106. Surah Quraish

قريشQuraysh · 4 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 106:1–3

لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader

قریش کے مانوس کرنے کے سبب

اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader

یعنی ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے سبب

فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader

لوگوں کو چاہئے کہ (اس نعمت کے شکر میں) اس گھر کے مالک کی عبادت کریں

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، چونکہ قریش مانوس ہوئے (دوسرے الفھم پہلے ایلاف) کی تاکید ہے یہ الف بالمد کا مصدر ہے یعنی سردیوں میں یمن کے سفر سے اور گرمیوں میں شام کے سفر سے مانوس، ہر سال دونوں تجارتی سفروں سے بایت اللہ کی خدمت کے لئے مکہ میں قیام پر مدد لیتے تھے جو کہ ان کے لئے موجب فخر تھی اور وہ نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے تھے، لہذا ان کو چاہیے کہ لایلف فلیعبدوا کے متعلق ہے اور فازائدہ ہے، اس گھر کے رب کی عبادت کریں، اس لئے کہ اس نے ان کو بھوک سے بچا کر کھانا کھلایا اور خوف سے بچا کر ان کو امن عطا کیا مکہ میں زراعت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو بھوک لاحق ہوجاتی تھی اور ہاتھیوں کے لشکر سے وہ خوف زدہ تھے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : لایلف قریش ایلف باب افعال کا مصدر ہے، مانوس رکھنا، الفت کرنا۔ قولہ : قریش قبیلہ عدنان کے قبیلہ کنانہ کی ایک شاخ ہے، جو خاندان ریش کے نام سے مشہور ہوئی، قریش کے مورث اعلیٰ نضر کو ہی قریش کہا جاتا ہے، لایلف جار مجرور سے مل کر کس کے متعلق ہے ؟ اس میں بہت اختلاف ہے۔ اول راجح قول لکھا جاتا ہے، راجح قول یہ ہے کہ یہ اپنے مابعد فلیعبدوا سے متعلق ہے، تقدیر عبارت یہ ہوگی فان لم یعبدواللہ لسائر نعمہ السابقۃ فلیعبدوہ لایلفھم رحلۃ الشتاء والصیف یعنی اگر قریش اللہ کی دیگر کامل نعمتوں کا شکریہ ادا نہیں کرتے تو کم از کم اس کی نعمت کے شکریہ میں اس گھر کے مالک کی بندگی کریں کہ جس نے ان کو سردی، گرمی کے ان دو سفروں کا خوگر بنایا جو ان کی خوشحالی کے ضامن ہیں۔ عام طور پر جار مجرور کا تعلق مقدم سے ہوا کرتا ہے لہٰذا لایلف کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے ماقبل سے متعلق ہو، اسی لئے متعلق میں متعدد اقوال ہیں، گزشتہ سورة فیل سے معنوی تعلق کی بناء پر بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ لایلف سے پہلے ایک جملہ محذوف ہے اور وہ انا اھلکنا اصحب الفیل ہے یعنی ہم نے اصحاب فیل کو اس لئے ہلاک کیا کہ قریش مکہ سردی اور گرمی کے دو سفروں کے عادی تھے، تاکہ ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ رہے اور سب کے دلوں میں ان کی عظمت پیدا ہوجائے، چناچہ اصحاب فیل کے ہلاک ہونے کے بعد نہ صرف یہ کہ قریش مکہ کی عظمت باقی رہی، بلکہ اس میں اور اضافہ ہوگیا او عرب کو پورا یقین ہوگیا کہ بیت اللہ واقعتہ اللہ کا گھر ہے، اور اگر خدانخواستہ ابرہہ بیت اللہ کو منہدم کردیتا تو قریش مکہ کی نہ صرف یہ کہ عظمت کم ہوجاتی، بلکہ ختم ہوجاتی اور بیت اللہ کے خادم اور مجاور ہونے کی وجہ سے جو قدر و قیمت ان کو حاصل تھی وہ سب خاک میں مل جاتی، رہزنی اور لوٹ مار کے جو واقعات غیروں کے ساتھ ہو رہے تھے، وہ قریش کے ساتھ بھی ہونے لگتے، لیکن اللہ نے بیت اللہ کی حفاظت فرما کر قریش کی عزت وقار میں اور چار چاند لگا دیئے اور ان کے لئے راستے پہلے سے بھی زیادہ مامون و محفوظ ہوگئے۔ اور بعض حضرات نے متعلق محذوف جملہ اعجبوا مانا ہے یعنی قریش کے معامل ہ سے تعجب کرو کہ وہ کس طرح سردی گرمی کے سفر آزادانہ بےخطر ہو کر کرتے ہیں۔ قولہ : ایلافھم یہ پہلے ایلف کی تاکید لفظی ہے بعض حضرات نے ثانی کو اول سے بدل قرار دیا ہے، رحلۃ پہلے ایلف کا مفعول بہ ہے۔ قولہ : فلیعبدوا اس میں فاء جزائیہ ہے، شرط محذوف ہے، تقدیر عابرت یہ ہے کہ ان لم یعبدوا لسائر نعمہ فلیعبدوہ لایلفھم رحلۃ الشتاء والصیف، فانھا اظھر نعمھم علیھم اور فلیعبدوا میں لام امر کا ہے۔ تفسیر و تشریح اس پر سب کا اتفاق ہے کہ معنی اور مضمون کے اعتبار سے یہ سورت سورة فیل ہی سے متعلق ہے اور شاید اسی وجہ سے بعض مصاحف میں ان دونوں سورتوں کو ایک ہی سورت کر کے لکھا گیا تھا، بایں طور کہ ان کے درمیان بسم اللہ نہیں لکھی تھی، مگر حضرت عثمان غنی ؓ نے جب تمام مصاحف کو جمع کر کے ایک نسخہ تیار فرمایا اور تمام صحابہ کرام ؓ کا اس پر اجماع ہوا، جس نسخہ قرآن کو جمہور کے نزدیک ” مصحف امام “ کہا جاتا ہے تو اس میں ان دونوں سورتوں کو الگ الگ ہی لکھا گیا ہے۔ رحملۃ الشتاء والصیف سردی اور گرمی کے سفروں سے مراد یہ ہے کہ گرمی کے زمانہ میں قریش کے سفر شام اور فلسطین کی طرف ہوتے تھے اس لئے کہ وہ ٹھنڈے علاقہ ہیں اور سردی کے زمانہ میں جنوب یعنی یمن کی طرف ہوتے تھے، اسی لئے کہ یہ گرم علاقہ ہے۔ رب ھذا البیت سے مراد بیت اللہ کا رب ہے رب ھذا البیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ قریش کو یہ نعمت اسی گھر کی بدولت حاصل ہوئی ہے اور اسی بیت کے رب نے انہیں اصحاب فیل کے حملے سے بچایا اور اسی گھر کی خدمت اور سد انت کی وجہ سے انہیں سارے عرب میں عزت ملی اور وہ پورے عرب میں بےخوف و خطر سفر کرتے تھے، پس ان کو جو کچھ نصیب ہوا وہ اس گھر کے رب کی بدلوت نصیب ہوا اس لئے انہیں اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔
Ayah 106:4

الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader

جس نے ان کو بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن بخشا

الذی اطعمھم من جوع اس میں اشارہ ہے کہ مکہ میں آنے سے پہلے قریش عرب میں منتشر تھے تو بھوکوں مر رہے تھے، یہاں آنے کے بعد ان کے لئے رزق کے دروازے کھلتے چلے گئے اور ان کے حق میں حضرت ابراہیم (رح) تعالیٰ کی دعاء حرف بحرف قبول ہوئی۔ وآمنھم من خوف میں دشمنوں، ڈاکوئوں کے خوف سے مامون ہونا بھی شامل ہے اور آخرت کے عذاب سے مامون ہونا بھی۔ (معارف)