106. Surah Quraish

قريشQuraysh · 4 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 106:1

لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader

قریش کے مانوس کرنے کے سبب

لایلف قریش . کسائی اور اخفش کے نزدیک لام تعجب کے لیے ہے اور اس کا تعلق فعل محذ وف سے ہے یعنی
Ayah 106:2

اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader

(یعنی) ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے سبب

ایلاف قریش پر تعجب کرو۔ زجاج نے کہا : اس لام کا رخ بعد والے فعل (فلیعبدوا) کی طرف ہے ‘ یعنی ایلاف قریش کی وجہ سے ان کو اس کعبہ کے مالک کی عبادت کرنی چاہیے۔ فلیعبدوا میں فاء جزائیہ ہے کیونکہ پہلے کلام میں شرط کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان پر اللہ کی نعمتیں بیشمار ہیں اگر وہ سب نعمتوں کی وجہ سے عبادت نہیں کرتے تو خیر کم از کم ایلاف قریش کی نعمت کی وجہ سے تو اس گھر کے مالک کی عبادت کرنی چاہیے۔ فاء کو جزائیہ قرار دینے پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ماء قبل جزاء معمول اور جزاء کا کوئی حصہ عامل بن جائے گا۔ (یعبدوا عامل اور لایلاف معمول ہوگا) اس لیے زیادہ مناسب یہ ہے کہ فاء کو زائد قرار دیا جائے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لایلاف کو سابق سورت کے آخری حصہ سے وابستہ قرار دیا جائے۔ جیسے کسی شعر کا دوسرا مصرع پہلے مصرع سے معنوی ربط رکھتا ہے اور بغیر اس ربط کے اس کا معنی صحیح نہیں ہوتا۔ اس صورت میں دونوں سورتوں کا معنوی ربط اس طرح ہوگا کہ اللہ نے اصحاب فیل کو ہلاک کردیا اور ان کے کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح بنا دیا تاکہ گرمی اور جاڑے کے سفر میں قریش کے ساتھ لوگوں کو مانوس بنا دیا جائے۔ یعنی اس کی علت یہ ہے کہ قریش کی پاسداری کے لیے اللہ نے اصحاب فیل کو تباہ کیا۔ اس خبر کو لوگ سنیں اور قریش کی پوری تعظیم و پاسداری کریں اور اس طرح ہر سفر میں قریش کو امن حاصل ہو اور ان پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کرے۔ اسی معنوی تعلق کی وجہ سے کچھ لوگ قائل ہیں کہ سورة فیل اور یہ سورت دونوں ایک ہی ہیں۔ حضرت ابی بن کعب کے مصحف میں بھی ان دونوں سورتوں میں کوئی فصل نہیں تھا ‘ اس توجیہ پر لایلاف کا لام جعلھُم سے متعلق ہوگا۔ نضیر بن کنانہ کی اولاد کو قریش کہا جاتا ہے جو نضر کی اولاد میں نہیں ہے ‘ اس کو قریشی نہیں کہا جاتا۔ قریش کا لفظ قرشٌ سے بنا ہے۔ تقرشٌ کا معنی ہے کمائی کرنا ‘ جمع کرنا۔ فلانٌ یقرش لاھلہٖ : فلاں شخص اپنے اہل و عیال کے لیے کمائی کرتا ہے۔ فلانٌ ینقرشّ : فلاں شخص کمائی کرتا ہے۔ قریشی بھی تاجر تھے اور مال جمع کرنے کے بڑے حریص ‘ اس لیے ان کو قریش کہا گیا۔ معاویہ ؓ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے قریش کی وجۂ تسمیہ پوچھی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قریش ایک بہت بڑا دریائی جانور ہوتا ہے ‘ جس طرف سے اس کا گزر ہوتا ہے اور کوئی موٹا ‘ دبلا جانور سامنے پڑجاتا ہے تو وہ اس کو کھا لیتا ہے مگر اس کو کوئی نہیں کھا سکتا ‘ وہ سب پر غالب ہے ‘ کوئی اس پر غالب نہیں۔ قاموس میں ہے : قرشہٗ ۔ اس کو کاٹا اور ادھر ادھر سے جمع کیا اور ایک کو دوسرے کے ساتھ ضم کردیا۔ قریش بھی سب حرم میں جمع تھے۔ یہ بھی وجۂ تسمیہ ہوسکتی ہے کہ قریش تجارتی سامان جمع کرتے اور خریدتے تھے ‘ یا یہ وجہ ہے کہ نضر بن کنانہ اپنے ایک کپڑے میں لپٹا ہوا بیٹھا تھا ‘ تو لوگوں نے کہا : تقرشَ ‘ یا یہ وجہ ہے کہ نضر بن کنانہ جب اپنی قوم کے پاس آیا تو لوگوں نے کہا : یہ تو قریش اونٹ یعنی قوی اونٹ ہے ‘ یا یہ وجہ ہے کہ یہ لوگ حاجیوں کی حاجتیں پوری کرتے تھے یا لفظ قریش ‘ قرش کی تصغیر ہے اور قرش ایک دریائی جانور ہوتا ہے جس سے تمام سمندری جانور ڈرتے ہیں۔ فائدہ حضرت واثلہ بن اسقع کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اولاد اسماعیل میں سے اللہ نے کنانہ کو چن لیا اور بنی کنانہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو اور بنی ہاشم میں سے مجھے منتخب فرما لیا۔ (رواہ البغوی) حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لوگ اس معاملہ میں قریش کے تابع ہیں۔ ان میں سے مسلمان (قریشی مسلمانوں کے) اور ان میں سے کافر (قریشی کافروں کے) ۔ (متقق علیہ) حضرت جابر ؓ کی مرفوع روایت ہے کہ لوگ خیر و شر (اچھائی ‘ برائی یا سلام و کفر) میں قریش کے تابع ہیں۔ (رواہ مسلم) میں کہتا ہوں شاید اوّل حدیث میں استعداد قریش کی قوّت کی طرف اشارہ ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ اکثر (بڑے بڑے) صحابہ ؓ اور اولیاء قریش میں ہی ہوئے اور دوسری حدیث سے مراد ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت قریش میں ہوئی تو سب سے اوّل ایمان اور احکام کے مکلف بھی قریش ہی ہوئے۔ باقی لوگ ان کے پیچھے مکلف قرار پائے۔ اللہ نے فرمایا : وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ الاَّ بِلِسَانِِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ ۔ دوسری آیت میں ہے : وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ۔ لہٰذا جو قریشی ایمان لائے اور رسول اللہ ﷺ کے اتباع میں طریقۂ حسنہ پر چلے ‘ ان کو اپنے کئے کا اجر بھی ملے گا اور پیچھے آنے والے نیک لوگوں کا بھی۔ اسی لیے یہ لوگ انبیاء کے بعد مرتبہ میں سب لوگوں سے زائد ہیں اور اگر ان میں سے کسی نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت سے انکار کیا اور حضور ﷺ کے خلاف راستہ پر چلا اور اسی کفر و مخالفت کی حالت میں مرگیا تو اس پر اپنے کفر کا بھی عذاب ہوگا اور بعد کو آنے والے کافروں کا بھی ‘ جیسا کہ قابیل سب سے پہلا قاتل تھا اور اس پر ہر دوزخی (قاتل) کا عذاب بھی پڑے گا۔ مگر اس سے اصلی دوزخی کے عذاب میں کمی نہیں آئے گی۔ یہ حدیث بیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کی ہے اور ایک حدیث سورة والشمس میں گزر چکی ہے کہ قابیل سب سے زیادہ بدبخت انسان ہوگا۔ حضرت ابن عمر ؓ کی مرفوع روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : قریش میں سے جب تک دو آدمی بھی رہیں گے ‘ یہ امر ان میں رہے گا۔ (متفق علیہ) معاویہ ؓ نے کہا : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے ‘ جب تک قریش دین کو قائم رکھیں گے ‘ یہ امر ان میں رہے گا جو کوئی ان سے دشمنی کرے گا اللہ اس کو منہ کے بل گرا دے گا۔ (بخاری) میں کہتا ہوں کہ حدیث میں امر سے مراد ہے خلافت اور حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث کی غرض (آئندہ کی) خبر دینا نہیں ہے بلکہ قریش کی خلافت کا حکم مقصود ہے اور معاویہ ؓ کی حدیث کا مقصد اس شخص کے لیے بددعا ہے جو قریشی عادل خلیفہ کا باغی ہو۔ حضرت سعد ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص قریش کو ذلیل کرنے کا ارادہ کرے گا ‘ اللہ اس کو ذلیل کرے گا۔ (ترمذی) حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے قریش کو سات خصوصیات کی وجہ سے فضیلت عطا فرمائی ہے ‘ نہ ان سے پہلے یہ خصوصیات کسی کو عطا فرمائیں ‘ نہ آئندہ کسی کو عطا فرمائے گا۔ اللہ نے قریش کو یہ فضیلت عطا فرمائی کہ میں ان میں پیدا ہوا ‘ نبوت ان میں ہوئی۔ کعبہ کی دربانی ان کے لیے مخصوص ہوئی ‘ حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت ان کو دی گئی۔ اصحاب فیل پر ان کو کامیابی عطا ہوئی۔ دس برس تک سوائے قریش کے کسی نے اللہ کی عبادت نہیں کی (یعنی نبوت کے ابتدائی دس سال میں اور کوئی مسلمان نہیں ہوا) اور قریش کے متعلق قرآن کی ایک سورت نازل کی ‘ جس میں ان کے علاوہ کسی اور کا ذکر نہیں کیا اور وہ سورت لایلف قریشٍ ہے۔ (رواہ الحاکم والطبرانی والبخاری فی التاریخ) حضرت زبیر بن العوام سے بھی یہ حدیث مروی ہے مگر اس میں حضور ﷺ نے اپنا قریش میں پیدا ہونا ذکر نہیں فرمایا بلکہ یوں فرمایا کہ ان میں نبوت اور خلافت اور کعبہ کی دربانی ہے۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط) الفھم رحلۃ الشتاء والصیف . یہ ایلٰف قریش سے بدل ہے اور رحلۃ الشتاء والصیف کی قید ایلٰف کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے لگائی گئی۔ قریش پر یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت تھی کیونکہ حرم کی وادی بےآب وگیاہ وادی تھی ‘ نہ وہاں کھیتی ہوتی تھی ‘ نہ مویشی کی پیداوار ‘ اگر گرمی و سردی میں ان کے تجارتی سفر نہ ہوتے تو نہ وادی میں رہنا ممکن تھا ‘ نہ معاش کا حصول۔ پھر اللہ نے مکہ کو حرم محترم بنا دیا تھا۔ حرم سے باہر ادھر ادھر لوٹ مار ہوتی مگر قریش کی ایذا رسانی سے لوگ اعراض کرتے تھے اور کہتے تھے : یہ حرم خدا کے باشندے ہیں ‘ خانۂ خدا کے مجاور ہیں ‘ ان کو ایذاء نہ پہچانی چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قریش کے لیے گرمی و سردی میں تجارتی سفر ناممکن تھا۔ یمن میں سردی زیادہ نہیں ہوتی تھی۔ اس لیے سردی کے موسم میں قریش تجارت کرنے کے لیے یمن کو جاتے تھے اور شام کا ملک ٹھنڈا تھا ‘ اس لیے گرمی میں شام کو جاتے تھے اور دونوں ملکوں میں تجارت کر کے نفع حاصل کرتے اور معاش پیدا کرتے تھے۔ عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ قریش بڑے دکھ اور فاقوں میں مبتلا تھے۔ ہاشم نے سب کو سردی و گرمی میں سفر کرنے پر متفق کیا جو تجارتی منافع ہوتے وہ مالدار اور نادار کو بانٹ دیئے جاتے اور نادار بھی دولت مندوں کے برابر ہوجاتے تھے۔ کلبی کا بیان ہے سب سے اوّل ہاشم بن عبد مناف شام سے گیہوں اونٹوں پر لاد کر لایا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یمن و شام کی آمدورفت سے قریش کو تکلیف ہوتی تھی۔ یمن میں تبادلہ اور حرش کا علاقہ بڑی پیداوار کا تھا۔ وہاں سے کچھ لوگ تو کشیوں پر لاد کر سمندری راستہ سے لا کر جدہ پر اتار دیتے تھے اور کچھ لوگ اونٹوں اور گدھوں پر بار کر کے خشکی کے راستے سے محصب میں پہنچا دیتے تھے اور جدہ اور محصب سے قریش مکہ کو لے آتے تھے۔ اسی طرح اہل شام اپنے مالک سے غلّہ لا کر ابطح تک پہنچا دیتے تھے اور قریش ابطح سے مکہ لے آتے تھے۔ اس طرح قریب کے مقامات سے ہی مکہ والوں کو غلہ مل جاتا تھا اور دونوں سفروں کی ضرورت نہیں رہی تھی ‘ اس لیے اللہ نے ان کو عبادت کا حکم دیا اور فرمایا :
Ayah 106:3

فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader

لوگوں کو چاہیئے کہ (اس نعمت کے شکر میں) اس گھر کے مالک کی عبادت کریں

فلیعبدوا . ان کو عبادت کرنی چاہیے۔ اگر لایلاف کا لام جعلھم سے متعلق مانا جائے یا تعجب کے لیے کہا جائے تو فاء عطف اور سببیت کے لیے ہوگی اور اگر لام کو یعبدوا سے متعلق کیا جائے تو فاء زائد ہوگی یا شرط محذوف کی جزاء ہوگی۔ رب ھذا البیت . کعبہ کے مالک کی یعنی اللہ کی جو پروردگار ہے اور بیت اللہ قریش کے مامون رہنے کا سبب ہے۔
Ayah 106:4

الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader

جس نے ان کو بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن بخشا

الذی اطعمھم من جوع وامنھم من خوف یعنی اصحاب فیل کے خوسے محفوظ کردیا ‘ یا حرم کا باشندہ بنا کر دوران سفر میں لوٹے جانے سے یا خود اپنی بستی میں غارت ہوجانے سے مامون کردیا۔ ضحاک اور ربیع اور سفیان نے کہا : اللہ نے ان کو تباہی اور بربادی کے خوسے امن دے دیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی : رب اجعل ھذا بلدا امنا وارزق اھلہ من الثمرات۔ اس دعا کی برکت سے ان کے شہر میں کوئی بربادی اور تباہی نہیں ہوگی۔ جوزی نے حصن حصین میں ابو الحسن قزوینی کی موقوف روایت بیان کی ہے کہ دشمن وغیرہ کا خوف ہو تو لایلٰف قریش پڑھنے سے ہر برائی سے امن مل جاتا ہے۔ جوزی نے کہا : یہ مجرب ہے۔ میں کہتا ہوں ‘ میرے شیخ نے مجھے حکم دیا تھا کہ ہر مصیبت کے دفع کے لیے تمام خوفناک واقعات میں یہ سورت پڑھا کروں۔ میں نے اس کا تجربہ کیا اور صحیح پایا۔ الحمد للہ سورة ” لایلاف قریش “ ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ