Quraish 106:1

106. Quraishقريش

Quraysh · Meccan · 4 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

106:1

لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ ۟ۙلِاِيۡلٰفِ قُرَيۡشٍۙ

قریش کے مانوس کرنے کے سبب

— Fateh Muhammad Jalandhari

For the accustomed security of the Quraysh -

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 31 of juz

Read the whole surah · Surah Quraish

All translations of 106:1

قریش کے مانوس کرنے کے سبب

— مولانا فتح محمد جالندہری

قریش کے مانوس کرنے کے لئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چونکہ قریش کے لوگ عادی ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس لیے کہ قریش کو میل دلایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

قریش کو رغبت دلانے کے سبب سے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

قریش کے دل میں محبت ڈالنے کی وجہ سے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چونکہ (اللہ نے) قریش کو مانوس کردیا تھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بوجہ اس وابستگی کے جو قریش کو ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

چونکہ (اللہ تعالیٰ نے) قریش کو مانوس کردیا

— مولانا اسحاق مدنی

قریش کو خوگر ہونے کی بناء پر

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

قریش کے مانوس رکھنے کی وجہ سے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیونکہ قریش مانوس ہوئے

— محترمہ رفعت اعجاز

Since the Quraysh became accustomed,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Because of the familiarity of the Quraish,

— Muhammad Taqi Usmani

Because of the familiarity of the Quraish,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

For the Ilaf of the Quraysh.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

For the accustomed security of the Quraysh -

— Saheeh International

For God's favors to them during their summer and winter journeys,

— Muhammad Sarwar

For the protection of the Qureaish--

— Muhammad Habib Shakir

For the keeping of the Quraish

— Abdul Majid Daryabadi

For the covenants (of security and safeguard enjoyed) by the Quraish,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 106:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

امن وامان کی ضمانت : موجودہ عثمانی قرآن کی ترتیب میں یہ سورت سورة فیل سے علیحدہ ہے اور دونوں کے درمیان بسم اللہ کی آیت کا فاصلہ ہے مضمون کے اعتبار سے یہ سورت پہلی سے ہی متعلق ہے جیسے کہ محمد بن اسحاق عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم وغیرہ سے تصریح کی ہے اس بنا پر معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے مکہ سے ہاتھیوں کو روکا اور ہاتھی والوں کو ہلاک کیا یہ قریشیوں کو الفت دلانے اور انہیں اجتماع میں ساتھ باامن اس شہر میں رہنے سہنے کے لیے تھا اور یہ مراد بھی کی گئی ہے کہ یہ قریشی جاڑوں میں کیا اور گرمیوں میں کیا دور دراز کے سفر امن وامان سے طے کرسکتے تھے کیونکہ مکہ جیسے محترم شہر میں رہنے کی وجہ سے ہر جگہ ان کی عزت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القریش 1 اصل الفاظ ہیں لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ۔ ایلاف الف سے ہے جس کے معنی خوگر ہونے، مانوس ہونے، پھٹنے کے بعد مل جانے، اور کسی چیز کی عادت اختیار کرنے کے ہیں۔ اردو زبان میں الفت اور مالوف کے الفاظ بھی اسی سے ماخوذ ہیں۔ ایلاف سے پہلے جو لام آیا ہے اس کے متعلق عربی زبان کے بعض ماہرین نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ یہ عربی محاورے کے مطابق تعجب کے معنی میں ہے۔ مثلا عرب کہتے ہیں کہ لزید و ما صنعنا بہ، یعنی ذرا اس زید کو دیکھو کہ ہم نے اس کے ساتھ کیسا نیک سلوک کیا اور اس نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔ پس لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ کا مطلب یہ ہے کہ قریش کا رویہ بڑا ہی قابل تعجب ہے کہ اللہ ہی کے فضل کی بدولت وہ منتشر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر چونکہ خوگور ہوگئے ہیں یعنی جاڑے اور گرمی کے سفر کے خوگر ہوگئے ہیں تو (اس نعمت کے شکر میں) انکو چاہئے کہ اس خانہ کعبہ کے مالک کی عبادت کریں جس نے ان کو بھوک میں کھانے کو دیا اور خوف سے ان کو امن دیا۔ معارف و مسائل اس پر تو سب مفسرین کا اتفاق ہے کہ معنی اور مضمون کے اعتبار سے یہ سورت سورة فیل ہی سے متعلق ہے اور شاید اس وجہ سے بعض مصاحف میں ان دونوں کو ایک ہی سورت کر کے لکھا گیا تھا، دونوں کے درمیا نبسم اللہ نہیں لکھی تھی مگر حضرت عثمان غنی ؓ، نے جب اپنے زمانے میں تمام مصاحف قرآن کو جمع کر کے ایک نسخہ تیار فرمایا اور تمام صحابہ کرام کا اس پر اجماع ہوا۔ اسی نسخہ قرآن کو جمہور کے نزدیک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ایلاف کا مفہوم: ’الف المکانَ واٰلفہ ایلافا‘ کے معنی ہوں گے ’تعودہ واستانس بہ‘ وہ اس جگہ کا عادی اور اس سے مانوس ہے۔ ’اٰلفتہ مکان کذا ایلافا‘ کے معنی ہوں گے ’جعلتہ یا لفہ‘ میں نے اس جگہ سے اس کو مانوس کر لیا۔ ’الفہ موالفۃ والافا‘ کے معنی ہیں ’اٰنَسَہ دعا شرہ‘ وہ اس سے مانوس ہوا، اس کے ساتھ رہا سہا۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ’ایلاف‘ ہو یا ’اِلاف‘ دونوں ہی صورتوں میں معنی کے لحاظ سے کوئی خاص فرق نہیں ہو گا۔ اس کا اصلی مفہوم اُنس، تعلق اور وابستگی ہے۔ اگرچہ ’لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ‘ کے مجمل الفاظ سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ قریش کی کس چیز کے ساتھ وابستگی زیربحث ہے لیکن آگے ’رِحْلَۃَ الشِّتَآءِ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

(1) ایلاف کے معنی ہیں مانوس اور عادی بنانا، یعنی اس کام سے کلفت اور نفرت کا دور ہوجانا قریش کا گزران کا ذریعہ تجارت تھی، سال میں دو مرتبہ ان کا تجارتی قافلہ باہر جاتا اور وہاں سے اشیاء تجارت لاتا، سردیوں میں یمن، جو گرم علاقہ تھا اور گرمیوں میں شام کی طرف جو ٹھنڈا تھا خانہ کعبہ کے خدمت گزار ہونے کی وجہ سے اہل عرب انکی عزت کرتے تھے۔ اسلیے یہ قافلے بلا روک ٹوک سفر کرتے، اللہ تعالیٰ اس سورت میں قریش کو بتلا رہا ہے کہ تم جو گرمی، سردی میں دو سفر کرتے ہو تو ہمارے اس احسان کی وجہ سے کہ ہم نے تمہیں مکہ میں امن عطا کیا ہے اور اہل عرب میں معزز بنایا ہوا ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہوتی تو تمہارا سفر ممکن نہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

رب اجعل .................................... الثمرت (126:2) ” اے میرے رب ، اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اس کے باشندوں کو پھلوں کی روزی دے “۔ تو اللہ نے اس گھر کو امن کا گھر بنادیا اور ڈکٹیٹروں اور جباروں کے تسلط سے آزاد رکھا۔ جو شخص بھی اس گھر میں پناہ لیتا وہ امن پاتا اور اس کے اردگرد جو اقوام وافراد رہتے تھے ، وہ ہر وقت خائف رہتے تھے اور اس گھر کو یہ اعزاز اس وقت بھی حاصل رہا جب اس کے باسیوں نے بت پرستی شروع کردی۔ شرک کا ارتکاب شروع کیا اور اپنے رب کے ساتھ ساتھ انہوں نے خانہ کعبہ میں بت بھی رکھ دیئے اور یہ اعزاز اللہ نے اس لئے بحال رکھا کہ اس گھر سے اللہ نے کچھ کام لینا تھا۔ پھر جب اصحاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–4

5 مکہ میں غلہ وغیرہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے قریش کی عادت تھی کہ سال بھر میں تجارت کی قرض سے دو سفر کرتے تھے۔ جاڑوں میں یمن کی طرف کہ وہ ملک گرم ہے اور گرمیوں میں شام کی طرف جو سرد اور شاداب ملک ہے۔ لوگ ان کو اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر نہایت عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی خدمت کرتے اور ان کے جان و مال سے کچھ تعرض نہ کرتے۔ اس طرح ان کو خاطر خواہ نفع ہوتا۔ پھر امن و چین سے گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے تھے۔ حرم کے چاروں طرف لوٹ کھسوٹ اور چوری ڈکیتی کا بازار گرم رہتا تھا۔ لیکن کعبہ کے ادب سے کوئی چور، ڈاکو قریش پر ہاتھ صاف نہ کرتا تھا۔ اسی انعام کو یہاں یاد دلایا ہے کہ اس گھر کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 2{ اٖلٰفِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآئِ وَالصَّیْفِ۔ } ”یعنی سردیوں اور گرمیوں کے سفر سے ان کو مانوس رکھنے کی وجہ سے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے قریش کے دلوں میں سردی اور گرمی کے تجارتی سفروں کی الفت و محبت پیدا کردی۔ اِیْلاف : اَلِفَ یَأْلَفُ اَلْفًا سے باب افعال کا مصدر ہے ‘ یعنی مانوس کرنا اور خوگر بنانا۔ اردو میں الفت اور مالوف کے الفاظ بھی اسی سے ماخوذ ہیں۔ سورة قریش کی پہلی دو آیات میں قریش کی اس اجارہ داری کی طرف اشارہ ہے جو حضور ﷺ کی پیدائش سے قبل زمانے میں انہیں مشرق اور مغرب کی تجارت پر حاصل تھی۔ اس زمانے میں مشرق بعید کے ممالک ہندوستان ‘ جاوا ‘ ملایا ‘ سماٹرا ‘ چین وغیرہ سے بحر ہند کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 ایلاف کے دو پہلو :۔ اِیْلاَفٌ کا مادہ الف ہے اور اس سے الفت مشہور و معروف لفظ ہے۔ الفت کا معنی ایسی محبت ہے جو خیالات میں ہم آہنگی کی وجہ سے ہو (مفردات) اور الف کے معنی کسی چیز کے منتشر اجزاء کو اکٹھا کرکے انہیں ترتیب کے ساتھ جوڑ دینا۔ کسی کتاب کی تالیف کا بھی یہی مفہوم ہے۔ گویا ایلاف کے مفہوم میں الفت، موانست اور قریش کے منتشر افراد کی اجتماعیت کے سب مفہوم پائے جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے ایلاف کے دو مختلف پہلو ہیں۔ ایک کا پس منظر یہ ہے کہ قبیلہ قریش حجاز میں متفرق مقامات پر بکھرا ہوا تھا۔ سب سے پہلے قصی ّبن کلاب (رسول اللہ ﷺ کے جد اعلیٰ ) کو یہ خیال آیا کہ اپنے قبیلہ کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ یعنی کم از کم ایسی ایسی نعمتوں کے شکریہ ہی میں قریش کو چاہیے تھا کہ جس مقدس مکان کے وہ ہمسایہ ومجاور ہیں، اور جس کی دینی ودنیوی دونوں قسم کی برکتوں سے وہ برابر فیضیاب ہوتے رہتے ہیں، اس کے مالک و خالق کو تو پہچانتے، اور شرک چھوڑ کر توحید کی راہ اختیار کرتے۔ توحید تو بہرحال مذہب حق ہے، اور ہر قسم کے دلائل سے ثابت، لیکن مامتا کے مارے ماں باپ اولاد کو راہ راست پر لانے کے لئے انتہائے شفقت میں صرف دلائل عقلی ونقلی ہی پر اکتفاء نہیں کرتے، بلکہ اولاد کو غیرت دلانے کے لئے طرح طرح کے واسطے بھی دلایا کرتے ہیں، پھر حق تعالیٰ کی شفقت تو شفقت والدین سے کوئی نسبت ہی نہیں رکھتی، قرآن اس مؤثر طریقہ ترغیب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–3

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، چونکہ قریش مانوس ہوئے (دوسرے الفھم پہلے ایلاف) کی تاکید ہے یہ الف بالمد کا مصدر ہے یعنی سردیوں میں یمن کے سفر سے اور گرمیوں میں شام کے سفر سے مانوس، ہر سال دونوں تجارتی سفروں سے بایت اللہ کی خدمت کے لئے مکہ میں قیام پر مدد لیتے تھے جو کہ ان کے لئے موجب فخر تھی اور وہ نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے تھے، لہذا ان کو چاہیے کہ لایلف فلیعبدوا کے متعلق ہے اور فازائدہ ہے، اس گھر کے رب کی عبادت کریں، اس لئے کہ اس نے ان کو بھوک سے بچا کر کھانا کھلایا اور خوف سے بچا کر ان کو امن عطا کیا مکہ میں زراعت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو بھوک لاحق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لایلف قریش . کسائی اور اخفش کے نزدیک لام تعجب کے لیے ہے اور اس کا تعلق فعل محذ وف سے ہے یعنی

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) قریش کو حکم دیجیے تاکہ یہ توحید کو اختیار کرلیں یا یہ کہ میری نعمتوں کو ان کے سامنے بیان کیجیے تاکہ یہ توحید کی طرف مائل ہوجائیں جیسا کہ یہ سردیوں میں سفر یمن اور گرمیوں میں سفر شام کے عادی ہوگئے ہیں یا یہ کہ جیسا کہ قریش پر گرمی اور سردی کا سفر گراں نہیں اسی طرح ان پر وحدانی تبھی گراں نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–4

(1) لایلف قریش…:”الف یالف الفا“ (س)”ہ“ کسی سے مانوس ہونا، اس سے محبت کرنا۔ ”الف یولف ایلافاً“ (افعال) کسی کو کسی چیز سے مانوس کردینا، اس کے دل میں اس کی محبت ڈلا دینا۔ ”قریش“ ”قرش“ کی تصغیر ہے۔”قرش یفرش فرشا“ (ض، ن) جمع کرنا، قریش مشہور قبیلہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے۔ یہ نام ان کے حرم میں جمع ہونے کی وجہ سے رکھا گیا۔ یہ لوگ مختلف جگہوں میں بکھرے ہوئے تھے۔ قصی بن کلاب (رسول اللہ ﷺ کے جد اعلیٰ) کو خیال آیا کہ اپنے سارے قبیلے کو مکہ میں اکٹھا کرنا چاہیے، چناچہ انہوں نے سارے قبیلے کو مکہ میں جمع کردیا، اس لئے ان کا نام ”ممع“ پڑگیا، اس طرح کعبہ کی تولیت بھی ان کے ہاتھ آگئی۔ یا یہ نام سمندر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے قریش کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ سورت معنی میں ماقبل سورت کے ساتھ ملی ہوئی ہے یعنی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے اصحاب فیل کو ہلاک کیا تاکہ قریش باہم الفت کرنے لگیں یا باہم متفق ہوجائیں یا قریش امن میں ہوجائیں اور اپنے دونوں سفروں سے مانوس ہوجائیں۔ جنہوں نے دونوں سورتوں کو ایک سورت شمار کیا ہے وہ حضرت ابی بن کعب ہیں، ان کے مصحف میں دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ سفیان بن عیینہ نے کہا : ہمارا ایک امام تھا جو دونوں میں کوئی فرق نہیں کرتا تھا وہ ان دونوں کو اکٹھا پڑھا کرتا تھا۔ عمرو بن میمون اودی نے کہا : ہم نے مغرب کی نماز حضرت عمر بن خطاب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لایلف قریش مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ البخاری فی تاریخہ والحاکم وصححہ والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی نے الخلافیات میں ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قریش کو سات خصلتوں کے سبب فضیلت دی کہ ان سے پہلے کسی کو یہ فضیلت نہیں دی۔ اور نہ ان کے بعد کسی کو یہ فضیلت دیں گے۔ وہ یہ ہیں بیشک میں ان میں سے ہوں اور ایک روایت میں یوں ہے کہ نبوت ان میں ہے۔ اور خلافت ان میں ہے اور بیت اللہ کی دربانی ان میں ہے اور سقایہ حاجیوں کو پانی پلانا ان میں ہے اور ان کا مدد کرنا ہاتھی والوں پر۔ اور ان کی اللہ کی عبادت کرنا سات سال تک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ : (ہم نے ہلاک کیا اصحاب فیل کو) قریش کو مانوس کرنے کے واسطے ] ترکیب : (آیت۔ 1) اِیْلَافٌ باب افعال کا مصدر ہے۔ اس پر حروف جارہ کا لِ داخل ہوا جس نے اس کو جَرّ دی ہے اور مضاف ہونے کی وجہ سے اس کی تنوین ختم ہوئی ہے۔ قُرَیْشٍ اس کا مضاف الیہ ہے۔ بات کا مرکب جاری سے شروع ہونا تقاضا کرتا ہے کہ اس سے پہلے کچھ محذوف مانا جائے۔ چناچہ مفسرین کے ایک گروہ نے پچھلی سورت کے ساتھ معنوی تعلق کی بنا پر یہاں اِنَّا اَھْلَکْناھُمْ یا اِنَّا اَھْلَکْنَا اَصحٰبَ الْفِیْلِ کو محذوف مانا ہے۔ دوسرے گروہ نے اس کا تعلق اس جملہ سے مانا ہے جو آگے آ رہا ہے یعنی فَلْیَعْبُدْوْا ہم پہلی رائے کو ترجیح…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ میں اپنے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) سے کعبہ تعمیر کرایا اور اس کا حج مشروع فرمایا زمانہ اسلام سے پہلے بھی اہل عرب اس کا حج کرتے تھے اگرچہ مشرک تھے اور چونکہ مکہ مکرمہ میں کعبہ شریف واقع تھا جسے بیت اللہ کے نام سے لوگ جانتے اور مانتے تھے اس لیے قریش مکہ کی پورے عرب میں بڑی عزت تھی اہل عرب لوٹ مار کرنے کا مزاج رکھتے تھے لیکن اہل مکہ پر کبھی کوئی حملہ نہیں کرتے تھے اسی کو سورة العنکبوت میں فرمایا : ﴿اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ يُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ 1ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ۠ يُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ 0067﴾ (کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

انعامات خداوندی برقریش بصورت عطارزق وامن وتسہیل وسائل سفر : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” لایلف قریش ..... الی ....... وامنھم من خوف “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں اہل مکہ پر خداوند عالم کے اس خاص انعام وکرم کا ذکر تھا کہ مکہ والوں کو اور بیت اللہ کو ابرہہ کے حملہ سے محفوظ رکھا، اور اہل مکہ کی یہ حفاظت تکوینی طور پر صرف اس بناء پر تھی کہ نبی آخرالزمان ﷺ کا ظہور قدسی ہونے والا تھا اب اس سورت میں اہل مکہ اور قریش پر مزید یہ انعام بیان کیا جارہا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انکے لئے سفر کی سہولتیں عطا فرمائی تھیں اور موسمی اعتلافات کے لحاظ سے گرمیوں اور سردیوں میں ان کے دو سفر ہوتے تھے کیونکہ مکہ تو وادی غیر ذی زرع…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” لایلف قریش “ لام بمعنی الی ہے اور اس کا متعلق محذوف ہے ای انظروا۔ ایلفہم، ایلف قریش سے بدل ہے۔ رحلۃ منصوب بنزع خافض ای لاجل، یعنی قریش نے موسم سرما اور گرما کے تجارتی سفروں کیلئے دوسرے ملکوں سے جو معاہدے کر رکھے ہیں ذرا ان کی طرف تو دیکھو کہ وہ طلب مال کیلئے موسم سرما میں یمن کی طرف اور موسم گرما میں ملک شام کی طرف سفر کرتے ہیں جس طرح آج کل پیروں کے دورے ہوتے ہیں (الشیخ (رح) تعالی) ۔ یا لام گذشتہ سورت میں جعل کے متعلق ہے قالہ الزجاج وابو عبیدۃ (کبیر، روح) ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کو اس لیے ہلاک کیا تاکہ بیت اللہ کی وجہ سے ان کی عزت و عظمت دوسرے ملکوں میں بدستور بحال…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الرقیش ہے۔ مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی چار آیتیں ہیں۔ یہ سورة سترہ الفاظ اور چوہتر حروف پر مشتمل ہے۔ پہلی یہ آیت میں لفظ قریش آیا ہے۔ جس سے سورة کا نام لیا گیا ہے۔ پچھلی سورة کے ساتھ ربط یہ سورة پہلی سورة کے ساتھ مربوط ہے۔ سورة فیل میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو بیت اللہ شریف کو گرا کر اس کی بےحرمتی کرنا چاہتے تھے ، وہ لوگ ہاتھیوں سمیت بہت بڑا لشکر لے کر آئے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو بالکل ناکام بنا دیا۔ اور نہ صرف وہ اپنے مقصد میں ناکام ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے حملہ آواروں کو سزا دی اس دور میں قریش…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِاِيْلٰفِ قُرَيْـــشٍ۝ 1 ۙ ألف الأَلِفُ من حروف التهجي، والإِلْفُ : اجتماع مع التئام، يقال : أَلَّفْتُ بينهم، ومنه : الأُلْفَة ويقال للمألوف : إِلْفٌ وأَلِيفٌ. قال تعالی: إِذْ كُنْتُمْ أَعْداءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ [ آل عمران/ 103] ، وقال : لَوْ أَنْفَقْتَ ما فِي الْأَرْضِ جَمِيعاً ما أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ [ الأنفال/ 63] . والمُؤَلَّف : ما جمع من أجزاء مختلفة، ورتّب ترتیبا قدّم فيه ما حقه أن يقدّم، وأخّر فيه ما حقّه أن يؤخّر . ولِإِيلافِ قُرَيْشٍ [ قریش/ 1] مصدر من آلف . والمؤلَّفة قلوبهم : هم الذین يتحری فيهم بتفقدهم أن يصيروا من جملة من وصفهم الله، لَوْ أَنْفَقْتَ ما فِي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

1 ؎ چونکہ ان کو سردی اور گرمی کے سفر کا شوق ہے۔ سردی میں یمن کی طرف جاتے ہیں تجارت کے لیے اور گرمی میں شام کی طرف اس شوق اور محبت قائم رکھنے کے لیے اصحاب فیل کو غارت کردیا اور اس گھر کو یعنی کعبہ کو بچا لیا جس کے سبب یہ امن سے گرمی سردی میں سفر کرتے اور نفع اٹھاتے ہیں۔ پھر اس گھر کے مالک کو کیوں نہیں پوجتے۔ 12 منہ ترکیب ¦ لایلاف قریش بما یتعلق اللام فیہ وجوہ (1) انھا تتعلق بما قبلھا (2) متعلقہ بما بعدھا (3) لایتعلق بشیء فھی لام التعجب کمافی قولھم لزید وماصنعنابہ ای اعجبوامن شان زید و معنی الآیۃ اعجبوالایلاف قریش وھذا قول الاخفش والکسائی۔ علی الاولھی تتعلق بجعل والتقدیر جعلھم کعصف ماکول لایلٰف…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ ۔ اِلٰـفِھِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَـآئِ وَالصَّیْفِ ۔ (قریش : 1، 2) (اس لیے کہ اللہ نے قریش کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ الفت تجارتی سفر کی جاڑے اور گرمی کے موسم میں۔ ) ایلاف کا مفہوم اور حرف جار کے متعلق کی بحث پہلی آیت پر حرف لام ترکیبِ نحوی کے اعتبار سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ کسی سابق فعل سے متعلق ہو یعنی اس کا تعلق کسی سابق مضمون کے ساتھ ہو۔ چناچہ علماء نے اس کے متعلق کے تعین کے سلسلے میں اختلاف کیا ہے۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہاں ایک جملہ محذوف ہے اِنَّا اَھْلَـکْنَا اَصْحَابَ الْفِیْلِیعنی ہم نے اصحاب الفیل کو اس لیے ہلاک کیا کہ قریش مکہ سردی اور گرمی دو سفروں کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–4

فہم القرآن ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے ابابیل کے ذریعے بیت اللہ اور قریش کی حفاظت فرمائی، لیکن اس کے باوجود قریش ” اللہ “ کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، اس لیے انہیں پھر احساس دلایا گیا ہے۔ عرب کے قبائل میں قریش سب سے معزز اور باثر قبیلہ تھا اور اسی کی ایک شاخ بنی ہاشم تھے جو سب سے ممتاز اور محترم سمجھتے جاتے تھے، اسی قبیلے کے سردار عبدالمطلب تھے ان کے چھوٹے بیٹے جناب عبداللہ کے گھر نبی آخر الزمان ﷺ پیدا ہوئے آپ کے خاندان کو بیت اللہ کی تولیّت اور حجاج کرام کی خدمت کا اعزاز حاصل تھا۔ جس بنا پر آپ ﷺ کا خاندان اہل مکہ کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے اس سورت میں قریش کو مخاطب کیا گیا ہے جس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قریش پر انعامات : 1 : لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ (چونکہ قریش خوگر ہوگئے) یہ فلیعبدوا کے متعلق ہے۔ ان کو حکم دیا گیا کہ ان کو عبادت اسی ہی کی کرنی چاہیے اس لئے کہ وہ دوسفروں سے بڑے مانوس ہیں۔ فلیعبدواؔ پر فاء تو اس لئے لائی گئی ہے کیونکہ کلام میں شرط کا معنی پایا جاتا ہے یعنی ان پر اللہ تعالیٰ کی لا تعداد نعمتیں ہیں۔ پس اگر وہ دیگر نعمتوں کی وجہ سے عبادت نہیں کرتے۔ تو ان کو اس ایک بڑی عظیم الشان نعمت کی وجہ سے عبادت کرنا چاہیے۔ نمبر 2۔ فجعلھم کعصف ماکول کے متعلق ہے۔ لا یلاف قریش یعنی یہ ہلاکت اس انس کی وجہ سے ہے اور یہ اسی طرح ہے جیسے شعر میں تضمین لگائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ شعر کا معنی ماقبل سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” لایلف قریش “ ابوجعفر نے ” لیلاف “ بغیر ہمزہ کے ” الافھم “ تخفیف کو طلب کرنے کے لئے پڑھا ہے اور ابن عامر (رح) نے ” لالاف “ ہمزہ مختلس کے ساتھ اس کے بعد یاء کے بغیر پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ہمز ہ مشبعہ (اشباع کے ساتھ) اور اس کے بعد یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ابوجعفر کے علاوہ سب ” ایلافھم “ میں متفق ہیں کہ یہ ہمزہ کے بعد یاء ہے مگر عبدالوہاب بن فلیج نے ابن کثیر سے پڑھا ہے۔ ” الفھم “ لام کے سکون کے ساتھ بغیر یاء کے اور ان میں سے بعض نے سورة الفیل اور اس سورت کو ایک شمار کیا ہے ان میں سے ابی بن کعب ؓ بھی ہیں، ان دونوں سورتوں میں ان کے مصحف میں کوئی فصل نہیں ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ لام ”…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ ابی بن کعب نے الم ترکیف اور لایلف کو ایک سورة شمار کیا ہے 2 ؎ اس حالت میں لایلف کالام فجعلہم کعصف ماکول سے متعلق ہو کر سورة کے ایک ٹکڑے کے حاصل معنی یہ ہوئے کہ قریش کی تالیف کے لئے اصحاب فیل کو ہلاک کیا گیا تاکہ اصحاب فیل کے فساد کے سبب سے قریش کے قدیمی امن اور ان کے جاڑے گرمی کے سفر میں کوئی دقت نہ پیش آئے مگر باقی صحابہ کے نزدیک یہ دونوں سورتیں جدا جدا ہیں۔ اس حالت میں لایلاف کا لا فلیعبدوا سے متعلق ہوگا۔ اور دونوں حالتوں میں حاصل معنی تمام سورة کے یہ ٹھہریں گے کہ جس اللہ کے گھر کے خادم ہونے کے سبب سے قریش کو یہ عزت اور امن ہے کہ جاڑے کے موسم میں ملک یمن اور گرمی کے موسم میں ملک شام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–2

بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ جار اور مجرور کا تعلق ماقبل سورت سے ہے یعنی ہم نے اصحاب فیل کے ساتھ جو کچھ کیا وہ قریش ان کے لیے امن ان کے مصالح کی درستی، تجارت اور کسب معاش کے لیے سردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں شام کی طرف ان کے سفر کی خاطر کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو ہلاک کردیا جنہوں نے ان کے بارے میں کسی برائی کا ارادہ کیا۔ عربوں کے دلوں میں حرم اور اہل حرم کے معاملے کو تعظیم بخشی، یہاں تک کہ عرب قریش کا احترام کرنے لگے قریش جہاں بھی سفر کا ارادہ کرتے تو عرب معترض نہ ہوتے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو شکر ادا کرنے کا حکم دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(1) قریش کے لیے انعام و احسان خداوندی کی تذکیر و یاد دہانی : سو قریش کے لیے اللہ تعالیٰ کے خاص احسان اور اس کے تقاضے کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بوجہ قریش کے مانوس کردیے جانے کے، یعنی اس قادر مطلق سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے اپنی بےپایاں رحمت و عنایت اور حکمت بالغہ سے ان کو ان سفروں سے مانوس کردیا، اور ان کی الفت ان کے اندر رکھ دی تاکہ اس طرح یہ قسما قسم کے فائدے حاصل کریں اور منافع کمائی، الاف اور ایلاف کا اصل مفہوم انس، تعلق اور وابستگی ہے، سو اس سورة کریمہ سے قریش کو یہ یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کو پورے ملک میں جو عزت و وقار حاصل ہے اور جس کے نتیجے میں ان کو یہ غیر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

کعبۃ اللہ اور قبیلہ قریش تشریح : مکہ بذات خود بےآب وگیاہ زمین کا علاقہ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے قریش کے قبیلہ کے دل میں تجارت کا خیال ڈال کر ان کو بھوک افلاس اور مشکل سے بچا لیا اور ان کو یہ عادت ڈال دی کہ سردیوں میں یمن کی طرف جو گرم ملک ہے اور گرمیوں میں شام کی طرف جو سرد ملک ہے تجارت کے لیے سفر کریں اور پھر متولی کعبہ ہونے کی وجہ سے ان کی عزت اور احترام میں اس قدر اضافہ کیا کہ کوئی ان پر حملہ نہ کرتا تھا بلکہ بڑی خوش دلی اور عزت سے ان کا استقبال کرتے تھے۔ اور یوں ان کو ہر قسم کے خطرہ سے محفوظ و مامون کردیا نہ ان کو بھوک اور غربت کا ڈر رہا اور نہ ہی حملہ آوروں اور جنگ و جدل کا ہی خوف رہا۔ تو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–4

سورة القریش۔ آیات 1 تا 4۔ اللہ کا احسان ہے قریش پر کہ حدیث پاک کے مطابق تمام قریش کو فضیلت حاصل ہے پھر ان کو اللہ نے قوت برداشت دی اور خوگر کردیا گرمی سردی کے سفر سے کہ عرب میں تجارت ہی ذریعہ معاش تھا جس کے لیے سفرضروری تھا تو ان کو مزاجا یہ آسانیاں بخش دیں تو ان کو چاہیے کہ اس گھر یعنی کعبہ کے رب کی عبادت کریں جس نے حضرت ابراہیم کی دعا سے یہاں رزق کی فروانی کردی اور دنیا کی ہر نعمت مکہ مکرمہ میں پہنچائی اور اسے امن کا گھر بنادیا کہ کفار ومشرکین بھی احترام کرتے اور زیادتی نہ کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 13 شاہ صاحب لکھتے ہیں ” حضرت سے بارہویں پشت میں ایک شخص تھا نضحہ بن کنایہ اس کی اولاد قریش ہیں، سب جمع تھے مکہ میں۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(106:1) لایلف قریش۔ اس پہلے حرف لام کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) عربی زبان میں ماہرین نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ یہ عربی محاورے کے مطابق تعجب کے معنی میں ہے۔ مثلا عرب کہتے ہیں لذید وما صنعنا بہ یعنی ذرا اس زید کو تو دیکھو کہ ہم نے اس کے ساتھ کیسا نیک سلوک کیا ہے۔ اور اس نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔ پس لایلف کا مطلب یہ ہوا کہ قریش کا رویہ بڑا ہی قابل تعجب ہے کہ اللہ ہی کے فضل کی بدولت وہ منتشر ہونے کے بعد جمع ہوئے اور ان تجارتی سفروں کے خوگر ہوگئے جو ان کی خوشحالی کا ذریعہ ہوئے ہیں۔ اور وہ پھر بھی اللہ ہی کی بندگی سے روگردانی کر رہے ہیں۔ یہ رائے اخفش، کسائی، فراء کی ہے اور اس رائے کو ابن جریر نے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–4

لغات القرآن۔ ایلاف۔ مائل ہوئے۔ رحلۃ۔ سفر کرنا۔ کوچ کرنا۔ الشتائ۔ سردی۔ جاڑا۔ الصیف۔ گرمی۔ اطعم۔ اس نے کھلایا۔ جوع۔ بھوک۔ امن۔ امن دیا۔ تشریح : جیسا کہ سورة قریش کے ابتدائی تعارف سے یہ معلوم ہوا کہ ” حجاز “ یا جزیرۃ العرب ایک ایسے خطے میں واقع تھا جہاں ضروریات زندگی میں سے کوئی چیز بھی پیدا نہیں ہوتی تھی بلکہ آس پاس کے ملکوں سے چیزیں لا کر ضروریات زندگی کو پورا کیا جاتا تھا۔ جزیرۃ العرب کے ایک طرف یمن اور دوسری طرف فلسطین اور آس پاس کے ملک تھے جو کسی وقت تجارت اور زراعت کی وجہ سے بہت ترقی یافتہ کہلاتے تھے۔ وہ کسی حد تک علم کی روشنی سے بھی آشنا تھے۔ یمن وہ علاقہ ہے جہاں صدیوں تک زبردست اور ترقی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–4

(ف 1) یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بیشمار ہیں ان میں سے ایک نعمت ظاہرہ یہ ہے کہ اس نے قریش کو ہر سال میں دوسفروں کی طرف رغبت دلائی ان کی محبت میں ڈال دی مکہ میں غلہ وغیرہ پیدا نہیں ہوتا، اس لیے جاڑے کے موسم میں یمن کا سفر کہ وہ ملک گرم ہے اور گرمی کے موسم میں شام کا جوسرد اور شاداب ملک ہے قریش تجارت کے لیے ان موسموں میں سفر کرتے تھے ہر جگہ کے لوگ ان کو اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر نہایت عزت واحترام کی نظر سے دیکھتے تھے اور ان کی خدمت کرتے اور ان کے جان ومال سے کچھ تعرض نہ کرتے تھے، اس طرح ان کو خاطر خواہ نفع ہوتا تھا، پھر امن وچین سے گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے، حرم کے چاروں طرف لوٹ کھسوت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[1] مکہ میں غلہ وغیرہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے قریش کی عادت تھی کہ سال بھر میں تجارت کے لئے دو سفر کرتے تھے۔ جاڑوں میں یمن کی طرف کہ وہ ملک گرم ہے اور گرمیوں میں شام کی طرف جو سرد اور شاداب علاقہ ہے۔ عرب کے لوگ انہیں اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر نہایت عزت اور احترام کی نظر سے دیکھتے، ان کی خدمت کرتے اور ان کے جان و مال سے کچھ تعرض نہ کرتے۔ اس طرح قریش کو تجارت میں خاطر خواہ نفع ہوتا، پھر امن و چین سے گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے تھے۔ حرم کے چاروں طرف لوٹ کھسوٹ اور چوری ڈکیتی کا بازار گرم رہتا تھا لیکن کعبہ کے ادب سے کوئی چور یا ڈاکو قریش پر ہاتھ نہ ڈالتا تھا۔ اپنے اس انعام کو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–4

سورة القریش 1: بیت اللہ کی وجہ سے قریش کی مرکزیت قائم تھی ۔ اس لئے گرمی اور جاڑے میں جہاں جاتے عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے کہ اللہ کے گھر کے مکین ہیں ۔ فرمایا کہ اس پڑوس کے سبب سے اللہ نے تمہیں قحط اور افلاس سے محفوظ رکھا ہے اور اس کی حفاظت کرکے تمہیں تباہی اور بربادی سے بچایا ہے ۔ کیا یہ نعمت اتنی بڑی نہیں ہے کہ تم کو احساس ہو اور تمہیں اللہ کے آستانہ شفقت و جلال پر جھکا دے ۔ حل لغات :۔ ابابیل ۔ صف بصف ۔ غول کے غول الدین ۔ روزجزا ۔ 1؎ اس سورت کا تعلق سورة فیل سے ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ خدا نے ہاتھی والوں کو اسلئے خارت کیا ہے کہ قریش کو سفر میں کسی طرح کی مزاحمت نہ رہے ۔ تو انہیں بھی چاہیے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–4

ف 2۔ حاصل یہ کہ مکہ میں غلہ وگیرہ پیدا نہیں ہوتا، اس لئے قریش کی عادت تھی کہ سال بھر میں تجارت کے لئے دو سفر کرتے، جاڑوں میں یمن کی طرف کہ وہ گرم ملک ہے اور گرمی میں شام کی طرف کہ وہ سرد سرزمین ہے اور لوگ ان کو اہل حرم اور خادم بیت اللہ سمجھ کر ان کی حرمت کرتے اور ان کے مال و جان سے کوئی تعرض نہ کرتا اور خاطر خواہ ان کو نفع ہوتا کہ گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے۔ اس سورت میں اسی واقعہ کا ذکر ہے اور چونکہ بیت اللہ کے سبب ہر جگہ ان کا احترام ہوتا تھا اس لئے لفظ رب کو ہذا البیت کی طرف مضاف کیا اور جوع میں طعام دینا اشارہ ہے حصول نفع کی طرف اور خوف سے امن دینا اشارہ ہے عدم تعرض کی طرف سفر میں بھی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قریش کے دلوں کو مانوس کرنے کے لیے 1 ؎ قریش کیا ہیں ؟ قریش عدنان کے قبیلہ کنایہ کی ایک شاخ تھی جو دنیا میں قریش کے نام سے مشہور ہوئی ۔ اسلام سے پہلے تمام قبائل عدنان پر اس کو برتری حاصل تھی اور طلوع اسلام کے بعد تمام امت اسلامیہ نے اس کی عظمت تسلیم کرلی ۔ نبی اعظم و آخر ﷺ سے قریش کے مؤرث اعلیٰ تک گیارہ پشتیں ہیں اور اس سے اوپر عدنان تک دس پشتیں ہیں ۔ عبد اللہ ، عبد المطلب و شیبہ ، ہاشم ، عمرو ، عبدمناف ( مغیرہ) قصیٰ ، کلاب ، مرۃ ، کعب ، لوی ، غالب ، فہر جن کا لقب قریش ہے۔ فہر کے اوپر کی پشتیں اسی طرح ہیں کہ مالک نفر ، کنانہ ، خزیمہ ، مدرکہ ، الیاس ، نضر ، نزار ، معد ، عدنان ہے۔ قبائل قریش کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The Subject-matter of Surah Al-Fil and Surah Al-Quraish All commentators concur that the subject-matter of the two Surahs is so closely related that in some of the copies of the Qur'an they had been written as a single Surah without the insertion of bismillah between them. But when Sayyidna ` Uthman ؓ compiled a standard copy of the Holy Qur'an with the consensus of all the companions of the Holy Prophet ﷺ ، he separated these two Surahs and inserted bismillah between them, and the two Surahs. Lexical Analysis لِإِيلَافِ قُرَ‌يْشٍ (Because of the familiarity of the Quraish 106:1).…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 The word ilaf, as used in the original is from alf which means to be habituated and accustomed to be reunited after breaking up, and to adopt something as a habit. About the lam that is prefixed to ilaf, some Arabists have expressed the opinion that it is to express surprise and wonder. Thus, Li-ilaf-i Quraish in means: "How surprising is the conduct of Quraish! It is only by virtue of Allah's bounty that they are reunited after their dispersion and have become accustomed to the trade journeys which have brought them their prosperity,. and yet from Allah's worship and service they are…

Read the full tafseer →