Explained with ayahs 1–4
امن وامان کی ضمانت :
موجودہ عثمانی قرآن کی ترتیب میں یہ سورت سورة فیل سے علیحدہ ہے اور دونوں کے درمیان بسم اللہ کی آیت کا فاصلہ ہے مضمون کے اعتبار سے یہ سورت پہلی سے ہی متعلق ہے جیسے کہ محمد بن اسحاق عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم وغیرہ سے تصریح کی ہے اس بنا پر معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے مکہ سے ہاتھیوں کو روکا اور ہاتھی والوں کو ہلاک کیا یہ قریشیوں کو الفت دلانے اور انہیں اجتماع میں ساتھ باامن اس شہر میں رہنے سہنے کے لیے تھا اور یہ مراد بھی کی گئی ہے کہ یہ قریشی جاڑوں میں کیا اور گرمیوں میں کیا دور دراز کے سفر امن وامان سے طے کرسکتے تھے کیونکہ مکہ جیسے محترم شہر میں رہنے کی وجہ سے ہر جگہ ان کی عزت…
Read the full tafseer →سورة القریش 3
اس گھر سے مراد خانہ کعبہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ قریش کو یہ نعمت اسی گھر کی بدولت حاصل ہوئی ہے، اور وہ خود مانتے ہیں کہ وہ 360 بت اس کے رب نہیں ہیں جن کی یہ پوجا کر رہے ہیں، بلکہ صرف اللہ ہی اس کا رب ہے۔ اسی نے ان کو اصحاب فیل کے حملے سے بچایا۔ اسی سے انہوں نے ابرھہ کی فوج کے مقابلے میں مدد کی دعا کی تھی۔ اس کے گھر کی پناہ میں آنے سے پہلے جب وہ عرب میں منتشر تھے تو ان کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ عرب کے عام قبائل کی طرح وہ بھی ایک نسل کے بکھرے ہوئے گروہ تھے۔ مگر جب وہ مکہ میں اس گھر کے گرد جمع ہوئے اور اس کی خدمت انجام دینے لگے تو سارے عرب میں محترم ہوگئے۔ اور ہر…
Read the full tafseer →فلیعبدوا رب ھذا البیت، انعامات کا ذکر کرنے کے بعد ان کا شکر ادا کرنے کے لئے قریش کو خصوصی خطاب کے ساتھ یہ ہدایت فرمائی کہ اس کے گھر کے مالک کی عبادت کیا کرو۔ اس جگہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے رب البیت ہونے کی صفت کو خصوصیت سے اس لئے ذکر فرمایا کہ یہی بیت کعبہ ان کے تمام فضائل اور برکات کا سرچشمہ تھا۔
Read the full tafseer →نعمتوں کا حق: اب یہ حق بیان فرمایا ہے اس رزق اور امن کا جو اس گھر سے وابستگی کی بدولت ان کو حاصل ہوا۔ فرمایا کہ جب ان کو رزق اور امن دونوں اسی گھر کے خداوند نے بخشے تو اس کا حق یہ ہے کہ وہ اس گھر کے خداوند ہی کی بندگی کریں۔ یہ امر واضح رہے کہ شرک کی تمام آلودگیوں کے باوجود قریش اس گھر کے خداوند سے ناآشنا نہیں ہوئے تھے۔ اپنے بتوں میں سے کسی کو بھی وہ اس گھر کا خداوند نہیں سمجھتے تھے۔ عبدالمطلب نے جو دعا ابرہہ کے حملہ کے موقع پر، جبل حرا پر کی اور جو سابق سورہ کی تفسیر میں مذکور ہوئی ہے، اس کو پڑھیے۔ اس میں اس گھر کی حفاظت کے لیے جو استغاثہ انھوں نے کیا ہے وہ تمام تر اس گھر کے خداوند ہی سے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
4۔ 1 مذکورہ تجارت اور سفر کے ذریعے سے۔
4۔ 2 عرب میں قتل و غارت گری عام تھی لیکن قریش مکہ کو حرم مکہ کی وجہ سے جو احترام حاصل تھا، اس کی وجہ سے وہ خوف و خطرے سے محفوظ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
1: اس سورت کا پس منظر یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں یعنی حضور اکرم ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے عرب میں قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا، کوئی شخص آزاد اور امن کے ساتھ سفر نہیں کرسکتا تھا، کیونکہ راستے میں چور ڈاکو یا اس کے دشمن قبیلے کے لوگ اسے مارنے اور لوٹنے کے درپے رہتے تھے۔ لیکن قریش کا قبیلہ چونکہ بیت اللہ کے پاس رہتا تھا اور اسی قبیلے کے لوگ بیت اللہ کی خدمت کرتے تھے، اس لئے سارے عرب کے لوگ ان کی عزت کرتے تھے، اور جب وہ سفر کرتے تو کوئی انہیں لوٹتا نہیں تھا، اس وجہ سے قریش کے لوگوں کا یہ معمول تھا کہ وہ اپنی تجارت کی خاطرسردیوں میں یمن کا سفر کرتے تھے اور گرمیوں میں شام کا سفر کرتے تھے، اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
رب اجعل .................................... الثمرت (126:2) ” اے میرے رب ، اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اس کے باشندوں کو پھلوں کی روزی دے “۔ تو اللہ نے اس گھر کو امن کا گھر بنادیا اور ڈکٹیٹروں اور جباروں کے تسلط سے آزاد رکھا۔ جو شخص بھی اس گھر میں پناہ لیتا وہ امن پاتا اور اس کے اردگرد جو اقوام وافراد رہتے تھے ، وہ ہر وقت خائف رہتے تھے اور اس گھر کو یہ اعزاز اس وقت بھی حاصل رہا جب اس کے باسیوں نے بت پرستی شروع کردی۔ شرک کا ارتکاب شروع کیا اور اپنے رب کے ساتھ ساتھ انہوں نے خانہ کعبہ میں بت بھی رکھ دیئے اور یہ اعزاز اللہ نے اس لئے بحال رکھا کہ اس گھر سے اللہ نے کچھ کام لینا تھا۔
پھر جب اصحاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
5 مکہ میں غلہ وغیرہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے قریش کی عادت تھی کہ سال بھر میں تجارت کی قرض سے دو سفر کرتے تھے۔ جاڑوں میں یمن کی طرف کہ وہ ملک گرم ہے اور گرمیوں میں شام کی طرف جو سرد اور شاداب ملک ہے۔ لوگ ان کو اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر نہایت عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی خدمت کرتے اور ان کے جان و مال سے کچھ تعرض نہ کرتے۔ اس طرح ان کو خاطر خواہ نفع ہوتا۔ پھر امن و چین سے گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے تھے۔ حرم کے چاروں طرف لوٹ کھسوٹ اور چوری ڈکیتی کا بازار گرم رہتا تھا۔ لیکن کعبہ کے ادب سے کوئی چور، ڈاکو قریش پر ہاتھ صاف نہ کرتا تھا۔ اسی انعام کو یہاں یاد دلایا ہے کہ اس گھر کے…
Read the full tafseer →آیت 3{ فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ہٰذَا الْبَیْتِ۔ } ”پس انہیں بندگی کرنی چاہیے اس گھر کے رب کی۔“
ظاہر ہے ان کے جدا مجد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کا یہ گھر ع ”دنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا“ توحید کے مرکز کی حیثیت سے تعمیر کیا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو اس گھر کے پہلو میں بساتے وقت توحید کے اعتبار سے ان کی ذمہ داری کا ذکر ان الفاظ میں کیا تھا : لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ تاکہ وہ اللہ کی بندگی کے طور پر نماز قائم کریں۔ چناچہ چاہیے تو یہ تھا کہ جس کعبہ کی تولیت کی وجہ سے انہیں خوشحالی اور عزت ملی تھی وہ اس گھر کے مالک کو پہچانتے اور اس کا حق ادا کرتے۔ لیکن اس کے برعکس…
Read the full tafseer →2 لاِ یْلاَفِ میں ابتدائی لام تعلیل کے لیے آیا ہے یعنی چونکہ اللہ نے قریش کے منتشر افراد کو مکہ میں ایک مقام پر اکٹھا کردیا تھا ان میں الفت پیدا کردی تھی اور وہ ایک دوسرے سے مانوس تھے۔ پھر کعبہ کی تولیت بھی ان کے سپرد کردی تھی۔ مزید برآں انہیں گرمی اور سردی کے تجارتی سفروں سے مانوس کردیا تھا لہذا انہیں چاہیے کہ وہ اس گھر یعنی کعبہ کے مالک ہی کی عبادت کریں۔ کیونکہ قریش معاشرتی، سیاسی، تمدنی اور تجارتی جو فوائد بھی حاصل کر رہے تھے وہ اس کعبہ کی بدولت ہی حاصل کر رہے تھے۔ لہذا انہیں صرف ایک ہی رب کی عبادت کرنی چاہیے جو اس گھر کا مالک ہے۔ دوسرے معبودوں یا ان تین سو ساٹھ بتوں کی نہیں کرنی چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ یعنی کم از کم ایسی ایسی نعمتوں کے شکریہ ہی میں قریش کو چاہیے تھا کہ جس مقدس مکان کے وہ ہمسایہ ومجاور ہیں، اور جس کی دینی ودنیوی دونوں قسم کی برکتوں سے وہ برابر فیضیاب ہوتے رہتے ہیں، اس کے مالک و خالق کو تو پہچانتے، اور شرک چھوڑ کر توحید کی راہ اختیار کرتے۔ توحید تو بہرحال مذہب حق ہے، اور ہر قسم کے دلائل سے ثابت، لیکن مامتا کے مارے ماں باپ اولاد کو راہ راست پر لانے کے لئے انتہائے شفقت میں صرف دلائل عقلی ونقلی ہی پر اکتفاء نہیں کرتے، بلکہ اولاد کو غیرت دلانے کے لئے طرح طرح کے واسطے بھی دلایا کرتے ہیں، پھر حق تعالیٰ کی شفقت تو شفقت والدین سے کوئی نسبت ہی نہیں رکھتی، قرآن اس مؤثر طریقہ ترغیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، چونکہ قریش مانوس ہوئے (دوسرے الفھم پہلے ایلاف) کی تاکید ہے یہ الف بالمد کا مصدر ہے یعنی سردیوں میں یمن کے سفر سے اور گرمیوں میں شام کے سفر سے مانوس، ہر سال دونوں تجارتی سفروں سے بایت اللہ کی خدمت کے لئے مکہ میں قیام پر مدد لیتے تھے جو کہ ان کے لئے موجب فخر تھی اور وہ نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے تھے، لہذا ان کو چاہیے کہ لایلف فلیعبدوا کے متعلق ہے اور فازائدہ ہے، اس گھر کے رب کی عبادت کریں، اس لئے کہ اس نے ان کو بھوک سے بچا کر کھانا کھلایا اور خوف سے بچا کر ان کو امن عطا کیا مکہ میں زراعت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو بھوک لاحق…
Read the full tafseer →فلیعبدوا . ان کو عبادت کرنی چاہیے۔ اگر لایلاف کا لام جعلھم سے متعلق مانا جائے یا تعجب کے لیے کہا جائے تو فاء
عطف اور سببیت کے لیے ہوگی اور اگر لام کو یعبدوا سے متعلق کیا جائے تو فاء زائد ہوگی یا شرط محذوف کی جزاء ہوگی۔
رب ھذا البیت . کعبہ کے مالک کی یعنی اللہ کی جو پروردگار ہے اور بیت اللہ قریش کے مامون رہنے کا سبب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(3۔ 4) ان کو چاہیے کہ اس خانہ کعبہ کے رب کو توحید اختیار کریں جس نے سات سالہ قحط کے بعد ان کا پیٹ بھرایا یہ کہ جس نے ان سے بھوک مشقت اور سردی و گرمی کے سفر کی تکلیف کو دور کیا قریش سال میں دو مرتبہ سفر تجارت کیا کرتے تھے سردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں ملک شام کی جانب اور دشمن کے خوف سے ان کو امن دیا، یا یہ کہ حبشہ کے بادشاہ کے خف سے ان کو امن دیا۔
شان نزول : لایلف قریش الخ
امام حاکم نے حضرت ام ہانی سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قریش کو سات باتوں میں فضیلت عطا فرمائی چناچہ اسی میں بیان کیا کہ ان کے بارے میں مستقل طور پر سورة قریش نازل ہوئی کہ اس میں ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1) لایلف قریش…:”الف یالف الفا“ (س)”ہ“ کسی سے مانوس ہونا، اس سے محبت کرنا۔
”الف یولف ایلافاً“ (افعال) کسی کو کسی چیز سے مانوس کردینا، اس کے دل میں اس کی محبت ڈلا دینا۔ ”قریش“ ”قرش“ کی تصغیر ہے۔”قرش یفرش فرشا“ (ض، ن) جمع کرنا، قریش مشہور قبیلہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے۔ یہ نام ان کے حرم میں جمع ہونے کی وجہ سے رکھا گیا۔ یہ لوگ مختلف جگہوں میں بکھرے ہوئے تھے۔ قصی بن کلاب (رسول اللہ ﷺ کے جد اعلیٰ) کو خیال آیا کہ اپنے سارے قبیلے کو مکہ میں اکٹھا کرنا چاہیے، چناچہ انہوں نے سارے قبیلے کو مکہ میں جمع کردیا، اس لئے ان کا نام ”ممع“ پڑگیا، اس طرح کعبہ کی تولیت بھی ان کے ہاتھ آگئی۔ یا یہ نام سمندر…
Read the full tafseer →پس چاہیئے کہ وہ عبادت کیا کریں اس خانہ (کعبہ) کے رب کی۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی عبادت کرنے اور وحدانیت کا پر چار کرنے کا حکم دیا کیونکہ اس نے انہیں دو سفر کرنے کی محبت سے نوازا۔ فعل کے اوپر فاء اس لیے داخل ہوئی ہے کیونکہ کلام میں شرط کا معنی پایا جاتا ہے معنی یہ بنے گا اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بیشمار ہیں اگر تم باقی نعمتوں کی وجہ سے اس کی عبادت نہیں کرتے تو اس ایک نعمت کی وجہ سے اس کی عبادت کرو جو ظاہر نعمت ہے۔ یہاں بیت سے مراد کعبہ ہے ان کے سامنے اپنا یہ تعارف کروانا کہ وہ اس بیت کا رب ہے اس کی دو وجہیں ہیں :
(1) ان کے بت تھے تو اللہ نے ان سے اپنے آپ کو ممتاز کیا۔
(2) کیونکہ بیت اللہ شریف کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لایلف قریش مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ البخاری فی تاریخہ والحاکم وصححہ والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی نے الخلافیات میں ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قریش کو سات خصلتوں کے سبب فضیلت دی کہ ان سے پہلے کسی کو یہ فضیلت نہیں دی۔ اور نہ ان کے بعد کسی کو یہ فضیلت دیں گے۔ وہ یہ ہیں بیشک میں ان میں سے ہوں اور ایک روایت میں یوں ہے کہ نبوت ان میں ہے۔ اور خلافت ان میں ہے اور بیت اللہ کی دربانی ان میں ہے اور سقایہ حاجیوں کو پانی پلانا ان میں ہے اور ان کا مدد کرنا ہاتھی والوں پر۔ اور ان کی اللہ کی عبادت کرنا سات سال تک…
Read the full tafseer →[فَلْيَعْبُدُوْا : تو چاہیے کہ یہ لوگ بندگی کریں ][ رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ : اس گھر کے مالک کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ میں اپنے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) سے کعبہ تعمیر کرایا اور اس کا حج مشروع فرمایا زمانہ اسلام سے پہلے بھی اہل عرب اس کا حج کرتے تھے اگرچہ مشرک تھے اور چونکہ مکہ مکرمہ میں کعبہ شریف واقع تھا جسے بیت اللہ کے نام سے لوگ جانتے اور مانتے تھے اس لیے قریش مکہ کی پورے عرب میں بڑی عزت تھی اہل عرب لوٹ مار کرنے کا مزاج رکھتے تھے لیکن اہل مکہ پر کبھی کوئی حملہ نہیں کرتے تھے اسی کو سورة العنکبوت میں فرمایا : ﴿اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ يُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ 1ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ۠ يُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ 0067﴾ (کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
انعامات خداوندی برقریش بصورت عطارزق وامن وتسہیل وسائل سفر :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” لایلف قریش ..... الی ....... وامنھم من خوف “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں اہل مکہ پر خداوند عالم کے اس خاص انعام وکرم کا ذکر تھا کہ مکہ والوں کو اور بیت اللہ کو ابرہہ کے حملہ سے محفوظ رکھا، اور اہل مکہ کی یہ حفاظت تکوینی طور پر صرف اس بناء پر تھی کہ نبی آخرالزمان ﷺ کا ظہور قدسی ہونے والا تھا اب اس سورت میں اہل مکہ اور قریش پر مزید یہ انعام بیان کیا جارہا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انکے لئے سفر کی سہولتیں عطا فرمائی تھیں اور موسمی اعتلافات کے لحاظ سے گرمیوں اور سردیوں میں ان کے دو سفر ہوتے تھے کیونکہ مکہ تو وادی غیر ذی زرع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3:۔ ” فلیعبدوا “ بیت اللہ کی بدولت ان کو یہ تمام عزت و شرف حاصل ہے۔ اس لیے اس گھر کے مالک کو ان کی عبادت کرنی چاہیے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے۔ ” الذی اطعمہم “ صرف اس خدا کی عبادت کریں جس نے ان کے لیے رزق کے اسباب مہیا کیے موسم سرما میں ایک طرف سے کماتے ہیں اور موسم گرما میں دوسری طرف سے اور اس نے ان کو بہت خطرے سے محفوظ رکھا یعنی اصحاب الفیل کے حملے سے یا مطلق خوف دشمن مراد ہے۔ بیت اللہ کے ادب و احترام کی وجہ سے حدود حرم میں کوئی ان پر حملہ آور نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة الرقیش ہے۔ مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی چار آیتیں ہیں۔ یہ سورة سترہ الفاظ اور چوہتر حروف پر مشتمل ہے۔ پہلی یہ آیت میں لفظ قریش آیا ہے۔ جس سے سورة کا نام لیا گیا ہے۔
پچھلی سورة کے ساتھ ربط
یہ سورة پہلی سورة کے ساتھ مربوط ہے۔ سورة فیل میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو بیت اللہ شریف کو گرا کر اس کی بےحرمتی کرنا چاہتے تھے ، وہ لوگ ہاتھیوں سمیت بہت بڑا لشکر لے کر آئے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو بالکل ناکام بنا دیا۔ اور نہ صرف وہ اپنے مقصد میں ناکام ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے حملہ آواروں کو سزا دی اس دور میں قریش…
Read the full tafseer →فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ ہٰذَا الْبَيْتِ 3 ۙ
عبادت
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان :
عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود .
وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] .
( ع ب د ) العبودیۃ
کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 ؎ چونکہ ان کو سردی اور گرمی کے سفر کا شوق ہے۔ سردی میں یمن کی طرف جاتے ہیں تجارت کے لیے اور گرمی میں شام کی طرف اس شوق اور محبت قائم رکھنے کے لیے اصحاب فیل کو غارت کردیا اور اس گھر کو یعنی کعبہ کو بچا لیا جس کے سبب یہ امن سے گرمی سردی میں سفر کرتے اور نفع اٹھاتے ہیں۔ پھر اس گھر کے مالک کو کیوں نہیں پوجتے۔ 12 منہ
ترکیب ¦ لایلاف قریش بما یتعلق اللام فیہ وجوہ (1) انھا تتعلق بما قبلھا (2) متعلقہ بما بعدھا (3) لایتعلق بشیء فھی لام التعجب کمافی قولھم لزید وماصنعنابہ ای اعجبوامن شان زید و معنی الآیۃ اعجبوالایلاف قریش وھذا قول الاخفش والکسائی۔ علی الاولھی تتعلق بجعل والتقدیر جعلھم کعصف ماکول لایلٰف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِ ۔ (قریش : 3)
(اور چاہیے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔ )
اللہ تعالیٰ کے احسان کا حق
یعنی اللہ تعالیٰ کے اس عظیم احسان کا کم سے کم تقاضا یہ تھا کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔ ابرھہ کے حملہ کے وقت وہ خود اس بات کا اظہار کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا مصیبت میں کوئی کام آنے والا نہیں۔ اور وہی رب ہے ہمارا بھی اور اس گھر کا بھی۔ اس لیے ہمیں بھی وہی بچائے گا اور اس گھر کی بھی وہی حفاظت کرے گا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اصحاب الفیل کے حملے سے بچا کر اور اس کی وجہ سے اہل عرب کے دلوں میں ان کے احترام کو مزید بڑھا کر یہ ثابت کردیا کہ تم اپنی زندگی کی بقاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
فہم القرآن
ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے ابابیل کے ذریعے بیت اللہ اور قریش کی حفاظت فرمائی، لیکن اس کے باوجود قریش ” اللہ “ کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، اس لیے انہیں پھر احساس دلایا گیا ہے۔
عرب کے قبائل میں قریش سب سے معزز اور باثر قبیلہ تھا اور اسی کی ایک شاخ بنی ہاشم تھے جو سب سے ممتاز اور محترم سمجھتے جاتے تھے، اسی قبیلے کے سردار عبدالمطلب تھے ان کے چھوٹے بیٹے جناب عبداللہ کے گھر نبی آخر الزمان ﷺ پیدا ہوئے آپ کے خاندان کو بیت اللہ کی تولیّت اور حجاج کرام کی خدمت کا اعزاز حاصل تھا۔ جس بنا پر آپ ﷺ کا خاندان اہل مکہ کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے اس سورت میں قریش کو مخاطب کیا گیا ہے جس…
Read the full tafseer →3 : فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِ (تو ان کو چاہیے کہ اس خانہ کعبہ کے مالک کی عبادت کریں)
Read the full tafseer →3 ۔ تو فرمایا ” فلیعبدو رب ھذا البیت “ یعنی مکہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ ابی بن کعب نے الم ترکیف اور لایلف کو ایک سورة شمار کیا ہے 2 ؎ اس حالت میں لایلف کالام فجعلہم کعصف ماکول سے متعلق ہو کر سورة کے ایک ٹکڑے کے حاصل معنی یہ ہوئے کہ قریش کی تالیف کے لئے اصحاب فیل کو ہلاک کیا گیا تاکہ اصحاب فیل کے فساد کے سبب سے قریش کے قدیمی امن اور ان کے جاڑے گرمی کے سفر میں کوئی دقت نہ پیش آئے مگر باقی صحابہ کے نزدیک یہ دونوں سورتیں جدا جدا ہیں۔ اس حالت میں لایلاف کا لا فلیعبدوا سے متعلق ہوگا۔ اور دونوں حالتوں میں حاصل معنی تمام سورة کے یہ ٹھہریں گے کہ جس اللہ کے گھر کے خادم ہونے کے سبب سے قریش کو یہ عزت اور امن ہے کہ جاڑے کے موسم میں ملک یمن اور گرمی کے موسم میں ملک شام…
Read the full tafseer →فرمایا (فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ ) پس وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔ یعنی اس کی توحید بیان کریں اور اس کے لیے عبادت کو خالص کریں۔
Read the full tafseer →(3) شکر نعمت اور اس کے طریقے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا اور شکر نعمت کے طریقے کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ پس ان کو چاہیے کہ یہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے ان کو اس خصوصی مرتبہ و مقام اور ایسے عظیم الشان انعامات سے نوازا کہ حق نعمت اور شکر نعمت کا تقاضا یہی تھا اور یہی ہوتا ہے کہ انسان دل و جان سے جھک جائے اپنے خالق ومالک اور منعم حقیقی کے آگے اور اسی کی عبادت و بندگی کرے، مگر ان بےانصافوں اور بدبختوں نے اس کے برعکس یہ کیا کہ اللہ کے اسی پاکیزہ اور مقدس گھر کو طرح طرح کی شرکیات اور بت پرستی کی نجاستوں اور غلاظتوں سے ملوث اور آلودہ کردیا، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
کعبۃ اللہ اور قبیلہ قریش
تشریح : مکہ بذات خود بےآب وگیاہ زمین کا علاقہ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے قریش کے قبیلہ کے دل میں تجارت کا خیال ڈال کر ان کو بھوک افلاس اور مشکل سے بچا لیا اور ان کو یہ عادت ڈال دی کہ سردیوں میں یمن کی طرف جو گرم ملک ہے اور گرمیوں میں شام کی طرف جو سرد ملک ہے تجارت کے لیے سفر کریں اور پھر متولی کعبہ ہونے کی وجہ سے ان کی عزت اور احترام میں اس قدر اضافہ کیا کہ کوئی ان پر حملہ نہ کرتا تھا بلکہ بڑی خوش دلی اور عزت سے ان کا استقبال کرتے تھے۔ اور یوں ان کو ہر قسم کے خطرہ سے محفوظ و مامون کردیا نہ ان کو بھوک اور غربت کا ڈر رہا اور نہ ہی حملہ آوروں اور جنگ و جدل کا ہی خوف رہا۔ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة القریش۔
آیات 1 تا 4۔
اللہ کا احسان ہے قریش پر کہ حدیث پاک کے مطابق تمام قریش کو فضیلت حاصل ہے پھر ان کو اللہ نے قوت برداشت دی اور خوگر کردیا گرمی سردی کے سفر سے کہ عرب میں تجارت ہی ذریعہ معاش تھا جس کے لیے سفرضروری تھا تو ان کو مزاجا یہ آسانیاں بخش دیں تو ان کو چاہیے کہ اس گھر یعنی کعبہ کے رب کی عبادت کریں جس نے حضرت ابراہیم کی دعا سے یہاں رزق کی فروانی کردی اور دنیا کی ہر نعمت مکہ مکرمہ میں پہنچائی اور اسے امن کا گھر بنادیا کہ کفار ومشرکین بھی احترام کرتے اور زیادتی نہ کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ف 1 قریش تاجر پیشہ تھے۔ سال میں وہ بغرض تجارت دو سفر کرتے تھے۔ ایک جاڑے میں یمن کی طرف اور دوسرا گرمی میں شام کی طرف جو سرسبز اور سرد ملک ہے۔ جہاں سے وہ گزرتے لوگ ان کو کعبہ کے خادم سمجھ کر انتہائی عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے اور ان کے جان و مال سے کسی قسم کا تعرض نہ کرتے … حالانکہ جزیرہ عرب میں ہر طرف لوٹ کھسوٹ اور چوری ڈکیتی کا بازار گرم رہتا تھا۔ قریش کو یہی احسان اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں یاد دلایا ہے کہ اسی گھر کی بدلوت تمہاری ساری عزت اور معاشی زندگی قائم ہے اور اسی کی بدلوت تمہیں امن اور چین نصیب ہے پھر تم اس کے مالک کی بندگی کیوں نہیں کرتے اور کیوں دوسروں کو اس کا شریک گرد ان کو ان…
Read the full tafseer →(106:3) فلیعبدوا۔ فعل امر کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ عبادۃ (باب نصر) مصدر سے چاہیے کہ وہ عبادت کریں۔
رب ھذا البیت : ھذا اسم اشارہ۔ البیت مشار الیہ۔ دونوں مل کر مضاف الیہ۔ رب مضاف۔ (مفعول فعل لیعبدوا کا) اس گھر کے رب کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن۔
ایلاف۔ مائل ہوئے۔ رحلۃ۔ سفر کرنا۔ کوچ کرنا۔ الشتائ۔ سردی۔ جاڑا۔ الصیف۔ گرمی۔ اطعم۔ اس نے کھلایا۔ جوع۔ بھوک۔ امن۔ امن دیا۔
تشریح : جیسا کہ سورة قریش کے ابتدائی تعارف سے یہ معلوم ہوا کہ ” حجاز “ یا جزیرۃ العرب ایک ایسے خطے میں واقع تھا جہاں ضروریات زندگی میں سے کوئی چیز بھی پیدا نہیں ہوتی تھی بلکہ آس پاس کے ملکوں سے چیزیں لا کر ضروریات زندگی کو پورا کیا جاتا تھا۔ جزیرۃ العرب کے ایک طرف یمن اور دوسری طرف فلسطین اور آس پاس کے ملک تھے جو کسی وقت تجارت اور زراعت کی وجہ سے بہت ترقی یافتہ کہلاتے تھے۔ وہ کسی حد تک علم کی روشنی سے بھی آشنا تھے۔ یمن وہ علاقہ ہے جہاں صدیوں تک زبردست اور ترقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(ف 1) یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بیشمار ہیں ان میں سے ایک نعمت ظاہرہ یہ ہے کہ اس نے قریش کو ہر سال میں دوسفروں کی طرف رغبت دلائی ان کی محبت میں ڈال دی مکہ میں غلہ وغیرہ پیدا نہیں ہوتا، اس لیے جاڑے کے موسم میں یمن کا سفر کہ وہ ملک گرم ہے اور گرمی کے موسم میں شام کا جوسرد اور شاداب ملک ہے قریش تجارت کے لیے ان موسموں میں سفر کرتے تھے ہر جگہ کے لوگ ان کو اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر نہایت عزت واحترام کی نظر سے دیکھتے تھے اور ان کی خدمت کرتے اور ان کے جان ومال سے کچھ تعرض نہ کرتے تھے، اس طرح ان کو خاطر خواہ نفع ہوتا تھا، پھر امن وچین سے گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے، حرم کے چاروں طرف لوٹ کھسوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[1] مکہ میں غلہ وغیرہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے قریش کی عادت تھی کہ سال بھر میں تجارت کے لئے دو سفر کرتے تھے۔ جاڑوں میں یمن کی طرف کہ وہ ملک گرم ہے اور گرمیوں میں شام کی طرف جو سرد اور شاداب علاقہ ہے۔ عرب کے لوگ انہیں اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر نہایت عزت اور احترام کی نظر سے دیکھتے، ان کی خدمت کرتے اور ان کے جان و مال سے کچھ تعرض نہ کرتے۔ اس طرح قریش کو تجارت میں خاطر خواہ نفع ہوتا، پھر امن و چین سے گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے تھے۔ حرم کے چاروں طرف لوٹ کھسوٹ اور چوری ڈکیتی کا بازار گرم رہتا تھا لیکن کعبہ کے ادب سے کوئی چور یا ڈاکو قریش پر ہاتھ نہ ڈالتا تھا۔ اپنے اس انعام کو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة القریش
1: بیت اللہ کی وجہ سے قریش کی مرکزیت قائم تھی ۔ اس لئے گرمی اور جاڑے میں جہاں جاتے عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے کہ اللہ کے گھر کے مکین ہیں ۔ فرمایا کہ اس پڑوس کے سبب سے اللہ نے تمہیں قحط اور افلاس سے محفوظ رکھا ہے اور اس کی حفاظت کرکے تمہیں تباہی اور بربادی سے بچایا ہے ۔ کیا یہ نعمت اتنی بڑی نہیں ہے کہ تم کو احساس ہو اور تمہیں اللہ کے آستانہ شفقت و جلال پر جھکا دے ۔
حل لغات :۔ ابابیل ۔ صف بصف ۔ غول کے غول الدین ۔ روزجزا ۔
1؎ اس سورت کا تعلق سورة فیل سے ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ خدا نے ہاتھی والوں کو اسلئے خارت کیا ہے کہ قریش کو سفر میں کسی طرح کی مزاحمت نہ رہے ۔ تو انہیں بھی چاہیے…
Read the full tafseer →(3) ان کو چاہیے کہ اس خانہ کعبہ کے مالک کی عبادت کریں۔ یعنی اسی نعمت کے شکریہ میں ان کو ان کا سفر سے مانوس کیا بلکہ سفر کرنے اور روزی کمانے کا طریقہ تعلیم کیا ۔ اس کے شکریہ میں اس گھر یعنی کعبے کے مالک کی عبادت اور اس کی بندگی بجا لائیں۔
رب ھذا البیت کی مزید تشریح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 2۔ حاصل یہ کہ مکہ میں غلہ وگیرہ پیدا نہیں ہوتا، اس لئے قریش کی عادت تھی کہ سال بھر میں تجارت کے لئے دو سفر کرتے، جاڑوں میں یمن کی طرف کہ وہ گرم ملک ہے اور گرمی میں شام کی طرف کہ وہ سرد سرزمین ہے اور لوگ ان کو اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر ان کی حرمت کرتے اور ان کے مال و جان سے کوئی تعرض نہ کرتا اور خاطر خواہ ان کو نفع ہوتا کہ گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے۔ اس سورت میں اسی واقعہ کا ذکر ہے اور چونکہ بیت اللہ کے سبب ہر جگہ ان کا احترام ہوتا تھا اس لئے لفظ رب کو ہذا البیت کی طرف مضاف کیا اور جوع میں طعام دینا اشارہ ہے حصول نفع کی طرف اور خوف سے امن دینا اشارہ ہے عدم تعرض کی طرف سفر میں بھی…
Read the full tafseer →پس ان پر لازم تھا کہ وہ اس گھر کعبہ کے رب کی عبادت کرتے
3 ؎ مطلب یہ ہے کہ قریش کو جو عزت اور جو شرف مکہ میں یا بیرون مکہ ملا وہ بیت اللہ کی نسبت سے ملا اس لیے ان کا تو حق یہ تھا کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کرتے جب کہ وہی اب ان کا اپنا رب بھی تھا اور پھر یہ بھی کہ ان کی رزق رسانی کا ایسا باعزت انتظام فرما دیا کہ یہ عزت و شرف کسی دوسرے کے حصے میں نہیں آیا اس لے ان کا حق تھا کہ وہ اس ذات الٰہ کی عبادت کرتے جو اس کعبہ کا مالک ہے۔ جس نے ابھی چند سال قبل ابرہہ کی یلغار سے ان کو بچایا اور ان کی حفاظت اس طرح کہ کی گویا باز کی چڑیوں سے مروا دیا ۔ جس کو اس دنیا نے حیرت کی نظر سے دیکھا اور اب تک ان پر…
Read the full tafseer →Verse [ 106:3] فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَـٰذَا الْبَيْتِ (they must worship the Lord of this House.) Having mentioned the Divine favors, the Quraish are especially enjoined to express their gratitude to 'the Lord of this House'. Here, out of many attributes of Allah, 'the Lord of this House' is singled out, because it was this House that became the source and fountain of all blessings for them.
Read the full tafseer →3 "This House": the Holy Ka'bah. The sentence means that the Quraish have attained to this blessing only by virtue of the House of Allah. They themselves acknowledge that the 360 idols, which they worship, are not its lord, but Allah alone is its Lord. He alone saved them from the invasion of the army of elephants. Him alone they had invoked for help against Abrahah's army. 'It was His House the keeping of which enhanced their rank and position in Arabia, for before that they were dispersed and commanded no position whatever. Like the common Arab tribes they too were scattered factions of a…
Read the full tafseer →