Explained with ayahs 1–5
ابرہہ اور اس کا حشر :
اللہ رب العزت نے قریش پر جو اپنی خاص نعمت انعام فرمائی تھی اس کا ذکر کر رہا ہے کہ جس لشکر نے ہاتھیوں کو ساتھ لے کر کعبے کو ڈھانے کے لیے چڑھائی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کہ وہ کعبے کے وجود کو مٹائیں ان کا نام ونشان مٹا دیا۔ ان کی تمام فریب کاریاں ان کی تمام قوتیں سلب کرلیں برباد و غارت کردیا یہ لوگ مذہباً نصرانی تھے لیکن دین مسیح کو مسخ کردیا تھا قریباً بت پرست ہوگئے تھے انہیں اس طرح نامراد کرنا یہ گویا پیش خیمہ تھا۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت کا اور اطلاع تھی آپ کی آمد آمد کیحضور ﷺ اسی سال تولد ہوئے اکثر تاریخ داں حضرات کا یہی قول ہے تو گویا رب العالم فرما رہا ہے کہ اے…
Read the full tafseer →سورة الفیل 3
اصل میں لفظ کید استعمال کیا گیا ہے جو کسی شخص کو نقصان پہنچانے کے لیے خفیہ تدبیر کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہاں خفیہ کیا چیز تھی ؟ ساٹھ ہزار کا لشکر کئی ہاتھی لیے ہوئے علانیہ یمن سے مکہ آیا تھا، اور اس نے یہ بات چھپا کر نہیں رکھی تھی کہ وہ کعبہ کو ڈھانے آیا ہے۔ اس لیے یہ تدبیر تو خفیہ نہ تھی۔ البتہ جو بات خفیہ تھی وہ حبشیوں کی یہ غرض تھی کہ وہ کعبہ کو ڈھا کر قریش کو کچل کر، اور تمام اہل عرب کو مرعوب کر کے تجارت کا وہ راستہ عربوں سے چھین لینا چاہتے تھے جو جنوب عرب سے شام و مصر کی طرف جاتا تھا۔ اس غرض کو انہوں نے چھپا رکھا تھا اور ظاہر یہ کیا تھا کہ ان کے کلیسا کی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
خلاصہ تفسیر
کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں سے کیا معاملہ کیا (اس استفہام وسوال سے مقصد اس واقعہ کی عظمت اور ہولناک ہونے پر تنبیہ کرنا ہے۔ آگے اس معاملہ کا بیان ہے) کیا ان کی تدبیر کو (جو کعبہ ویران کرنے کے لئے تھی) سرتاپا غلط نہیں کردیا (یہ استفہام وسوال تقریری ہے یعنی واقعہ کی صحت ثابت کرنے کے لئے) اور ان پر غول کے غول پرندے بھیجے جو ان لوگوں پر کنکر کی پتھریاں پھینکتے تھے سو اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح (پامال) کردیا (حاصل یہ کہ احکام الہیہ کی بےحرمتی کرنے والوں کو ایسے عذاب و عقاب سے بےفکر نہ رہنا چاہئے ہوسکتا ہے کہ دنیا ہی میں عذاب آجائے جیسے اصحاب فیل پر…
Read the full tafseer →لیکن ابرہہ کی یہ ساری تدبیریں اللہ تعالیٰ نے بالکل پائمال و رائگاں کر دیں۔ ان تدبیروں کو ’کید‘ (چال) سے تعبیر کرنے کی ایک واضح وجہ تو وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا کہ ایک نہایت ظالمانہ اقدام کو جائز ثابت کرنے کے لیے ایک نہایت بے ہودہ قسم کا الزام گھڑا گیا لیکن اس کے ’کید‘ ہونے کے بعض اور پہلو بھی ہیں جن کی طرف امام فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں اشارے فرمائے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’۱۔ اس نے محترم مہینوں میں حملہ کیا۔ اس کو خیال تھا کہ عرب ان مہینوں میں جنگ و خونریزی سے احتراز کرتے ہیں۔
۲۔ اس نے مکہ میں ایسے وقت میں داخل ہونے کی کوشش کی جب اہل مکہ دوسرے عربوں کے ساتھ حج کے مناسک ادا…
Read the full tafseer →2۔ 1 یعنی وہ خانہ کعبہ ڈھانے کا ارادہ لے کر آئے تھا، اس میں اس کو ناکام کردیا۔۔ استفہام تقریری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1: یہ ابرہہ کے لشکر کی طرف اشارہ ہے جو کعبے پر چڑھائی کرنے کے لیے ہاتھیوں پر سوار ہو کر آیا تھا۔ ابرہہ یمن کا حکمران تھا۔ اور اس نے یمن میں ایک عالیشان کلیسا تعمیر کرکے یمن کے لوگوں میں یہ اعلان کرادیا کہ آئندہ کوئی شخص حج کے لئے مکہ مکرمہ نہ جائے اور اسی کلیسا کو بیت اللہ سمجھے، عرب کے لوگ اگرچہ بت پرست تھے ؛ لیکن حضرت ابراہیم ؑ کی تعلیم و تبلیغ سے کعبے کی عظمت ان کے دلوں میں پیوست تھی، اس اعلان سے ان میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اور ان میں سے کسی نے رات کے وقت اس کلیسا میں جاکر گندگی پھیلادی اور بعض روایتوں میں ہے کہ اس کے کچھ حصہ میں آگ بھی لگائی، ابرہہ کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے ایک بڑا…
Read the full tafseer →اس کے بعد کا فقرہ بھی سوالیہ ہے لیکن استفہام تقریری ہے ، یعنی ایسا سوال جس کا جواب اثبات میں ہوتا ہے۔
الم یجعل ........................ تضلیل (2:105) ” کیا اس نے ان کی تدبیر کو اکارت نہیں کردیا “۔ یعنی ان کے مکرو تدبیر کو اس طرح بےراہ نہیں کردیا کہ وہ نشانے پر نہ لگے اور اپنی منزل تک نہ پہنچے۔ اسی طرح جس طرح ایک انسان راہ گم کردے اور منزل مقصود تک نہ پہنچ سکے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ قریش کو یاد دلاتا ہے کہ اس نے ان افعام و احسان کیا۔ ان کی حمایت کی اور اس گھر کو بچایا اور اس وقت بچایا جب وہ خود ابرہہ کے لشکر جرار کا سامنا کرنے سے قاصر تھے۔ شاید کہ وہ شرم کریں اور اس ذات باری کا انکار نہ کریں۔ جس…
Read the full tafseer →2 یعنی وہ لوگ چاہتے تھے کہ اللہ کا کعبہ اجاڑ کر اپنا مصنوعی کعبہ آباد کریں۔ یہ نہ ہوسکا۔ اللہ نے ان کے سب پیچ غلط اور کل تدبیریں بےاثر کردیں۔ کعبہ کی تباہی کی فکر میں وہ خود ہی تباہ و برباد ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 2{ اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَہُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ۔ } ”کیا اس نے ان کی تمام تدبیروں کو بےکار اور غیر موثر نہیں کردیا ؟“
اَبرہہ کی اس لشکر کشی کا مقصد انہدامِ کعبہ کے علاوہ عرب میں عیسائیت پھیلانا اور اس تجارت پر قبضہ کرنا بھی تھا جو بلاد مشرق اور رومی مقبوضات کے درمیان عربوں کے ذریعے ہوتی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 ابرہہ کے مقاصد کیا تھے ؟ کَیْدَ بمعنی چال یا خفیہ تدبیر۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ تو علی الاعلان دن دہاڑے کعبہ پر حملہ کرنے آیا تھا اور برملا کہتا تھا کہ میں کعبہ پر حملہ کرنے آیا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عربوں نے ہمارے کلیسا کی توہین کی ہے تو اس میں اس کی چال یا خفیہ تدبیر کیا تھی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی خفیہ تدبیر یہ تھی کہ کعبہ کی تخریب کے بعد اہل عرب کی توجہ اپنے کلیسا کی طرف مبذول کرے۔ اور اس سے اس کا مقصد مذہبی فوائد کا حصول نہیں تھا بلکہ وہ تمام تر تجارتی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتا تھا جو کعبہ کی وجہ سے قریش مکہ کو حاصل تھے۔
3 تَضْلِیْلٍ ۔ ضَلّ کا…
Read the full tafseer →2۔ (جو اس نے خانہ کعبہ کے ہدم وتخریب کا سوچا تھا) والی یمن اور صوبہ دار حبشہ کا سارا پر ورگرام الٹ گیا، بنابنایا کھیل بگڑ گیا، اور بجائے خانہ کعبہ کے برباد کرنے کے خود ہی مع اپنے لشکر کے برباد ہوگیا، ہوا یہ کہ یک بیک سمندر (بحر احمر) کی طرف پرندوں کا ٹڈی دل نظر آیا، جن کے پنجوں اور چونچوں میں کنکریاں تھیں، جن سپاہیوں پر وہ کنکریاں پڑتیں وہ چیچک میں مبتلا ہوجاتے، ابرہہ یہ ماجرا دیکھ پریشان ہو کر بھاگا اور یمن پہنچتے ہی پھنسیوں میں لدا ہوا دنیا سے رخصت ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، کیا آپ ﷺ کو معلوم نہیں ہے کہ آپ ﷺ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ (اور) اس ہاتھی کا نام محمود تھا اور اس کے اصحاب ابرہہ یمن کا بادشاہ اور اس کا لشکر تھا، اس نے صنعاء میں کلیسیا بنوایا تھا، تاکہ حجاج کو مکہ کے بجائے اس کی طرف موڑ دے، کنانہ کے ایک شخص نے کلیسا میں رفع حاجت کر کے اس کے قبلہ کو تحقیر کے طور پر نجاست سے آلودہ کردیا، چناچہ ابرہہ نے خانہ کعبہ کو منہدم کرنے کی قسم کھالی، سو وہ اپنے لشکر کے ساتھ ہاتھیوں پر سوار ہو کر مکہ آیا اور ہاتھیوں میں سب سے آگے محمود نامی ہاتھ تھا، چناچہ جب یہ لوگ معتبہ اللہ کو…
Read the full tafseer →الم یجعل کیدھم . استفہام انکاری ہے (جو مفید ثبوت ہے) کید سے مراد اصحاب فیل کی وہ چال اور کوشش
ہے جو کعبہ کو ڈھانے کے لیے انہوں نے کی تھی۔
فی تضلیل . ناکام ‘ بیکار ‘ باطل۔ یعنی کیا اللہ نے ان کی چال بیکار اور ناکام نہیں کردی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(1۔ 5) کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حبشہ ملک والوں نے جو بیت اللہ کے منہدم کرنے کا ارادہ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا کیا تھا۔
کہ ان کی تدبیر کو سرتاپا غلط کردیا اور ان پر بیشمار پرندے بھیجے جو ان لوگوں پر پتھر کی کنکریاں پھینکتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح نیست و نابود کردیا۔
Read the full tafseer →(الم یجعل کیدھم فی تضلیل :”تضلیل“ کا لفظی معنی گمراہ کرنا ہے، یعنی ان کی تدبیر اس طرف نہیں جانے دی جس طرف وہ لے جانا چاہتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں ان کی تدبیر سیدھی نہیں پڑنے دی۔
Read the full tafseer →کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے مکرو فریب کو ناکام نہیں بنا دیا۔
تضلیل کا معنی باطل کرنا اور ضائع کرنا ہے کیونکہ ہاتھی والوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ وہ قریش کو قتل کریں گے اور انہیں گرفتار کریں گے اور بیت اللہ شریف کے بارے میں انہوں نے ارادہ کیا تھا وہ اسے برباد کردیں گے۔ حضرت عبدالمطلب سے یہ مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ کو بھیجا کہ وہ دیکھے کہ انہوں نے پرندوں سے کیا پایا ہے تو حضرت عبداللہ کیا دیکھتے ہیں کہ سب لوگ ٹکڑے ٹکڑے پڑے ہیں وہ گھوڑا دوڑاتے ہوئے آئے ان کی ران سے کپڑا ہٹا ہوا تھا جب انہیں ان کے والد نے دیکھا تو فرمایا : میرا یہ بیٹا عربوں میں سے شاہسوار ہے اس نے ران سے کپڑا نہیں ہٹایا مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اصحاب فیل کا واقعہ
2۔ ابن ابی حاتم اور ابو نعیم نے دلائل میں عثمان بن مغیرہ بن اخنس (رح) سے روایت کیا کہ اصحاب الفیل کے قصہ میں سے یہ ہے کہ ابرہہ الاشرم الحبشی یمن کا بادشاہ تھا۔ اور اس کا پوتا اکسوم بن الصباح الحمیری حج کے لیے نکلا جب وہ مکہ سے روانہ ہوا تو نجران کے گرجے میں اترا۔ صبح کو اہل مکہ میں سے کچھ اس کے پاس آئے اور اکسوم کے زیورات اور سامان لے لیا (یعنی اس کو لوٹ یا) ۔ تو وہ غصہ ہو کر اپنے نانا کی کی طرف چلا گیا۔ اور اس نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک آدمی کو بیس ہزار خولانیوں اور اشعریوں کے ساتھ بھیجا اسے شہر بن معقود کہا جاتا ہے۔ وہ لوگ چلتے رہے یہاں تک کہ خثعم کی زمین پر نازل ہوئے۔…
Read the full tafseer →[اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ : کیا اس نے نہیں کیا ان کے دائو کو ][ فِيْ تَضْلِيْلٍ : تباہ کرنے میں ]
نوٹ 2: آیت۔ 2 ۔ میں لفظ کید استعمال کیا گیا ہے جو کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے خفیہ تدبیر کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہاں کیا چیز خفیہ تھی۔ ابرہہ ساٹھ ہزار کا لشکر ہاتھیوں کے دستے کے ساتھ لے کر اعلانیہ یمن سے مکہ آیا تھا اور اس نے یہ بات چھپا کر نہیں رکھی تھی کہ وہ کعبہ کو ڈھانے آیا ہے۔ اس لیے یہ تدبیر تو خفیہ نہ تھی۔ البتہ اس اعلانیہ کاروائی کے پیچھے جو نیت تھی وہ خفیہ تھی اور وہ حبشیوں کی یہ غرض تھی کہ وہ کعبہ کو ڈھا کر اور تمام اہل عرب کو مرعوب کر کے تجارت کا وہ راستہ عربوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اس سورت میں اصحاب فیل کا واقعہ بیان فرمایا ہے لفظ فیل فارسی کے لفظ پیل سے لیا گیا ہے۔ عربی میں چونکہ (پ) نہیں ہے اس لیے اسے (ف) سے بدل دیا گیا۔ اصحاب فیل (ہاتھی والے لوگ) ان سے ابرہہ اور اس کے ساتھی مراد ہیں۔ یہ شخض شاہ حبشہ کی طرف سے یمن کا گورنر تھا، ابرہہ اپنے ساتھیوں کو ہاتھیوں پر سوار کر کے لایا تھا اور مقصد ان لوگوں کا یہ تھا کہ کعبہ شریف کو گرا دیں تاکہ لوگوں کا رخ ان کے اپنے بنائے ہوئے گھر کی طرف ہوجائے جسے انہوں نے یمن میں بنایا تھا اور اسے کعبہ یمانیہ کہتے تھے۔ یہ لوگ کعبہ پر حملہ کرنے کے لیے آئے مگر خود ہی برباد ہوئے وہ بھی پرندوں کی پھینکی ہوئی چھوٹی چھوٹی کنکریوں کے ذریعہ۔ واقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
نزول غضب خداوندی برہتک حرمات الہیہ وتحقیر مرکز ہدایت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الم ترکیف فعل ربک ..... الی .... کعصف ماکول “۔
(ربط) ماقبل سورة ’ الہمزہ “ میں انسان کے اخلاق رذیلہ کی مذمت اور اس پر خدا کی طرف سے نازل ہونے والے قہر و عذاب کا ذکر تھا جو آخرت میں ایسی ذلیل حرکتوں پر مرتب ہوگا، اب اس سورت میں یہ بتایا جارہا ہے، خدا کی نافرمانی اور اس کے دین کی دشمنی اور مقابلہ دنیا میں بھی تباہی اور ہلاکت کا موجب ہے جیسے کہ ابرہہ اشرم کے لشکر نے اللہ کے گھر پر ناپاک جسارت کی تو کس طرح آسمانی عذاب نے اس کو ہلاک کرڈالا تو ایسے تاریخی عظیم واقعات سے انسان سمجھ سکتا ہے کہ خدا کی قدرت سے جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ ” الم یجعل “ استفہام تقریری ہے۔ ہم نے ان کی تدبیر بےکار کردی۔ وہ تو خانہ کعبہ کو ڈھانے کیلئے آئے تھے مگر ہم نے ان کو نہ صرف نکام کردیا بلکہ دنیوی عذاب سے ان کو تہس نہس کردیا۔ وارسل علیہم طیرا۔ ابابیل، طیرا سے حال ہے اور وہ ابالۃ کی جمع ہے۔ بمعنی جماعۃً ۔ اللہ تعالیٰ پرندوں کو ٹولیوں کی صورت میں مختلف سمتوں سے ان پر بھیجا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة الفیل ہے۔ عربی زبان میں فیل ہاتھی کو کہتے ہیں۔ اس سورة میں اصحاب فیل کا ذکر ہے۔ یہ مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی پانچ آیتیں ہیں۔ یہ سورة چوبیس الفاظ اور نانوے حروف پر مشتمل ہے۔
موضوع
گزشتہ سورة میں اللہ نے زرپرستی کی مذمت کی تھی اور اس کے برے نتائج سے آگاہ کیا تھا اور مسلمانوں کو خبردار کیا تھا۔ کہ ایسے نظام کو قبول نہ کریں۔ اب اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے ملوکیت اور شہنشاہیت کا رد فرمایا ہے کہ یہ نظام بھی باطل ہے اور مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے یہ فاسد نظام ہیں اور اس کے بعد والی سورة میں اللہ تعالیٰ نے قومیت پرستی کا رد فرمایا ہے۔ یہ سب بیماریاں ہیں ، جو…
Read the full tafseer →اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَہُمْ فِيْ تَضْلِيْلٍ 2 ۙ
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
كيد
الْكَيْدُ : ضرب من الاحتیال، وقد يكون مذموما وممدوحا، وإن کان يستعمل في المذموم أكثر، وکذلک الاستدراج والمکر، ويكون بعض ذلک محمودا، قال : كَذلِكَ كِدْنا لِيُوسُفَ [يوسف/ 76]
( ک ی د ) الکید
( خفیہ تدبیر ) کے معنی ایک قسم کی حیلہ جوئی کے ہیں یہ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور برے معنوں میں بھی مگر عام طور پر برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اسی طرح لفظ استد راج اور مکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ الہمزۃ للاستفھام التقریری لم ترا صلہ تریٰ حذفت الالف بالجازم والرؤیۃ قلبیۃ وانما عبرالعلم بالرئویۃ ایماء الی ھذہ الوقعۃ بمنزلہ المشاھد المحسوس وان مضت قبل ولادتہ ﷺ بنحو شھریں ولکنھا التواترھا کانت کالمحسوس المبصر۔ کیف فعل ربک الخ ھذہ الجملۃ سدت مسد مفعولی تریٰ وکیف منصوب علی المصدریۃ ا والحالیۃ واختار الاول ابن ہشام فی المغنی والمعنی ای فعلٍ فعل الم یجعل الاستفھام للتقریر کانہ قال قدجعل کیدھم فی تضلیل والکیدارادۃ المضرۃ بالغیر بالخفیۃ وارسل عطف علی الم یجعل طیراً اسم جنس یذکر و یونث مفعول ارسل ابابیل لغت لطیر قیل جمع ابول بکسر الھمزۃ مثل عجول وقیل جمع ابیل کسکین وقیل جمع ابالۃ وقال…
Read the full tafseer →اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَھُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ ۔ (الفیل : 2)
(کیا اس نے ان کی تدبیر کو اکارت نہیں کردیا۔ )
اللہ تعالیٰ نے ابرھہ کی تدبیروں کو ناکام کردیا
کَید کا لفظ کسی شخص کو نقصان پہنچانے کے لیے ظاہر تدبیر پر بھی بولا جاتا ہے اور خفیہ تدبیر پر بھی۔ یہاں دونوں ہی معنی مراد معلوم ہوتے ہیں۔ ابرھہ کی ظاہر تدبیر تو یہ تھی کہ وہ 60 ہزار کا عظیم لشکر کئی ہاتھیوں کے ساتھ لے کر مکہ پر حملہ آور ہوا۔ اور اس نے روانہ ہونے سے پہلے صاف صاف اعلان کیا کہ وہ کعبہ کو ڈھانے جارہا ہے اور کسی قیمت پر بھی اسے مسمار کیے بغیر نہیں چھوڑے گا۔ البتہ جس چیز کو اس نے اس کا محرک قرار دیا وہ ظاہر نہیں بلکہ خفیہ تھی۔ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن
ربط سورت : سورة الہمزہ میں آخرت میں ظالموں کی سزا بیان کی گئی ہے الفیل میں یہ بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو آخرت میں ہی نہیں بلکہ کچھ لوگوں کو دنیا میں بھی سزا دیتا ہے جس کی مثال سورة الفیل میں بیان کی گئی ہے۔
نبی آخر الزمان ﷺ کی ولادت باسعادت سے پچاس دن پہلے کا واقعہ ہے کہ حبشہ کے حکمران ابرہہ نے ساٹھ ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ معظمہ کی طرف پیش قدمی کی اس کے لشکر میں دس بارہ ہاتھی بھی تھے۔ ابرہہ خود محمود نامی دیوہیکل ہاتھی پر سوار تھا۔ عربوں نے اس سے پہلے ہاتھی نہیں دیکھے تھے اس لیے عرب اس واقعہ کو اصحاب الفیل کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اہل تاریخ نے مکہ پر ابرہہ کی جارحیت کا سبب…
Read the full tafseer →تمام تدابیر فیل :
2 : اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَھُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ (کیا ان کی تدبیر کو سرتاپا غلط نہیں کردیا) ضائع اور بیکار۔ عرب کہتے ہیں : ضلل کیدہ۔ جب کہ اس کو ضائع اور بیکار کردے۔ امرء القیس کو الملک الضلیل کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس نے اپنے باپ کا ملک کھو دیا۔ ضائع کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اولاً یہ تدبیر کی کہ القلیس گرجا بنایا تاکہ حجاج کے رخ اس کی طرف پھیر دیں ان کی تدبیر کو آگ کے ذریعہ بیکار کردیا۔ پھر دوسری تدبیر بیت اللہ کے گرانے کی کی۔ ان کی تدبیر کو پرندے بھیج کر فیل کردیا۔
Read the full tafseer →2 ۔”(الم یجعل کیدھم فی تضلیل) کید سے مراد ان کی چال اور ان کا کعبہ کو گرادینے کی کوشش ہے۔ فی تضلیل ان کی چال سے جو ارادہ کردیا تھا اللہ نے اس کو بےکار بنالیا۔ تاکہ وہ کعبہ تک پہنچ ہی نہ سکیں۔ مقاتل نے کہا کہ وہ خسارے میں پڑے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ اس سورة میں جو قصہ ہے اس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیہقی مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ جب یوسف ذونو اس نے ان عیسائی مذہب کے لوگوں کو آگ میں جلا کر ہلاک کیا جن کا ذکر والسماء ذات البروج میں گزر چکا ہے تو حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے اپنے دو امیروں کو مع لشکر کے یوسف کی سرکوبی کو یمن روانہ کیا۔ ان دو امیروں میں ایک امیر ابرہہ تھا جو یوسف کو شکست دے کر آخر کو یمن کا مستقل امیر بن گیا اور اس نے یمن میں ایک گرجا بنا کر یہ چاہا کہ کعبہ کی طرح اس گرجا کی زیارت کو خلقت آیا کرے۔ جب یہ اپنے اس ارادہ میں کامیاب نہ ہوا تو جل گیا اور ایک بڑا لشکر مع چند ہاتھیوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کی عظمت شان اپنے بندوں پر اس کی رحمت اس کی توحید کے دلائل اور اس کے رسول محمد ﷺ کی صداقت کو نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟ جنہوں نے اس کے حرمت والے گھر کے خلاف سازش کی اور اس کو ڈھانے کا ارادہ کیا پس اس کے لیے انہوں نے خوب تیاری کی اور بیت اللہ کو منہدم کرنے کے لیے انہوں نے اپنے ساتھ ہاتھی بھی لے لیے تھے وہ حبشہ اور یمن سے ایک ایسی فوج لے کر آئے جس کا مقابلہ کرنا عربوں کے بس میں نہ تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو عربوں میں مزاحمت کرنے والا کوئی نہ تھا۔ اہل مکہ ان کے خوف سے مکہ سے نکل گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول بھیجے…
Read the full tafseer →(2) دشمنوں کی چال اکارت و بےسود، والحمد للہ جل وعلا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اس نے اکارت نہیں کردیا ان کی چال کو ؟ استفہام تقریر و توثیق کے لیے ہے، یعنی ہاں واقعۃ اس نے ان کی چال کو اکارت اور بیکار کردیا، کہ اس کو خود انہی کی ذلت آمیز تباہی اور دائمی ہلاکت و رسوائی اور ابدی عذاب و خسران کا سبب بنادیا، جس سے وہ ہمیشہ کے لیے " فی النار والسقر " ہوگئے اور یہ طبعی انجام اور منقطی نتیجہ ہوتا ہے کفر و شرک کی نحوست، اور شعائر اللہ کی توہین کے ارتکاب، اور ان پر ہاتھ ڈالنے کا کہ نور حق و صدق سے محرومی اور قسادت قلب کی بنا پر انسان اپنی ہلاکت و تباہی کی راہ پر خود چل پڑتا ہے، جبکہ اصل عذاب تو آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اللہ کی قدرت کا زبردست مظاہرہ
تشریح : اس سورت میں اس بہت بڑے عجیب و غریب واقعہ کی دلیل دے کر نصیحت کی گئی ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے۔ عظیم ہے ' کبیر ہے اور قدرت و حکمت میں بےمثال ہے۔ تو تم سب رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو قبول کرو اور اس اللہ لا شریک پر ایمان لے آؤجس نے ابھی ماضی قریب میں ہی تمہارے سامنے ہاتھی والوں یعنی ابرہہ کی 60 ہزار کی فوج کو کیسے معمولی پرندوں کی کنکریوں سے ہلاک کر ڈالا۔ یہ صاف صاف کفر اور اسلام یا شیطان کا اللہ سے مقابلہ تھا جو دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اس کا فیصلہ ہوا۔ اور اللہ نے کفار کی چھپی ہوئی تدبیر کو کس طرح ناکام کردیا۔ چھپی ہوئی تدبیر کو مل یا میٹ کردیا۔ چھپی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة الفیل۔
آیات 1 تا 5۔
اسرار ومعارف۔
یہ واقعہ اس سال پیش آیا جو نبی اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت کا سال ہے جب یمن میں ذونواس بادشاہ نے اس دور کے مسلمان ہونے والوں کو آگ میں ڈال دیا شام کے حکمران قیصر نے جو عیسائی یعنی اس دور کا مسلمان تھا دو سرداروں ، ارباط اور ابرہہ کو اس کی سرکوبی کے لیے بھیجا وہ شکست کھاکر بھاگا اور سمندر میں غرق ہوا اور ارباط کو قتل کرکے ابرہہ حکمران بن گیا لوگ کعبہ شریف کی زیارت کو جاتے تھے اس نے یمن میں ایک کنیسہ بہت عالی شان تعمیر کرایا کہ لوگ اس کا طواف کیا کریں مگر لوگ کعبہ کو ہی جاتے جس پر اس نے فوج کشی کرکے بیت اللہ کو گرانے کا ارادہ کرلیا۔ عرب کے جملہ قبائل جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ف 10 یہ واقعہ اس سال کا ہے جس سال نبی ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ آپ نے اگرچہ اسے نہیں دیکھا لیکن وہ اتنا مشہور تھا کہ قریش کا بچہ بچہ اس سے واقف تھا اور اس کا ہمیشہ تذکرہ رہتا تھا، اس لئے اسے دیکھنے سے تعبیر فرمایا۔11 اصحاب فیل کا واقعہ جس کا اس سورة میں ذکر کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حبشہ کے بادشاہ کی طرف سے میں پر ” ابرہہ “ نامی ایک گورنر مقرر تھا جو سخت متعصب عیسائی تھا۔ اس نے جب دیکھا کہ سارے عرب میں کعبہ کی بڑی تعظیم کی جاتی ہے اور لوگ ہر طرف سے اس کا حج اور عمرہ کرنے آتے ہیں تو اس نے اپنے ہاں ’ دصنعا ‘ میں ایک گھر بنایا اور لوگوں کو ترغیب دی کہ کعبہ کے بجائے اس کا حج وعمرہ کریں، لیکن…
Read the full tafseer →(105:2) الم یجعل کیدھم فی تضلیل : ترکیب مطابق آیت نمبر 1 (استفہام تقریری)
کیدھم مضاف مضاف الیہ ۔ کید مصدر و اسم مصدر۔ بری۔ تدبیر۔ مکر چال، فریب، داؤں، چالاکی۔ اور یہ لفظ حسن تدبیر کے معنوں میں بھی آیا ہے۔ مثلا واملی لہم ان کیدی متین (7:183) اور میں انہیں مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر بڑی مضبوط ہے
تضلیل : بروزن (تفعیل) مصدر سے۔ بےراہ کرنا۔ غلط کرنا۔ کسی تدبیر کا نا کام ہوجانا۔ کسی کوشش کا بار آور نہ ہونا۔ کسی جدوجہد کا اکارت جانا۔
ترجمہ ہوگا :۔ کیا اس نے ان کے مکروفریب کو (یا بری تدبیروں کو) ناکام نہیں بنادیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔
الم تر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ اصحاب الفیل۔ ہاتھی والے۔ الم یجعل ۔ کیا نہیں بنا دیا تھا۔ تضلیل۔ بےکار۔ ارسل۔ بھیجا۔ طیر۔ پرندے۔ ابابیل۔ جھنڈ کے جھنڈ۔ ترمی۔ مارے ہیں۔ پھینکتے ہیں۔ سجیل۔ کنکر۔ کعصف۔ جیسے بھوسا۔ ماکول۔ کھایا ہوا۔
تشریح :
یمن کے حکمران گورنر ابرھ نے زبرست لشکر اور ہیبت ناک ہاتھیوں کے ساتھ بیت اللہ کو ڈھانے اور عرب کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے جب پیش قدمی کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و طاقت کا اظہار کرتے ہوئے معمولی سے پرندوں کے ذریعے ابرھ کے لشکر اور ہاتھویں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ بحر احمر کی طرف سے ایسے لاتعداد چھوٹے چھوٹے پرندے اڑتے ہوئے آئے جن کو چونچ اور پنجوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اصحاب فیل کا واقعہ۔
(ف 1) ہاتھی والوں سے مراد ابرہہ اور اس کا لشکر ہے، اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ ابراہہ یمن وحبشہ کا بادشاہ تھا اس نے دیکھا کہ سارے عرب کعبہ کا حج کرنے جاتے ہیں وہ چاہتا تھا کہ حج کرنے والے مکہ مکرمہ کے یہاں آئیں اس کی تدبیر یہ سوچی کہ اپنے مذہب کے نام پر ایک عالیشان عبادت خانہ بنوایا، چناچہ صنعاء میں جو یمن کا بڑا شہر ہے اپنے مصنوعی عبادت خانہ کی بنیاد رکھی اور خوب دل کھول کر روپیہ خرچ کیا، اس پر بھی لوگ ادھر متوجہ نہ ہوئے عرب کے لوگوں کو جب اس کی الطاع ہوئی تو ان کو یہ بات بھی شاق گزری قبیلہ بن کنانہ کے ایک شخص نے موقع پاکر وہاں قضاحاجت کی اور اس کو نجاست آلودہ کردیا، اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[1] اصل میں لفظ '' سِجّیل '' استعمال ہوا ہے جو فارسی کے الفاظ سنگ اور گل کا معرَّب ہے۔ اس کے معنی ہیں وہ مٹی جو پتھر کی طرح سخت ہوجائے۔ اسی کو ہم کنکر کہتے ہیں۔ '' حجارۃ من سجیل '' کے معنی ہوئے کنکر کے پتھر یا پتھریاں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة الفیل
2: اس سورت میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک اصول وشعائر کا تعلق ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت بذات خود فرماتے ہیں اور مسلمانوں کو جو مکلف بنایا ہے تو محض ان کی قوت ایمانی کی آزمائش کے لئے ۔ ورنہ حاشا اللہ بغیر اللہ تعالیٰ کی اعانت اور فضل کے حقیر ترین دشمن پر بھی قابو پلینا دشوا رہے ۔ اس کا قانون یہ ہے کہ جب تک اس کے ماننے والوں میں غیرت وحمیت کا جذبہ باقی رہتا ہے ۔ وہ ان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اس کے دین کی حفاظت کریں اور حفاظت کے ضمن میں خون کا آخری قطرہ بھی بہادینے سے دریغ نہ کریں ۔ اور جب یہ جذبہ مفقودہوجائے اور جب ایسی ہمت اور شجاعت والی جماعت باقی نہ رہے ۔ جو جان نچھاور کرکے ملت…
Read the full tafseer →(2) کیا اس نے ہاتھی والوں کی تمام چالیں اور تمام دائوں غلط ، بےکار اور ضائع نہیں کردیئے۔ یعنی آئے تھے کعبے کی بےحرمتی کرنے اور خود تباہ برباد ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ف 1۔ ابرہہ حاکم یمن لشکر عظیم لیکر جس میں ہاتھی بھی تھے خانہ کعبہ کو منہدم کرنے چڑھ آیا، جب وادی محسر میں پہنچا تو سمندر کی طرف سے کچھ پرندے آئے، ان کے پنجوں اور چونجوں میں مسور اور چنے کی برابر کنکریاں تھیں انہوں نے ان کنکریوں کو لشکر پر پھینکنا شروع کیا، یہ کنکریاں بندوق کی گولی کی طرح لگتی تھیں اور ہلاک کردیتی تھیں، اکثر تو اس عذاب سے ہلاک ہوئے اور دوسرے بھاگ گئے اور دوسری بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کر مر گئے، یہ واقعہ حضور سرور انام ﷺ کی ولادت شریفہ سے پچاس روز پہلے ہوا۔
Read the full tafseer →کیا اللہ تعالیٰ نے حملہ سے قبل ہی ان کی تمام تدبیروں پر پانی نہیں پھیر دیا تھا ؟
2 ؎ ابرہہ کا لشکر ساٹھ ہزار جنگجو سپاہیوں پر مشتمل تھا اور اس کے ساتھ ایک ہاتھیوں کا دستہ بھی تھا جس میں مفسرین کے مطابق 9 تا 12 تھی مصروف کار تھے اور یہ دستہ لشکر کے آگے آگے جھوم جھوم کر بڑے طمطراق سے چل رہا تھا۔ اہل مکہ کیا اہل عرب نے اتنا بڑا ٹڈی دل کب دیکھا تھا وہ تو بدوں میں ایک دوسرے سے لڑنا بھڑنا جانتے تھے اتنی بڑی فوج سے مڈ بھیڑ ان کے لیے ایک تعجب خیر بات تھی جو کیھ ان کے تصور میں بھی نہ آئی تھی اور خصوصاً ہاتھی تو اہل عرب کے لیے ایک بالکل ہی نئی چیز تھی ۔ اس خصوصیت کے باعث اس سارے لشکر کو اصحاب الفیل کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
Commentary
The subject-matter of the Surah
This Surah refers to the story of the People of the Elephants who came with an army of elephants for the purpose of destroying the House of Allah in (The Holy Ka'bah) in Makkah. But their plan backfired and the Divine scourge overtook them. Allah destroyed the army with a flock of ordinary birds. Thus their plans were foiled and thwarted.
When did the event take place?
This event took place in the very year in which the Holy Prophet ﷺ was born at Makkah, according to some traditions and the popular view among the historians. [ Ibn Kathir ]. The…
Read the full tafseer →3 The word kayd is used for a secret plan meant to harm somebody. The question is, what was secret in this case? Sixty thousand troops together with several elephants had openly come from Yaman to Makkah, and they had kept no secret that they had come to destroy the Ka`bah. Therefore, there was nothing secret about this plan. However, what was secret was the motive of the Abyssinians. They by destroying the Ka`bah, crushing down the Quraish and intimidating the Arabians, wanted to take control of the trade route that led from south Arabia to Syria and Egypt. This motive they kept hidden, and…
Read the full tafseer →