106. Surah Quraish
قريشQuraysh · 4 ayahsانوار البیان
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader
قریش کے مانوس کرنے کے سبب
(106:1) لایلف قریش۔ اس پہلے حرف لام کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔
(1) عربی زبان میں ماہرین نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ یہ عربی محاورے کے مطابق تعجب کے معنی میں ہے۔
مثلا عرب کہتے ہیں لذید وما صنعنا بہ یعنی ذرا اس زید کو تو دیکھو کہ ہم نے اس کے ساتھ کیسا نیک سلوک کیا ہے۔ اور اس نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔
پس لایلف کا مطلب یہ ہوا کہ قریش کا رویہ بڑا ہی قابل تعجب ہے کہ اللہ ہی کے فضل کی بدولت وہ منتشر ہونے کے بعد جمع ہوئے اور ان تجارتی سفروں کے خوگر ہوگئے جو ان کی خوشحالی کا ذریعہ ہوئے ہیں۔ اور وہ پھر بھی اللہ ہی کی بندگی سے روگردانی کر رہے ہیں۔ یہ رائے اخفش، کسائی، فراء کی ہے اور اس رائے کو ابن جریر نے ترجیح دیتے ہوئے لکھا ہے کہ :۔
عرب اس لام کے بعد جب کسی بات کا ذکر کرتے ہیں تو وہی بات یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی سمجھی جاتی ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے جو شخص کوئی رویہ اختیار کر رہا ہے وہ قابل تعجب ہے۔
(2) بخلاف نمبر (1) متذکرہ بالا کے خلیل بن احمد۔ سیبویہ اور زمخشری کہتے ہیں کہ :۔ یہ لام تعلیل ہے اور اس کا تعلق آگے فقرے فلیعبدوا رب ھذا البیت سے ہے۔
مطلب اس کا یہ ہے کہ یوں تو قریش پر اللہ کی نعمتوں کا کوئی شمار نہیں ہے لیکن کسی اور نعمت پر نہیں تو اسی ایک نعمت کی بناء پر وہ اللہ کی بندگی کریں کہ اس کے فضل سے وہ ان تجارتی سفروں کو خوگر ہوئے۔ کیونکہ یہ بذات خود ان پر اس کا بڑا حسان ہے۔ (تفہیم القرآن)
(3) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لایلف کو سابق سورة (الفیل) کے آخری حصہ سے وابستہ قرار دیا جائے۔ اس صورت میں دونوں سورتوں کا معنوی ربط اس طرح ہوگا کہ اللہ نے اصحاب فیل کو ہلاک کردیا اور ان کو کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح بنادیا تاکہ گرمی اور جاڑے کے سفر میں قریش کے ساتھ لوگوں کو مانوس بنادیا جائے۔
یعنی اس کی علت یہ ہے کہ قریش کی تعظیم اور پاسداری کے لئے اللہ نے اصحاب فیل کو تباہ کیا۔ تاکہ اس خبر کو سن کر لوگ قریش کی تعظیم اور پاسداری کریں۔ اور اس طرح ہر سفر میں قریش کو امن حاصل ہو۔ اور کوئی ان پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کرے۔
اس معنوی تعلق کی وجہ سے کچھ لوگ قائل ہیں کہ سورة فیل اور یہ سورت دونوں ایک ہی ہیں۔ حضرت ابی بن کعب ؓ کے مصحف میں بھی ان دونوں سورتوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔ اس توجیہہ پر لایلف کا لام جعلہم سے متعلق ہوگا۔ (تفسیر مظہری)
لیکن جمہور صحابہ وغیرہم کے نزدیک یہ ایک الگ سورت ہے ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ (الخازن)
موجودہ عثمانی قرآن کی ترتیب میں یہ سورة سورة فیل سے علیحدہ ہے اور دونوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم کا فاصلہ بھی موجود ہے۔ (ابن کثیر)
ایلف قریش۔ مضاف مضاف الیہ۔ یہ الف سے ہے جس کے معنی خوگر ہونے مانوس ہونے۔ پھٹنے کے بعد مل جانے اور کسی چیز کی عادت اختیار کرنے کے ہیں اردو میں الفت اور مالوف کے الفاظ بھی اسی سے ماخوذ ہیں۔ (تفہیم القرآن)
ایلف (افعال) کے وزن پر مصدر ہے۔ الفت کرنا۔ مانوس رکھنا۔ ہم آہنگی پیدا کرنا۔ مالوف کرنا۔ (راغب)
اگر لایلف کا لام تعجب کے لئے یا جعلہم سے متعلق مانا جائے تو فاء عاطفہ اور سببیہ ہوگی۔ اور اگر لام کو یعبدوا سے متعلق کیا جاوے توزائدہ ہوگی۔
قریش۔ نضر بن کنانہ کی اولاد کو قریش کہتے ہیں رسول کریم ﷺ اسی قبیلہ سے ہیں۔ آپ کا نسب نامہ یہ ہے :۔ محمد ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غائب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ۔
لایلف قریش۔ قریش کے مالوف کرنے کے سبب میں، قریش کے دلوں میں محبت پیدا کرنے کی بنا پر۔ قریش کے خوگر ہونے کی بنا پر۔ قریش کے شوق کے لئے ۔
اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader
یعنی ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے سبب
(106:2) الفھم رحلۃ الشتاء والصیف۔ یہ لایلف قریش سے بدل ہے یعنی ان کا سردیوں اور گرمیوں میں سفر کا خوگر ہونا۔
الفہم مضاف مضاف الیہ۔ ان کا خوگر ہونا۔
رحلۃ : (منصوب بوجہ ظرفیت) مضاف۔
الشتاء (جاڑے کا موسم ) مضاف الیہ۔
والصیف۔ واؤ عاطفہ، الصیف (گرمی کا موسم) مضاف الیہ۔ رحلۃ مضاف ای ورحلۃ الصیف : یعنی سردیوں اور گرمیوں کے موسم کا سفر۔
فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader
لوگوں کو چاہئے کہ (اس نعمت کے شکر میں) اس گھر کے مالک کی عبادت کریں
(106:3) فلیعبدوا۔ فعل امر کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ عبادۃ (باب نصر) مصدر سے چاہیے کہ وہ عبادت کریں۔
رب ھذا البیت : ھذا اسم اشارہ۔ البیت مشار الیہ۔ دونوں مل کر مضاف الیہ۔ رب مضاف۔ (مفعول فعل لیعبدوا کا) اس گھر کے رب کی۔
الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader
جس نے ان کو بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن بخشا
(106:4) الذی اطعمہم من جوع وامنھم من خوف : الذی اسم موصول۔ اطعمہم ۔۔ الخ صلہ۔ موصول و صلہ مل کر رب کی صفت۔ اطعمھم : اطعم ماضی واحد مذکر غائب اطعام (افعال) مصدر سے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اس نے ان کو کھانا کھلایا۔ جوع بھوک۔ امن ماضی واحد مذکر غائب ایمان (افعال) مصدر سے جس کے معنی امن دینے کے بھی آتے ہیں۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اس نے ان کو امن دیا۔
ترجمہ :۔ جس نے ان کو کھانے کو دیا اور خوف سے امن میں رکھا۔
جوع ۔ خوف دونوں کا صیغہ نکرہ۔ بھوک اور خوف کی شدت اور اہمیت کے اظہار کے لئے ہے۔ (الکشاف، تفسیر کبیر)