105. Surah Al-Fil

الفيلThe Elephant · 5 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 105:1–5

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟

اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader

کیا ان کا داؤ غلط نہیں گیا ؟ (گیا)

وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader

اور ان پر جھلڑ کے جھلڑ جانور بیجھے

تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader

جو ان پر کھنگر کی پتھریاں پھینکتے تھے

فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader

تو ان کو ایسا کردیا جیسے کھایا ہوا بھس

نزول غضب خداوندی برہتک حرمات الہیہ وتحقیر مرکز ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الم ترکیف فعل ربک ..... الی .... کعصف ماکول “۔ (ربط) ماقبل سورة ’ الہمزہ “ میں انسان کے اخلاق رذیلہ کی مذمت اور اس پر خدا کی طرف سے نازل ہونے والے قہر و عذاب کا ذکر تھا جو آخرت میں ایسی ذلیل حرکتوں پر مرتب ہوگا، اب اس سورت میں یہ بتایا جارہا ہے، خدا کی نافرمانی اور اس کے دین کی دشمنی اور مقابلہ دنیا میں بھی تباہی اور ہلاکت کا موجب ہے جیسے کہ ابرہہ اشرم کے لشکر نے اللہ کے گھر پر ناپاک جسارت کی تو کس طرح آسمانی عذاب نے اس کو ہلاک کرڈالا تو ایسے تاریخی عظیم واقعات سے انسان سمجھ سکتا ہے کہ خدا کی قدرت سے جب نافرمانوں اور مجرموں پر ایسے عذاب اور قہر دنیا میں واقع ہوتے ہیں تو بلاشبہ یقین کرنا چاہئے کہ کوئی مجرم خدا کے عذاب سے آخرت میں بھی ہرگز نہیں بچ سکے گا، اور جب اللہ کے گھر کی دشمنی پر خدا کا یہ قہر وغضب نازل ہوتا ہے تو جو شخص یا قوم اللہ کے پیغمبر اور اس کے دین کو دنیا میں پھیلانے والے کی دشمنی اور مقابلہ کرے گی وہ کیونکر عذاب خداوندی سے بچ سکتی ہے، تو اس طرح حضور اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت سے قبل ہی آپ ﷺ کے غلبہ اور طاغوتی طاقتوں کی شکست کی خبر دی گئی، ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ کیا نہیں دیکھا۔ 1 حاشیہ۔ 1 (یہ استفہام تقریری ہے کہ ہاں ضرور دیکھا ہے، اور اس وجہ سے اس کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ ضرور دیکھا ہے کیونکہ یہ قصہ اس قدر مشہور ومعروف ہوا کہ گویا ہر ایک اس کو دیکھنے والا ہے اور اس بناء پر اس طرح سوال کیا جاسکتا ہے۔ 12) تو نے اے مخاطب کہ کیسا معاملہ کیا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ ؟ جو ہاتھیوں کا ایک عظیم لشکر لے کر بیت اللہ پر حملہ کے لئے آرہے تھے کہ وہ اپنی اس تدبیر سے (العیاذ باللہ) بیت اللہ کو منہدم کردیں گے تو کیا نہیں کردیا، تیرے رب نے ان کی تدبیر کو، ان ہی کی ہلاکت و بربادی کی صورت میں ؟۔ 2 حاشیہ۔ 2 (ان کلمات سے لفظ کید کے مفہوم کی وضاحت مقصود ہے نیز یہ کہ تضلیل یہاں بمعنی اضاعت واہلاک ہے جو کسی تدبیر کے غلط ہونے کا انجام ہوتا ہے اسی وجہ سے اکثر حضرات اکابر نے ترجمہ میں غلط کا لفظ استعمال فرمایا۔ ) ضرور کردیا اور ان کا داؤ ان ہی پر الٹا واقع ہوا اور غلط ہو کر ان کی تباہی کا باعث بنا اور ان کے دل میں جو کچھ تھا وہ پورا ہونے کی بجائے حسرتیں لے کر وہ جہنم میں چلے گئے اور بھیج دیئے ان پر پرندے۔ 3 حاشیہ۔ 3 (طیرا ابابیل “۔ میں لفظ ابابیل متفرق جماعتوں اور ٹولیوں کو کہا جاتا ہے، امام لغت ابوعبیدہ بیان کرتے ابابیل متفرق ٹکڑیوں کو کہتے ہیں چناچہ محاورات میں بولا جاتا ہے جاءت الخیل ابابیل من ھھنا وھھنا، یعنی گھوڑوں کے لشکر متعدد دستوں کی صورت میں بےدرپے اس طرف سے اس طرف سے آئے ، بعض ائمہ لغت کا خیال ہے کہ یہ لفظ جمع ہے لیکن اس لفظ سے اس کا کوئی واحد نہیں۔ اخفش “ وفراء “ اسی کے قائل ہیں اور بیان کیا کہ یہ لفظ شماطیط اور عبادید کی طرح ہے کہ اس کا کوئی واحد نہیں دوسرے بعض ائمہ فرماتے ہیں اس کا واحد ہے، چناچہ ابوجعفر روأسی کہتے ہیں کہ اس کا واحد ابالہ ہے اور یہ لفظ اس محاورہ میں بولا جاتا ہے، ” انہ ضغث علی ابالہ “ اور ابالہ سوکھے ہوئے گھانس کی گڈی کو کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ ابول کی جمع ہے جیسے عجول کی جمع عجاجیل آتی ہے اور کوئی کہتا ہے یہ ایبالہ کی جمع ہے جیسے دینار کی جمع دنانیز ہے تو ایبالہ جمع ابابیل ہوگی، فراء “ نے بیان کیا ابابیل کو ایبالہ کی جمع کہنا زیادہ بہتر ہے، 12 (من تفسیر الکبیر للرازی (رح)) غول کے غول جو اڑتے ہوئے ان پر برسا رہے تھے سنگریزے پکی ہوئی مٹی کے۔ حاشیہ۔ (لفظ سجیل پکی ہوئی مٹی اور گارے کے ٹکڑے، اہل لغت کا خیال ہے کہ یہ لفظ معرب ہے، سنگ گل سے بعض حضرات فرماتے ہیں کہ سجیل ہر مضبوط اور شدید چیز کا نام ہے، بعض نے کہا کہ سجیل میں لام ن سے بدلا ہوا ہے اور معنی سجین ہے جو جہنم کا بدترین نیچے کا طبقہ ہے اور زجاج (رح) سے منقول ہے کہ سجل کے معنی کتابت کے ہیں جیسے (آیت ) ” کطی السجل للکتب “۔ میں تو یہ سنگریزے وہ تھے جن پر عذاب کا فیصلہ لکھا ہوا تھا۔ واللہ اعلم۔ 12۔ جوان پر گولیوں کی طرح برس رہے تھے، پھر بنادیا ان کو کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح چورا چورا جیسے گائے بیل چارہ کھانے کے بعد آخور چھوڑ دیتے ہیں یعنی ایسا پراگندہ اور منتشر حقیر و ذلیل کہ دیکھنے میں بھی قابل نفرت معلوم ہو۔ تو اس طرح اللہ نے اپنی قدرت قاہرہ سے ہاتھیوں جیسے طاقتور لشکر کو کمزور اور ہلکے جثے والے پرندوں سے اور ان کی چونچ اور پنجوں میں لئے ہوئے سنگریزوں سے ہلاک کرڈالا۔ قصہ اصحاب فیل : یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کی ولادت باسعادت سے پچاس پچپن روز پہلے کا پیش آنے والا عظیم تاریخی واقعہ ہے جو ایک طرف قدرت خداوندی کا نمونہ ہے تو دوسری طرف آنحضرت ﷺ کی عظمت و رسالت کی بھی پیش آنے والی نشانی یا بشارت ہے جس کو شریعت کی اصطلاح میں ” ارہاص “ کہا جاتا ہے، یہ آپ ﷺ کی آمد اور ظہور قدسی کا ایک غیبی اشارہ اور اعلان تھا اور اس نسبت کے باعث کہ آپ ﷺ کا ظہور قدسی قریش میں ہورہا تھا اس قصہ سے منجانب اللہ قریش کی بھی غیبی مدد ونصرت تھی کیونکہ یہ نبی آخرا لزمان ﷺ کا قبیلہ وخاندان ہے اور اللہ کے قبلہ کا متولی اور محافظ ہے۔ علامہ زرقانی (رح) حافظ ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ نے البدایۃ والنہایۃ اور ابن سعدرحمۃ اللہ علیہ نے طبقات اور مفسرین نے اپنی تفاسیر میں یہ واقعہ اس طرح بیان کیا ہے کہ ملک یمن میں جب وہاں کا بادشاہ ذونواس قوم حمیر کا آخری بادشاہ یہودی ہوگیا اور بہت سے لوگوں کو بھی زبردستی یہودی بنالیا اور تعصب کی وجہ سے سے نجران کے عیسائیوں کو (جو اس وقت صحیح عیسوی مذہب کے متبع تھے) ظلم وستم کا نشانہ بنایا حتی کہ خندقیں کھدوا کر ان میں آگ بھروائی اور جس نے اس کا مذہب قبول نہ کیا اس کو اس دہکتی ہوئی آگ میں جھونکنا شروع کردیا اور یہی وہ مظالم تھے جس کا ذکر سورة (آیت ) ” والسمآء ذات البروج “۔ میں گذر چکا، اس ظالم بادشاہ نے انجیل بھی جلا دی تو کچھ لوگ جلی ہوئی انجیل کا نسخہ لے کر شاہ روم قیصر کے پاس پہنچے اور اس سے مدد طلب کی، شاہ قیصر نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو جو اس کا تابع تھا، ان لوگوں کی مدد کے لئے لکھا، نجاشی نے ابرہہ کو ایک لشکر دے کر روانہ کیا تاکہ ذونواس کی سلطنت کو تباہ کردیا جائے، اس نے یمن کی یہ سلطنت جو ذونواس کی تھی، اس کو تو ختم کردیا اور خود اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یمن کا بادشاہ بن بیٹھا، یہ شخص نہایت ہی عیاش اور شہوت پرست تھا اس نے جب یہ دیکھا کہ عرب کے لوگ کعبہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور وہاں تمام اطراف واکناف کے لوگ زیارت و عبادت کی نیت سے جاتے ہیں تو اس نے بیت اللہ کی عظمت و برتری ختم کرنے کے لئے شہر (صنعاء) یمن میں ایک کنیسہ (گرجا) تعمیر کرایا، جس میں ہر طرح کی تعمیری زیبائش اور آرائش رکھی تاکہ لوگ اس کو دیکھ کر فریفتہ ہوجائیں اور بیت اللہ کو چھوڑ دیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واسماعیل (علیہ السلام) کے وقت سے جو حج بیت اللہ کا دستور عرب میں چلا آرہا تھا، اس کے بجائے صنعاء کے کعبہ کا حج یا میلہ ہونے لگے، اور حکم جاری کردیا کہ کوئی شخص مکہ نہ جائے اسی کعبہ کا حج کیا کرے، ظاہر ہے کہ بیت اللہ کی مقبولیت اس مصنوعی کعبہ میں کہاں سے آسکتی تھی اس کا کوئی اثر نہ پڑا اور بدستور اہل عرب ویمن مکہ مکرمہ ہی جاتے رہے، اہل مکہ کو ظاہر ہے کہ اس پر غیظ وغضب اور ناگواری ہونی ہی چاہئے تھی تو اس جذبہ سے کسی جاروب کش نے جو عرب یا مکہ کا تھا اس کنیسہ میں پاخانہ کرکے اس کو جگہ جگہ سے آلودہ کردیا، پھر چند روز بعد اس میں آگ لگ گئی یا بقول بعض مؤرخین بیت اللہ کی محبت میں معمور کسی شخص نے رات کے وقت آگ لگا دی، جب حالات کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ آگ بھی مکہ کے لوگوں نے لگائی ہے تو ابرہہ بادشاہ نے غصہ میں آکر ایک لشکر جرار تیار کیا، جو بڑے طاقتور ہاتھیوں پر بھی مشتمل تھا، اور یہ ہاتھیوں کا لشکر مکہ کی طرف روانہ ہوا تاکہ کعبۃ اللہ کو دھا دیا جائے اور راستہ میں جو قبیلہ بھی عرب کے قبائل میں سے مزاحمت کرتا اس کو تہ تیغ کرتا ہوا مکہ کی طرف اپنے لشکر کو رواں دواں رکھا یہاں تک کہ جب یہ لشکر مکہ مکرمہ کے قریب بعض روایات میں نودس میل کی مسافت پر تھا تو اطراف مکہ میں جو مویشی بھی جنگلوں میں چرتے نظر آئے ابرہہ کا لشکر انکو بھی پکڑنے لگا، اسی میں عبدالمطلب جو حضور ﷺ کے جد (دادا) تھے ان کے بھی دو سو اونٹ پکڑلئے، اس وقت عبدالمطلب ہی قریش کے سردار اور بیت اللہ کے متولی تھے، جب ان کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے قریش کے لوگوں کو جمع کر کے کہا گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں یہ کعبہ اللہ کا گھر ہے، وہ خود اس کی حفاطت کرلے گا، اور تم لوگ مکہ خالی کرکے میدانوں میں نکل جاؤ، اس کے بعد عبدالمطلب چند رؤساء قریش کو اپنے ہمراہ لیکر ابرہیہ سے ملاقات کیلئے گئے اطلاع کرائی، ابرہہ نے بڑی ہی عزت کے ساتھ استقبال کیا، عبدالمطلب حسن و جمال کا پیکر تھے وقار و عظمت اور ہیبت ان پر برستی تھی۔ اور اللہ نے انکو ایسی وجاہت اور دبدبہ عطا کیا تھا کہ دیکھنے والا دیکھتے ہی مرعوب ہوجاتا تھا اور کیوں نہ ہوتا جب کہ اللہ تعالیٰ آپ کی صلب سے وہ نبی شان وذی قار پیدا کرنے والا تھا جس کو اللہ رب العزت نے یہ وصف عطا فرمایا تھا کہ ” اعطیت الرعب بمسیرۃ شھر “۔ کہ مجھے ایک ماہ کی مسافت سے رعب عطا کیا گیا ہے کی میں دشمن سے اس قدر فاصلہ پر ہوں گا تو اس بعد کے باوجود اس کے دل پر رعب طاری ہوگا اور وہ ہیبت زدہ ہوجائے گا تو ابرہہ اس قدر مرعوب ہوا کہ عبدالمطلب کو اپنے ساتھ اپنے تخت پر بٹھانا تو گوارا نہ کیا البتہ خود تخت سے نیچے اتر کر فرش پر بیٹھا اور ان کو اپنے ساتھ برابر میں بٹھایا، دوران گفتگو عبدالمطلب نے اپنے اونٹوں کو تو چھوڑ دینے کا ذکر کیا اور خانہ کعبہ جو تمہارا اور تمہارے آباد و اجداد کا کعبہ اور دین و مذہب ہے اس کے بارے میں تم نے کوئی حرف نہیں کہا حالانکہ یہ مسئلہ بڑا ہی اہم تھا اور تم کو اسی کی فکر چاہئے تھی عبدالمطلب نے جواب دیا۔ انا رب الابل وللبیت رب سیمنعہ “ کہ اونٹوں کا میں مالک ہوں (لہذا میں جس کا مالک ہوں میں نے اس کی فکر کی اور اسکا ذکر کیا) اور کعبہ تو اللہ کا گھر ہے اللہ ہی اس کا رب ہے تو وہی اس کی حفاظت کرے گا، ابرہہ نے کچھ سکوت کے بعد عبدالمطلب کے اونٹ واپس کردینے کا حکم دیا، یہ تمام اونٹوں کو لے آئے اور خانہ کعبہ کی نذر کردیئے، اور بیت اللہ کے دروازے پر آکر گڑ گڑا کر دعا مانگنے لگے کہ اے اللہ یہ تو تیرا گھر ہے تو ہی اس کی حفاظت فرما یہ دشمن ہاتھیوں کا لشکر عظیم لے کر آئے ہیں اور تیرے حرم کو برباد کرنے کا قصد لے کر آئے ہیں اور اپنی جہالت سے انہوں نے تیری عظمت و جلال کو نہیں سمجھا عبدالمطلب دعا سے فارغ ہوئے ہی تھے، اور ادھر ابرہہ اپنا لشکر لے کر آگے بڑھنے کا ارادہ ہی کر رہا تھا کہ یکایک پرندوں کے غول کے غول نظر آئے، ہر ایک پرندہ کی چونچ اور پنجوں میں تین تین کنکریاں تھیں جو دفعتا لشکر پر برسنی شروع ہوگئیں، قدرت کی طرف سے پھینکی جانے والی یہ کنکریاں۔ حاشیہ (اسی طرح کی تاثیر اللہ نے اپنے پیغمبر ﷺ کے ہاتھ سے پھینکی ہوئی کنکریوں میں پیدا فرمادی تھی جبکہ آپ نے اپنی ایک مٹھی میں لے کر کفار کے لشکر پر پھینکی اور اسکو حق تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی۔ 12) گولیوں سے بھی شدید کام کررہی تھیں ہر ایک کے سر پر گرتی اور نیچے سے نکل جاتی، اور جس پر وہ کنکری گرتی وہ ختم ہوجاتا، اس طرح تمام لشکر تباہ ہوگیا خواہ وہ انسان ہو یا حیوان اور روایات میں ہے کہ ابرہہ کے بدن پر چیچک جیسے آبلے نمودار ہوگئے اور اس کا تمام بدن اس سے سڑ گیا اور جسم کے تمام حصوں سے خون اور پیپ بہنے لگا، بالآخر ایک ایک حصہ کٹ کٹ کر گرتا گیا یہاں تک کہ سینہ پھٹ گیا اور اسی میں مرگیا۔ بعض روایات سے معلوم ہوا کہ یہ جگہ جہاں ابرہہ کا لشکر ہلاک کیا گیا وادی محسر تھی جو مزدلفہ اور منی کے درمیان واقع ہے، یا بقول ابن عباس ؓ وادی صفاح تھی یہ کنکریاں عالم غیب کی تھیں جو غضب الہی برسانے کیلئے اصحاب فیل پر برسائی گئیں، ان کنکریوں کا ہر ایک کے پارنکل جانا قدرت الہی پر ایمان رکھنے والے کے لئے ذرہ برابر بھی قابل تردد چیز نہیں، لیکن ایک طبقہ جو یورپ کی تعلیمات اور فسلفہ سے مرعوب ہے وہ قدیم زمانہ سے اسی روش کو اختیار کئے ہوئے ہے کہ اس قسم کے واقعات جو خدا وند عالم کی قدرت عظیمہ کے دلائل ہوتے ہیں اور خوارق عادات (جو اللہ کے پیغمبروں کے لئے شہادت ونشانیاں ہوتے ہیں) کی تاویل کرتا ہے اور یہ لوگ ایسے دلائل ومعجزات کو (حالانکہ معجزہ نام ہی اس امر کا ہے جو اسباب عادیہ اور طاقت بشریہ سے بالا و برتر ہو) اسباب عادیہ اور واقعات طبیعیہ کے دائرہ میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ایسی رکیک اور بعید از قیاس اور ایسی مضحکہ خیز تاویلات کرتے ہیں کہ صاحب فہم انسان ان کو سن کر حیرت میں پڑجائے، مثلا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کے سلسلہ میں ان کے عصا مارنے پر پتھر سے بارہ چشموں کا جہاں ذکر آیا۔ (آیت ) ” فقلنا اضرب بعصاک الحجر فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ علینا “۔ تو احادیث مرفوعہ رسول خدا ﷺ کی واضح تفسیر اور امت کے کل ائمہ مفسرین کی تحقیق کے برعکس یہ تاویل بڑی ہی ڈھٹائی سے اور بڑے ہی تکلفات کے ساتھ کر ڈالی کہ یہ بارہ چشموں کا نکلنا اس طرح نہیں تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عصامارا اور پتھر سے چشمے جاری ہوگئے بلکہ اس کی مراد یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) بحکم خداوندی پہاڑ پر چڑھے اور چلتے رہے، حتی کہ انکو ایک جگہ بارہ چشمے جاری بہتے ہوئے نظر آئے، ظاہر ہے کہ یہ تفسیر نہیں بلکہ تحریف ہے۔ 1 حاشیہ۔ (حضرات قارئین اس موضوع کی تفصیل کے لئے ناچیز کی کتاب ” منازل العرفان فی علوم القرآن “۔ بحث تحریفات قرآنیہ “ کی مراجعت فرمائیں۔ 12) تو اسی طرح بعض اہل قلم حضرات نے یہاں بھی صرف اس بناء پر کہ ان کی عقلوں میں یہ بات آنی مشکل تھی کہ پرندوں کے پنجوں اور چونچ کی کنکریاں ایک لشکر جرار اور ہاتھیوں کو ہلاک کرڈالیں تو یہاں بھی تاویل کر ڈالی کہ پرندوں کا کنکریاں پھینکنامراد نہیں بلکہ ہمیں تاریخی نقول اور واقعات کی تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ قریش کے لوگ ابرہہ کے لشکر پر پتھر برسانے لگے اور اسی سے یہ لشکر ہلاک ہوا اور یہی مطلب ہے اس (آیت ) ” ترمیھم بحجارۃ من سجیل “۔ کا۔ (آیت ) ” انا للہ وانآالیہ راجعون “۔ یہ تاویل ایسی کھلی تحریف ہے کہ اس کی نہ لغت اجازت دیتا ہے نہ قرآن کریم کا خود مضمون اور نہ ہی کوئی صاحب فہم انسان اس مضمون کو اس انداز تعبیر کے مطابق قرار دے سکتا ہے جس کو قرآن نے بڑے ہی عظمت وہیبت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے یعنی اور ان کے داؤ کو باطل کرنے کے لئے (آیت ) ” ارسل علیھم طیرا “۔ کی وضاحت فرمائی اور لفظ ترمیہم کی ضمیر طیر یعنی پرندوں کی طرف راجع ہے، قریش کا تو کوئی ذکر ہی نہیں، ان کے پتھر برسانے کا مضمون ہوتا تو قرآن کی آیت یوں ہوتی، فصعد قریش علی الجبال ورموھم بالحجارۃ حالانکہ ہر طالب علم بھی جانتا ہے کہ (آیت ) ” کیف فعل ربک باصحاب الفیل “۔ کے بعد (آیت ) ” وارسل علیھم طیرا ابابیل “۔ کا بس یہی مفہوم ہے کہ خدا نے اپنی قدرت سے ان بھیجے ہوئے پرندوں سے اس لشکر کا کام تمام کردیا، پھر جب کہ احادیث سے بھی واضح تفسیر یہی ثابت ہوچکی تو آخر کیا ضرورت پیش آئی کہ اس طرح کی بعید از قیاس وفہم تاویل کی جائے چناچہ حافظ عماد الدین ابن کثیر الدمشقی (رح) بروایت عکرمہ ؓ ، ابن عباس ؓ سے طیرا بابیل کی تفسیر میں نقل کرتے ہیں۔ ” کہ یہ پرندوں کی ٹولیاں تھیں جو سمندر کی سطح سے نمودار ہوئے۔ ان کی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں تھیں ابن عباس ؓ نے فرمایا ان کی چونچیں پرندوں جیسی تھیں، سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا وہ پرندے سبز رنگ کے تھے اور ان کی منقار (چونچ) زرد رنگ کی تھی تو پرندوں کے یہ غول تمام لشکر پرچھاگئے اور کنکریاں برسانے لگے۔ اعمش (رح) بروایت ابوسفیان ؓ عبید بن عمیر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ سیاہ مائل رنگ کے بحری پرندے تھے، اسی طرح دوسرے حضرات ائمہ تابعین نے متعدد سندوں سے ابن عباس ؓ مجاہد (رح) اور عطاء (رح) سے یہ نقل کیا ہے، ابوزرعہ (رح) کی روایت سے یہ منقول ہے، عبید بن عمیر ؓ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ جب اصحاب فیل کے ہلاک کر ڈالنے کا ارادہ کیا تو ان پر پرندے سمندر سے اٹھے، اور ان کے سروں پر صفوں کی طرح چھاگئے، اور ہر ایک نے اپنی چونچ اور پنجوں میں لی ہوئی کنکریاں ان پر برسانی شروع کردی جس پر وہ کنکریاں گرتیں بدن شق کرتی ہوئی بدن میں سے باہر نکل آتیں، حسن بصری (رح) ضحاک (رح) قتادہ (رح) اور ابو مسلم بن عبدالرحمن (رح) سے بھی اسی طرح تفصیل منقول ہے۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے ان اقوال کو نقل کرتے ہوئے فرمایا اور یہ تمام سندیں محدثین کے نزدیک معتبر اور صحیح ہیں، اسی طرح تفسیر درمنثور میں سعید بن منصور (رح) اور ابن ابی شیبہ (رح) اور ابن منذر (رح) اور ابن ابی حاتم (رح) اور بونعیم (رح) اور بیہقی (رح) نے دلائل میں عبید عمیر اللیثی سے بیان کیا کہ : قال لما اراد اللہ ان یھلک اصحاب طیرا انشات من البحر کانھا الخطاطیف بکف کل طیر انشات من البحر کانھا الخطاطیف بکف کل طیر منھا ثلاثۃ احجار مجزعۃ فی منقارہ حجروحجران فی رجلیہ ثم جاءت حتی صفت علی رؤسھم ثم صاحت والقت مافی ارجلھا ومناقیرھا، فما من حجروقوع منھا علی رجل الا خرج من الجانب الاخران وقو علی راسہ خرج من دبر وان وقع علی شیء من بدنہ خرج من الجانب الاخر وبعث اللہ ریحا شدیدا فضربت ارجلھا فزادھا شدہ فاھلکوا جمیعا (درمنثور) جب اللہ تعالیٰ نے اصحاب فیل کے ہلاک کرنے کا ارادہ کیا تو ان پر پرندوں کو بھیجا جو دریا سے اٹھی تھیں گویا کہ وہ خطاطیف ہیں، ہر چڑیا تین تین پتھروں کے ٹکڑے لئے ہوئے تھی ایک چونچ میں اور دو پنجوں میں یہ چڑیاں دریا کی طرف سے آکر اصحاب فیل کے سروں پر منڈلائیں پھر چیخیں اور ڈالا انہوں نے اصحاب فیل پر ان سنگریزوں کو جو کہ ان کے پاؤں اور چونچوں میں تھے پس نہیں تھا کوئی سنگریزہ جو کہ اصحاب پر گرا مگر نکل گیا دوسری طرف سے اور اگر بدن کے کسی اور حصہ پر گرا تو دوسری جانب سے نکل گیا اور بھیجا اللہ تعالیٰ نے ہوا کے طوفان کو پس مارا چڑیوں نے اپنے پاؤں سے اصحاب فیل کو جس کی وجہ سے ان کی تکلیف میں اضافہ ہوگیا اور سب کے سب ہلاک ہوگئے۔ علی ھذا القیاس ابونعیم (رح) نے اور بیہقی (رح) نے بھی متعدد اسانید سے یہ روایات بیان کی ہیں، ان تمام تصریحات کے ہوتے ہوئے بلاشبہ یہ امر مضحکہ خیز اور گویا قدرت خداوندی کا انکار ہے کہ پرندوں کی کنکریاں برسانے کا انکار کرکے قریش کے لوگوں کی طرف سے پہاڑوں پر چڑھ کر اصحاب فیل کا مقابلہ کرنا اور ان کو شکست دینا بیان کیا جائے، اور اصحاب فیل کی ہلاکت کو ایک اتفاقی بیماری اور چیچک کے نکل جانے پر محمول کیا جائے، اگر کسی تفسیر میں لفظ چیچک کے دانے ہوں، بہرکیف قدرت خداوندی پر ایمان رکھنے والا شخص ان واضح تفسیرات کے بعد ایک لمحہ کے لئے بھی اس واقعہ کو تسلیم کرنے میں تامل نہیں کرسکتا، پھر جب کہ دنیا میں پیش آنے والے ان واقعات کو نقل بھی کرتے ہیں کیس جگہ بیان کیا گیا کہ آتشیں گولہ پڑا، جس کی آواز سے لوگ ہیبت زدہ ہوگئے اور زمین میں وہ دھنس گیا کہیں سرخ آندھیوں سے تباہی پھیل گئی کہیں آسمان سے اولے برسنے لگے، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ قریش مکہ تو آنحضرت ﷺ کی تکذیب اور ترددی کیلئے معمولی سے معمولی بات کی فکر میں رہتے تھے تو آخر انہوں نے کیوں نہ کہہ دیا کہ قرآن کا یہ اعلان غلط ہے کہ محمد ﷺ کے خدا نے اس لشکر کو ہلاک کیا اور اس طرح یہ واقعہ اس کی قدرت کی دلیل اور اس کے پیغمبر ﷺ کی نبوت کی اطلاع ہے بلکہ یہ تو ہمارا کام تھا کہ ہم نے پہاڑوں پر سے ان پر پتھر برسائے اور اس طرح ابرہہ کے لشکر کو شکست دی۔ امام رازیرحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں، عذاب خداوندی کے واقعات اور قدرت کی ایسی نشانیوں میں مثلا ہوائیں۔ زلزلے، طوفان، پتھروں کی بارش وغیرہ وغیرہ میں ملحدین تاویلات کرکے قدرت خداوندی اور ایسے مظاہر غضب کا انکار کرتے ہیں اور نہایت ہی رکیک اور ضعیف یا بعید از قیاس تاویلات کرلیتے ہیں لیکن اس واقعہ میں اس طرح کے اعذار اور تاویل کی قطعا کوئی گنجائش ہی نہیں نہ اس واقعہ کو کسی اتفاق پر محمول کرسکتے ہیں اور نہ اس کو کسی طبیعت اور مادہ کے اقتضاء پر محمول کیا جاسکتا ہے کیونکہ ایسی بات کہ پرندوں کے غول اپنی چونچ اور پنجوں میں کنکریاں لے کر آئیں اور لشکر پر بر سانے لگیں، اور ایک مخصوص قوم اور لشکر ہی پر یہ کنکریاں برسیں نہ کہ کسی اور پر ہرگز یہ بات نہ اتفاق پر محمول ہوسکتی ہے اور نہ اس کو امر طبعی پر محمول کیا جاسکتا ہے جیسے کہ کسی آندھی چلنے کی تاویل کرلی جائے یا طوفان کی تاویل کرلی جائے، یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے لشکر کا بحر قلزم سے عصا مارنے پر بارہ راستے ہو کر صحیح سالم نکل جانے اور اس کے بعد فرعون کے لشکر کے غرق ہوجانے کو دریاؤں کے مدر جزر پر محمول کرلیاجائے، غرض یہاں اس قسم کی کسی بھی بات کا امکان نہیں ہے۔ اور پھر یہ بھی بات قابل غور ہے کہ یہ واقعہ حضور ﷺ کی ولادت باسعادت سے پچاس روز قبل ہی تو پیش آیا اور جب یہ سورت نازل ہوئی اور اہل مکہ کو آنحضرت ﷺ نے یہ سورت پھر کر سنائی تو یقیناً اس وقت تک مکہ میں بہت سے لوگ وہ موجود تھے جنہوں نے اس واقعہ کا مشاہدہ کیا تھا، تو اگر یہ اعلان خلاف حقیقت ہوتا یا اس کی مراد یہ نہ ہوتی تو وہ کفار قریش برملا اس سورت کی تردید کردیتے نہ کسی متنفس نے تردید کی نہ طعن کیا اور نہ کوئی تاویل کی اور نہ یہ دعوی کیا کہ نہیں پرندے نہیں بلکہ ہم نے پتھر برسائے۔ فائدہ : کفار قریش اگر مشرک تھے اور بیت اللہ میں سینکڑوں بت رکھے ہوئے تھے تو یہ شرک بیشک بدترین فعل تھا۔ اور اصولی طور سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے گھر کی دیواروں کو منہدم کرنے سے بھی یہ عمل شنیع اور برا تھا لیکن اس پر طویل مدت گزرنے پر بھی عذاب نازل نہیں ہوا اور ابرہہ کے لشکر نے بیت اللہ کو منہدم کرنے کا ارادہ کیا تو اس پر یہ عذاب نازل ہوگیا اس پر ممکن ہے کہ تعجب ہو لیکن اصل بات یہ ہے کہ مشرکین کا جرم اللہ رب العزت کے حق پر تعدی اور نافرمانی تھی اور ابرہہ کے لشکر کا یہ اقدام دین خداوندی اور بیت اللہ کی توہین تھی، اس وجہ سے خدا کو یہ بات برداشت نہ ہوئی یعنی اللہ نافرمانی پر داشت کرلیتا ہے لیکن اپنے دین کی توہین نہیں برداشت کرتا۔ اصحاب الفیل کی تعبیر بجائے ارباب الفیل یا ملاک الفیل کے ایک عجیب لطافت رکھتی ہے گویا اشارۃ یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ قوم اپنی بہیمیت اور عقل وفہم سے محروم ہونے میں فیل کی جنس سے ہی تھے اس بناء پر یہ درست ہے کہ ان کو اصحاب الفیل یعنی ہاتھیوں سے ساتھ اور فقاء کہہ دیا جائے۔ تم بحمد اللہ تفسیر سورة الفیل :