Al-Maaida 5:108

Al-Maaida · from ayah 108

5:108

ذٰلِكَ اَدْنٰۤی اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰی وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ ؕ— وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاسْمَعُوْا ؕ— وَاللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ۟۠ذٰ لِكَ اَدۡنٰٓى اَنۡ يَّاۡتُوۡا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجۡهِهَاۤ اَوۡ يَخَافُوۡۤا اَنۡ تُرَدَّ اَيۡمَانٌۢ بَعۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاسۡمَعُوۡا‌ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ

اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح شہادت دیں یا اس بات سے خوف کریں کہ (ہماری) قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کر دی جائیں گی اور خدا سے ڈرو اور اس کے حکموں کو (گوشِ ہوش سے) سنو اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

That is more likely that they will give testimony according to its [true] objective, or [at least] they would fear that [other] oaths might be taken after their oaths. And fear Allah and listen; and Allah does not guide the defiantly disobedient people.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 14 of surah · Ruku 4 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:108

اس طریقہ سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے، یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد ددسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہو جائے اللہ سے ڈرو اور سنو، اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح شہادت دیں یا اس بات سے خوف کریں کہ (ہماری) قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کر دی جائیں گی اور خدا سے ڈرو اور اس کے حکموں کو (گوشِ ہوش سے) سنو اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ قریب ذریعہ ہے اس امر کا کہ وه لوگ واقعہ کو ٹھیک طور پر ﻇاہر کریں یا اس بات سے ڈر جائیں کہ ان سے قسمیں لینے کے بعد قسمیں الٹی پڑ جائیں گی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سنو! اور اللہ تعالیٰ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس طریقے میں اس بات کی زیادہ امید ہے کہ لوگ (شروع ہی میں) ٹھیک ٹھیک گواہی دیں یا اس بات سے ڈریں کہ (جھوٹی گواہی کی صورت میں) ان کی قسموں کے بعد لوٹا کر دوسری قسمیں لی جائیں گی (جو ہماری تردید کردیں گے) اور اللہ سے ڈرو، اور (جو کچھ اس کی طرف سے کہا گیا ہے اسے قبول کرنے کی نیت سے) سنو۔ اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ قریب تر ہے اس سے کہ گواہی جیسی چاہیے ادا کریں یا ڈریں کہ کچھ قسمیں رد کردی جائیں ان کی قسموں کے بعد اور اللہ سے ڈرو اور حکم سنو، اور اللہ بے حکموں کو راہ نہیں دیتا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ (طریقہ) اس بات سے قریب تر ہے کہ لوگ صحیح طور پر گواہی ادا کریں یا اس بات سے خوفزدہ ہوں کہ (غلط گواہی کی صورت میں) ان کی قََسموں کے بعد (وہی) قَسمیں (زیادہ قریبی ورثاء کی طرف) لوٹائی جائیں گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور (اس کے احکام کو غور سے) سنا کرو، اور اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی کو اس کے طریقے پر ادا کریں، یا اس سے ڈریں کہ (ان کی) قسمیں ان (قرابت داروں) کی قسموں کے بعد رد کردی جائیں گی اور اللہ سے ڈرو اور سنو اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس طریقہ سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیا کریں یا اس بات سے ڈر جائیں کہ کہیں ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے ان کی تردید نہ ہوجائے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے احکام دھیان سے سنو اور اللہ نافرمان لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ طرقہ اس امر کے قرین ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں یا اس بات سے ڈریں کہ ان کی گواہی کے بعد ان کی گواہی رد ہوجائے گی اور اللہ سے ڈرو اور سنو اللہ نافرمانوں کو راہ یاب نہیں کرتا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ طریقہ زیادہ قریب ہے اس بات کے کہ وہ گواہی دیں، اس کے (صحیح) طریقے پر، یا (کم از کم) اس بات سے ہی ڈریں کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ کردی جائے، اور ہمشہ ڈرتے رہا کرو تم اللہ سے (اے لوگو !) اور سنا کرو، اور (یہ حقیقت پیش نظر رکھو کہ) اللہ ہدایت سے نہیں نوازتا فاسق (و بدکار) لوگوں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

یہ اس کا قریب ترین (طریقہ) ہے کہ لوگ گواہی ٹھیک دیں یا اس سے ڈرے رہیں کہ ہماری ان کی قسموں کے الٹی پڑیں گی۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے رہو اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ طریقہ کار قریب تر ہے کہ اس سے لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت پیش کریں یا (کم از کم) انہیں خوف رہے کہ ہماری قسمیں ان کی قسموں کے بعد ردّ کردی جائیں گی اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سن رکھو اللہ ایسے نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس طریقہ سے زیادہ امید کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں گے، یا یہ خوف ضرور کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے۔ اللہ سے ڈرو اور سنو، اللہ نافرمانی کرنے والوں کو راہ نہیں دکھاتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thus it is more likely that they will either bear the right testimony or else they will at least fear that their oaths may be rebutted by other oaths. Have fear of Allah and pay heed. Allah does not direct the disobedient to the right way.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thus, it is more likely that the former people (i.e. the executors of the bequest) will bear witness in its proper way, or they will fear that oaths will be taken in rebuttal of their oaths. Fear Allah and listen. Allah does not lead sinning people to the right path.

— Muhammad Taqi Usmani

Thus, it is more likely that the former people (i.e. the executors of the bequest) will bear witness in its proper way, or they will fear that oaths will be taken in rebuttal of their oaths. Fear Allah and listen. Allah does not lead sinning people to the right path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That should make it closer (to the fact) that their testimony would be in its true nature and shape, or else they would fear that (other) oaths would be admitted after their oaths. And have Taqwa of Allah and listen (with obedience to Him). And Allah guides not the rebellious people.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thus it is more likely that they will bear true witness or fear that after their oaths the oaths (of others) will be taken. So be mindful of your duty (to Allah) and hearken. Allah guideth not the froward folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That is more likely that they will give testimony according to its [true] objective, or [at least] they would fear that [other] oaths might be taken after their oaths. And fear Allah and listen; and Allah does not guide the defiantly disobedient people.

— Saheeh International

This will help preserve a proper testimony because the witness will be afraid of the denial of their own testimony by a second pair of witness. Have fear of God and listen (properly). God does not guide the evil doing people.

— Muhammad Sarwar

This is more proper in order that they should give testimony truly or fear that other oaths be given after their oaths; and be careful of (your duty to) Allah, and hear; and Allah does not guide the transgressing people.

— Muhammad Habib Shakir

That shall make it more likely that they shall produce the testimony according to the fact thereof or they shall fear that other oaths would be admitted after their oaths. And fear Allah and hearken; and Allah guideth not a transgressing people.

— Abdul Majid Daryabadi

That is most suitable: that they may give the evidence in its true nature and shape, or else they would fear that other oaths would be taken after their oaths. But fear Allah, and listen (to His counsel): for Allah guideth not a rebellious people:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:108

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 106–108

معتبر گواہی کی شرائط بعض لوگوں نے اس آیت کے عزیز حکم کو منسوخ کہا ہے لیکن اکثر حضرات اس کے خلاف ہیں اثنان خبر ہے، اس کی تقدیر شھداۃ اثنین ہے مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ اس کے قائم مقام کردیا گیا ہے یا دلالت کلام کی بنا پر فعل محذوف کردیا گیا ہے یعنی ان یشھد اثنان، ذواعدل صفت ہے، منکم سے مراد مسلمانوں میں سے ہونا یا وصیت کرنے والے کے اہل میں سے ہونا ہے، من غیر کم سے مراد اہل کتاب ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ منکم سے مراد قبیلہ میں اور من غیر کم سے مراد اس کے قبیلے کے سوا، شرطیں دو ہیں ایک مسافر کے سفر میں ہونے کی صورت میں موت کے وقت وصیت کے لیے غیر مسلم کی گواہی چل سکتی ہے، حضرت شریح سے یہی مروی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 106–108

سورة الْمَآىِٕدَة 120 یعنی دیندار، راست باز اور قابل اعتماد مسلمان۔ سورة الْمَآىِٕدَة 121 اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے معاملات میں غیر مسلم کو شاہد بنانا صرف اس حالت میں درست ہے جبکہ کوئی مسلمان گواہ بننے کے لیے میسر نہ آسکے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 106–108

ربط آیات اوپر مصالح دینیہ کے متعلق احکام تھے، آگے مصالح دنیویہ کے متعلق بعض احکام کا ذکر کیا گیا ہے، اور اس میں اشارہ کردیا کہ حق تعالیٰ اپنی رحمت سے مثل اصلاح معاد کے اپنے بندوں کی معاش کی اصلاح بھی فرماتے ہیں (بیان القرآن) شان نزول آیات مذکورہ کے نزول کا واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص ”بُدیل“ نامی جو مسلمان تھا دو شخصوں تمیم و عدی کے ساتھ جو اس وقت نصرانی تھے۔ بغرض تجارت ملک شام کی طرف گیا، شام پہنچ کر بدیل بیمار ہوگیا، اس نے اپنے مال کی فہرست لکھ کر اسباب میں رکھ دی، اور اپنے دونوں رفیقوں کو اطلاع نہ کی، مرض جب زیادہ بڑھا، تو اس نے دونوں نصرانی رفقاء کو وصیت کی کہ کل سامان میرے وارثوں کو پہنچا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ذٰلِكَ اَدْنٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰي وَجْهِهَآ اَوْ يَخَافُوْٓا اَنْ تُرَدَّ اَيْمَانٌۢ بَعْدَ اَيْمَانِهِمْ ۭوَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاسْمَعُوْا ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۔ یہ اس احتساب کا فائدہ بتایا ہے کہ اقرب ہے کہ اس احتساب کے خیال سے وہ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں ورنہ انہیں ڈر ہوگا کہ اگر ان سے کوئی بدعنوانی صادر ہوئی تو ان کی قسمیں دوسروں کی قسموں سے باطل ہوجائیں گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن کی حق تلفی ہوئی ہے اگر وہ مذکورہ قسم کھا لیں گے تو وصیت کے اصل گواہوں کی گواہی ان کے اولی بالشہادت ہونے کے باوجود رد ہوجائے گی۔ ترد ایمان بعد ایمانکم، میں ایمان کی تنکیر اسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18۔ 1 یہ اس فائدے کا ذکر ہے جو اس حکم میں پنہاں ہے، جس کا ذکر یہاں کیا گیا وہ یہ کہ یہ طریقہ اختیار کرنے میں اوصیا صحیح صحیح گواہی دیں گے کیونکہ انہیں خطرہ ہوگا کہ اگر ہم نے خیانت یا دروغ گوئی یا تبدیلی کا ارتکاب کیا تو یہ کاروائیاں خود ہم پر الٹ سکتی ہیں۔ اس واقعہ کی شان نزول میں بدیل بن ابی مریم کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ شام تجارت کی غرض سے گئے، وہاں بیمار اور قریب المرگ ہوگئے، ان کے پاس سامان ایک چاندی کا پیالہ تھا جو انہوں نے دو عیسائیوں کے سپرد کر کے اپنے رشتہ داروں تک پہنچانے کی وصیت کردی اور فوت ہوگئے، یہ دونوں وصی جب واپس آئے تو پیالہ تو انہوں نے بیچ کر پیسے آپس میں تقسیم کرلئے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 107–108

74: یہ ترجمہ امام رازی ؒ کی اختیار کردہ تفسیر پر مبنی ہے جس کی رو سے ”الاولیان“ سے مراد پہلے دو گواہ ہیں۔ جنہوں نے خیانت کی تھی۔ وھذا التفسیر اولیٰ حسب قراءۃ ”استحق“ علی البناء للفاعل کما ھو قراءۃ حفص، بالنظر الی اعراب الایۃ اما التفسیر الذی جعل ”ا الاولیا“ صفۃ للورثۃ، فوجھہ فی الاعراب خفی جدا، لانہ لا یظھر فیھا فاعل ”استحق“ الا بتکلف، و راجع روح المعانی و البحر المحیط و التفسیر الکبیر، نعم یظھر ذلک التفسیر فی قراءۃ ”استحق“ علی البناء و للمفعول۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 106–108

(آیت) ” 106 تا 108۔ ان تین آیات میں جو حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص یہ محسوس کرے کہ اس کی موت قریب ہے اور وہ اپنے اہل و عیال کے نام وصیت لکھنا چاہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دو عادل گواہ اہل اسلام میں سے بلائے ۔ اگر وہ مقیم ہو اور ان کو وہ وصیت دے دے تو جو وہ اس کے ورثاء کے سامنے رکھیں گے اور اگر یہ سفر میں ہو اسے مسلمان گواہ نہ مل رہے ہوں تو پھر یہ بات جائز ہے کہ وہ غیر مسلم دو افراد کو شاہد مقرر کرے ۔ اگر اہل اسلام یا اہل میت ان دو افراد کی شہادت بابت وصیت میں شک کریں کہ انہوں نے وصیت کے بارے میں جو شہادت دی ہے وہ درست نہیں ہے ‘ اور وہ جس چیز پر مامور کئے گئے تھے وہ ٹھیک طور پر ادا نہیں کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی وارثوں کو شبہ پڑے تو قسم دینے کا حکم رکھا۔ اس لئے کہ قسم سے ڈر کر اول ہی جھوٹ نہ ظاہر کریں پھر اگر ان کی بات جھوٹ نکلے تو وارث قسم کھائیں۔ یہ بھی اسی واسطے کہ وہ قسم میں دغا نہ کریں۔ جانیں کہ آخر ہماری قسم الٹی پڑے گی۔ کذافی موضح القرآن۔ 5 خدا کی نافرمانی کرنے والا انجام کار رسوا اور ذلیل ہی ہوتا ہے حقیقی کامیابی کا چہرہ نہیں دیکھتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 108 ذٰلِکَ اَدْنآی اَنْ یَّاْتُوْا بالشَّہَادَۃِ عَلٰی وَجْہِہَآ اَوْ یَخَافُوْٓا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌم بَعْدَ اَیْمَانِہِمْ ط کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ اگر ہم نے جھوٹی قسم کھا بھی لی ‘ اور پھر اگر دوسرا فریق بھی قسم کھا گیا ‘ تو ہمارا منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا۔ لہٰذا وہ اس کی ہمت نہیں کریں گے۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاسْمَعُوْا ط وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ اسی طرح کا معاملہ سورة النور آیات 6 تا 9 میں بھی مذکور ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھے اور اس کے پاس کوئی اور گواہ نہ ہو تو وہ چار مرتبہ قسم کھا کر کہے کہ میں جو کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

156 ان آیات میں چند باتیں قابل ذکر ہیں جو یہ ہیں۔ (1) یہاں پہلی دفعہ شہداء کا جو ذکر آیا ہے وہ وصی کے معنوں میں آیا ہے یعنی وہ لوگ جن کو میت اپنا ترکہ حوالہ کر کے انہیں وصیت کرے (2) غیر مسلموں کو صرف اس صورت میں وصی بنایا جاسکتا ہے جب مسلم وصی دستیاب نہ ہو رہے ہوں جیسے سفر میں اکثر ایسی ضرورت پیش آجاتی ہے (3) آئندہ کے لیے یہ قانون مقرر کردیا گیا کہ اگر وصی کے بیانات میں کچھ شک پڑجائے تو اس کے بعد ان سے اہل تر گواہوں کی شہادت کی بنا پر اوصیاء کی گواہی کو کالعدم بھی قرار دیا جاسکتا ہے لہذا انہیں چاہیے کہ گواہی ٹھیک ٹھیک دیا کریں تاکہ بعد میں رسوائی نہ ہو اور (4) صحیح تر بات یہ ہے کہ وہ اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

331 ۔ شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) اپنے تفسیری حاشیہ میں لکھتے ہیں، یعنی وارثوں کو شبہ پڑے تو قسم دینے کا حکم رکھا۔ اس لیے کہ قسم سے ڈر کر اول ہی جھوٹ نہ ظاہر کریں، پھر اگر ان کی بات جھوٹ نکلے تو وارث قسم کھائیں، یہ بھی اسی واسطے کہ وہ قسم میں دغا نہ کریں، جانیں کہ ہماری قسم الٹی پڑے گئی “۔ (موضح القرآن) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی قانون جو دو آیتوں میں بیان ہوا ہے۔ ای الحکم الذی ذکرنا والطریق الذی شرعنا (کبیر) (آیت) ” علی وجھھا “۔ یعنی مطابق حقیقت، بلاآمیزش۔ ای علی حقیق تھا من غیر تغییر لھا (روح) (آیت) ” اویخافوا “۔ ایمانھم “۔ اور اس ڈر سے جھوٹی قسم کھانے سے رک جائیں۔” اگر سپردگی مال زائد کی نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 108 ترجمہ : (مذکورہ دونوں آیتوں کا) مطلب یہ ہے کہ قریب المرگ شخص اپنی وصیت پر دو آدمیوں کو گواہ بنا لے اپنی ملت یا غیر ملت کے دو آدمیوں کو وصی بنالے اگر سفر وغیرہ کی وجہ سے اپنی ملت کے گواہ میسر نہ ہوں، اگر ورثاء وصیوں کے بارے میں شک و شبہ کریں اور دعویٰ کریں کہ ان دونوں نے (ترکہ میں سے) کوئی چیز لیکر یا ایسے شخص کو کچھ دیکر جس کے بارے میں وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میت نے اس کے لئے وصیت کی تھی تو ان دونوں سے قسم لی جائے اگر علامات سے ان دونوں وصیوں کی دروغ گوئی کا پتہ چلے بایں طور کہ وہ دونوں موصیٰ لہ کو دینے کا دعویٰ کریں تو ورثاء کا قریب ترین شخص ان کے کذب اور ورثاء کے دعوے کی صداقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذلک یعنی وارثوں کے شبہ کی صورت میں وصیوں سے قسم لینا اور وصی خریدنے کا دعویٰ کریں تو وارثوں کو قسم کھلوانا۔ ادنی ان یاتوا بالشہادۃ علی وجہہا او یخافوا ان ترد ایمان بعد ایمانہم قریب ترین ذریعہ ہے اس امر کا کہ وہ (وصی) واقعہ کو ٹھیک طور پر ظاہر کریں یا اس بات سے ڈر جائیں کہ ان سے قسمیں لینے کے بعد بھی قسمیں لوٹائی جائیں گی۔ یَاتْواکی ضمیر وصیوں کی طرف راجع ہے اور شہادت سے مراد ہے اظہارِ حق اور میّت کی کی ہوئی وصیت کا بیان علی وجمعا سے مراد یہ ہے کہ جیسی وصیت تھی بغیر خیانت کے ویسا ہی ظاہر کردیں۔ یخافوا کا عطف یا توا پر ہے۔ تُرَدَّ ایْمانٌ کا یہ مطلب ہے کہ وصیوں کے انکار کے بعد پھر وارثوں سے قسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(108) یہ قانون ان نصرانیوں کے مثلا واقعہ کو اس کی نوعیت کے ساتھ ظاہر کرنے کے لیے بہت ہی مناسب ذریعہ ہے یا وہ نصرانی اس بات سے ڈر کر قسمیں کھانے سے رک جائیں کہ ہم سے قسمیں لینے کے بعد پھر مسلمان ورثہ سے قسمیں لی جائیں گے تو ہمیں شرمندہ ہونا پڑے گا، لہٰذا امانت کی ادائیگی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جن باتوں کا اللہ کی جانب سے حکم دیا گیا ہے ان میں پورے طریقہ سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو کیوں کہ اللہ تعالیٰ گناہگار جھوٹوں اور کافروں کو اپنے دین کی طرف رہنمائی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 106–108

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ۔۔ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو ! جب تم سفر کی حالت میں ہو اور تم پر موت کے آثار ظاہر ہونے لگیں اور تمہارے پاس کوئی مال یا اثاثہ ہو تو اللہ کا حکم یہ ہے کہ مسلمانوں یا غیر مسلموں میں سے دو عدل و صدق والے آدمیوں کو اس پر گواہ بنادو۔ جو میت کے وارثوں کے پاس مرنے والے کا سامان پہنچا دیں، اگر ان دونوں گواہوں کے بارے میں میت کے ورثا کو شبہ ہوجائے کہ انھوں نے خیانت کی ہے اور میت کا کچھ مال چھپالیا ہے تو انھیں نماز کے بعد حلف اٹھانے کے لیے روک لیا جائے گا، پھر وہ اللہ کی قسم کھائیں گے اور کہیں گے کہ ہم مال کی وجہ سے اللہ کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 106–108

آیت نمبر 106 تا 108 اس میں ستائیس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ مکی نے کہا : یہ تین آیات اہل معانی کے نزدیک قرآن میں اعراب، معنی اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ اس کا کلام ہے جس کے لیے اس کی تفسیر میں اطمینان واقع نہیں ہوا یہ ان کی کتاب میں واضح ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 250 ) ۔ میں کہتا ہوں : مکی نے جو ذکر کیا ہے ابو جعفر نحاس نے بھی اس سے پہلے یہ ذکر کیا ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ آیات تمیم داری اور عدی بن بداء کے سبب نازل ہوئیں۔ بخاری، دارقطنی وغیرہمانے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : تمیم داری اور عدی بن بداء مکہ کی طرف جاتے تھے تو ان کے ساتھ بنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 106–108

(1) امام ترمذی اور اس کو ضعیف قرار دیا، ابن جریر، ابن ابی حاتم، نحاس نے اپنی ناسخ میں، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ابو نعیم نے معرفۃ میں ابو المنذر کے طریق سے اور وہ کلبی بادان مولیٰ ام ھانی سے روایت نقل کی اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے اور وہ تمیم داری ؓ سے اس آیت لفظ آیت یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم اذا حضر احدکم الموت کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ اس آیت سے سب لوگ بری ہیں سوائے میرے اور عدی بن براء کے یہ دونوں نصرانی تھے اور اسلام قبول کرنے سے پہلے یہ شام کی طرف جاتے تھے یہ دونوں اپنی تجارت کے لئے شام آئے ان کے پاس بنو سلیم کا ایک غلام تجارت کا سامان لے کر آیا جسے بدیل بن ابی مریم کہتے تھے اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ذٰلِكَ [ یہ ] اَدْنٰٓي [ زیادہ نزدیکی ہے ] اَنْ [ کہ ] يَّاْتُوْا [ لوگ لائیں ] بِالشَّهَادَةِ [ گواہی کو ] عَلٰي وَجْهِهَآ [ اس کے چہرے پر (یعنی ٹھیک ٹھیک ) ] اَوْ [ یا ] يَخَافُوْٓا [ لوگ ڈریں ] اَنْ [ کہ ] تُرَدَّ [ رد کیا جائے ] اَيْمَانٌۢ [ (ہماری ) قسموں کو ] بَعْدَ اَيْمَانِهِمْ ۭ [ ان کی قسموں کے بعد ] وَاتَّقُوا [ اور تم تقوی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کا ] وَاسْمَعُوْا ۭ [ اور سنو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] [ الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ [ نافرمانی کرنے والی قوم کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 106–108

حالت سفر میں اپنے مال کے بارے میں وصیت کرنا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص جو قبیلہ بنی سہم میں سے تھا اس کو موت نے آگھیرا اس وقت وہاں کوئی مسلمان نہیں لہذا اس نے اپنے دونوں ساتھیوں یعنی تمیم داری اور عدی بن بداء کو اپنے مال کی حفاظت اور ورثاء تک پہنچانے کے لئے وصی بنا دیا (اس وقت یہ دونوں ساتھی نصرانی تھے) اس نے اپنے مال کی فہرست بنا کر سامان میں رکھ دی اور اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا کہ میرا یہ مال میرے وارثوں کو پہنچا دینا۔ ان دونوں نے مال تو پہنچا دیا لیکن میت کے وارثوں نے جب فہرست سے سامان کا میلان کیا تو اس میں ایک چاندی کا جام غائب پایا اس جام پر سونے کا کام بھی تھا، انہوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 106–108

حکم بست ویکم متعلق بہ وصیت وشہادت۔ قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنو شھادۃ بینکم۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ لایھدی القوم الفاسقین۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں حفاظت دین کا حکم تھا اس آیت میں حفاظت مال کا طریقہ تعلیم فرماتے ہیں کہ مرتے وقت کسی کو وصی اور گواہ بنالینا چاہیے کہ پہلی آیت میں دینی مصلحت کے متعلق حکم تھا اور اس آیت میں دنیوی مصلحت کے متعلق حکم ہے۔ یا یوں کہو کہ گذشتہ آیت میں یہ بیان تھا کہ مرنے کے بعد اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور مال کا حساب دینا پڑے گا اب اس آیت میں ارشاد فرماتے ہیں کہ مرنے سے پہلے تم کو وصیت کردینی چاہیے اور اس پر کسی کو گواہ بنالینا چاہیے تاکہ حق ضائع نہ ہو لہذا اس کے متعلق…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

173 یہ شہادت کے مذکورہ بالا طریقہ کی طرف اشار ہے۔ یعنی پہلے تو ان سے گواہی لی جائے جن کو میت نے وصی بنایا ہے۔ اگر ان کی خیانت اور کذب بیانی ظاہر ہوجائے تو پھر میت کے وارثوں سے قسم لی جائے۔ ہی طریقہ اصل مقصد حاصل کرنے کے لیے قریب ترین ذریعہ ہے۔ اس سے یا تو گواہ عذاب آخرت سے ڈر کر صحیح گواہی دیدیں گے یا پھر دنیا میں رسوائی کے ڈر سے سچی گواہی دیں گے کیونکہ انہیں یہ اندیشہ ہوگا کہ ان کی قسمیں ردکردی جائیں گی۔ اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌ بَعْدَ اَیْمَانِھِمْ ۔ یعنی ان کی قسموں کے جھوٹ ثابت ہونے کے بعد قسم کھانے کا حق وارثوں کو دیا جائے گا۔ یہاں ایک شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ شرعی قانون کے مطابق قسم منکر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 106–108

ربط آیات پہلی آیت اللہ نے کثرت سوال سے منع فرمایا۔ پھر مشرکین کے عقائد باطلہ کا رد فرمایا کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ اور رسول کی طرف آئو تو وہ اپنے آبائو اجداد کے راستے کو ہی پسند کرتے ہیں ، اللہ نے راستے گمراہی سے تعبیر فرمایا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی اور تسلی بھی دی کہ ایسی باتوں سے یقینا ایمان والوں کو تکلیف ہوتی ہے ظاہر ہے کہ شرکیہ اور جہالت والی باتوں کو سن کر ایمان والوں کا دل دکھتا ہے۔ اس ضمن میں اللہ نے تسلی دی کہ اگر تم ہدایت کے راستے پر قائم رہے تو کفار و مشرکین تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ، پھر فرمایا جب دوسرے لوگ تمہاری دعوت کی طرف توجہ ہی نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكَ اَدْنٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِالشَّہَادَۃِ عَلٰي وَجْہِہَآ اَوْ يَخَافُوْٓا اَنْ تُرَدَّ اَيْمَانٌۢ بَعْدَ اَيْمَانِہِمْ۝ 0ۭ وَاتَّقُوا اللہَ وَاسْمَعُوْا۝ 0ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۝ 108ۧ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] دنا ( دن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 106–108

1 ؎ خلاصہ یہ کہ وصیت کے وقت جبکہ مرنے لگے تو اپنے مال کے لئے جو اس کو کسی کے سپرد کرنا چاہتا ہو یا اس میں سے کسی کے لئے کچھ وصیت کرنا چاہتا ہو کہ اس میں سے اتنا فلاں کو دیا جاوے آپس کے دو گواہ کرنے چاہییں اور اگر سفر میں موت سامنے آوے تو آپس کے نہ ملیں تو غیر سہی۔ پھر موقع پر نماز کے بعد وہ دو گواہ یہ کہہ کر اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم کو کوئی لالچ نہیں گو جس کے حق میں یہ شہادت ہے ہمارا قرابت دار ہی کیوں نہ ہو اور جو ہم ایسا کریں گے تو گنہگار ہیں پھر اگر یہ شہادت ٹھیک ہو تو خیر ورنہ میت کے دو قرابت دار کھڑے ہو کر جن کو میت کے مال اور حال پر پوری طرح واقفیت ہے یہ کہہ کر قسم کھائیں کہ ہماری گواہی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 106–108

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَھَادَۃُ بَیْنِکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِکُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الاَْرْضِ فَاَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃُ الْمَوْتِ ط تَحْبِسُوْنَھُمَا مِنْم بَعْدِ الصَّلٰوۃِ فَیْقْسِمٰنِ بِ اللہ ِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لاَ نَشْتَرِیْ بِہٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰیلا وَلاَ نَکْتُمُ شَھَادَۃَ لا اللہ اِنَّا اِذًا لَّمِنَ الاْٰثِمِیْنَ ۔ فَاِنْ عُثِرَ عَلٰٓی اَنَّھُمَا اسْتَحَقَّآ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَھُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْھِمُ الاَْوْلَیٰنِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 106–108

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں مخصوص حالات میں مسلمانوں کو اپنے آپ کی فکر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جس میں بعض لوگوں سے فریضۂ تبلیغ سے کوتاہی کا اندیشہ ہوسکتا تھا۔ اسے دور کرنے کے لیے یہ حکم نازل ہوا کہ فریضۂ تبلیغ ایک شہادت ہے شہادت کی ایک قسم گواہی ہے۔ مشکل اور نازک وقت میں بھی اسے ٹھیک طور پر ادا کرنا چاہیے۔ آیت کا پس منظر مفسرین نے اس طرح ذکر کیا ہے جو بخاری کتاب الوصایا میں مختصر لیکن احادیث اور سیرت کی دوسری کتب میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ بنو سہم قبیلے کا ایک مسلمان جس کا نام بدیل تھا تمیم داری اور عدی کے ساتھ سفر میں تھا تمیم اور عدی اس وقت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 108 : ذٰلِکَ یہ جس کا تذکرہ بیان حکم کے سلسلہ میں گزرا اَدْنٰیزیادہ قریب ہے۔ اَنْ یَّاْتُوْاکہ شہداء اد اکریں اس حادثہ کے مطابق بِالشَّہَادَۃِ عَلٰی وَجْہِہَآجیسا کہ انہوں نے اٹھائی ہے بغیر کسی خیانت کے اس میں اَوْیَخَافُوْا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌم بَعْدَ اَیـْمانِہِمْیعنی دوسرے گواہوں کی قسم پختہ ہوجائے ان کی قسم اٹھانے کے بعد پس وہ رسوا ہوں اپنے جھوٹ کے ظاہر ہوجانے کے سبب وَاتَّقُوا اللّٰہَ خیانت میں اور جھوٹی قسم میں وَاسْمَعُوْا قبولیت واجابت والا سننا۔ وَاللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَجو کہ طاعت سے نکلنے والے ہیں۔ سوال : یہاں او کا کیا مطلب ہے ؟ جواب : اس کا مطلب یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 107–108

آیت نمبر 108, 107 تفسیر : (فان عثیر ان کی خیانت پر مطلع ہوجائو۔ عشورکا اصل معنی کسی شے پر گرنا ہے ( علی الھما) یعنی وصی (سنحفا اثما) اپنی خیانت اور جھوٹی گواہی کی وجہ سے گناہ کے مستحق ہوئے ( فاخرن) میت کے اولیاء میں سے (یقومن مقامھمامن الذین استحق) ان میں سے کہ جن کا حق وبا ہے۔ میں اکثر حضرات کی قرأت تاء کے پیش کیساتھ مجہول کے صیغہ پر ہے اور علیٰ بمعنی فی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” علی ملک سلیمان “ یعنی سلیمان کے ملک میں اور حفص نے ” استحق “ پڑھا ہے تاء اور حاء کے فتحہ کے ساتھ اور یہی علی اور حسن رحمہما اللہ کی قرأت ہے یعنی ان پر گناہ ثابت ہوگیا۔ ( علیھم الاولین جو سب سے زیادہ قریب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 106–108

(106 ۔ 108) ۔ ترمذی، ابو داؤد، تفسیر ابن جریر وغیر میں امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ دو شخص نصرانی اور ایک شخص مسلمان ملک شام کی طرف تجارت کی غرض سے سفر کو گئے اور وہ مسلمان شخص بیمار ہو کر جب قریب المرگ ہوگیا تو اس نے اپنے مال کی ایک فہرست لکھ کر مال کی گٹھڑی میں رکھ دی اور وہ گٹھڑی ان دونوں نصرانیوں کو دے کر یہ وصیت کی کہ تم یہ گٹھڑی میرے وارثوں کو دے دینا اس مال میں ایک چاندی کا کٹورا سونے کے ملمع کا بھی تھا وہ کٹورا نصرانیوں نے اس مال میں سے نکال کر باقی کا مال اس مسلمانوں کے وارثوں کو دے دیا اس کٹورے کے نکالتے وقت ان نصرانیوں کی نظر اس فہرست…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 106–109

آیات 106 اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے جو کہ اس حکم کو متضمن ہے کہ جب انسان کی موت کی علامات اور اس کے مقدمات سامنے آجائیں تو اپنی وصیت پر دو گواہ بنا لے۔ اس کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی وصیت کو تحریر کروائے اور اس پر دو عادل اور معتبر گواہوں کی گواہی ثبت کروائے۔ (اواخرن من غیرکم) ” یا دوسرے دو گواہوں تمہارے سوا “ یعنی مسلمانوں کے سوا کوئی اور یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ۔ یہ سخت ضرورت اور حاجت کے وقت ہے جب یہود و نصاریٰ کے سوا مسلمانوں میں سے گواہ موجود نہ ہوں (ان انتم ضربتم فی الارض) ” جب تم زمین میں سفر کر رہے ہو “ (فاصابتکم مصیبۃ الموت) ” اور پہنچے تمہیں مصیبت موت کی “ یعنی تم ان دونوں کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 108–120

قول باری ہے (ذلک ادنیٰ ان یاتوا بالشھادۃ علی وجھھا اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ٹھیک ٹھاک گواہی دیں گے) یعنی واللہ اعلم … یہ طریقہ اس بات سے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی کو نہیں چھپائیں گے اور نہ ہی اس میں کوئی رد و بدل کریں گے۔ قول باری ہے (او یخافوا ان تردد ایمان بعد ایمانھم، ای کم از کم اس بات کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے گی) یعنی جب یہ دونوں قسم کھائیں کہ ہم نے نہ تو کوئی چیز چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی رد و بدل کیا ہے۔ پھر میت کا کوئی سامان ان کے پاس سے برآمد ہوجائے تو اس صورت میں ورثاء کی قسم ان کی قسموں سے اولیٰ قرار دی جائے گی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 108–109

284 گواہی کو صحیح طور پر ادا کرنے کا سب سے اچھا طریقہ : یعنی یہ طریقہ جو ہم نے مقرر کیا کہ امانت رکھنے والے کو سب کے سامنے اور نماز کے بعد قسم دی جائے۔ اور قسمیں بھی سخت قسم کی دی جائیں۔ اور اس کے بعد قسمیں وارثوں کی طرف لوٹائی جائیں۔ یہ طریقہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی صحیح طریقے پر ادا کریں۔ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کا خوف بھی ہے اور اس کے بعد لوگوں کی فضیحت کا ڈر بھی۔ (المراغی) ۔ سو ایسی صورت میں ان دونوں گواہوں کو اس بات کا خوف ہوگا کہ ان کی قسمیں دوسرے دو آدمیوں کی قسموں کے ذریعے رد کردی جائیں گی۔ سو اس خوف سے وہ دروغ گوئی اور کذب بیانی سے بچیں گے کہ اس طرح ان کو عام لوگوں کے سامنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

وصیت پر گواہ اور گواہی کے دوسرے مسائل تشریح : تمام معاملات وضاحت سے بیان کئے گئے ہیں۔ اس میں وضاحت طلب بات صرف اتنی ہے کہ سفر کی حالت میں یا کسی بھی مجبوری کی وجہ سے غیر مسلم گواہ بنایا جاسکتا ہے ورنہ زیادہ بہتر یہی ہے کہ مسلمان گواہ مقرر کئے جائیں، اور گواہوں میں یہ صفات ضرور ہوں کہ وہ سچے اور دیندار لوگ ہوں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ چھوٹا معاملہ ہو یا کہ بڑا معاملہ ہو آپس کے تعلقات اعمال اور عقائد بالکل صاف ستھرے اور قرآن و سنت کے عین مطابق ہونے چاہئیں۔ پھر اللہ کا خوف ہر وقت سامنے ہونا چاہیے۔ کیوں کہ سیدھا راستہ ہی نجات دلا سکتا ہے جو سیدھے راستے سے بھٹک جائے تو اللہ رب العزت بھی پھر اس کے لیے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 101–108

رکوع نمبر 14 ۔ آیات 101 تا 108 ۔ اسرار و معارف : فضول سوالات کی ممانعت : انسان سیکھنے کے لیے سوال کرتا ہے اگر پوچھے گا نہیں تو عمل کیسے ممکن ہے ؟ کہ عمل کے لیے جاننا شرط ہے اور جاننے کے لیے پوچھنا پڑتا ہے لیکن فضول کرید کرنا اور غیر متعلقہ سوالات کرتے رہنا درست نہیں خصوصاً ایسی حالت میں کہ قرآن نازل ہورہا ہے آپ سوال کریں گے تو اس کا جواب ضرور آئے گا ممکن ہے تمہاری منشاء کے مطابق نہ ہو اور تمہیں بات پسند نہ آئے تو اس سے بہتر ہے کہ سوال ضرور کریں مگر جس کی ضرورت ہو اور جو بات آپ کی رہنمائی کرسکے نیز نزول قرآن کا تعلق ایک خاص زمانے سے ہے یہاں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس کے بعد وحی کا سلسلہ ختم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 اس آیت میں اظہار کو شہادت فرمایا ہے مدعی اظہار کرکے یا مدعا علیہ جیسے اقرار کو کہہ کردیتے ہیں کہ اس نے اپنی جان پر شہاددت دی (کذافی الموضح ) 9 لہذا جھوٹی قسم نہ کھا و اور وصیت میں کسی وارث کی حق تلفی نہ کرو۔ (شوکانی) آیت کی شان نزول میں مذکور ہے کہ ایک مسلمان (بدیل) اور دو نصرانی تیم داری اور دعی ایک سفر پر گئے بدیل بیمار پڑگیا اور اس نے اپنے سامان کی فہرست بناکر اس میں رکھ دی اور سامان اپنے نصرانی ساتھیوں کے سپرد کردیا کہ میرے وارثوں کو پہنچا دینا۔ ان نصرانیوں نے اس سامان میں سے چاندی کا ایک جام (پیالہ) اڑالیا وہ پیالہ پکڑ گیا وارثوں نے آنحضرت ﷺ کے حضور دعوی کیا اس اس پر یہ آیت نازل ہوئی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:108) ادنی۔ زیادہ نزدیک ۔ زیادہ کم۔ جب یہ اکبر کے مقابلہ میں ہو تو اصغر کے معنی دیتا ہے اور جب خبر کے مقابلہ میں ہو تو ارزل کے معنی دیتا ہے اور جب اقصی (دور) کے مقابلہ میں ہو تو نزدیک کے معنی دیتا ہے۔ یہ دان اور دنی کا اسم تفضیل ہے۔ پہلی صورت (دان سے) اقرب (نزدیک) اور دوسری صورت میں ارزل کے معنی میں آتا ہے۔ یاتوا۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ اصل میں یاتون تھا۔ ان کے عمل سے نون گرگیا۔ یاتواب وہ لائیں۔ ان یاتوا بالشھادۃ کہ وہ گواہی دیں۔ علی وجھھا۔ کما حقہ۔ جیسا کہ چاہیے۔ ٹھیک ٹھیک۔ ان ترد ایمان بعد ایمانھم۔ (یا وہ خوف کھائیں کہ) ان کی قسموں کے بعد قسم کو (وارثان میت کی طرف) لوٹایا جائے گا۔ یعنی ان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 106–108

آیت نمبر 106 تا 108 لغات القرآن : شھادۃ (گواہی) ۔ حضر (آیا۔ حاضر ہوا) ۔ الوصیۃ (وصیت کرنا) ۔ اثنین (دو ) ۔ ذوا عدل (دو انصاف والے) ۔ اخران (دوسرے دو ) ۔ من غیرکم (تمہارے سوا اوروں میں سے) ۔ ضربتم (تم چلے۔ تم نے سفر کیا) اصابت (پہنچ گئی) ۔ مصیبۃ (مصیبت) ۔ تحسبون (تم روک لو) ۔ یقسمن (وہ دونوں قسم کھائیں) ۔ ارتبتم (تمہیں شبہ ہوا) ۔ لانشتری (ہم نہیں خریدتے۔ نہیں لیتے) ۔ ثمن (قیمت۔ مال) ۔ ذاقربی (رشتہ دار) ۔ الاثمین (الاثم) ۔ گناہ گار عثر (مطلع ہوا۔ واقف ہوا) ۔ استحقا (حق دبا لیا) ۔ یقومن (دو کھڑے ہوں) ۔ مقام (جگہ) ۔ استحق (جس نے حق دبایا) ۔ الاولیین (قریبی رشتہ دار ہوں) ۔ احق (زیادہ حق دار ہے) ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 106–108

شان نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ دو شخص نصرانی اور ایک مسلمان ملک شام کی طرف تجارت کی غرض سے سفر کو گئے اور وہ مسلمان جب بیمار ہوکر قریب المرگ ہوگیا تو اس نے اپنے مال کی ایک فہرست لکھ کر مال کی گٹھڑی میں رکھ دی۔ اور وہ گٹھڑی ان دونوں نصرانیوں کو دے کو وصیت کی کہ تم یہ گٹھڑی میرے وارثوں کو دے دینا۔ اس مال میں ایک چاندی کا کٹورا سونے کے ملمع کا بھی تھا۔ وہ کٹورا ان نصرانیوں نے اس مال سے نکال کر باقی کا مال اس مسلمان کے وارثوں کو دے دیا۔ اس کٹورا کے نکالتے وقت ان نصرانیوں کی نظر اس فہرست پر نہیں پڑی۔ اس مسلمان کے وارثوں نے جب مال کی گٹھڑی اچھی طرح کھولی تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 105–108

[59] مسلمان کفار کی محرومی پر افسوس کرتے اور انہیں رنج ہوتا تھا کہ کفار عناد میں مبتلا ہو کر دولت اسلام سے محروم ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی تسلی فرما دی کہ اس میں تمہارا کچھ نقصان نہیں۔ لیکن اس آیت کا یہ منشا ہرگز نہیں کہ آدمی بس اپنی نجات کی فکر کرے اور دوسروں کی اصلاح کی کوشش نہ کرے۔ ابوبکر صدیق ؓ اس غلط فہمی کی تردید کرتے ہوئے اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں '' لوگو، تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کی غلط تاویل کرتے ہو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جب لوگوں کا یہ حال ہوجائے کہ وہ برائی کو دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں، ظالم کو ظلم کرتے پائیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو بعید نہیں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 106–108

(ف 2) اس سے پیشتر کی آیت میں حفظ مال کا ، واقعہ یہ ہے کہ تمیم انصاری اور اس کا بھائی تجارت کی غرض سے ملک شام کی جانب نکلے ، اس کے ساتھ بدیل عمرو بن عاص کا غلام بھی تھا ، جو مسلمان تھا راستے میں بدیل یکایک بیمار ہوگیا ، اس لئے احتیاطا اس نے اپنے سامان کی ایک فہرست مرتب کرلی ، اور وصیت کی کہ اگر میں مرجاؤں تو میری چیزیں میرے گھر پہنچا دینا ، چناچہ وہ مر گیا ، اور ان کی نیت میں فرق آگیا ، کچھ چیزیں انہوں نے دیں اور کچھ رکھ لیں ، اتفاقا چیزوں کی فہرست جو انہوں نے دیکھی تو خیانت ظاہر ہوگئی مقدمہ حضور ﷺ کے روبرو پیش ہوا ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ حل لغات : شھادۃ : گواہی ، عثر : معلوم ہوجائے ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-108 یہ حکم مذکور اس امر کا قریب ترین ذریعہ ہے کہ وہ گواہ یا وصی شہادت کو اس کی اصل حالت اور اس کی صحیح کیفیت پر ادا کیا کریں اور عذاب آخرت کے خوف سے جھوٹی قسمیں نہ کھائیں یا اس بات سے ڈریں کہ ان کی قسموں کے بعد یہ قسمیں میت کے ورثاء پر لوٹائی جائیں گی اور دنیا میں رسوائی ہوگی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کے ہر حکم کو توجہ کے ساتھ سنو اور یہ بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کی رہنمائی نہیں فرماتا اور ایسے لوگوں کی سرپرستی نہیں کرتا جو اطاعت خداوندی کی حدود سے باہر نکل جانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اوپر احکام مختلفہ کا زکرہوا ہے اور درمیان میں ترغیب ان کے امتثال کی اور ترہیب ان کی مخالفت پر فرمائی گئی اسی کی تاکید کے لیے آیت آئندہ میں قیامت کے ہول وہیبت یاد دلاتے ہیں تاکہ اطاعت کا زیادہ باعث اور مخالف سے زیادہ مانع ہو اور اکثر طرز قرآن مجید کا یہی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس طرح قسم پر قسم لینے کے قانون کا قانونی فائدہ کیا ہوا ؟ : 247: حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ برائی کو بیخ وبن سے اکھاڑ کر دور پھینک دیا جائے اس طرح کہ وہ دوبارہ جنم نہ لے سکے۔ وہ کفر کے قانون کی طرح برائی کی آبیاری نہیں کرتا کہ برائی اندر ہی اندر پھیلتی رہے اور پھر اس اندر ہی اندر رہ کر پھیلنے والی برائی کو کوئی برائی بھی نہ کہہ سکے۔ یہی کام اس نے یہاں بھی کیا۔ فرمایا اس قانون کے اعلان کا فائدہ یہ ہوا کہ پہلے گواہ جن کو ورثاء نے پابند کیا تھا وہ دل میں اس بات کا کھٹکا محسوس کرتے رہیں کہ اگر انہوں نے کسی لالچ یا دغا و فریب سے کام لے کر غلط قسم اٹھالی تو ان کی غلط قسم اٹھائی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 106–108

Sequence of Verses Prior to this, there were injunctions relevant to religious considerations. Now some injunctions relevant to worldly considerations have been mentioned. The hint given is that the way Allah Ta` ala, in His mercy, helps His servants with better life in the Hereafter, He also takes care of better sustenance for them in the present world. (Bayan al-Qur'an) The Background of Revelation The event in the background of the revelation of the cited verses is that Budayl, a Muslim accompanied by Tamim and ` Adiyy, who were Christians at that time, travelled to Syria on a business…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 106–108

120. That is, pious, straightforward and trustworthy Muslims. That is, non-Muslims - Ed. 121. This shows that the testimony of non-Muslim witnesses in cases involving Muslims is appropriate only when no Muslim is available as a witness.

Read the full tafseer →