Al-Fil 105:3

Al-Fil · from ayah 3

105:3

وَّاَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَ ۟ۙوَّاَرۡسَلَ عَلَيۡهِمۡ طَيۡرًا اَبَابِيۡلَۙ

اور ان پر جھلڑ کے جھلڑ جانور بھیجے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And He sent against them birds in flocks,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 30 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fil

All translations of 105:3

اور اُن پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان پر جھلڑ کے جھلڑ جانور بھیجے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان پر غول کے غول پرندے چھوڑ دیے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان پر پرندوں کی ٹکڑیاں (فوجیں) بھیجیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس نے ان پر (ہر سمت سے) پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیج دیے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ان پرندوں کے غول کے غول بھیج دیے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان پر جھنڈ کی جھنڈ چڑیاں نہ بھیجیں ! !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بھیج دئیے اس نے ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیج دیئے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان پر بھیج دیے ُ جھنڈ کے جھنڈ اڑتے ہوئے پرندوں کے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان پر غول کے غول پرندے بھیجے

— محترمہ رفعت اعجاز

And He sent against them swarms of birds

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And He sent upon them flying birds in flocks,

— Muhammad Taqi Usmani

And He sent upon them flying birds in flocks,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And He sent against them birds, in flocks (Ababil).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And send against them swarms of flying creatures,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And He sent against them birds in flocks,

— Saheeh International

by sending against them flocks of swallows

— Muhammad Sarwar

And send down (to prey) upon them birds in flocks,

— Muhammad Habib Shakir

And He sent against them birds in flocks.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 105:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

ابرہہ اور اس کا حشر : اللہ رب العزت نے قریش پر جو اپنی خاص نعمت انعام فرمائی تھی اس کا ذکر کر رہا ہے کہ جس لشکر نے ہاتھیوں کو ساتھ لے کر کعبے کو ڈھانے کے لیے چڑھائی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کہ وہ کعبے کے وجود کو مٹائیں ان کا نام ونشان مٹا دیا۔ ان کی تمام فریب کاریاں ان کی تمام قوتیں سلب کرلیں برباد و غارت کردیا یہ لوگ مذہباً نصرانی تھے لیکن دین مسیح کو مسخ کردیا تھا قریباً بت پرست ہوگئے تھے انہیں اس طرح نامراد کرنا یہ گویا پیش خیمہ تھا۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت کا اور اطلاع تھی آپ کی آمد آمد کیحضور ﷺ اسی سال تولد ہوئے اکثر تاریخ داں حضرات کا یہی قول ہے تو گویا رب العالم فرما رہا ہے کہ اے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الفیل 5 اصل میں طَيْرًا اَبَابِيْلَ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اردو زبان میں چونکہ ابابیل خاص قسم کے پرندے کو کہتے ہیں اس لیے ہمارے ہاں لوگ عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ابرھہ کی فوج پر ابابیلیں بھیجی گئی تھیں۔ لیکن عربی زبان میں ابابیل کے معنی ہیں بہت سے متفرق گروہ جو پے در پے مختلف سمتوں سے آئیں، خواہ وہ آدمیوں کے ہوں یا جانوروں کے۔ عکرمہ اور قتادہ کہتے ہیں کہ یہ جھنڈ کے جھنڈ پرندے بحر احمر کی طرف سے آئے تھے۔ سعید بن جبیر اور عکرمہ کہتے ہیں کہ اس طرح کے پرندے نہ پہلے کبھی دیکھے گئے تھے نہ بعد میں دیکھے گئے۔ یہ نہ نجد کے پرندے تھے، نہ حجاز کے، اور نہ تہامہ یعنی حجاز اور بحر احمر کے درمیان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں سے کیا معاملہ کیا (اس استفہام وسوال سے مقصد اس واقعہ کی عظمت اور ہولناک ہونے پر تنبیہ کرنا ہے۔ آگے اس معاملہ کا بیان ہے) کیا ان کی تدبیر کو (جو کعبہ ویران کرنے کے لئے تھی) سرتاپا غلط نہیں کردیا (یہ استفہام وسوال تقریری ہے یعنی واقعہ کی صحت ثابت کرنے کے لئے) اور ان پر غول کے غول پرندے بھیجے جو ان لوگوں پر کنکر کی پتھریاں پھینکتے تھے سو اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح (پامال) کردیا (حاصل یہ کہ احکام الہیہ کی بےحرمتی کرنے والوں کو ایسے عذاب و عقاب سے بےفکر نہ رہنا چاہئے ہوسکتا ہے کہ دنیا ہی میں عذاب آجائے جیسے اصحاب فیل پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ابرہہ کی فوجوں کی بربادی کی تعبیر بطریق کنایہ: یہ ابرہہ کی فوجوں کی بربادی، پامالی اور بے کسی و بے بسی سے کنایہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس طرح ان کو پامال کیا کہ کوئی ان کی لاشوں کو اٹھانے والا نہ رہا۔ وہ میدان میں پڑی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر گوشت خوار چڑیاں بھیجیں جنھوں نے ان کا گوشت نوچا، کھایا اور وادئ مکہ کو ان کے تعفن سے پاک کیا۔ دشمن پر چڑیوں کو مسلط کرنا اس کی شکست و پامالی کی تعبیر کے لیے معروف کنایہ ہے۔ عرب شعراء نے اپنے فخریوں میں یہاں تک کہا ہے کہ جب ہماری فوجیں دشمن پر حملہ آور ہوتی ہیں تو گوشت خوار چڑیاں ہمارے ہم رکاب ہوتی ہیں، انھیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: یہ ابرہہ کے لشکر کی طرف اشارہ ہے جو کعبے پر چڑھائی کرنے کے لیے ہاتھیوں پر سوار ہو کر آیا تھا۔ ابرہہ یمن کا حکمران تھا۔ اور اس نے یمن میں ایک عالیشان کلیسا تعمیر کرکے یمن کے لوگوں میں یہ اعلان کرادیا کہ آئندہ کوئی شخص حج کے لئے مکہ مکرمہ نہ جائے اور اسی کلیسا کو بیت اللہ سمجھے، عرب کے لوگ اگرچہ بت پرست تھے ؛ لیکن حضرت ابراہیم ؑ کی تعلیم و تبلیغ سے کعبے کی عظمت ان کے دلوں میں پیوست تھی، اس اعلان سے ان میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اور ان میں سے کسی نے رات کے وقت اس کلیسا میں جاکر گندگی پھیلادی اور بعض روایتوں میں ہے کہ اس کے کچھ حصہ میں آگ بھی لگائی، ابرہہ کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے ایک بڑا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 3–5

وارسل ................................ کعصف ماکول (3:105 تا 5) ” اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے جو ان کے اوپر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے ، پھر ان کا یہ حال کردی جیسے (جانوروں کا ) کھایا ہوا بھوسا “۔ ابابیل (3:105) کے معنی جھنڈ کے ہوتے ہیں۔ سجیل (4:105) فارسی سے معرب ہے اور دولفظوں سے مرکب ہے ” سنگ گل “ یعنی مٹی کو پکاکر اس سے پتھر بنادیا گیا تھا ، یا ایسے پتھر تھے جو کیچڑ کے ساتھ آلودہ تھے۔ کعصف (5:105) کے معنی ہیں درختوں کے خشک پتے ۔ عصف کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ ماکول ہے۔ یعنی کھایا ہوا ہے یعنی پتوں کی حالت یہ ہے کہ ان کو حشرات الارض نے کھا کر پیس دیا ہے ، یا حیوانات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 3–4

3 " اصحاب فیل " کا فصہ مختصر یہ ہے کہ بادشاہ " حبشہ " کی طرف سے " یمن " میں ایک حاکم " ابرہہ " نامی تھا۔ اس نے دیکھا کہ سارے عرب کعبہ کا حج کرنے جاتے ہیں، چاہا کہ ہمارے پاس جمع ہوا کریں۔ اس کی تدبیر یہ سوچی کہ اپنے مذہب عیسائی کے نام پر ایک عالیشان گرجا بنایا جائے۔ جس میں ہر طرح کے تکلفات اور راحت و دلکشی کے سامان ہوں۔ اس طرح لوگ اصلی اور سادہ کعبہ کو چھوڑ کر اس مکلف و مرصع کعبہ کی طرف آنے لگیں گے اور مکہ کا حج چھوٹ جائے گا۔ چناچہ " صنعاء " میں (جو یمن کا بڑا شہر ہے) اپنے مصنوعی کعبہ کی بنیاد رکھی اور خوب دل کھول کر روپیہ خرچ کیا اس پر بھی لوگ ادھر متوجہ نہ ہوئے۔ عرب کو خصوصاً قریش کو جب اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 3–4

آیت 4{ تَرْمِیْہِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۔ } ”جو ان پر مارتے تھے کنکر کی پتھریاں۔“ رَمٰی یَرْمِی رَمْیًاکا معنی ہے پھینکنا ‘ مارنا۔ حج کے دوران شیطان کو کنکریاں مارنے کے عمل کو بھی ”رمی جمرات“ کہا جاتا ہے۔ لفظ سِجِّیْلدراصل فارسی ترکیب ”سنگ ِگل“ سے معرب ہے فارسی کی ”گ“ عربی میں آکر ”ج“ سے بدل گئی ہے۔ فارسی میں سنگ بمعنی پتھر اور گل بمعنی مٹی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ سنگ ِگل کے لغوی معنی ہیں مٹی کا پتھر۔ اس سے مراد وہ کنکریاں ہیں جو ریتلی زمین پر ہلکی بارش برسنے اور بعد میں مسلسل تیز دھوپ چمکنے کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں۔ یعنی بارش کے ایک ایک قطرے کے ساتھ جو ریت ملی مٹی گیلی ہوجاتی ہے وہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 2–3

2 ابرہہ کے مقاصد کیا تھے ؟ کَیْدَ بمعنی چال یا خفیہ تدبیر۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ تو علی الاعلان دن دہاڑے کعبہ پر حملہ کرنے آیا تھا اور برملا کہتا تھا کہ میں کعبہ پر حملہ کرنے آیا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عربوں نے ہمارے کلیسا کی توہین کی ہے تو اس میں اس کی چال یا خفیہ تدبیر کیا تھی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی خفیہ تدبیر یہ تھی کہ کعبہ کی تخریب کے بعد اہل عرب کی توجہ اپنے کلیسا کی طرف مبذول کرے۔ اور اس سے اس کا مقصد مذہبی فوائد کا حصول نہیں تھا بلکہ وہ تمام تر تجارتی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتا تھا جو کعبہ کی وجہ سے قریش مکہ کو حاصل تھے۔ 3 تَضْلِیْلٍ ۔ ضَلّ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 3–5

3۔ (پامالی اور پراگندگی کے لحاظ سے) (آیت) ” سجیل “۔ سنگ گل کا معرب ہے۔ حجر وطین مختلط واصلہ فی ماقیل فارسی معرب (راغب) قال ابن عباس ؓ سجیل معناہ سنک وکل یعنی بعضہ حجر وبعضہ طین (کبیر) ھو معرب من سنک کل وعلیہ الجمھور (مدارک) قرآن مجید میں لغت قریش سے باہر کے لفظ بہت کم آتے ہیں، جو معدودے چند آئے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے۔ (آیت) ” ابابیل “۔ اس کے معنی جھنڈ کے ہیں۔ قال ابو جیدۃ ابابیل جماعۃ فی تفرقۃ (کبیر) قال الزجاج جماعات من ھھنا وجماعت من ھھنا (مدارک) ائمہ لغت میں سے بعض نے کہا ہے کہ اس کا کوئی واحد نہیں آتا اور بعض نے اس کا واحد ابیل ابالہ یا ابیالہ یا ابول کو بتایا ہے۔ فیہ قولان والاول ھو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–5

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، کیا آپ ﷺ کو معلوم نہیں ہے کہ آپ ﷺ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ (اور) اس ہاتھی کا نام محمود تھا اور اس کے اصحاب ابرہہ یمن کا بادشاہ اور اس کا لشکر تھا، اس نے صنعاء میں کلیسیا بنوایا تھا، تاکہ حجاج کو مکہ کے بجائے اس کی طرف موڑ دے، کنانہ کے ایک شخص نے کلیسا میں رفع حاجت کر کے اس کے قبلہ کو تحقیر کے طور پر نجاست سے آلودہ کردیا، چناچہ ابرہہ نے خانہ کعبہ کو منہدم کرنے کی قسم کھالی، سو وہ اپنے لشکر کے ساتھ ہاتھیوں پر سوار ہو کر مکہ آیا اور ہاتھیوں میں سب سے آگے محمود نامی ہاتھ تھا، چناچہ جب یہ لوگ معتبہ اللہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وارسل علی ھم اس کا عطف الم یجعل پر ہے کیونکہ الم یجعل کا معنی جَعَلَ ہے (اس لیے خبر کا عطف خبر پر ہوگیا) طیرا ابابیل . ابابیل ‘ طیرًا کی صفت ہے یعنی کثیر پرندے ‘ جھنڈ کے جھنڈ۔ ایک ٹکڑی دوسرے کے پیچھے آنے والی۔ عرب کہتے ہیں : جاءت الخیل ابا بیلًا۔ گھوڑے یا سوار ادھر ادھر سے آئے۔ ابو عبیدہ ؓ نے کہا : ابابیل ‘ ابالۃٌ کی جمع ہے۔ ابالۃ کا معنی ہے ‘ کسی چیز کا بڑا گٹھا۔ پرندوں کی جماعت میں ہر پرندہ دوسرے سے چسپاں تھا۔ اسی چسپیدگی کی وجہ سے ان کو ابابیل فرمایا۔ فراء نے کہا : ابابیل ایسی جمع ہے جس کا واحد اس مادہ سے نہیں آتا۔ کسائی کا قول ہے کہ ابابیل ابولٌ کی جمع ہے۔ عجاجیل ‘ عجول کی۔ بعض نے ابلٌ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 5) کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حبشہ ملک والوں نے جو بیت اللہ کے منہدم کرنے کا ارادہ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا کیا تھا۔ کہ ان کی تدبیر کو سرتاپا غلط کردیا اور ان پر بیشمار پرندے بھیجے جو ان لوگوں پر پتھر کی کنکریاں پھینکتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح نیست و نابود کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وارسل علیھم…:”ابابیل“ عام طور پر ایک خاص قسم کی چڑیوں کو ”ابابیل“ کہا اجتا ہے، مگر یہ درست نہیں۔”ابابیل“ ان گھوڑوں یا پرندوں کو کہا جاتا ہے جو گروہ درگروہ اور ھنڈ کے جھنڈ آئیں۔ یہ لفظ جمع ہی اسعتمال ہوتا ہے، بعض نے اس کی واحد ”ابالۃ“ بیان کی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اور (وہ یوں کہ) بھیج دیئے ان پر ہر سمت سے پرندے ڈاروں کے ڈار۔ سعید بن جبیر نے کہا : ہر آسمان کے پرندے تھے اس سے قبل اور نہ اس کے بعد اس قسم کے کوئی پرندے دیکھے گئے۔ جویبر نے ضحاک سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے رسول اللہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : وہ ایسے پرندے تھے جو آسمان اور زمین کے درمیان گھونسلے بناتے اور بچے دیتے تھے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : ان کی سونڈیں تھیں جس طرح ہاتھی کی سونڈ ہوتی ہے اور ان کے پنجے کتے کے پنجوں جیسے تھے۔ عکرمہ نے کہا : وہ سبز پرندے تھے جو سمندر سے نکلے تھے ان کے سر درندوں کے سر جیسے تھے اس جیسے پرندے نہ اس سے قبل دیکھے گئے اور نہ اس کے بعد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–5

اصحاب فیل کا واقعہ 2۔ ابن ابی حاتم اور ابو نعیم نے دلائل میں عثمان بن مغیرہ بن اخنس (رح) سے روایت کیا کہ اصحاب الفیل کے قصہ میں سے یہ ہے کہ ابرہہ الاشرم الحبشی یمن کا بادشاہ تھا۔ اور اس کا پوتا اکسوم بن الصباح الحمیری حج کے لیے نکلا جب وہ مکہ سے روانہ ہوا تو نجران کے گرجے میں اترا۔ صبح کو اہل مکہ میں سے کچھ اس کے پاس آئے اور اکسوم کے زیورات اور سامان لے لیا (یعنی اس کو لوٹ یا) ۔ تو وہ غصہ ہو کر اپنے نانا کی کی طرف چلا گیا۔ اور اس نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک آدمی کو بیس ہزار خولانیوں اور اشعریوں کے ساتھ بھیجا اسے شہر بن معقود کہا جاتا ہے۔ وہ لوگ چلتے رہے یہاں تک کہ خثعم کی زمین پر نازل ہوئے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّاَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا : اور اس نے بھیجے ان لوگوں پر کچھ پرندے ][ اَبَابِيْلَ : جھنڈ در جھنڈ ہوتے ہوئے ] نوٹ 3: ابابیل کا لفظ جمع کا ہے مگر اس کا کوئی مفرد (واحد) مستعمل نہیں ہے۔ اس کے معنی پرندوں کے غول کے ہیں اور یہ کسی خاص پرندے کا نام نہیں ہے۔ اردو میں ایک خاص چڑیا کو ابابیل کہتے ہیں، یہاں وہ مراد نہیں ہے بلکہ یہ پرندے عجیب طرح کے تھے جو اس سے پہلے نہیں دیکھے گئے تھے۔ جسامت میں کبوتر سے چھوٹے تھے اور ان کے پنجے سرخ تھے۔ یہ کوئی ایسی جنس تھی جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی اور نہ بعد میں دیکھی گئی۔ (معارف القرآن) ۔ مورخہ 11 ۔ ربیع الاول 1432 ھ بمطابق 15 ۔ فروری 2011 ئ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–5

اس سورت میں اصحاب فیل کا واقعہ بیان فرمایا ہے لفظ فیل فارسی کے لفظ پیل سے لیا گیا ہے۔ عربی میں چونکہ (پ) نہیں ہے اس لیے اسے (ف) سے بدل دیا گیا۔ اصحاب فیل (ہاتھی والے لوگ) ان سے ابرہہ اور اس کے ساتھی مراد ہیں۔ یہ شخض شاہ حبشہ کی طرف سے یمن کا گورنر تھا، ابرہہ اپنے ساتھیوں کو ہاتھیوں پر سوار کر کے لایا تھا اور مقصد ان لوگوں کا یہ تھا کہ کعبہ شریف کو گرا دیں تاکہ لوگوں کا رخ ان کے اپنے بنائے ہوئے گھر کی طرف ہوجائے جسے انہوں نے یمن میں بنایا تھا اور اسے کعبہ یمانیہ کہتے تھے۔ یہ لوگ کعبہ پر حملہ کرنے کے لیے آئے مگر خود ہی برباد ہوئے وہ بھی پرندوں کی پھینکی ہوئی چھوٹی چھوٹی کنکریوں کے ذریعہ۔ واقعہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

نزول غضب خداوندی برہتک حرمات الہیہ وتحقیر مرکز ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الم ترکیف فعل ربک ..... الی .... کعصف ماکول “۔ (ربط) ماقبل سورة ’ الہمزہ “ میں انسان کے اخلاق رذیلہ کی مذمت اور اس پر خدا کی طرف سے نازل ہونے والے قہر و عذاب کا ذکر تھا جو آخرت میں ایسی ذلیل حرکتوں پر مرتب ہوگا، اب اس سورت میں یہ بتایا جارہا ہے، خدا کی نافرمانی اور اس کے دین کی دشمنی اور مقابلہ دنیا میں بھی تباہی اور ہلاکت کا موجب ہے جیسے کہ ابرہہ اشرم کے لشکر نے اللہ کے گھر پر ناپاک جسارت کی تو کس طرح آسمانی عذاب نے اس کو ہلاک کرڈالا تو ایسے تاریخی عظیم واقعات سے انسان سمجھ سکتا ہے کہ خدا کی قدرت سے جب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 2–3

3:۔ ” الم یجعل “ استفہام تقریری ہے۔ ہم نے ان کی تدبیر بےکار کردی۔ وہ تو خانہ کعبہ کو ڈھانے کیلئے آئے تھے مگر ہم نے ان کو نہ صرف نکام کردیا بلکہ دنیوی عذاب سے ان کو تہس نہس کردیا۔ وارسل علیہم طیرا۔ ابابیل، طیرا سے حال ہے اور وہ ابالۃ کی جمع ہے۔ بمعنی جماعۃً ۔ اللہ تعالیٰ پرندوں کو ٹولیوں کی صورت میں مختلف سمتوں سے ان پر بھیجا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الفیل ہے۔ عربی زبان میں فیل ہاتھی کو کہتے ہیں۔ اس سورة میں اصحاب فیل کا ذکر ہے۔ یہ مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی پانچ آیتیں ہیں۔ یہ سورة چوبیس الفاظ اور نانوے حروف پر مشتمل ہے۔ موضوع گزشتہ سورة میں اللہ نے زرپرستی کی مذمت کی تھی اور اس کے برے نتائج سے آگاہ کیا تھا اور مسلمانوں کو خبردار کیا تھا۔ کہ ایسے نظام کو قبول نہ کریں۔ اب اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے ملوکیت اور شہنشاہیت کا رد فرمایا ہے کہ یہ نظام بھی باطل ہے اور مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے یہ فاسد نظام ہیں اور اس کے بعد والی سورة میں اللہ تعالیٰ نے قومیت پرستی کا رد فرمایا ہے۔ یہ سب بیماریاں ہیں ، جو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّاَرْسَلَ عَلَيْہِمْ طَيْرًا اَبَابِيْلَ۝ 3 ۙ رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ، والْإِرْسَالُ يقابل الإمساک . قال تعالی: ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ الہمزۃ للاستفھام التقریری لم ترا صلہ تریٰ حذفت الالف بالجازم والرؤیۃ قلبیۃ وانما عبرالعلم بالرئویۃ ایماء الی ھذہ الوقعۃ بمنزلہ المشاھد المحسوس وان مضت قبل ولادتہ ﷺ بنحو شھریں ولکنھا التواترھا کانت کالمحسوس المبصر۔ کیف فعل ربک الخ ھذہ الجملۃ سدت مسد مفعولی تریٰ وکیف منصوب علی المصدریۃ ا والحالیۃ واختار الاول ابن ہشام فی المغنی والمعنی ای فعلٍ فعل الم یجعل الاستفھام للتقریر کانہ قال قدجعل کیدھم فی تضلیل والکیدارادۃ المضرۃ بالغیر بالخفیۃ وارسل عطف علی الم یجعل طیراً اسم جنس یذکر و یونث مفعول ارسل ابابیل لغت لطیر قیل جمع ابول بکسر الھمزۃ مثل عجول وقیل جمع ابیل کسکین وقیل جمع ابالۃ وقال…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَّاَرْسَلَ عَلَیْھِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَ ۔ (الفیل : 3) (اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے۔ ) ابابیل کا مفہوم ابرھہ کا لشکر جیسے ہی آگے بڑھا تو سب سے پہلے تو ان کے سب سے اگلے ہاتھی جس کا نام محمود تھا نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ جب بھی اسے آگے بڑھانے کی کوشش کرتے، وہ زمین پر بیٹھ جاتا۔ اور جب کسی دوسری طرف جانے کا اشارہ کرتے تو وہ اٹھ کر بھاگنے لگتا۔ ابھی اسی کشمکش میں تھے کہ مختلف سمتوں سے ان کی طرف پرندوں کے لشکر بڑھے۔ ابابیل لفظ جمع کا ہے، مگر اس کا کوئی مفرد مستعمل نہیں ہے۔ یہ کسی خاص جانور کا نام نہیں۔ اردو زبان میں جس خاص قسم کی چڑیا کو ابابیل کہتے ہیں یہاں وہ مراد نہیں۔ عربی زبان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : سورة الہمزہ میں آخرت میں ظالموں کی سزا بیان کی گئی ہے الفیل میں یہ بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو آخرت میں ہی نہیں بلکہ کچھ لوگوں کو دنیا میں بھی سزا دیتا ہے جس کی مثال سورة الفیل میں بیان کی گئی ہے۔ نبی آخر الزمان ﷺ کی ولادت باسعادت سے پچاس دن پہلے کا واقعہ ہے کہ حبشہ کے حکمران ابرہہ نے ساٹھ ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ معظمہ کی طرف پیش قدمی کی اس کے لشکر میں دس بارہ ہاتھی بھی تھے۔ ابرہہ خود محمود نامی دیوہیکل ہاتھی پر سوار تھا۔ عربوں نے اس سے پہلے ہاتھی نہیں دیکھے تھے اس لیے عرب اس واقعہ کو اصحاب الفیل کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اہل تاریخ نے مکہ پر ابرہہ کی جارحیت کا سبب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

3 : وَّاَرْسَلَ عَلَیْھِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَ (اور ان پر غول کے غول پرندے بھیجے) ابابیلؔ جمع ابالۃ : جماعتیں۔ قول الزجاج : ادھر سے جماعتیں اور ادھر سے جماعتیں۔ یعنی ہر طرف سے جماعتیں بھیجیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

3 ۔ (وارسل علیھم طیراً ابابیل) کثیر جو جدا جدا پرندے تھے یکے بعد دیگرے آتے تھے۔ ابوعبیدہ کا قول ہے کہ ابابیل متفرق جماعتوں کو کہتے ہیں جیسا کہ عرب کا قول ہے کہ گھوڑے یا سوارادھر ادھر سے آئے۔ فراء کا قول ہے کہ ابابیل ایسی جمع ہے کہ اس کا واحد اس مادہ سے نہیں آتا ۔ کسائی کا قول ہے کہ ابابیل ابول کی جمع ہے جیسے عجول عجاجیل کی جمع ہے ۔ بعض نے کہا کہ من لفظہ اس کی واحد ابیل آتی ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان پرندوں کی چونچیں پرندوں کی طرح تھیں اور ان کے پنجے کتوں کے پنجوں کی طرح تھے ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ ان کے سر چرندوں کے سر کی طرح تھے۔ ان کے دانت ایسے تھے جیسے درندوں کے ہوتے ہیں۔ سعید بن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ اس سورة میں جو قصہ ہے اس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیہقی مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ جب یوسف ذونو اس نے ان عیسائی مذہب کے لوگوں کو آگ میں جلا کر ہلاک کیا جن کا ذکر والسماء ذات البروج میں گزر چکا ہے تو حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے اپنے دو امیروں کو مع لشکر کے یوسف کی سرکوبی کو یمن روانہ کیا۔ ان دو امیروں میں ایک امیر ابرہہ تھا جو یوسف کو شکست دے کر آخر کو یمن کا مستقل امیر بن گیا اور اس نے یمن میں ایک گرجا بنا کر یہ چاہا کہ کعبہ کی طرح اس گرجا کی زیارت کو خلقت آیا کرے۔ جب یہ اپنے اس ارادہ میں کامیاب نہ ہوا تو جل گیا اور ایک بڑا لشکر مع چند ہاتھیوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–5

کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کی عظمت شان اپنے بندوں پر اس کی رحمت اس کی توحید کے دلائل اور اس کے رسول محمد ﷺ کی صداقت کو نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟ جنہوں نے اس کے حرمت والے گھر کے خلاف سازش کی اور اس کو ڈھانے کا ارادہ کیا پس اس کے لیے انہوں نے خوب تیاری کی اور بیت اللہ کو منہدم کرنے کے لیے انہوں نے اپنے ساتھ ہاتھی بھی لے لیے تھے وہ حبشہ اور یمن سے ایک ایسی فوج لے کر آئے جس کا مقابلہ کرنا عربوں کے بس میں نہ تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو عربوں میں مزاحمت کرنے والا کوئی نہ تھا۔ اہل مکہ ان کے خوف سے مکہ سے نکل گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول بھیجے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(3) سرکشوں کی سرکوبی کے لیے پرندوں کے لشکر کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور کیا اس نے بھیج نہیں دیے ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ، جن میں سے ہر ایک کے پاس تین تین کنکریاں تھیں، ایک چونچ میں اور دو پنجوں میں، جو ان پر لگتیں تو چیرتی ہوئی نیچے پہنچ جاتیں ( فتح، جامع، اور روح وغیرہ) روایات کے مطابق ان میں سے ہر کنکری پر اس کافر کا نام بھی لکھا ہوتا تھا، جس پر اس کو لگنا تھا، اور وہ ٹھیک جاکر اسی کو لگتی تھی، کیا مجال جو نشانے سے چونک کر ادھر ادھر ہوجائے، گویا کہ وہ کنکریاں دور حاضر کے سنگر میزائل وغیرہ سے بھی کہیں بڑھ کر تھیں، ہنگر میزائل بھی نشانہ بازی میں ان کے مقابلے میں ہیچ تھے، اور یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

اللہ کی قدرت کا زبردست مظاہرہ تشریح : اس سورت میں اس بہت بڑے عجیب و غریب واقعہ کی دلیل دے کر نصیحت کی گئی ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے۔ عظیم ہے ' کبیر ہے اور قدرت و حکمت میں بےمثال ہے۔ تو تم سب رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو قبول کرو اور اس اللہ لا شریک پر ایمان لے آؤجس نے ابھی ماضی قریب میں ہی تمہارے سامنے ہاتھی والوں یعنی ابرہہ کی 60 ہزار کی فوج کو کیسے معمولی پرندوں کی کنکریوں سے ہلاک کر ڈالا۔ یہ صاف صاف کفر اور اسلام یا شیطان کا اللہ سے مقابلہ تھا جو دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اس کا فیصلہ ہوا۔ اور اللہ نے کفار کی چھپی ہوئی تدبیر کو کس طرح ناکام کردیا۔ چھپی ہوئی تدبیر کو مل یا میٹ کردیا۔ چھپی ہوئی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–5

سورة الفیل۔ آیات 1 تا 5۔ اسرار ومعارف۔ یہ واقعہ اس سال پیش آیا جو نبی اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت کا سال ہے جب یمن میں ذونواس بادشاہ نے اس دور کے مسلمان ہونے والوں کو آگ میں ڈال دیا شام کے حکمران قیصر نے جو عیسائی یعنی اس دور کا مسلمان تھا دو سرداروں ، ارباط اور ابرہہ کو اس کی سرکوبی کے لیے بھیجا وہ شکست کھاکر بھاگا اور سمندر میں غرق ہوا اور ارباط کو قتل کرکے ابرہہ حکمران بن گیا لوگ کعبہ شریف کی زیارت کو جاتے تھے اس نے یمن میں ایک کنیسہ بہت عالی شان تعمیر کرایا کہ لوگ اس کا طواف کیا کریں مگر لوگ کعبہ کو ہی جاتے جس پر اس نے فوج کشی کرکے بیت اللہ کو گرانے کا ارادہ کرلیا۔ عرب کے جملہ قبائل جمع…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–5

ف 10 یہ واقعہ اس سال کا ہے جس سال نبی ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ آپ نے اگرچہ اسے نہیں دیکھا لیکن وہ اتنا مشہور تھا کہ قریش کا بچہ بچہ اس سے واقف تھا اور اس کا ہمیشہ تذکرہ رہتا تھا، اس لئے اسے دیکھنے سے تعبیر فرمایا۔11 اصحاب فیل کا واقعہ جس کا اس سورة میں ذکر کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حبشہ کے بادشاہ کی طرف سے میں پر ” ابرہہ “ نامی ایک گورنر مقرر تھا جو سخت متعصب عیسائی تھا۔ اس نے جب دیکھا کہ سارے عرب میں کعبہ کی بڑی تعظیم کی جاتی ہے اور لوگ ہر طرف سے اس کا حج اور عمرہ کرنے آتے ہیں تو اس نے اپنے ہاں ’ دصنعا ‘ میں ایک گھر بنایا اور لوگوں کو ترغیب دی کہ کعبہ کے بجائے اس کا حج وعمرہ کریں، لیکن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(105:3) وارسل علیہم طیرا ابابیل : وارسل کا عطف الم یجعل پر ہے۔ کیونکہ الم نجعل کا معنی جعل ہے (اس لئے خبر کا عطف خبر پر ہوگیا۔ (تفسیر مظہری) ارسل فلانا علیہ۔ کسی کو کسی پر مسلط کرنا۔ کسی کو کسی کے خلاف مقابلہ کے لئے بھیجنا۔ تسلط جمانے کے لئے ان پر بھیجا۔ طیرا ۔ ارسل کا مفعول ہے (واحد و جمع) پرندہ۔ (طیر جمع اور واحد) مذکر ، مؤنث سب کے لئے آتا ہے) ۔ ابابیل۔ یہ طیرا کی صفت ہے۔ بمعنی جھنڈ کے جھنڈ، پرے کے پرے۔ چناچہ اہل عرب بولتے ہیں جاءت الخیل ابابیل من ھھنا وھھنا (ادھر ادھر سے سواروں کے پرے کے پرے آئے) اخفش اور فراء کے نزدیک اس کی واحد نہیں ہے۔ جیسے شما طیط (ٹولی ۔ جاءت الخیل شما طیط۔ گھوڑے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن۔ الم تر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ اصحاب الفیل۔ ہاتھی والے۔ الم یجعل ۔ کیا نہیں بنا دیا تھا۔ تضلیل۔ بےکار۔ ارسل۔ بھیجا۔ طیر۔ پرندے۔ ابابیل۔ جھنڈ کے جھنڈ۔ ترمی۔ مارے ہیں۔ پھینکتے ہیں۔ سجیل۔ کنکر۔ کعصف۔ جیسے بھوسا۔ ماکول۔ کھایا ہوا۔ تشریح : یمن کے حکمران گورنر ابرھ نے زبرست لشکر اور ہیبت ناک ہاتھیوں کے ساتھ بیت اللہ کو ڈھانے اور عرب کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے جب پیش قدمی کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و طاقت کا اظہار کرتے ہوئے معمولی سے پرندوں کے ذریعے ابرھ کے لشکر اور ہاتھویں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ بحر احمر کی طرف سے ایسے لاتعداد چھوٹے چھوٹے پرندے اڑتے ہوئے آئے جن کو چونچ اور پنجوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

اصحاب فیل کا واقعہ۔ (ف 1) ہاتھی والوں سے مراد ابرہہ اور اس کا لشکر ہے، اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ ابراہہ یمن وحبشہ کا بادشاہ تھا اس نے دیکھا کہ سارے عرب کعبہ کا حج کرنے جاتے ہیں وہ چاہتا تھا کہ حج کرنے والے مکہ مکرمہ کے یہاں آئیں اس کی تدبیر یہ سوچی کہ اپنے مذہب کے نام پر ایک عالیشان عبادت خانہ بنوایا، چناچہ صنعاء میں جو یمن کا بڑا شہر ہے اپنے مصنوعی عبادت خانہ کی بنیاد رکھی اور خوب دل کھول کر روپیہ خرچ کیا، اس پر بھی لوگ ادھر متوجہ نہ ہوئے عرب کے لوگوں کو جب اس کی الطاع ہوئی تو ان کو یہ بات بھی شاق گزری قبیلہ بن کنانہ کے ایک شخص نے موقع پاکر وہاں قضاحاجت کی اور اس کو نجاست آلودہ کردیا، اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[1] اصل میں لفظ '' سِجّیل '' استعمال ہوا ہے جو فارسی کے الفاظ سنگ اور گل کا معرَّب ہے۔ اس کے معنی ہیں وہ مٹی جو پتھر کی طرح سخت ہوجائے۔ اسی کو ہم کنکر کہتے ہیں۔ '' حجارۃ من سجیل '' کے معنی ہوئے کنکر کے پتھر یا پتھریاں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 3–5

ف 1: جب وہ حرم کی حد میں پہنچے تو عجیب و غریب پرندوں کے غول کے خول آئے اور انہوں نے کنکریاں مار مار کر ابرہہ کے لشکر کو بدحواس کردیا ان کنکریوں میں کچھ عجیب طرح کی سمیت تھی کہ جس کی وجہ سے ان کو چیچک نکل آئی اور وہیں میدان میں سارالشکر موت کے گھاٹ اتر گیا ۔ اور بقولے وہ کنکر بندوق کی گولی کی طرح لگے ۔ جن سے وہ ساری فوج فی الفور ہلاک ہوگئی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) اور ان پر غول کے غول پرندے بھیجے۔ یعنی سبز اور زرد رنگ کے جانور ٹکڑیاں بن بن کر آئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

ف 1۔ ابرہہ حاکم یمن لشکر عظیم لیکر جس میں ہاتھی بھی تھے خانہ کعبہ کو منہدم کرنے چڑھ آیا، جب وادی محسر میں پہنچا تو سمندر کی طرف سے کچھ پرندے آئے، ان کے پنجوں اور چونجوں میں مسور اور چنے کی برابر کنکریاں تھیں انہوں نے ان کنکریوں کو لشکر پر پھینکنا شروع کیا، یہ کنکریاں بندوق کی گولی کی طرح لگتی تھیں اور ہلاک کردیتی تھیں، اکثر تو اس عذاب سے ہلاک ہوئے اور دوسرے بھاگ گئے اور دوسری بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کر مر گئے، یہ واقعہ حضور سرور انام ﷺ کی ولادت شریفہ سے پچاس روز پہلے ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیجے تھے 3 ؎ (ابابیل) جھنڈ کے جھنڈ۔ ابو عبدہ نے تصریح کی ہے کہ متفرق جماعت کو ( ابابیل) کہتے ہیں ۔ چناچہ عرب کے لوگ بولتے ہیں : جاءت الحیل ابابیل من ھھنا وھھنا (ادھر اور ادھر سے سواروں کے پرے کے پرے آئے) اس کا واحد آتا ہے یا نہیں اس بارے میں دو اقوال ہیں اخفش اور فراء کا بیان ہے کہ اس کا واحد نہیں آتا اور دوسرا قول یہ ہے کہ واحد آتا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ( ابابیل) کا واحد ابالۃ ہے اور یہ وہ پرندے ہیں جو مرداروں کو کھانے کے لیے خود بخود ہی اکٹھے ہوجاتے ہیں ۔ ہمارے ہاں ایسے پرندوں کو چیل اور گدھ کہتے ہیں اور عربوں کے ہاں ان کو ( ابابیل) کے نام سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse [ 105:3] طَيْرً‌ا أَبَابِيلَ (... birds in flocks.) The word ababil is plural and is said to have no singular. It means birds in flocks, or swarms of birds. It is not the name of a particular bird. In Urdu usually ababil refers to 'swallows', they are not implied in the verse as indicated in the above narration. These birds were somewhat smaller in size than pigeon and they were birds that were never seen before. [ Said Ibn Jubair, as quoted by Qurtubi ].

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 Ababil means many separate and scattered groups whether of men or other creatures, which come from different sides successively. 'Ikrimah and Qatadah say that these swarms of birds had come from the Red Sea side. Sa`id bin Jubair and 'Ikrimah say that such birds had neither been seen before nor ever after; these were neither birds of Najd, nor of Hijaz, nor of Timamah (the land between Hijaz and the Red Sea) . lbn 'Abbas says that their beaks were like those of birds and claws like the dog's paw. 'Ikrimah has stated that their heads were like the heads of the birds of prey, and almost all…

Read the full tafseer →