Al-Fil 105:1

105. Al-Filالفيل

The Elephant · Meccan · 5 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

105:1

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ ۟ؕاَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصۡحٰبِ الۡفِيۡلِؕ

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Have you not considered, [O Muhammad], how your Lord dealt with the companions of the elephant?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 30 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fil

All translations of 105:1

تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تو نے نہ دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا معاملہ کیا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے محبوب! کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کیا حال کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تو نے نہیں دیکھا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کس طرح کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ آپ کے پروردگار نے ہاتھی والوں سے کیا برتاؤ کیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے خداوند نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کیسا (ہولناک اور عبرت انگیز) برتاؤ کیا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کے ساتھ ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے ہاتھی والوں سے کیا معاملہ کیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم نے دیکھا نہیں کیا حشر کیا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا

— محترمہ رفعت اعجاز

Have you not seen how your Lord dealt with the people of the elephants?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have you not seen how your Lord dealt with the People of the Elephant?

— Muhammad Taqi Usmani

Have you not seen how your Lord dealt with the People of the Elephant?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Have you not seen how your Lord dealt with the Owners of the Elephant

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hast thou not seen how thy Lord dealt with the owners of the Elephant?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Have you not considered, [O Muhammad], how your Lord dealt with the companions of the elephant?

— Saheeh International

Have you not considered how your Lord dealt with the people of the elephant?

— Muhammad Sarwar

Have you not considered how your Lord dealt with the possessors of the elephant?

— Muhammad Habib Shakir

Hast thou not observed what wise thy Lord dealt with the fellows of the elephant?

— Abdul Majid Daryabadi

Seest thou not how thy Lord dealt with the Companions of the Elephant?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 105:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

ابرہہ اور اس کا حشر : اللہ رب العزت نے قریش پر جو اپنی خاص نعمت انعام فرمائی تھی اس کا ذکر کر رہا ہے کہ جس لشکر نے ہاتھیوں کو ساتھ لے کر کعبے کو ڈھانے کے لیے چڑھائی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کہ وہ کعبے کے وجود کو مٹائیں ان کا نام ونشان مٹا دیا۔ ان کی تمام فریب کاریاں ان کی تمام قوتیں سلب کرلیں برباد و غارت کردیا یہ لوگ مذہباً نصرانی تھے لیکن دین مسیح کو مسخ کردیا تھا قریباً بت پرست ہوگئے تھے انہیں اس طرح نامراد کرنا یہ گویا پیش خیمہ تھا۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت کا اور اطلاع تھی آپ کی آمد آمد کیحضور ﷺ اسی سال تولد ہوئے اکثر تاریخ داں حضرات کا یہی قول ہے تو گویا رب العالم فرما رہا ہے کہ اے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الفیل 1 خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے، مگر اصل مخاطب نہ صرف قریش بلکہ عرب کے عام لوگ ہیں جو اس سارے قصے سے خوب واقف تھے۔ قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر الم تر (کیا تم نے نہیں دیکھا) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور ان سے مقصود نبی ﷺ کو نہیں بلکہ عام لوگوں کو مخاطب کرنا ہے (مثال کے طور پر آیات ذیل ملاحظہ ہوں۔ ابراہیم، آیت 19۔ الحج 18۔ 65۔ النور 43۔ لقمان 29۔ 31۔ فاطر 27۔ الزمر 21) پھر دیکھنے کا لفظ اس مقام پر اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ مکہ اور اطراف مکہ اور عرب کے ایک وسیع علاقے میں مکہ سے یمن تک ایسے بہت سے لوگ اس وقت زندہ موجود تھے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے اصحاب الفیل کی تباہی کا واقعہ دیکھا تھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں سے کیا معاملہ کیا (اس استفہام وسوال سے مقصد اس واقعہ کی عظمت اور ہولناک ہونے پر تنبیہ کرنا ہے۔ آگے اس معاملہ کا بیان ہے) کیا ان کی تدبیر کو (جو کعبہ ویران کرنے کے لئے تھی) سرتاپا غلط نہیں کردیا (یہ استفہام وسوال تقریری ہے یعنی واقعہ کی صحت ثابت کرنے کے لئے) اور ان پر غول کے غول پرندے بھیجے جو ان لوگوں پر کنکر کی پتھریاں پھینکتے تھے سو اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح (پامال) کردیا (حاصل یہ کہ احکام الہیہ کی بےحرمتی کرنے والوں کو ایسے عذاب و عقاب سے بےفکر نہ رہنا چاہئے ہوسکتا ہے کہ دنیا ہی میں عذاب آجائے جیسے اصحاب فیل پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

خطاب کی نوعیت: ’اَلَمْ تَرَ‘ کے خطاب کی نوعیت ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ اگرچہ یہ لفظاً واحد ہے لیکن اس کا استعمال بیشتر جمع کو مخاطب کرنے کے لیے ہوتا ہے اور یہ طرز خطاب گویا مخاطب گروہ کے ایک ایک فرد کو فرداً فرداً متوجہ کرتا ہے۔ یہاں مخاطب قریش ہیں۔ ان کو مخاطب کر کے توجہ دلائی ہے کہ اصحاب فیل کے ساتھ تمہارے رب نے جو معاملہ کیا، کیا وہ تم نے نہیں دیکھا؟ یہ امر ملحوظ رہے کہ اصحاب الفیل کے واقعہ پر ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی ولادت با سعادت عام الفیل ہی کے دوران میں ہوئی ہے اس وجہ سے اس سورہ کے نزول کے وقت بہت سے ایسے لوگ رہے ہوں گے جنھوں نے اس واقعہ کا بچشم خود مشاہدہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 1 جو یمن سے خانہ کعبہ کی تخریب کے لئے آئے تھے، الم تعلم کیا تجھے معلوم نہیں ؟ استفہام تقریر کے لیے ہے، یعنی تو جانتا ہے یا وہ سب لوگ جانتے ہیں جو تیرے ہم عصر ہیں۔ یہ اس لئے فرمایا کہ عرب میں یہ واقعہ گزرے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ مشہور ترین قول کے مطابق یہ واقعہ اس سال پیش آیا جس سال نبی ﷺ کی ولادت ہوئی تھی، اس لئے عربوں میں اس کی خبریں مشہور اور متواتر تھیں یہ واقع مختصر ! حسب ذیل ہے : واقعہ اصحاب الفیل : حبشہ کے بادشاہ کی طرف سے یمن میں ابرہتہ الاشرم گورنر تھا اس نے صنعاء میں ایک بہت بڑا گرجا (عبادت گھر) تعمیر کیا اور کوشش کی کہ لوگ خانہ کعبہ کی بجائے عبادت اور حج عمرہ کے لئے ادھر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: یہ ابرہہ کے لشکر کی طرف اشارہ ہے جو کعبے پر چڑھائی کرنے کے لیے ہاتھیوں پر سوار ہو کر آیا تھا۔ ابرہہ یمن کا حکمران تھا۔ اور اس نے یمن میں ایک عالیشان کلیسا تعمیر کرکے یمن کے لوگوں میں یہ اعلان کرادیا کہ آئندہ کوئی شخص حج کے لئے مکہ مکرمہ نہ جائے اور اسی کلیسا کو بیت اللہ سمجھے، عرب کے لوگ اگرچہ بت پرست تھے ؛ لیکن حضرت ابراہیم ؑ کی تعلیم و تبلیغ سے کعبے کی عظمت ان کے دلوں میں پیوست تھی، اس اعلان سے ان میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اور ان میں سے کسی نے رات کے وقت اس کلیسا میں جاکر گندگی پھیلادی اور بعض روایتوں میں ہے کہ اس کے کچھ حصہ میں آگ بھی لگائی، ابرہہ کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے ایک بڑا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الم ترکیف ........................ الفیل (1:105) ” تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟ “۔ یہ سوالیہ انداز تعجب انگیزی کے لئے اختیار کیا گیا ہے کہ یہ عجیب واقعہ تھا ، اور اس میں بہت بڑی عبرت ہے اور اس میں عظیم معانی پوشیدہ ہیں۔ یہ واقعہ عربوں میں معروف ومشہور تھا۔ بلکہ اس واقعہ سے عربوں میں کیلنڈر شروع ہوگیا تھا اور یہ اہم تاریخ بن گیا تھا۔ لوگ کہتے فلاں واقعہ ہاتھی والوں کے سال ہوا ، اور فلاں واقعہ عام الفیل سے دو سال پہلے ہوا۔ اور فلاں واقعہ عام الفیل کے دس سال بعدواقع ہوا۔ اور مشہور روایت یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی پیدائش بھی عام الفیل میں ہوئی اور یہ تقدیر کے فیصلوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی ہاتھی والوں کے ساتھ تیرے رب نے جو معاملہ کیا وہ تم کو ضرور معلوم ہوگا۔ کیونکہ یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت سے چند روز پیشتر ہوا تھا اور غایت شہرت سے بچہ بچہ کی زبان پر تھا۔ اسی قرب عہد اور تواتر کی بناء پر اس کے علم کو رؤیت سے تعبیر فرما دیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 2{ اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَہُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ۔ } ”کیا اس نے ان کی تمام تدبیروں کو بےکار اور غیر موثر نہیں کردیا ؟“ اَبرہہ کی اس لشکر کشی کا مقصد انہدامِ کعبہ کے علاوہ عرب میں عیسائیت پھیلانا اور اس تجارت پر قبضہ کرنا بھی تھا جو بلاد مشرق اور رومی مقبوضات کے درمیان عربوں کے ذریعے ہوتی تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 یمن میں ابرہہ کا عالی شان گرجا تعمیر کرنا :۔ اس آیت میں اگرچہ بظاہر خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ تاہم اس کے مخاطب تمام اہل عرب ہیں۔ قرآن میں ان ہاتھی والوں کی کوئی تفصیل مذکور نہیں کہ یہ لوگ کون تھے ؟ کہاں سے آئے تھے اور کس غرض سے آئے تھے۔ اس لیے کہ یہ واقعہ بالکل قریبی زمانہ میں پیش آیا تھا اور عرب کا بچہ بچہ اس کی تفصیلات سے واقف تھا اور بہت سے شعراء نے اس واقعہ کو اپنے اپنے قصائد اور منظوم کلام میں قلمبند کردیا تھا۔ واقعہ مختصراً یہ تھا کہ یمن میں اہل حبشہ کی عیسائی حکومت قائم تھی اور ابرہہ نامی ایک شخص حکومت حبشہ کا نائب السلطنت مقرر تھا۔ وہ بیت اللہ کے اثر و رسوخ اور عزت و عظمت سے بہت حسد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1۔ یعنی انہیں کس طرح ہلاک وبرباد کرڈالا۔ (آیت) ” اصحب الفیل “۔ سال عیسوی 570 ؁ یا 571 ؁ تھا، اور ولادت نبوی ﷺ میں بھی چند ہفتوں کا زمانہ باقی تھا کہ حجاز کے پڑوس میں جو حبشہ کی پر قوت مسیحی سلطنت قائم تھی اور جس کی وسعت حدود عرب تک پہنچی ہوئی تھی، اس کے گورنر علاقہ یمن ابرہمہ نے حجاز بلکہ خود خانہ کعبہ پر چڑھائی کردی، حاکم یمن یوں بھی وقت کی ایک زبردست سلطنت کا نمائندہ تھا، پھر اس کی بنوائی ہوئی مسیحی عبادت گاہ کی شدید توہین بھی کسی بےادب عرب نے کردی تھی، ابرہہ کو قدرۃ اس پر سخت غصہ آیا، اور اس نے فوج کشی پوری قوت کے ساتھ کی، اس کی فوج میں ہاتھی بھی تھے، جو عرب میں ایک بالکل نئی چیز تھے، جیسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–5

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، کیا آپ ﷺ کو معلوم نہیں ہے کہ آپ ﷺ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ (اور) اس ہاتھی کا نام محمود تھا اور اس کے اصحاب ابرہہ یمن کا بادشاہ اور اس کا لشکر تھا، اس نے صنعاء میں کلیسیا بنوایا تھا، تاکہ حجاج کو مکہ کے بجائے اس کی طرف موڑ دے، کنانہ کے ایک شخص نے کلیسا میں رفع حاجت کر کے اس کے قبلہ کو تحقیر کے طور پر نجاست سے آلودہ کردیا، چناچہ ابرہہ نے خانہ کعبہ کو منہدم کرنے کی قسم کھالی، سو وہ اپنے لشکر کے ساتھ ہاتھیوں پر سوار ہو کر مکہ آیا اور ہاتھیوں میں سب سے آگے محمود نامی ہاتھ تھا، چناچہ جب یہ لوگ معتبہ اللہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم تر . رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے اور استفہام انکاری مفید تقریر ہے کیونکہ نفی کی نفی اثبات ہوتی ہے یعنی اے محمد ﷺ آپ ﷺ نے دیکھ لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اگرچہ اصحاب فیل کا واقعہ نہیں دیکھا تھا لیکن اس کے آثار دیکھے تھے اور متواتر خبریں سنی تھیں تو گویا دیکھ ہی لیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ رویت سے مراد علم ہو ‘ کیا تم نے نہیں دیکھا یعنی کیا تم کو نہیں معلوم۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ دیکھ لیں کہ ان کے دشمنوں کے ساتھ بھی وہی کیا جائے گا جو اصحاب فیل کے ساتھ کیا گیا۔ کیف فعل ربک . یہ تعجب آگیں استفہام ہے ‘ اسی لیے ما فعل کی جگہ کیف فعل فرمایا۔ اس قصہ کو بیان کرنے سے مقصود ہے ‘ ان امور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 5) کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حبشہ ملک والوں نے جو بیت اللہ کے منہدم کرنے کا ارادہ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا کیا تھا۔ کہ ان کی تدبیر کو سرتاپا غلط کردیا اور ان پر بیشمار پرندے بھیجے جو ان لوگوں پر پتھر کی کنکریاں پھینکتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح نیست و نابود کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) الم ترکیف فعل ربک …:”الم تر“ کا لفظی معنی ہے ”کیا تو نے نہیں دیکھا ؟“ مگر مجاہد ؒ (جو ابن عباس ؓ عنہماکے شاگرد ہیں) نے اس کا معنی کیا ہے :”الم تعلم“ ”کیا تجھے معلوم نہیں ؟“ (بخاری، التفسیر، باب سورة الفیل، قبل ح : 3963) جب قرآن اترا اس وقت یہ واقعہ اتنا معروف تھا گویا لوگوں کا آنکھوں دیکھا واقعہ ہو۔ بعض لوگوں نے اس لفظ سے یہ کشید کرنے کی کوشش کی ہے کہ نبی ﷺ نے یہ واقعہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور یہ کہ آپ عالم الغیب تھے۔ درحقیقت یہ کہنا کلام عرب اور اسلوب قرآن سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین) (یٰسین : 88)”اور کیا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ آپ کے رب نے ہاتھیوں والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: الم تر یعنی کیا آپ کو خبر نہیں دی گئی ؟ ایک قول یہ کیا گیا ؛ کیا آپ علم نہیں رکھتے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : کیا آپ نے نہیں سنا ؟ لفظ (ہمزہ) تو استفہام کا ہے معنی تقریر کا دے رہا ہے خطاب نبی کریم کے لیے ہے لیکن حکم عام ہے یعنی کیا آپ کو علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا یعنی یقینا تمہیں علم ہے اور جہاں میں نے تم پر احسان کیا تھا اس جگہ کو تم جانتے ہو۔ تو تمہیں کیا ہوگیا ہے تم ایمان نہیں رکھتے۔ کیف محل نصب میں ہے اس کا عامل فعل ہے الم تر نہیں کیونکہ اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–5

اصحاب فیل کا واقعہ 2۔ ابن ابی حاتم اور ابو نعیم نے دلائل میں عثمان بن مغیرہ بن اخنس (رح) سے روایت کیا کہ اصحاب الفیل کے قصہ میں سے یہ ہے کہ ابرہہ الاشرم الحبشی یمن کا بادشاہ تھا۔ اور اس کا پوتا اکسوم بن الصباح الحمیری حج کے لیے نکلا جب وہ مکہ سے روانہ ہوا تو نجران کے گرجے میں اترا۔ صبح کو اہل مکہ میں سے کچھ اس کے پاس آئے اور اکسوم کے زیورات اور سامان لے لیا (یعنی اس کو لوٹ یا) ۔ تو وہ غصہ ہو کر اپنے نانا کی کی طرف چلا گیا۔ اور اس نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک آدمی کو بیس ہزار خولانیوں اور اشعریوں کے ساتھ بھیجا اسے شہر بن معقود کہا جاتا ہے۔ وہ لوگ چلتے رہے یہاں تک کہ خثعم کی زمین پر نازل ہوئے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَلَمْ تَرَ : کیا تو نے غور نہیں کیا ][ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ : کیسا کیا تیرے رب نے ][ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ : ہاتھی والوں کے ساتھ ] نوٹ 1: سورة بروج کے نوٹ۔ 2 ۔ میں بیان کیا جا چکا ہے کہ یمن کے بادشاہ نے اللہ پر ایمان لانے والے عیسائیوں کو آگ میں زندہ جلا دیا تھا۔ اس ظلم کا بدلہ لینے کے لیے حبشہ کی عیسائی حکومت نے یمن پر حملہ کردیا اور 525 ء میں اس پورے علاقے پر حبشی حکومت قائم ہوگئی تھی یمن پر جو حبشی فوج حملہ آور ہوئی تھی اس کے دو سردار اریاط اور ابرہہ بعد میں آپس میں لڑ پڑے مقابلہ میں اریاط مارا گیا اور ابرہہ ملک پر قابض ہوگیا۔ یمن میں پوری طرح اپنا اقتدار مضبوط کرلینے کے بعد ابرہہ نے اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–5

اس سورت میں اصحاب فیل کا واقعہ بیان فرمایا ہے لفظ فیل فارسی کے لفظ پیل سے لیا گیا ہے۔ عربی میں چونکہ (پ) نہیں ہے اس لیے اسے (ف) سے بدل دیا گیا۔ اصحاب فیل (ہاتھی والے لوگ) ان سے ابرہہ اور اس کے ساتھی مراد ہیں۔ یہ شخض شاہ حبشہ کی طرف سے یمن کا گورنر تھا، ابرہہ اپنے ساتھیوں کو ہاتھیوں پر سوار کر کے لایا تھا اور مقصد ان لوگوں کا یہ تھا کہ کعبہ شریف کو گرا دیں تاکہ لوگوں کا رخ ان کے اپنے بنائے ہوئے گھر کی طرف ہوجائے جسے انہوں نے یمن میں بنایا تھا اور اسے کعبہ یمانیہ کہتے تھے۔ یہ لوگ کعبہ پر حملہ کرنے کے لیے آئے مگر خود ہی برباد ہوئے وہ بھی پرندوں کی پھینکی ہوئی چھوٹی چھوٹی کنکریوں کے ذریعہ۔ واقعہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

نزول غضب خداوندی برہتک حرمات الہیہ وتحقیر مرکز ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الم ترکیف فعل ربک ..... الی .... کعصف ماکول “۔ (ربط) ماقبل سورة ’ الہمزہ “ میں انسان کے اخلاق رذیلہ کی مذمت اور اس پر خدا کی طرف سے نازل ہونے والے قہر و عذاب کا ذکر تھا جو آخرت میں ایسی ذلیل حرکتوں پر مرتب ہوگا، اب اس سورت میں یہ بتایا جارہا ہے، خدا کی نافرمانی اور اس کے دین کی دشمنی اور مقابلہ دنیا میں بھی تباہی اور ہلاکت کا موجب ہے جیسے کہ ابرہہ اشرم کے لشکر نے اللہ کے گھر پر ناپاک جسارت کی تو کس طرح آسمانی عذاب نے اس کو ہلاک کرڈالا تو ایسے تاریخی عظیم واقعات سے انسان سمجھ سکتا ہے کہ خدا کی قدرت سے جب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

2:۔ ” الم تر “ یہ تخویف دنیوی کا ایک نمونہ ہے۔ رؤیت سے رؤیت بصریہ مراد ہے اور وہ علم سے کنایہ ہے اور استفہام تقریری ہے واقعہ فیل کی خبر تواتر سے آپ تک پہنچ چکی تھی اور آپ کو اس کا علم تھا یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کی ولادت کے سال میں پیش آیا۔ نجاشی شاہ حبشہ کے ایک حاکم ابرہ نے نجاشی کی خوشنودی کے لیے صنعاء میں ایک نہایت ہی عالیشان گرجا تعمیر کرادیا۔ اس میں دنیا کا علی فرجہ کا سنگ مر مر استعمال کیا گیا تھا۔ پتھر سونے کے نقش و نگار سے مزید تھے۔ گرجے کی تعمیر مکمل ہوئی تو اس نے نجاشی کو لکھا کہ اس نے آپ کی خاطر ایک ایسا عالیشان گرجا تعمیر کیا ہے کہ آج تک دنیا میں ایسا گرجا تعمیر نہیں ہوا اور جب تک میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الفیل ہے۔ عربی زبان میں فیل ہاتھی کو کہتے ہیں۔ اس سورة میں اصحاب فیل کا ذکر ہے۔ یہ مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی پانچ آیتیں ہیں۔ یہ سورة چوبیس الفاظ اور نانوے حروف پر مشتمل ہے۔ موضوع گزشتہ سورة میں اللہ نے زرپرستی کی مذمت کی تھی اور اس کے برے نتائج سے آگاہ کیا تھا اور مسلمانوں کو خبردار کیا تھا۔ کہ ایسے نظام کو قبول نہ کریں۔ اب اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے ملوکیت اور شہنشاہیت کا رد فرمایا ہے کہ یہ نظام بھی باطل ہے اور مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے یہ فاسد نظام ہیں اور اس کے بعد والی سورة میں اللہ تعالیٰ نے قومیت پرستی کا رد فرمایا ہے۔ یہ سب بیماریاں ہیں ، جو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ۝ 1 ۭ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ الہمزۃ للاستفھام التقریری لم ترا صلہ تریٰ حذفت الالف بالجازم والرؤیۃ قلبیۃ وانما عبرالعلم بالرئویۃ ایماء الی ھذہ الوقعۃ بمنزلہ المشاھد المحسوس وان مضت قبل ولادتہ ﷺ بنحو شھریں ولکنھا التواترھا کانت کالمحسوس المبصر۔ کیف فعل ربک الخ ھذہ الجملۃ سدت مسد مفعولی تریٰ وکیف منصوب علی المصدریۃ ا والحالیۃ واختار الاول ابن ہشام فی المغنی والمعنی ای فعلٍ فعل الم یجعل الاستفھام للتقریر کانہ قال قدجعل کیدھم فی تضلیل والکیدارادۃ المضرۃ بالغیر بالخفیۃ وارسل عطف علی الم یجعل طیراً اسم جنس یذکر و یونث مفعول ارسل ابابیل لغت لطیر قیل جمع ابول بکسر الھمزۃ مثل عجول وقیل جمع ابیل کسکین وقیل جمع ابالۃ وقال…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّـکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ ۔ (الفیل : 1) (کیا تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟ ) خطاب کی نوعیت اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات اس کا اسلوبِ خطاب ہے۔ خطاب صیغہ ٔ واحد سے کیا گیا ہے جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اس کے مخاطب ہیں۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں، کیونکہ جس بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے اس کا ہدف آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی نہیں بلکہ وہ تمام لوگ ہیں جو آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے سے گریزاں ہیں۔ رہی یہ بات کہ خطاب کے الفاظ واحد کا مفہوم ادا کرتے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ خطاب کسی ایک ذات کو کیا جارہا ہے، لیکن مضمون کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : سورة الہمزہ میں آخرت میں ظالموں کی سزا بیان کی گئی ہے الفیل میں یہ بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو آخرت میں ہی نہیں بلکہ کچھ لوگوں کو دنیا میں بھی سزا دیتا ہے جس کی مثال سورة الفیل میں بیان کی گئی ہے۔ نبی آخر الزمان ﷺ کی ولادت باسعادت سے پچاس دن پہلے کا واقعہ ہے کہ حبشہ کے حکمران ابرہہ نے ساٹھ ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ معظمہ کی طرف پیش قدمی کی اس کے لشکر میں دس بارہ ہاتھی بھی تھے۔ ابرہہ خود محمود نامی دیوہیکل ہاتھی پر سوار تھا۔ عربوں نے اس سے پہلے ہاتھی نہیں دیکھے تھے اس لیے عرب اس واقعہ کو اصحاب الفیل کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اہل تاریخ نے مکہ پر ابرہہ کی جارحیت کا سبب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 : اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ ( کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں سے کیا معاملہ کیا) ۔ نحو : کیف یہ فَعَلَ کی وجہ سے موضع نصب میں ہے الم تر کی وجہ سے نہیں۔ کیونکہ کیف میں استفہام کا معنی پایا جاتا ہے اور یہ جملہ ترٰی کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہوگیا ہے۔ الم ترؔ میں تعجب کا اظہار ہے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ کو تعجب سے فرما رہے ہیں کہ عجیب بات ہے کہ کفار نے آپ کا انکار کردیا حالانکہ وہ تو اتنی بڑی آیات کو دیکھ چکے۔ معنی یہ ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی صنعت کے آثار اہل حبشہ میں دیکھے اور اس کے متعلق متواتر خبریں سنیں پس وہ آپ کے لئے مشاہدہ کے قائم مقام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

اصحاب الفیل کا واقعہ 1 ۔” الم ترکیف فعل ربک باصحب الفیل “ محمد بن اسحق نے بروایت سعید بن جبیر و عکرمہ از ابن عباس ؓ بیان کیا اور واقدی نے بھی اسی طرح ذکر کیا کہ نجاشی شاہ حبش نے اریاط (سپہ سالار) کو یمن پر فوج کشی کے لئے بھیجا۔ اریاط نے جاکر یمن پر تسلط قائم کرلیا۔ ابرہہ بن الصباح حبشی ایک فوجی سردار تھا، اس کو اریاط کی سیادت پر حسد ہوا اور اس نے بغاوت کردی۔ اس طرح حبشیوں نے ابرہہ کو سردار بنالیا اور ابرہہ کا تسلط یمن پر ہوگیا، پھر ابرہہ نے دیکھا کہ حج کے زمانہ میں لوگ مکہ کو جانے کی تیاری کررہے ہیں۔ اس حسد میں اس نے صنعاء میں ایک گرجا بنایا اور نجاشی کو لکھا کہ میں نے صنعاء میں ایک کنیسہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ اس سورة میں جو قصہ ہے اس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیہقی مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ جب یوسف ذونو اس نے ان عیسائی مذہب کے لوگوں کو آگ میں جلا کر ہلاک کیا جن کا ذکر والسماء ذات البروج میں گزر چکا ہے تو حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے اپنے دو امیروں کو مع لشکر کے یوسف کی سرکوبی کو یمن روانہ کیا۔ ان دو امیروں میں ایک امیر ابرہہ تھا جو یوسف کو شکست دے کر آخر کو یمن کا مستقل امیر بن گیا اور اس نے یمن میں ایک گرجا بنا کر یہ چاہا کہ کعبہ کی طرح اس گرجا کی زیارت کو خلقت آیا کرے۔ جب یہ اپنے اس ارادہ میں کامیاب نہ ہوا تو جل گیا اور ایک بڑا لشکر مع چند ہاتھیوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–5

کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کی عظمت شان اپنے بندوں پر اس کی رحمت اس کی توحید کے دلائل اور اس کے رسول محمد ﷺ کی صداقت کو نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟ جنہوں نے اس کے حرمت والے گھر کے خلاف سازش کی اور اس کو ڈھانے کا ارادہ کیا پس اس کے لیے انہوں نے خوب تیاری کی اور بیت اللہ کو منہدم کرنے کے لیے انہوں نے اپنے ساتھ ہاتھی بھی لے لیے تھے وہ حبشہ اور یمن سے ایک ایسی فوج لے کر آئے جس کا مقابلہ کرنا عربوں کے بس میں نہ تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو عربوں میں مزاحمت کرنے والا کوئی نہ تھا۔ اہل مکہ ان کے خوف سے مکہ سے نکل گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول بھیجے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(1) اصحاب فیل کے قصہ میں دعوت غورو فکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کیا معاملہ اور برتاؤ کیا تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ ؟ یعنی کیا تم نے اس پر غور نہیں کیا، تاکہ تم اس سے وہ درسہائے عبرت و بصیرت اخذ کرسکو، جو اس عبرتناک قصے کے اندر موجود و مستور ہیں، کہ کس طرح اللہ پاک نے اپنے گھر کی حفاظت فرمائی، وہ کیسا قادر و منتقم ہے، اس کے لشکر کتنے بیشمار ہیں اس کی قدرت کتنی کامل ہے، اس کا علم کس قدر وسیع ہے اور اس کی پکڑ کتنی سخت اور کس قدر ہولناک ہے ؟ " ان اخذہ الیم شدید " سو تمہیں اے مخاطب اور اے سامع، اس پر غور و فکر کر کے ایسے ایسے درسہائے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

اللہ کی قدرت کا زبردست مظاہرہ تشریح : اس سورت میں اس بہت بڑے عجیب و غریب واقعہ کی دلیل دے کر نصیحت کی گئی ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے۔ عظیم ہے ' کبیر ہے اور قدرت و حکمت میں بےمثال ہے۔ تو تم سب رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو قبول کرو اور اس اللہ لا شریک پر ایمان لے آؤجس نے ابھی ماضی قریب میں ہی تمہارے سامنے ہاتھی والوں یعنی ابرہہ کی 60 ہزار کی فوج کو کیسے معمولی پرندوں کی کنکریوں سے ہلاک کر ڈالا۔ یہ صاف صاف کفر اور اسلام یا شیطان کا اللہ سے مقابلہ تھا جو دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اس کا فیصلہ ہوا۔ اور اللہ نے کفار کی چھپی ہوئی تدبیر کو کس طرح ناکام کردیا۔ چھپی ہوئی تدبیر کو مل یا میٹ کردیا۔ چھپی ہوئی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–5

سورة الفیل۔ آیات 1 تا 5۔ اسرار ومعارف۔ یہ واقعہ اس سال پیش آیا جو نبی اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت کا سال ہے جب یمن میں ذونواس بادشاہ نے اس دور کے مسلمان ہونے والوں کو آگ میں ڈال دیا شام کے حکمران قیصر نے جو عیسائی یعنی اس دور کا مسلمان تھا دو سرداروں ، ارباط اور ابرہہ کو اس کی سرکوبی کے لیے بھیجا وہ شکست کھاکر بھاگا اور سمندر میں غرق ہوا اور ارباط کو قتل کرکے ابرہہ حکمران بن گیا لوگ کعبہ شریف کی زیارت کو جاتے تھے اس نے یمن میں ایک کنیسہ بہت عالی شان تعمیر کرایا کہ لوگ اس کا طواف کیا کریں مگر لوگ کعبہ کو ہی جاتے جس پر اس نے فوج کشی کرکے بیت اللہ کو گرانے کا ارادہ کرلیا۔ عرب کے جملہ قبائل جمع…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–5

ف 10 یہ واقعہ اس سال کا ہے جس سال نبی ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ آپ نے اگرچہ اسے نہیں دیکھا لیکن وہ اتنا مشہور تھا کہ قریش کا بچہ بچہ اس سے واقف تھا اور اس کا ہمیشہ تذکرہ رہتا تھا، اس لئے اسے دیکھنے سے تعبیر فرمایا۔11 اصحاب فیل کا واقعہ جس کا اس سورة میں ذکر کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حبشہ کے بادشاہ کی طرف سے میں پر ” ابرہہ “ نامی ایک گورنر مقرر تھا جو سخت متعصب عیسائی تھا۔ اس نے جب دیکھا کہ سارے عرب میں کعبہ کی بڑی تعظیم کی جاتی ہے اور لوگ ہر طرف سے اس کا حج اور عمرہ کرنے آتے ہیں تو اس نے اپنے ہاں ’ دصنعا ‘ میں ایک گھر بنایا اور لوگوں کو ترغیب دی کہ کعبہ کے بجائے اس کا حج وعمرہ کریں، لیکن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(105:1) الم ترکیف فعل ربک باصحب الفیل ۔ جملہ استفہام انکاری ہے جو کہ مفید تقریر ہے۔ کیونکہ نفی کی نفی اثبات ہوتی ہے۔ یا یہ استفہام تقریری ہے بمعنی تری ہے۔ تری میں الف بوجہ جازم (لم) حذف کردیا گیا ہے۔ أ ہمزہ استفہامیہ ہے لم تر نفی جحد بلم رؤیۃ (رای یری باب فتح رأی مادہ) مصدر ۔ بمعنی دیکھنا۔ رائے رکھنا۔ خیال رکھنا۔ خیال کرنا۔ محاورۃ بولتے ہیں الم تر۔ کیا تمہیں نہیں معلوم ؟ (یہاں علم کو بمعنی رؤیۃ سے تعبیر کیا گیا ہے) کیف یہ تعجب آگین استفہام ہے اسی لئے ما فعل کی جگہ کیف فعل فرمایا۔ اصحب الفیل مضاف مضاف الیہ۔ ہاتھی والے۔ فائدہ : باوجود یکہ اصحب جمع کا صیغہ ہے الفیل کو مفرد ذکر کیا گیا ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن۔ الم تر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ اصحاب الفیل۔ ہاتھی والے۔ الم یجعل ۔ کیا نہیں بنا دیا تھا۔ تضلیل۔ بےکار۔ ارسل۔ بھیجا۔ طیر۔ پرندے۔ ابابیل۔ جھنڈ کے جھنڈ۔ ترمی۔ مارے ہیں۔ پھینکتے ہیں۔ سجیل۔ کنکر۔ کعصف۔ جیسے بھوسا۔ ماکول۔ کھایا ہوا۔ تشریح : یمن کے حکمران گورنر ابرھ نے زبرست لشکر اور ہیبت ناک ہاتھیوں کے ساتھ بیت اللہ کو ڈھانے اور عرب کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے جب پیش قدمی کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و طاقت کا اظہار کرتے ہوئے معمولی سے پرندوں کے ذریعے ابرھ کے لشکر اور ہاتھویں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ بحر احمر کی طرف سے ایسے لاتعداد چھوٹے چھوٹے پرندے اڑتے ہوئے آئے جن کو چونچ اور پنجوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

اصحاب فیل کا واقعہ۔ (ف 1) ہاتھی والوں سے مراد ابرہہ اور اس کا لشکر ہے، اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ ابراہہ یمن وحبشہ کا بادشاہ تھا اس نے دیکھا کہ سارے عرب کعبہ کا حج کرنے جاتے ہیں وہ چاہتا تھا کہ حج کرنے والے مکہ مکرمہ کے یہاں آئیں اس کی تدبیر یہ سوچی کہ اپنے مذہب کے نام پر ایک عالیشان عبادت خانہ بنوایا، چناچہ صنعاء میں جو یمن کا بڑا شہر ہے اپنے مصنوعی عبادت خانہ کی بنیاد رکھی اور خوب دل کھول کر روپیہ خرچ کیا، اس پر بھی لوگ ادھر متوجہ نہ ہوئے عرب کے لوگوں کو جب اس کی الطاع ہوئی تو ان کو یہ بات بھی شاق گزری قبیلہ بن کنانہ کے ایک شخص نے موقع پاکر وہاں قضاحاجت کی اور اس کو نجاست آلودہ کردیا، اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[1] اصل میں لفظ '' سِجّیل '' استعمال ہوا ہے جو فارسی کے الفاظ سنگ اور گل کا معرَّب ہے۔ اس کے معنی ہیں وہ مٹی جو پتھر کی طرح سخت ہوجائے۔ اسی کو ہم کنکر کہتے ہیں۔ '' حجارۃ من سجیل '' کے معنی ہوئے کنکر کے پتھر یا پتھریاں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–2

سورة الفیل 2: اس سورت میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک اصول وشعائر کا تعلق ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت بذات خود فرماتے ہیں اور مسلمانوں کو جو مکلف بنایا ہے تو محض ان کی قوت ایمانی کی آزمائش کے لئے ۔ ورنہ حاشا اللہ بغیر اللہ تعالیٰ کی اعانت اور فضل کے حقیر ترین دشمن پر بھی قابو پلینا دشوا رہے ۔ اس کا قانون یہ ہے کہ جب تک اس کے ماننے والوں میں غیرت وحمیت کا جذبہ باقی رہتا ہے ۔ وہ ان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اس کے دین کی حفاظت کریں اور حفاظت کے ضمن میں خون کا آخری قطرہ بھی بہادینے سے دریغ نہ کریں ۔ اور جب یہ جذبہ مفقودہوجائے اور جب ایسی ہمت اور شجاعت والی جماعت باقی نہ رہے ۔ جو جان نچھاور کرکے ملت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) اے پیغمبر ! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا برتائو کیا۔ سوال کا مقصد تہویل اور تعظیم ہے اور اس بات کا اظہار ہے کہ مکہ والوں کے ساتھ ہم نے احسان کیا اور اے نبی صلعم آپ کے پیدا ہونے سے پہلے آپ کی مدد فرمائی اور آپ کے بعد آپ کی امت اور آپ کے مسلک کو کس طرح نظر انداز کردے گا۔ واقعہ چونکہ مشہور تھا اس لئے شہرت کی بنا پر بعینہ ایسا تھا جیسا کو آنکھوں سے دیکھا اور یہ ایک عام محاورہو ہے جو اردو میں بھی بکثرت استعمال ہوتا ہے کہ ان دیکھی ہوئی چیز کو اس کی شہرت کی بنا پر دیکھی ہوئی قرار دے کر سوال کرتے ہیں آگے اس کی تفصیل فرمائی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

ف 1۔ ابرہہ حاکم یمن لشکر عظیم لیکر جس میں ہاتھی بھی تھے خانہ کعبہ کو منہدم کرنے چڑھ آیا، جب وادی محسر میں پہنچا تو سمندر کی طرف سے کچھ پرندے آئے، ان کے پنجوں اور چونجوں میں مسور اور چنے کی برابر کنکریاں تھیں انہوں نے ان کنکریوں کو لشکر پر پھینکنا شروع کیا، یہ کنکریاں بندوق کی گولی کی طرح لگتی تھیں اور ہلاک کردیتی تھیں، اکثر تو اس عذاب سے ہلاک ہوئے اور دوسرے بھاگ گئے اور دوسری بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کر مر گئے، یہ واقعہ حضور سرور انام ﷺ کی ولادت شریفہ سے پچاس روز پہلے ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے اصحاب فیل کے ساتھ کیا کیا ؟ 1 ؎ جب یہ سورت نازل ہوئی اسوقت اس واقعہ کو مشاہدہ کرنے والے کچھ نفوس موجود ہوں گے کیونکہ اس سورت کے نزول کے وقت اور اس واقعہ کے معرض وجود میں آنے کے وقت میں صرف بیالیس سے چوالیس سال کا فاصلہ ہے اس لیے اس واقعہ کو دیکھنے والوں کی اکثریت موجود نہ ہو تو بھی تقریباً برابر لوگ موجود ہوں گے جن کو آدھے یا آدھے سے زیادہ کہا جاسکتا ہے پھر جس واقعہ کو اتنی کثیر تعداد جانتی ہو اسکی طرف اشارہ کردینے سے سب لوگ جان جاتے ہیں کیونکہ جو عینی شاہد نہ ہوں تو بھی وہ عینی شاہدوں سے سننے واولے ضرور ہوتے ہیں لہٰذا اس وقت اس واقعہ کی طرف اشارہ کردینا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Commentary The subject-matter of the Surah This Surah refers to the story of the People of the Elephants who came with an army of elephants for the purpose of destroying the House of Allah in (The Holy Ka'bah) in Makkah. But their plan backfired and the Divine scourge overtook them. Allah destroyed the army with a flock of ordinary birds. Thus their plans were foiled and thwarted. When did the event take place? This event took place in the very year in which the Holy Prophet ﷺ was born at Makkah, according to some traditions and the popular view among the historians. [ Ibn Kathir ]. The…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 Though the address apparently is directed to the Holy Prophet (upon whom be peace) , its real addressees are not only the Quraish but all the people of Arabia, who were well aware of the event. At many places in the Qur'an the words alam tara (have you not seen?) have been used, and they are meant not to address the Holy Prophet but the people in general. (For example, see Ibrahim: 19, AI-Hajj: 18, 65, An-Nur: 43, Luqman: 29, 31, Fatir: 27, Az-Zumar: 21) . Thee, the word 'seeing' has been used here to signify that in and around Makkah and in the vast country of Arabia, from Makkah to Yaman,…

Read the full tafseer →