Al-Fil 105:4

Al-Fil · from ayah 4

105:4

تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ ۟تَرۡمِيۡهِمۡ بِحِجَارَةٍ مِّنۡ سِجِّيۡلٍ

جو ان پر کھنگر کی پتھریاں پھینکتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Striking them with stones of hard clay,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 30 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fil

All translations of 105:4

جو اُن پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو ان پر کھنگر کی پتھریاں پھینکتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو ان پر پکی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو ان پر کنکریلے پتھر مارتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو ان پر کھنگر (پکی ہوئی مٹی) کی پتھریاں پھینکتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو ان پر کنکروں کے پتھر پھینکتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم ان کو مارتے تھے سنگ گل کے قسم کے پتھروں سے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو ان پر برسا رہے تھے خاص پتھر کھنگر کے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ ان پر کھنگر کی کنکریاں پھنکتے تھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو ان پر مارتے تھے کنکر کی پتھریاں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو ان پر پتھر کی کنکریاں پھینکتے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

which smote them with stones of baked clay,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

throwing upon them stones of baked clay,

— Muhammad Taqi Usmani

throwing upon them stones of baked clay,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Striking them with stones of Sijjil.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Which pelted them with stones of baked clay,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Striking them with stones of hard clay,

— Saheeh International

which showered them with small pebbles of clay

— Muhammad Sarwar

Casting against them stones of baked clay,

— Muhammad Habib Shakir

They hurled upon them stones of baked clay;

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 105:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

ابرہہ اور اس کا حشر : اللہ رب العزت نے قریش پر جو اپنی خاص نعمت انعام فرمائی تھی اس کا ذکر کر رہا ہے کہ جس لشکر نے ہاتھیوں کو ساتھ لے کر کعبے کو ڈھانے کے لیے چڑھائی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کہ وہ کعبے کے وجود کو مٹائیں ان کا نام ونشان مٹا دیا۔ ان کی تمام فریب کاریاں ان کی تمام قوتیں سلب کرلیں برباد و غارت کردیا یہ لوگ مذہباً نصرانی تھے لیکن دین مسیح کو مسخ کردیا تھا قریباً بت پرست ہوگئے تھے انہیں اس طرح نامراد کرنا یہ گویا پیش خیمہ تھا۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت کا اور اطلاع تھی آپ کی آمد آمد کیحضور ﷺ اسی سال تولد ہوئے اکثر تاریخ داں حضرات کا یہی قول ہے تو گویا رب العالم فرما رہا ہے کہ اے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الفیل 6 اصل الفاظ ہیں بِحِـجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ ، یعنی سجیل کی قسم کے پتھر۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ لفظ دراصل فارسی کے الفاظ سنگ اور گل کا معرب ہے اور اس سے مراد وہ پتھر ہے جو مٹی کے گارے سے بنا ہو اور پک کر سخت ہوگیا ہو۔ قرآن مجید سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ سورة ہود آیت 82 اور سورة حجر آیت 74 میں کہا گیا ہے کہ قوم لوط پر سجیل کی قسم کے پتھر برسائے گئے تھے، اور انہی پتھروں کے متعلق سورة ذاریات آیت 33 میں فرمایا گیا ہے کہ وہ حجارۃ من طین، یعنی مٹی کے گارے سے بنے ہوئے پتھر تھے۔ مولانا حمید الدین فراھی مرحوم، جنہوں نے عہد حاضر میں قرآن مجید کے معانی و مطالب کی تحقیق پر بڑا قیمتی کام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

بحجارة من سجیل سجیل بکسر سین سنگ گل کا معرب کیا ہوا لفظ ہے جس کے معنے ہیں ایسی کنکریں جو تر مٹی کو آگ میں پکانے سے بنتی ہے اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کنکریں بھی خود کوئی طاقت نہ رکھتی تھیں معمولی گارے اور آگ سے بنی ہوئی تھیں مگر بقدرت حق سبحانہ، انہوں نے ریوالور کی گولیوں سے زیادہ کام کیا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مفسرین کی ایک عام غلط فہمی: اب آخر میں بتایا کہ اس لشکر جرار کے تباہ کرنے میں کتنا حصہ عربوں کا ہے اور کتنا قدرت کا۔ فرمایا کہ تم ان کو پتھروں اور کنکروں سے مار رہے تھے، پس خدا نے ان کو کھانے کے بھس کی طرح پامال کر دیا۔ یعنی اس لشکر جرار کے مقابلے میں تمہاری یہ مدافعت نہایت کمزور تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید غیبی سے تمہاری یہی کمزور مدافعت اتنی مؤثر بنا دی کہ وہ کھانے کے بھس کی طرح پامال ہو کر رہ گئے۔ ہمارے مفسرین تو عام طور پر کہتے ہیں کہ قریش نے ابرہہ کا کوئی مقابلہ نہیں کیا بلکہ ان کے سردار، عبدالمطلب قوم کو لے کر پہاڑوں میں جا چھپے اور خانہ کعبہ کو خدا کے سپرد کر دیا کہ جس کا یہ گھر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 سجیل مٹی کو آگ میں پکا کر اس سے بنائے ہوئے کنکر۔ ان چھوٹے چھوٹے پتھروں یا کنکروں نے توپ کے گولوں اور بندوق کی گولیوں سے زیادہ مہلک کام کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: یہ ابرہہ کے لشکر کی طرف اشارہ ہے جو کعبے پر چڑھائی کرنے کے لیے ہاتھیوں پر سوار ہو کر آیا تھا۔ ابرہہ یمن کا حکمران تھا۔ اور اس نے یمن میں ایک عالیشان کلیسا تعمیر کرکے یمن کے لوگوں میں یہ اعلان کرادیا کہ آئندہ کوئی شخص حج کے لئے مکہ مکرمہ نہ جائے اور اسی کلیسا کو بیت اللہ سمجھے، عرب کے لوگ اگرچہ بت پرست تھے ؛ لیکن حضرت ابراہیم ؑ کی تعلیم و تبلیغ سے کعبے کی عظمت ان کے دلوں میں پیوست تھی، اس اعلان سے ان میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اور ان میں سے کسی نے رات کے وقت اس کلیسا میں جاکر گندگی پھیلادی اور بعض روایتوں میں ہے کہ اس کے کچھ حصہ میں آگ بھی لگائی، ابرہہ کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے ایک بڑا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 3–5

وارسل ................................ کعصف ماکول (3:105 تا 5) ” اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے جو ان کے اوپر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے ، پھر ان کا یہ حال کردی جیسے (جانوروں کا ) کھایا ہوا بھوسا “۔ ابابیل (3:105) کے معنی جھنڈ کے ہوتے ہیں۔ سجیل (4:105) فارسی سے معرب ہے اور دولفظوں سے مرکب ہے ” سنگ گل “ یعنی مٹی کو پکاکر اس سے پتھر بنادیا گیا تھا ، یا ایسے پتھر تھے جو کیچڑ کے ساتھ آلودہ تھے۔ کعصف (5:105) کے معنی ہیں درختوں کے خشک پتے ۔ عصف کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ ماکول ہے۔ یعنی کھایا ہوا ہے یعنی پتوں کی حالت یہ ہے کہ ان کو حشرات الارض نے کھا کر پیس دیا ہے ، یا حیوانات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 3–4

3 " اصحاب فیل " کا فصہ مختصر یہ ہے کہ بادشاہ " حبشہ " کی طرف سے " یمن " میں ایک حاکم " ابرہہ " نامی تھا۔ اس نے دیکھا کہ سارے عرب کعبہ کا حج کرنے جاتے ہیں، چاہا کہ ہمارے پاس جمع ہوا کریں۔ اس کی تدبیر یہ سوچی کہ اپنے مذہب عیسائی کے نام پر ایک عالیشان گرجا بنایا جائے۔ جس میں ہر طرح کے تکلفات اور راحت و دلکشی کے سامان ہوں۔ اس طرح لوگ اصلی اور سادہ کعبہ کو چھوڑ کر اس مکلف و مرصع کعبہ کی طرف آنے لگیں گے اور مکہ کا حج چھوٹ جائے گا۔ چناچہ " صنعاء " میں (جو یمن کا بڑا شہر ہے) اپنے مصنوعی کعبہ کی بنیاد رکھی اور خوب دل کھول کر روپیہ خرچ کیا اس پر بھی لوگ ادھر متوجہ نہ ہوئے۔ عرب کو خصوصاً قریش کو جب اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 3–4

آیت 4{ تَرْمِیْہِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۔ } ”جو ان پر مارتے تھے کنکر کی پتھریاں۔“ رَمٰی یَرْمِی رَمْیًاکا معنی ہے پھینکنا ‘ مارنا۔ حج کے دوران شیطان کو کنکریاں مارنے کے عمل کو بھی ”رمی جمرات“ کہا جاتا ہے۔ لفظ سِجِّیْلدراصل فارسی ترکیب ”سنگ ِگل“ سے معرب ہے فارسی کی ”گ“ عربی میں آکر ”ج“ سے بدل گئی ہے۔ فارسی میں سنگ بمعنی پتھر اور گل بمعنی مٹی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ سنگ ِگل کے لغوی معنی ہیں مٹی کا پتھر۔ اس سے مراد وہ کنکریاں ہیں جو ریتلی زمین پر ہلکی بارش برسنے اور بعد میں مسلسل تیز دھوپ چمکنے کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں۔ یعنی بارش کے ایک ایک قطرے کے ساتھ جو ریت ملی مٹی گیلی ہوجاتی ہے وہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 سجیل فارسی کے لفظ سنگ گل (بمعنی مٹی کا پتھر) سے معرب ہے۔ یعنی وہ نوکدار کنکریاں جن میں مٹی کی بھی آمیزش ہوتی ہے اور مٹی سے کنکریاں بن رہی ہوتی ہیں۔ 5 تَرْمِیْھِمْرمی بمعنی کسی چیز کو نشانہ بناکر دور سے پتھر کنکر وغیرہ پھینکنا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ پرندے ان پر کنکر گراتے تھے۔ بلکہ فرمایا نشانہ بناکر پھینک رہے تھے۔ واضح رہے کہ تیر اندازی کے لیے بھی رمی کا لفظ ہی استعمال ہوتا ہے۔ گویا وہ پرندے یا اللہ کے لشکر باقاعدہ ان پر حملہ آور ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 3–5

3۔ (پامالی اور پراگندگی کے لحاظ سے) (آیت) ” سجیل “۔ سنگ گل کا معرب ہے۔ حجر وطین مختلط واصلہ فی ماقیل فارسی معرب (راغب) قال ابن عباس ؓ سجیل معناہ سنک وکل یعنی بعضہ حجر وبعضہ طین (کبیر) ھو معرب من سنک کل وعلیہ الجمھور (مدارک) قرآن مجید میں لغت قریش سے باہر کے لفظ بہت کم آتے ہیں، جو معدودے چند آئے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے۔ (آیت) ” ابابیل “۔ اس کے معنی جھنڈ کے ہیں۔ قال ابو جیدۃ ابابیل جماعۃ فی تفرقۃ (کبیر) قال الزجاج جماعات من ھھنا وجماعت من ھھنا (مدارک) ائمہ لغت میں سے بعض نے کہا ہے کہ اس کا کوئی واحد نہیں آتا اور بعض نے اس کا واحد ابیل ابالہ یا ابیالہ یا ابول کو بتایا ہے۔ فیہ قولان والاول ھو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–5

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، کیا آپ ﷺ کو معلوم نہیں ہے کہ آپ ﷺ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ (اور) اس ہاتھی کا نام محمود تھا اور اس کے اصحاب ابرہہ یمن کا بادشاہ اور اس کا لشکر تھا، اس نے صنعاء میں کلیسیا بنوایا تھا، تاکہ حجاج کو مکہ کے بجائے اس کی طرف موڑ دے، کنانہ کے ایک شخص نے کلیسا میں رفع حاجت کر کے اس کے قبلہ کو تحقیر کے طور پر نجاست سے آلودہ کردیا، چناچہ ابرہہ نے خانہ کعبہ کو منہدم کرنے کی قسم کھالی، سو وہ اپنے لشکر کے ساتھ ہاتھیوں پر سوار ہو کر مکہ آیا اور ہاتھیوں میں سب سے آگے محمود نامی ہاتھ تھا، چناچہ جب یہ لوگ معتبہ اللہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ترمیھم بحجارۃ من سجیل . یہ بھی طیرًا کی صفت ہے یعنی وہ پرندے اصحاب فیل پر کنکر والے پتھر مار رہے تھے۔ سجیل : وہ مٹی جو پتھر بن جائے۔ یہ لفظ سنگ گل کے معرب ہے۔ بعض کے نزدیک سجل سے بنا ہے اور سجل کا معنی ہے ‘ بڑا ڈول۔ بعض نے اس کو السجل سے مشتق مانا ہے (رجسٹرڈ ‘ مہری) یعنی اصحاب فیل پر برسنے والے پتھر منجملہ اس عذاب کے تھے جو ان کے لیے لکھ دیا گیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ان پرندوں کی چونچیں پرندوں کی طرح اور پنجے کتوں کے پنجوں کی طرح تھے۔ سعید بن جبیر نے کہا : وہ پرندے سبز تھے اور چونچیں زرد تھیں۔ قتادہ ؓ نے کہا : وہ سیاہ تھے جو جھنڈ در جھنڈ ہو کر سمندر کی طرف سے آئے تھے۔ حضرت ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 5) کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حبشہ ملک والوں نے جو بیت اللہ کے منہدم کرنے کا ارادہ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا کیا تھا۔ کہ ان کی تدبیر کو سرتاپا غلط کردیا اور ان پر بیشمار پرندے بھیجے جو ان لوگوں پر پتھر کی کنکریاں پھینکتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح نیست و نابود کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ترمیھم بحجارۃ من سجیل :”سجیل“ کی تفسیر میں ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا :(ھی سنک وکل) (بخاری، التفسیر، باب سورة :(الم تر) ، قبل ح، 3963)”اس سے مراد سنگ و گل ہے۔ ”یعنی پکی ہوئی مٹی جسے کھنگرکہا جاتا ہے۔ لاوا اگلنے والے پہاڑوں کے اردگرد اس قسم کے جلے ہوئے سخت سنگریزے عام ملتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

جو برساتے تھے ان پر کنکر کی پتھریاں۔ صحاح میں یہ وضاحت ہے : حجارۃ من سجیل، علماء نے کہا : مٹی سے بنے پتھر جنکو جہنم کی آگ سے پکایا گیا تھا ان میں لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لنرسل علیھم حجارۃ من طین۔ مسومۃ (الذریات) تاکہ ہم برسائیں ان پر گارے کے بنے ہوئے پتھر (کھنگر) عبدالرحمن بن ابزی نے کہا : من سجیل کا معنی ہے آسمان سے نازل ہوئے یہ وہ پتھر تھے جو حضرت لوط کی قوم پر نازل ہوتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ جہنم سے آتے تھے یہی سجین ہے پھر لام کو نون سے بدل دیا جس طرح اصیلان اصل میں اصیلال تھا۔ ابن مقیل نے کہا : ضربا تواصت بہ الابطال سجینا اس مصرعہ میں سجین،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–5

اصحاب فیل کا واقعہ 2۔ ابن ابی حاتم اور ابو نعیم نے دلائل میں عثمان بن مغیرہ بن اخنس (رح) سے روایت کیا کہ اصحاب الفیل کے قصہ میں سے یہ ہے کہ ابرہہ الاشرم الحبشی یمن کا بادشاہ تھا۔ اور اس کا پوتا اکسوم بن الصباح الحمیری حج کے لیے نکلا جب وہ مکہ سے روانہ ہوا تو نجران کے گرجے میں اترا۔ صبح کو اہل مکہ میں سے کچھ اس کے پاس آئے اور اکسوم کے زیورات اور سامان لے لیا (یعنی اس کو لوٹ یا) ۔ تو وہ غصہ ہو کر اپنے نانا کی کی طرف چلا گیا۔ اور اس نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک آدمی کو بیس ہزار خولانیوں اور اشعریوں کے ساتھ بھیجا اسے شہر بن معقود کہا جاتا ہے۔ وہ لوگ چلتے رہے یہاں تک کہ خثعم کی زمین پر نازل ہوئے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[تَرْمِيْهِمْ : جو پھینکتے تھے ان پر ][ بِحِـجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ : کچھ پتھر مٹی کے پتھر میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–5

اس سورت میں اصحاب فیل کا واقعہ بیان فرمایا ہے لفظ فیل فارسی کے لفظ پیل سے لیا گیا ہے۔ عربی میں چونکہ (پ) نہیں ہے اس لیے اسے (ف) سے بدل دیا گیا۔ اصحاب فیل (ہاتھی والے لوگ) ان سے ابرہہ اور اس کے ساتھی مراد ہیں۔ یہ شخض شاہ حبشہ کی طرف سے یمن کا گورنر تھا، ابرہہ اپنے ساتھیوں کو ہاتھیوں پر سوار کر کے لایا تھا اور مقصد ان لوگوں کا یہ تھا کہ کعبہ شریف کو گرا دیں تاکہ لوگوں کا رخ ان کے اپنے بنائے ہوئے گھر کی طرف ہوجائے جسے انہوں نے یمن میں بنایا تھا اور اسے کعبہ یمانیہ کہتے تھے۔ یہ لوگ کعبہ پر حملہ کرنے کے لیے آئے مگر خود ہی برباد ہوئے وہ بھی پرندوں کی پھینکی ہوئی چھوٹی چھوٹی کنکریوں کے ذریعہ۔ واقعہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

نزول غضب خداوندی برہتک حرمات الہیہ وتحقیر مرکز ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الم ترکیف فعل ربک ..... الی .... کعصف ماکول “۔ (ربط) ماقبل سورة ’ الہمزہ “ میں انسان کے اخلاق رذیلہ کی مذمت اور اس پر خدا کی طرف سے نازل ہونے والے قہر و عذاب کا ذکر تھا جو آخرت میں ایسی ذلیل حرکتوں پر مرتب ہوگا، اب اس سورت میں یہ بتایا جارہا ہے، خدا کی نافرمانی اور اس کے دین کی دشمنی اور مقابلہ دنیا میں بھی تباہی اور ہلاکت کا موجب ہے جیسے کہ ابرہہ اشرم کے لشکر نے اللہ کے گھر پر ناپاک جسارت کی تو کس طرح آسمانی عذاب نے اس کو ہلاک کرڈالا تو ایسے تاریخی عظیم واقعات سے انسان سمجھ سکتا ہے کہ خدا کی قدرت سے جب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

4:۔ ” ترمیہم “ ہر پرندے کی چونچ اور پنجوں میں سخت مٹی کا ایک ایک سنگریزہ تھا جسے وہ ان پر پھینک رہے تھے۔ سجیل، بعض کے نزدیک سنگ گل کا معرب ہے۔ سنگریزے ایسے زور سے برس رہے تھے کہ سر میں لگتے اور نیچے سے جا نکلتے اور ساتھ ہی ان کے گوشت کے ٹکڑے بھی اڑ جاتے۔ ” فجعلہم کعصف ماکول “ یہاں تک کہ ان کو مویشیوں کھائے ہوئے چارے کی مانند کردیا۔ ان کے بدنوں کے اجزاء واعضاء اس طرح چورہ ہوگئے جس طرح مویشیوں کا بچا ہوا چارہ۔ ای جعل اللہ اصحاب الفیل کو رق الزارع اذا اکلتہ الدواب فرمت بہ من اسفل شبہ تقطع اوصالہم بتفرق اجزائہ (قرطبی ج 10 ص 199)

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الفیل ہے۔ عربی زبان میں فیل ہاتھی کو کہتے ہیں۔ اس سورة میں اصحاب فیل کا ذکر ہے۔ یہ مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی پانچ آیتیں ہیں۔ یہ سورة چوبیس الفاظ اور نانوے حروف پر مشتمل ہے۔ موضوع گزشتہ سورة میں اللہ نے زرپرستی کی مذمت کی تھی اور اس کے برے نتائج سے آگاہ کیا تھا اور مسلمانوں کو خبردار کیا تھا۔ کہ ایسے نظام کو قبول نہ کریں۔ اب اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے ملوکیت اور شہنشاہیت کا رد فرمایا ہے کہ یہ نظام بھی باطل ہے اور مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے یہ فاسد نظام ہیں اور اس کے بعد والی سورة میں اللہ تعالیٰ نے قومیت پرستی کا رد فرمایا ہے۔ یہ سب بیماریاں ہیں ، جو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَرْمِيْہِمْ بِحِـجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ۝ 4 رمی الرَّمْيُ يقال في الأعيان کالسّهم والحجر، نحو : وَما رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلكِنَّ اللَّهَ رَمى [ الأنفال/ 17] ، ويقال في المقال، كناية عن الشّتم کالقذف، نحو : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْواجَهُمْ [ النور/ 6] ، يَرْمُونَ الْمُحْصَناتِ [ النور/ 4] ، وأَرْمَى فلان علی مائة، استعارة للزّيادة، وخرج يَتَرَمَّى: إذا رمی في الغرض . ( ر م ی ) الرمی ( ض ) کے معنی پھینکنے کے ہیں یہ اجسام ( مادی چیزیں ) جیسے تیر وغیرہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَما رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلكِنَّ اللَّهَ رَمى [ الأنفال/ 17] اے پیغمبر جب تو نے تیر چلائے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ الہمزۃ للاستفھام التقریری لم ترا صلہ تریٰ حذفت الالف بالجازم والرؤیۃ قلبیۃ وانما عبرالعلم بالرئویۃ ایماء الی ھذہ الوقعۃ بمنزلہ المشاھد المحسوس وان مضت قبل ولادتہ ﷺ بنحو شھریں ولکنھا التواترھا کانت کالمحسوس المبصر۔ کیف فعل ربک الخ ھذہ الجملۃ سدت مسد مفعولی تریٰ وکیف منصوب علی المصدریۃ ا والحالیۃ واختار الاول ابن ہشام فی المغنی والمعنی ای فعلٍ فعل الم یجعل الاستفھام للتقریر کانہ قال قدجعل کیدھم فی تضلیل والکیدارادۃ المضرۃ بالغیر بالخفیۃ وارسل عطف علی الم یجعل طیراً اسم جنس یذکر و یونث مفعول ارسل ابابیل لغت لطیر قیل جمع ابول بکسر الھمزۃ مثل عجول وقیل جمع ابیل کسکین وقیل جمع ابالۃ وقال…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

تَرْمِیْہِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ ۔ (الفیل : 4) (جو پھینکتے تھے ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر۔ ) سِجِّیْل سے مراد اور اس کی تفصیل سِجِّیْلٍ یہ لفظ دراصل فارسی کے لفظ سنگ اور گل کا معرب ہے۔ اس سے مراد ایسی کنکریاں ہیں جو مٹی کو آگ میں پکانے سے بنتی ہیں۔ یعنی ان پرندوں کے پنجوں میں جو پتھر تھے وہ بظاہر تو پکی ہوئی مٹی کے تھے جن میں بظاہر کوئی طاقت والی بات نہ تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ان میں یہ تأثیر پیدا کردی گئی تھی کہ کسی طاقتور بندوق کی گولی بھی اس قدر تباہی نہیں مچاتی جس طرح ایک ایک کنکر ہلاکت کا پیغام بن کر رہ گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : سورة الہمزہ میں آخرت میں ظالموں کی سزا بیان کی گئی ہے الفیل میں یہ بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو آخرت میں ہی نہیں بلکہ کچھ لوگوں کو دنیا میں بھی سزا دیتا ہے جس کی مثال سورة الفیل میں بیان کی گئی ہے۔ نبی آخر الزمان ﷺ کی ولادت باسعادت سے پچاس دن پہلے کا واقعہ ہے کہ حبشہ کے حکمران ابرہہ نے ساٹھ ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ معظمہ کی طرف پیش قدمی کی اس کے لشکر میں دس بارہ ہاتھی بھی تھے۔ ابرہہ خود محمود نامی دیوہیکل ہاتھی پر سوار تھا۔ عربوں نے اس سے پہلے ہاتھی نہیں دیکھے تھے اس لیے عرب اس واقعہ کو اصحاب الفیل کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اہل تاریخ نے مکہ پر ابرہہ کی جارحیت کا سبب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4 : تَرْمِیْھِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ (جو ان لوگوں پر کنکر کی پتھریاں پھینکتے تھے) قراءت : ابوحنیفہ (رح) یرمیھم پڑھتے ای یرمیھم اللّٰہ اللہ تعالیٰ ان پر پھینک رہے تھے یا پرندے ان پر پھینک رہے تھے۔ الطیر یہ اسم جمع مذکر ہے۔ اور معنی کے اعتبار سے مؤنث ہے۔ سجیل یہ معرب ہے۔ سنگ گِلْ اور جمہورکا یہی مسلک ہے یعنی کھنگر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” ترمیھم بحجارۃ من سجیل “ ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں پرندے چیخے اور ان پر پتھر پھینکے تو اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیجی تو وہ پتھروں کو لگی اور ان کو مزید تیزی سے ان تک پہنچایا۔ پس ان میں جو کنکر کسی آدمی کے لگتا تو دوسری جانب سے نکل جاتا اور اگر اس کے سر پر گرتا تو اس کی دبر سے نکلتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ اس سورة میں جو قصہ ہے اس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیہقی مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ جب یوسف ذونو اس نے ان عیسائی مذہب کے لوگوں کو آگ میں جلا کر ہلاک کیا جن کا ذکر والسماء ذات البروج میں گزر چکا ہے تو حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے اپنے دو امیروں کو مع لشکر کے یوسف کی سرکوبی کو یمن روانہ کیا۔ ان دو امیروں میں ایک امیر ابرہہ تھا جو یوسف کو شکست دے کر آخر کو یمن کا مستقل امیر بن گیا اور اس نے یمن میں ایک گرجا بنا کر یہ چاہا کہ کعبہ کی طرح اس گرجا کی زیارت کو خلقت آیا کرے۔ جب یہ اپنے اس ارادہ میں کامیاب نہ ہوا تو جل گیا اور ایک بڑا لشکر مع چند ہاتھیوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–5

کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کی عظمت شان اپنے بندوں پر اس کی رحمت اس کی توحید کے دلائل اور اس کے رسول محمد ﷺ کی صداقت کو نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟ جنہوں نے اس کے حرمت والے گھر کے خلاف سازش کی اور اس کو ڈھانے کا ارادہ کیا پس اس کے لیے انہوں نے خوب تیاری کی اور بیت اللہ کو منہدم کرنے کے لیے انہوں نے اپنے ساتھ ہاتھی بھی لے لیے تھے وہ حبشہ اور یمن سے ایک ایسی فوج لے کر آئے جس کا مقابلہ کرنا عربوں کے بس میں نہ تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو عربوں میں مزاحمت کرنے والا کوئی نہ تھا۔ اہل مکہ ان کے خوف سے مکہ سے نکل گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول بھیجے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(4) متکبروں اور منکروں پر سنگ باری کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ان پر برسا رہے تھے کھنگر کے پتھر، بعض حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ یہ لفظ یعنی " سجیل " دراصل معرب ہے فارسی کے لفظ سنگ گل کا، یعنی وہ مٹی اور اینٹ وغیرہ جو پک کر سخت پتھر بن جائے اسی لیے حضرات مفسرین کرام بالعموم اس کو طین متحجر کے نام سے تعبیر کرتے ہیں، ( روح، قرطبی، خازن، جامع، صفوہ وغیرہ) بہرکیف وہ کنکر اور سنگریزے جو ان پرندوں نے ان لوگوں پر برسانے کے لئیے اٹھا رکھے تھے، خاص قسم کے اور ایسے سخت پتھر تھے جو ان لوگوں کے سروں پر لگتے ہی نیچے سے نکل جاتے ( ابن کثیر، ابن جریر، معارف وغیرہ) سو یہ انجام ہوتا ہے ایسے ظالم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

اللہ کی قدرت کا زبردست مظاہرہ تشریح : اس سورت میں اس بہت بڑے عجیب و غریب واقعہ کی دلیل دے کر نصیحت کی گئی ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے۔ عظیم ہے ' کبیر ہے اور قدرت و حکمت میں بےمثال ہے۔ تو تم سب رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو قبول کرو اور اس اللہ لا شریک پر ایمان لے آؤجس نے ابھی ماضی قریب میں ہی تمہارے سامنے ہاتھی والوں یعنی ابرہہ کی 60 ہزار کی فوج کو کیسے معمولی پرندوں کی کنکریوں سے ہلاک کر ڈالا۔ یہ صاف صاف کفر اور اسلام یا شیطان کا اللہ سے مقابلہ تھا جو دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اس کا فیصلہ ہوا۔ اور اللہ نے کفار کی چھپی ہوئی تدبیر کو کس طرح ناکام کردیا۔ چھپی ہوئی تدبیر کو مل یا میٹ کردیا۔ چھپی ہوئی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–5

سورة الفیل۔ آیات 1 تا 5۔ اسرار ومعارف۔ یہ واقعہ اس سال پیش آیا جو نبی اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت کا سال ہے جب یمن میں ذونواس بادشاہ نے اس دور کے مسلمان ہونے والوں کو آگ میں ڈال دیا شام کے حکمران قیصر نے جو عیسائی یعنی اس دور کا مسلمان تھا دو سرداروں ، ارباط اور ابرہہ کو اس کی سرکوبی کے لیے بھیجا وہ شکست کھاکر بھاگا اور سمندر میں غرق ہوا اور ارباط کو قتل کرکے ابرہہ حکمران بن گیا لوگ کعبہ شریف کی زیارت کو جاتے تھے اس نے یمن میں ایک کنیسہ بہت عالی شان تعمیر کرایا کہ لوگ اس کا طواف کیا کریں مگر لوگ کعبہ کو ہی جاتے جس پر اس نے فوج کشی کرکے بیت اللہ کو گرانے کا ارادہ کرلیا۔ عرب کے جملہ قبائل جمع…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–5

ف 10 یہ واقعہ اس سال کا ہے جس سال نبی ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ آپ نے اگرچہ اسے نہیں دیکھا لیکن وہ اتنا مشہور تھا کہ قریش کا بچہ بچہ اس سے واقف تھا اور اس کا ہمیشہ تذکرہ رہتا تھا، اس لئے اسے دیکھنے سے تعبیر فرمایا۔11 اصحاب فیل کا واقعہ جس کا اس سورة میں ذکر کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حبشہ کے بادشاہ کی طرف سے میں پر ” ابرہہ “ نامی ایک گورنر مقرر تھا جو سخت متعصب عیسائی تھا۔ اس نے جب دیکھا کہ سارے عرب میں کعبہ کی بڑی تعظیم کی جاتی ہے اور لوگ ہر طرف سے اس کا حج اور عمرہ کرنے آتے ہیں تو اس نے اپنے ہاں ’ دصنعا ‘ میں ایک گھر بنایا اور لوگوں کو ترغیب دی کہ کعبہ کے بجائے اس کا حج وعمرہ کریں، لیکن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(105:4) ترمیہم بحجارۃ من سجیل۔ یہ جملہ طیرا کی صفت ثانی ہے (اول صفت حسب متذکرہ بالا ابابیل ہے) یعنی وہ پرندے اصحاب فیل پر کنکر والے پتھر مار رہے تھے۔ ترمی : مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ رمی باب ضرب مصدر سے : جس کے معنی پھینکنے کے ہیں۔ لیکن اس کا استعمال اجسام کے متعلق بھی ہوتا ہے مثلاً پتھر پھینکنا، تیر پھینکنا۔ جیسے کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :َ وما رمیع اذ رمیت ولکن اللہ رمی (8:17) اور (اے محمد) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔ اور تہمت لگانے کے معنوں میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً والذین یرمون المحصنت (24:4) اور جو لوگ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن۔ الم تر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ اصحاب الفیل۔ ہاتھی والے۔ الم یجعل ۔ کیا نہیں بنا دیا تھا۔ تضلیل۔ بےکار۔ ارسل۔ بھیجا۔ طیر۔ پرندے۔ ابابیل۔ جھنڈ کے جھنڈ۔ ترمی۔ مارے ہیں۔ پھینکتے ہیں۔ سجیل۔ کنکر۔ کعصف۔ جیسے بھوسا۔ ماکول۔ کھایا ہوا۔ تشریح : یمن کے حکمران گورنر ابرھ نے زبرست لشکر اور ہیبت ناک ہاتھیوں کے ساتھ بیت اللہ کو ڈھانے اور عرب کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے جب پیش قدمی کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و طاقت کا اظہار کرتے ہوئے معمولی سے پرندوں کے ذریعے ابرھ کے لشکر اور ہاتھویں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ بحر احمر کی طرف سے ایسے لاتعداد چھوٹے چھوٹے پرندے اڑتے ہوئے آئے جن کو چونچ اور پنجوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

اصحاب فیل کا واقعہ۔ (ف 1) ہاتھی والوں سے مراد ابرہہ اور اس کا لشکر ہے، اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ ابراہہ یمن وحبشہ کا بادشاہ تھا اس نے دیکھا کہ سارے عرب کعبہ کا حج کرنے جاتے ہیں وہ چاہتا تھا کہ حج کرنے والے مکہ مکرمہ کے یہاں آئیں اس کی تدبیر یہ سوچی کہ اپنے مذہب کے نام پر ایک عالیشان عبادت خانہ بنوایا، چناچہ صنعاء میں جو یمن کا بڑا شہر ہے اپنے مصنوعی عبادت خانہ کی بنیاد رکھی اور خوب دل کھول کر روپیہ خرچ کیا، اس پر بھی لوگ ادھر متوجہ نہ ہوئے عرب کے لوگوں کو جب اس کی الطاع ہوئی تو ان کو یہ بات بھی شاق گزری قبیلہ بن کنانہ کے ایک شخص نے موقع پاکر وہاں قضاحاجت کی اور اس کو نجاست آلودہ کردیا، اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[1] اصل میں لفظ '' سِجّیل '' استعمال ہوا ہے جو فارسی کے الفاظ سنگ اور گل کا معرَّب ہے۔ اس کے معنی ہیں وہ مٹی جو پتھر کی طرح سخت ہوجائے۔ اسی کو ہم کنکر کہتے ہیں۔ '' حجارۃ من سجیل '' کے معنی ہوئے کنکر کے پتھر یا پتھریاں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 3–5

ف 1: جب وہ حرم کی حد میں پہنچے تو عجیب و غریب پرندوں کے غول کے خول آئے اور انہوں نے کنکریاں مار مار کر ابرہہ کے لشکر کو بدحواس کردیا ان کنکریوں میں کچھ عجیب طرح کی سمیت تھی کہ جس کی وجہ سے ان کو چیچک نکل آئی اور وہیں میدان میں سارالشکر موت کے گھاٹ اتر گیا ۔ اور بقولے وہ کنکر بندوق کی گولی کی طرح لگے ۔ جن سے وہ ساری فوج فی الفور ہلاک ہوگئی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) جو ان اصحاب فیل پر کھنگر کی پتھریاں پھینکتے تھے - کھنگر کا ذکر حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں گزر چکا ہے یہ پتھر عام طور پر بنیادوں میں کام آتا ہے پہلے زمانے میں چنائی کا کام بھی اس سے لیا جاتا تھا وہ مٹی جو پتھر کی شکل اختیار کرلیتی ہے ہوسکتا ہے کہ وہ کنکر مراد ہوں جن سے سڑکیں بنائی جاتی ہیں اور جن کا چونا پھونکا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

ف 1۔ ابرہہ حاکم یمن لشکر عظیم لیکر جس میں ہاتھی بھی تھے خانہ کعبہ کو منہدم کرنے چڑھ آیا، جب وادی محسر میں پہنچا تو سمندر کی طرف سے کچھ پرندے آئے، ان کے پنجوں اور چونجوں میں مسور اور چنے کی برابر کنکریاں تھیں انہوں نے ان کنکریوں کو لشکر پر پھینکنا شروع کیا، یہ کنکریاں بندوق کی گولی کی طرح لگتی تھیں اور ہلاک کردیتی تھیں، اکثر تو اس عذاب سے ہلاک ہوئے اور دوسرے بھاگ گئے اور دوسری بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کر مر گئے، یہ واقعہ حضور سرور انام ﷺ کی ولادت شریفہ سے پچاس روز پہلے ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عربوں کی وہ فوج جس نے ابرہہ کے لشکر پر سنگ باری کی 4 ؎ قدرت خداوندی کا اندازہ لگائو کہ وہ کیونکر چڑیوں سے بازوں کو مروا دیتا ہے۔ طاقتوروں کو بےطاقتوں اور ہتھوں والوں کو نہتوں سے اس طرح ذلیل و خوار کر کے رکھ دیتا ہے کہ صاحب عقل و فکر حیران و ششدر ہو کر رہ جاتے ہیں کہ نظر کیا آتا تھا اور کیا ہو کر رہ گیا ۔ ترمی فعل ہے اور اس کے فاعل مفسرین نے ان پرندوں کو کردیا ہے جن کا ذکر ابابیل کے نام سے کیا گا ہے لیکن ہمارے نزدیک ترمی کے فاعل وہ عرب اور خصوصاً قریش نوجوان ہیں جو اس مقصد کے لیے تیار کیے گئے تھے اور جو پہلی آیت میں ( الم تر) کے مخاطب بھی ہیں ۔ مفسرین نے ترمی کے فاعل پرندے قرار تو دے دیئے لیکن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse [ 105:4] بِحِجَارَ‌ةٍ مِّن سِجِّيلٍ (...stones of baked clay.) The word sijjil is a compound Persian word, Arabiciszed, made up of two Persian words: sang [ stone ] and gil [ clay ]. They refer to ordinary or common clay rolled into little balls and then baked to harden. These pebbles are not heavy or hard like rocks chipped off mountains. They in themselves did not have any devastating power, but it was Allah who created in these stones the high capability of explosion and blowing-up even more than the bullets of a revolver.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 Litrerally, bi hijarat-im-min sijjil means "stones of sijjil type." Ibn `Abbas says that sijjil is the Arabic version of the Persian sang and gil, and it implies the stones made from clay and become hard when baked. The Qur'an also confirms the same. In Surah Hud :82 and Al-Hijr: 74, it has been said that stones of baked clay (sijjin were rained on the people of Lot, and about the same stones in Adh-Dhariyat: 33, it has been said that they were the stones made from clay (hijarat-im min tin) . Maulana Hamid-ad-Din Farahi, who in the present age has done valuable work on the research and…

Read the full tafseer →