Explained with ayahs 1–7
نماز میں غفلت اور یتیموں سے نفرت :
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ تم نے اس شخص کو دیکھا جو قیامت کے دن کو جو جزا سزا کا دن ہے جھٹلاتا ہے یتیم پر ظلم و ستم کرتا ہے اس کا حق مارتا ہے اس کے ساتھ سلوک و احسان نہیں کرتا مسکینوں کو خود تو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس کار خیر پر آمادہ نہیں کرتا جیسے اور جگہ ہے (كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ 17 ۙ) 89۔ الفجر :17) یعنی جو برائی تمہیں پہنتی ہے وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے کہ نہ تم یتیموں کی عزت کرتے ہو نہ مسکینوں کو کھانا دینے کی رغبت دلاتے ہو یعنی اس فققیر کو جو اتنا نہیں پاتا کہ اسے کافی ہو پھر فرمان ہوتا ہے کہ غفلت برتنے والے نمازیوں کے…
Read the full tafseer →سورة الماعون 6
اِطعَامِ الْمِسْكِيْنِ نہیں بلکہ طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اگر اطعام مسکین کہا گیا ہوتا تو معنی یہ ہوتے کہ وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتا۔ لیکن طعام المسکین کے معنی یہ ہیں کہ وہ مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا۔ بالفاظ دیگر جو کھانا مسکین کو دیا جاتا ہے وہ دینے والے کا کھانا نہیں بلکہ اسی مسکین کا کھانا ہے، وہ اس کا حق ہے جو دینے والے پر عائد ہوتا ہے، اور دینے والا کوئی بخشش نہیں دے رہا ہے بلکہ اس کا حق ادا کر رہا ہے، یہی بات ہے جو سورة ذاریات آیت 19 میں فرمائی گئی ہے کہ وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ " اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
خلاصہ تفسیر
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جو روز جزاء کو جھٹلاتا ہے سو (آپ اس کا حال سننا چاہیں تو سنئیے کہ) وہ شخص وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور محتاج کو کھانا دینے کی (دوسروں کو بھی) ترغیب نہیں دیتا (یعنی وہ ایسا سنگدل ہے کہ خود وہ کسی غریب کو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس پر آمادہ نہیں کرتا۔ اور جب بندوں کا حق ضائع کرنا ایسا برا ہے تو خالق کا حق ضائع کرنا تو اور زیادہ برا ہے) سو (اس سے ثابت ہوا کہ) ایسے نمازیوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو اپنی نماز کو بھلا بیٹھتے ہیں (یعنی ترک کردیتے ہیں) جو ایسے ہیں کہ (جب نماز پڑھتے ہیں تو) ریا کاری کرتے ہیں اور زکوٰة بالکل نہیں دیتے (کیونکہ زکوٰة کے لئے شرعاً…
Read the full tafseer →یہ وہی بات منفی پہلو سے فرمائی ہے کہ بھلا جو شخص یتیموں کو دھکے دے گا وہ مسکینوں کی پرورش اور ان کی خدمت و اعانت پر لوگوں کو کیا ابھارے گا! اس حقیقت کی طرف جگہ جگہ ااشارہ کیا جا چکا ہے کہ جو لوگ بخیل ہوتے ہیں وہ اپنی بخیلی پر پردہ ڈالے رکھنے کے لیے یہ بھی چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی بخیل بنے رہیں تاکہ کوئی شخص ان کو بخیل کہنے والا نہ رہے۔ ان کی خواہش کے خلاف اگر کوئی کچھ خرچ کرتا ہے تو وہ، جیسا کہ سورۂ ہمزہ کی تفسیر میں ہم بیان کر چکے ہیں، اس کو اپنے ہمز و لمز اور طعن و تشنیع کا ہدف بنا لیتے ہیں تاکہ شروع ہی میں اس کا حوصلہ پست کر دیں اور وہ اس راہ میں آگے نہ بڑھے۔
یہ امر واضح رہے کہ یہ اس شخص کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ 1 یہ کام بھی وہی کرے گا جس میں مذکورہ خوبیاں ہونگی ورنہ یتیم کی طرح مسکین کو بھی دھکا ہی دے گا۔
Read the full tafseer →2: یعنی خود تو کسی غریب کی مدد کیا کرتا، دوسروں کو بھی ترغیب نہیں دیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
یہ چھوٹی سی سورت جو صرف سات آیات پر مشتمل ہے اور آیات بھی چھوٹی چھوٹی ہیں ، ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے ۔ اس کے مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ یہ گویا شعائر اسلام کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور اس پر غور کرنے سے انسان کو ایمان وکفر کا مفہوم مکمل طور پر بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سے آگے یہ سورت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے۔ اور اس میں انسانیت کے لئے کس قدر عظیم خیر اور بھلائی پوشیدہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کے لئے اپنا آخری مشن بھیج کر اللہ نے اس پر کتنا عظیم رحم کیا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دین چندظاہری رسوم عبادات اور دینی شعائر ہی کا نام نہیں ہے۔ اس میں دینی…
Read the full tafseer →3 یعنی غریب کی نہ خود خبر لے نہ دوسروں کو ترغیب دے۔ ظاہر ہے کہ یتیموں اور محتاجوں کی خبر لینا اور ان کے حال پر رحم کھانا دنیا کے ہر مذہب و ملت کی تعلیم میں شامل ہے اور ان کا مکارم اخلاق میں سے ہے جن کی خوبی پر تمام عقلاء اتفاق رکھتے ہیں۔ پھر جو شخص ان ابتدائی اخلاق سے بھی عاری ہو، سمجھو کہ آدمی نہیں، جانور ہے۔ بھلا ایسے کو دین سے کیا واسطہ، اور اللہ سے کیا لگاؤ ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 3{ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ۔ } ”اور نہ وہ مسکین کو کھانا کھلانے کی تلقین کرتا ہے۔“
اس میں انسان کی اس اخلاقی کمزوری کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جس نیک کام پر وہ خود کاربند نہیں ہے اس کے بارے میں دوسروں کو کس منہ سے نصیحت کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3 یتیموں کی پرورش سے غفلت برتنا یا محتاجوں کے کھانے تک کی فکر نہ کرنا، انہیں خود کھلانا تو درکنار کسی کو اس کی ترغیب تک نہ دینا ایسی اخلاقی اور معاشرتی برائیاں ہیں جو ہر مذہب میں مذموم سمجھی جاتی ہیں اور سمجھی جاتی رہی ہیں۔ مگر جب انسان کو مال و دولت جوڑنے اور اسے سنبھال سنبھال کر رکھنے کی فکر لاحق ہوجائے تو وہ اتنا بخیل بن جاتا ہے کہ اسے اور ضرورت مندوں اور محتاجوں کی حالت زار دیکھنے پر قطعاً رحم نہیں آتا اور ان کی اس سنگدلی کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں روز آخرت کی جوابدہی کا یقین ہی نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ یعنی وہ بددین شخص ایسا سنگدل اور تنگدل ہے کہ خود تو بیچارے یتیموں کے ساتھ حسن سلوک تو کیا کرے گا، الٹا ان کے ساتھ بیدردی کا برتاؤ کرتا ہے اور دوسروں تک کو مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک پر آمادہ نہیں کرتا، حق تلفیوں میں جسارت وقساوت اسی کے دل میں پیدا ہوتی ہے جو آخرت کا منکر یا عملا منکر ہوتا ہے۔ (آیت) ” یکذب بالدین “۔ دین سے یہاں عموما مراد جزاء و حساب ہی سے لی گئی ہے۔ وھو قول اکثر المفسرین ان المراد رأیت الذی یکذب بالحساب والجزاء (کبیر) ارأیت۔ ہمزہ استفہام مخاطبین کے ذہن میں مکذب کے تعارف کے لئے شوق و جستجو پیدا کرنے کو ہے۔ استفہام ارید بہ تشویق السامع الی تعرف المکذب (روح) رأیت۔ رؤیت سے یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، کیا آپ ﷺ نے اس شخص کو یکھا جو روز جزاء یعنی حساب اور جزاء کے دن کو جھٹلاتا ہے ؟ یعنی آپ ﷺ نے اس کو پہچانا یا نہیں پہچانا ؟ یہ وہ شخص ہے فاء کے بعد ھو مقدر ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے یعنی اس کو سختی کے ساتھ اس کے حق سے محروم رکھتا ہے اور مسکینوں کو کھانا دینے کی نہ خود کو ترغیب دیتا ہے اور نہ دوسروں کو (یہ آیت) عاص بن وائل یا ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی، سو ایسے نمازیوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو غفلت کرتے ہیں بایں طور کہ اس کو اس کے وقت سے مئوخر کردیتے ہیں، جو ایسے ہیں کہ نماز وغیرہ میں ریا کاری کرتے ہیں اور برتنے کی…
Read the full tafseer →ولا یحض علی طعام المسکین . یعنی اس کو چونکہ جزاء کا ہی یقین نہیں ہے ‘ اس لیے نہ اپنے نفس کو
مسکینوں کو کھانا کھلانے پر ابھارتا ہے ‘ نہ اپنے گھر والوں کو اور دوسرے لوگوں کو اس کا مشورہ دیتا
ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
(3۔ 7) اور محتاج کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا سو ان منافقوں کے لیے دوزخ میں سخت عذاب ہے یعنی جو اپنی نمازوں میں لا پروائی کرتے ہیں اور انہیں چھوڑے بیٹھے ہیں کہ جب لوگوں کو دیکھتے ہیں تو نماز پڑھ لیتے ہیں ورنہ نہیں پڑھتے اور نیک کام سے روکتے ہیں یا یہ کہ زکوٰۃ اور معمولی سی چیز بھی نہیں دیتے۔
شان نزول : فَوَیْلٌ للمصلین الخ
ابن منذر نے طریف بن ابی طلحہ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جب وہ نمازوں میں آتے تو مسلمانوں کو اپنی نمازیں دکھاتے تھے اور جب غائب ہوتے تو چھوڑ دیتے اور مانگی ہوئی چیز کو روک لیتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(ارء یت الذی یکذب بالدین…:”’ ع یدع دعا“ (ن) دھکے دیتا۔”کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جو جزا کو جھٹلاتا ہے…“ یہ اولاً رسول اللہ ﷺ سے خطاب ہے، اس کے بعد ہر شخص اس کا مخطاب ہے۔ ان آیات میں قیامت کے دن اعمال کی جزا کو جھٹلانے کی وجہ سے کسی شخص میں جو سنگ دلی اور شقاوت پیدا ہوتی یہ اس کا ذکر فرمایا ہے۔ اس کے سامنے چونکہ دنیا ہی سب کچھ ہوتی ہے، اس لئے اسے کسی یتیم سے ہمدرید اور مسکین کی غم خواری پر کسی فائدے کی توقع ہوتی ہے نہ ان کے حقوق غصب کرنے پر کسی باز پرس اور سزا کا خوف ہوتا ہے، لہٰذا وہ ان بےبس لوگوں کے معالمے میں نہایت بےرحم ہوتا ہے۔ یتیم اپنے باپ کی وراثت مانگے یا اپنا کوئی اور حق وہ اسے دھکے…
Read the full tafseer →بخل کی وجہ سے مسکین کو نہ دینا قابل مذمت ہے :
مسئلہ نمبر 2: وَلَا يَحُضُّ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ ۔ وہ بخل اور جزا کو جھٹلانے کی وجہ سے مسکین کو کھانا کھلانے کا حکم نہیں دیتا یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : ولا یحض علی طعام المسکین۔ (الحاقہ) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ یہ مذمت عام نہیں کہ یہ اسے بھی شامل ہو جس نے عاجز ہوتے ہوئے اسے ترک کیا ہو بلکہ وہ تو بخل کرتے ہیں اور اپنے بارے میں عذر خواہی کرتے ہیں اور کہتے ہیں : انطعم من لو یشاء اللہ اطعمہ۔ (یس) کیا ہم اسے کھلائیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو انہیں کھلاتا۔ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور مذمت بھی انہیں کی طرف متوجہ ہوئی۔ کلام کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ارأ یت الذی یکذب بالدین مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا کہ۔
3۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ارأیت الذی یکذب بالدین میں بالدین سے مراد ہے حساب۔
5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ارأیت الذی کذب بالدین سے مراد ہے کہ اللہ کے حکم کو جھٹلایا ہے۔ آیت فذلک الذی یدع الیتیم کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا اس سے مراد ہے کہ وہ یتیم کو اس کے حق سے پیچھے ہٹا دیتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے ابو طالب کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
یقسم حقا…
Read the full tafseer →[وَلَا يَحُضُّ : اور وہ ترغیب نہیں دیتا (کسی کو)][ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ : مسکین کا کھانا (دینے) پر ]
نوٹ 2: آیت۔ 3 ۔ میں اگر اِطْعَامِ الْمِسْکِیْن کہا گیا ہوتا تو معنی یہ ہوتے کہ وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتا۔ لیکن طَعَامِ الْمِسْکِیْن کے معنی یہ ہیں کہ وہ مسکین کا کھانا اس کو دینے پر نہیں اکساتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو کھانا مسکین کو دیا جاتا ہے وہ دینے والے کا کھانا نہیں ہے بلکہ اسی مسکین کا کھانا ہے۔ یعنی دینے والا کوئی بخشش نہیں دے رہا ہے بلکہ مسکین کا حق ادا کر رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ثالثاً یوں فرمایا : ﴿ وَ لَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِؕ003﴾ (کہ یہ شخص مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا) اس میں اس منکر قیامت کی کنجوسی کی انتہا بتادی کہ یہ خود تو کسی مسکین پر کیا خرچ کرتا، دوسروں کو بھی خرچ کرنے کی ترغیب نہیں دیتا۔ یتیم کو بھی دھکے دیتا ہے اور مسکین پر بھی رحم نہیں کھاتا، روز جزاء کی تکذیب کرنے والے کی یہ دونوں صفات بیان فرمائی ہیں جس میں یہ معلوم ہوا ہے کہ ایمان ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے دل نرم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر مومن بندے رحم کرتے ہیں اور ترس کھاتے ہیں اور یوم آخرت میں اللہ تعالیٰ سے اس کی جزا ملنے کی امید رکھتے ہیں۔
جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
اے ہمارے پیغمبر یا اے مخاطب، کیا تو نے دیکھا ہے اس کو جو جھٹلاتا ہے، اعمال کے بدلہ کو اور انکار کرتا ہے قیامت کا اور اعمال کی جزاء وسزا کا، حالانکہ ہر انسان کی فطرت میں یہ بات ودیعت رکھی ہے کہ وہ اپنے خالق کو مانے اس کے انعامات کو سمجھے اور ان انعامات کے باعث اس پر ایمان لائے اور اس کی نعمتوں کا حق بھی ادا کرے اور اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کو غریبوں مساکین ویتامی پر خرچ کرے لیکن افسوس صد افسوس یہ مکذب بالدین خدا اور قیامت کا منکر اور اس کی نعمتوں کو فراموش کرنے والا تو ایسا شخص ہے غرور وتکبر کے نشہ میں مست دھکے دیتا ہے یتیم کو اور خود تو کسی کی کیا مدد کرتا دوسرے کو بھی ترغیب نہیں دیتا مسکین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ ” فذلک “ یہ شخص نہ صرف قیامت ہی کا انکار کرتا ہے بلکہ یتیموں کو بھی دھتکارتا ہے غریبوں اور مسکینوں کو خود کھانا کھلانا تو درکنار دوسروں کو بھی اس کی ترغیب نہیں دیتا تو ایسے لوگوں کو نمازوں کا کیا فائدہ اور پھر نمازیں بھی وہ کما حقہ نہیں پڑھتے وہ نمازیں بھی خداوند تعالیٰ کے عذاب سے ڈر کر اور اجر وثواب کی امید پر نہیں پڑھتے بلکہ محض ریاکاری اور دنیوی مصلحتوں کے لیے پڑھتے ہیں۔ نماز سے ان کا مقصود رضائے الٰہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الماعون ہے۔ اس کی آخری آیت میں ماعون کا لفظ ذکر کیا گیا ہے۔ اسی لفظ سے سورة کا نام ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی اکثر مفسرین 1 ؎ کی یہی رائے ہے۔ تاہم بعض مفسرین 2 ؎ فرماتے ہیں کہ اس کا نصف حصہ مکی زندگی میں اور نصف حصہ مدنی زندگی میں نازل ہوا۔ اس سورة کے مدنی ہونے کا تصور اسی وجہ سے ہے کہ اس میں منافقین کا ذکر ہے اور وہ مدنی زندگی میں پیدا ہوئے تھے۔ مکی دور میں منافقین کا وجود نہیں تھا۔ اس وقت یا کافر تھے۔ یا مخلص مسلمان
اس سورة کی سات آیتیں ہیں۔ یہ پچیس الفاظ اور ایک سو پچیس حروف پر مشتمل ہے۔
1 ؎ تفسیر عزیزی فاسری 360/پارہ 30 ، تفسیر اتقان…
Read the full tafseer →وَلَا يَحُضُّ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ 3 ۭ
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت .
ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
1 ؎ یعنی جب جزا و سزا کا قائل نہیں تو پھر ہر قسم کی بےرحمی اور سنگدلی کرتا ہے۔ یتیم پر رحم کرنا مسکین کو کھانا کھلانا رحمدلی کی بات ہے اس کو بھی نہیں کرتا اور خدا کی طرف بھی نہیں سکتا اس لیے غفلت اور دکھاوے کی نماز پڑھتا ہے اور یہاں تک وفی الطبع ہوجاتا ہے کہ معمولی برتنے کی چیزیں بھی مانگے نہیں دیتا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَلاَ یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ ۔ (الماعون : 3)
(اور مسکین کو کھانا دینے پر نہیں ابھارتا۔ )
یعنی اس شخص کا حال یہ ہے کہ کوئی مسکین یا یتیم اس کے دروازے پر جاتا ہے تو وہ اس کو دھکے دے کر نکال دیتا ہے اور دوسروں کو بھی وہ مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا۔ ہوسکتا ہے اس کا یہ حال کسی مجبوری کے باعث ہو، لیکن اگر اس کے اندر انسانیت کی کچھ بھی رمق ہے تو وہ یہ تو کرسکتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو مفلوک الحال لوگوں کی ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے کی ترغیب دے، لیکن آخرت کی تکذیب کرنے والا اس آخری صفت سے بھی محروم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بخیل ہوتے ہیں بعض دفعہ وہ اپنی بخیلی پر پردہ رکھنے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
فہم القرآن
ربط سورت : قریش کی ناشکری اور کفر و شرک کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ وہ قیامت کی جواب دہی کے عقیدہ پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
” اَلدِّیْنِ “ کا لفظ قرآن مجید نے کئی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ سیاق وسباق کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہاں ” اَلدِّیْنِ “ کا لفظ قیامت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ارشاد ہوا کہ کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو قیامت کو جھٹلاتا ہے یہ ایسا شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ یاد رہے کہ جس شخص کا قیامت پر ایمان نہیں ہوتا وہ نیکی اس جذبے کے ساتھ نہیں کرتا کہ مرنے کے بعد اسے اس کا اجر دیا جائے گا۔ ایسا شخص مال کی محبت میں دوسرے…
Read the full tafseer →3 : وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ (اور محتاج کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا) وہ اپنے اہل کو مسکین کو کھانا کھلانے پر آمادہ نہیں کرتا۔
نکتہ :
آیت میں جزاء کو نیکی سے روکنے کی علامت قرار دیا۔ اور کمزور کو ایذاء دینے کی علامت بتلایا۔ یعنی اگر یہ جزاء پر ایمان لاتا اور وعید پر اس کو یقین ہوتا تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا اور اس کی سزا کا خوف ہوتا تو یہ اقدام نہ کرتا۔ پس جب اس نے یہ اقدام کیا تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ یہ جزاء کا منکر ہے۔ پھر اس کے ساتھ یہ ارشاد ملا دیا۔
Read the full tafseer →3 ۔” ولا یحض علیٰ طعام المسکین “ نہ اس کو خود کھلاتا ہے اور نہ اس کے کھلانے کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ وہ جزاء کے دن کو جھٹلاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ یہ نصف سورة مکی ہے جو منکرین جزا و سزا کی شان میں ہے اور نصف مدنی ہے جو منافقوں کی شان میں ہے نماز سے بیخبر ہیں اس کا یہ مطلب ہے کہ وقت پر نماز ادا نہیں کرتے۔ چناچہ مسند 2 ؎ ابو یعلی میں معتبر سند سے مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص سے آیت الذین ھم عن صلاتھم ساھون کے معنی پوچھے تھے۔ سعد بن ابی وقاص ؓ نے کہا ساھون سے یہ لوگ مراد لئے گئے ہیں جو وقت کو ٹال کر نماز پڑھتے ہیں یہ سعد بن ابی وقاص کا قول بمنزلہ حدیث نبوی کے ہے۔ کیونکہ صحابہ کی یہ عادت نہ تھی کہ قرآن شریف کی تفسیر وہ اپنی راے سے کریں چناچہ اس تفسیر کے مقدمہ میں اس کا ذکر…
Read the full tafseer →(وَلَا يَحُضُّ ) اور دوسروں کو ترغیب نہیں دیتا (عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ ) مسکین کو کھانے پر۔ اور وہ خود تو بالاولی مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
نمازوں سے غفلت پر تنبیہ
قول باری ہے (الذین ھم عن صلاتھم ساھون) جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں) حرضت ابن عباس ؓ نے فرمایا ” نماز کو اس کے وقت سے موخر کرتے ہیں۔ “ مصعب بن سعد نے حضرت سعد ؓ سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے۔ مالک بن دینار نے حسن سے روایت کی ہے کہ نماز کی اس کے وقت میں ادا کرنے سے غفلت برتتے ہیں یہاں تک کہ نماز کا وقت نکل جاتا ہے۔
اسماعیل بن مسلم نے حسن سے روایت کی ہے کہ ” یہ منافق لوگ ہیں، نماز کو اس کے وقت سے موخر کرتے ہیں اور جب نماز پڑھتے ہیں تو دکھلاوے کے طور پر پڑھتے ہیں۔ “ ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جسے یہ پتہ نہیں چلتا کہ آیا اس نے دو رکعت کے بعد سلام پھیرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3 ۔ منکر آخرت کے بخل اور اس کی کنجوسی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص مسکین کے کھانے پر بھی نہیں ابھارتا، یہاں پر " اطعام مسکین " (مسکین کے کھلانے پر) نہیں فرمایا گیا بلکہ " طعام المسکین " ( مسکین کے کھانے پر) فرمایا گیا ہے، جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مسکین کو جو کھانا دیا جاتا ہے تو یہ اس پر کوئی احسان نہیں کیا جارہا، بلکہ یہ اس کا حق ہے جو اس کو دیا جاتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ (الذریات 19) یعنی ان کے مالوں میں حق ہے سائل کا بھی اور محروم کا بھی۔ صرف اتنی بات ہے کہ حضرت واہب مطلق جل جلالہ مسکینوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نماز سے غفلت ریا کاری اور بخل سے بچو
تشریح : اس میں کچھ ایسی نصیحت کی باتیں بتائی گئی ہیں جو دنیا و آخرت کو سنوار سکتی ہیں جس میں سب سے اول عقیدہآخرت کی مضبوطی ہے۔ اصل میں یہ عقیدہ انسانی کا میابی کے لیے ایک چابی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ جب تک ہمیں یہ یقین نہیں ہوگا کہ ہمارا محاسبہ ضرور ہوگا اور ایسی ذات کے سامنے ہوگا جو ہمارے ظاہر باطن سے خوب واقفیت رکھتا ہے۔ جس کو نہ دھوکہ دیا جاسکتا ہے نہ سفارش کی گنجائش ہے نہ جھوٹ اور رشوت سے چھوٹ سکتے ہیں۔ تو پھر کوئی پاگل ہی ہوگا جو غلط کام کرے گا۔ لیکن ایسے سر پھرے لوگوں کی نہ پہلے کمی تھی نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگی۔ تو ایسے ہی منافق لوگوں کے لیے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الماعون۔
آیات 1 تا 7۔
اسرار ومعارف۔
آپ نے ان لوگوں کو دیکھا جو قیامت اور اسلام کا انکار کیے بیٹھے ہیں انہیں دولت دنیا نے اندھا کردیا ہے کہ اسلام کے نظام معشیت سے گھبراتے ہیں اور یتیموں اور کمزوروں کو دھکے دے کر ان کا حق دبالیتے ہیں اور محتاج وبے بس کو اس کا حق نہیں دینا چاہتے یہ صرف کافر ہی نہیں ان میں برائے نام مسلمان اور منافق بھی شامل ہیں جو بظاہر نماز ادا کرتے ہیں مگر عبادات کے اس کے نتیجے سے بیخبر ہیں کہ عبادات کا نتیجہ تو یہ ہے کہ اللہ کے احکام پر عمل کرے اور ظلم کو مٹا دے مگر یہ اس ظلم میں گرفتار ہیں دکھلاوے کو عبادت کرتے ہیں اور کسی کا حق توکیادیں گے مانگنے پر برتنے کی چیز بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 5 یعنی کبھی نماز پڑھتے ہیں اور کبھی نہیں پڑھتے پڑھتے بھی ہیں تو نہایت بددلی سے جلدی جلدی۔
Read the full tafseer →(107:3) ولا یحض علی طعام المسکین : اس جملہکا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ واؤ عاطفہ ولا یحض مضارع منفی واحد مذکر غائب حض (باب نصر) مصدر سے۔ جس کا معنی ہے آمادہ کرنا۔ ترغیب دینا۔ ابھارنا۔ وہ ترغیب نہیں دیتا۔
اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ولا تحاضون علی طعام المسکین (89:18) اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن۔
ارءیت۔ کیا تو نے دیکھا۔ الدین۔ انصاف کا دن۔ قیامت۔ یدع۔ دھکے دیتا ہے۔ لا یحض۔ آمادہ نہیں کرتا۔ ساھون۔ بیخبر ۔ سستی کرنے والے۔ یراء و ن۔ وہ دکھاتے ہیں۔ یمنعون ۔ وہ منع کرتے ہیں۔ الماعون۔ برتنے کی (چھوٹی چھوٹی) چیزیں۔
تشریح : چند جملوں پر مشتمل سورة الماعون میں فکر آخرت، حقوق اللہ اور حقوہ العباد کو اس قدر خوبصورتی سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس میں غوروفکر کرنے والا کسی کے حق میں کمی کا تصور بھی نہی کرسکتا۔ فرمایا۔
……: کیا آپ نے دیکھا کہ کون ” الدین “ کو جھٹلاتا ہے۔ ممکن ہے اس سورت میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہو یا ہر دیکھنے والی آنکھ کو اس طرف متوجہ کیا ہو کہ کیا تم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نماز کی تاکید۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جو روز جزا کا یقین نہیں رکھتا، یہ وہی شخص ہے جو قیامت کے انکار کے ساتھ اور بھی عیب رکھتا ہے، یتیم کا مال سینہ زوری سے کھاتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی کسی کو رغبت نہیں دلاتا، خود تو کیا دے گا کسی سے دلواتا بھی نہیں ، پس معلوم ہوا کہ بخل کفر کا شعار ہے تو نماز اور زکوۃ وغیرہ فرائض کا ترک بدرجہ اعلی ہو، اور اس کا انجام بہت برا ہوگا، اس لیے ارشاد ہے کہ ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز کی حقیقت سے غافل ہیں یہ نہیں جانتے کہ نماز کس کی مناجات ہے اور مقصد نماز سے کیا ہے اور کس قدر اہتمام کے لائق ہے یہ نہیں جانتے کہ نماز مراقبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] یعنی جو کھانا مسکین کو دیا جاتا ہے وہ دینے والے کا کھانا نہیں بلکہ اسی مسکین کا کھانا ہے اور وہ مسکین کا حق ہے جو دینے والے پر عائد ہوتا ہے۔ دینے والا مسکین کو کوئی بخشش نہیں دے رہا ہے بلکہ اس کا حق ادا کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الماعون
1: ان آیات سے شخص معین مراد نہیں ہے ۔ بلکہ اس وقت کے عام سرمایہ دار مراد ہیں کہ ان کی ذہنیت اس قسم کی تھی کہ یہ اللہ سے نہیں ڈرتے تھے اور عیش و عشرت میں اس چیز کا کبھی خیال نہیں کرتے تھے کہ ہمیں اللہ کے سامنے ایک دن ان رنگ رلیوں کا جواب دینا ہے ۔ یہ فواحش اور برائیوں پر تو بےدریغ روپیہ خرچ کردیتے تھے ۔ لیکن اگر کوئی یتیم بےنوا آجائے تو اس کو ڈانٹ دیتے تھے ۔ ان کے دلوں میں کبھی یہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا تھا کہ اپنی ثروت میں مسکینوں اور غریبوں کو بھی شامل کیا جائے اور ان کی ادنیٰ ضروریات بھی پوری کی جائیں ۔ یہ لوگ محض سنگ دل اور بداخلاق تھے اور کئی صدیاں گزرنے کے بعد آج بھی سرمایہ…
Read the full tafseer →(3) اور نہ محتاج کو کھانادینے کی لوگوں کو ترغیب دیتا ہے ۔ یعنی یتیم کا اکرام تو کیا کرے گا کسی مسکین کو کھانا کھلانے کی لوگوں کو ترغیب تک نہیں دیتا یعنی مخلوق کا حق ادا کرنے کا اس کو بالکل خیال نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 3۔ یعنی وہ ایسا سنگدل ہے کہ نہ خود احسان کرے اور نہ دوسرے کو احسان پر آمادہ کرے اور جب بندہ کا حق ضائع کرنا ایسا برا ہے تو خالق کا حق ضائع کرنا تو اور زیادہ برا ہے۔
Read the full tafseer →اور کبھی مسکینوں کو کھالا کھلانے کے لیے لوگوں کو ترغیب نہیں دیتے
3 ؎ ( یحض) کا اصل مادہ ح ض ض ہے جس کے معنی آمادہ کرنے کے ہیں اور ترغیب دینے کے جس کو برانگیختہ کرنے سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ واحد غائب مضارع اس جگہ ( لا) نافیہ ہے یعنی وہ آمادہ نہیں کرتا ۔ ترغیب نہیں دیتا ، نہیں ابھارتا ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ قیامت پر ایمان رکھنے والے انسان ہمدردی کے جذبے سے کس قدر بےبہرہ ہوتے ہیں ۔ فرمایا وہ خود تو ان یتیموں کی کچھ مدد نہیں کرتے کہ بخل نے ان کے ہاتھ پکڑ لیے تھے لیکن دوسرے لوگوں کو تو وہ رغبت دلا سکتے تھے کہ ان مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ وہ تعاون کریں لیکن وہ ایسے بد نصیب ہیں کہ وہ ایسا نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
The love of the world causes nations to lose faith and consign Allah to oblivion
This Surah denounces some of the evil actions of the pagans and the hypocrites, and it holds out a threat of destruction to those who commit them. If these evil actions are committed by believers, who do not reject the true faith, they are still heinous and gravely sinful, but the threat of chastisement made in this surah does not apply to them. Therefore, verse [ 107:1] أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ (Have you not seen him who denies the Requital?), as a preamble, makes plain that the person who…
Read the full tafseer →6 La yahuddu means that the person neither persuades his own self, nor tells the people of his household, to provide the poor man with his food, nor dces he urge others to recognize the rights of the poor and needy people of society who are starving and do something to satisfy their hunger. Here, by giving only two conspicuous examples, Allah has pointed out what kind of evils are produced in the people who deny the Hereafter: The real object is not to point out only these two evils-that the people drive away the orphans and do not urge giving away the food of the poor as a result of the…
Read the full tafseer →