Quraish 106:4

Quraish · from ayah 4

106:4

الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ ۙ۬— وَّاٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ ۟۠الَّذِىۡۤ اَطۡعَمَهُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ ۙ وَّاٰمَنَهُمۡ مِّنۡ خَوۡفٍ

جس نے ان کو بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن بخشا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who has fed them, [saving them] from hunger and made them safe, [saving them] from fear.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 31 of juzع

Read the whole surah · Surah Quraish

All translations of 106:4

جس نے اُنہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس نے ان کو بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن بخشا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور ڈر (اور خوف) میں امن (وامان) دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس نے بھوک کی حالت میں انہیں کھانے کو دیا، اور بدامنی سے انہیں محفوظ رکھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا، اور انہیں ایک بڑے خوف سے امان بخشا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس نے انہیں بھوک (یعنی فقر و فاقہ کے حالات) میں کھانا دیا (یعنی رِزق فراہم کیا) اور (دشمنوں کے) خوف سے امن بخشا (یعنی محفوظ و مامون زندگی سے نوازا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جس نے انھیں بھوک سے (بچا کر) کھانا دیا اور خوف سے (بچا کر) امن دیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس نے انہیں بھوک (کے دنوں) میں کھانا کھلایا اور انہیں خوف سے (بچا کر) امن عطا کیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس نے انہیں قحط کے سبب سے کھلایا اور خوف کے سبب سے امن بخشا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس نے ان کو کھانے کو دیا بھوک (کی اذیت) سے بچا کر اور ان کو امن (کی نعمت) سے نوازا خوف سے نکال کر

— مولانا اسحاق مدنی

جس نے ان کو بھوک میں کھانے کو دیا اور انہیں خوف سے امن دیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس نے انہیں بھوک میں کھانے کو دیا ور انہیں خوف سے امن عطا کیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس نے ان کو بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن بخشا

— محترمہ رفعت اعجاز

Who fed them against hunger, and secured them against fear.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

who gave them food against hunger, and gave them security against fear.

— Muhammad Taqi Usmani

who gave them food against hunger, and gave them security against fear.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Who has fed them against hunger, and has made them safe from fear.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who hath fed them against hunger and hath made them safe from fear.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who has fed them, [saving them] from hunger and made them safe, [saving them] from fear.

— Saheeh International

and has made them secure from fear.

— Muhammad Sarwar

Who feeds them against hunger and gives them security against fear.

— Muhammad Habib Shakir

Who hath fed them against hunger; and hath rendered them secure from fear.

— Abdul Majid Daryabadi

Who provides them with food against hunger, and with security against fear (of danger).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 106:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

امن وامان کی ضمانت : موجودہ عثمانی قرآن کی ترتیب میں یہ سورت سورة فیل سے علیحدہ ہے اور دونوں کے درمیان بسم اللہ کی آیت کا فاصلہ ہے مضمون کے اعتبار سے یہ سورت پہلی سے ہی متعلق ہے جیسے کہ محمد بن اسحاق عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم وغیرہ سے تصریح کی ہے اس بنا پر معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے مکہ سے ہاتھیوں کو روکا اور ہاتھی والوں کو ہلاک کیا یہ قریشیوں کو الفت دلانے اور انہیں اجتماع میں ساتھ باامن اس شہر میں رہنے سہنے کے لیے تھا اور یہ مراد بھی کی گئی ہے کہ یہ قریشی جاڑوں میں کیا اور گرمیوں میں کیا دور دراز کے سفر امن وامان سے طے کرسکتے تھے کیونکہ مکہ جیسے محترم شہر میں رہنے کی وجہ سے ہر جگہ ان کی عزت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القریش 4 یہ اشارہ ہے اس طرف کہ مکہ میں آنے سے پہلے جب قریش عرب میں منتشر تھے تو بھوکوں مر رہے تھے۔ یہاں آنے کے بعد ان کے لیے رزق کے دروازے کھلتے چلے گئے اور ان کے حق میں حضرت ابراہیم ؑ کی وہ دعا حرف بحرف پوری ہوئی کہ اے پروردگار، میں نے اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس ایک بےآب وگیاہ وادی میں لا بسایا ہے تاکہ یہ نماز قائم کریں، پس تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے (ابراہیم۔ آیت 37) سورة القریش 5 یعنی جس خوف سے عرب کی سرزمین میں کوئی محفوظ نہیں ہے اس سے یہ محفوظ ہیں، عرب کا حال اس دور میں یہ تھا کہ پورے ملک میں کوئی بستی ایسی نہ تھی جس کے لوگ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

الذی الطعھم من جوع و امنھم من خوف اس میں قریش مکہ کے لئے دنیا کی ان تمام عظیم نعمتوں کو جمع فرما دیا ہے جو انسان کے خوش عیش رہنے کے لئے ضروری ہیں اطعھم من جوع میں کھانے پینے کی ضروریات داخل ہیں اور امنھم من خوف میں دشمنوں ڈاکوؤں کے خوف سے مامون ہونا بھی شامل ہے اور آخرت کے عذاب سے مامون ہونا بھی۔ فائدہ۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ جو شخص اس آیت کے حکم کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دنیا میں بھی امن اور بےخوف و خطر رہنے کا سامان فرما دیتے ہیں اور آخرت میں بھی اور جو اس سے انحراف کرے اس سے یہ دونوں قسم کے امن سلب کر لئے جاتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’جوع‘ اور ’خوف‘ کا خاص مفہوم: ’الَّذِیْٓ اَطْعَمَہُمْ مِّنْ جُوْعٍ۵ وَّاٰمَنَہُمْ مِّنْ خَوْفٍ‘۔ اس ٹکڑے میں ’مِنْ‘ میرے نزدیک سببیلہ ہے اور ’جوع‘ اور ’خوف‘ کے الفاظ خاص مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ ’جوع‘ سے مراد کسی علاقہ کی وہ خاص حالت ہے جو غذائی اشیاء و اجناس کی قلت یا نایابی سے پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح ’خوف‘ سے کسی علاقہ کی وہ حالت مراد ہے جو امن و امان کے فقدان اور جان و مال کے عدم تحفظ سے رونما ہوتی ہے۔ یہ دونوں لفظ قرآن مجید میں اس خاص مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ مثلاً: وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 3–4

4۔ 1 مذکورہ تجارت اور سفر کے ذریعے سے۔ 4۔ 2 عرب میں قتل و غارت گری عام تھی لیکن قریش مکہ کو حرم مکہ کی وجہ سے جو احترام حاصل تھا، اس کی وجہ سے وہ خوف و خطرے سے محفوظ تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–4

1: اس سورت کا پس منظر یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں یعنی حضور اکرم ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے عرب میں قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا، کوئی شخص آزاد اور امن کے ساتھ سفر نہیں کرسکتا تھا، کیونکہ راستے میں چور ڈاکو یا اس کے دشمن قبیلے کے لوگ اسے مارنے اور لوٹنے کے درپے رہتے تھے۔ لیکن قریش کا قبیلہ چونکہ بیت اللہ کے پاس رہتا تھا اور اسی قبیلے کے لوگ بیت اللہ کی خدمت کرتے تھے، اس لئے سارے عرب کے لوگ ان کی عزت کرتے تھے، اور جب وہ سفر کرتے تو کوئی انہیں لوٹتا نہیں تھا، اس وجہ سے قریش کے لوگوں کا یہ معمول تھا کہ وہ اپنی تجارت کی خاطرسردیوں میں یمن کا سفر کرتے تھے اور گرمیوں میں شام کا سفر کرتے تھے، اسی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

رب اجعل .................................... الثمرت (126:2) ” اے میرے رب ، اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اس کے باشندوں کو پھلوں کی روزی دے “۔ تو اللہ نے اس گھر کو امن کا گھر بنادیا اور ڈکٹیٹروں اور جباروں کے تسلط سے آزاد رکھا۔ جو شخص بھی اس گھر میں پناہ لیتا وہ امن پاتا اور اس کے اردگرد جو اقوام وافراد رہتے تھے ، وہ ہر وقت خائف رہتے تھے اور اس گھر کو یہ اعزاز اس وقت بھی حاصل رہا جب اس کے باسیوں نے بت پرستی شروع کردی۔ شرک کا ارتکاب شروع کیا اور اپنے رب کے ساتھ ساتھ انہوں نے خانہ کعبہ میں بت بھی رکھ دیئے اور یہ اعزاز اللہ نے اس لئے بحال رکھا کہ اس گھر سے اللہ نے کچھ کام لینا تھا۔ پھر جب اصحاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–4

5 مکہ میں غلہ وغیرہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے قریش کی عادت تھی کہ سال بھر میں تجارت کی قرض سے دو سفر کرتے تھے۔ جاڑوں میں یمن کی طرف کہ وہ ملک گرم ہے اور گرمیوں میں شام کی طرف جو سرد اور شاداب ملک ہے۔ لوگ ان کو اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر نہایت عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی خدمت کرتے اور ان کے جان و مال سے کچھ تعرض نہ کرتے۔ اس طرح ان کو خاطر خواہ نفع ہوتا۔ پھر امن و چین سے گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے تھے۔ حرم کے چاروں طرف لوٹ کھسوٹ اور چوری ڈکیتی کا بازار گرم رہتا تھا۔ لیکن کعبہ کے ادب سے کوئی چور، ڈاکو قریش پر ہاتھ صاف نہ کرتا تھا۔ اسی انعام کو یہاں یاد دلایا ہے کہ اس گھر کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4{ الَّذِیْٓ اَطْعَمَہُمْ مِّنْ جُوْعٍ لا } ”جس نے انہیں بھوک میں کھانے کو دیا“ انہیں رزق عطا فرماکر فاقہ کشی سے محفوظ رکھا۔ جب عرب کے عام لوگ غربت اور تنگ دستی کا شکار تھے اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے قریش ِمکہ کو کامیاب تجارت اور کعبہ کی تولیت کی وجہ سے معاشی خوشحالی سے نواز رکھا تھا۔ { وَّاٰمَنَہُمْ مِّنْ خَوْفٍ۔ } ”اور انہیں خوف سے امن عطا کیا۔“ ان کے قافلے سارا سال یمن اور فلسطین کے درمیان بلاخوف و خطر محو ِسفر رہتے تھے۔ خداداد تحفظ کی یہ ضمانت انہیں اس سرزمین میں میسر تھی جہاں ہر طرف جنگل کے قانون کا راج تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 قریش مکہ پر اللہ کے احسانات :۔ مکہ اور اس کے آس پاس کا تمام علاقہ یا پہاڑی ہے یا ریگستانی۔ جہاں کوئی پیداوار نہیں ہوتی تھی بلکہ پورے علاقہ حجاز کا یہی حال تھا۔ لوگوں کا عام پیشہ بھیڑ بکریاں اور اونٹ پالنا تھا۔ یا پھر لوٹ مار اور ڈاکہ زنی۔ عرب قبائل تجارتی قافلوں کو بھی لوٹ لیتے تھے اور ایک دوسرے کو بھی۔ اس بدامنی اور رہزنی سے صرف قریش بچے ہوئے تھے اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ کعبہ کے متولی ہونے کی وجہ سے انہیں عرب بھر میں عزت و احترام سے دیکھا جاتا تھا۔ رہزن قبیلے ان کے تجارتی قافلہ سے تعرض نہیں کرتے تھے، بلکہ جس قافلے کو قریش پروانہ راہداری دے دیتے وہ بھی محفوظ سفر کرسکتے تھے۔ اور قریش کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ رزق اور امن یہ (2) دو نعمتیں ہر ملک کے لئے ہر زمانہ میں انفرادنی واجتماعی ہر حیثیت سے، سب سے بڑی اور قابل قدر نعمتیں رہیں ہیں۔ عرب خصوصا حجاز کی جغرافی حالت کے لحاظ سے ان نعمتوں کی اہمیت کی اہمیت کئی گنی اور بڑھی ہوئی تھی، اور گویا ایک بالکل معجزانہ حیثیت رکھتی تھی، (آیت) ” اطعمھم من جوع “۔ بھوک کا سوال، پیٹ کا سوال، روٹی کا سوال، ملک کا معاشیاتی سوال ہر جگہ نمبر اول پر اہم رہا ہے، چہ جائیکہ حجاز کی سرزمین، جو خشک وناقابل زراعت تھی، پھر وہاں کے لوگ اور اتنے خوشحال رہیں، یہ جوار کعبہ کی برکت کا معجزہ نہ تھا، اور کیا تھا۔ (آیت) ” وامنھم من خوف “۔ ماحول ایسا کہ رہزنی ایک عام صورت حال، لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

الذی اطعمھم من جوع اس میں اشارہ ہے کہ مکہ میں آنے سے پہلے قریش عرب میں منتشر تھے تو بھوکوں مر رہے تھے، یہاں آنے کے بعد ان کے لئے رزق کے دروازے کھلتے چلے گئے اور ان کے حق میں حضرت ابراہیم (رح) تعالیٰ کی دعاء حرف بحرف قبول ہوئی۔ وآمنھم من خوف میں دشمنوں، ڈاکوئوں کے خوف سے مامون ہونا بھی شامل ہے اور آخرت کے عذاب سے مامون ہونا بھی۔ (معارف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذی اطعمھم من جوع وامنھم من خوف یعنی اصحاب فیل کے خوسے محفوظ کردیا ‘ یا حرم کا باشندہ بنا کر دوران سفر میں لوٹے جانے سے یا خود اپنی بستی میں غارت ہوجانے سے مامون کردیا۔ ضحاک اور ربیع اور سفیان نے کہا : اللہ نے ان کو تباہی اور بربادی کے خوسے امن دے دیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی : رب اجعل ھذا بلدا امنا وارزق اھلہ من الثمرات۔ اس دعا کی برکت سے ان کے شہر میں کوئی بربادی اور تباہی نہیں ہوگی۔ جوزی نے حصن حصین میں ابو الحسن قزوینی کی موقوف روایت بیان کی ہے کہ دشمن وغیرہ کا خوف ہو تو لایلٰف قریش پڑھنے سے ہر برائی سے امن مل جاتا ہے۔ جوزی نے کہا : یہ مجرب ہے۔ میں کہتا ہوں ‘ میرے شیخ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–4

(3۔ 4) ان کو چاہیے کہ اس خانہ کعبہ کے رب کو توحید اختیار کریں جس نے سات سالہ قحط کے بعد ان کا پیٹ بھرایا یہ کہ جس نے ان سے بھوک مشقت اور سردی و گرمی کے سفر کی تکلیف کو دور کیا قریش سال میں دو مرتبہ سفر تجارت کیا کرتے تھے سردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں ملک شام کی جانب اور دشمن کے خوف سے ان کو امن دیا، یا یہ کہ حبشہ کے بادشاہ کے خف سے ان کو امن دیا۔ شان نزول : لایلف قریش الخ امام حاکم نے حضرت ام ہانی سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قریش کو سات باتوں میں فضیلت عطا فرمائی چناچہ اسی میں بیان کیا کہ ان کے بارے میں مستقل طور پر سورة قریش نازل ہوئی کہ اس میں ان کے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–4

(1) لایلف قریش…:”الف یالف الفا“ (س)”ہ“ کسی سے مانوس ہونا، اس سے محبت کرنا۔ ”الف یولف ایلافاً“ (افعال) کسی کو کسی چیز سے مانوس کردینا، اس کے دل میں اس کی محبت ڈلا دینا۔ ”قریش“ ”قرش“ کی تصغیر ہے۔”قرش یفرش فرشا“ (ض، ن) جمع کرنا، قریش مشہور قبیلہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے۔ یہ نام ان کے حرم میں جمع ہونے کی وجہ سے رکھا گیا۔ یہ لوگ مختلف جگہوں میں بکھرے ہوئے تھے۔ قصی بن کلاب (رسول اللہ ﷺ کے جد اعلیٰ) کو خیال آیا کہ اپنے سارے قبیلے کو مکہ میں اکٹھا کرنا چاہیے، چناچہ انہوں نے سارے قبیلے کو مکہ میں جمع کردیا، اس لئے ان کا نام ”ممع“ پڑگیا، اس طرح کعبہ کی تولیت بھی ان کے ہاتھ آگئی۔ یا یہ نام سمندر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

جس نے انہیں رزق دے کر فاقہ سے نجات بخشی اور امن عطا فرمایا انہیں (فتنہ) و خوف سے۔ من جوع سے مراد ہے بھوک کے بعد، حضرت ابن عباس نے کہا : یہ نعمت قریش کو حضرت ابراہیم کی دعا کیو جہ سے نصیب ہوئی آپ نے یہ دعا کی تھی : رب اجعل ھذا بلدا امنا وارزق اھلہ من الثمرات (البقرہ) اے میرے رب ! اس شہر کو امن والا بنا دے اور اس کے مکینوں کو پھلوں سے رزق عطا فرما۔ ابن زید نے کہا : عرب ایک دوسرے پر غارت گری مچاتے بعض بعض کو قید کرلیتے حرم کی وجہ سے قریش اس آفت سے محفوظ تھے۔ ارشاد باری ہے : اولم نمکن لھم حرما امنا یجبی الیہ ثمرت کل شیء (القصص) ایک قول یہ کیا گیا ہے : موسم سرما اور موسم گرما میں ان پر سفر بڑا شاق…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لایلف قریش مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ البخاری فی تاریخہ والحاکم وصححہ والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی نے الخلافیات میں ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قریش کو سات خصلتوں کے سبب فضیلت دی کہ ان سے پہلے کسی کو یہ فضیلت نہیں دی۔ اور نہ ان کے بعد کسی کو یہ فضیلت دیں گے۔ وہ یہ ہیں بیشک میں ان میں سے ہوں اور ایک روایت میں یوں ہے کہ نبوت ان میں ہے۔ اور خلافت ان میں ہے اور بیت اللہ کی دربانی ان میں ہے اور سقایہ حاجیوں کو پانی پلانا ان میں ہے اور ان کا مدد کرنا ہاتھی والوں پر۔ اور ان کی اللہ کی عبادت کرنا سات سال تک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[الَّذِيٓ اَطْعَمَهُمْ : وہ جس نے کھانے کو دیا ان کو ][ مِّنْ جوعٍ : بھوک میں ][ وَّاٰمَنَهُمْ : اور جس نے امن دیا ان کو ][ مِّنْ خَوْفٍ : خوف میں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ میں اپنے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) سے کعبہ تعمیر کرایا اور اس کا حج مشروع فرمایا زمانہ اسلام سے پہلے بھی اہل عرب اس کا حج کرتے تھے اگرچہ مشرک تھے اور چونکہ مکہ مکرمہ میں کعبہ شریف واقع تھا جسے بیت اللہ کے نام سے لوگ جانتے اور مانتے تھے اس لیے قریش مکہ کی پورے عرب میں بڑی عزت تھی اہل عرب لوٹ مار کرنے کا مزاج رکھتے تھے لیکن اہل مکہ پر کبھی کوئی حملہ نہیں کرتے تھے اسی کو سورة العنکبوت میں فرمایا : ﴿اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ يُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ 1ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ۠ يُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ 0067﴾ (کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

انعامات خداوندی برقریش بصورت عطارزق وامن وتسہیل وسائل سفر : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” لایلف قریش ..... الی ....... وامنھم من خوف “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں اہل مکہ پر خداوند عالم کے اس خاص انعام وکرم کا ذکر تھا کہ مکہ والوں کو اور بیت اللہ کو ابرہہ کے حملہ سے محفوظ رکھا، اور اہل مکہ کی یہ حفاظت تکوینی طور پر صرف اس بناء پر تھی کہ نبی آخرالزمان ﷺ کا ظہور قدسی ہونے والا تھا اب اس سورت میں اہل مکہ اور قریش پر مزید یہ انعام بیان کیا جارہا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انکے لئے سفر کی سہولتیں عطا فرمائی تھیں اور موسمی اعتلافات کے لحاظ سے گرمیوں اور سردیوں میں ان کے دو سفر ہوتے تھے کیونکہ مکہ تو وادی غیر ذی زرع…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 3–4

3:۔ ” فلیعبدوا “ بیت اللہ کی بدولت ان کو یہ تمام عزت و شرف حاصل ہے۔ اس لیے اس گھر کے مالک کو ان کی عبادت کرنی چاہیے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے۔ ” الذی اطعمہم “ صرف اس خدا کی عبادت کریں جس نے ان کے لیے رزق کے اسباب مہیا کیے موسم سرما میں ایک طرف سے کماتے ہیں اور موسم گرما میں دوسری طرف سے اور اس نے ان کو بہت خطرے سے محفوظ رکھا یعنی اصحاب الفیل کے حملے سے یا مطلق خوف دشمن مراد ہے۔ بیت اللہ کے ادب و احترام کی وجہ سے حدود حرم میں کوئی ان پر حملہ آور نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الرقیش ہے۔ مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی چار آیتیں ہیں۔ یہ سورة سترہ الفاظ اور چوہتر حروف پر مشتمل ہے۔ پہلی یہ آیت میں لفظ قریش آیا ہے۔ جس سے سورة کا نام لیا گیا ہے۔ پچھلی سورة کے ساتھ ربط یہ سورة پہلی سورة کے ساتھ مربوط ہے۔ سورة فیل میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو بیت اللہ شریف کو گرا کر اس کی بےحرمتی کرنا چاہتے تھے ، وہ لوگ ہاتھیوں سمیت بہت بڑا لشکر لے کر آئے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو بالکل ناکام بنا دیا۔ اور نہ صرف وہ اپنے مقصد میں ناکام ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے حملہ آواروں کو سزا دی اس دور میں قریش…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْٓ اَطْعَمَہُمْ مِّنْ جُوْعٍ۝ 0ۥۙ وَّاٰمَنَہُمْ مِّنْ خَوْفٍ۝ 4 ۧ طعم الطَّعْمُ : تناول الغذاء، ويسمّى ما يتناول منه طَعْمٌ وطَعَامٌ. قال تعالی: وَطَعامُهُ مَتاعاً لَكُمْ [ المائدة/ 96] ، قال : وقد اختصّ بالبرّ فيما روی أبو سعید «أنّ النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أمر بصدقة الفطر صاعا من طَعَامٍ أو صاعا من شعیر» «2» . قال تعالی: وَلا طَعامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [ الحاقة/ 36] ، طَعاماً ذا غُصَّةٍ [ المزمل/ 13] ، طَعامُ الْأَثِيمِ [ الدخان/ 44] ، وَلا يَحُضُّ عَلى طَعامِ الْمِسْكِينِ [ الماعون/ 3] ، أي : إِطْعَامِهِ الطَّعَامَ ، فَإِذا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا [ الأحزاب/ 53] ، وقال تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

1 ؎ چونکہ ان کو سردی اور گرمی کے سفر کا شوق ہے۔ سردی میں یمن کی طرف جاتے ہیں تجارت کے لیے اور گرمی میں شام کی طرف اس شوق اور محبت قائم رکھنے کے لیے اصحاب فیل کو غارت کردیا اور اس گھر کو یعنی کعبہ کو بچا لیا جس کے سبب یہ امن سے گرمی سردی میں سفر کرتے اور نفع اٹھاتے ہیں۔ پھر اس گھر کے مالک کو کیوں نہیں پوجتے۔ 12 منہ ترکیب ¦ لایلاف قریش بما یتعلق اللام فیہ وجوہ (1) انھا تتعلق بما قبلھا (2) متعلقہ بما بعدھا (3) لایتعلق بشیء فھی لام التعجب کمافی قولھم لزید وماصنعنابہ ای اعجبوامن شان زید و معنی الآیۃ اعجبوالایلاف قریش وھذا قول الاخفش والکسائی۔ علی الاولھی تتعلق بجعل والتقدیر جعلھم کعصف ماکول لایلٰف…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 3–4

فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِ ۔ (قریش : 3) (اور چاہیے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔ ) اللہ تعالیٰ کے احسان کا حق یعنی اللہ تعالیٰ کے اس عظیم احسان کا کم سے کم تقاضا یہ تھا کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔ ابرھہ کے حملہ کے وقت وہ خود اس بات کا اظہار کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا مصیبت میں کوئی کام آنے والا نہیں۔ اور وہی رب ہے ہمارا بھی اور اس گھر کا بھی۔ اس لیے ہمیں بھی وہی بچائے گا اور اس گھر کی بھی وہی حفاظت کرے گا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اصحاب الفیل کے حملے سے بچا کر اور اس کی وجہ سے اہل عرب کے دلوں میں ان کے احترام کو مزید بڑھا کر یہ ثابت کردیا کہ تم اپنی زندگی کی بقاء…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–4

فہم القرآن ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے ابابیل کے ذریعے بیت اللہ اور قریش کی حفاظت فرمائی، لیکن اس کے باوجود قریش ” اللہ “ کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، اس لیے انہیں پھر احساس دلایا گیا ہے۔ عرب کے قبائل میں قریش سب سے معزز اور باثر قبیلہ تھا اور اسی کی ایک شاخ بنی ہاشم تھے جو سب سے ممتاز اور محترم سمجھتے جاتے تھے، اسی قبیلے کے سردار عبدالمطلب تھے ان کے چھوٹے بیٹے جناب عبداللہ کے گھر نبی آخر الزمان ﷺ پیدا ہوئے آپ کے خاندان کو بیت اللہ کی تولیّت اور حجاج کرام کی خدمت کا اعزاز حاصل تھا۔ جس بنا پر آپ ﷺ کا خاندان اہل مکہ کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے اس سورت میں قریش کو مخاطب کیا گیا ہے جس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

خوف سے امن دینے والے کی عبادت چاہیے تھی : 4، 5 : الَّذِیْ اَطْعَمَہُمْ مِّنْ جُوْعٍ ۔ وَّاٰمَنَھُمْ مِّنْ خَوْفٍ (جس نے ان کو بھوک میں کھانے کو دیا اور خوف سے ان کو امن دیا) خوف اور جوع کی تنوین شدت کو ظاہر کرنے کیلئے لائی گئی ہے۔ یعنی اطعمھم بالرحلتین من جوع شدیدکانوا فیہ قبلھما۔ ان کو دو سفروں کے ذریعہ اس سخت بھوک سے ان کو کھانا دیا۔ جس میں وہ ان سے پہلے مبتلا تھے۔ وآمنھم من خوف عظیم وھو خوف اصحاب الفیل اور ان کو عظیم خوف سے امن دیا۔ یہ خوف اصحاب فیل کا تھا۔ نمبر 2۔ اپنے شہر سے اچک لیے جانے کا خوف اور چلائے جانے کا خطرہ۔ ایک قول : ان کو بھوک پہنچی جس سے مردار کھانے تک پہنچ گئے۔ اور جلی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” الذی اطعمھم من جوع “ یعنی بھوک کے بعد تجارتی قافلوں کو مکہ کی طرف منتقل کرنے کے ساتھ۔ ” وآمنھم من خوف “ حرم کی وجہ سے اور ان کے اہل مکہ میں سے ہونے کی وجہ سے حتیٰ کہ ان کو ان سفروں میں کوئی تنگ نہ کرتا تھا اور عطاء نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ وہ تکلیف اور بھوک میں تھے حتیٰ کے ہاشم نے ان کو دوتجارتی سفروں پر جمع کردیا اور وہ اپنا نفع فقیر اور غنی کے درمیان برابر تقسیم کرتے تھے حتیٰ کہ ان کے فقیر بھی ان کے غنی کی طرح ہوگئے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں پہلا شخص جو تجارتی قافلہ اونٹوں پر شام کی طرف لے گیا وہ ہاشم بن عبدمناف ہیں اور اسی کے بارے میں شاعر کہتا ہے : ” تو اس کو کہہ جو مجلس اور سخاوت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ ابی بن کعب نے الم ترکیف اور لایلف کو ایک سورة شمار کیا ہے 2 ؎ اس حالت میں لایلف کالام فجعلہم کعصف ماکول سے متعلق ہو کر سورة کے ایک ٹکڑے کے حاصل معنی یہ ہوئے کہ قریش کی تالیف کے لئے اصحاب فیل کو ہلاک کیا گیا تاکہ اصحاب فیل کے فساد کے سبب سے قریش کے قدیمی امن اور ان کے جاڑے گرمی کے سفر میں کوئی دقت نہ پیش آئے مگر باقی صحابہ کے نزدیک یہ دونوں سورتیں جدا جدا ہیں۔ اس حالت میں لایلاف کا لا فلیعبدوا سے متعلق ہوگا۔ اور دونوں حالتوں میں حاصل معنی تمام سورة کے یہ ٹھہریں گے کہ جس اللہ کے گھر کے خادم ہونے کے سبب سے قریش کو یہ عزت اور امن ہے کہ جاڑے کے موسم میں ملک یمن اور گرمی کے موسم میں ملک شام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(الَّذِيْٓ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ ڏ وَّاٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ ) جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے امن وامان دیا رزق میں کشادگی خوف کے حالات میں امن سے بہرہ مند ہونا سب سے بڑی دنیاوی نعمت ہے جو اللہ کے شکر کی موجب ہے اے اللہ اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں پر تو ہی ہر قسم کی حمد وثنا اور شکر کا مستحق ہے اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے ساتھ اپنی ربوبیت کو اس کے فضل وشرف کی وجہ سے مخصوص کیا ہے ورنہ تو وہ ہر چیز کا رب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(4) رزق و روزی کی نعمت کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے ان کو کھانا دیا بھوک کی اذیت سے بچا کر، جب کہ اس سے قبل یہ لوگ بھوکوں مرتے اور دانے دانے کو ترسا کرتے تھے، نہ ان کے یہاں کچھ پیدا ہوتا تھا نہ باہر سے ان کے پاس کچھ آتا تھا، مگر اس گھر کی برتکوں اور اس گھر کے مالک کی عنایتوں اور رحمتوں و مہربانیوں سے ان کے لیے رزق کے اور ہر طرح کی خیر و برکت کے طرح طرح کے اور نت نئے دروازے کھل گئے، اور ہر طرف سے طرح طرح کی نعمتیں ان کے پاس کھچ کھچ کر آنے لگیں، سو اس گھر کے رب کی عبادت جو کہ معبود حقیقی ہے، دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی اور دنیا وآخرت کے امن وامان کے حصول کا ذریعہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

کعبۃ اللہ اور قبیلہ قریش تشریح : مکہ بذات خود بےآب وگیاہ زمین کا علاقہ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے قریش کے قبیلہ کے دل میں تجارت کا خیال ڈال کر ان کو بھوک افلاس اور مشکل سے بچا لیا اور ان کو یہ عادت ڈال دی کہ سردیوں میں یمن کی طرف جو گرم ملک ہے اور گرمیوں میں شام کی طرف جو سرد ملک ہے تجارت کے لیے سفر کریں اور پھر متولی کعبہ ہونے کی وجہ سے ان کی عزت اور احترام میں اس قدر اضافہ کیا کہ کوئی ان پر حملہ نہ کرتا تھا بلکہ بڑی خوش دلی اور عزت سے ان کا استقبال کرتے تھے۔ اور یوں ان کو ہر قسم کے خطرہ سے محفوظ و مامون کردیا نہ ان کو بھوک اور غربت کا ڈر رہا اور نہ ہی حملہ آوروں اور جنگ و جدل کا ہی خوف رہا۔ تو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–4

سورة القریش۔ آیات 1 تا 4۔ اللہ کا احسان ہے قریش پر کہ حدیث پاک کے مطابق تمام قریش کو فضیلت حاصل ہے پھر ان کو اللہ نے قوت برداشت دی اور خوگر کردیا گرمی سردی کے سفر سے کہ عرب میں تجارت ہی ذریعہ معاش تھا جس کے لیے سفرضروری تھا تو ان کو مزاجا یہ آسانیاں بخش دیں تو ان کو چاہیے کہ اس گھر یعنی کعبہ کے رب کی عبادت کریں جس نے حضرت ابراہیم کی دعا سے یہاں رزق کی فروانی کردی اور دنیا کی ہر نعمت مکہ مکرمہ میں پہنچائی اور اسے امن کا گھر بنادیا کہ کفار ومشرکین بھی احترام کرتے اور زیادتی نہ کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–4

ف 1 قریش تاجر پیشہ تھے۔ سال میں وہ بغرض تجارت دو سفر کرتے تھے۔ ایک جاڑے میں یمن کی طرف اور دوسرا گرمی میں شام کی طرف جو سرسبز اور سرد ملک ہے۔ جہاں سے وہ گزرتے لوگ ان کو کعبہ کے خادم سمجھ کر انتہائی عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے اور ان کے جان و مال سے کسی قسم کا تعرض نہ کرتے … حالانکہ جزیرہ عرب میں ہر طرف لوٹ کھسوٹ اور چوری ڈکیتی کا بازار گرم رہتا تھا۔ قریش کو یہی احسان اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں یاد دلایا ہے کہ اسی گھر کی بدلوت تمہاری ساری عزت اور معاشی زندگی قائم ہے اور اسی کی بدلوت تمہیں امن اور چین نصیب ہے پھر تم اس کے مالک کی بندگی کیوں نہیں کرتے اور کیوں دوسروں کو اس کا شریک گرد ان کو ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(106:4) الذی اطعمہم من جوع وامنھم من خوف : الذی اسم موصول۔ اطعمہم ۔۔ الخ صلہ۔ موصول و صلہ مل کر رب کی صفت۔ اطعمھم : اطعم ماضی واحد مذکر غائب اطعام (افعال) مصدر سے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اس نے ان کو کھانا کھلایا۔ جوع بھوک۔ امن ماضی واحد مذکر غائب ایمان (افعال) مصدر سے جس کے معنی امن دینے کے بھی آتے ہیں۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اس نے ان کو امن دیا۔ ترجمہ :۔ جس نے ان کو کھانے کو دیا اور خوف سے امن میں رکھا۔ جوع ۔ خوف دونوں کا صیغہ نکرہ۔ بھوک اور خوف کی شدت اور اہمیت کے اظہار کے لئے ہے۔ (الکشاف، تفسیر کبیر)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–4

لغات القرآن۔ ایلاف۔ مائل ہوئے۔ رحلۃ۔ سفر کرنا۔ کوچ کرنا۔ الشتائ۔ سردی۔ جاڑا۔ الصیف۔ گرمی۔ اطعم۔ اس نے کھلایا۔ جوع۔ بھوک۔ امن۔ امن دیا۔ تشریح : جیسا کہ سورة قریش کے ابتدائی تعارف سے یہ معلوم ہوا کہ ” حجاز “ یا جزیرۃ العرب ایک ایسے خطے میں واقع تھا جہاں ضروریات زندگی میں سے کوئی چیز بھی پیدا نہیں ہوتی تھی بلکہ آس پاس کے ملکوں سے چیزیں لا کر ضروریات زندگی کو پورا کیا جاتا تھا۔ جزیرۃ العرب کے ایک طرف یمن اور دوسری طرف فلسطین اور آس پاس کے ملک تھے جو کسی وقت تجارت اور زراعت کی وجہ سے بہت ترقی یافتہ کہلاتے تھے۔ وہ کسی حد تک علم کی روشنی سے بھی آشنا تھے۔ یمن وہ علاقہ ہے جہاں صدیوں تک زبردست اور ترقی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–4

(ف 1) یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بیشمار ہیں ان میں سے ایک نعمت ظاہرہ یہ ہے کہ اس نے قریش کو ہر سال میں دوسفروں کی طرف رغبت دلائی ان کی محبت میں ڈال دی مکہ میں غلہ وغیرہ پیدا نہیں ہوتا، اس لیے جاڑے کے موسم میں یمن کا سفر کہ وہ ملک گرم ہے اور گرمی کے موسم میں شام کا جوسرد اور شاداب ملک ہے قریش تجارت کے لیے ان موسموں میں سفر کرتے تھے ہر جگہ کے لوگ ان کو اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر نہایت عزت واحترام کی نظر سے دیکھتے تھے اور ان کی خدمت کرتے اور ان کے جان ومال سے کچھ تعرض نہ کرتے تھے، اس طرح ان کو خاطر خواہ نفع ہوتا تھا، پھر امن وچین سے گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے، حرم کے چاروں طرف لوٹ کھسوت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[1] مکہ میں غلہ وغیرہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے قریش کی عادت تھی کہ سال بھر میں تجارت کے لئے دو سفر کرتے تھے۔ جاڑوں میں یمن کی طرف کہ وہ ملک گرم ہے اور گرمیوں میں شام کی طرف جو سرد اور شاداب علاقہ ہے۔ عرب کے لوگ انہیں اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر نہایت عزت اور احترام کی نظر سے دیکھتے، ان کی خدمت کرتے اور ان کے جان و مال سے کچھ تعرض نہ کرتے۔ اس طرح قریش کو تجارت میں خاطر خواہ نفع ہوتا، پھر امن و چین سے گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے تھے۔ حرم کے چاروں طرف لوٹ کھسوٹ اور چوری ڈکیتی کا بازار گرم رہتا تھا لیکن کعبہ کے ادب سے کوئی چور یا ڈاکو قریش پر ہاتھ نہ ڈالتا تھا۔ اپنے اس انعام کو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–4

سورة القریش 1: بیت اللہ کی وجہ سے قریش کی مرکزیت قائم تھی ۔ اس لئے گرمی اور جاڑے میں جہاں جاتے عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے کہ اللہ کے گھر کے مکین ہیں ۔ فرمایا کہ اس پڑوس کے سبب سے اللہ نے تمہیں قحط اور افلاس سے محفوظ رکھا ہے اور اس کی حفاظت کرکے تمہیں تباہی اور بربادی سے بچایا ہے ۔ کیا یہ نعمت اتنی بڑی نہیں ہے کہ تم کو احساس ہو اور تمہیں اللہ کے آستانہ شفقت و جلال پر جھکا دے ۔ حل لغات :۔ ابابیل ۔ صف بصف ۔ غول کے غول الدین ۔ روزجزا ۔ 1؎ اس سورت کا تعلق سورة فیل سے ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ خدا نے ہاتھی والوں کو اسلئے خارت کیا ہے کہ قریش کو سفر میں کسی طرح کی مزاحمت نہ رہے ۔ تو انہیں بھی چاہیے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) جس نے ان کو بھوک میں کھانے کو دیا اور خوف سے ان کو امن دیا - یعنی اگر ہم یہ سفر کا طریقہ ان کو نہ سکھاتے اور ان کو سردی اور گرمی کے سفر سے مانوس نہ کرتے تو اس وادی غیر ذی زرع میں بھوکے مرجاتے اور اگر ہم مکہ والوں کا ادب و احترام لوگوں کے دل میں نہ ڈالتے تو ان کو امن نصیب نہ ہوتا روزی اور امن یہ دونوں بہت بڑی نعمتیں ہیں سورة نحل میں گزرا ہے۔ فاذا قھا اللہ لباس الجوع والخوف بھوک اور خوف دو ایسے خطرناک عذاب ہیں کہ اللہ کی پناہ ان دونوں سے قریش کو بچایا یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے اس کا ذکر فرما کر ان کو حضرت حق نے اپنی عبادت کا حکم دیا اس سے بڑھ کر کسی پر کیا احسان ہوسکتا ہے کہ جلب منفعت کے سفر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–4

ف 2۔ حاصل یہ کہ مکہ میں غلہ وگیرہ پیدا نہیں ہوتا، اس لئے قریش کی عادت تھی کہ سال بھر میں تجارت کے لئے دو سفر کرتے، جاڑوں میں یمن کی طرف کہ وہ گرم ملک ہے اور گرمی میں شام کی طرف کہ وہ سرد سرزمین ہے اور لوگ ان کو اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر ان کی حرمت کرتے اور ان کے مال و جان سے کوئی تعرض نہ کرتا اور خاطر خواہ ان کو نفع ہوتا کہ گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے۔ اس سورت میں اسی واقعہ کا ذکر ہے اور چونکہ بیت اللہ کے سبب ہر جگہ ان کا احترام ہوتا تھا اس لئے لفظ رب کو ہذا البیت کی طرف مضاف کیا اور جوع میں طعام دینا اشارہ ہے حصول نفع کی طرف اور خوف سے امن دینا اشارہ ہے عدم تعرض کی طرف سفر میں بھی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس نے رزق دے کر ان جو فاقہ سے نجات دی اور خوف سے امن بخشا 4 ؎ غور کرو کہ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان پر جو احسان کیے ہیں ان کا ذکر واضح الفاظ میں کیا ہے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ احسان اس لیے کیے گئے کہ ان کو وقت پر کھانے پکا کر بیجھتا رہا اور ان کو کسی طرح کا کوئی کام نہ کرنا پڑا اور بےخوف و خطر ایک ہی جگہ پڑے پڑے کھاتے رہے۔ ہرگز نہیں بلکہ یہ اشارہ ان کی اس حالت کی طرف ہے کہ جب وہ بیت اللہ کے ارد گردصرف بیت اللہ کے نذرانوں پر گزر بسر کرتے تھے اور بھوکوں مر رہے تھے اور جس طرح گزر بسر کرتے تھے وہ بھی بد حالی اور فاقہ کشی کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہاشم کے ذہن میں ایک بات ڈال دی اور اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse [ 106:4] الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ (Who gave them food against hunger, and gave them security against fear.) The verse comprehensively captures all that was needed for the Quraish to live happily and peacefully in the world. The first phrase أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ (Who gave them food against hunger) implies that they were provided all year round with every kind of fruit and food. The security referred to in the second phrase آمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ (and gave them security against fear) includes security from enemies and robbers (who, out of their respect to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 The allusion implies that before the Quraish came to Makkah, they were a scattered people in Arabia and living miserable lives. After their gathering together in Makkah they began to prosper, and the Prophet Abraham's prayer for them was literally fulfilled when he had prayed: "Lord, I have settled some of my descendents in a barren valley near Thy sacred House. Lord, I have done this in the hope that they will establish salat there. So turn the hearts of the people towards them, and provide fruits for their food." (Ibrahim: 37) 5 "Secure against fear" : secure from the fear from which no…

Read the full tafseer →