106. Surah Quraish

قريشQuraysh · 4 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 106:1–4

لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader

اس واسطے کہ مانوس رکھا قریش کو

اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader

مانوس رکھنا ان کو سفر سے جاڑے کے اور گرمی کے

فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader

تو چاہیے کہ بندگی کریں اس گھر کے رب کی

الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader

جس نے ان کو کھانا دیا بھوک میں اور امن دیا ڈر میں5

5 مکہ میں غلہ وغیرہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے قریش کی عادت تھی کہ سال بھر میں تجارت کی قرض سے دو سفر کرتے تھے۔ جاڑوں میں یمن کی طرف کہ وہ ملک گرم ہے اور گرمیوں میں شام کی طرف جو سرد اور شاداب ملک ہے۔ لوگ ان کو اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر نہایت عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی خدمت کرتے اور ان کے جان و مال سے کچھ تعرض نہ کرتے۔ اس طرح ان کو خاطر خواہ نفع ہوتا۔ پھر امن و چین سے گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے تھے۔ حرم کے چاروں طرف لوٹ کھسوٹ اور چوری ڈکیتی کا بازار گرم رہتا تھا۔ لیکن کعبہ کے ادب سے کوئی چور، ڈاکو قریش پر ہاتھ صاف نہ کرتا تھا۔ اسی انعام کو یہاں یاد دلایا ہے کہ اس گھر کے طفیل تم کو روزی دی، اور امن چین دیا۔ " اصحاب فیل " کی زد سے محفوظ رکھا، پھر اس گھر والے کی بندگی کیوں نہیں کرتے اور اس کے رسول کو کیوں ستاتے ہو۔ کیا یہ انتہائی ناشکری اور احسان فراموشی نہیں۔ اگر دوسری باتیں نہیں سمجھ سکتے تو ایسی کھلی ہوئی حقیقت کا سمجھنا کیا مشکل ہے۔