106. Surah Quraish
قريشQuraysh · 4 ayahsتفسیر انوار البیان
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader
قریش کی الفت رکھنے کی وجہ سے
اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader
ان کی وہ الفت جو سردی اور گرمی کے سفر کرنے سے ہے۔
فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader
سو ان کو چاہیے کہ اس بیت کے رب کی عبادت کریں
الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader
جس نے انہیں بھوک میں کھانے کو دیا اور انہیں خوف سے امن دیا۔
اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ میں اپنے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) سے کعبہ تعمیر کرایا اور اس کا حج مشروع فرمایا زمانہ اسلام سے پہلے بھی اہل عرب اس کا حج کرتے تھے اگرچہ مشرک تھے اور چونکہ مکہ مکرمہ میں کعبہ شریف واقع تھا جسے بیت اللہ کے نام سے لوگ جانتے اور مانتے تھے اس لیے قریش مکہ کی پورے عرب میں بڑی عزت تھی اہل عرب لوٹ مار کرنے کا مزاج رکھتے تھے لیکن اہل مکہ پر کبھی کوئی حملہ نہیں کرتے تھے اسی کو سورة العنکبوت میں فرمایا : ﴿اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ يُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ 1ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ۠ يُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ 0067﴾ (کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو پر امن بنا دیا اور لوگوں کو ان کے اردگرد سے اچک لیا جاتا ہے کیا وہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں) ۔
یوں تو گزشتہ زمانہ ہی سے اہل عرب اہل مکہ کا اکرام و احترام کرتے تھے، جب اصحاب فیل کا واقعہ پیش آیا اور عرب میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دشمنوں سے محفوظ فرمایا تو اور زیادہ ان کے قلوب میں اہل مکہ کی عظمت بڑھ گئی، یہ جو ان کی حرمت مشہور و معروف تھی اس کی وجہ سے پورے عرب کے علاوہ دوسرے علاقے کے لوگ بھی ان کا احترام کرتے تھے، مکہ معظمہ چٹیل میدان تھا اس میں پہاڑ تھے پانی کی بھی کمی تھی، نہ باغ تھے نہ کھیتی باڑی تھی، زندگی گزارنے کے لیے ان کے پاس ذرائع معاش عام طور پر نہیں پائے جاتے تھے، زندگی کے مقاصد پورا کرنے کے لیے یہ لوگ ملک شام اور یمن جایا کرتے تھے۔ ایک سفر سردی کے زمانہ میں اور ایک سفر گرمی کے زمانہ میں کیا کرتے تھے، سردی میں یمن جاتے تھے اور گرمی میں شام جایا کرتے تھے اور دونوں ملکوں سے غلہ لاتے تھے جو ان کی غذا میں کام آتا تھا۔ دیگر اموال بھی لاتے اور فروخت کرتے اور دوسرے کاموں میں بھی لاتے تھے۔ ابو سفیان کو بلا کر ہرقل نے جو رسول اللہ ﷺ کے بارے میں سوال جواب کیے وہ اسی تجارت کے سلسلہ میں گئے ہوئے تھے۔ کفار قریش کا قافلہ تجارت کے لیے بیت المقدس میں پہنچا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے لیے سردی اور گرمی کے سفروں کو ان کے کھانے پینے اور پہننے کا اور کعبہ شریف کی عظمت اور حرمت کو ان کے امن وامان کا ذریعہ بنا رکھا تھا۔ سورة الفیل میں کعبہ شریف کی حفاظت کا ذکر ہے جس کی وجہ سے قریش کو امن وامان حاصل تھا اس لیے اس کے متصل ہی سورة القریش کی سورة الفیل کے بعد ہی لایا گیا جس میں قریش مکہ کو یاد دلایا کہ دیکھو تم سردی اور گرمی میں تجارت کے لیے سفر کرتے ہو اور ان دونوں سفروں سے تمہیں دیگر مالوفات کی طرح خاص الفت ہے۔ سفروں میں جاتے ہو جن کے منافع اور مرابح سے فائدہ اٹھاتے ہو اور چونکہ تم مکہ معظمہ کے رہنے والے ہو اس لیے اپنے اسفار میں جن قبائل پر گزرتے ہو تمہارا احترام کرتے ہیں تم مکہ معظمہ میں رہتے ہوئے بھی امن وامان میں ہو اور بلا خوف وخطر زندگی گزارتے ہو اور اسفار میں بھی مکہ معظمہ کی نسبت سے امن وامان کا فائدہ اٹھاتے ہو۔ لہٰذا تم پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہ کی عبادت میں لگو جو اس بیت یعنی کعبہ شریف کا رب ہے وہ تمہیں کھانے پینے کو بھی دیتا ہے اور امن وامان سے بھی رکھتا ہے یہ خالق جل مجدہ کی ناشکری ہے کہ اس کی نعمتوں میں زندہ رہیں، پلیں اور بڑھیں اور عبادت میں کسی مخلوق کو شریک کردیں۔ قال القرطبی ناقلاً عن الفراء : ھذہ السورة متصلة بالسورة الاولی لانہ ذکر اھل مكة عظیم نعمتہ علیھم فیما فعل بالحبشة ثم قال (لایلف قریش) ای فعلنا ذلک باصحاب الفیل نعمة منا علی قریش وذلک ان قریشا کانت تخرج فی تجار تھا فلا یغار علیھا فی الجاھلیة یقولون ھم اھل بیت اللہ عزوجل
ترکیب نحوی کے اعتبار سے اقرب الی الفھم یوں کہا جاتا ہے کہ ایلاف اول مبدل منہ ہے اور ایلافھم اس سے بدل ہے اور جار مجرور مل کر لیعبدوا سے متعلق ہے سمجھنے کے لیے عبارت یوں ہوگئی۔ لیعبدو ارب ھذا البیت لاجل ایلافھم رحلة الشتاء والصیف، والفاء زائدة والا یلاف افعال من الالفة مھموز الفاء (راجع روح المعانی صفحہ 367 ج 30)
فائدہ : سورة القریش میں قریش کے سالانہ دو سفروں کا ذکر ہے یہ قریش کون شخص تھا جس کے نام سے قریش کا قبیلہ ملقب ہوا ؟ اول یہ سمجھنا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ ہاشمی بھی تھے اور قریشی بھی آپ کے داد کا لقب عبدالمطلب اور نام شیبہ تھا اور ان کے والد کا نام عمرو بن عبدمناف اور لقب ہاشم تھا اس وجہ سے آپ بنی ہاشم میں شمار ہوتے ہیں اور عبد مناف کا نام مغیرہ بن قصی تھا اس کے بعد نسب یوں ہے قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ۔ (الی آخر ماذکرہ اہل الانساب)
اس میں اختلاف ہے کہ قریش کس کا لقب تھا۔ بعض علماء کا قول ہے کہ یہ فہر بن مالک اور بعض علماء نے فرمایا ہے کہ نضر بن کنانہ کا لقب ہے۔ حافظ ابن کثیر نے البدایہ میں دونوں قول نقل کیے ہیں اور دونوں کی دلیلیں بھی لکھی ہیں پھر دوسرے قول کو ترجیح دی ہے یعنی یہ کہ نضر بن کنانہ کا لقب قریش تھا اور اس سلسلہ میں مسند احمد اور سنن ابن ماجہ سے ایک حدیث مرفوع بھی نقل کی ہے پھر لکھا ہے کہ وھذا اسناد جید قوی وھو فیصل فی ھذہ المسئلة فلا التفات الی قول من خالفہ واللہ اعلم والحمد منہ۔
اب رہی یہ بات کہ لفظ قریش کا معنی کیا ہے اور قریش کو یہ لقب کیوں دیا گیا اس بارے میں بھی کئی اقوال ہیں اصل لفظ قرش ہے اور قریش اس کی تصغیر ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ قریش ایک دریائی جانور کا نام ہے جو بڑا قوی ہیکل ہوتا ہے اور چھوٹے بڑے دریائی جانوروں کو کھا جاتا ہے۔ حضرت معاویہ ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے قریش کی وجہ تسمیہ دریافت کی تو انہوں نے یہی بات بتلائی گویا قوت اور طاقت میں اس بڑے دریائی جانور کے مشابہ ہونے کی وجہ سے قریش کو قریش کا لقب دیا گیا اور ایک قول یہ ہے کہ حارث بن یخلد بن نضر بن کنانہ کو اس لقب سے یاد کیا جاتا تھا وہ باہر سے غلے لاتا تھا اور عرب کہا کرتے تھے : قد جاءت عیر قریش، یوں بھی کہا جاتا ہے کہ بدر میں جس کنویں کے قریب جنگ ہوئی تھی اسے بدر بن قریش نے کھودا تھا اور اسی لیے اس جگہ کا نام بدر معروف ہوا۔
یوں بھی کہا جاتا ہے کہ لفظ قریش مجتمع ہونے پر دلالت کرتا ہے قصی بن کلاب سے پہلے یہ لوگ منتشر تھے اس نے انہیں حرم میں لا کر اور بلا کر جمع کیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ قصی ہی کا لقب قریش تھا اور ایک قول یہ ہے کہ تقرش تکسب (یعنی مال کمانے) اور تجارت کرنے کے معنی میں آتا ہے اسی وجہ سے قریش اس لقب سے معروف اور مشہور ہوئے۔ نضر بن کنانہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غریبوں کی حاجات کی تفتیش کرتا اور ان کی مدد کرتا تھا اور اس کے بیٹے موسم حج میں لوگوں کی حاجات کی تفتیش کرتے تھے پھر انہیں اس قدر مال دیتے تھے کہ اپنے شہروں تک پہنچ جائیں۔ اس عمل کی وجہ سے وہ قریش کے لقب سے مشہور ہوا۔ قالوا و التقریش ھو التفتیش واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
رسول اللہ ﷺ قریشی بھی تھے اور ہاشمی بھی (کیونکہ بنی ہاشم قریش ہی کی ایک شاخ ہے) اور آپ کے چچا عباس اور حضرت علی اور حضرت جعفر اور حضرت عقیل ؓ بھی بنی ہاشم میں تھے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ اور تمام بنی امیہ قریش میں سے تھے، ہاشمی نہیں تھے۔ حضرت واثلہ بن اسقع ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے اسماعیل کی اولاد سے کنانہ کو اور کنانہ سے قریش کو اور قریش سے بنی ہاشم کو چن لیا اور مجھے بنی ہاشم سے چن لیا۔ (رواہ مسلم)
قریش مکہ نے بہت دیر سے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ ﷺ کو تکلیفیں بھی بہت پہنچائیں حتیٰ کہ آپ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی اور خدمت اسلام کی توفیق دی ان حضرات نے بڑے بڑے ممالک فتح کیے۔ حضرت عمرو بن عاص اور خالد بن ولید ؓ انہی حضرات میں سے تھے سنن ابی داؤد طیالسی صفحہ 40 میں ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ : اللھم انک اذقت اولھا عذابا او وبالا فاذق اخر ھانوالا۔ (مشکوۃ المصابیح صفحہ 55) ” اے اللہ ! آپ نے قریش کے پہلے لوگوں کو عذاب اور وبال چکھایا سو ان کے آخر کے لوگوں کو بخشش عطا فرما “۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور ان کو بہت کچھ عطا فرمایا اور ان سے دین کی بڑی خدمت لی۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ خلافت میرے بعد قریش میں ہوگی۔
جو شخص ان سے دشمنی کرے گا اللہ چہرہ کے بل اس کو اوندھے منہ کر ڈال دے گا جب تک یہ لوگ دین کو قائم رکھیں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 55) اور یہ بھی فرمایا کہ بارہ خلفاء تک دین اسلام غالب رہے گا اور یہ بارہ خلفاء قریش میں سے ہوں گے۔ (ایضاً )
رسول اللہ ﷺ نے تو یہی فرما دیا تھا کہ خلافت برابر قریش میں رکھی جائے لیکن ملوکیت کا مزاج جب دنیا میں آگیا اور اس کے بعد جمہوریت کی جہالت نے جگہ پکڑ لی تو دوسرے لوگ اسلام کا دعویٰ کرتے ہوئے ملوک اور امراء بن گئے اور بنتے رہے۔
جو لوگ اپنے ناموں کے ساتھ ہاشمی، قریشی، صدیقی، عثمانی، علوی، رضوی، نقوی لکھتے ہیں یہ صرف نام بتانے تک ہے۔ بےعملی میں، شکل و صورت میں نمازیں چھوڑنے میں، دیگر معاصی میں دوسروں سے کم نہیں ہیں دوسری قوموں کے افراد علوم و معارف و اعمال میں ان سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ جب انہوں نے اپنی ساکھ خود ہی کھودی تو امت میں بھی ان کی وہ حیثیت نہیں رہی جو ہونی چاہیے تھی جب ان کا یہ حال ہے تو خلافت کون ان کے سپرد کرے گا جہاں کہیں ان کی کوئی حکومت باقی ہے اس میں بھی ملوک اور وزراء دین داری کا خیال نہیں کرتے، دشمنوں کے اشاروں پر گناہگاری کے اصول پر حکومت چلاتے ہیں اسلامی قوانین کی بڑھ کر مخالفت کرتے ہیں۔ فالی اللہ المشتکی وھو المستعان وعلیہ التکلان۔