوارا نہیں کیا جاتا ۔ اس وقت اللہ کا قانون حرکت میں آتا ہے ۔ اور زندگی کے حق سے ان کو محروم کردیتا ہے ۔ اسی لئے فرمایا ۔ کہ پہلوں کو دیکھو ۔ کہ ان کو ان کے اعمال کی کیا سزا ملی ۔ پھر پچھلے کیوں ۔ اپنی سرکشی اور بداعمال پر نازاں ہیں ؟ ۔ باقی صفحہ حل لغات :۔ ریل ۔ اظہار تاسف کے لئے ہے ۔ فی پر مکین ۔ یعنی عورت کا رحم ۔ یہ قرآن کی لطافت بیان ہے ۔ کہ وہ نازک سے نازک مسائل کی تشیرح میں بھی انچیزوں کا اس طرح سے نام نہیں لیتا ۔…
Read the full tafseer →(18) ہم گناہگاروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں۔ یعنی کیا ہم پہلی امتوں کو نافرمانی اور دین حق کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک نہیں کرچکے پھر ہم ان پچھلوں یعنی آپ کی امت کے نافرمانوں کو بھی انہی کے ساتھ لگادیں گے یعنی ان کو بھی تباہ و برباد کردیں گے کیونکہ ہم گنہگاروں اور مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں جب ہم سب مخلوق کو قیامت میں بیک وقت فنا کرسکتے ہیں تو تھوڑی تھوڑی آبادی کو فنا دینا ہماری نزدیک کیا مشکل ہے خواہ یہ تباہی دونوں جہان میں ہو یا صرف دار آخرت میں ہو باوجود اس کے بھی یہ لوگ قیامت کی تکذیب کرتے ہیں حالانکہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–30
ف 1۔ مراد اس سائبان سے ایک دھواں ہے جو جہنم سے نکلے گا اور چونکہ کثرت سے ہوگا اس لئے بلند ہو کر پھٹ کر کئی ٹکڑے ہوجاوے گا فراغ حساب تک کفار اسی دھوئیں کے احاطہ میں رہیں گے جب مقبولین ظل عرش میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
(اور کیا اٹکل ہو تمہیں کہ کیا ہے فیصلہ کا دن) ؟ اس لیے کہ اس کی کنہ کو بذات خود کوئی نہیں جان سکتا۔ (ہلاکی ہے اس دن ) اس دن کے (جھٹلانے والوں کی) غور کرو کہ (کیا نہیں برباد کردیا ہم نے اگلوں کو) جیسے قوم نوح ، قوم ھود ، اور قوم ثمود کو۔ (پھر پیچھے لگا دیں گے ہم) ہلاکت میں (ان کے ان پچھلوں کو) یعنی کفار مکہ کو ۔ (اسی طرح کرتے ہیں ہم مجرموں کے ساتھ) جو کفر و شرک کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ (ہلاکی ہے اس دن) اس وعید کے (جھٹلانے والوں کی) ہم قادر مطلق ہیں جو چاہا کیا ، جو چاہتے ہیں کرتے ہیں ، اور جو چاہیں گے کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرِينَ (Then We will cause the later ones to follow them....77:17) According to popular reading, Verse 17 purports to say that the present-day infidels, the people of Makkah, will receive punishment soon. They were punished and destroyed by Muslims in the Battle of Badr and so on. The difference between the punishment of former nations and the community of the Holy Prophet ﷺ is as follows: The former nations used to be destroyed by celestial punishment with all their habitations. The infidels in the community of the Holy Prophet ﷺ do not receive celestial punishment,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
10 This sentence in the present context means: "The fate they have met or will meet in the world, is not their real punishment; their real doom will descend on them on the Day of Decision. The punishment here is only in the nature of a person's being arrested when he commits one crime after the other fearlessly and is not inclined to mend and change his ways. The court where his test is to be decided and he is to be punished for.all his misdeeds, will not be established in this world but in the Hereafter, and that indeed will be the actual Day of his ruin and disaster." (For further…
Read the full tafseer →