106. Surah Quraish
قريشQuraysh · 4 ayahsتفسیر القرآن الکریم
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader
قریش کے دل میں محبت ڈالنے کی وجہ سے۔
اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader
ان کے دل میں سردی اور گرمی کے سفر کی محبت ڈالنے کی وجہ سے۔
فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader
تو ان پر لازم ہے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔
الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader
وہ جس نے انھیں بھوک سے (بچا کر) کھانا دیا اور خوف سے (بچا کر) امن دیا۔
(1) لایلف قریش…:”الف یالف الفا“ (س)”ہ“ کسی سے مانوس ہونا، اس سے محبت کرنا۔
”الف یولف ایلافاً“ (افعال) کسی کو کسی چیز سے مانوس کردینا، اس کے دل میں اس کی محبت ڈلا دینا۔ ”قریش“ ”قرش“ کی تصغیر ہے۔”قرش یفرش فرشا“ (ض، ن) جمع کرنا، قریش مشہور قبیلہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے۔ یہ نام ان کے حرم میں جمع ہونے کی وجہ سے رکھا گیا۔ یہ لوگ مختلف جگہوں میں بکھرے ہوئے تھے۔ قصی بن کلاب (رسول اللہ ﷺ کے جد اعلیٰ) کو خیال آیا کہ اپنے سارے قبیلے کو مکہ میں اکٹھا کرنا چاہیے، چناچہ انہوں نے سارے قبیلے کو مکہ میں جمع کردیا، اس لئے ان کا نام ”ممع“ پڑگیا، اس طرح کعبہ کی تولیت بھی ان کے ہاتھ آگئی۔ یا یہ نام سمندر کی ایک مچھلی کے نام پر رکھا گیا ہے جسے ”قریش“ کہتے ہیں۔ المنجد میں ہے کہ اس مچھلی کو ”کلب البحر“ ہا جاتا ہے، یہ سمندر کے جانوروں کو دانتوں سے اس طرح کاٹتی ہے جس طرح تلوار کاٹتی ہے، سمندر کے تمام جانور اس سے ڈرتے ہیں۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قریش پر اپنے کئی احسانات ذکر فرمائے ہیں۔ قریش مکہ معظمہ میں رہتے تھے اور کبہ کے متولی تھے، یہ لوگ سال میں دو تجاتری سفر کرتے تھے، گریم کے موسم میں شام کی طرف، کیونکہ وہ سرد علاقہ ہے اور سردی کے موسم میں یمن کی طرف، کیونکہ وہ گرم علاقہ ہے۔ پہلا احسان تو یہ ہے کہ ان کے دل میں سفر کی محبت ڈلا دی، نہ انہیں سردی کے سفر میں مشقت محسوس ہوتی ہے نہ گریم میں اور سفر ہی دنیا میں وسیلہ ظفر ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو سفر سے مانوس نہ کرتا تو وہ بھی اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے اور سفر سے جو مال و دولت، تجربہ و علم اور دنیا بھر کے لوگوں اور علاقوں سے واقفیت حاصل ہوتی ہے، وہ کبھی حاصل نہ ہوتی۔ سفر سیم انوس ہونے کی یہی نعمت قریش کو آگے چل کر ہجرت کے سفر میں کام آئی، پھر کفار کے ساتھ لڑائی میں اور اس کے بعد روم و شام، عراق و فارس، ہند و سندھ، مصر و افریقہ بلکہ مشرق و مغرب کی فتوحات میں کام آئی۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم قوم کے دنیا پر غالب آنے اور غالب رہنے کے لئے پہلا قدم یہ ہے کہ وہ سفر سے نہ گھبرائیں اور جب نکلنے کا موقع ہو زمین ہی سے نہ چمٹ جائیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ کافر اقوا مہی بری ، بحری اور فضائی سفروں کی اجارہ دار ہیں، مسلمان اکثر و بیشتر یہ سبق بھول چکے ہیں۔
دوسرا احسان یہ کہ اس وقت تمام عرب میں سخت بدامنی تھی، کسی کو خبر نہ تھی کہ کب اس پرح ملہ ہوجائے اور اسے قتل کردیا جائے، یا اٹھا لیا جائے یا مال لوٹ لیا جائے اور عورتیں اور بچے غلام بنا لئے جائیں۔ ایسے حالات میں صرف اہل مکہ ہی کو یہ امن حاصل تھا کہ کوئی ان کی طرف میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھتا تھا، جیسا کہ فرمایا :(اولم یروآنا جعلنا حرماً امناً و یتخظف الناس من حولھم) (العنکبو : 68)”اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک امن والا حرم بنادیا ہے، جبکہ لوگ ان کے اردگرد سے اچک لئے جاتے ہیں۔“ تیسرا احسان یہ کہ حرم کے باشندے ہونے کی وجہ سے تجارتی سفروں میں کوئی ان کا قافلہ لوٹتا، نہ ان سے وہ ٹیکس لئے جاتے جو ہر قبیلے اور ہر قوم اپنے علاقے سے گزرنے والوں سے لیتی تھی اور نہ انہیں کہیں جانے سے روکا جاتا تھا۔ چوتھا یہ کہ تمام دنیا کے لوگ حج و عمرہ کے لئے مکہ میں آتے اور دنیا بھر کا سامان تجارت یہاں پہنچتا۔ اس کے علاوہ ہر قسم کے پھل ابراہیم ؑ کی دعا کے نتیجے میں یہاں پہنچتے، فرمایا :(اولم نمکن لھم حرماً امنا یحییٰ الیہ ثمرت کل شیء رزقا من لدنا) (القصص : 58)”اور کیا ہم نے انہیں ایسے امن والے حرم میں جگہ نہیں دی جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں، یہ ہماری طرف سے رزق ہے۔“
ان تجارتی سفروں اور مکہ کی تجاتر کے مالک ہونے کی وجہ سے قریش نہایت مال دار تھے اور حرم کی برکت سے امن و امان سے بھی بہرہ ور تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام نعمتیں اللہ کے گھر کی برکت سے تھیں اور صرف اور صرف رب تعالیٰ کا عطیہ تھیں، پھر جب یہ تمام نعمتیں اس گھر کے مالک نے دی ہیں تو تم اس اکیلے کی عبادت کیوں نہیں کرتے اور کیوں دوسروں کو اس کا شریک بنا کر ان کے آگے سجدے کرتے، ان کے آستانوں پر نذریں دیتے اور چڑھاوے چڑھاتے ہو ؟
(2) لایلف قریش“ (قریش کے دل میں محبت ڈالنے کی وجہ سے) ترکیب کے اعتبار سے کیا ہونا چاہیے ؟ یہ جار مجرور کس کے متعلق ہے ؟ جواب یہ ہے کہ یہ ”فلیعبدوا“ کے متعلق ہے ، یعنی اس وجہ سے انہیں اس گھر کے رب کی عبادت کرنی چاہیے۔ یہ نحو کے مشہور امام خلیل بن احمد کا قول ہے، مگر اس پر یہ اعترضا لازم آتا ہے کہ پھر ”فائ“ کیوں آئی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں شرط محذوف ہے، جس کے جواب میں فاء آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ان دوسری بیشمار نعمتوں کی وجہ جواب یہ ہے کہ یہاں شرط محذوف ہے، جس کے جواب میں فاء ائٓی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ان دوسری بیشمار نعمتوں کی وجہ سے یہ لوگ ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے تو اس گھر کا رب ہونے ہی کی وجہ سے اس کی عبادت کریں جس گھر کی برکت سے انہیں سردی و گرمی میں سفر کرنے، دائمی امن و امان اور وافر رزق کی نعمتیں میسر ہیں۔ (زمخشری)
کسی بھی جگہ میں امن اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ہمیں بھی رزق کی فراخی اور امن جیسی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اسی کی عبادت کرنی چاہیے، غیر اللہ کی عبادت اور شرک سے بچنا چاہیے اور شرک کے اڈوں کی تعمیر و ترقی کے بجائے توحید کے مراکز کی تعمیر و ترقی کرنی چاہیے۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو رزق کی تنگی اور بدامنی و فساد کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ کرنا پڑر ہا ہے۔