Explained with ayahs 1–7
نماز میں غفلت اور یتیموں سے نفرت :
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ تم نے اس شخص کو دیکھا جو قیامت کے دن کو جو جزا سزا کا دن ہے جھٹلاتا ہے یتیم پر ظلم و ستم کرتا ہے اس کا حق مارتا ہے اس کے ساتھ سلوک و احسان نہیں کرتا مسکینوں کو خود تو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس کار خیر پر آمادہ نہیں کرتا جیسے اور جگہ ہے (كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ 17 ۙ) 89۔ الفجر :17) یعنی جو برائی تمہیں پہنتی ہے وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے کہ نہ تم یتیموں کی عزت کرتے ہو نہ مسکینوں کو کھانا دینے کی رغبت دلاتے ہو یعنی اس فققیر کو جو اتنا نہیں پاتا کہ اسے کافی ہو پھر فرمان ہوتا ہے کہ غفلت برتنے والے نمازیوں کے…
Read the full tafseer →سورة الماعون 4
اصل میں فَذٰلِكَ الَّذِيْ فرمایا گیا ہے۔ اس فقرے میںایک پورے جملے کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ " اگر تم نہیں جانتے تو تمہیں معلوم ہو کہ وہی تو ہے جو " یا پھر یہ اس معنی میں ہے کہ " اپنے اسی انکار آخرت کی وجہ سے وہ ایسا شخص ہے جو "۔
سورة الماعون 5
اصل میں يَدُعُّ الْيَتِيْمَ کا فقرہ استعمال ہوا ہے جس کے کئی معنی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ یتیم کا حق مار کھاتا ہے اور اس کے باپ کی چھوڑی ہوئی میراث سے بےدخل کر کے اسے دھکے مار کر نکال دیتا ہے۔ دوسرے یہ کہ یتیم اگر اس سے مدد مانگنے آتا ہے تو رحم کھانے کے بجائے اسے دھتکار دیتا ہے اور پھر بھی اگر وہ اپنی پریشان حالی کی بنا پر رحم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
خلاصہ تفسیر
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جو روز جزاء کو جھٹلاتا ہے سو (آپ اس کا حال سننا چاہیں تو سنئیے کہ) وہ شخص وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور محتاج کو کھانا دینے کی (دوسروں کو بھی) ترغیب نہیں دیتا (یعنی وہ ایسا سنگدل ہے کہ خود وہ کسی غریب کو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس پر آمادہ نہیں کرتا۔ اور جب بندوں کا حق ضائع کرنا ایسا برا ہے تو خالق کا حق ضائع کرنا تو اور زیادہ برا ہے) سو (اس سے ثابت ہوا کہ) ایسے نمازیوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو اپنی نماز کو بھلا بیٹھتے ہیں (یعنی ترک کردیتے ہیں) جو ایسے ہیں کہ (جب نماز پڑھتے ہیں تو) ریا کاری کرتے ہیں اور زکوٰة بالکل نہیں دیتے (کیونکہ زکوٰة کے لئے شرعاً…
Read the full tafseer →اسلامی معاشرہ میں یتیم کا مرتبہ: فرمایا کہ یہی شخص ہے جو یتیموں کو دھکے دیتا ہے۔ ’دَعٌّ‘ کے معنی دھکے دینے کے ہیں۔ فرمایا ہے:
’یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰی نَارِ جَھَنَّمَ دَعًّا‘ (الطور ۵۲: ۱۳)
(جس دن وہ دھکے دے دے کر جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے)
یتیموں کے ساتھ صحیح رویہ جس کی تعلیم دی گئی ہے ’اکرام‘ کا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے:
’کَلَّا بَلْ لَّا تُکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ‘ (الفجر ۸۹: ۱۷)
(ہرگز نہیں، بلکہ تم لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے)
اسلامی معاشرہ میں، جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا ہے، ضعیف اس وقت تک سب سے زیادہ قوی اور با اثر ہے جب تک اس کا حق اس کو مل نہ جائے۔ اس چیز کا تقاضا یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →2۔ 1 اس لیے کہ ایک تو بخیل ہے، دوسرا قیامت کا منکر ہے بھلا ایسا شخص یتیم کے ساتھ کیوں کر حسن سلوک کرسکتا ہے ؟ یتیم کے ساتھ وہی شخص اچھا برتاؤ کرے گا جس کے دل میں مال کے بجائے انسانی قدروں اور اخلاقی ضابطوں کی اہمیت و محبت ہوگی۔ دوسرے اسے اس امر کا یقین ہو کہ اس کے بدلے میں مجھے قیامت والے دن اچھی جزا ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: کئی کافروں کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے پاس کوئی یتیم خستہ حالت میں کچھ مانگنے کو آیا تو انہوں نے اسے دھکا دے کر نکال دیا، یہ عمل ہر ایک کے لئے انتہائی سنگدلی اور بڑا گناہ ہے، لیکن کافروں کا ذکر فرما کر اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ یہ کام اصل میں کافروں ہی کا ہے، کسی مسلمان سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
یہ چھوٹی سی سورت جو صرف سات آیات پر مشتمل ہے اور آیات بھی چھوٹی چھوٹی ہیں ، ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے ۔ اس کے مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ یہ گویا شعائر اسلام کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور اس پر غور کرنے سے انسان کو ایمان وکفر کا مفہوم مکمل طور پر بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سے آگے یہ سورت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے۔ اور اس میں انسانیت کے لئے کس قدر عظیم خیر اور بھلائی پوشیدہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کے لئے اپنا آخری مشن بھیج کر اللہ نے اس پر کتنا عظیم رحم کیا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دین چندظاہری رسوم عبادات اور دینی شعائر ہی کا نام نہیں ہے۔ اس میں دینی…
Read the full tafseer →2 یعنی یتیم کی ہمدردی اور غمخواری تو درکنار اس کے ساتھ نہایت سنگدلی اور بد اخلاقی سے پیش آتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 2{ فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ۔ } ”یہ وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔“
ظاہر ہے جو انسان اچھے برے اعمال کی جزا و سزا کو نہیں مانتا وہ معاشرے کے ایسے افراد کے لیے اپنا مال بھلا کیوںـ ضائع کرے گا جن سے اسے کسی فائدے کی توقع نہیں ؟
Read the full tafseer →2 اہل عرب عورتوں اور بچوں کو میراث سے محروم کردیتے تھے۔ حالانکہ حقیقتاً میراث کے وہ ضرور حقدار ہونا چاہئیں۔ لیکن اہل عرب کا دستور تھا کہ جو شخص میت کے وارثوں سے زیادہ بااثر اور زور آور ہوتا وہی ساری میراث پر قبضہ جما لیتا تھا اور یتیموں کو دھتکار دیتا تھا۔ یہ ان کی زر پرستی اور انکار آخرت کا نتیجہ تھا۔ نیز اگر کوئی یتیم ان سے مدد مانگنے آتا تو اس سے برا سلوک کرتے تھے۔ اور اس کے اصرار پر دھکے مار کر دفع کردیتے تھے اور اگر کوئی کسی یتیم کی پرورش کا ذمہ لیتا بھی تھا تو اسے ڈانٹ ڈپٹ ہی کرتا رہتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ یعنی وہ بددین شخص ایسا سنگدل اور تنگدل ہے کہ خود تو بیچارے یتیموں کے ساتھ حسن سلوک تو کیا کرے گا، الٹا ان کے ساتھ بیدردی کا برتاؤ کرتا ہے اور دوسروں تک کو مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک پر آمادہ نہیں کرتا، حق تلفیوں میں جسارت وقساوت اسی کے دل میں پیدا ہوتی ہے جو آخرت کا منکر یا عملا منکر ہوتا ہے۔ (آیت) ” یکذب بالدین “۔ دین سے یہاں عموما مراد جزاء و حساب ہی سے لی گئی ہے۔ وھو قول اکثر المفسرین ان المراد رأیت الذی یکذب بالحساب والجزاء (کبیر) ارأیت۔ ہمزہ استفہام مخاطبین کے ذہن میں مکذب کے تعارف کے لئے شوق و جستجو پیدا کرنے کو ہے۔ استفہام ارید بہ تشویق السامع الی تعرف المکذب (روح) رأیت۔ رؤیت سے یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، کیا آپ ﷺ نے اس شخص کو یکھا جو روز جزاء یعنی حساب اور جزاء کے دن کو جھٹلاتا ہے ؟ یعنی آپ ﷺ نے اس کو پہچانا یا نہیں پہچانا ؟ یہ وہ شخص ہے فاء کے بعد ھو مقدر ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے یعنی اس کو سختی کے ساتھ اس کے حق سے محروم رکھتا ہے اور مسکینوں کو کھانا دینے کی نہ خود کو ترغیب دیتا ہے اور نہ دوسروں کو (یہ آیت) عاص بن وائل یا ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی، سو ایسے نمازیوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو غفلت کرتے ہیں بایں طور کہ اس کو اس کے وقت سے مئوخر کردیتے ہیں، جو ایسے ہیں کہ نماز وغیرہ میں ریا کاری کرتے ہیں اور برتنے کی…
Read the full tafseer →فذلک . فاء سببی ہے ما بعد فاء ما قابل فاء کی علت کے مقام پر ہے اور ذٰلِکَ خبر ہے ‘ مبتداء محذوف ہے ‘ بعض لوگوں
نے فاء کو جزائیہ کہا ہے اور شرط محذوف ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا ‘ کیا تم نے دین کی تکذیب کرنے والے کو پہچانا ‘ اگر نہ پہچانا تو سمجھ لو کہ وہ وہی شخص ہے جو
الذی یدع الیتیم . یتیم کو دھکے دیتا ہے ‘ یعنی اس پر ظلم کرتا ہے اور اس کا حق رکھتا ہے۔ وعٌّ کا معنی ہے قوت
سے دھکا دینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) کیا آپ نے عاص بن وائل سہمی کو نہیں دیکھا جو روز جزاء (قیامت کے دن) کو جھٹلاتا ہے اور یہ وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے یا یہ کہ یتیم کا حق نہیں دیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(ارء یت الذی یکذب بالدین…:”’ ع یدع دعا“ (ن) دھکے دیتا۔”کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جو جزا کو جھٹلاتا ہے…“ یہ اولاً رسول اللہ ﷺ سے خطاب ہے، اس کے بعد ہر شخص اس کا مخطاب ہے۔ ان آیات میں قیامت کے دن اعمال کی جزا کو جھٹلانے کی وجہ سے کسی شخص میں جو سنگ دلی اور شقاوت پیدا ہوتی یہ اس کا ذکر فرمایا ہے۔ اس کے سامنے چونکہ دنیا ہی سب کچھ ہوتی ہے، اس لئے اسے کسی یتیم سے ہمدرید اور مسکین کی غم خواری پر کسی فائدے کی توقع ہوتی ہے نہ ان کے حقوق غصب کرنے پر کسی باز پرس اور سزا کا خوف ہوتا ہے، لہٰذا وہ ان بےبس لوگوں کے معالمے میں نہایت بےرحم ہوتا ہے۔ یتیم اپنے باپ کی وراثت مانگے یا اپنا کوئی اور حق وہ اسے دھکے…
Read the full tafseer →يَدُعُّ کا معنی دھکے دیتا ہے۔ جس طرح ارشاد فرمایا : یدعون الی نار جھنم دعا۔ (الطور) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ معنی ہے وہ یتیم کو حق دینے کی بجائے اسے دھکے دیتا ہے۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی ہے وہ اس پر ظلم و زیادتی کرتا ہے معنی قریب قریب ہے۔ سورة النساء میں پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ وہ عورتوں اور چھوٹے بچوں کو وارثت میں سے کچھ بھی نہیں دیا کرتے تھے وہ کہتے تھے : مال اس کے لیے ج ائز ہے جو نیزے چلاتا ہے اور تلوار سے وار کرتا ہے نبی کریم سے مروی ہے : من ضم یتیما من المسلمین حتی یستغنی فقد وجب لہ الجنۃ۔ جس نے کسی یتیم کو اپنے ساتھ ملایا یہاں تک کہ وہ غنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ارأ یت الذی یکذب بالدین مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا کہ۔
3۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ارأیت الذی یکذب بالدین میں بالدین سے مراد ہے حساب۔
5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ارأیت الذی کذب بالدین سے مراد ہے کہ اللہ کے حکم کو جھٹلایا ہے۔ آیت فذلک الذی یدع الیتیم کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا اس سے مراد ہے کہ وہ یتیم کو اس کے حق سے پیچھے ہٹا دیتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے ابو طالب کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
یقسم حقا…
Read the full tafseer →[فَذٰلِكَ : تو وہ،][ الَّذِي : وہ ہے جو ][ يَدُعُّ الْيَتِيْمَ : دھکا دیتا ہے یتیم کو ]
آیات۔ 2 اور 3 ۔ میں ان کفار کی حالت بیان کی گئی ہے جو اعلانیہ آخرت کو جھٹلاتے ہیں۔ اور آخری چار آیتوں میں ان منافقین کا حال بیان کیا گیا ہے جو بظاہر مسلمان ہیں مگر دل میں آخرت اور اس کی جزاوسزا کا کوئی تصور نہیں رکھتے۔ مجموعی طور پر دو گروہوں کے طرز عمل کو بیان کرنے سے مقصود یہ حقیقت ذہن نشین کرانا ہے کہ انسان کے اندر ایک مستحکم اور پاکیزہ کردار عقیدۂ آخرت کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتا۔ (تفہیم القرآن)
Read the full tafseer →ثانیا : اس شخص کی بےرحمی کا ذکر کیا اور فرمایا ﴿ فَذٰلِكَ الَّذِيْ يَدُعُّ الْيَتِيْمَۙ002﴾ (سو یہ وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
اے ہمارے پیغمبر یا اے مخاطب، کیا تو نے دیکھا ہے اس کو جو جھٹلاتا ہے، اعمال کے بدلہ کو اور انکار کرتا ہے قیامت کا اور اعمال کی جزاء وسزا کا، حالانکہ ہر انسان کی فطرت میں یہ بات ودیعت رکھی ہے کہ وہ اپنے خالق کو مانے اس کے انعامات کو سمجھے اور ان انعامات کے باعث اس پر ایمان لائے اور اس کی نعمتوں کا حق بھی ادا کرے اور اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کو غریبوں مساکین ویتامی پر خرچ کرے لیکن افسوس صد افسوس یہ مکذب بالدین خدا اور قیامت کا منکر اور اس کی نعمتوں کو فراموش کرنے والا تو ایسا شخص ہے غرور وتکبر کے نشہ میں مست دھکے دیتا ہے یتیم کو اور خود تو کسی کی کیا مدد کرتا دوسرے کو بھی ترغیب نہیں دیتا مسکین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ ” فذلک “ یہ شخص نہ صرف قیامت ہی کا انکار کرتا ہے بلکہ یتیموں کو بھی دھتکارتا ہے غریبوں اور مسکینوں کو خود کھانا کھلانا تو درکنار دوسروں کو بھی اس کی ترغیب نہیں دیتا تو ایسے لوگوں کو نمازوں کا کیا فائدہ اور پھر نمازیں بھی وہ کما حقہ نہیں پڑھتے وہ نمازیں بھی خداوند تعالیٰ کے عذاب سے ڈر کر اور اجر وثواب کی امید پر نہیں پڑھتے بلکہ محض ریاکاری اور دنیوی مصلحتوں کے لیے پڑھتے ہیں۔ نماز سے ان کا مقصود رضائے الٰہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الماعون ہے۔ اس کی آخری آیت میں ماعون کا لفظ ذکر کیا گیا ہے۔ اسی لفظ سے سورة کا نام ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی اکثر مفسرین 1 ؎ کی یہی رائے ہے۔ تاہم بعض مفسرین 2 ؎ فرماتے ہیں کہ اس کا نصف حصہ مکی زندگی میں اور نصف حصہ مدنی زندگی میں نازل ہوا۔ اس سورة کے مدنی ہونے کا تصور اسی وجہ سے ہے کہ اس میں منافقین کا ذکر ہے اور وہ مدنی زندگی میں پیدا ہوئے تھے۔ مکی دور میں منافقین کا وجود نہیں تھا۔ اس وقت یا کافر تھے۔ یا مخلص مسلمان
اس سورة کی سات آیتیں ہیں۔ یہ پچیس الفاظ اور ایک سو پچیس حروف پر مشتمل ہے۔
1 ؎ تفسیر عزیزی فاسری 360/پارہ 30 ، تفسیر اتقان…
Read the full tafseer →فَذٰلِكَ الَّذِيْ يَدُعُّ الْيَتِيْمَ 2 ۙ
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
1 ؎ یعنی جب جزا و سزا کا قائل نہیں تو پھر ہر قسم کی بےرحمی اور سنگدلی کرتا ہے۔ یتیم پر رحم کرنا مسکین کو کھانا کھلانا رحمدلی کی بات ہے اس کو بھی نہیں کرتا اور خدا کی طرف بھی نہیں سکتا اس لیے غفلت اور دکھاوے کی نماز پڑھتا ہے اور یہاں تک وفی الطبع ہوجاتا ہے کہ معمولی برتنے کی چیزیں بھی مانگے نہیں دیتا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ ۔ (الماعون : 2)
(اور یہی وہ (بدبخت) ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ )
قیامت کی تکذیب والوں کے اخلاق
آیت کے شروع میں فَاکا لفظ یہ بتلاتا ہے کہ یہ جملہ جزائیہ ہے اور اس سے پہلے جملہ شرطیہ محذوف ہے۔ تقدیرِکلام یوں ہوگی ھَلْ عَرَفْتَ الذِّیْ یُکَذِّبُ بِالْجَزَائِ اَوْبِالْاِسْلاَمِ اِنْ لَمْ تَعْرِفُـہٗ فَذٰلِکَ الَّذِیْ ” یعنی جو روزجزاء یا دین اسلام کا منکر ہے اگر تم اس کی حالت کو جانتے ہو تو فبھا۔ اور اگر نہیں جانتے ہو تو اب جان لو کہ اس کی اخلاقی پستی کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی یتیم اس کے ہاں رحمت و شفقت کا خواستگار بن کر آتا ہے تو اس کو اس کی خستہ حالی پر ذرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
فہم القرآن
ربط سورت : قریش کی ناشکری اور کفر و شرک کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ وہ قیامت کی جواب دہی کے عقیدہ پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
” اَلدِّیْنِ “ کا لفظ قرآن مجید نے کئی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ سیاق وسباق کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہاں ” اَلدِّیْنِ “ کا لفظ قیامت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ارشاد ہوا کہ کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو قیامت کو جھٹلاتا ہے یہ ایسا شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ یاد رہے کہ جس شخص کا قیامت پر ایمان نہیں ہوتا وہ نیکی اس جذبے کے ساتھ نہیں کرتا کہ مرنے کے بعد اسے اس کا اجر دیا جائے گا۔ ایسا شخص مال کی محبت میں دوسرے…
Read the full tafseer →یتیم کو دھکے دینے والا :
2 : فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ (پس وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے) ذالکؔ وہ جو قیامت کو جھٹلاتا ہے وہ وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے زور سے دھکیلتا ہے بڑی سختی اور ایذاء کے ذریعہ اور اس کو بھدے انداز سے درشتی اور ڈانٹ ڈپٹ سے واپس کرتا ہے۔
Read the full tafseer →2 ۔” فذالک الذی یدع الیتیم “ اس کو ڈانٹتا ہے اور اس کے حق سے انکار کرتا ہے اور دع کا معنی قوت سے دھکا دینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ یہ نصف سورة مکی ہے جو منکرین جزا و سزا کی شان میں ہے اور نصف مدنی ہے جو منافقوں کی شان میں ہے نماز سے بیخبر ہیں اس کا یہ مطلب ہے کہ وقت پر نماز ادا نہیں کرتے۔ چناچہ مسند 2 ؎ ابو یعلی میں معتبر سند سے مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص سے آیت الذین ھم عن صلاتھم ساھون کے معنی پوچھے تھے۔ سعد بن ابی وقاص ؓ نے کہا ساھون سے یہ لوگ مراد لئے گئے ہیں جو وقت کو ٹال کر نماز پڑھتے ہیں یہ سعد بن ابی وقاص کا قول بمنزلہ حدیث نبوی کے ہے۔ کیونکہ صحابہ کی یہ عادت نہ تھی کہ قرآن شریف کی تفسیر وہ اپنی راے سے کریں چناچہ اس تفسیر کے مقدمہ میں اس کا ذکر…
Read the full tafseer →(فَذٰلِكَ الَّذِيْ يَدُعُّ الْيَتِيْمَ ) پس یہی وہ شخص ہے جو سخت دلی اور تند خوئی سے یتیم کو دھکے دیتا ہے اور اپنی قساوت قلبی کی بنا پر اس پر رحم نہیں کرتا نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ وہ ثواب کی امید رکھتا ہے نہ عذاب سے ڈرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
یتیم کو دھکا نہ دیں
قول باری ہے (یدع الیتیم یتیم کو دھکے دیتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ وہ یتیم کے حق سے اسے دھکے دے کر پرے کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →2 ۔ منکر آخرت کے کبر و غرور کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص دھکے دیتا ہے یتیم کو یعنی اپنی سنگ دلی اور بےرحمی کی بنا پر وہ یتیم کو دھتکارتا اس کی تذلیل و تحقیر کرتا اور اس کا حق مار کھاتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس ثابت ہوا کہ انسان کو سیدھے راستے پر رکھنے والی اور اعلی اخلاق و کردار سے آراستہ پیراستہ کرنے والی چیز اصل میں عقیدہ آخرت اور روز جزا پر ایمان و یقین ہی ہے۔ پس جو لوگ اس سے محروم ہیں وہ حقیقت میں سیدھی راہ، مکارم اخلاق اور ہر خیر سے محروم ہیں، والعیاذ باللہ العظیم، فصدق اللہ القائل فی کتابہ العزیز، وَاِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نماز سے غفلت ریا کاری اور بخل سے بچو
تشریح : اس میں کچھ ایسی نصیحت کی باتیں بتائی گئی ہیں جو دنیا و آخرت کو سنوار سکتی ہیں جس میں سب سے اول عقیدہآخرت کی مضبوطی ہے۔ اصل میں یہ عقیدہ انسانی کا میابی کے لیے ایک چابی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ جب تک ہمیں یہ یقین نہیں ہوگا کہ ہمارا محاسبہ ضرور ہوگا اور ایسی ذات کے سامنے ہوگا جو ہمارے ظاہر باطن سے خوب واقفیت رکھتا ہے۔ جس کو نہ دھوکہ دیا جاسکتا ہے نہ سفارش کی گنجائش ہے نہ جھوٹ اور رشوت سے چھوٹ سکتے ہیں۔ تو پھر کوئی پاگل ہی ہوگا جو غلط کام کرے گا۔ لیکن ایسے سر پھرے لوگوں کی نہ پہلے کمی تھی نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگی۔ تو ایسے ہی منافق لوگوں کے لیے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الماعون۔
آیات 1 تا 7۔
اسرار ومعارف۔
آپ نے ان لوگوں کو دیکھا جو قیامت اور اسلام کا انکار کیے بیٹھے ہیں انہیں دولت دنیا نے اندھا کردیا ہے کہ اسلام کے نظام معشیت سے گھبراتے ہیں اور یتیموں اور کمزوروں کو دھکے دے کر ان کا حق دبالیتے ہیں اور محتاج وبے بس کو اس کا حق نہیں دینا چاہتے یہ صرف کافر ہی نہیں ان میں برائے نام مسلمان اور منافق بھی شامل ہیں جو بظاہر نماز ادا کرتے ہیں مگر عبادات کے اس کے نتیجے سے بیخبر ہیں کہ عبادات کا نتیجہ تو یہ ہے کہ اللہ کے احکام پر عمل کرے اور ظلم کو مٹا دے مگر یہ اس ظلم میں گرفتار ہیں دکھلاوے کو عبادت کرتے ہیں اور کسی کا حق توکیادیں گے مانگنے پر برتنے کی چیز بھی…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی اس سے ہمدردی و غمزاری کی بجائے سنگدلی و بےرحمی سے پیش آتا ہے۔
Read the full tafseer →(107:2) فذلک الذی یدع الیتیم۔ جملہ جواب شرط ہے اور شرط محذوف ہے ای ان لم تعرفہ فذلک ۔۔ الخ۔جزائیہ جواب شرط کے لئے ہے۔
الذی اسم موصول واحد مذکر۔ یدع الیتیم اس کا صلہ، دونوں مل کر ذلک کی صفت ، یا ذلک مبتداء ۔ ہے اور باقی اس کی خبر
(اگر تم اسے نہیں جانتے تو سمجھ لو) یہ وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ یدع مضارع واحد مذکر غائب دع (باب نصر) مصدر سے۔ وہ دھکے دیتا ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ یوم یدعون الی نار جھنم دعا (52:13) جس دن ان کو نار جہنم کی طرف دھکیل دھکیل کرلے جایا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن۔
ارءیت۔ کیا تو نے دیکھا۔ الدین۔ انصاف کا دن۔ قیامت۔ یدع۔ دھکے دیتا ہے۔ لا یحض۔ آمادہ نہیں کرتا۔ ساھون۔ بیخبر ۔ سستی کرنے والے۔ یراء و ن۔ وہ دکھاتے ہیں۔ یمنعون ۔ وہ منع کرتے ہیں۔ الماعون۔ برتنے کی (چھوٹی چھوٹی) چیزیں۔
تشریح : چند جملوں پر مشتمل سورة الماعون میں فکر آخرت، حقوق اللہ اور حقوہ العباد کو اس قدر خوبصورتی سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس میں غوروفکر کرنے والا کسی کے حق میں کمی کا تصور بھی نہی کرسکتا۔ فرمایا۔
……: کیا آپ نے دیکھا کہ کون ” الدین “ کو جھٹلاتا ہے۔ ممکن ہے اس سورت میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہو یا ہر دیکھنے والی آنکھ کو اس طرف متوجہ کیا ہو کہ کیا تم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نماز کی تاکید۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جو روز جزا کا یقین نہیں رکھتا، یہ وہی شخص ہے جو قیامت کے انکار کے ساتھ اور بھی عیب رکھتا ہے، یتیم کا مال سینہ زوری سے کھاتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی کسی کو رغبت نہیں دلاتا، خود تو کیا دے گا کسی سے دلواتا بھی نہیں ، پس معلوم ہوا کہ بخل کفر کا شعار ہے تو نماز اور زکوۃ وغیرہ فرائض کا ترک بدرجہ اعلی ہو، اور اس کا انجام بہت برا ہوگا، اس لیے ارشاد ہے کہ ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز کی حقیقت سے غافل ہیں یہ نہیں جانتے کہ نماز کس کی مناجات ہے اور مقصد نماز سے کیا ہے اور کس قدر اہتمام کے لائق ہے یہ نہیں جانتے کہ نماز مراقبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] یعنی جو کھانا مسکین کو دیا جاتا ہے وہ دینے والے کا کھانا نہیں بلکہ اسی مسکین کا کھانا ہے اور وہ مسکین کا حق ہے جو دینے والے پر عائد ہوتا ہے۔ دینے والا مسکین کو کوئی بخشش نہیں دے رہا ہے بلکہ اس کا حق ادا کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الماعون
1: ان آیات سے شخص معین مراد نہیں ہے ۔ بلکہ اس وقت کے عام سرمایہ دار مراد ہیں کہ ان کی ذہنیت اس قسم کی تھی کہ یہ اللہ سے نہیں ڈرتے تھے اور عیش و عشرت میں اس چیز کا کبھی خیال نہیں کرتے تھے کہ ہمیں اللہ کے سامنے ایک دن ان رنگ رلیوں کا جواب دینا ہے ۔ یہ فواحش اور برائیوں پر تو بےدریغ روپیہ خرچ کردیتے تھے ۔ لیکن اگر کوئی یتیم بےنوا آجائے تو اس کو ڈانٹ دیتے تھے ۔ ان کے دلوں میں کبھی یہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا تھا کہ اپنی ثروت میں مسکینوں اور غریبوں کو بھی شامل کیا جائے اور ان کی ادنیٰ ضروریات بھی پوری کی جائیں ۔ یہ لوگ محض سنگ دل اور بداخلاق تھے اور کئی صدیاں گزرنے کے بعد آج بھی سرمایہ…
Read the full tafseer →(2) سو یہ وہی شخص ہے جو یتیم کو بری طرح دھکے دیتا ہے - یعنی یتیم کے ساتھ احسان اور حسن سلوک تو کجا بدبخت اس کو تحقیر اور اہانت کے ساتھ دھکے دیتا ہے اور اسی پر بس نہیں۔
Read the full tafseer →وہ وہی تو ہے جو یتیم کو دھتکارتا ہے
2 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ جو روز جزا یا دین اسلام کے منکر ہیں اگر تم ان کی حالت کو جانتے ہو اور ان کی شناخت رکھتے ہو تو بہت خوب اور اگر ان کی پہچان نہیں رکھتے اور ان کو نہیں جانتے تو اب جان لو اور سمجھ لو کہ وہ کیسے ہیں ؟ فرمایا ان کی اخلاقی پستی کا یہ عالم ہے کہ اگر یتیم ان کے ہاں رحمت و شفقت کا خواستگار بن کر آتا ہے تو اس کو اس کی خستہ خالی پر ذرا ترس نہیں آتا ۔ اس کی بےکسی کو دیکھ کر اس کا دل نہیں پسیجتا بلکہ وہ قہر آلود اور حقارت آمیز نگاہوں سے ان کی طرف دیکھتے ہیں اور دھکے دے کر ان کے اپنے ہاں سے نکال دیتے ہیں اور ان کو ان کے حق سے محروم کردینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
The love of the world causes nations to lose faith and consign Allah to oblivion
This Surah denounces some of the evil actions of the pagans and the hypocrites, and it holds out a threat of destruction to those who commit them. If these evil actions are committed by believers, who do not reject the true faith, they are still heinous and gravely sinful, but the threat of chastisement made in this surah does not apply to them. Therefore, verse [ 107:1] أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ (Have you not seen him who denies the Requital?), as a preamble, makes plain that the person who…
Read the full tafseer →4 The letter fa in the sentence fa-dhalika-alladhi expresses the meaning of a whole sentence, which is to this effect: "If you do not know, then know that it is indeed he who..." Or, it gives the meaning: "Because of his this very denial of the Hereafter he is the kind of man who... "
5 The sentence yadu `ul yatim as used in the original, has several meanings: (1) That he deprives the orphan of his rights and evicting him from his father's heritage thrusts him away; (2) that if an orphan comes to ask him for help, he repulses him instead of showing him any compassion, and if he still persists…
Read the full tafseer →