105. Surah Al-Fil

الفيلThe Elephant · 5 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 105:1

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟

1 : اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ ( کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں سے کیا معاملہ کیا) ۔ نحو : کیف یہ فَعَلَ کی وجہ سے موضع نصب میں ہے الم تر کی وجہ سے نہیں۔ کیونکہ کیف میں استفہام کا معنی پایا جاتا ہے اور یہ جملہ ترٰی کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہوگیا ہے۔ الم ترؔ میں تعجب کا اظہار ہے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ کو تعجب سے فرما رہے ہیں کہ عجیب بات ہے کہ کفار نے آپ کا انکار کردیا حالانکہ وہ تو اتنی بڑی آیات کو دیکھ چکے۔ معنی یہ ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی صنعت کے آثار اہل حبشہ میں دیکھے اور اس کے متعلق متواتر خبریں سنیں پس وہ آپ کے لئے مشاہدہ کے قائم مقام ہے۔ جو اصحاب فیل کے سلسلہ میں پیش آیا۔ ابرھہ کی حرکت اور سزا : روایت ہے یمن کا بادشاہ ابرہہ بن الصباح جو اصحمہ نجاشی کی طرف سے مقرر ہوا تھا۔ اس نے صنعاء میں ایک گرجا تعمیر کیا۔ اور اس کا نام القُلَّیس رکھا اور اس کا ارادہ یہ تھا کہ لوگ اس کا حج کرنے آئیں۔ کنانہ کا ایک آدمی نکلا اور رات کو اس میں پاخانہ کردیا اس سے ابرھہ سخت ناراض ہوا ایک قول یہ ہے کہ عرب کے ایک قافلہ نے اس کے قریب آگ سلگائی۔ ہوا کی وجہ سے وہ آگ اس گرجے میں آلگی جس سے وہ جل گیا۔ ابرہہ نے قسم اٹھائی کہ وہ کعبہ کو ضرور بضرور گرائے گا۔ وہ حبشیوں کی ایک فوج کے ساتھ نکلا۔ اس کے ساتھ ہاتھی بھی تھے۔ ایک ہاتھی کا نام محمود تھا۔ یہ بہت بڑا طاقت ور ہاتھی تھا۔ بارہ ہاتھی اس کے علاوہ تھے۔ جب وہ مقام مغمس میں پہنچا تو خواجہ عبد المطلب اس کے پاس نکل کر گئے اور اس کو کہا کہ تہامہ کے اموال کا ثلث لے لے اور لوٹ جا مگر اس نے انکار کردیا اور اپنے لشکر کو تیار کیا۔ اور بڑے ہاتھی کو آگے رکھا۔ مگر جب بڑے ہاتھی کو حرم کی طرف متوجہ کرتے وہ بیٹھ جاتا اور اٹھنے سے انکار کرتا۔ اور جب یمن کی طرف رخ کرتے تو اٹھ کر جلدی سے روانہ ہوجاتا۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے پرندوں کے غول بھیج دیئے ہر پرندے کی چونچ میں ایک پتھر اور دو پتھر اس کے پنجوں میں مسور کے دانے سے بڑے اور چنے سے چھوٹے تھے۔ وہ کنکری آدمی کے سر پر لگ کر اس کی دبر سے نکلتی۔ اور ہر پتھر پر اس کا نام درج تھا۔ جس کو پڑنا تھا وہ کنکریوں کے برسائو سے بھاگ کھڑے ہوئے اور ہلاک ہوگئے ابرھہ کی موت انتہائی عبرتناک طریقہ سے آئی سینہ پھٹ کر دل باہرنکل پڑا اور مرگیا۔ اس کا وزیر ابو یکسوم وہاں سے جدا ہو کر بھاگتا ہواحبشہ پہنچا اس حال میں کہ پرندہ اس کے سر پر منڈلا رہا تھا اس نے نجاشی کو تمام واقعہ بیان کیا۔ جب بیان مکمل کرچکا۔ تو پرندے نے کنکری پھینکی جس سے وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ابرہہ نے خواجہ عبد المطلب کے دو سو اونٹ پکڑ لیے۔ آپ اس کے پاس ان اونٹوں کی خاطر گئے آپ کا اس نے پر تپاک استقبال کیا آپ خوبصورت، پر رعب اور جسیم آدمی تھے۔ اس کو بتلایا گیا کہ یہ قریش کے سردار ہیں اور مکہ کے صاحب قافلہ ہیں جو لوگوں کو وادیوں اور وحشیوں کو پہاڑوں کی چوٹیوں پر کھانا کھلاتے ہیں۔ جب عبدالمطلب نے اپنی ضروت ذکر کی تو اس نے کہا تو میری نگاہ سے گرگیا ۔ میں تو تمہارے اس گھر کو گرانے آیا ہوں جو تمہارا دین اور تمہارے آباء و اجداد کا دین ہے۔ اور پرانے زمانوں سے تمہارے لئے شرافت کا نشان ہے۔ تمہیں اونٹوں نے اس سے غافل کردیا۔ جو ہم نے پکڑلیے ہیں۔ عبدا لمطلب نے کہا میں اونٹوں کا مالک ہوں۔ اور اس گھر کا ایک رب ہے جو خود اس سے روک لے گا۔
Ayah 105:2

اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader

کیا ان کا داؤ غلط نہیں گیا ؟ (گیا)

تمام تدابیر فیل : 2 : اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَھُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ (کیا ان کی تدبیر کو سرتاپا غلط نہیں کردیا) ضائع اور بیکار۔ عرب کہتے ہیں : ضلل کیدہ۔ جب کہ اس کو ضائع اور بیکار کردے۔ امرء القیس کو الملک الضلیل کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس نے اپنے باپ کا ملک کھو دیا۔ ضائع کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اولاً یہ تدبیر کی کہ القلیس گرجا بنایا تاکہ حجاج کے رخ اس کی طرف پھیر دیں ان کی تدبیر کو آگ کے ذریعہ بیکار کردیا۔ پھر دوسری تدبیر بیت اللہ کے گرانے کی کی۔ ان کی تدبیر کو پرندے بھیج کر فیل کردیا۔
Ayah 105:3

وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader

اور ان پر جھلڑ کے جھلڑ جانور بیجھے

3 : وَّاَرْسَلَ عَلَیْھِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَ (اور ان پر غول کے غول پرندے بھیجے) ابابیلؔ جمع ابالۃ : جماعتیں۔ قول الزجاج : ادھر سے جماعتیں اور ادھر سے جماعتیں۔ یعنی ہر طرف سے جماعتیں بھیجیں۔
Ayah 105:4

تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader

جو ان پر کھنگر کی پتھریاں پھینکتے تھے

4 : تَرْمِیْھِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ (جو ان لوگوں پر کنکر کی پتھریاں پھینکتے تھے) قراءت : ابوحنیفہ (رح) یرمیھم پڑھتے ای یرمیھم اللّٰہ اللہ تعالیٰ ان پر پھینک رہے تھے یا پرندے ان پر پھینک رہے تھے۔ الطیر یہ اسم جمع مذکر ہے۔ اور معنی کے اعتبار سے مؤنث ہے۔ سجیل یہ معرب ہے۔ سنگ گِلْ اور جمہورکا یہی مسلک ہے یعنی کھنگر۔
Ayah 105:5

فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader

تو ان کو ایسا کردیا جیسے کھایا ہوا بھس

5 : فَجَعَلَھُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ (اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح کردیا) عصفؔ ماکول وہ کھیتی جس کو کیڑے کھالیں۔