Explained with ayahs 1–4
امن وامان کی ضمانت :
موجودہ عثمانی قرآن کی ترتیب میں یہ سورت سورة فیل سے علیحدہ ہے اور دونوں کے درمیان بسم اللہ کی آیت کا فاصلہ ہے مضمون کے اعتبار سے یہ سورت پہلی سے ہی متعلق ہے جیسے کہ محمد بن اسحاق عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم وغیرہ سے تصریح کی ہے اس بنا پر معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے مکہ سے ہاتھیوں کو روکا اور ہاتھی والوں کو ہلاک کیا یہ قریشیوں کو الفت دلانے اور انہیں اجتماع میں ساتھ باامن اس شہر میں رہنے سہنے کے لیے تھا اور یہ مراد بھی کی گئی ہے کہ یہ قریشی جاڑوں میں کیا اور گرمیوں میں کیا دور دراز کے سفر امن وامان سے طے کرسکتے تھے کیونکہ مکہ جیسے محترم شہر میں رہنے کی وجہ سے ہر جگہ ان کی عزت…
Read the full tafseer →سورة القریش 2
گرمی اور جاڑے کے سفروں سے مرادیہ ہے کہ گرمی کے زمانے میں قریش کے تجارتی سفر شام و فلسطین کی طرف ہوتے تھے، کیونکہ وہ ٹھنڈے علاقے ہیں، اور جاڑے کے زمانے میں وہ جنوب عرب کی طرف ہوتے تھے، کیونکہ وہ گرم علاقے ہیں۔
Read the full tafseer →رحلة الشتاً ء والصیف، یہ بات معلوم و معروف ہے کہ مکہ مکرمہ ایک ایسے مقام میں آباد ہے جہاں کوئی زراعت نہیں ہوتی وہاں باغات نہیں جن کے پھل مکہ والوں کو مل سکیں، اسی لئے بانی بیت اللہ حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوة والسلام نے مکہ مکرمہ کے آباد ہونے کے وقت اللہ تعالیٰ سے یہ دعا فرمائی تھی کہ اس شہر کو جائے امن بنا دے اور اہل مکہ کو ثمرات کا رزق عطا فرمائے ارزق اھل من الثمرات اور باہر سے ہر طرح کے پھل ہیاں لائے جایا کریں یحی الیہ ثمرات کل شئی اس لئے اہل مکہ کے معاش کا مدار اس پر تھا کہ وہ تجارت کے لئے سفر کریں اور اپنی ضروریات وہاں سے لائیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ مکہ والے بڑے افلاس اور تکلیف میں…
Read the full tafseer →اجمال کے بعد تفصیل: یہ سابق ’اِیْلَاف‘ سے بدل ہے۔ پہلے بات مجمل طور پر کہہ کر ناتمام چھوڑ دی ہے تاکہ سننے والوں میں سوال پیدا ہو جائے کہ قریش کی کون سی وابستگی، کس پہلو سے زیربحث ہے؟ یہ اسلوب کلام قرآن میں بعض دوسرے مقامات میں بھی اختیار کیا گیا ہے۔ اس کا پہلا فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ مخاطب بات کو سننے کے لیے بیدار ہو جاتا ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی نوعیت اجمال کے بعد گویا تفصیل کی ہوتی ہے اس وجہ سے بات اچھی طرح ذہن نشین ہو جاتی ہے۔
قریش کے تجارتی سفروں کی نوعیت: فرمایا کہ یہاں خاص طور پر قریش کی جس وابستگی کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ ان کی وہ وابستگی ہے جو ان کو اپنے گرمی و سردی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1) ایلاف کے معنی ہیں مانوس اور عادی بنانا، یعنی اس کام سے کلفت اور نفرت کا دور ہوجانا قریش کا گزران کا ذریعہ تجارت تھی، سال میں دو مرتبہ ان کا تجارتی قافلہ باہر جاتا اور وہاں سے اشیاء تجارت لاتا، سردیوں میں یمن، جو گرم علاقہ تھا اور گرمیوں میں شام کی طرف جو ٹھنڈا تھا خانہ کعبہ کے خدمت گزار ہونے کی وجہ سے اہل عرب انکی عزت کرتے تھے۔ اسلیے یہ قافلے بلا روک ٹوک سفر کرتے، اللہ تعالیٰ اس سورت میں قریش کو بتلا رہا ہے کہ تم جو گرمی، سردی میں دو سفر کرتے ہو تو ہمارے اس احسان کی وجہ سے کہ ہم نے تمہیں مکہ میں امن عطا کیا ہے اور اہل عرب میں معزز بنایا ہوا ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہوتی تو تمہارا سفر ممکن نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
1: اس سورت کا پس منظر یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں یعنی حضور اکرم ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے عرب میں قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا، کوئی شخص آزاد اور امن کے ساتھ سفر نہیں کرسکتا تھا، کیونکہ راستے میں چور ڈاکو یا اس کے دشمن قبیلے کے لوگ اسے مارنے اور لوٹنے کے درپے رہتے تھے۔ لیکن قریش کا قبیلہ چونکہ بیت اللہ کے پاس رہتا تھا اور اسی قبیلے کے لوگ بیت اللہ کی خدمت کرتے تھے، اس لئے سارے عرب کے لوگ ان کی عزت کرتے تھے، اور جب وہ سفر کرتے تو کوئی انہیں لوٹتا نہیں تھا، اس وجہ سے قریش کے لوگوں کا یہ معمول تھا کہ وہ اپنی تجارت کی خاطرسردیوں میں یمن کا سفر کرتے تھے اور گرمیوں میں شام کا سفر کرتے تھے، اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
رب اجعل .................................... الثمرت (126:2) ” اے میرے رب ، اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اس کے باشندوں کو پھلوں کی روزی دے “۔ تو اللہ نے اس گھر کو امن کا گھر بنادیا اور ڈکٹیٹروں اور جباروں کے تسلط سے آزاد رکھا۔ جو شخص بھی اس گھر میں پناہ لیتا وہ امن پاتا اور اس کے اردگرد جو اقوام وافراد رہتے تھے ، وہ ہر وقت خائف رہتے تھے اور اس گھر کو یہ اعزاز اس وقت بھی حاصل رہا جب اس کے باسیوں نے بت پرستی شروع کردی۔ شرک کا ارتکاب شروع کیا اور اپنے رب کے ساتھ ساتھ انہوں نے خانہ کعبہ میں بت بھی رکھ دیئے اور یہ اعزاز اللہ نے اس لئے بحال رکھا کہ اس گھر سے اللہ نے کچھ کام لینا تھا۔
پھر جب اصحاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
5 مکہ میں غلہ وغیرہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے قریش کی عادت تھی کہ سال بھر میں تجارت کی قرض سے دو سفر کرتے تھے۔ جاڑوں میں یمن کی طرف کہ وہ ملک گرم ہے اور گرمیوں میں شام کی طرف جو سرد اور شاداب ملک ہے۔ لوگ ان کو اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر نہایت عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی خدمت کرتے اور ان کے جان و مال سے کچھ تعرض نہ کرتے۔ اس طرح ان کو خاطر خواہ نفع ہوتا۔ پھر امن و چین سے گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے تھے۔ حرم کے چاروں طرف لوٹ کھسوٹ اور چوری ڈکیتی کا بازار گرم رہتا تھا۔ لیکن کعبہ کے ادب سے کوئی چور، ڈاکو قریش پر ہاتھ صاف نہ کرتا تھا۔ اسی انعام کو یہاں یاد دلایا ہے کہ اس گھر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 2{ اٖلٰفِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآئِ وَالصَّیْفِ۔ } ”یعنی سردیوں اور گرمیوں کے سفر سے ان کو مانوس رکھنے کی وجہ سے۔“
یعنی اللہ تعالیٰ نے قریش کے دلوں میں سردی اور گرمی کے تجارتی سفروں کی الفت و محبت پیدا کردی۔
اِیْلاف : اَلِفَ یَأْلَفُ اَلْفًا سے باب افعال کا مصدر ہے ‘ یعنی مانوس کرنا اور خوگر بنانا۔ اردو میں الفت اور مالوف کے الفاظ بھی اسی سے ماخوذ ہیں۔
سورة قریش کی پہلی دو آیات میں قریش کی اس اجارہ داری کی طرف اشارہ ہے جو حضور ﷺ کی پیدائش سے قبل زمانے میں انہیں مشرق اور مغرب کی تجارت پر حاصل تھی۔ اس زمانے میں مشرق بعید کے ممالک ہندوستان ‘ جاوا ‘ ملایا ‘ سماٹرا ‘ چین وغیرہ سے بحر ہند کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 ایلاف کے دو پہلو :۔ اِیْلاَفٌ کا مادہ الف ہے اور اس سے الفت مشہور و معروف لفظ ہے۔ الفت کا معنی ایسی محبت ہے جو خیالات میں ہم آہنگی کی وجہ سے ہو (مفردات) اور الف کے معنی کسی چیز کے منتشر اجزاء کو اکٹھا کرکے انہیں ترتیب کے ساتھ جوڑ دینا۔ کسی کتاب کی تالیف کا بھی یہی مفہوم ہے۔ گویا ایلاف کے مفہوم میں الفت، موانست اور قریش کے منتشر افراد کی اجتماعیت کے سب مفہوم پائے جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے ایلاف کے دو مختلف پہلو ہیں۔ ایک کا پس منظر یہ ہے کہ قبیلہ قریش حجاز میں متفرق مقامات پر بکھرا ہوا تھا۔ سب سے پہلے قصی ّبن کلاب (رسول اللہ ﷺ کے جد اعلیٰ ) کو یہ خیال آیا کہ اپنے قبیلہ کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ یعنی کم از کم ایسی ایسی نعمتوں کے شکریہ ہی میں قریش کو چاہیے تھا کہ جس مقدس مکان کے وہ ہمسایہ ومجاور ہیں، اور جس کی دینی ودنیوی دونوں قسم کی برکتوں سے وہ برابر فیضیاب ہوتے رہتے ہیں، اس کے مالک و خالق کو تو پہچانتے، اور شرک چھوڑ کر توحید کی راہ اختیار کرتے۔ توحید تو بہرحال مذہب حق ہے، اور ہر قسم کے دلائل سے ثابت، لیکن مامتا کے مارے ماں باپ اولاد کو راہ راست پر لانے کے لئے انتہائے شفقت میں صرف دلائل عقلی ونقلی ہی پر اکتفاء نہیں کرتے، بلکہ اولاد کو غیرت دلانے کے لئے طرح طرح کے واسطے بھی دلایا کرتے ہیں، پھر حق تعالیٰ کی شفقت تو شفقت والدین سے کوئی نسبت ہی نہیں رکھتی، قرآن اس مؤثر طریقہ ترغیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، چونکہ قریش مانوس ہوئے (دوسرے الفھم پہلے ایلاف) کی تاکید ہے یہ الف بالمد کا مصدر ہے یعنی سردیوں میں یمن کے سفر سے اور گرمیوں میں شام کے سفر سے مانوس، ہر سال دونوں تجارتی سفروں سے بایت اللہ کی خدمت کے لئے مکہ میں قیام پر مدد لیتے تھے جو کہ ان کے لئے موجب فخر تھی اور وہ نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے تھے، لہذا ان کو چاہیے کہ لایلف فلیعبدوا کے متعلق ہے اور فازائدہ ہے، اس گھر کے رب کی عبادت کریں، اس لئے کہ اس نے ان کو بھوک سے بچا کر کھانا کھلایا اور خوف سے بچا کر ان کو امن عطا کیا مکہ میں زراعت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو بھوک لاحق…
Read the full tafseer →ایلاف قریش پر تعجب کرو۔ زجاج نے کہا : اس لام کا رخ بعد والے فعل (فلیعبدوا) کی طرف ہے ‘ یعنی ایلاف قریش کی وجہ سے ان کو اس کعبہ کے مالک کی عبادت کرنی چاہیے۔ فلیعبدوا میں فاء جزائیہ ہے کیونکہ پہلے کلام میں شرط کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان پر اللہ کی نعمتیں بیشمار ہیں اگر وہ سب نعمتوں کی وجہ سے عبادت نہیں کرتے تو خیر کم از کم ایلاف قریش کی نعمت کی وجہ سے تو اس گھر کے مالک کی عبادت کرنی چاہیے۔ فاء کو جزائیہ قرار دینے پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ماء قبل جزاء معمول اور جزاء کا کوئی حصہ عامل بن جائے گا۔ (یعبدوا عامل اور لایلاف معمول ہوگا) اس لیے زیادہ مناسب یہ ہے کہ فاء کو زائد قرار دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) قریش کو حکم دیجیے تاکہ یہ توحید کو اختیار کرلیں یا یہ کہ میری نعمتوں کو ان کے سامنے بیان کیجیے تاکہ یہ توحید کی طرف مائل ہوجائیں جیسا کہ یہ سردیوں میں سفر یمن اور گرمیوں میں سفر شام کے عادی ہوگئے ہیں یا یہ کہ جیسا کہ قریش پر گرمی اور سردی کا سفر گراں نہیں اسی طرح ان پر وحدانی تبھی گراں نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1) لایلف قریش…:”الف یالف الفا“ (س)”ہ“ کسی سے مانوس ہونا، اس سے محبت کرنا۔
”الف یولف ایلافاً“ (افعال) کسی کو کسی چیز سے مانوس کردینا، اس کے دل میں اس کی محبت ڈلا دینا۔ ”قریش“ ”قرش“ کی تصغیر ہے۔”قرش یفرش فرشا“ (ض، ن) جمع کرنا، قریش مشہور قبیلہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے۔ یہ نام ان کے حرم میں جمع ہونے کی وجہ سے رکھا گیا۔ یہ لوگ مختلف جگہوں میں بکھرے ہوئے تھے۔ قصی بن کلاب (رسول اللہ ﷺ کے جد اعلیٰ) کو خیال آیا کہ اپنے سارے قبیلے کو مکہ میں اکٹھا کرنا چاہیے، چناچہ انہوں نے سارے قبیلے کو مکہ میں جمع کردیا، اس لئے ان کا نام ”ممع“ پڑگیا، اس طرح کعبہ کی تولیت بھی ان کے ہاتھ آگئی۔ یا یہ نام سمندر…
Read the full tafseer →الفت تجارتی سفر کی جاڑے اور گرمی (کے موسم) میں۔
مجاہد اور حمید نے اسے الفھم پڑھا ہے یعنی لام ساکن ہے اور یاء کے بغیر ہے ابن کثیر سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ حضرت اسماء نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ کو الفھم پڑھتے ہوئے سنا۔ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے بھی یہ قرات مروی ہے۔ ابو جعفر اور ولید جو اہل شام سے تعلق رکھتے ہیں اور ابو حیوۃ نے الافھم پڑھا ہے یعنی ہمزہ میں اختلاس کا قاعدہ جاری کیا اور یاء نہیں ہے۔ ابوبکر نے عاسم سے ائلافھم دو ہمزوں کے ساتھ پڑھا ہے پہلا ہمزہ مکسور ہے اور دوسرا ساکن ہے۔ دو کلموں میں دو ہمزوں کو جمع کرنا شاذ ہے باقی قراء نے ایلافھم مد اور ہمزہ کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لایلف قریش مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ البخاری فی تاریخہ والحاکم وصححہ والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی نے الخلافیات میں ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قریش کو سات خصلتوں کے سبب فضیلت دی کہ ان سے پہلے کسی کو یہ فضیلت نہیں دی۔ اور نہ ان کے بعد کسی کو یہ فضیلت دیں گے۔ وہ یہ ہیں بیشک میں ان میں سے ہوں اور ایک روایت میں یوں ہے کہ نبوت ان میں ہے۔ اور خلافت ان میں ہے اور بیت اللہ کی دربانی ان میں ہے اور سقایہ حاجیوں کو پانی پلانا ان میں ہے اور ان کا مدد کرنا ہاتھی والوں پر۔ اور ان کی اللہ کی عبادت کرنا سات سال تک…
Read the full tafseer →[اٖلٰفِهِمْ : ان کو مانوس کرنا ][ رِحْلَةَ : سفر سے ][ الشِّتَاۗءِ : سردی کے ][ وَالصَّيْفِ : اور گرمی کے ]
(آیت۔ 2) اٰلٰفِھِمْ میں اِیلَافِ کی جَرّ بتارہی ہے کہ پچھلے مرکب جارّی لِاِیْلَافِ قُرِیْشٍ کا بدل ہے اِیْلاَفٌ دو مفعول کا تقاضہ کرتا ہے۔ کس کو مانوس کیا اور کس چیز سے مانوس کیا۔ یہاں اِیْلاَفِ کا مفعول اول ھِمْ کی ضمیر ہے اور رِحْلَۃَ الشِّتَائِ وَالصَّیْفِ مفعول ثانی ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ میں اپنے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) سے کعبہ تعمیر کرایا اور اس کا حج مشروع فرمایا زمانہ اسلام سے پہلے بھی اہل عرب اس کا حج کرتے تھے اگرچہ مشرک تھے اور چونکہ مکہ مکرمہ میں کعبہ شریف واقع تھا جسے بیت اللہ کے نام سے لوگ جانتے اور مانتے تھے اس لیے قریش مکہ کی پورے عرب میں بڑی عزت تھی اہل عرب لوٹ مار کرنے کا مزاج رکھتے تھے لیکن اہل مکہ پر کبھی کوئی حملہ نہیں کرتے تھے اسی کو سورة العنکبوت میں فرمایا : ﴿اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ يُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ 1ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ۠ يُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ 0067﴾ (کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
انعامات خداوندی برقریش بصورت عطارزق وامن وتسہیل وسائل سفر :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” لایلف قریش ..... الی ....... وامنھم من خوف “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں اہل مکہ پر خداوند عالم کے اس خاص انعام وکرم کا ذکر تھا کہ مکہ والوں کو اور بیت اللہ کو ابرہہ کے حملہ سے محفوظ رکھا، اور اہل مکہ کی یہ حفاظت تکوینی طور پر صرف اس بناء پر تھی کہ نبی آخرالزمان ﷺ کا ظہور قدسی ہونے والا تھا اب اس سورت میں اہل مکہ اور قریش پر مزید یہ انعام بیان کیا جارہا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انکے لئے سفر کی سہولتیں عطا فرمائی تھیں اور موسمی اعتلافات کے لحاظ سے گرمیوں اور سردیوں میں ان کے دو سفر ہوتے تھے کیونکہ مکہ تو وادی غیر ذی زرع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” لایلف قریش “ لام بمعنی الی ہے اور اس کا متعلق محذوف ہے ای انظروا۔ ایلفہم، ایلف قریش سے بدل ہے۔ رحلۃ منصوب بنزع خافض ای لاجل، یعنی قریش نے موسم سرما اور گرما کے تجارتی سفروں کیلئے دوسرے ملکوں سے جو معاہدے کر رکھے ہیں ذرا ان کی طرف تو دیکھو کہ وہ طلب مال کیلئے موسم سرما میں یمن کی طرف اور موسم گرما میں ملک شام کی طرف سفر کرتے ہیں جس طرح آج کل پیروں کے دورے ہوتے ہیں (الشیخ (رح) تعالی) ۔ یا لام گذشتہ سورت میں جعل کے متعلق ہے قالہ الزجاج وابو عبیدۃ (کبیر، روح) ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کو اس لیے ہلاک کیا تاکہ بیت اللہ کی وجہ سے ان کی عزت و عظمت دوسرے ملکوں میں بدستور بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة الرقیش ہے۔ مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی چار آیتیں ہیں۔ یہ سورة سترہ الفاظ اور چوہتر حروف پر مشتمل ہے۔ پہلی یہ آیت میں لفظ قریش آیا ہے۔ جس سے سورة کا نام لیا گیا ہے۔
پچھلی سورة کے ساتھ ربط
یہ سورة پہلی سورة کے ساتھ مربوط ہے۔ سورة فیل میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو بیت اللہ شریف کو گرا کر اس کی بےحرمتی کرنا چاہتے تھے ، وہ لوگ ہاتھیوں سمیت بہت بڑا لشکر لے کر آئے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو بالکل ناکام بنا دیا۔ اور نہ صرف وہ اپنے مقصد میں ناکام ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے حملہ آواروں کو سزا دی اس دور میں قریش…
Read the full tafseer →اٖلٰفِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّـتَاۗءِ وَالصَّيْفِ 2 ۚ
رحلة :
قيل هو اسم جنس، ولهذا أفرده، أو اسم مصدر بمعنی الارتحال وقد أفرد لأمن اللبس، وزنه فعلة بکسر فسکون .
( الشتا)
، اسم للفصل المعروف مشتقّ من شتا يشتو باب نصر، وفيه إبدال الواو همزة لتطرّفها بعد ألف ساکنة، أصله شتاو، وزنه فعال بکسر الفاء .
( الصیف) ،
اسم للفصل المعروف مشتّق من صاف يصيف باب ضرب، وزنه فعل بفتح فسکون .( اعراب القرآن)
رحل
الرَّحْلُ ما يوضع علی البعیر للرّكوب، ثم يعبّر به تارة عن البعیر، وتارة عمّا يجلس عليه في المنزل، وجمعه رِحَالٌ. وَقالَ لِفِتْيانِهِ اجْعَلُوا بِضاعَتَهُمْ فِي رِحالِهِمْ [يوسف/ 62] ، والرِّحْلَةُ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 ؎ چونکہ ان کو سردی اور گرمی کے سفر کا شوق ہے۔ سردی میں یمن کی طرف جاتے ہیں تجارت کے لیے اور گرمی میں شام کی طرف اس شوق اور محبت قائم رکھنے کے لیے اصحاب فیل کو غارت کردیا اور اس گھر کو یعنی کعبہ کو بچا لیا جس کے سبب یہ امن سے گرمی سردی میں سفر کرتے اور نفع اٹھاتے ہیں۔ پھر اس گھر کے مالک کو کیوں نہیں پوجتے۔ 12 منہ
ترکیب ¦ لایلاف قریش بما یتعلق اللام فیہ وجوہ (1) انھا تتعلق بما قبلھا (2) متعلقہ بما بعدھا (3) لایتعلق بشیء فھی لام التعجب کمافی قولھم لزید وماصنعنابہ ای اعجبوامن شان زید و معنی الآیۃ اعجبوالایلاف قریش وھذا قول الاخفش والکسائی۔ علی الاولھی تتعلق بجعل والتقدیر جعلھم کعصف ماکول لایلٰف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ ۔ اِلٰـفِھِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَـآئِ وَالصَّیْفِ ۔ (قریش : 1، 2)
(اس لیے کہ اللہ نے قریش کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ الفت تجارتی سفر کی جاڑے اور گرمی کے موسم میں۔ )
ایلاف کا مفہوم اور حرف جار کے متعلق کی بحث
پہلی آیت پر حرف لام ترکیبِ نحوی کے اعتبار سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ کسی سابق فعل سے متعلق ہو یعنی اس کا تعلق کسی سابق مضمون کے ساتھ ہو۔ چناچہ علماء نے اس کے متعلق کے تعین کے سلسلے میں اختلاف کیا ہے۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہاں ایک جملہ محذوف ہے اِنَّا اَھْلَـکْنَا اَصْحَابَ الْفِیْلِیعنی ہم نے اصحاب الفیل کو اس لیے ہلاک کیا کہ قریش مکہ سردی اور گرمی دو سفروں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
فہم القرآن
ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے ابابیل کے ذریعے بیت اللہ اور قریش کی حفاظت فرمائی، لیکن اس کے باوجود قریش ” اللہ “ کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، اس لیے انہیں پھر احساس دلایا گیا ہے۔
عرب کے قبائل میں قریش سب سے معزز اور باثر قبیلہ تھا اور اسی کی ایک شاخ بنی ہاشم تھے جو سب سے ممتاز اور محترم سمجھتے جاتے تھے، اسی قبیلے کے سردار عبدالمطلب تھے ان کے چھوٹے بیٹے جناب عبداللہ کے گھر نبی آخر الزمان ﷺ پیدا ہوئے آپ کے خاندان کو بیت اللہ کی تولیّت اور حجاج کرام کی خدمت کا اعزاز حاصل تھا۔ جس بنا پر آپ ﷺ کا خاندان اہل مکہ کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے اس سورت میں قریش کو مخاطب کیا گیا ہے جس…
Read the full tafseer →2 : اٖلٰفِھِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآئِ وَالصَّیْفِ (یعنی جاڑے (سردیاں) اور گرمی کے سفر کے خوگر ہوگئے ہیں) یہاں ایلافؔ کو مطلق ذکر کیا۔ پھر اس کے بدلے رحلتین کو مقید کر کے لائے۔ تاکہ اس سے ایلاف کے معاملے کی بڑائی ظاہر ہو۔ اور اس کا عظیم نعمت ہونا یا ددلایا جائے۔
نحو : رحلۃ کا لفظ ایلافھمؔ کا مفعول بہٖ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور مراد اس سے رحلتی الشتاء والصیف (دوسفر گرمیوں اور سردیوں کے) التباس کا خطرہ نہ ہونے کی وجہ سے مفرد لائے۔ تثنیہ ذکر نہیں کیا۔
اسفارِ قریش :
قریش دو سفر کرتے۔ سردیوں میں یمن کا سفر کرتے اور گرمیوں میں شام کا سفر کرتے اور کھانے کا سامان لاتے اور تجارت کرتے ان کے یہ دونوں سفر…
Read the full tafseer →2 ۔” ایلافھم “ یہ پہلے ایلاف سے بدل ہے۔ ” رحلۃ الشتاء والصیف “…” رحلۃ “ مصدر کی بناء پر منصوب ہے۔ یعنی ان کا سفر کرنا گرمیوں اور سردیوں میں۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مکہ میں سردیاں گزارتے اور گرمیاں طائف میں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ حرم میں ٹھہریں اور اس گھر کے رب کی عبادت کریں اور دیگر حضرات نے کہا ہے ان کے لئے دو تجارتی سفر ہوتے تھے ہر سال میں۔ ان میں سے ایک سردیوں میں یمن کی طرف اس لئے کہ وہ گرم علاقہ تھا اور دوسرا گرمیوں میں شام کی طرف اور حرم خشک وادی تھی، اس میں کوئی کاشت نہ ہوتی تھی اور قریش کی معیشت ان کی تجارت پر منحصر تھی اور راستہ میں ان کو کوئی تنگ نہ کرتا تھا۔ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ ابی بن کعب نے الم ترکیف اور لایلف کو ایک سورة شمار کیا ہے 2 ؎ اس حالت میں لایلف کالام فجعلہم کعصف ماکول سے متعلق ہو کر سورة کے ایک ٹکڑے کے حاصل معنی یہ ہوئے کہ قریش کی تالیف کے لئے اصحاب فیل کو ہلاک کیا گیا تاکہ اصحاب فیل کے فساد کے سبب سے قریش کے قدیمی امن اور ان کے جاڑے گرمی کے سفر میں کوئی دقت نہ پیش آئے مگر باقی صحابہ کے نزدیک یہ دونوں سورتیں جدا جدا ہیں۔ اس حالت میں لایلاف کا لا فلیعبدوا سے متعلق ہوگا۔ اور دونوں حالتوں میں حاصل معنی تمام سورة کے یہ ٹھہریں گے کہ جس اللہ کے گھر کے خادم ہونے کے سبب سے قریش کو یہ عزت اور امن ہے کہ جاڑے کے موسم میں ملک یمن اور گرمی کے موسم میں ملک شام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ جار اور مجرور کا تعلق ماقبل سورت سے ہے یعنی ہم نے اصحاب فیل کے ساتھ جو کچھ کیا وہ قریش ان کے لیے امن ان کے مصالح کی درستی، تجارت اور کسب معاش کے لیے سردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں شام کی طرف ان کے سفر کی خاطر کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو ہلاک کردیا جنہوں نے ان کے بارے میں کسی برائی کا ارادہ کیا۔ عربوں کے دلوں میں حرم اور اہل حرم کے معاملے کو تعظیم بخشی، یہاں تک کہ عرب قریش کا احترام کرنے لگے قریش جہاں بھی سفر کا ارادہ کرتے تو عرب معترض نہ ہوتے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو شکر ادا کرنے کا حکم دیا۔
Read the full tafseer →(2) قریش کے دو عظیم الشان تجارتی سفروں کی تذکیر و یاد دہانی : سو قریش کو دو عظیم الشان تجارتی سفروں کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بوجہ اس کے ان کو مانوس کردیا جاڑے اور گرمیوں کے سفر سے، چناچہ سردیوں میں یہ لوگ جنوب عرب کے گرم علاقوں یمن کی طرف تجارتی سفر پر نکل جاتے، اور گرمیوں میں یہ لوگ شام و فلسطین وغیرہ کے شمالی عرب کے ٹھنڈے علاقوں کا رخ کرتے اور اپنے اہم محل وقوع میں آباد ہونے کے باعث یہ لوگ بحر احمر کی آبی گزرگاہ اور اس کے نشیب و فراز اور اس کے راستوں سے بھی پوری طرح واقف و آگاہ تھے، اور اس وجہ سے یہ لوگ اپنے تجارتی سفروں کے دوران بحر احمر کے ساتھ چلنے والی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
کعبۃ اللہ اور قبیلہ قریش
تشریح : مکہ بذات خود بےآب وگیاہ زمین کا علاقہ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے قریش کے قبیلہ کے دل میں تجارت کا خیال ڈال کر ان کو بھوک افلاس اور مشکل سے بچا لیا اور ان کو یہ عادت ڈال دی کہ سردیوں میں یمن کی طرف جو گرم ملک ہے اور گرمیوں میں شام کی طرف جو سرد ملک ہے تجارت کے لیے سفر کریں اور پھر متولی کعبہ ہونے کی وجہ سے ان کی عزت اور احترام میں اس قدر اضافہ کیا کہ کوئی ان پر حملہ نہ کرتا تھا بلکہ بڑی خوش دلی اور عزت سے ان کا استقبال کرتے تھے۔ اور یوں ان کو ہر قسم کے خطرہ سے محفوظ و مامون کردیا نہ ان کو بھوک اور غربت کا ڈر رہا اور نہ ہی حملہ آوروں اور جنگ و جدل کا ہی خوف رہا۔ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة القریش۔
آیات 1 تا 4۔
اللہ کا احسان ہے قریش پر کہ حدیث پاک کے مطابق تمام قریش کو فضیلت حاصل ہے پھر ان کو اللہ نے قوت برداشت دی اور خوگر کردیا گرمی سردی کے سفر سے کہ عرب میں تجارت ہی ذریعہ معاش تھا جس کے لیے سفرضروری تھا تو ان کو مزاجا یہ آسانیاں بخش دیں تو ان کو چاہیے کہ اس گھر یعنی کعبہ کے رب کی عبادت کریں جس نے حضرت ابراہیم کی دعا سے یہاں رزق کی فروانی کردی اور دنیا کی ہر نعمت مکہ مکرمہ میں پہنچائی اور اسے امن کا گھر بنادیا کہ کفار ومشرکین بھی احترام کرتے اور زیادتی نہ کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ف 1 قریش تاجر پیشہ تھے۔ سال میں وہ بغرض تجارت دو سفر کرتے تھے۔ ایک جاڑے میں یمن کی طرف اور دوسرا گرمی میں شام کی طرف جو سرسبز اور سرد ملک ہے۔ جہاں سے وہ گزرتے لوگ ان کو کعبہ کے خادم سمجھ کر انتہائی عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے اور ان کے جان و مال سے کسی قسم کا تعرض نہ کرتے … حالانکہ جزیرہ عرب میں ہر طرف لوٹ کھسوٹ اور چوری ڈکیتی کا بازار گرم رہتا تھا۔ قریش کو یہی احسان اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں یاد دلایا ہے کہ اسی گھر کی بدلوت تمہاری ساری عزت اور معاشی زندگی قائم ہے اور اسی کی بدلوت تمہیں امن اور چین نصیب ہے پھر تم اس کے مالک کی بندگی کیوں نہیں کرتے اور کیوں دوسروں کو اس کا شریک گرد ان کو ان…
Read the full tafseer →(106:2) الفھم رحلۃ الشتاء والصیف۔ یہ لایلف قریش سے بدل ہے یعنی ان کا سردیوں اور گرمیوں میں سفر کا خوگر ہونا۔
الفہم مضاف مضاف الیہ۔ ان کا خوگر ہونا۔
رحلۃ : (منصوب بوجہ ظرفیت) مضاف۔
الشتاء (جاڑے کا موسم ) مضاف الیہ۔
والصیف۔ واؤ عاطفہ، الصیف (گرمی کا موسم) مضاف الیہ۔ رحلۃ مضاف ای ورحلۃ الصیف : یعنی سردیوں اور گرمیوں کے موسم کا سفر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن۔
ایلاف۔ مائل ہوئے۔ رحلۃ۔ سفر کرنا۔ کوچ کرنا۔ الشتائ۔ سردی۔ جاڑا۔ الصیف۔ گرمی۔ اطعم۔ اس نے کھلایا۔ جوع۔ بھوک۔ امن۔ امن دیا۔
تشریح : جیسا کہ سورة قریش کے ابتدائی تعارف سے یہ معلوم ہوا کہ ” حجاز “ یا جزیرۃ العرب ایک ایسے خطے میں واقع تھا جہاں ضروریات زندگی میں سے کوئی چیز بھی پیدا نہیں ہوتی تھی بلکہ آس پاس کے ملکوں سے چیزیں لا کر ضروریات زندگی کو پورا کیا جاتا تھا۔ جزیرۃ العرب کے ایک طرف یمن اور دوسری طرف فلسطین اور آس پاس کے ملک تھے جو کسی وقت تجارت اور زراعت کی وجہ سے بہت ترقی یافتہ کہلاتے تھے۔ وہ کسی حد تک علم کی روشنی سے بھی آشنا تھے۔ یمن وہ علاقہ ہے جہاں صدیوں تک زبردست اور ترقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(ف 1) یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بیشمار ہیں ان میں سے ایک نعمت ظاہرہ یہ ہے کہ اس نے قریش کو ہر سال میں دوسفروں کی طرف رغبت دلائی ان کی محبت میں ڈال دی مکہ میں غلہ وغیرہ پیدا نہیں ہوتا، اس لیے جاڑے کے موسم میں یمن کا سفر کہ وہ ملک گرم ہے اور گرمی کے موسم میں شام کا جوسرد اور شاداب ملک ہے قریش تجارت کے لیے ان موسموں میں سفر کرتے تھے ہر جگہ کے لوگ ان کو اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر نہایت عزت واحترام کی نظر سے دیکھتے تھے اور ان کی خدمت کرتے اور ان کے جان ومال سے کچھ تعرض نہ کرتے تھے، اس طرح ان کو خاطر خواہ نفع ہوتا تھا، پھر امن وچین سے گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے، حرم کے چاروں طرف لوٹ کھسوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[1] مکہ میں غلہ وغیرہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے قریش کی عادت تھی کہ سال بھر میں تجارت کے لئے دو سفر کرتے تھے۔ جاڑوں میں یمن کی طرف کہ وہ ملک گرم ہے اور گرمیوں میں شام کی طرف جو سرد اور شاداب علاقہ ہے۔ عرب کے لوگ انہیں اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر نہایت عزت اور احترام کی نظر سے دیکھتے، ان کی خدمت کرتے اور ان کے جان و مال سے کچھ تعرض نہ کرتے۔ اس طرح قریش کو تجارت میں خاطر خواہ نفع ہوتا، پھر امن و چین سے گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے تھے۔ حرم کے چاروں طرف لوٹ کھسوٹ اور چوری ڈکیتی کا بازار گرم رہتا تھا لیکن کعبہ کے ادب سے کوئی چور یا ڈاکو قریش پر ہاتھ نہ ڈالتا تھا۔ اپنے اس انعام کو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة القریش
1: بیت اللہ کی وجہ سے قریش کی مرکزیت قائم تھی ۔ اس لئے گرمی اور جاڑے میں جہاں جاتے عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے کہ اللہ کے گھر کے مکین ہیں ۔ فرمایا کہ اس پڑوس کے سبب سے اللہ نے تمہیں قحط اور افلاس سے محفوظ رکھا ہے اور اس کی حفاظت کرکے تمہیں تباہی اور بربادی سے بچایا ہے ۔ کیا یہ نعمت اتنی بڑی نہیں ہے کہ تم کو احساس ہو اور تمہیں اللہ کے آستانہ شفقت و جلال پر جھکا دے ۔
حل لغات :۔ ابابیل ۔ صف بصف ۔ غول کے غول الدین ۔ روزجزا ۔
1؎ اس سورت کا تعلق سورة فیل سے ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ خدا نے ہاتھی والوں کو اسلئے خارت کیا ہے کہ قریش کو سفر میں کسی طرح کی مزاحمت نہ رہے ۔ تو انہیں بھی چاہیے…
Read the full tafseer →(2) جو سردی اور گرمی کے سفر سے ان کو مانوس کرنے کے سلسلے میں ہے - ہم نے ترجمہ بطور حاصل مطلب کے کیا ہے ورنہ لفظی ترجمہ تو ظاہر ہے کہ یوں ہے اس واسطے کہ مانوس رکھا قریش کو مانوس رکھنا ان کو سفر سے جاڑے اور گرمی کے …لیکن حاصل مطلب یہ ہے کہ قریش کو مانوس کو رکھا ہے، یعنی گرمی اور سردی میں سفر کرنے کو مانوس کردیا ہے۔ لا یلاف کے لام میں علماء کے چند قول ہیں ایک یہ کہ لام متعلق ہے فجعلھم کعصف ماکول کے دوسرے یہ کہ لام متعلق ہے مابعد کی آیت کے۔
تیسرے یہ کہ نہ مابعد کی آیت کے متعلق ہے نہ ماقبل کے اسی سنا پر ترجموں میں تھوڑا تھوڑا فرق ہوگیا ہے ہم نے خلیل اور سیبویہ کی ترکیب کو اختیار کیا ہے مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 2۔ حاصل یہ کہ مکہ میں غلہ وگیرہ پیدا نہیں ہوتا، اس لئے قریش کی عادت تھی کہ سال بھر میں تجارت کے لئے دو سفر کرتے، جاڑوں میں یمن کی طرف کہ وہ گرم ملک ہے اور گرمی میں شام کی طرف کہ وہ سرد سرزمین ہے اور لوگ ان کو اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر ان کی حرمت کرتے اور ان کے مال و جان سے کوئی تعرض نہ کرتا اور خاطر خواہ ان کو نفع ہوتا کہ گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے۔ اس سورت میں اسی واقعہ کا ذکر ہے اور چونکہ بیت اللہ کے سبب ہر جگہ ان کا احترام ہوتا تھا اس لئے لفظ رب کو ہذا البیت کی طرف مضاف کیا اور جوع میں طعام دینا اشارہ ہے حصول نفع کی طرف اور خوف سے امن دینا اشارہ ہے عدم تعرض کی طرف سفر میں بھی…
Read the full tafseer →ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر کی رغبت دلائی
2 ؎ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ یہ سال میں دو بار سفر کرتے تھے اور دو بار تجارتی سامان لے جاتے اور لے آتے تھے اور جاڑے اور گرمی کے موسموں پر الگ الگ علاقوں میں کاروبار کرنے کے لیے جاتے تھے اور انہیں کوئی نہیں روکتا تھا۔ یہ صحرا میں تھے اس کے باوجود دنیا بھر کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے تھے۔ یہ تو اس وقت کی حالت تھی لیکن آج بھی اس میں کچھ فرق نہیں پڑا بلکہ جوں جوں آبادی بڑھی توں توں حالات بھی ترقی کرتے گئے۔ اب بھی مکہ میں جا کر دیکھو کہ اشیائے خوردنی کے ڈھیر لگے رہتے ہیں اور تازہ پھلوں سے ان کی دکانیں بھری ہوتی ہیں تو انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس گھر…
Read the full tafseer →Verse [ 106:2] رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ (...their familiarity with the trips of winter and summer.) It is a known fact that Makkah is situated in an utterly bleak and arid valley where no agricultural produce grows, nor are there any orchards where the people of Makkah could reap any kind of fruits. Therefore, the founder of the House of Allah, Sayyidna Ibrahim Khalil ullah (علیہ السلام) prayed to Allah at the time of founding the city, thus: [ 2:126] رَبِّ اجْعَلْ هَـٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ (My Lord, make this a city of peace, and provide its…
Read the full tafseer →2 That is, the trade journeys. In summer the Quraish travelled northward to Syria and Palestine, for they are cool lands, and in winter southward to Yaman, etc. for they are warm.
Read the full tafseer →