105. Surah Al-Fil
الفيلThe Elephant · 5 ayahsتفسیر القرآن الکریم
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader
کیا تو نے نہیں دیکھا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کس طرح کیا۔
(1) الم ترکیف فعل ربک …:”الم تر“ کا لفظی معنی ہے ”کیا تو نے نہیں دیکھا ؟“ مگر مجاہد ؒ (جو ابن عباس ؓ عنہماکے شاگرد ہیں) نے اس کا معنی کیا ہے :”الم تعلم“ ”کیا تجھے معلوم نہیں ؟“ (بخاری، التفسیر، باب سورة الفیل، قبل ح : 3963) جب قرآن اترا اس وقت یہ واقعہ اتنا معروف تھا گویا لوگوں کا آنکھوں دیکھا واقعہ ہو۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے یہ کشید کرنے کی کوشش کی ہے کہ نبی ﷺ نے یہ واقعہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور یہ کہ آپ عالم الغیب تھے۔ درحقیقت یہ کہنا کلام عرب اور اسلوب قرآن سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین) (یٰسین : 88)”اور کیا انسان نے دیکھا نہیں کہ ہم نے اسے ایک نطفہ سے پیدا کیا تو اچانک وہ کھلا جھگڑا لو ہے۔“ اب کیا کسی انسان نے اپنے آپ کو نطفہ سے پیدا ہوتے ہوئے دیکھا ہے ؟ ؟ یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ ”کیا تجھے معلوم نہیں کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟“”الم تعلم“ (کیا تو نے نہیں جانا) کے بجائے ”الم تر“ (کیا تو نے نہیں دیکھا) کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ اتنا یقینی واقعہ ہے کہ سمجھو تم نے اسے آنکھوں سے دیکھا ہے۔
(2)”ہاتھی والوں“ سے مراد یمن کا ایک نصرانی حاکم ابرہہ اور اس کا لشکر ہے۔ ابرہہ نے ایک عظیم الشان گرجا بنا کر یہ چاہا کہ لوگ کعبہ کی طرح اس کی زیارت کے لئے آیا کریں۔ جب وہ اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہوسکا تو وہ ایک بہت بڑا لشکر جس میں پہنچا جس کا نام بعد میں ودی محشر پڑا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے گروہ درگروہ پرندے نمودار ہوئے جن کے پنجوں اور چونچوں میں کنکر تھے، انہوں نے اس لشکر پر وہ کنکریاں پھینکیں جن سے ابرہہ اور اس کا لشکر ہلاک ہوگیا۔ یہ سیرت اور تاریخ میں مذکور واقعے کا خلاصہ ہے۔ (دیکھیے سیرت ابن ہشام اور تفسیر ابن کثیر)
صحیح اسانید کیساتھ رسول اللہ ﷺ سے بھی اس واقعے کا مختصر ذکر موجود ہے، آپ ﷺ نے فرمایا :(ان اللہ حبس عن مکۃ الفیل ، وسلط علیھا رسولہ و المومنین ، فانھا لاتجل لاحد کان قبلی، وانھا احلت لی ساعۃ من نھار، وانھا لن تجل لا خد یعدی) (بخاری، اللقطۃ ، باب کیف تعرف لفطۃ اھل مکۃ ؟: 2333)”اللہ تعالیٰ نے مکہ یہ اتھیوں کو روک دیا اور اس پر اپنے رسول اور ایمان والوں کو غلبہ عطا فرما دیا، تو یہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا اور میرے لئے بھی دن کی ایک گھڑی کے لئے حلال ہوا ہے۔ اب میرے بعد کسی کے لئے (اس میں لڑنا) حلال نہیں ہوگا۔“ دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ کے زمانے میں نکلے، جب اس گھاٹی پر پہنچے جہاں سے مکہ میں اترا جاتا تھا تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی، لوگوں نے (اسے اٹھانے کے لئے) کہا :(جل جل) لیکن وہ بیٹھی رہی۔ لوگوں نے ہا :”قصواء اڑ گئی، قصواء اڑ گئی۔“ تو نبی ﷺ نے فرمایا :(ماخلات القصواء ، وما ذلک لھا یخلق، ولکن حسبھا حابس الفیل) (بخاری، الشروط، باب الشروط فی الجھاد :(2831، 2832)”قصواء اڑی نہیں اور نہ یہ اس کی عادت ہے، اسے تو ہاتھیوں کو روکنے والے نے روک دیا ہے۔“ ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہاتھی والے جب مکہ پر حملے کے لئے آئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں روک دیا تھا۔
اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader
کیا اس نے ان کی تدبیر کو بےکار نہیں کردیا ؟
(الم یجعل کیدھم فی تضلیل :”تضلیل“ کا لفظی معنی گمراہ کرنا ہے، یعنی ان کی تدبیر اس طرف نہیں جانے دی جس طرف وہ لے جانا چاہتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں ان کی تدبیر سیدھی نہیں پڑنے دی۔
وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader
اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیج دیے۔
(وارسل علیھم…:”ابابیل“ عام طور پر ایک خاص قسم کی چڑیوں کو ”ابابیل“ کہا اجتا ہے، مگر یہ درست نہیں۔”ابابیل“ ان گھوڑوں یا پرندوں کو کہا جاتا ہے جو گروہ درگروہ اور ھنڈ کے جھنڈ آئیں۔ یہ لفظ جمع ہی اسعتمال ہوتا ہے، بعض نے اس کی واحد ”ابالۃ“ بیان کی ہے۔
تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader
جو ان پر کھنگر (پکی ہوئی مٹی) کی پتھریاں پھینکتے تھے۔
(ترمیھم بحجارۃ من سجیل :”سجیل“ کی تفسیر میں ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا :(ھی سنک وکل) (بخاری، التفسیر، باب سورة :(الم تر) ، قبل ح، 3963)”اس سے مراد سنگ و گل ہے۔ ”یعنی پکی ہوئی مٹی جسے کھنگرکہا جاتا ہے۔ لاوا اگلنے والے پہاڑوں کے اردگرد اس قسم کے جلے ہوئے سخت سنگریزے عام ملتے ہیں۔
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader
تو اس نے انھیں کھائے ہوئے بھس کی طرح کردیا۔
(1) فجعلھم کعصف ماکول :”عصف“ اناج کے دانوں سے جو چھلکا اترتا ہے، بھوسا، توڑی۔”ماکول“ ”اکل یا کل اکلا“ (ن) سے اسم مفعول ہے، کھایا ہوا، کھائے ہوئے بھس سے مراد جانور کی لید ہے، کیونکہ جانور بھس کھا کر لید کرتا ہے اور پھر وہ خشک ہو کر ادھر اھدر بکھر جاتی ہے۔ سنگریزوں کے عذاب سے ان کے اعضا کے بکھر جانے کو اس کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ (طبری) اللہ تعالیٰ کے استعمال میں اعلیٰ درجے کی شائستگی اختیار فرماتے ہیں، اس مفہوم کو ”لید“ کے بجائے ”کھائے ہوئے بھس“ کے الفاظ میں ادا کیا ہے، اس سے ان کی زبوں حلای بھی نمایاں ہو رہی ہے۔ (قاسمی بحوالہ شہاب) یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ جانوروں کے کھانے کے بعد جو بھوسا بچ جاتا ہے اسے وہ پاؤں میں روند دیتے ہیں اور وہ ادھر ادھر بکھر جاتا ہے، وہ اس بھوسے کی طرح ہوگئے۔