فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ ۟۠فَجَعَلَهُمۡ كَعَصۡفٍ مَّاۡكُوۡلٍ
تو ان کو ایسا کر دیا جیسے کھایا ہوا بھس
— Fateh Muhammad Jalandhari
And He made them like eaten straw.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 30 of juzع
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ ۟۠فَجَعَلَهُمۡ كَعَصۡفٍ مَّاۡكُوۡلٍ
تو ان کو ایسا کر دیا جیسے کھایا ہوا بھس
— Fateh Muhammad Jalandhari
And He made them like eaten straw.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 30 of juzع
Read the whole surah · Surah Al-Fil
پھر اُن کا یہ حال کر دیا جیسے جانوروں کا کھایا ہوا بھوسا
تو ان کو ایسا کر دیا جیسے کھایا ہوا بھس
پس انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا
چنانچہ انہیں ایسا کر ڈالا جیسے کھایا ہوا بھوسا۔
تو انہیں کر ڈالا جیسے کھائی کھیتی کی پتی (بھوسہ)
پھر (اﷲ نے) ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح (پامال) کر دیا،
تو اس نے انھیں کھائے ہوئے بھس کی طرح کردیا۔
پھر انہیں یوں بنادیا جیسے کھایا ہوا بھوسا ہو
بالآخر ان کو اللہ نے کھائے ہوئے بھس کی طرح کردیا۔
سو اس نے ان سب کو (چورا چورا) کردیا کھائے ہوئے بھوسے کی طرح
سو (اللہ نے انہیں کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح کردیا۔
پھر اس نے کردیا ان کو کھائے ہوئے بھس کی طرح۔
تو ان کو ایسا کردیا جیسے کھایا ہوا بھس
and made them like straw eaten up (by cattle).
and thus He turned them into an eaten-up chaff.
and thus He turned them into an eaten-up chaff.
And He made them like `Asf, Ma'kul.
And made them like green crops devoured (by cattle)?
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And He made them like eaten straw.
to turn them into (something) like the left-over grass grazed by cattle.
So He rendered them like straw eaten up?
Then He rendered them as stubble devoured.
Then did He make them like an empty field of stalks and straw, (of which the corn) has been eaten up.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–5
ابرہہ اور اس کا حشر : اللہ رب العزت نے قریش پر جو اپنی خاص نعمت انعام فرمائی تھی اس کا ذکر کر رہا ہے کہ جس لشکر نے ہاتھیوں کو ساتھ لے کر کعبے کو ڈھانے کے لیے چڑھائی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کہ وہ کعبے کے وجود کو مٹائیں ان کا نام ونشان مٹا دیا۔ ان کی تمام فریب کاریاں ان کی تمام قوتیں سلب کرلیں برباد و غارت کردیا یہ لوگ مذہباً نصرانی تھے لیکن دین مسیح کو مسخ کردیا تھا قریباً بت پرست ہوگئے تھے انہیں اس طرح نامراد کرنا یہ گویا پیش خیمہ تھا۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت کا اور اطلاع تھی آپ کی آمد آمد کیحضور ﷺ اسی سال تولد ہوئے اکثر تاریخ داں حضرات کا یہی قول ہے تو گویا رب العالم فرما رہا ہے کہ اے…
Read the full tafseer →سورة الفیل 7 اصل الفاظ ہیں كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ ، عصف کا لفظ سورة رحمان آیت 12 میں آیا ہے۔ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ " اور غلہ بھوسے اور دانے والا "۔ اس سے معلوم ہوا کہ عصف کے معنی اس چھلکے کے ہیں جو غلے کے دانوں پر ہوتا ہے اور جسے کسان دانے نکال کر پھینک دیتے ہیں، پھر جانور اسے کھاتے بھی ہیں، اور کچھ ان کے چبانے کے دوران میں گرتا بھی جاتا ہے، اور کچھ ان کے پاؤں تلے روندا بھی جاتا ہے۔
Read the full tafseer →فجعلھم کعصف ماکول عصف، بھوسہ کو کہتے ہیں اول تو خود بھوسہ ہی منتشر تنکے ہوتے ہیں، پھر جبکہ اس کو کیک جانور نے چبا بھی لیا ہو تو تنکے بھی اپنے حال پر نہیں رہتے۔ ابرہہ کے لشکر میں جس پر یہ کنکر پڑی ہے اس کا یہی حال ہوگیا ہے۔ اصحاب فیل کے اس عجیب و غریب واقعہ نے پورے عرب کے دلوں میں قریش کی عظمت بڑھا دی اور سب ماننے لگے کہ یہ لوگ اللہ والے ہیں ان کی طرف سے خود حق تعالیٰ جل شانہ نے ان کے دشمن کو ہلاک کردیا (قرطبی) اسی عظمت کا یہ اثر تھا کہ قریش مکہ مختلف ملکوں کا سفر بغرض تجارت کرتے تھے اور راستہ میں کوئی ان کو نقصان نہ پہنچاتا حالانکہ اس وقت دوسروں کے لئے کوئی سفر ایسے خطرات سے خالی نہیں تھا۔…
Read the full tafseer →یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت بیان فرمائی ہے کہ اگرچہ تمہاری مدافعت کمزور مدافعت تھی لیکن جب تم حوصلہ کر کے مدافعت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی سنت کے مطابق تمہاری مدد کے لیے اپنی شان دکھائی اور ان کو کھانے کے بھس کی طرح پامال کر دیا۔ کسی شے کا نام اس کے انجام کے اعتبار سے رکھنا عربی زبان کا ایک معروف اسلوب ہے۔ ’کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ‘ اسی نوع کی ترکیب ہے۔ یہاں یہ بات نگاہ میں رہے کہ ’رمی‘ کی نسبت تو مخاطب کی طرف کی ہے لیکن ان کو کھانے کے بھس کی طرح کر دینا اللہ تعالیٰ نے اپنی شان بتائی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابرہہ کے لشکر کو پامال کردینا تنہا عربوں کی سنگ باری کے بس کی بات نہ…
Read the full tafseer →5۔ 1 یعنی ان کے اجزائے جسم اس طرح بکھر گئے جیسے کھائی ہوئی بھوسی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1: یہ ابرہہ کے لشکر کی طرف اشارہ ہے جو کعبے پر چڑھائی کرنے کے لیے ہاتھیوں پر سوار ہو کر آیا تھا۔ ابرہہ یمن کا حکمران تھا۔ اور اس نے یمن میں ایک عالیشان کلیسا تعمیر کرکے یمن کے لوگوں میں یہ اعلان کرادیا کہ آئندہ کوئی شخص حج کے لئے مکہ مکرمہ نہ جائے اور اسی کلیسا کو بیت اللہ سمجھے، عرب کے لوگ اگرچہ بت پرست تھے ؛ لیکن حضرت ابراہیم ؑ کی تعلیم و تبلیغ سے کعبے کی عظمت ان کے دلوں میں پیوست تھی، اس اعلان سے ان میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اور ان میں سے کسی نے رات کے وقت اس کلیسا میں جاکر گندگی پھیلادی اور بعض روایتوں میں ہے کہ اس کے کچھ حصہ میں آگ بھی لگائی، ابرہہ کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے ایک بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
وارسل ................................ کعصف ماکول (3:105 تا 5) ” اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے جو ان کے اوپر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے ، پھر ان کا یہ حال کردی جیسے (جانوروں کا ) کھایا ہوا بھوسا “۔ ابابیل (3:105) کے معنی جھنڈ کے ہوتے ہیں۔ سجیل (4:105) فارسی سے معرب ہے اور دولفظوں سے مرکب ہے ” سنگ گل “ یعنی مٹی کو پکاکر اس سے پتھر بنادیا گیا تھا ، یا ایسے پتھر تھے جو کیچڑ کے ساتھ آلودہ تھے۔ کعصف (5:105) کے معنی ہیں درختوں کے خشک پتے ۔ عصف کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ ماکول ہے۔ یعنی کھایا ہوا ہے یعنی پتوں کی حالت یہ ہے کہ ان کو حشرات الارض نے کھا کر پیس دیا ہے ، یا حیوانات…
Read the full tafseer →4 جو بیل، گائے وغیرہ کھا کر آخور چھوڑ دیتے ہیں۔ یعنی ایسا پراگندہ منتشر، مبتذل، بدصورت، نکما اور چورا چورا۔
Read the full tafseer →آیت 5{ فَجَعَلَہُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ۔ } ”پھر اس نے کردیا ان کو کھائے ہوئے بھس کی طرح۔“ یعنی اس پورے لشکر کی حالت اس چارے یا ُ بھس کی طرح ہوگئی جسے جانوروں نے کھا کر چھوڑ دیا ہو۔
Read the full tafseer →6 عَصْفٌ بمعنی غلہ کے دانہ کے اوپر کے پردے اور چھلکے نیز توڑی اور بھوسہ وغیرہ جو مویشیوں کے لیے چارہ کا کام دیتا ہے۔ اور عَصْفٍ مَاکُولٍ سے مراد یا تو چارے کا وہ حصہ یا ڈنٹھل ہیں جو جانور چرنے کے بعد آخری حصہ چھوڑ دیتے ہیں۔ یا چارے کا وہ حصہ ہے جو جانور کھاتے وقت یا جگالی کرتے وقت منہ سے نیچے گرا دیتے ہیں۔ گویا اس عذاب کے بعد ہاتھی والوں کی لاشوں کی حالت بھی سخت بگڑ گئی تھی۔ جو لوگ قرآن میں مذکور معجزات کی مادی تاویل کرنے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں وہ اس معجزہ کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ چناچہ دور حاضر میں پرویز صاحب نے اپنی تفسیر مفہوم القرآن میں اس کی آخری تین آیات کا ترجمہ یا مفہوم یوں بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
3۔ (پامالی اور پراگندگی کے لحاظ سے) (آیت) ” سجیل “۔ سنگ گل کا معرب ہے۔ حجر وطین مختلط واصلہ فی ماقیل فارسی معرب (راغب) قال ابن عباس ؓ سجیل معناہ سنک وکل یعنی بعضہ حجر وبعضہ طین (کبیر) ھو معرب من سنک کل وعلیہ الجمھور (مدارک) قرآن مجید میں لغت قریش سے باہر کے لفظ بہت کم آتے ہیں، جو معدودے چند آئے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے۔ (آیت) ” ابابیل “۔ اس کے معنی جھنڈ کے ہیں۔ قال ابو جیدۃ ابابیل جماعۃ فی تفرقۃ (کبیر) قال الزجاج جماعات من ھھنا وجماعت من ھھنا (مدارک) ائمہ لغت میں سے بعض نے کہا ہے کہ اس کا کوئی واحد نہیں آتا اور بعض نے اس کا واحد ابیل ابالہ یا ابیالہ یا ابول کو بتایا ہے۔ فیہ قولان والاول ھو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، کیا آپ ﷺ کو معلوم نہیں ہے کہ آپ ﷺ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ (اور) اس ہاتھی کا نام محمود تھا اور اس کے اصحاب ابرہہ یمن کا بادشاہ اور اس کا لشکر تھا، اس نے صنعاء میں کلیسیا بنوایا تھا، تاکہ حجاج کو مکہ کے بجائے اس کی طرف موڑ دے، کنانہ کے ایک شخص نے کلیسا میں رفع حاجت کر کے اس کے قبلہ کو تحقیر کے طور پر نجاست سے آلودہ کردیا، چناچہ ابرہہ نے خانہ کعبہ کو منہدم کرنے کی قسم کھالی، سو وہ اپنے لشکر کے ساتھ ہاتھیوں پر سوار ہو کر مکہ آیا اور ہاتھیوں میں سب سے آگے محمود نامی ہاتھ تھا، چناچہ جب یہ لوگ معتبہ اللہ کو…
Read the full tafseer →فجعلھم کعصب ماکول . اللہ نے ان کو اس بھوسہ کی طرح کردیا ‘ جس کو جانور کھاتے ہیں اور گوبر کر دیتے ہیں ‘ جوڑ جوڑ کے ٹکڑے ہوجانے کو گوبر کے منتشر اجزاء سے تشبیہ دی۔ مجاہد نے کہا : عصف کا معنی ہے گیہوں کے درخت کی پتیاں۔ قتادہ ؓ نے کہا : بھوسہ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : غلاف کی طرح جو چھلکا گیہوں پر ہوتا ہے وہ عصف ہے اور ماکول سے مراد ہے جانوروں کا کھایا ہوا ‘ واللہ اعلم۔ سورۂ فیل ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(1۔ 5) کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حبشہ ملک والوں نے جو بیت اللہ کے منہدم کرنے کا ارادہ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا کیا تھا۔ کہ ان کی تدبیر کو سرتاپا غلط کردیا اور ان پر بیشمار پرندے بھیجے جو ان لوگوں پر پتھر کی کنکریاں پھینکتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح نیست و نابود کردیا۔
Read the full tafseer →(1) فجعلھم کعصف ماکول :”عصف“ اناج کے دانوں سے جو چھلکا اترتا ہے، بھوسا، توڑی۔”ماکول“ ”اکل یا کل اکلا“ (ن) سے اسم مفعول ہے، کھایا ہوا، کھائے ہوئے بھس سے مراد جانور کی لید ہے، کیونکہ جانور بھس کھا کر لید کرتا ہے اور پھر وہ خشک ہو کر ادھر اھدر بکھر جاتی ہے۔ سنگریزوں کے عذاب سے ان کے اعضا کے بکھر جانے کو اس کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ (طبری) اللہ تعالیٰ کے استعمال میں اعلیٰ درجے کی شائستگی اختیار فرماتے ہیں، اس مفہوم کو ”لید“ کے بجائے ”کھائے ہوئے بھس“ کے الفاظ میں ادا کیا ہے، اس سے ان کی زبوں حلای بھی نمایاں ہو رہی ہے۔ (قاسمی بحوالہ شہاب) یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ جانوروں کے کھانے کے بعد جو بھوسا بچ جاتا…
Read the full tafseer →پس بنا ڈالا ان کو جیسے کھایا ہوا بھوسہ۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب فیل کو کھیتی کے ان پتوں کی طرح بنا دیا جن کو چوپاؤں نے کھالیا اور انہیں نیچے کی جانب سے پھینک دیا ان کے جوڑوں کے ٹوٹ جانے کو ان کے اجزاء کے بکھر جانے سے تشبیہ دی، یہ معنی ابن زید اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ سورة رحمن میں عصف کے بارے میں قول گزر چکا ہے۔ جو چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس سے مراد کھیتی کے پتے ہیں وہ علقمہ کا قول ہے : تسقی مذائب قد مالت عصیف تھا۔۔۔ حدورھا من اتی الماء مطعوم روبہ بن عجاج نے کہا : و مسھم ما مس اصحاب الفیل۔۔۔ ترمیھم حجارۃ من سجیل ولعمت طیر بھم ابابیل۔۔۔ فصیروا مثل کعصف ماکول۔ انہیں وہ مصیبت پہنچی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اصحاب فیل کا واقعہ 2۔ ابن ابی حاتم اور ابو نعیم نے دلائل میں عثمان بن مغیرہ بن اخنس (رح) سے روایت کیا کہ اصحاب الفیل کے قصہ میں سے یہ ہے کہ ابرہہ الاشرم الحبشی یمن کا بادشاہ تھا۔ اور اس کا پوتا اکسوم بن الصباح الحمیری حج کے لیے نکلا جب وہ مکہ سے روانہ ہوا تو نجران کے گرجے میں اترا۔ صبح کو اہل مکہ میں سے کچھ اس کے پاس آئے اور اکسوم کے زیورات اور سامان لے لیا (یعنی اس کو لوٹ یا) ۔ تو وہ غصہ ہو کر اپنے نانا کی کی طرف چلا گیا۔ اور اس نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک آدمی کو بیس ہزار خولانیوں اور اشعریوں کے ساتھ بھیجا اسے شہر بن معقود کہا جاتا ہے۔ وہ لوگ چلتے رہے یہاں تک کہ خثعم کی زمین پر نازل ہوئے۔…
Read the full tafseer →[فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَاكُوْلٍ : پھر اس نے کردیا ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی مانند ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اس سورت میں اصحاب فیل کا واقعہ بیان فرمایا ہے لفظ فیل فارسی کے لفظ پیل سے لیا گیا ہے۔ عربی میں چونکہ (پ) نہیں ہے اس لیے اسے (ف) سے بدل دیا گیا۔ اصحاب فیل (ہاتھی والے لوگ) ان سے ابرہہ اور اس کے ساتھی مراد ہیں۔ یہ شخض شاہ حبشہ کی طرف سے یمن کا گورنر تھا، ابرہہ اپنے ساتھیوں کو ہاتھیوں پر سوار کر کے لایا تھا اور مقصد ان لوگوں کا یہ تھا کہ کعبہ شریف کو گرا دیں تاکہ لوگوں کا رخ ان کے اپنے بنائے ہوئے گھر کی طرف ہوجائے جسے انہوں نے یمن میں بنایا تھا اور اسے کعبہ یمانیہ کہتے تھے۔ یہ لوگ کعبہ پر حملہ کرنے کے لیے آئے مگر خود ہی برباد ہوئے وہ بھی پرندوں کی پھینکی ہوئی چھوٹی چھوٹی کنکریوں کے ذریعہ۔ واقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
نزول غضب خداوندی برہتک حرمات الہیہ وتحقیر مرکز ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الم ترکیف فعل ربک ..... الی .... کعصف ماکول “۔ (ربط) ماقبل سورة ’ الہمزہ “ میں انسان کے اخلاق رذیلہ کی مذمت اور اس پر خدا کی طرف سے نازل ہونے والے قہر و عذاب کا ذکر تھا جو آخرت میں ایسی ذلیل حرکتوں پر مرتب ہوگا، اب اس سورت میں یہ بتایا جارہا ہے، خدا کی نافرمانی اور اس کے دین کی دشمنی اور مقابلہ دنیا میں بھی تباہی اور ہلاکت کا موجب ہے جیسے کہ ابرہہ اشرم کے لشکر نے اللہ کے گھر پر ناپاک جسارت کی تو کس طرح آسمانی عذاب نے اس کو ہلاک کرڈالا تو ایسے تاریخی عظیم واقعات سے انسان سمجھ سکتا ہے کہ خدا کی قدرت سے جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4:۔ ” ترمیہم “ ہر پرندے کی چونچ اور پنجوں میں سخت مٹی کا ایک ایک سنگریزہ تھا جسے وہ ان پر پھینک رہے تھے۔ سجیل، بعض کے نزدیک سنگ گل کا معرب ہے۔ سنگریزے ایسے زور سے برس رہے تھے کہ سر میں لگتے اور نیچے سے جا نکلتے اور ساتھ ہی ان کے گوشت کے ٹکڑے بھی اڑ جاتے۔ ” فجعلہم کعصف ماکول “ یہاں تک کہ ان کو مویشیوں کھائے ہوئے چارے کی مانند کردیا۔ ان کے بدنوں کے اجزاء واعضاء اس طرح چورہ ہوگئے جس طرح مویشیوں کا بچا ہوا چارہ۔ ای جعل اللہ اصحاب الفیل کو رق الزارع اذا اکلتہ الدواب فرمت بہ من اسفل شبہ تقطع اوصالہم بتفرق اجزائہ (قرطبی ج 10 ص 199)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الفیل ہے۔ عربی زبان میں فیل ہاتھی کو کہتے ہیں۔ اس سورة میں اصحاب فیل کا ذکر ہے۔ یہ مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی پانچ آیتیں ہیں۔ یہ سورة چوبیس الفاظ اور نانوے حروف پر مشتمل ہے۔ موضوع گزشتہ سورة میں اللہ نے زرپرستی کی مذمت کی تھی اور اس کے برے نتائج سے آگاہ کیا تھا اور مسلمانوں کو خبردار کیا تھا۔ کہ ایسے نظام کو قبول نہ کریں۔ اب اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے ملوکیت اور شہنشاہیت کا رد فرمایا ہے کہ یہ نظام بھی باطل ہے اور مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے یہ فاسد نظام ہیں اور اس کے بعد والی سورة میں اللہ تعالیٰ نے قومیت پرستی کا رد فرمایا ہے۔ یہ سب بیماریاں ہیں ، جو…
Read the full tafseer →فَجَــعَلَہُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ 5 ۧ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ عصف العَصْفُ والعَصِيفَةُ : الذي يُعْصَفُ من الزّرعِ ، ويقال لحطام النّبت المتکسّر : عَصْفٌ. قال تعالی: وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ [ الرحمن/ 12] ، كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ [ الفیل/ 5] ، ورِيحٌ عاصِفٌ [يونس/ 22] ، وعَاصِفَةٌ ومُعْصِفَةٌ: تَكْسِرُ الشیءَ فتجعله كَعَصْفٍ ، وعَصَفَتْ بهم الرّيحُ تشبيها بذلک . ( ع ص) العصف واعصیفتہ کھیتی کے پتے جو کاٹ لئے جاتے ہیں نیز خشک نباتات جو ٹوٹ کر چور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ الہمزۃ للاستفھام التقریری لم ترا صلہ تریٰ حذفت الالف بالجازم والرؤیۃ قلبیۃ وانما عبرالعلم بالرئویۃ ایماء الی ھذہ الوقعۃ بمنزلہ المشاھد المحسوس وان مضت قبل ولادتہ ﷺ بنحو شھریں ولکنھا التواترھا کانت کالمحسوس المبصر۔ کیف فعل ربک الخ ھذہ الجملۃ سدت مسد مفعولی تریٰ وکیف منصوب علی المصدریۃ ا والحالیۃ واختار الاول ابن ہشام فی المغنی والمعنی ای فعلٍ فعل الم یجعل الاستفھام للتقریر کانہ قال قدجعل کیدھم فی تضلیل والکیدارادۃ المضرۃ بالغیر بالخفیۃ وارسل عطف علی الم یجعل طیراً اسم جنس یذکر و یونث مفعول ارسل ابابیل لغت لطیر قیل جمع ابول بکسر الھمزۃ مثل عجول وقیل جمع ابیل کسکین وقیل جمع ابالۃ وقال…
Read the full tafseer →فَجَعَلَھُمْ کَعَصْفٍ مَّاکُوْلٍ ۔ (الفیل : 5) (پھر اللہ نے ان کو کھائے ہوئے بھس کی طرح کردیا۔ ) عصف کا مفہوم اور ابرھہ کے لشکر کا انجام عصف بھوسہ کو کہتے ہیں۔ اول تو خود بھوسہ ہی منتشر تنکے ہوتے ہیں پھر جبکہ اس کو کسی جانور نے جبا بھی لیا ہو، تو وہ تنکے بھی اپنے حال پر نہیں رہتے۔ ابرھہ کے لشکر میں جس پر یہ کنکر پڑی تھی اس کا یہی حال ہوگیا تھا کہ پہلے ان کی کھال جھڑتی تھی، پھر گوشت پگھلتا تھا اور پھر ہڈیاں ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگتی تھیں۔ اس طرح انسانی جسم بکھر کر رہ جاتا تھا اور بالکل ایسا لگتا تھا جسے جانوروں کا کھایا ہوا بھوسہ ہوتا ہے جو ان کے منہ سے گرگیا ہو۔ یہ انجام تھا ان لوگوں کا جنھوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن ربط سورت : سورة الہمزہ میں آخرت میں ظالموں کی سزا بیان کی گئی ہے الفیل میں یہ بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو آخرت میں ہی نہیں بلکہ کچھ لوگوں کو دنیا میں بھی سزا دیتا ہے جس کی مثال سورة الفیل میں بیان کی گئی ہے۔ نبی آخر الزمان ﷺ کی ولادت باسعادت سے پچاس دن پہلے کا واقعہ ہے کہ حبشہ کے حکمران ابرہہ نے ساٹھ ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ معظمہ کی طرف پیش قدمی کی اس کے لشکر میں دس بارہ ہاتھی بھی تھے۔ ابرہہ خود محمود نامی دیوہیکل ہاتھی پر سوار تھا۔ عربوں نے اس سے پہلے ہاتھی نہیں دیکھے تھے اس لیے عرب اس واقعہ کو اصحاب الفیل کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اہل تاریخ نے مکہ پر ابرہہ کی جارحیت کا سبب…
Read the full tafseer →5 : فَجَعَلَھُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ (اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح کردیا) عصفؔ ماکول وہ کھیتی جس کو کیڑے کھالیں۔
Read the full tafseer →5 ۔” فجعلھم کعصف ماکول “ جیسے کھیتی اور بھوسہ جس کو چوپایوں نے کھالیا ہو۔ پھر اس کا گوبر کردیا ہو، پھر وہ خشک ہوجائے اور اس کے اجزاء متفرق ہوجائیں۔ ان کے جوڑوں کے متفرق ہونے کو گوبر کے اجزاب کے متفرق ہونے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” العصف “ گندم کے پتے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ بھوسہ ہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں دانے کی طرح جب وہ کھایا جائے اور کھوکھلا جو گندم کے دانہ پر ہوتا ہے۔ اس کے غلاف کی ہئیت کی طرح۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ اس سورة میں جو قصہ ہے اس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیہقی مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ جب یوسف ذونو اس نے ان عیسائی مذہب کے لوگوں کو آگ میں جلا کر ہلاک کیا جن کا ذکر والسماء ذات البروج میں گزر چکا ہے تو حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے اپنے دو امیروں کو مع لشکر کے یوسف کی سرکوبی کو یمن روانہ کیا۔ ان دو امیروں میں ایک امیر ابرہہ تھا جو یوسف کو شکست دے کر آخر کو یمن کا مستقل امیر بن گیا اور اس نے یمن میں ایک گرجا بنا کر یہ چاہا کہ کعبہ کی طرح اس گرجا کی زیارت کو خلقت آیا کرے۔ جب یہ اپنے اس ارادہ میں کامیاب نہ ہوا تو جل گیا اور ایک بڑا لشکر مع چند ہاتھیوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کی عظمت شان اپنے بندوں پر اس کی رحمت اس کی توحید کے دلائل اور اس کے رسول محمد ﷺ کی صداقت کو نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟ جنہوں نے اس کے حرمت والے گھر کے خلاف سازش کی اور اس کو ڈھانے کا ارادہ کیا پس اس کے لیے انہوں نے خوب تیاری کی اور بیت اللہ کو منہدم کرنے کے لیے انہوں نے اپنے ساتھ ہاتھی بھی لے لیے تھے وہ حبشہ اور یمن سے ایک ایسی فوج لے کر آئے جس کا مقابلہ کرنا عربوں کے بس میں نہ تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو عربوں میں مزاحمت کرنے والا کوئی نہ تھا۔ اہل مکہ ان کے خوف سے مکہ سے نکل گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول بھیجے…
Read the full tafseer →(5) متکبروں کے ہولناک انجام کی تصویر کا ذکرو بیان : سو منکروں اور متکبروں کے ہولناک انجام کی تصویر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے ان کو چورا چورا کر کے رکھ دیا کھائے ہوئے بھوسے کی طرح، اور اس طرح ساٹھ ہزار کا یہ مسلح اور خوفناک لشکر جو کہ اپنے کبرو غرور کے نشے میں بدمست اور چکنا چور تھا اپنے انجام کو پہنچ کر رہا، اور قیامت تک دنیا بھر کے لیے درس عبرت بن گیا اور ان کو اس چبائے ہوئے بھوسے کی طرح ذلیل و خوار اور بےقدروقیمت کر کے رکھ دیا گیا جو کہ جانوروں کے منہ سے ان کے کھاتے وقت نیچے گرتا ہے، اور جو ان کے پاؤں کے نیچے روندا اور مسلا جاتا ہے، اور پرندوں جیسی چھوٹی اور معمولی مخلوق سے ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اللہ کی قدرت کا زبردست مظاہرہ تشریح : اس سورت میں اس بہت بڑے عجیب و غریب واقعہ کی دلیل دے کر نصیحت کی گئی ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے۔ عظیم ہے ' کبیر ہے اور قدرت و حکمت میں بےمثال ہے۔ تو تم سب رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو قبول کرو اور اس اللہ لا شریک پر ایمان لے آؤجس نے ابھی ماضی قریب میں ہی تمہارے سامنے ہاتھی والوں یعنی ابرہہ کی 60 ہزار کی فوج کو کیسے معمولی پرندوں کی کنکریوں سے ہلاک کر ڈالا۔ یہ صاف صاف کفر اور اسلام یا شیطان کا اللہ سے مقابلہ تھا جو دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اس کا فیصلہ ہوا۔ اور اللہ نے کفار کی چھپی ہوئی تدبیر کو کس طرح ناکام کردیا۔ چھپی ہوئی تدبیر کو مل یا میٹ کردیا۔ چھپی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة الفیل۔ آیات 1 تا 5۔ اسرار ومعارف۔ یہ واقعہ اس سال پیش آیا جو نبی اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت کا سال ہے جب یمن میں ذونواس بادشاہ نے اس دور کے مسلمان ہونے والوں کو آگ میں ڈال دیا شام کے حکمران قیصر نے جو عیسائی یعنی اس دور کا مسلمان تھا دو سرداروں ، ارباط اور ابرہہ کو اس کی سرکوبی کے لیے بھیجا وہ شکست کھاکر بھاگا اور سمندر میں غرق ہوا اور ارباط کو قتل کرکے ابرہہ حکمران بن گیا لوگ کعبہ شریف کی زیارت کو جاتے تھے اس نے یمن میں ایک کنیسہ بہت عالی شان تعمیر کرایا کہ لوگ اس کا طواف کیا کریں مگر لوگ کعبہ کو ہی جاتے جس پر اس نے فوج کشی کرکے بیت اللہ کو گرانے کا ارادہ کرلیا۔ عرب کے جملہ قبائل جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ف 10 یہ واقعہ اس سال کا ہے جس سال نبی ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ آپ نے اگرچہ اسے نہیں دیکھا لیکن وہ اتنا مشہور تھا کہ قریش کا بچہ بچہ اس سے واقف تھا اور اس کا ہمیشہ تذکرہ رہتا تھا، اس لئے اسے دیکھنے سے تعبیر فرمایا۔11 اصحاب فیل کا واقعہ جس کا اس سورة میں ذکر کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حبشہ کے بادشاہ کی طرف سے میں پر ” ابرہہ “ نامی ایک گورنر مقرر تھا جو سخت متعصب عیسائی تھا۔ اس نے جب دیکھا کہ سارے عرب میں کعبہ کی بڑی تعظیم کی جاتی ہے اور لوگ ہر طرف سے اس کا حج اور عمرہ کرنے آتے ہیں تو اس نے اپنے ہاں ’ دصنعا ‘ میں ایک گھر بنایا اور لوگوں کو ترغیب دی کہ کعبہ کے بجائے اس کا حج وعمرہ کریں، لیکن…
Read the full tafseer →(105:5) فجعلہم کعصف ماکول۔سببیہ ہے۔ جعلہم میں ضمیر فاعل واحد مذکر غائب رب کی طرف راجع ہے۔ اور ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اصحب الفیل کے لئے ہے ک تشبیہ کا ہے۔ العصف۔ حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق وہ چھلکا ہے جو گیہوں کے دانہ پر ہوتا ہے۔ سورة الرحمن میں بھی اسی معنی میں آیا ہے :۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ والحب ذوالعصف والریحان (55:12) اور (اس میں) اناج ہے جس پر بھس ہوتا ہے۔ ما کول : اسم مفعول واحد مذکر اکل (باب نصر) مصدر سے ۔ کھایا ہوا۔ عصف کی صفت ہے۔ پس بنا ڈالا ان کو کھایا ہوا بھوسہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔ الم تر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ اصحاب الفیل۔ ہاتھی والے۔ الم یجعل ۔ کیا نہیں بنا دیا تھا۔ تضلیل۔ بےکار۔ ارسل۔ بھیجا۔ طیر۔ پرندے۔ ابابیل۔ جھنڈ کے جھنڈ۔ ترمی۔ مارے ہیں۔ پھینکتے ہیں۔ سجیل۔ کنکر۔ کعصف۔ جیسے بھوسا۔ ماکول۔ کھایا ہوا۔ تشریح : یمن کے حکمران گورنر ابرھ نے زبرست لشکر اور ہیبت ناک ہاتھیوں کے ساتھ بیت اللہ کو ڈھانے اور عرب کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے جب پیش قدمی کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و طاقت کا اظہار کرتے ہوئے معمولی سے پرندوں کے ذریعے ابرھ کے لشکر اور ہاتھویں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ بحر احمر کی طرف سے ایسے لاتعداد چھوٹے چھوٹے پرندے اڑتے ہوئے آئے جن کو چونچ اور پنجوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اصحاب فیل کا واقعہ۔ (ف 1) ہاتھی والوں سے مراد ابرہہ اور اس کا لشکر ہے، اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ ابراہہ یمن وحبشہ کا بادشاہ تھا اس نے دیکھا کہ سارے عرب کعبہ کا حج کرنے جاتے ہیں وہ چاہتا تھا کہ حج کرنے والے مکہ مکرمہ کے یہاں آئیں اس کی تدبیر یہ سوچی کہ اپنے مذہب کے نام پر ایک عالیشان عبادت خانہ بنوایا، چناچہ صنعاء میں جو یمن کا بڑا شہر ہے اپنے مصنوعی عبادت خانہ کی بنیاد رکھی اور خوب دل کھول کر روپیہ خرچ کیا، اس پر بھی لوگ ادھر متوجہ نہ ہوئے عرب کے لوگوں کو جب اس کی الطاع ہوئی تو ان کو یہ بات بھی شاق گزری قبیلہ بن کنانہ کے ایک شخص نے موقع پاکر وہاں قضاحاجت کی اور اس کو نجاست آلودہ کردیا، اس پر…
Read the full tafseer →[2] یمن کا عیسائی بادشاہ ابرہہ خانہ کعبہ کی طرف خلقت کا رجوع دیکھ کر حسد کرتا تھا۔ اس نے خانہ کعبہ کو ڈھا دینے کے ارادے سے ساٹھ ہزار کا لشکر لے کر مکہ کا رخ کیا۔ جب وہ وادی مُحَسِر (جو مکہ کے قریب ہے) پہنچا تو سمندر کی طرف سے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ نظر آئے۔ ہر پرندے کی چونچ اور پنجوں میں چھوٹی چھوٹی کنکریاں تھیں۔ ان پرندوں نے لشکر پر کنکریوں کی بارش شروع کردی۔ اللہ کی قدرت سے وہ کنکریاں بندوق کی گولی سے زیادہ کام کرتی تھیں۔ جس کو لگتیں ایک طرف سے گھس کر دوسری طرف سے نکل جاتیں اور ایک عجیب طرح کا مادہ چھوڑ جاتیں جس سے بدن کا گوشت گل گل کر جھڑنا شروع ہوجاتا۔ اس طرح سارا لشکر تباہ ہوگیا۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 1: جب وہ حرم کی حد میں پہنچے تو عجیب و غریب پرندوں کے غول کے خول آئے اور انہوں نے کنکریاں مار مار کر ابرہہ کے لشکر کو بدحواس کردیا ان کنکریوں میں کچھ عجیب طرح کی سمیت تھی کہ جس کی وجہ سے ان کو چیچک نکل آئی اور وہیں میدان میں سارالشکر موت کے گھاٹ اتر گیا ۔ اور بقولے وہ کنکر بندوق کی گولی کی طرح لگے ۔ جن سے وہ ساری فوج فی الفور ہلاک ہوگئی ۔
Read the full tafseer →(5) پھر خدائے تعالیٰ نے ان کو ایسا کردیا جیسے بھس کا پس خوردہ ۔ یعنی ناند میں پڑا ہوا بھوسا جس کو گائے یا بھینس کھالے اور اس کا جو حصہ باقی رہ جائے غرض گھاس ہو یا بھوسا ہو جس کو چوپائے کھا کر خراب کردیں یعنی پراگندہ ، قبیح، متبذل، بدنما اور چورا چورا ہوجانے میں تشبیہہ ہے کہ ان کے جوڑ جوڑ الگ کردیئے گئے اور ان کا چورا چورا کردیا گیا جو لوگ بچے وہ کھجلی اور چیچک میں مبتلا ہوئے اور رینجھ رینجھ کر مرے۔ اس سورت میں علاوہ احسان کے نبی کریم ﷺ کی تعظیم اور آپ کی تکریم سے ڈرانا ہے لوگوں کو کہ وہ نافرمانی کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ف 1۔ ابرہہ حاکم یمن لشکر عظیم لیکر جس میں ہاتھی بھی تھے خانہ کعبہ کو منہدم کرنے چڑھ آیا، جب وادی محسر میں پہنچا تو سمندر کی طرف سے کچھ پرندے آئے، ان کے پنجوں اور چونجوں میں مسور اور چنے کی برابر کنکریاں تھیں انہوں نے ان کنکریوں کو لشکر پر پھینکنا شروع کیا، یہ کنکریاں بندوق کی گولی کی طرح لگتی تھیں اور ہلاک کردیتی تھیں، اکثر تو اس عذاب سے ہلاک ہوئے اور دوسرے بھاگ گئے اور دوسری بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کر مر گئے، یہ واقعہ حضور سرور انام ﷺ کی ولادت شریفہ سے پچاس روز پہلے ہوا۔
Read the full tafseer →پھر ان کو کھائے ہوئے بھوس کی طرح کر دیا 5 ؎ ( عصف) بھس ، بھوسا ، بھوسی چھلکا کھیت کے پنے ۔ تفسیر کبیر میں اس کے حسب ذیل معانی بیان کیے گئے ہیں : (1) بھوسا جو ہمارے مریض استعمال کرتے ہیں۔ (2) اس پودے کے پتے کہ جس میں ڈنٹھل نہ ہوں اور اس ڈنٹھل کے اطراف و جوانب میں پتے ہوں جیسا کہ خوشے کے اوپر پتے ہوتے ہیں پ۔ (3) کھائے ہوئے پھل کا چھلکا اور دراصل یہ بےحیثیت چیز کے لے بولا جاتا ہے جس کو بےحیثیت یا بےوقعت کہتے ہیں اور کمال کی چیز کیا ہے ذرا غور کرو کہ اس بھس وغیرہ کو جب جانور کھاتے ہیں تو پہلے وہ اسے اپنے دانتوں سے چبا کر ریزہ ریزہ کردیتے ہیں اور پھر وہ چبائے ہوئے پتے اور بھس معدہ میں جا کر ہضم کا…
Read the full tafseer →Verse [ 105:5] فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ (And thus He turned them into an eaten-up chaff.) The word ` asf means 'chaff, straw, husk or bran'. Usually the ` asf is scattered and when it is eaten or devoured by animals, it does not remain in the same state. This is what happened to Abrahah and his army. Conclusion The miraculous event of the 'People of the Elephant' enhanced in the hearts of the entire Arabian society the love, respect and honor of the Quraish. When Arabia witnessed that Allah has, on their behalf, miraculously destroyed their enemy, they were convinced that the Quraish…
Read the full tafseer →7 The word asfas used in the original has already occurred in verse 12 of Surah Ar-Rahman above: dhul-'asf war-raihan: "and corn with husk as well as grain". This shows that asf means the outer covering of seeds, which the farmer throws away after the grain has been separated from it. Then the animals eat it, and some of it falls down in the chewing and some is trampled under the hoofs.
Read the full tafseer →