105. Surah Al-Fil
الفيلThe Elephant · 5 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف : اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے ”……“ یعنی اللہ نے سب سے پہلا گھر جو تمام انسانوں (کی ہدایت کے لئے) وجع کیا ہے وہ ہے جو مکہ میں ہے۔ برکتوں والا اور تمام اہل جہان کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جگہ یہ نہیں فرمایا کہ اللہ نے سب سے پہلا گھر تعمیر کیا بلکہ وضع فرمایا یعنی اللہ نے اپنے گھر کے لئے سب سے پہلے جس جگہ کو تجویز فرمایا تھا وہ ہے جو بکہ میں واقع ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کرنے سے پہلے ہی ایک ایسی جگہ کو تجویز اور منتخب فرما لیا تھا جہاں اس کی رحمتوں کا نزول اور مرکز ہوگا۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب اللہ نے اس دنیا کو پیدا کیا تو یہ زمین ایک کھولتے ہوئے پانی کی طرح تھی۔ اللہ نے اس پر بارشیں برسائیں۔ زمین ٹھندی ہونا شروع ہوگئی۔ سب سے پہلے زمین کو جو حصہ ابھر کر ظاہر ہوا وہ ایک چٹان نما جگہ تھی۔ عربی میں ابھری ہوئی جگہ کو کعب کہا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے اس کو کعبہ کا نام دیا گیا جہاں آج بیت اللہ شریف ہے اس کا ابتداء میں ” بکہ “ نام تھا جو بعد میں کثرت استعمال سے ” مکہ “ ہوگیا۔ اب یہی شہر قیامت تک ساری دنیا کی ہدایت و رہنمائی کا مرکز ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) و حوا (علیہ السلام) کو جنت سے دنیا میں بھیجا تو انہوں نے فرشتوں کی مدد سے بیت اللہ کی جگہ کو پتھروں کے ذریعہ ایک کمرے کی شکل دیدی جو بعد میں تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا قبلہ قرار پایا۔ اسی جگہ کو حج بیت اللہ کے لئے مخصوص کیا گیا۔ طوفان نوح جس میں زبرست طوفانی لہروں سے ہر چیز ٹوٹ پھٹ گئی تھی بیت اللہ کی دیواریں بھی گر گئی تھیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اللہ کے حخم سے دوبارہ اسیجگہ پر اللہ کے گھر کی تعمیر کی جس پر مختلف زمانوں میں کچھ نہ کچھ تعمیراتی اضافہ ہوتا رہا۔ جب اس شہر مقدس و محترم میں اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت با سعادت ہوئی تو اس وقت بھی حج کے لئے اس گھر کا طواف کیا جاتا تھا اور روحانی عظمتوں کامرکز تصور کیا جاتا تھا۔ کفار مکہ جن کو اس بات پر بھی بڑا غرور تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں انہوں نے اپنی جہالت و نادانی میں اللہ کے گھر کو تین سو ساٹھ بتوں اور طرح طرح کی رسموں سے آلودہ کیا ہوا تھا۔ مگر شاید یہ دین ابراہیمی کی برکت تھی کہ جب ایک مرتبہ بیت اللہ کی عمارت کی تعمیر کا ارادہ کیا گیا تو بات کا اعلان کیا گیا کہ ہر شخص اس بیت اللہ کی تعمیر میں صرف وہی رقم لگائے جو بالکل حلال اور پاکیزہ ہو۔ چنانہچ جب اس رقم کو جمع کیا گیا تو وہ اتنی نہیں تھی جس سے اس پوری عمارت کو تعمیر کیا جاسکتا۔ بیت اللہ کا ایک حصہ چھوڑ دیا گیا اور اس کا نام ” حطی کعبہ “ رکھا گیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعلان نبوت سے پہلے بیت اللہ کی جب تعمیر کی گئی اور حطی کعبہ کی جگہ کو چھوڑ دیا گیا تو بعد میں آپ نے بھی اس جگہ تعمیر نہیں فرمائی۔ اب قیامت تک حطیم کعبہ کی جگہ اسی طرح رہے گی۔ اس سے امت کو یہ سعادت نصیب ہوگئی کہ جو آدمی بھی حطیم کعبہ میں نماز پڑھتا ہے تو گویا وہ بیت اللہ کے اندر ہی نماز ادا کرتا ہے۔ بیت اللہ اور حطیم کعبہ کی تعریف اور ابتدائی تعارف سے معلوم ہوا کہ بیت اللہ شریف کو ابتدائے کائنات سے یہ عزت و شرف حاصل ہے اور وہ ہر اہل ایمان کے لئے روحانی ترقیات کا مرکز رہا ہے اور انشاء اللہ قیامت تک رہے گا۔ اس کو مٹانے والے مٹ جائیں گے لیکن اللہ کے اس گھر کی عمارت اور اس کی عظمت میں کبھی کمی نہ آئے گی۔ حبش کی حکومت کے ایک گورنر ابرھ نے جب بیت اللہ کی عظمت کو کم کرنے اور مٹانے کیلئے ایک زبرست لشکر اور ہاتھیوں کے ساتھ بیت اللہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے چھوٹے چھوٹے پرندوں کو بھیج کر جب ابرھہ کی فوج پر کنکر برسائے تو پوری فوج اور اس کے ہاتھی کھائے ہوئے بھوسے کی طرح ہوگئے۔ اس چھوٹی سے سورت میں گویا اللہ تعالیٰ نے کفار قریش کو اس بات سے آگاہ فرمایا ہے کہ کفار قریش اپنی چھوٹی چھوٹی سرداریوں اور معمولی سے مال و دولت پر نہ اترائیں۔ اگر انہوں نے بیت اللہ کو بتوں اور گندی رسموں سے پاک نہ کیا اور اللہ کے آخری نبی و رسول حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دامن اطاعت و محبت سے وابستگی اختیار نہ کی تو پھر وہ اپنے برے انجام پر غور کرسکتے ہیں۔
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader
کیا آپ نے دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھ والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا
اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader
کیا اس نے ان کی ساری تدبیریں ضائع نہ کردی تھیں
وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader
اور کیا ان پر ندوں کے جھنڈ کے جھنڈ نہیں بھیجئے تھے
تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader
جو ان (ہاتھی والوں پر) کنکر کے پتھر برسا رہے تھے
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader
اور کیا ہم نے ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح نہ کردیا تھا۔