106. Surah Quraish
قريشQuraysh · 4 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف : مکہ مکرمہ پہاڑوں سے گھری ہوئی وادی، ریت کے ٹیلوں اور صحراؤں سے ڈھکی ہوئی آبادی تھی جس میں سوائے بکریوں کے چرانے ، سوت کاتنے اور معمولی کھتی باڑی کے اور کوئی ذریعہ معاش نہ تھا۔ پانی کی شدید قلت اور کمی کی وجہ سے نہ ان کے باغ اور کھیتیاں تھیں جن سے وہ پھل اور پیداوار حاصل کرسکتے۔ ضروریات زندگی کو پورا کرنے کا اہم ترین ذریعہ تجارت اور آس پاس کے ملکوں کی تجارتی منڈیوں سے استعمال کی چیزیں لا کر فروخت کرنے پر تھا۔ اسی لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کو ” وادی غیر ذی زرع “ قرار دیا تھا یعنی ایسی وادی جس میں کوئی چیز اگتی نہ تھی۔ اس سب کے باوجود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعات کی برکت سے ” وارزق اھلہ من الثمرات ‘( اے اللہ یہاں کے رہنے والوں کو ہر طرح کے ثمرات (سامان رزق) عطا فرمائیے گا) ۔ اہل مکہ تجارت کے ذریعہ اپنا اور اپنے گھروالوں کا پیٹ پال لیا کرتے تھے۔ لیکن آئے روز کی لڑائیاں، ایک قبیلے کی دوسرے قبیلے کے ساتھ دشمنیاں، ہر طرف لوٹ مار اور قتل و غارت گریوں نے ہر شخص پر ایک خوف طاری کر رکھا تھا۔ بدامنی اور فسادات نے فقر و فاقے، بھوک اور افلاس کی انتہاؤں پر پہنچا دیا تھا یہاں تک کہ لوگ ضروری کپڑوں اور پورے لباس تک سے محروم ہوچکے تھے۔ پورے جزیرۃ العرب کا یہ حال تھا کہ حرمت والے مہینوں (رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم) کے سوا جس میں عرب والے جنگ اور قتل و غارت گری کو حرام اور ناجائز سمجھتے تھے دو ردور تک امن و سلامتی کا وجود نہ تھا۔ اسی لئے عکاظ کا میلہ اور ذی المجازا اور مجنہ کی منڈیاں ان چار مہینوں ہی میں لگا کرتی تھیں۔ حالانکہ ہر شخص اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے کہ اگر تجارت کرنے والوں کو راستے کا امن، سکون، سلامتی اور اطمینان حاصل نہ ہو تو وہ کسی قسم کی تجارت کر ہی نہیں سکتے۔ یہی حال جزیرۃ العرب کا تھا کہ راستے کا امن و سلامتی نہ ہونے کی وجہ سے ہر قافلہ خوف اور ڈر کی وجہ سے راتوں رات عرب کے علاقے سے نکل کر یمن، شام، فلسطین اور مصر کے ملکوں کا سفر اختیار کرتا تھا اور اسی طرح وہ قافلہ لزرتا کانپتا اور سلامی کی دعائیں کرتا ہو اواپس آیا کرتا تھا ۔ لیکن ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید ترین بدامنی، بھوک اور افلاس کے زمانہ میں بھی قریشیوں کا یہ حال تھا کہ وہ بغیر کسی خوف کے ہر موسم اور ہر ملک کا سفر کرتے رہتے تھے کیونکہ عرب کے جنگجو قبییلے بھی ” بنو قریش “ کو کچھ نہیں کہتے تھے کہ ان کو کچھ نہ کہو یہ ” اللہ کے گھرکے رکھوالے ہیں “۔ اس طرح قریش سردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں شام، فلسطین، مصر اور آس پاس کے ملکوں کا سفر بڑی آزادی کے ساتھ کیا کرتے تھے انہیں کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہوا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قریش کو یاد دلایا ہے کہ انہیں تجارت کی یہ سہولتیں ان کی کسی ذاتی صلاحیت کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کے گھر کی وجہ سے عطا کی گئی ہیں۔ بدامنی میں سکون اور سلامتی اور بھوک و افلاس میں رزق یہ محض اللہ کے فضل و کرم کی وجہ سے ہے۔ فرمایا کہ اے قریشیو ! تمہیں تو اسی ” رب البیت “ کی عبادت و بندگی کرنی چاہیے جس نے تمہیں اس حالت میں بھی ہزاروں نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ یہ انتہائی ناشکری کی بات ہے کہ جس اللہ نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں میں سراٹگھا کر چلنے کی توفیق دی ہے اسی اللہ کے دین سے سرکشی اختیار کی جائے۔
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader
قریش مائل ہوئے
اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader
ان کا سردی اور گرمی کے سفر سے مانوس ہونا
فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader
تو انہیں اس گھر (بیت اللہ) کے رب کی عبادت کرنا چاہیے
الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader
جس نے ان کو بھوک میں کھانا اور خوف میں امن دیا