105. Surah Al-Fil

الفيلThe Elephant · 5 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 105:1–5

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا

اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader

کیا ان کا داؤ غلط نہیں کردیا ؟

وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader

اور ان پر غول کے غول پرندے بھیجے

تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader

جو ان پر پتھر کی کنکریاں پھینکتے تھے

فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader

تو ان کو ایسا کردیا جیسے کھایا ہوا بھس

اللہ کی قدرت کا زبردست مظاہرہ تشریح : اس سورت میں اس بہت بڑے عجیب و غریب واقعہ کی دلیل دے کر نصیحت کی گئی ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے۔ عظیم ہے ' کبیر ہے اور قدرت و حکمت میں بےمثال ہے۔ تو تم سب رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو قبول کرو اور اس اللہ لا شریک پر ایمان لے آؤجس نے ابھی ماضی قریب میں ہی تمہارے سامنے ہاتھی والوں یعنی ابرہہ کی 60 ہزار کی فوج کو کیسے معمولی پرندوں کی کنکریوں سے ہلاک کر ڈالا۔ یہ صاف صاف کفر اور اسلام یا شیطان کا اللہ سے مقابلہ تھا جو دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اس کا فیصلہ ہوا۔ اور اللہ نے کفار کی چھپی ہوئی تدبیر کو کس طرح ناکام کردیا۔ چھپی ہوئی تدبیر کو مل یا میٹ کردیا۔ چھپی ہوئی تدبیریوں کہا کہ ظاہراً تو انہوں نے قریش سے اپنے کلیسا کی بےحرمتی کا بدلہ لینے کا بہانہ بنایا جب کہ اصل میں وہ عربوں کو کچل کر اس اہم تجارتی شاہراہ پر قبضہ کرنا چاہتے تھے جو راستہ جنوب عرب سے شام و مصر کی طرف جاتا تھا۔ اور دوسرا مقصد عیسائیت کی تبلیغ کرنا چاہتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے سامنے کس کی تدبیر چل سکتی ہے ؟ وہ تو سب سے بڑا تدبیر کرنے والا ہے۔ اس نے اپنی قدرت سے معمولی پرندوں کے ذریعہ اتنی بڑی 60 ہزار کی ہاتھیوں والی فوج کو یوں مل یا میٹ کردیا کہ جیسے معمولی کھایا ہوا بھس ہو۔ تو سبق یہی ملتا ہے کہ سب سے پہلے تو اللہ کو ہی اپنا سب کچھ سمجھو اس سے دعا کرو کیونکہ وہ بہترین سننے والا ہے اور مدد کرنے والا ہے۔ دعا کی بڑی فضیلت ہے جب کہ سچے دل سے مانگی جائے۔ دوسرا ' فخر و غرور انسانی زندگی کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔ تکبر ' بڑائی اور نخوت اللہ کو ہرگز ناپسند ہے۔ تیسرا اپنے رتبہ پر غرور اور اپنے جاہ و جلال پر اترانا ' اپنی دولت اور کثرت پر بھروسہ کرنا یہ سب اللہ کو ناپسند ہے اور ہمارے مذہب میں اس کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ یہ اعلی کردار کے خلاف ہے۔ اور سب کچھ اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اور یہ آنی جانی چیزیں ہیں ان پر بھروسہ کرنا خود کو دھوکہ دینے کے برابر ہے۔ خلاصہ سورة الفیل کہ سب سے بڑی ذات اللہ کی ہے اور عظیم شخصیت رسول للہ ﷺ کی ہے۔ عظیم کتاب قرآن پاک ' عظیم مذہب اسلام اور عظیم دعوت اذان ہے۔ لہٰذا انسان کو ہمیشہ عاجزی سے کام لینا چاہیے۔ مال و دولت ' جاہ و جلال اور آل اولاد پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے۔ فخر کی بات صرف یہ ہے کہ آپ مسلمان ہیں متقی ' پرہیزگار اور سچے مسلمان ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ '' تم کو ایسی امت بن کر رہنا چاہیے جو خیر کی طرف لوگوں کو دعوت دے ''۔ حدیثِ دل کسی درویشِ بےکلاہ سے پوچھ خدا کرے تجھے تیرے مقام سے آگاہ اللہ اہل ایمان کا دوست ہے انہیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف بلاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں ' یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ''۔ (بقرہ : 257) الحمد للہ سورة الفیل مکمل ہوئی۔