105. Surah Al-Fil

الفيلThe Elephant · 5 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 105:1

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟

کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ آپ کے رب نے ہاتھیوں والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: الم تر یعنی کیا آپ کو خبر نہیں دی گئی ؟ ایک قول یہ کیا گیا ؛ کیا آپ علم نہیں رکھتے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : کیا آپ نے نہیں سنا ؟ لفظ (ہمزہ) تو استفہام کا ہے معنی تقریر کا دے رہا ہے خطاب نبی کریم کے لیے ہے لیکن حکم عام ہے یعنی کیا آپ کو علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا یعنی یقینا تمہیں علم ہے اور جہاں میں نے تم پر احسان کیا تھا اس جگہ کو تم جانتے ہو۔ تو تمہیں کیا ہوگیا ہے تم ایمان نہیں رکھتے۔ کیف محل نصب میں ہے اس کا عامل فعل ہے الم تر نہیں کیونکہ اس میں استفہام کا معنی موجود ہے۔ فیل کی لغوی تشریح : مسئلہ نمبر 2: باصحب الفیل۔ فیل (ہاتھی) ایک معروف جانور ہے اس کی جمع افیال، فیول اور فیلہ آتی ہے۔ ابن سکیت نے کہا : تو افیلۃ نہ کہہ اس کی مونث فیلۃ ہے اس کے مالک سوار کو فیال کہتے ہیں۔ سیبویہ نے کہا : یہ جائز ہے کہ فیل کا اصل وزن فعل ہو تو یاء کی وجہ سے اسے کسرہ دیا جائے گا، جس طرح کہا جاتا ہے : ابیض، بیض۔ اخفش نے کہا کہ فعل کو فعل بنانا یہ واحد کے صیغہ میں نہیں ہوتا۔ یہ صرف جمع کے صیغہ میں ہوتا ہے۔ ایک جملہ بولا جاتا ہے ؛ رجل فیل الرای ایسا آدمی جس کی رائے کمزور ہو اس کی جمع افیال ہے اسی طرح رجل فال ایسے آدمی کو کہتے ہیں جس کی رائے کمزور ہو اور فہم و فراست میں خطا کرنے والا ہو۔ اس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے : فال الرای یفیل فیولۃ اسی طرح فیل رایۃ تفییلا اس نے اپنی رائے کو کمزور کیا فھو فیل الرای۔ اصحاب فیل کا واقعہ : مسئلہ نمبر 3: اصحاب فیل کا واقعہ۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ ابرہہ نے صنعا میں قلیس بنایا یہ ایک گر جا تھا روئے زمین پر اس زمانہ میں اس کی مثل کوئی چیز نہ دیکھی گئی اور وہ نصرانی تھا پھر اس نے نجاشی کو خط لکھا : اے بادشاہ ! میں نے تیرے لیے گرجا بنایا ہے جو بادشاہ آپ سے پہلے گزرے ہیں ان کیلیے ایسا گرجا نہیں بنایا گیا تھا میں اس سلسلہ کو اس وقت تک ختم نہ کروں گا یہاں تک کہ میں عربوں کے حج کو اس طرف پھیر دوں۔ جب عربوں کو ابرہہ کے خط کا پتہ چلا جو اس نے نجاشی کی طرف لکھا تھا تو نساۃ کا ایک آدمی اس پر غضبناک ہوگیا وہ اپنے گھر سے چلا اور گرجا میں آیا وہاں قضائے حاجت کی پھر وہاں سے نکلا بیت اور اپنے علاقہ میں چلا گیا۔ اس کے بارے میں ابرہہ کو آگاہ کیا گیا۔ اس نے پوچھا : یہ کس نے کیا ہے ؟ اسے بتایا گیا : یہ کام بیت اللہ شریف سے عقیدت رکھنے والوں میں سے ایک نے کیا ہے وہ بیت اللہ جو مکہ مکرمہ میں ہے جس کی طرف حج کرتے ہیں جب اس نے تیرے قول کو سنا کہ میں عربوں کے حج کو اس کی طرف پھیر دوں گا وہ آدمی غضبناک ہوگیا وہ آیا اور اس نے پاخانہ کردیا یعنی یہ جگہ اس کے اہل نہیں۔ یہ بات سن کر ابرہہ غضبناک ہوا اور قسم اٹھائی وہ بیت اللہ کی طرف جائے گا اور اس کو گرا دے گا۔ اس نے ایک آدمی بنو کنانہ کی طرف بھیجا تاکہ وہ بنو کنانہ کو اس گرجا کے حج کی دعوے دے، بنو کنانہ نے اس آدمی کو قتل کردیا اس قتل نے ابرہہ کے غصہ میں اور اضافہ کیا پھر اس نے حبشیوں کو حکم دیا تو انہوں نے حملہ کی تیاری کی پھر وہ چلا اور ہاتھیوں کو بھی ساتھ لیا عربوں نے اس بارے میں سنا تو انہوں نے اس امر کو عظیم جانا اور اس وجہ سے گھبرائے اور یہ خیال کیا کہ اس کے خلاف جنگ کرنا ہم پر فرض ہے، جب انہوں نے یہ سنا تھا کہ یہ بیت اللہ شریف کو گرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اہل یمن کے معززین اور اس کے بادشاہوں میں سے ایک آدمی ذو نفر اس کام کے لیے نکل کھڑا ہوا اس نے اپنی قوم کو دعوت دی اور عربوں میں سے جو بھی ابرہہ سے جنگ کرنے کے لیے تیار تھا اور بیت اللہ شریف کے دفاع کے لیے تیار تھا سب کو دعوت دی کیونکہ ابرہہ بیت اللہ شریف گرانا چاہتا تھا اور اسے برباد کرنا چاہتا تھا تو اس کی آواز پر لبیک کہا جس نے بھی کہا۔ پھر وہ ذو نفر ابرہہ کے بالمقابل آیا اس سے جنگ کی ذو نفر اور اس کے ساتھیوں کو شکست ہوئی۔ ذو نفر پکڑا گیا تو اسے ابرہہ کے سامنے پیش کیا گیا جب ابرہہ نے اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو ذو نفر نے اسے کہا : اے بادشاہ ! مجھے قتل نہ کرو ممکن ہے میرا تیرے ساتھ باقی رہنا تیرے حق میں میرے قتل سے بہتر ہو۔ ابرہہ نے اسے قتل کرنے کا ارادہ ترک کیا اور اپنے ہاں قید کردیا، ابرہہ ایک بردبار آدمی تھا۔ پھر ابرہہ اپنے راستہ پر چلتا رہا جس مقصد کے لیے وہ نکلا تھا اس کا ارادہ کرتا تھا، یہاں تک کہ جب وہ خثعم کے علاقہ میں تھا تو نفیل بن حبیب حثعمی اپنے دو قبیلوں شہران اور ناہس اور اپنے پیروکار عرب قبائل کے ساتھ سامنے آگیا۔ ابرہہ سے جنگ کی اور ابرہہ نے اسے شکست دے دی نفیل کو پکڑ لیا گیا۔ اسے ابرہہ کے پاس لایا گیا جب ابرہہ نے نفیل کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو نفیل نے کہا : اے بادشاہ ! مجھے قتل نہ کرو میں عرب علاقے میں تیرا رہنما بنتا ہوں یہ میرے دونوں ہاتھ میرے دونوں قبیلوں شہران اور ناہس کی جانب سے حکم سننے اور طاعت کرنے پر تیری بیعت کرتے ہیں۔ اس نے نفیل کو چھوڑ دیا اور اسے ساتھ لے لیا تاکہ وہ راہنمائی کرے یہاں تک کہ ابرہہ جب طائف پہنچا تو مسعود بن معتب، بنو ثقیت کے چند لوگوں کے ساتھ نکلا انہوں نے ابرہہ سے کہا : اے بادشاہ ! ہم تیرے غلام ہیں، تیرے حکم سننے والے اور تیرے حکم کی اطاعت کرنے والے ہیں ہمارا تیرے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں ہمارا یہ گھر یعنی لات وہ گھر نہیں جس کا تو ارادہ کرتا ہے جس گھر کا تو ارادہ رکھتا ہے وہ مکہ مکرمہ میں ہے، ہم تیرے ساتھ وہ آدمی بھیج دیتے ہیں جو تیری راہنمائی کرے گا۔ ابرہہ نے ان سے درگزر کیا اور ابرہہ کے ساتھ ابو رغال کو بھیج دیا یہاں تک کہ اسے مغمس کے ہاں ٹھہرایا جب اسے وہاں پڑاؤ کردیا تو ابو رغال مرگیا عرب اس کی قبر پر پتھر مارتے ہیں مغمس میں یہ وہی قبر ہے جس پر لوگ پتھر مارتے ہیں۔ اس بارے میں شاعر کہتا ہے : ارجم قبرہ فی کل عام۔۔۔ کر جم الناس قبر ابی رغال میں ہر سال اس کی قبر پر پتھر مارتا ہوں جس طرح لوگ ابو رغال کی قبر پر پتھر مارتے ہیں۔ جب ابرہہ مغمس میں ٹھہرا تو اس نے ایک حبشی کو ایک گھڑ سوار دستے کے ساتھ بھیجا جس کو اسود بن مقصود کہتے وہ مکہ مکرمہ پہنچا تو اس نے اہل تہامہ یعنی قریش اور دوسرے لوگوں کے اموال ہانک لیے اور اس مال میں حضرت عبدالمطلب بن ہاشم کے دو سو اونٹ بھی پائے۔ ان دنوں وہ قریش کے بزرگ اور سردار تھے۔ قریش، کنانہ، ہذیل اور جو لوگ حرم میں تھے انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ ابرہہ کا مقابلہ کریں پھر انہیں علم ہوگیا وہ ابرہہ کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تو انہوں نے اس کا ارادہ ترک کردیا۔ ابرہہ نے حناط حمیری کو مکہ مکرمہ بھیجا اسے کہا : اس شہر کے سردار اور معزز آدمی کے بارے میں سوال کر پھر سے کہہ : بادشاہ کہتا ہے میں تمہارے ساتھ جنگ کرنے کے لیے نہیں آیا میں تو اس گھر کو گرانے آیا ہوں اگر تم جنگ کرنے کے لیے میرے سامنے نہیں آؤ گے تو تمہارے خونوں سے ہولی کھیلنے میں مجھے کوئی غرض نہیں اگر وہ مجھ سے جنگ نہ کرنا چاہتا تو اسے میرے پاس لے آنا۔ جب حناط مکہ مکرمہ میں داخل ہوا تو اس نے قریش کے سردار اور معزز آدمی کے بارے میں پوچھا تو اسے بتایا گیا وہ عبدالمطلب بن ہاشم ہے وہ حضرت عبدالمطلب بن ہاشم کے پاس آیا اور ابرہہ نے اسے جو پیغام دیا تھا وہ پیغام آپ کو دے دیا۔ عبدالمطلب نے اسے کہا : اللہ کی قسم ! ہم جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے اور نہ ہمارے اندر اس کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہے یہ بیت اللہ الحرام ہے اور اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم کا گھر ہے اگر اللہ تعالیٰ ابرہہ سے اس کا دفاع کرے تو یہ اس کا حرم اور اس کا گھر ہے اگر وہ اس کے لیے حلال کردے تو اللہ کی قسم ! ہمارے پاس تو اس کا دفاع کرنے کی کوئی طاقت نہیں۔ حناطہ نے اسے کہا : اس کے پاس چلیے بادشاہ نے مجھے حکم دیا کہ میں تجھے اس کے پاس لے چلوں۔ حضرت عبدالمطلب اس کے ساتھ گئے جبکہ کچھ بیٹے بھی آپ کے ساتھ تھے یہاں تک کہ لشکر میں پہنچے انہوں نے ذی نفر کے بارے میں پوچھا جو حضرت عبدالمطلب کا دوست تھا حضرت عبدالمطلب اس کے پاس گئے جبکہ وہ ابرہہ کی قید میں تھا اسے فرمایا : اے ذو نفر ! جو مصیبت ہم پر آئی ہے کیا اس سے بچاؤ کی صورت بھی ہے تو ذو نفر نے کہا : ایک آدمی جو بادشاہ کی قید میں ہے وہ کیا فائدہ دے سکتا ہے جو اس انتظار میں ہے کہ بادشاہ اسے صبح قتل کردے یا شام قتل کردے، جو مصیبت تم پر پہنچی ہے اس بارے میں تو تمہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا مگر انیس جو ہاتھی کا سائس ہے وہ میرا دوست ہے میں اس کی طرف پیغام بھیجتا ہوں میں اسے تیرے بارے میں تاکیدی بات کرتا ہوں اور تیرے حق کو اس پر عظیم گردانتا ہوں اور میں اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ بادشاہ سے تیری ملاقات کی اجازت مانگے تو جو مناسب سمجھے اس سے بات کرلینا۔ اگر اسے کچھ اختیار ہوا تو وہ تیرے بارے میں سفارش کرے گا۔ حضرت عبدالمطلب نے کہا : یہ میرے لیے کافی ہے۔ ذو نفر نے انیس کی طرف پیغام بھیجا ذو نفر نے انیس سے کہا : عبدالمطلب قریش کے سردار ہیں، مکہ مکرمہ کے چشمہ کے مالک ہیں، میدانی علاقہ میں لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر وحشی جانوروں کو کھانا کھلاتے ہیں، بادشاہ نے ان کے دو سو اونٹ پکڑ لیے ہیں انہیں ملاقات کی اجازت لے دیں اور جتنی طاقت رکھتے ہو انتا انہیں نفع پہنچائیں۔ انیس نے کہا : میں ایسا کروں گا۔ انیس نے ابرہہ سے گفتگو کی انیس نے کہا : اے بادشاہ ! قریش کا سردار تیرے دروازے پر موجود ہے جو تجھ سے ملاقات کی اجازت چاہتا ہے وہ مکہ مکرمہ کے چشمہ کا مالک ہے، وہ میدانی علاقوں میں لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر وحشی جانوروں کو کھانا کھلاتا ہے اسے اندر آنے اجازت دیجیے تاکہ وہ آپ سے اپنی حاجت بیان کرسکے۔ ابرہہ نے آپ کو اجازت دے دی۔ حضرت عبدالمطلب بڑے وجیہ، عظیم اور خوبصورت آدمی تھے جب ابرہہ نے آپ کو دیکھا تو انہیں بڑا ذیشان جانا اور انہیں نیچے بٹھانے سے ماورا سمجھا، ابرہہ اپنے تخت سے نیچے اتر آیا اور اپنے قالین پر بیٹھ گیا اور حضرت عبدالمطلب کو اپنے پہلو میں بٹھایا۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا : انہیں کہو یہ اپنی حاجت کا ذکر کرے تو ترجمان نے حضرت عبدالمطلب سے یہ بات کہی حضرت عبدالمطلب نے کہا میری حاجت یہ ہے کہ بادشاہ میرے وہ دو سو اونٹ واپس کردے جو اس نے پکڑ رکھے ہیں۔ جب ترجمان نے ابرہہ کو یہ بات بتائی تو ابرہہ نے اپنے ترجمان سے کہا : اسے کہو جب میں نے تجھے دیکھا تھا تو نے مجھے حیرت میں ڈال دیا تھا، جب تو نے گفتگو کی تو میرے ہاں تیرا وہ وقار باقی نہ رہا۔ کیا تو مجھ سے ان دو سو اونٹوں کے بارے میں گفتگو کرتا ہے جو میں نے پکڑ لیے ہیں جبکہ تو اس گھر کو چھوڑ رہا ہے جو تیرا اور تیرے آباء کا دین ہے اور میں اس گھر کو گرانے کے لیے آیا ہوں، تو اس کے بارے میں گفتگو نہیں کرتا۔ حضرت عبدالمطلب نے کہا : میں تو صرف اونٹوں کا مالک ہوں بیشک اس گھر کا بھی ایک رب ہے جو اس کی حفاظت کرلے گا۔ ابرہہ نے ان کے اونٹ واپس کردیئے۔ حضرت عبدالمطلب قریش کی طرف واپس چلے گئے۔ انہیں تمام واقعہ بتایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ مکہ مکرمہ سے نکل جائیں اور پہاڑوں کی چوٹیوں میں چھپ جائیں کیونکہ انہیں دشمن کے لشکر کی جانب سے اذیت کا خوف تھا۔ پھر حضرت عبدالمطلب اٹھے بیت اللہ شریف کے دروزہ کا حلقہ پکڑا اور ان کے ساتھ قریش کی ایک جماعت بھی کھڑی ہوئی وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کررہے تھے اور ابرہہ اور اس کے لشکر کے خلاف مدد کے طالب تھے۔ حضرت عبدالمطلب نے کہا : جبکہ وہ بیت اللہ شریف کے دروازے کا حلقہ پکڑے ہوئے تھے : لاھم ان العبد یمنع رحلہ فامنع حلالک لا یغلبن صلیبھم ومحالھم عدوا محالک ان یدخلوا البلد الحرام فامر ما بدالک اے اللہ ! بندہ اپنے کجاوے کی حفاظت کرتا ہے تو اپنے حرم کے باسیوں کی حفاظت فرما۔ ان کی صلیب اور ان کا مکر زمانہ قریب میں تیری تدبیر پر غالب نہ آجائے۔ اگر وہ بلد حرام میں داخل ہوں تو جو مناسب سمجھے ان کے ساتھ معاملہ کر۔ فامر ما بدالک سے مراد ہے ایسی چیز جو تجھے مناسب لگے اور وہ ایسی چیز ہے جو ہمارے بارے میں نہیں کیا کرتا تھا۔ حلال، حل کی جمع ہے اور محال کا معنی قوت ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب حضرت عبدالمطلب نے بیت اللہ شریف کے دروازے کا حلقہ پکڑا تو کہا : یا رب لا ارجو لھم سوا کا۔۔۔ یا رب فامنع منھم حماک ان عدو البیت من عاداک۔۔۔ انھم لم یقھروا قواکا اے میرے رب ! میں تیرے سوا ان کے بارے میں کسی سے کوئی امید نہیں کرتا اے میرے رب ! ان سے اپنی چراگاہ کی حفاظت فرما، بیشک تیرے گھر کا دشمن تجھ سے دشمنی کرنے والا ہے وہ تیری طاقت پر غالب نہیں آسکتے۔ عکرمہ بن عامر بن ہاشم بن عبد مناف بن عبدالدار بن قصی نے کہا : لاھم اخز الاسود بن مقصود۔۔۔ الاخذ الھجمۃ فیھا التقلید بین حراء و ثبیر فالبید۔۔۔ یحبسھا وھی اولات التطرید فغمھا الی طماطم سود۔۔ قد اجمعوا الا یکون معبود و یھدموا البیت الحرام المعمود۔۔۔ والمردتین والمشاعر السود اخفرہ یا رب وانت محمود ! اے اللہ ! اسود بن مقصود کو ذلیل و رسوا کر جس نے سو کے قریب اونٹوں کو پکڑ لیا جن کے گلوں میں قلادے تھے، وہ حرا، ثبیر کے درمیان تھے کھلے میدان نے انہیں محبوس کر رکھا تھا وہ پے در پے آنے والے ہیں۔ اس نے ان اونٹوں کو کالے عجمی کافر کے سپرد کردیا انہوں نے اس پر اتفاق کرلیا ہے کہ کوئی معبود نہ ہو اور یہ ارادہ کرلیا ہے کہ وہ بیت حرام کو گرا دیں جس کا قصد کیا جاتا ہے وہ صفا ومروہ کے آثار مٹا دیں اور حجر اسود کو مٹا دیں اے میرے رب ! اس کے عزک کو خاک میں ملا دے بیشک تو محمود ہے۔ ابن اسحاق نے کہا : پھر حضرت عبدالمطلب نے بیت اللہ شریف کے دروازے کا حلقہ چھوڑ دیا پھر وہ اور آپ کے ساتھی قریشی پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف چلے گئے وہاں انہوں نے پناہ لی اور انتظار کرنے لگے کہ ابرہہ مکہ مکرمہ میں داخل ہو کر کیا کرتا ہے ؟ جب ابرہہ نے صبح کی تو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی تیاری کی اور اپنے ہاتھی کو تیار کیا اپنے لشکر کو صف آرا کیا ہاتھی کا نام محمود تھا اور ابرہہ بیت اللہ شریف کو گرانے کا قصد کرنے والا تھا پھر یمن جانے کا ارادہ کررہا تھا۔ جب انہوں نے مکہ مکرمہ کی طرف ہاتھی کو لے جانا چاہا تو نفیل بن حبیب آگے بڑھا یہاں تک کہ وہ ہاتھی کے پہلو میں جا کھڑا ہوا پھر اس کا کان پکڑا اسے کہا : اے محمود ! بیٹھ جا جہاں سے آیا تھا اس کی طرف لوٹ جا کیونکہ تو اللہ تعالیٰ کے حرمت والے شہر میں ہے پھر اس کا کان چھوڑ دیا، ہاتھی بیٹھ گیا۔ نفیل بن حبیب دوڑتا ہوا نکل گیا یہاں تک کہ وہ پہاڑ پر چڑھ گیا انہوں نے ہاتھی کو اٹھانے کے لیے مارا تو اس نے اٹھنے سے انکار کردیا، انہوں نے اس کے سر میں کلہاڑا مارا تاکہ وہ اٹھے تو اس نے اٹھنے سے انکار کردیا انہوں نے اس کے پیٹ میں ایسے عصا مارے جس کے سرے مڑے ہوئے تھے انہوں نے اسے لہولہان کردیا تاکہ وہ اٹھے تو اس نے پھر بھی انکار کردیا انہوں نے اس کا منہ یمن کی طرف کیا تو وہ دوڑ پڑا انہوں نے اس کا منہ شام کی طرف کیا تو پھر بھی اس نے اسی طرح کیا تو وہ دوڑ پڑا انہوں نے اس کا منہ مشرق کی طرف کیا تو اس نے اس طرح کیا انہوں نے اس کا منہ مکہ مکرمہ کی طرف کیا تو وہ بیٹھ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کی جانب سے ان پر پرندے بھیجے جو خطا طیف اور بلسان جیسے تھے ہر پرندے کے ساتھ تین پتھر تھے ایک پتھر اس کی چونچ میں تھا دو پتھر اس کے پاؤں میں تھے جو چنے اور مسور کی دال کے درمیان تھے لشکر والوں میں سے جسے وہ پہنچتا وہ ہلاک ہوجاتا وہ سب کو نہ لگے وہ بھاگتے ہوئے نکلے وہ اس راستہ پر جلدی جلدی جارہے تھے جس سے وہ آئے تھے وہ نفیل بن حبیب کے بارے میں پوچھ رہے تھے تاکہ یمن کے راستے کی طرف ان کی راہنمائی کرے اللہ تعالیٰ نے جو عذاب ان پر نازل کیا تھا جب نفیل نے وہ دیکھا تو کہا : این المفر والالہ الطالب۔۔۔ والاشرم المغلوب لیس الغالب اب بھاگنے کے لیے کہاں جگہ ہے جبکہ اللہ تعالیٰ تلاش میں ہوا شرم مغلوب ہے وہ غالب نہیں۔ اس نے یہ بھی کہا : حمدت اللہ اذا ابصرت طیرا۔۔۔ و خفت حجارۃ تلقی علینا فکل القوم یسأل عن نفیل۔۔۔ کان علی للحبشان دینا جب میں نے پرندوں کو دیکھا تو میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی وہ ان پتھروں سے ڈر رہا تھا جو ہم پر پھینکے جارہے تھے تمام نفیل کے بارے میں پوچھ رہے تھے گویا حبشیوں کا مجھ پر کوئی قرض تھا۔ وہ ہر راستہ پر گرتے پڑتے نکل پڑے، وہ ہر میدانی جگہ میں مرتے جارہے تھے ابرہہ کے جسم میں بیماری لگ گئی وہ اسے لے کر نکل پڑے اس سے پورا پورا گر رہا تھا جب بھی اس سے پورا بھر حصہ گرتا اس سے پیپ نمودار ہوتی اور خون اور پیپ پھوٹ پڑتی یہاں تک کہ وہ اسے صنعا لے آئے وہ پرندے کے ایک چوزے کی طرح تھا اسے اس وقت موت واقع نہ ہوئی یہاں تک کہ اس کے دل کی جگہ سے اس کا سینہ پھٹ گیا۔ اسی طرح علماء نے گمان کیا ہے۔ کلبی اور مقاتل بن سلیمان (ہر ایک دوسرے سے کچھ کم و بیش نقل کرتا ہے) نے کہا : ابرہہ کے حملہ کا سبب یہ تھا کہ قریش کے کچھ لوگ نجاشی کے ملک کی طرف تاجر کی حیثیت سے نکلے تو وہ سمندر کے کنارے عیسائیوں کے ایک کلیسا کے پاس اترے جسے نصاری ہیکل کہتے انہوں نے کھانا پکانے کے لیے آگ جلائی اس آگ کو اسی طرح چھوڑ دیا اور کوچ کیا آگ پر تیز ہوا چلی تو اس کلیسا پر آگ بھڑکا دی جس سے وہ جل گیا۔ خبر دینے والا نجاشی کے پاس آیا اور اسے واقعہ سنایا وہ غصہ سے بھڑک اٹھا اس کے پاس ابرہہ بن صباح، حجر بن شرجیل اور ابو یکسوم کندیون آئے اور ضمانت اٹھائی کہ وہ کعبہ کو جلائیں گے اور اہل مکہ کو قیدی بنا کر لائیں گے۔ نجاشی بادشاہ تھا اور ابرہہ امیر لشکر تھا ابو یکسون بادشاہ کا ہم پیالہ تھا، ایک قول یہ کیا گیا : وہ اس کا وزیر تھا اور حجر بن شرحبیل اس کے قائدین میں سے ایک تھا۔ مجاہد نے کہا : ابو یکسوم ہی ابرہہ تھا۔ وہ سب چلے ان کے ساتھ ہاتھی تھا۔ اکثر علماء کی رائے ہے کہ ہاتھی ایک ہی تھا۔ ضحاک نے کہا : آٹھ ہاتھی تھے۔ وہ ذی مجاز کے مقام پر اترے اور مکہ کے جانور ہانک لیے جن میں حضرت عبدالمطلب کے اونٹ بھی تھے چرواہا خبر دار کرنے کے لیے آیا وہ صفا پر چڑھا اور بلند آواز سے اعلان کی و اصباحاہ، پھر لوگوں کو لشکر اور ہاتھیوں کے آنے کی خبر دی۔ حضرت عبدالمطلب نکلے اور ابرہہ کے پاس گئے اور اپنے اونٹوں کا مطالبہ کیا۔ نجاشی کے بارے میں اختلاف ہے کیا وہ ان لوگوں کے ساتھ تھاَ ؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نجاشی بھی ان کے ساتھ تھا، اکثر علماء کی رائے ہے کہ وہ ان کے ساتھ نہیں تھا، اہل مکہ نے پرندے دیکھے جو سمندر کی جانب سے آئے تھے، حضرت عبدالمطلب نے کہا : یہ پرندے ہمارے علاقہ میں اجنبی ہیں نہ یہ نجد، نہ یہ حجاز اور نہ ہی تہامہ کے علاقہ کے ہیں یہ تو شہد کی مکھیوں کے امیر کی طرح ہیں۔ ان کی چونچوں اور پاؤں میں پتھر تھے جب وہ ابرہہ کے لشکر کے پاس آئے تو ان پتھروں کو ان پر پھینکا تو وہ ہلاک ہوگئے۔ عطا بن رباح نے کہا : پرندے پچھلے پہر آئے انہوں نے رات گزاری پھر اگلے دن ان پر صبح کی اور ان پر پتھر پھینکے۔ کلبی نے کہا : ان کی چونچوں میں ایسی ٹھیکری تھی جو ناخن پر رکھ کر پھینکی جاسکتی ہے یہ جھنڈ کے جھنڈ آئے ایک پرندہ تھا جو ان کی قیادت کر رہا تھا جس کی چونچ سرخ اور سیاہ، گردن لمبی تھی جب وہ لشکر کے پاس پہنچے تو اپنی چونچوں میں موجود چیز کو نیچے والے افراد پر پھینکا ہر پتھر پر مقتول کا نام لکھا ہوا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : ہر پتھر پر لکھا ہوا تھا جس نے اللہ کی اطاعت کی وہ نجات پا گیا اور جس نے اس کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوگیا پھر جہاں سے وہ پرندے آئے تھے اس کی طرف لوٹ گئے۔ عوفی نے کہا : میں نے حضرت ابو سعید خدری سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : مکہ مکرمہ کے کبوتر انہیں میں سے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : پتھر ان میں سے کسی کے خود پر پڑتا تو اسے پھاڑ دیتا پھر وہ اس کے دماغ میں لگتا وہ ہاتھی اور جانوروں کو پھاڑ دیتا اور سختی سے گرنے کی وجہ سے زمین میں غائب ہوجاتا۔ ابرہہ کا لشکر ساٹھ ہزار افراد کا تھا ان کے امیر کے سوا کوئی واپس نہ لوٹا۔ وہ لوٹا اور اس کے ساتھ ایک چھوٹی جماعت تھی جب انہوں نے اپنے مشاہدہ کو لوگوں کو پر بیان کیا تو وہ بھی ہلاک ہوگئے۔ واقدی نے کہا : ابرہہ اس نجاشی کا دادا تھا جو رسول اللہ کے زمانہ میں ہوا ابرہہ ہی اشرم ہے اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ اس کی اریاط کے ساتھ جنگ ہوگئی تھی یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کی طرف چلے پھر ان دونوں کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ وہ دونوں باہم مقابلہ کریں گے جو بھی غالب آگیا حکومت اس کی ہوگی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دعوت مبارزت دی اریاط بڑا موٹا تازہ بھاری بھرکم انسان تھا اس کے ہاتھ میں نیزہ تھا جبکہ ابرہہ چھوٹے قد اور گھٹے جسم والا تھا بردبار اور نصرانیت میں بڑا پختہ تھا اس نے ابرہہ کے سر پر وار کیا جو اس کی پیشانی پر لگا جس نے اس کی آنکھ، ناک، پیشانی اور ہونٹ کو زخمی کردیا اسی وجہ سے اسے اشرم کہتے ہیں۔ عتودہ نے اریاط پر حملہ کردیا اور اسے قتل کردیا حبشہ کی حکومت ابرہہ کے ہاتھ آگئی نجاشی غضبناک ہوگیا اس نے قسم اٹھائی کہ وہ ابرہہ کی پیشانی کے بالوں کو کاٹے گا اور اس کے ممالک کو روند ڈالے گا۔ ابرہہ نے اپنے بال کاٹے اور اپنے علاقہ کی مٹی سے ایک توشہ دن بھرا اور دونوں چیزیں نجاشی کی طرف بھیج دیں اور کہا : وہ بھی تیرا غلام تھا اور میں بھی تیرا غلام ہوں میں حبشہ کے معاملات چلا رہا ہوں میں نے اپنی پیشانی کے بالوں کو کاٹا ہے اور اپنے ملک کی مٹی بھی تیری طرف بھیجی ہے تاکہ تو اسے روندے اور اپنی قسم پوری کرے۔ اس طرح نجاشی اس پر راضی ہوگیا پھر ابرہہ نے صنعاء میں ایک کنیسہ بنایا تاکہ عرب کے حاجیوں کو اس کی طرف پھیر دے۔ عام الفیل اور سرکار دو عالم کی ولادت : مسئلہ نمبر 4: مقاتل نے کہا : عام الفیل نبی کریم کی پیدائش سے چالیس سال پہلے کا واقعہ ہے۔ کلبی اور عبید بن عمیر نے کہا : یہ نبی کریم کی پیدائش سے تئیس سال پہلے کا واقعہ ہے۔ صحیح روایت وہ ہے جو نبی کریم سے مروی ہے کہ فرمایا : میں عام الفیل کو پیدا ہوا۔ ایک روایت یہ بھی مروی ہے کہ یوم الفیل فرمایا۔ ماوردی نے اپنی تفسیر میں یہ کہا۔ اور کتاب اعلام النبوۃ میں کہا : رسول اللہ پیرو کے روز بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔ اصحاب الفیل کے واقعہ کے پچاس دن بعد آپ کی ولاوت ہوئی تھی یہ رومیوں کے مہینوں کے فروی کے موافق بنتا ہے۔ اور ہرمز بن انوشیروان کے بارہویں سال کے موافق بنتا ہے۔ ابو جعفر طبری نے یہ حکایت بیان کی ہے کہ نبی کریم کی ولادت نوشیروان بادشاہ کو بیالیس سال گزر جانے پر ہوئی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ حضرت آمنہ نے محرم کے عاشوراء کے روز سرور دو عالم کو رحم میں لیا اور رمضان شریف کے بارہ دن گزر چکے تھے کہ پیر کے روز آپ کی ولادت باسعادت ہوئی آپ کے حمل کی مدت آٹھ ماہ اور دو دن تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ آپ کی ولادت محرم کے مہینے کے یوم عاشوراء کے دن ہوئی تھی۔ اسے ابن شاہین ابو حفص نے یوم عاشوراء کے فضائل میں بیان کیا۔ ابن عربی نے کہا : ابن وہب نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ عام الفیل کو پیدا ہوئے تھے۔ حضرت قیس بن مخرمہ نے کہا : میں اور رسول اللہ ہاتھی والے ساتھ میں پیدا ہوئے۔ لوگوں نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : آدمی کی مروت میں سے ہے کہ وہ اپنی عمر کے بارے میں نہ بتائے کیونکہ اگر وہ چھوٹا ہوگا تو ولوگ اس کو حقیر جانیں گے اگر وہ بڑا ہوگا تو اسے بوڑھا خیال کریں گے۔ یہ ضعیف قول ہے کیونکہ امام مالک سے یہ توقع نہیں کہ وہ رسول اللہ کی عمر بتائیں اور اپنی عمر کو پوشیدہ کریں جبکہ جن علماء کی اقتدا کی جاتی ہے ان میں سے یہ عظیم ہیں۔ عبد الملک بن مروان نے حضرت عتاب بن اسید سے کہا : تو بڑا ہے یا نبی کریم ؟ تو اس نے کہا : نبی کریم مجھ سے ابتدا میں بڑے ہیں اور میں عمر میں ان سے زیادہ ہوں۔ نبی کریم عام الفیل کو پیدا ہوئے جبکہ میں نے ہاتھی کے سائس اور اس کے قائد کو اندھا اور اپاہج دیکھا ہے وہ دونوں لوگوں سے کھانا طلب کرتے تھے۔ ایک قاضی سے کہا گیا : تیری عمر کتنی ہے ؟ اس نے جواب دیا : جب نبی کریم نے حضرت عتاب بن اسید کو مکہ مکرمہ کا والی بنایا تو اس وقت اس کی عمر بیس سال سے کم تھی۔ اصحاب فیل کا واقعہ معجزہ نبی : مسئلہ نمبر 5: ہمارے علماء نے کہا : ہاتھی والا قصہ معجزات نبوت میں سے ہے اگرچہ یہ آپ کی پیدائش اور چیلنج سے قبل ہوا کیونکہ یہ واقعہ آپ کے امر کی تاکید اور آپ کی شان کی تمہید تھا، جب رسول اللہ نے اس سورت کی تلاوت کی تو اس وقت مکہ مکرمہ میں بیشمار لوگ ایسے تھے جنہوں نے اس واقعہ کا مشاہدہ کیا تھا اسی وجہ سے فرمایا : الم تر مکہ مکرمہ میں کوئی ایسا آدمی نہ تھا مگر اس نے ہاتھی کی قیادت کرنے والے اور اس کے ہانکنے والے کو اندھا دیکھا جو لوگوں سے سوال کرتے تھے۔ حضرت عائشہ نے چھوٹی عمر کے باوجود یہ کہا : میں نے ہاتھی کے قائد اور اس کے سائس (ہانکنے والے) کو اندھا دیکھا جو لوگوں سے کھانا مانگتے تھے۔ ابو صالح نے کہا : میں نے حضرت ام ہانی جو ابو طالب کی بیٹی تھیں کے گھر میں ان پتھروں کے تقریبا دو قفیز دیکھے جو سیاہ تھے اور سرخ لکیریں ان پر موجود تھیں۔
Ayah 105:2

اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader

کیا ان کا داؤ غلط نہیں گیا ؟ (گیا)

کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے مکرو فریب کو ناکام نہیں بنا دیا۔ تضلیل کا معنی باطل کرنا اور ضائع کرنا ہے کیونکہ ہاتھی والوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ وہ قریش کو قتل کریں گے اور انہیں گرفتار کریں گے اور بیت اللہ شریف کے بارے میں انہوں نے ارادہ کیا تھا وہ اسے برباد کردیں گے۔ حضرت عبدالمطلب سے یہ مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ کو بھیجا کہ وہ دیکھے کہ انہوں نے پرندوں سے کیا پایا ہے تو حضرت عبداللہ کیا دیکھتے ہیں کہ سب لوگ ٹکڑے ٹکڑے پڑے ہیں وہ گھوڑا دوڑاتے ہوئے آئے ان کی ران سے کپڑا ہٹا ہوا تھا جب انہیں ان کے والد نے دیکھا تو فرمایا : میرا یہ بیٹا عربوں میں سے شاہسوار ہے اس نے ران سے کپڑا نہیں ہٹایا مگر بشارت دینے کی وجہ سے یا ڈرانے کی وجہ سے ایسا کیا ہے۔ جب وہ مجلس کے قریش ہوئے کہ وہ اپنی آواز لوگوں کو سنا سکتے تھے لوگوں نے پوچھا : پیچھے کیا چھوڑ آئے ہو ؟ تو فرمایا سب لوگ ہلاک ہوگئے۔ حضرت عبدالمطلب اور ان کے ساتھ نکلے انہوں نے ابرہہ کے لشکر میں مرنے والے لوگوں کا سامان لے لیا بنی عبدالمطلب کے اموال اسی وجہ سے بنے اور اسی مال کی وجہ سے حضرت عبدالمطلب کی سرداری مکمل ہوئی کیونکہ سونے اور چاندی میں سے جو چاہا اٹھا لیا پھر اہل مکہ نکلے اور ان لشکریوں کا سامان لوٹا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت عبدالمطلب نے دو گڑھے کھود کر ان کو سونے اور جواہرات سے بھر دیا پھر ابو مسعود ثقفی سے کہا جو حضرت عبدالمطلب کا دوست تھا۔ ان دونوں میں سے جو چاہو لے لے پھر لوگوں نے حبشیوں کے اموال کو لیا یہاں تک کہ ان کے ہاں جگہیں کم پڑگئیں حضرت عبدالمطلب نے اس موقع پر کہا۔ انت منعت الحبش والافیالا۔۔۔ و قد رعوا بمکۃ الاجبالا وقد خشینا منھم القتالا۔۔۔ وکل امرلھم معضالا شکرا و حمدا لک ذا الجلالا اے اللہ ! تو نے حبشیوں اور ہاتھیوں کو روکا جبکہ انہوں نے تو مکہ مکرمہ میں پہاڑوں کو بھی خوفزدہ کردیا تھا ہم تو ان کے ساتھ جنگ کرنے سے ڈرے اور ان کی جانب سے ہر مشکل امر سے ڈرے۔ اے رب ذوالجلال ! تیرا شکر ہے اور تیریے لیے حمد ہے۔ ابن اسحاق نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے حبشیوں کو مکہ مکرمہ سے واپس کردیا تو عربوں نے قریش کو بڑی عظمت دی انہوں نے کہا : یہ اللہ والے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب سے قتال کیا اور ان کے دشمن کی مونث سے انہیں کافی ہوگئے۔ عبداللہ بن عمر ابن مخزوم نے اصحاب فیل کے قصہ میں کہا : انت الجلیل ربنا لم تدنس۔۔۔ انت حبست الفیل بالمغمس من بعد ماھم بشر مبلس۔۔۔ حبستہ فی ھیئۃ المکرکس وما لھم من فرج و منفس اے ہمارے رب ! تو جلیل الشان ہے تو کمزوری سے آلودہ نہیں تو نے مغمس کے مقام پر ہاتھیوں کو روک لیا کہ بعد اس کے کہ اس نے تکلیف دہ شرکا ارادہ کیا تھا تو نے اسے اوندھے منہ روک لیا۔ ان کے لیے کوئی آسانی اور راحت والی چیز نہ تھی۔
Ayah 105:3

وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader

اور ان پر جھلڑ کے جھلڑ جانور بیجھے

اور (وہ یوں کہ) بھیج دیئے ان پر ہر سمت سے پرندے ڈاروں کے ڈار۔ سعید بن جبیر نے کہا : ہر آسمان کے پرندے تھے اس سے قبل اور نہ اس کے بعد اس قسم کے کوئی پرندے دیکھے گئے۔ جویبر نے ضحاک سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے رسول اللہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : وہ ایسے پرندے تھے جو آسمان اور زمین کے درمیان گھونسلے بناتے اور بچے دیتے تھے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : ان کی سونڈیں تھیں جس طرح ہاتھی کی سونڈ ہوتی ہے اور ان کے پنجے کتے کے پنجوں جیسے تھے۔ عکرمہ نے کہا : وہ سبز پرندے تھے جو سمندر سے نکلے تھے ان کے سر درندوں کے سر جیسے تھے اس جیسے پرندے نہ اس سے قبل دیکھے گئے اور نہ اس کے بعد دیکھے گئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا : وہ پرندے خطاطیف کے زیادہ مشابہ تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ وطاویط کے زیادہ مشابہ تھے وہ سرخ وسفید تھے۔ سعید بن جبیر سے یہ بھی قول مروی ہے : یہ سبز پرندے تھے جن کی زرد چونچیں تھیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ سفید تھے۔ محمد بن کعب نے کہا : یہ سیاہ سمندری پرندے تھے ان کی چونچوں اور ناخنوں میں پتھر تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ نادرو نایاب عنقاء تھے جن کی ضرب الامثال ذکر کی جاتی ہیں۔ عکرمہ نے کہا : ابابیل کا معنی مجتمع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی پے در پے ہے وہ ایک دوسرے کے پیچھے تھے ؛ یہ حضرت ابن عباس اور مجاہد کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے مختلف جدا جدا۔ کچھ ادھر سے آتے یہاں سے وہاں تک ؛ یہ حضرت ابن مسعود، ابن زید اور اخفش کا نقطہ نظر ہے۔ نحاس نے کہا : یہ سب اقوال متفق ہیں اس کا حقیقی معنی تو یہ ہے وہ بڑی بڑی جماعتیں تھیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : فلان یوبل علی فلان۔ فلان اس پر عظیم ہوتا ہے اور کثیر ہوتا ہے یہ ابل سے مشتق ہے ابابیل کے واحد میں اختلاف ہے۔ جوہری نے کہا : اخفش کہتا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : جائت ابلک ابابیل تیرے اونٹ تھوڑے تھوڑے آئے اور طیرا ابابیل ٹولیوں کی صورت میں پرندے آئے۔ کہا : یہ کثرت کے معنی میں آتا ہے یہ ایسی جمع ہے جس کا کوئی واحد نہیں۔ بعض نے کہا : اس کا واحد ابول ہے جس طرح عجول۔ بعض یعنی مبرد نے کہا : اس کا واحد ابیل ہے جسے سکین ہوتا ہے۔ کہا : میں نے عربوں کو نہیں پایا کہ وہ اس کا واحد جانتے ہوں مگر صحاح میں ہے کہ وہ اس کا واحد جانتے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا واحد ابال ہے روبہ بن عجاج نے اس کی جمع کے بارے میں کہا : ولعبت طیرا بھم ابابیل۔۔۔ فصیروا مثل کعصف ماکول۔ پرندوں کے جھنڈ ان کے ساتھ کھیلے تو انہیں کھاتے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا گیا۔ اعشی نے کہا : طریق و جبار رواء اصولہ۔۔۔ علیہ ابابیل من الطیر تنعب راستہ اور کھجور کا لمبا درخت جس کی جڑوں کو سیراب کیا گیا ہے جس پر پرندوں کے جھنڈ آوازیں لگا رہے ہیں۔ ایک اور شاعر نے کہا : تراھم الی الداعی سراعا کا نھم۔۔۔ ابابیل طیر تحت دجن مسخن تو انہیں دیکھے گا کہ وہ داعی کی جانب تیزی سے جارہے ہیں گویا وہ پرندوں کے جھنڈ ہیں جو تکلیف دہ تاریکی کے نیچے ہیں۔ فراء نے کہا : اس کا لفظوں میں واحد نہیں، رواسی جو ثقہ ہے نے گمان کیا کہ انہوں نے اس کے واحد کے بارے میں سنا کہ اس کا واحد ابلہ ہے۔ فراء نے ابلہ بیان کیا ہے، کہا : میں نے ایک عرب سے سنا وہ کہتا ہے : ضغث علی ابالۃ اس سے وہ شادابی پر مراد لیتے ہیں۔ کہا : اگر کوئی کہنے والا یہ کہے ایال تو یہ درست ہوتا جس طرح دینار کی جمع دنانیر آتی ہے۔ اسحاق بن عبداللہ بن حارث بن نوفل نے کہا : ابابیل یہ ابل موبلہ سے ماخوذ ہے یعنی ٹکڑیاں ٹکڑیاں، ریوڑ۔
Ayah 105:4

تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader

جو ان پر کھنگر کی پتھریاں پھینکتے تھے

جو برساتے تھے ان پر کنکر کی پتھریاں۔ صحاح میں یہ وضاحت ہے : حجارۃ من سجیل، علماء نے کہا : مٹی سے بنے پتھر جنکو جہنم کی آگ سے پکایا گیا تھا ان میں لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لنرسل علیھم حجارۃ من طین۔ مسومۃ (الذریات) تاکہ ہم برسائیں ان پر گارے کے بنے ہوئے پتھر (کھنگر) عبدالرحمن بن ابزی نے کہا : من سجیل کا معنی ہے آسمان سے نازل ہوئے یہ وہ پتھر تھے جو حضرت لوط کی قوم پر نازل ہوتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ جہنم سے آتے تھے یہی سجین ہے پھر لام کو نون سے بدل دیا جس طرح اصیلان اصل میں اصیلال تھا۔ ابن مقیل نے کہا : ضربا تواصت بہ الابطال سجینا اس مصرعہ میں سجین، سجیل تھا۔ زجاج نے کہا : من سجیل کا معنی ہے جو ان کے بارے میں لکھا ہوا تھا کہ اس کے ساتھ انہیں عذاب دیا جائے گا یہ سجل سے مشتقل ہے۔ سورة ہود میں سجیل کے متعلق گفتگو گزر چکی ہے۔ عکرمہ نے کہا : وہ پرندے ان پتھروں کو پھینکتے جو ان کے پاس ہوتے تھے ان میں سے جسے وہ پتھر لگتا تو اس وجہ سے اس کے جسم میں ایسا چیچک کا دانہ نکلتا جیسا پہلے نہیں دیکھا گیا ہوتا تھا وہ پتھر چنے کے برابر اور مسور سے بڑا ہوتا تھا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : پتھر جب ان میں سے کسی کو لگتا تو اس کے چمڑے میں آبلہ سا بنتا یہ چیچک کا آغاز ہوتا۔ عام قرات ترمیھم ہے کیونکہ پرندوں کی جماعت مونث ہے۔ اعرج اور طلحہ نے اسے یاء کے ساتھ پڑھا ہے معنی ہوگا اللہ تعالیٰ ان کی طرف پھینکتا ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے ولکن اللہ رمی (الانفال) بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ مذکر کی صورت میں ضمیر طیر کی طرف لوٹ رہی ہو کیونکہ لفظ طیر تانیث کی علامت سے خالی ہے کیونکہ یہ مونث غیر حقیقی ہے۔
Ayah 105:5

فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader

تو ان کو ایسا کردیا جیسے کھایا ہوا بھس

پس بنا ڈالا ان کو جیسے کھایا ہوا بھوسہ۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب فیل کو کھیتی کے ان پتوں کی طرح بنا دیا جن کو چوپاؤں نے کھالیا اور انہیں نیچے کی جانب سے پھینک دیا ان کے جوڑوں کے ٹوٹ جانے کو ان کے اجزاء کے بکھر جانے سے تشبیہ دی، یہ معنی ابن زید اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ سورة رحمن میں عصف کے بارے میں قول گزر چکا ہے۔ جو چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس سے مراد کھیتی کے پتے ہیں وہ علقمہ کا قول ہے : تسقی مذائب قد مالت عصیف تھا۔۔۔ حدورھا من اتی الماء مطعوم روبہ بن عجاج نے کہا : و مسھم ما مس اصحاب الفیل۔۔۔ ترمیھم حجارۃ من سجیل ولعمت طیر بھم ابابیل۔۔۔ فصیروا مثل کعصف ماکول۔ انہیں وہ مصیبت پہنچی جو اصحاب فیل کو پہنچی تھی ان پر مٹی سے بنے پتھر گر رہے تھے ان سے پرندوں کے جھنڈ کھیلے تو انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح بنا دیا۔ عصف جمع ہے اس کا واحد عصفہ، عصافہ اور عصیفہ ہے۔ کعصف میں جو کاف لایا گیا ہے یہ تشبیہ کے لیے ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لیس کمثلہ شی (الشوری) ماکول کا معنی ہے جس کا دانہ کھایا گیا ہو۔ جس طرح یہ جملہ کیا جاتا ہے : فلاں حسن ای فلان حسن وجھہ۔ حضرت ابن عباس نے کہا : فجعلھم کعصف ماکول، سے مراد گندم کا چھلکا ہے یعنی وہ غلاف جس میں گندم کا دانہ ہوتا ہے۔ روایت بیان کی جاتی ہے : پتھر ان میں سے ایک پر گرتا تو اس کے پیٹ میں جو کچھ ہوتا وہ نکل جاتا تو وہ اسی طرح باقی رہ جاتا جس طرح گندم کا چھلکا ہو جب اس سے گندم نکل جائے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : جب پرندوں نے پتھر پھینکے تو اللہ نے ہوا کو بھیج دیا جس نے پتھروں کو مارا اور ان کی سختی میں اضافہ کردیا۔ وہ پتھر کسی پر نہ گرتا مگر وہ ہلاک ہوجاتا۔ بنو کندہ کے ایک فرد کے سوا ان میں سے کوئی بھی نہ بچا اس نے کہا : فانک لو رایت ولم تریہ۔۔۔ لدی جنب المغمس ما لقینا اگر تو دیکھتی اور تو اسے نہ دیکھے مغمس کے پہلو میں جو ہمیں مصیبت پہنچی۔ خشیت اللہ اذ قد بث طیرا۔۔۔ و ظل سحابۃ مرت علینا میں اللہ تعالیٰ سے ڈرا جب اس نے پرندوں کو پھیلا دیا اور بادل کا سایہ جب ہمارے اوپر سے گزرا۔ و باتت کلھا تدعو بحق۔۔۔ کان لھا علی الحبشان دینا سب نے صدق دل سے دعا کرتے ہوئے رات گزاری گویا پرندوں میں سے ہر ایک کا حبشیوں پر قرض تھا۔ ایک روایت یہ کی گئی ہے کہ وہ پتھر تمام کو نہیں لگے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے جس کو چاہا تھا اسے لگے تھے۔ یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ ان کا امیر اور اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت واپس لوٹی تھی جب انہوں نے اس امر کی خبر دی جو انہوں نے حالات و واقعات دیکھے تھے سب ہلاک ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ابن اسحاق نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے حبشیوں کو مکہ مکرمہ سے لوٹایا تھا تو عربوں نے قریش کو بڑی عزت دینا شروع کی اور کہا : یہ اللہ والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب سے قتال کیا اور ان کے دشمن کی مصیبت کے لیے کافی ہوگیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے لیے انعام تھا۔