Explained with ayahs 1–7
نماز میں غفلت اور یتیموں سے نفرت :
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ تم نے اس شخص کو دیکھا جو قیامت کے دن کو جو جزا سزا کا دن ہے جھٹلاتا ہے یتیم پر ظلم و ستم کرتا ہے اس کا حق مارتا ہے اس کے ساتھ سلوک و احسان نہیں کرتا مسکینوں کو خود تو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس کار خیر پر آمادہ نہیں کرتا جیسے اور جگہ ہے (كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ 17 ۙ) 89۔ الفجر :17) یعنی جو برائی تمہیں پہنتی ہے وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے کہ نہ تم یتیموں کی عزت کرتے ہو نہ مسکینوں کو کھانا دینے کی رغبت دلاتے ہو یعنی اس فققیر کو جو اتنا نہیں پاتا کہ اسے کافی ہو پھر فرمان ہوتا ہے کہ غفلت برتنے والے نمازیوں کے…
Read the full tafseer →سورة الماعون 1
تم نے دیکھا کا خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے مگر قرآن کا انداز بیان یہ ہے کہ ایسے مواقع پر وہ عموما ہر صاحب عقل اور سوچنے سمجھنے والے شخص کو مخاطب کرتا ہے۔ اور دیکھنے کا مطلب آنکھوں سے دیکھنا بھی ہے، کیونکہ آگے لوگوں کا جو حال بیان کیا گیا ہے وہ ہر دیکھنے والا اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے، اور اس کا مطلب جاننا، سمجھنا اور غور کرنا بھی ہے۔ عربی کی طرح اردو میں بھی دیکھنے کا لفظ اس دوسرے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلا ہم کہتے ہیں کہ " میں دیکھ رہا ہوں " اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں جانتا ہوں یا مجھے خبر ہے۔ یا مثلا ہم کہتے ہیں کہ " ذرا یہ بھی تو دیکھو " اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ ذرا اس بات پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
خلاصہ تفسیر
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جو روز جزاء کو جھٹلاتا ہے سو (آپ اس کا حال سننا چاہیں تو سنئیے کہ) وہ شخص وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور محتاج کو کھانا دینے کی (دوسروں کو بھی) ترغیب نہیں دیتا (یعنی وہ ایسا سنگدل ہے کہ خود وہ کسی غریب کو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس پر آمادہ نہیں کرتا۔ اور جب بندوں کا حق ضائع کرنا ایسا برا ہے تو خالق کا حق ضائع کرنا تو اور زیادہ برا ہے) سو (اس سے ثابت ہوا کہ) ایسے نمازیوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو اپنی نماز کو بھلا بیٹھتے ہیں (یعنی ترک کردیتے ہیں) جو ایسے ہیں کہ (جب نماز پڑھتے ہیں تو) ریا کاری کرتے ہیں اور زکوٰة بالکل نہیں دیتے (کیونکہ زکوٰة کے لئے شرعاً…
Read the full tafseer →مکہ کا قارون: ’اَرَءَ یْتَ‘ کے اسلوب خطاب پر اس کے محل میں گفتگو ہو چکی ہے۔ یہ اسلوب کسی کی طرف تعجب اور نفرت کے ساتھ متوجہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ لفظ ’دِیْن‘ یہاں جزاء و سزا کے معنی میں ہے جس طرح ’مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ‘ (الفاتحہ) میں ہے۔
’اَلَّذِیْ‘ سے کون مراد ہے؟ اس کی وضاحت یہاں نہیں ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اشارہ ابولہب کی طرف ہے۔ یہ ایک نہایت مال دار بخیل تھا جو حرم کے بیت المال (رفادہ) پر سورہ کے زمانۂ نزول میں، قابض تھا۔ آگے اس کے ذلیل کردار اور اس کی تباہی کا ذکر ایک مستقل سورہ۔۔۔ اللہب۔۔۔ میں آ رہا ہے۔ اس سورہ کی تفسیر سے واضح ہو جائے گا کہ اس نے رفادہ کو اپنی ذاتی جائداد بنا لیا…
Read the full tafseer →1۔ 1 رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے اور استفہام سے مقصد اظہار تعجب ہے۔ رؤیت معرفت کے مفہوم میں ہے اور دین سے مراد آخرت کا حساب اور جزا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ کلام میں حذف ہے۔ اصل عبادت ہے " کیا تو نے اس شخص کو پہچانا جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے ؟ آیا وہ اپنی اس بات میں صحیح یا غلط۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: کئی کافروں کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے پاس کوئی یتیم خستہ حالت میں کچھ مانگنے کو آیا تو انہوں نے اسے دھکا دے کر نکال دیا، یہ عمل ہر ایک کے لئے انتہائی سنگدلی اور بڑا گناہ ہے، لیکن کافروں کا ذکر فرما کر اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ یہ کام اصل میں کافروں ہی کا ہے، کسی مسلمان سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
یہ چھوٹی سی سورت جو صرف سات آیات پر مشتمل ہے اور آیات بھی چھوٹی چھوٹی ہیں ، ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے ۔ اس کے مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ یہ گویا شعائر اسلام کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور اس پر غور کرنے سے انسان کو ایمان وکفر کا مفہوم مکمل طور پر بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سے آگے یہ سورت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے۔ اور اس میں انسانیت کے لئے کس قدر عظیم خیر اور بھلائی پوشیدہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کے لئے اپنا آخری مشن بھیج کر اللہ نے اس پر کتنا عظیم رحم کیا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دین چندظاہری رسوم عبادات اور دینی شعائر ہی کا نام نہیں ہے۔ اس میں دینی…
Read the full tafseer →1 یعنی سمجھتا ہے کہ انصاف نہ ہوگا اور اللہ کی طرف سے نیک و بد کا کبھی بدلہ نہ ملے گا۔ اور بعض نے دین کے معنی " ملت " کے لئے ہیں۔ یعنی ملت اسلام اور مذہب حق کو جھٹلاتا ہے۔ گویا مذہب و ملت اس کے نزدیک کوئی چیز ہی نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 1{ اَرَئَ یْتَ الَّذِیْ یُـکَذِّبُ بِالدِّیْنِ۔ } ”کیا تم نے دیکھا اس شخص کو جو جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے ؟“
جو نہ تو بعث بعد الموت کا قائل ہے اور نہ ہی آخرت کی جزا و سزا کو مانتا ہے۔ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ اس زندگی کے سوا ان کی کوئی اور زندگی نہیں ہے : { وَقَالُوْا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُـنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَآ اِلَّا الدَّہْرُج } الجاثیۃ : 24 ”وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے کوئی اور زندگی سوائے ہماری دنیا کی زندگی کے ‘ ہم خود ہی مرتے ہیں اور خود ہی جیتے ہیں اور ہمیں نہیں ہلاک کرتا مگر زمانہ“۔
آخرت کے احتساب کا انکار کر کے انسان دراصل جائز و ناجائز اور حلال و حرام کی…
Read the full tafseer →1 دین کے چار معنی :۔ دین کا لفظ چار معنوں میں آتا ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ کی کامل اور مکمل حاکمیت (2) انسان کی مکمل عبودیت اور بندگی (3) قانون جزا و سزا (4) قانون جزا و سزا کے نفاذ کی قدرت۔ کفار مکہ ان چاروں باتوں کے منکر تھے۔ وہ صرف ایک اللہ ہی کو الٰہ نہیں مانتے تھے بلکہ اپنی عبادت میں دوسرے معبودوں کو بھی شریک کرتے تھے۔ اللہ کے قانون جزا و سزا کے بھی منکر تھے اور آخرت کے بھی۔ اس آیت میں اگرچہ بظاہر خطاب آپ ﷺ کو ہے لیکن تبصرہ کفار مکہ پر ہے کہ انکار آخرت نے ان میں کون سی معاشرتی اور اخلاقی برائیاں پیدا کردی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ یعنی وہ بددین شخص ایسا سنگدل اور تنگدل ہے کہ خود تو بیچارے یتیموں کے ساتھ حسن سلوک تو کیا کرے گا، الٹا ان کے ساتھ بیدردی کا برتاؤ کرتا ہے اور دوسروں تک کو مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک پر آمادہ نہیں کرتا، حق تلفیوں میں جسارت وقساوت اسی کے دل میں پیدا ہوتی ہے جو آخرت کا منکر یا عملا منکر ہوتا ہے۔ (آیت) ” یکذب بالدین “۔ دین سے یہاں عموما مراد جزاء و حساب ہی سے لی گئی ہے۔ وھو قول اکثر المفسرین ان المراد رأیت الذی یکذب بالحساب والجزاء (کبیر) ارأیت۔ ہمزہ استفہام مخاطبین کے ذہن میں مکذب کے تعارف کے لئے شوق و جستجو پیدا کرنے کو ہے۔ استفہام ارید بہ تشویق السامع الی تعرف المکذب (روح) رأیت۔ رؤیت سے یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، کیا آپ ﷺ نے اس شخص کو یکھا جو روز جزاء یعنی حساب اور جزاء کے دن کو جھٹلاتا ہے ؟ یعنی آپ ﷺ نے اس کو پہچانا یا نہیں پہچانا ؟ یہ وہ شخص ہے فاء کے بعد ھو مقدر ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے یعنی اس کو سختی کے ساتھ اس کے حق سے محروم رکھتا ہے اور مسکینوں کو کھانا دینے کی نہ خود کو ترغیب دیتا ہے اور نہ دوسروں کو (یہ آیت) عاص بن وائل یا ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی، سو ایسے نمازیوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو غفلت کرتے ہیں بایں طور کہ اس کو اس کے وقت سے مئوخر کردیتے ہیں، جو ایسے ہیں کہ نماز وغیرہ میں ریا کاری کرتے ہیں اور برتنے کی…
Read the full tafseer →اریت الذی یکذب بالدین . استفہام بمعنی تعجب ہے۔ رویت سے مراد دیکھنا اور پہچاننا۔ بحر مواج میں ہے
کہ استفہام تقریری ہے اور رویت بمعنی علم یہ آیت عاص بن وائل سہمی کے متعلق نازل ہوئی (ایک روایت میں مقاتل کا قول) یا ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی۔ سدی ‘ ابن کیسان اور مقاتل کا دوسرا قول یہی ہے یا عمرو بن عامر مخزومی کے متعلق نازل ہوئی۔ (ضحاک)
ان اقوال پر سورة کا ابتدائی حصہ مکی ہوگا اور آخری مدنی۔ بروایت عطاء حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ ارایت الذی یکذب بالدین ایک منافق شخص کے متعلق نازل ہوئی ‘ ان تمام روایات پر الذیْ عہدی ہوگا۔ بعض لوگوں نے جنسی قرار دیا ہے۔ دین سے مراد ہے اسلام یا جزاء۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) کیا آپ نے عاص بن وائل سہمی کو نہیں دیکھا جو روز جزاء (قیامت کے دن) کو جھٹلاتا ہے اور یہ وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے یا یہ کہ یتیم کا حق نہیں دیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(ارء یت الذی یکذب بالدین…:”’ ع یدع دعا“ (ن) دھکے دیتا۔”کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جو جزا کو جھٹلاتا ہے…“ یہ اولاً رسول اللہ ﷺ سے خطاب ہے، اس کے بعد ہر شخص اس کا مخطاب ہے۔ ان آیات میں قیامت کے دن اعمال کی جزا کو جھٹلانے کی وجہ سے کسی شخص میں جو سنگ دلی اور شقاوت پیدا ہوتی یہ اس کا ذکر فرمایا ہے۔ اس کے سامنے چونکہ دنیا ہی سب کچھ ہوتی ہے، اس لئے اسے کسی یتیم سے ہمدرید اور مسکین کی غم خواری پر کسی فائدے کی توقع ہوتی ہے نہ ان کے حقوق غصب کرنے پر کسی باز پرس اور سزا کا خوف ہوتا ہے، لہٰذا وہ ان بےبس لوگوں کے معالمے میں نہایت بےرحم ہوتا ہے۔ یتیم اپنے باپ کی وراثت مانگے یا اپنا کوئی اور حق وہ اسے دھکے…
Read the full tafseer →اس میں چھ مسائل ہیں :
شان نزول :
مسئلہ نمبر 1: اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ ۔ یہاں دین سے مراد آخرت میں جزا اور حساب ہے، سورة فاتحہ میں یہ بات پہلے گزر چکی ہے۔ ارئیت میں دوسرے ہمزہ کو ثابت رکھا گیا ہے کیونکہ ارئیت، ریت نہیں پڑھا جاتا، لیکن ہمزہ استفہام نے دوسرے ہمزہ کو الف سے بدل کر تسہیل پیدا کی ہے۔ زجاج نے ذکر کیا ہے : اس کلام میں حذف ہے معنی ہے بتاؤ تو جو آدمی روز جزا کو جھٹلاتا ہے کیا وہ درست ہے یا غلطی پر ہے ؟ یہ آیت کس کے حق میں نازل ہوئی اس میں اختلاف ہے۔ ابو صالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہ سورت عاص بن وائل سہمی کے حق میں نازل ہوئی، یہ کلبی اور مقاتل نے کہا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ارأ یت الذی یکذب بالدین مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا کہ۔
3۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ارأیت الذی یکذب بالدین میں بالدین سے مراد ہے حساب۔
5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ارأیت الذی کذب بالدین سے مراد ہے کہ اللہ کے حکم کو جھٹلایا ہے۔ آیت فذلک الذی یدع الیتیم کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا اس سے مراد ہے کہ وہ یتیم کو اس کے حق سے پیچھے ہٹا دیتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے ابو طالب کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
یقسم حقا…
Read the full tafseer →[اَرَءَيْتَ الَّذِي : کیا تو نے دیکھا اس کو جو ][ يُكَذِّبُ : جھوٹ جانتا ہے ][ بِالدِّيْنِ : بدلے (کے دن) کو ]
نوٹ 1: اس سورة میں یہ بتایا گیا ہے کہ آخرت پر ایمان نہ لانا، انسان کے اندر کس قسم کے اخلاق پیدا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →اوپر سورة الماعون کا ترجمہ لکھا گیا ہے۔ ماعون ایسی چیز کو کہتے ہیں جو معمولی سی چیز ہو اگر کسی کو استعمال کے لیے دے دی جائے تو دینے والے کے مال میں کوئی خاص کمی نہ آئے چونکہ اس سورت کے آخر میں ماعون سے منع کرنے والوں کی مذمت وارد ہوئی ہے اس لیے سورة الماعون کے نام سے معروف اور مشہور ہے۔
اس سورت میں چھ چیزوں کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ اولاً فرمایا ﴿ اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بالدِّيْنِؕ001﴾ اے نبی کیا آپ نے اسے دیکھا جو دین یعنی جزاء کو جھٹلاتا ہے یعنی قیامت کے دن کا اور اس بات کا انکار کرتا ہے کہ مرنے کے بعد زندہ ہوں گے اور اعمال کی جزا سزا ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
اے ہمارے پیغمبر یا اے مخاطب، کیا تو نے دیکھا ہے اس کو جو جھٹلاتا ہے، اعمال کے بدلہ کو اور انکار کرتا ہے قیامت کا اور اعمال کی جزاء وسزا کا، حالانکہ ہر انسان کی فطرت میں یہ بات ودیعت رکھی ہے کہ وہ اپنے خالق کو مانے اس کے انعامات کو سمجھے اور ان انعامات کے باعث اس پر ایمان لائے اور اس کی نعمتوں کا حق بھی ادا کرے اور اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کو غریبوں مساکین ویتامی پر خرچ کرے لیکن افسوس صد افسوس یہ مکذب بالدین خدا اور قیامت کا منکر اور اس کی نعمتوں کو فراموش کرنے والا تو ایسا شخص ہے غرور وتکبر کے نشہ میں مست دھکے دیتا ہے یتیم کو اور خود تو کسی کی کیا مدد کرتا دوسرے کو بھی ترغیب نہیں دیتا مسکین…
Read the full tafseer →2:۔ ” ارایت “ رویت سے رویت قلبی اور معرفت مراد ہے اور استفہام سے تعجیب و تشویق مقصود ہے۔ کیا آپ اس شخص کو جانتے ہیں جو قیامت کا انکار کرتا ہے حالانکہ قیامت کا ثبوت دلائل قاطعہ سے ہوچکا ہے اس کا حال واقعی قابل تعجب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الماعون ہے۔ اس کی آخری آیت میں ماعون کا لفظ ذکر کیا گیا ہے۔ اسی لفظ سے سورة کا نام ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی اکثر مفسرین 1 ؎ کی یہی رائے ہے۔ تاہم بعض مفسرین 2 ؎ فرماتے ہیں کہ اس کا نصف حصہ مکی زندگی میں اور نصف حصہ مدنی زندگی میں نازل ہوا۔ اس سورة کے مدنی ہونے کا تصور اسی وجہ سے ہے کہ اس میں منافقین کا ذکر ہے اور وہ مدنی زندگی میں پیدا ہوئے تھے۔ مکی دور میں منافقین کا وجود نہیں تھا۔ اس وقت یا کافر تھے۔ یا مخلص مسلمان
اس سورة کی سات آیتیں ہیں۔ یہ پچیس الفاظ اور ایک سو پچیس حروف پر مشتمل ہے۔
1 ؎ تفسیر عزیزی فاسری 360/پارہ 30 ، تفسیر اتقان…
Read the full tafseer →اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ 1 ۭ
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ…
Read the full tafseer →ترکیب ¦ الہمزہ للاستفہام لقصد التعجب رایت والرئویۃ بمعنی المعرفۃ فتعدی الی مفعول واحدو ھوالذی الخ وقیل بمعنی اخبرنی فتعدی الی مفعولین والثانی محذوف ای من ھو فذلک الخ الفاء جواب الشرط والتقدیر ان تاملتہ فذالک ویجوزان تکون عاطفۃ علی الذی یکذب اماعطف ذات علی ذات اوصفۃ علی صفۃ فعلی الاول ذلک مبتدء الذی یدع الخ خبرہ ولا یحض الخ عطف علیٰ یدع وعلی الثانی فی محل النصب عطفاً علی الموصول الذی ھو فی محل نصب یدع یدفع یعنف و منہ قولہ یدعون ای نارجھنم دعا فویل مبتدء للمصلین خبرہ والفاء لترتیب الدعاء علیھم بالویل الذین ھم بیان للمصلین وکذامابعدہ ویمنعون معطوف علی یراء ون و الماعون فاعول من المعن وھو الشیء…
Read the full tafseer →اَرَئَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ ۔ (الماعون : 1)
(تم نے دیکھا اس شخص کو جو ( آخرت کی) جزاء و سزا کو جھٹلاتا ہے۔ )
آیت میں خطاب بظاہر نبی کریم ﷺ سے ہے لیکن حقیقت میں یہ خطاب ہر اس آدمی سے ہے جو عقل رکھتا ہے اور جس کے اندر نصیحت کو قبول کرنے کی صلاحیت ہے۔ اور پھر یہاں دیکھنے سے مراد آنکھوں سے دیکھنا بھی ہے اور جاننا، سمجھنا اور غور کرنا بھی ہے۔ یہ اسلوب کسی کی طرف تعجب اور نفرت کے ساتھ متوجہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ اور الدِّیْن کا معنی جزاء و سزا بھی ہے اور وہ نظام زندگی بھی جس کو اسلام کہتے ہیں۔ یہاں دونوں ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ تعجب سے یہ کہا جارہا ہے کہ تم نے دیکھا ہے اس شخص کو جو دین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
فہم القرآن
ربط سورت : قریش کی ناشکری اور کفر و شرک کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ وہ قیامت کی جواب دہی کے عقیدہ پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
” اَلدِّیْنِ “ کا لفظ قرآن مجید نے کئی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ سیاق وسباق کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہاں ” اَلدِّیْنِ “ کا لفظ قیامت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ارشاد ہوا کہ کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو قیامت کو جھٹلاتا ہے یہ ایسا شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ یاد رہے کہ جس شخص کا قیامت پر ایمان نہیں ہوتا وہ نیکی اس جذبے کے ساتھ نہیں کرتا کہ مرنے کے بعد اسے اس کا اجر دیا جائے گا۔ ایسا شخص مال کی محبت میں دوسرے…
Read the full tafseer →1 : اَرَئَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ (کیا آپ نے شخص کو دیکھا ہے جو روز جزاء کو جھٹلاتا ہے) یعنی ھل رایت الذی یکذب بالجزاء من ھو ؟ ان لم تعرفہ۔ کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو جزاء کو جھٹلاتا ہے وہ کون ہے ؟ اگر تم اس کو نہیں پہچانتے ہو۔
Read the full tafseer →1 ۔” ارایت الذی یکذب بالدین “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یہ عاص بن وائل سہمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ سدی مقاتل بن حیان اور ابن کیسان رحمہم اللہ فرماتے ہیں ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ضحاک فرماتے ہیں عمرو بن عائد مخزومی کے بارے میں نازل ہوئی عطاء نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے منافقین کے ایک شخص کے بارے میں مخزومی اور ” یکذب بالدین “ کا معنی یعنی جزا اور حساب کا دن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ یہ نصف سورة مکی ہے جو منکرین جزا و سزا کی شان میں ہے اور نصف مدنی ہے جو منافقوں کی شان میں ہے نماز سے بیخبر ہیں اس کا یہ مطلب ہے کہ وقت پر نماز ادا نہیں کرتے۔ چناچہ مسند 2 ؎ ابو یعلی میں معتبر سند سے مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص سے آیت الذین ھم عن صلاتھم ساھون کے معنی پوچھے تھے۔ سعد بن ابی وقاص ؓ نے کہا ساھون سے یہ لوگ مراد لئے گئے ہیں جو وقت کو ٹال کر نماز پڑھتے ہیں یہ سعد بن ابی وقاص کا قول بمنزلہ حدیث نبوی کے ہے۔ کیونکہ صحابہ کی یہ عادت نہ تھی کہ قرآن شریف کی تفسیر وہ اپنی راے سے کریں چناچہ اس تفسیر کے مقدمہ میں اس کا ذکر…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اس شخص کی مذمت کرتے ہیں جس نے اس کے اور اس کے بندوں کے حقوق کو ترک کردیا فرماتا ہے (اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ ) کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جو حیات بعدالموت کو جھٹلاتا ہے اور جو کچھ انبیا ومرسلین لے کر آئے ہیں ان پر ایمان نہیں لاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
یتیم کو دھکا نہ دیں
قول باری ہے (یدع الیتیم یتیم کو دھکے دیتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ وہ یتیم کے حق سے اسے دھکے دے کر پرے کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →1 ۔ انکار آخرت کا نتیجہ مکارم اخلاق سے محرومی، والعیاذ باللہ : سو اس سے سزا و جزا کے منکر شخص کے حال میں غور وفکر کی دعوت دی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو جھٹلاتا ہے روز جزا کو ؟ یعنی کیا تم نے اس کے بارے میں سوچا اور غور نہیں کیا کہ آخرت اور روز جزا کے اس انکار سے وہ اخلاق و کردار کے اعتبار سے کتنا اور کس قدر گر جاتا ہے کہ اس کے بعد وہ نہ اپنے خالق ومالک کا حق پہچانتا ہے اور نہ اس کی مخلوق اور اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہر کرتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں وہ ایک سنگ دل، بےرحم، ریا کار اور خود غرض انسان بن کر رہ جاتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ من کل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نماز سے غفلت ریا کاری اور بخل سے بچو
تشریح : اس میں کچھ ایسی نصیحت کی باتیں بتائی گئی ہیں جو دنیا و آخرت کو سنوار سکتی ہیں جس میں سب سے اول عقیدہآخرت کی مضبوطی ہے۔ اصل میں یہ عقیدہ انسانی کا میابی کے لیے ایک چابی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ جب تک ہمیں یہ یقین نہیں ہوگا کہ ہمارا محاسبہ ضرور ہوگا اور ایسی ذات کے سامنے ہوگا جو ہمارے ظاہر باطن سے خوب واقفیت رکھتا ہے۔ جس کو نہ دھوکہ دیا جاسکتا ہے نہ سفارش کی گنجائش ہے نہ جھوٹ اور رشوت سے چھوٹ سکتے ہیں۔ تو پھر کوئی پاگل ہی ہوگا جو غلط کام کرے گا۔ لیکن ایسے سر پھرے لوگوں کی نہ پہلے کمی تھی نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگی۔ تو ایسے ہی منافق لوگوں کے لیے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الماعون۔
آیات 1 تا 7۔
اسرار ومعارف۔
آپ نے ان لوگوں کو دیکھا جو قیامت اور اسلام کا انکار کیے بیٹھے ہیں انہیں دولت دنیا نے اندھا کردیا ہے کہ اسلام کے نظام معشیت سے گھبراتے ہیں اور یتیموں اور کمزوروں کو دھکے دے کر ان کا حق دبالیتے ہیں اور محتاج وبے بس کو اس کا حق نہیں دینا چاہتے یہ صرف کافر ہی نہیں ان میں برائے نام مسلمان اور منافق بھی شامل ہیں جو بظاہر نماز ادا کرتے ہیں مگر عبادات کے اس کے نتیجے سے بیخبر ہیں کہ عبادات کا نتیجہ تو یہ ہے کہ اللہ کے احکام پر عمل کرے اور ظلم کو مٹا دے مگر یہ اس ظلم میں گرفتار ہیں دکھلاوے کو عبادت کرتے ہیں اور کسی کا حق توکیادیں گے مانگنے پر برتنے کی چیز بھی…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی سمجھتا ہے کہ کوئی آخرت و اخرت نہیں آئے گی اور نہ اچھے برے اعمال کا بدلہ دیا جائیگا اس لئے ہر معاملہ میں اس کا نقطہ نظر خالص دنیوی اور مادہ پرستانہ کا ہے اخلاق اور اخلاقی اقدار کی اس کی نظر میں کوئی قیمت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(107:1) ارایت : أ ھمزہ استفہامیہ ہے۔ رایت ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر رؤیۃ (باب فتح) مصدر سے بمعنی تو نے دیکھا۔
ارایت (کیا تو نے دیکھا۔ بھلا تو نے دیکھا) میں الف اولیٰ بلفظ استفہام تقریر و تنبیہ کے لئے ہے محض استفہام کے لئے نہیں ہے
امام راغب لکھتے ہیں :۔ ارایت۔ اخبرنی (تو مجھے بتا) کے قائم مقام ہوتا ہے اور اس پر ک داخل ہوتا ہے۔ اور ت کو تثنیہ ، جمع، تانیث میں اسی کی حالت پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اور تغیر و تبدل ک پر ہوتا ہے ت پر نہیں۔ جیسے :۔ قال ارایتک ھذا الذی (17:62) قل ارایتکم (6:4) بحر مواج میں ہے کہ :۔ یہ استفہام تقریری ہے اور روئت بمعنی علم ہے۔ کیا تجھے معلوم ہے ؟ کیا تو جانتا ہے ؟
الذی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن۔
ارءیت۔ کیا تو نے دیکھا۔ الدین۔ انصاف کا دن۔ قیامت۔ یدع۔ دھکے دیتا ہے۔ لا یحض۔ آمادہ نہیں کرتا۔ ساھون۔ بیخبر ۔ سستی کرنے والے۔ یراء و ن۔ وہ دکھاتے ہیں۔ یمنعون ۔ وہ منع کرتے ہیں۔ الماعون۔ برتنے کی (چھوٹی چھوٹی) چیزیں۔
تشریح : چند جملوں پر مشتمل سورة الماعون میں فکر آخرت، حقوق اللہ اور حقوہ العباد کو اس قدر خوبصورتی سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس میں غوروفکر کرنے والا کسی کے حق میں کمی کا تصور بھی نہی کرسکتا۔ فرمایا۔
……: کیا آپ نے دیکھا کہ کون ” الدین “ کو جھٹلاتا ہے۔ ممکن ہے اس سورت میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہو یا ہر دیکھنے والی آنکھ کو اس طرف متوجہ کیا ہو کہ کیا تم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نماز کی تاکید۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جو روز جزا کا یقین نہیں رکھتا، یہ وہی شخص ہے جو قیامت کے انکار کے ساتھ اور بھی عیب رکھتا ہے، یتیم کا مال سینہ زوری سے کھاتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی کسی کو رغبت نہیں دلاتا، خود تو کیا دے گا کسی سے دلواتا بھی نہیں ، پس معلوم ہوا کہ بخل کفر کا شعار ہے تو نماز اور زکوۃ وغیرہ فرائض کا ترک بدرجہ اعلی ہو، اور اس کا انجام بہت برا ہوگا، اس لیے ارشاد ہے کہ ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز کی حقیقت سے غافل ہیں یہ نہیں جانتے کہ نماز کس کی مناجات ہے اور مقصد نماز سے کیا ہے اور کس قدر اہتمام کے لائق ہے یہ نہیں جانتے کہ نماز مراقبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] یعنی جو کھانا مسکین کو دیا جاتا ہے وہ دینے والے کا کھانا نہیں بلکہ اسی مسکین کا کھانا ہے اور وہ مسکین کا حق ہے جو دینے والے پر عائد ہوتا ہے۔ دینے والا مسکین کو کوئی بخشش نہیں دے رہا ہے بلکہ اس کا حق ادا کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الماعون
1: ان آیات سے شخص معین مراد نہیں ہے ۔ بلکہ اس وقت کے عام سرمایہ دار مراد ہیں کہ ان کی ذہنیت اس قسم کی تھی کہ یہ اللہ سے نہیں ڈرتے تھے اور عیش و عشرت میں اس چیز کا کبھی خیال نہیں کرتے تھے کہ ہمیں اللہ کے سامنے ایک دن ان رنگ رلیوں کا جواب دینا ہے ۔ یہ فواحش اور برائیوں پر تو بےدریغ روپیہ خرچ کردیتے تھے ۔ لیکن اگر کوئی یتیم بےنوا آجائے تو اس کو ڈانٹ دیتے تھے ۔ ان کے دلوں میں کبھی یہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا تھا کہ اپنی ثروت میں مسکینوں اور غریبوں کو بھی شامل کیا جائے اور ان کی ادنیٰ ضروریات بھی پوری کی جائیں ۔ یہ لوگ محض سنگ دل اور بداخلاق تھے اور کئی صدیاں گزرنے کے بعد آج بھی سرمایہ…
Read the full tafseer →(1) اے پیغمبر بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جو روز جزا کی تکذیب کرتا ہے۔
یعنی جزاوسزا کا منکر ہے اور سمجھتا ہے کہ انصاف نہیں ہوگا اور نہ نیکی اور بدی کا کسی دن بدلہ ملے گا اگرچہ عام مفسرین کے نزدیک یہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے ، بعض نے کہا ہر عاقل اور سمجھ دار انسان کو ہے بعض حضرات نے دین کے معنی ملت کے کئے ہیں یعنی ملت اسلامیہ کی تکذیب کرتا ہے اور ملت اسلامیہ کو جھٹلاتا ہے۔
Read the full tafseer →کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو جزا سزا کے دن کو جھٹلاتا ہے
1 ؎ (الدین) یا دین ۔ اصل اس کی د ی ن ہے اور معنی اس کے جزا و سزا ، اطاعت و فرمانبرداری ، شریعت ، بدلہ دینا ، اطاعت کرنا ، حکم ماننا ” دین “ بمعنی ملت بھی ہے مگر اس کا استعمال اطاعت اور شریعت کی پابندی کے معنی میں ہوتا ہے۔ دان بدین کا مصدر ہے اور ادریان جمع ہے ۔ اور اس جگہ مراد جزا و سزا بھی ہے ( رایت ) کے معنی آنکھوں سے دیکھنے کے بھی ہیں اور جاننے کے بھی اور کسی کا حال سننے کے بھی ۔ مطلب یہ ہے کہ کیا آپ ﷺ ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو جزاء و سزا کو جھٹلاتے ہیں اور حق و صداقت کی تکذیب کرتے ہیں اور روز جزا جو ایک حقیقت ہے اس کے ماننے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
The love of the world causes nations to lose faith and consign Allah to oblivion
This Surah denounces some of the evil actions of the pagans and the hypocrites, and it holds out a threat of destruction to those who commit them. If these evil actions are committed by believers, who do not reject the true faith, they are still heinous and gravely sinful, but the threat of chastisement made in this surah does not apply to them. Therefore, verse [ 107:1] أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ (Have you not seen him who denies the Requital?), as a preamble, makes plain that the person who…
Read the full tafseer →1 The words "have you seen", apparently, are directed to the Holy Prophet (upon whom be peace) , but the Qur'anic style is that on such occasions it generally addresses every intelligent and thinking person. And "seeing" means seeing with the eyes, for what has been described in the succeeding verses can be seen by every seer with his eyes, as well as knowing, understanding and considering something deeply. If the word ara'aita is taken in the second meaning, the verse would mean: "Do you know the kind of man who belies the rewards and punishments." Or: "Have you considered the state of the…
Read the full tafseer →