فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ ۟۠فِىۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ
(یعنی آگ کے) لمبے لمبے ستونوں میں
— Fateh Muhammad Jalandhari
In extended columns.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 29 of juzع
فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ ۟۠فِىۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ
(یعنی آگ کے) لمبے لمبے ستونوں میں
— Fateh Muhammad Jalandhari
In extended columns.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 29 of juzع
Read the whole surah · Surah Al-Humaza
(اِس حالت میں کہ وہ) اونچے اونچے ستونوں میں (گھرے ہوئے ہوں گے)
(یعنی آگ کے) لمبے لمبے ستونوں میں
بڑے بڑے ستونوں میں
جبکہ وہ (آگے کے) لمبے چوڑے ستونوں میں (گھرے ہوئے) ہوں گے۔
لمبے لمبے ستونوں میں
(بھڑکتے شعلوں کے) لمبے لمبے ستونوں میں (اور ان لوگوں کے لئے کوئی راہِ فرار نہ رہے گی)،
لمبے لمبے ستونوں میں۔
(جبکہ وہ) اونچے اونچے ستونوں میں (گھرے ہوں گے)
لمبے ستونوں میں جکڑے ہوئے۔
لمبے لمبے ستونوں میں
بڑے بڑے لمبے ستونوں میں۔
بڑے اونچے اونچے لمبے ستونوں میں۔
لمبے لمبے ستونوں میں
in outstretched columns.
in outstretched columns.
in outstretched columns.
In pillars stretched forth.
In outstretched columns.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
In extended columns.
in its long columns of flames.
In extended columns.
In pillars stretched forth.
In columns outstretched.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–9
وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ ھماز مشآء بنمیم کی تفسیر بیان ہوچکی ہے حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے ربیع بن انس کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو ہمز ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا لمز ہے۔ قتادہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستنا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیب کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے مجاہد فرماتے ہیں ہمز ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور لمز زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن…
Read the full tafseer →سورة الھمزۃ 9 فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جہنم کے دروازوں کو بند کر کے ان پر اونچے اونچے ستون گاڑ دیے جائیں گے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ مجرم اونچے اونچے ستونوں سے بندھے ہوئے ہوں گے۔ تیسرا مطلب ابن عباس نے یہ بیان کیا ہے کہ اس آگ کے شعلے لمبے ستونوں کی شکل میں اٹھ رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
تطلع علی الافدة یعنی یہ جہنم کی آگ دلوں تک پہنچ جائے گی۔ یوں تو ہر آگ کا خاصہ یہی ہے کہ جو چیز اس میں پڑے اس کے سبھی اجزاء کو جلا دیتی ہے انسان اس میں ڈالا جائے گا تو اس کے سارے اعضاء کے ساتھ دل بھی جل جائے گا، یہاں جہنم کی آگ کی یہ خصوصیت اس لئے ذکر کی گئی کہ دنیا کی آگ جب انسان کے بدن کو لگتی ہے تو اس کے دل تک پہنچنے سے پہلے ہی موت واقع ہوجاتی ہے بخلاف جہنم کے کہ اس میں موت تو آتی نہیں تو دل تک آگ کا پہنچنا بحالت حیات ہوتا ہے اور دل کے جلنے کی اذیت اپنی زندگی میں انسان محسوس کرتا ہے۔
Read the full tafseer →یہ ان کی ذلت اور بے بسی کی تصویر ہے کہ اس آگ کے اندر وہ لمبے لمبے ستونوں کے ساتھ، بھاری بھاری زنجیروں سے، جکڑے ہوئے بھی ہوں گے کہ اپنی جگہ سے ہل نہ سکیں۔ یہاں ستونوں کا ذکر ہے، سورۂ حاقہ میں اسی طرح کے مجرموں کے لیے زنجیر کا بھی ذکر ہے۔ فرمایا ہے: خُذُوۡہُ فَغُلُّوۡہُ ۵ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوۡہُ ۵ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُہَا سَبْعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسْلُکُوۡہُ ۵ إِنَّہٗ کَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللہِ الْعَظِیْمِ ۵ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ (الحاقہ ۶۹: ۳۰-۳۴) ’’اس کو پکڑو، پھر طوق ڈالو، پھر دوزخ میں داخل کرو، پھر ایک زنجیر میں جس کا طول ستّر گز ہے، اس کو جکڑو۔ یہ خدائے عظیم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
9۔ 1 مؤصدۃ جہنم کے دروازے اور راستے بند کر دئیے جائیں گے تاکہ کوئی باہر نہ نکل سکے اور انہیں لوہے کی میخوں کے ساتھ باندھ دیا جائے گا، جو لمبے لمبے ستونوں کی طرح ہوں گی، بعض کے نزدیک عمد سے مراد بیڑیاں یا طوق ہیں اور بعض کے نزدیک ستون ہیں جن میں انہیں عذاب دیا جائے گا۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →3: اللہ بچائے، دوزخ میں آگ کے شعلے لمبے چوڑے ستونوں کی شکل میں ہوں گے، اور وہ چاروں طرف سے دوزخیوں کو اس طرح گھیر لیں گے کہ باہر نکلنے کا راستہ بند ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
التی ........................ الافئدة (7:104) ” جو دلوں تک پہنچے گی “۔ اس شخص کے دل تک ، جس سے ھمزة لمزة (1:104) کا فعل قبیع ابھرتا ہے اور جس کے اندر مزاح ، تکبر اور غرور کا مواد چھپا ہوا ہوتا ہے۔ یہ تصویر اس طرح مکمل ہوتی ہے کہ اس پھینکے ہوئے نظر انداز کیے ہوئے اور پاش پاش کردیئے گئے شخص کو جس آگ میں پھینکا گیا ہے وہ اس کے روبرو سربند کردی گئی ہے۔ کوئی اس سے نکل نہ سکے گا۔ کوئی وہاں اس کو پوچھنے کے لئے نہ آئے گا۔ اس آگ میں بھی یہ شخص ستونوں کے ساتھ بندھا ہوا ہوگا ، جس طرح مویشیوں کو باڑوں میں باندھ دیا جاتا ہے۔ اس تصویر کشی کے لئے الفاظ کا جو رنگ استعمال کیا گیا ہے وہ بہت ہی شدید اور شوخ…
Read the full tafseer →10 یعنی آگ کے شعلے لمبے لمبے ستونوں کی مانند بلند ہوں گے۔ یا یہ کہ دوزخیوں کو لمبے ستونوں سے باندھ کر خوب جکڑ دیا جائے گا کہ جلتے وقت ذرا حرکت نہ کرسکیں۔ کیونکہ ادھر ادھر حرکت کرنے سے بھی عذاب میں کچھ برائے نام تخفیف ہوسکتی تھی۔ اور بعض نے کہا کہ دوزخ کے منہ کو لمبے لمبے ستون ڈال کر اوپر سے پاٹ دیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
آیت 8{ اِنَّہَا عَلَیْہِمْ مُّؤْصَدَۃٌ۔ } ”بیشک وہ آگ ان پر بند کردی جائے گی۔“ تاکہ اس کی تمام تر حرارت ان پر اثر انداز ہو اور انہیں زیادہ سے زیادہ تکلیف پہنچے۔
Read the full tafseer →8 اس آیت کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ آگ ہی لمبے لمبے ستونوں کی طرح بلند ہوگی۔ جس میں یہ بند کیے جائیں گے۔ دوسرا یہ کہ آگ کے لمبے لمبے ستونوں کے ساتھ جکڑ کر اوپر سے منہ بند کردیا جائے گا اور تیسرا یہ کہ دوزخ کا منہ بند کرنے کے بعد اس کے اوپر لمبے لمبے ستون کھڑے کردیئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
3۔ یعنی آگ کے ایسے بڑے بڑے شعلے ہوں گے جیسے لمبے لمبے ستون، اور وہ لوگ ان میں مقید ہوں گے، (آیت) ” انھا علیھم مؤصدۃ “۔ یعنی ہر طرف سے دروازے بند کردیئے جائیں گے، دوزخیوں کے لئے کوئی راستہ نکلنے کا نہ رہے گا، ہمیشہ ہی وہیں پڑے جلتے رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
تطلع علی الافئدۃ یعنی جہنم کی یہ آگ دلوں تک پہنچ جائے گی، یوں تو ہر آگ کا یہ خاصہ ہے کہ جو بھی اس پر پڑے، اس کے سب ہی اجزاء کو جلا دتی ہے، مگر دنیوی آگ جیتے جی دل تک نہیں پہنچتی بلکہ دل تک پہنچنے سے پہلے ہی انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے بخلاف جہنم کی آگ کے کہ وہ جلاتی جلاتی دل تک پہنچ جائے گی، اس لئے کہ جہنم میں موت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →فی عمد ممدۃ . یعنی ان کو لمبے ستونوں کے اندر جکڑ دیا جائے گا۔ اِس ترجمہ پر فی عمدٍ کا تعلق موثقین محذوف سے ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ موصدۃ سے متعلق قرار دیا جائے ‘ اس وقت آگ ستونوں کے اندر ہوگی۔ عمد ‘ عمود کی جمع ہے جیسے اَدَم اور اُدُم ‘ ادیم کی جمع ہے یہ قول فراء کا ہے۔ ابو عبیدہ نے عماد کی جمع کہا ہے جیسے اھاب کی جمع اھب ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ ان کو ستونوں میں داخل کرے گا پھر ان پر ایک ستون تانا جائے گا اور ان کی گردنوں میں زنجیریں پڑی ہوں گی اور اوپر سے ایک ستون کے ذریعہ سے ان پر دروازے مسدود کردیئے جائیں گے۔ قتادہ نے کہا : ہم کو اطلاع ملی ہے کہ ان ستونوں کے ذریعہ سے دوزخ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
(4۔ 9)۔ واللہ وہ ایسی آگ میں ڈالا جائے گا جو کافروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے سلگا رکھی ہے وہ آگ سب کچھ کھا کر دل تک پہنچ جائے گی اور وہ آگ کافروں پر اس طرح بند کردی جائے گی کہ وہ لوگ اس کے ستونوں میں گھرے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(انھا علیھم موصدۃ…”اوصد یوصد ابصادا“ (افعال)”الباب“ دروازہ بند کردینا۔”موصدۃ“ اسم مفعول ہے، بند کی ہوئی۔ ”عمد“”عمود“ کی جمع ہے، یعنی انہیں جہنم میں لمبے لمبے ستونوں کیساتھ باندھ کر چ اورں طرف سے بند کردیا جائے گا، حتیٰ کہ کوئی کوئی دروازہ یا کھڑکی بلکہ کوئی شگاف یا درز بھی باقی نہیں چھوڑی جائے گی۔ (اعادنا اللہ منھا) دوسرا معنی یہ ہے کہ اس آگ کے شعلے لمبے لمبے ستونوں کی شکل میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →فی عمد ممددۃ۔ میں فی باء کے معنی میں ہے یعنی اسے لمبے لمبے ستونوں کے ساتھ جکڑ دیا گیا ہے، یہ حضرت ابن مسعود کا قول ہے۔ آپ کی قرات میں بعمد ممدۃ ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں نبی کریم سے مروی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر فرشتے بھیجے گا جن کے ساتھ آگ کے کواڑ، آگ کے کیل اور آگ کے ہی ستون ہوں گے وہ ان پر ان کو اڑوں کو بند کردیں گے، ان پر کیل لگا دیں گے اور ان ستونوں کے ساتھ انہیں باندھ دیا جائے گا کوئی سوراخ باقی نہیں رہے گا جس میں سے راحت داخل ہوسکے اور غم خارج ہوسکے اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر انہیں بھول جائے گا جنتی نعمتوں سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے جہنمی اس کے بعد کبھی بھی مدد طلب نہ کرسکیں گے، گفتگو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ یہ آیت ویل لکل ہمزۃ لمزۃ عیب چیں اور چغلخوروں کے لیے ہلاکت ہے۔ اصحاب محمد ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا نہ ہم اس کے بارے میں فکر مند ہیں اور نہ قرآن مجید کی دس سورتوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔ 3۔ عثمان بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم برابر سنتے رہے کہ آیت ویل لکل ہمزہ کسی کے لیے رکاوٹ نہیں ہے بلکہ یہ جمیل بن عامر کے بارے میں نازل ہوئی۔ رقاشی کا یہ خیال ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزہ اخنس بن شریق کے بارے میں…
Read the full tafseer →[ فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ : دراز کیے ہوئے ستونوں میں ] (آیت۔ 9) فِیْ عَمَدٍ متعلق خبر ہے اِنَّھَا کی اور مُمَدَّدَۃٍ صف ہے عَمَدٍ ، جو جمع مکسر ہے۔ اس لیے اس کی صفت واحد مؤنث آئی ہے۔
Read the full tafseer →معالم التنزیل میں حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا یہ مطلب نقل کیا ہے کہ ان لوگوں کو ستونوں کے اندر داخل کردیا جائے گا یعنی ستونوں کے ذریعہ دوزخ کے دروازے بند کردیئے جائیں گے اور تفسیر قرطبی میں حضرت ابن عباس ؓ سے یوں نقل کیا ہے کہ ﴿عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ (رح) 009﴾ سے مراد وہ طوق ہیں جو دوزخیوں کے گلے میں ڈال دیئے جائیں گے اور بعض اکابر نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ دوزخی آگ کے بڑے بڑے شعلوں میں ہوں گے جو ستونوں کی طرح ہوں گے اور وہ لوگ اس میں مقید ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
طعن وتشنیع وعیب جوئی وحب مال موجب ہلاکت و باعث نار جہنم ہے : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل لکل ھمزۃ لمزۃ ....... الی ..... فی عمدممددۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورة والعصر میں انسان کو اسے ایسے اصول کی ہدایت فرمائی گئی جن کے ذریعہ وہ اپنی زندگی کو ضائع ہونے سے بچا سکے اور انسانی حیات جس فوز و فلاح کے لئے عطا کی گئی اس کو حاصل کرنے خسران و محرومی سے محفوظ رہے، اب اس سورت میں ان بعض ناپاک اور بیہودہ خصلتوں کا بیان ہے جن سے انسان اپنی انسانیت ہی کو برباد کر ڈالتا ہے وہ طعن وتشنیع جیسی مذموم خصلتوں، لوگوں میں عیب تلاش کرنا، ان پر طنز کرنا ان کی تحقیر وتذلیل کے در پے ہوجانا ہے ان مذموم خصلتوں کا حامل انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
5:۔ ” نار اللہ “ آؤ میں تمہیں بتاؤ وہ اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو جلاتے جلاتے ان کے دلوں تک پہنچ جائیگی۔ انھا علیہم مؤصدۃ۔ ای مطبقۃ۔ ان کو لمبے لمبے ستونوں کے اندر گھیر کر اوپر سے آگ کو بند کردیا جائیگا تاکہ اس کی حرارت تیز رہے اور ضائع نہ ہو یا عمد سے وہ میخیں مراد ہیں جو ان تختوں میں لگائی جائیں گی۔ جن سے جہنم کا منہ بند کیا جائے گا۔ قال القشیری والمعظم علی ان العمد اوتاد الاطباق التی تطبق علی اھل النار۔ و تشد تلک الاطباق بالاوتاد حتی یرجع علیہم غمہا وحرھا، فلا یدخل علیہم (روح، قرطبی ج 20 ص 186) ۔ اللہم اجرنا منہا یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الھمزۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں ہمزہ کا لفظ آیا ہے اور اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ، اس کی نو آیات ہیں۔ یہ سورة تینتیس الفاظ اور چھیانوے حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ اور آئندہ سورتوں کا خلاصہ اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی کامیابی کے چار اصول بیان فرمائے تھے۔ اس سورة میں افراد اور جماعت کی اس بیماری کا تذکرہ فرمایا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے صحیح پروگرام پر عمل نہیں کرتے یہ زرپرستی یا سرکایہ داری کی بیماری ہے اللہ تعالیٰ نے یہ سورة اسی کے رد میں نازل فرمائی ہے۔ اس سے اگلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے ملوکیت اور…
Read the full tafseer →فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ 9 ۧ عمد العَمْدُ : قصد الشیء والاستناد إليه، والعِمَادُ : ما يُعْتَمَدُ. قال تعالی: إِرَمَ ذاتِ الْعِمادِ [ الفجر/ 7] ، أي : الذي کانوا يَعْتَمِدُونَهُ ، يقال : عَمَّدْتُ الشیء : إذا أسندته، وعَمَّدْتُ الحائِطَ مثلُهُ. والعَمُودُ : خشب تَعْتَمِدُ عليه الخیمة، وجمعه : عُمُدٌ وعَمَدٌ. قال : فِي عَمَدٍ مُمَدَّدَةٍ [ الهمزة/ 9] وقرئ : فِي عَمَدٍ ، وقال : بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ، وکذلک ما يأخذه الإنسان بيده مُعْتَمِداً عليه من حدید أو خشب . ( ع م د ) العمد کے معنی کسی چیز کا قصد کرنے اور اس پر ٹیک لگانا کے ہیں اور العماد وہ چیز ہے جس پر ٹیک لگائی جائے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ترکیب ¦ ویل مبتدء وجاز الابتداء بالنکرۃ لکونہ علیھم لکل ھمزۃ لمزۃ۔ خبرہ۔ قرء الجمھور بضم اولھما وفتح المیم وقریٔ بسکون المیم فیھا واصل الھمز الکسر والضرب وکذاللمزیقال ھمزہ یھمزہ ہمزاً ولمزہ یلمز لمزًا۔ قال الرازی الھمزۃ قال تعالیٰ ھمازمشاء واللمزہ الطعن ولا تلمزوا انفسکم والمراد الکسر من اعراض الناس والغض منھم والطعن فیھم۔ ھمزۃ لمزۃ علی وزن فعلۃ وبناء فعلۃٍ لمبالغۃ الفاعل کا لضحکۃ واللغۃ ای کثیر الضحک وکثیر اللعن۔ واذا اسکنت العین یکون لمبالغۃ المفعول یقال رجل لغۃٌ بسکون العین اذاکان ملعونا للناس یکثرون اللعن علیہ۔ الذی الخ بدل من کل اوفی محل نصب علی الذم اوتعلیل لماقبلہ عددہ قرء الجمھور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
اِنَّھَا عَلَیْہِمْ مُّؤْصَدَۃٌ۔ فِیْ عَمَدٍمُّمَدَّدَۃٍ ۔ (الہمزۃ : 8، 9) (بیشک وہ آگ ان پر بند کردی جائے گی۔ اس حالت میں کہ وہ اونچے اونچے ستونوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ ) مجرموں کی بےبسی گزشتہ آیات سے ایک تو آگ کی شدت اور اس کی ہولناکی سے دل سہم سہم جاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مجرموں کی بےبسی بھی دید کے قابل ہوگی کہ انھیں اس وادی میں پھینک کر اوپر سے اس وادی کو ڈھانک کر بند کردیا جائے گا تاکہ اس کی تپش اندر سے باہر نکلنے نہ پائے۔ اور مزید ان کی بےبسی کا حال یہ ہوگا کہ وہ لمبے لمبے ستونوں اور بڑی بڑی زنجیروں میں بندھے ہوئے ہوں گے۔ اور حضرت ابن عباس ( رض) کہتے ہیں کہ آگ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
فہم القرآن ربط سورت : العصر میں انسان کے نقصان اٹھانے کی بات ہوئی یہاں بتلایا ہے کہ جو لوگ آخرت میں نقصان اٹھائیں گے وہ یہ ہوں گے جو آخرت کی فکر کرنے کی بجائے دنیا کا مال گن گن کر رکھتے تھے اور اس کا حق ادا نہیں کرتے تھے۔ ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کی عیب جوئی کرتا اور ان کی پیٹھ پیچھے ان کی غیبت کرتا ہے۔ ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ الگ الگ معنٰی رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے کچھ مفسرین نے دونوں کا ایک ہی مفہوم بیان کیا ہے۔ بنیادی طور پر ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ میں ایک لطیف فرق ہے۔” ھُمَزَۃٍ “ کا معنٰی عیب جوئی اور طعن زنی کرنا ہے۔”…
Read the full tafseer →9 : فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ (بڑے لمبے لمبے ستونوں میں ) قراءت : حفص کے علاوہ بقیہ کوفی قراء نے عُمُد پڑھا اور باقی تمام قراء نے عَمَدٍ یہ دو جمع کی لغات ہیں۔ عِمَاد جیسے اِھَابٍ اور اُھُبٌ حِمَارٍ اور حُمُرٌ مُّمَدَّدَۃٍ ان پر دروازے بند کردیئے جائیں گے اور دروازوں پر ستون کھینچ دیئے جائیں گے۔ مضبوط بند کرنے کیلئے حدیث میں وارد ہے : مومن سمجھدار اور ذہین، ثابت قدمی اختیار کرنے والا، نہ جلد باز۔ نیک، عالم ہوتا ہے اور منافق عیب جو ‘ طعنہ زن ‘ رات کو ٹامک ٹوئیاں مارنے والے کی طرح۔ اس کو کچھ پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ کہاں سے کمائے۔ اور کس چیز میں صرف کرے۔ ] رواہ الدیلمی فی الفردوس : 6544[
Read the full tafseer →9 ۔” فی عمد ممددۃ “ حمزہ، کسائی اور ابوبکر رحمہم اللہ نے ” فی عمد “ عین اور میم کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ان دونوں کے زبر کے ساتھ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” رفع السماوات بغیر عمد ترونھا “ ہے اور یہ دونوں عود کی جمع ہیں جیسے ادیم اور آدم اور ادم۔ اس کو فراء نے کہا ہے اور ابوعبیدہ (رح) فرماتے ہیں عماد کی جمع ہے جیسے اھاب اور اھب اور اھبا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ان کو عمارتوں میں داخل کیا، پھر ان ستونوں کو لمبا کردیا گیا اور ان کی گردنوں میں بیڑیاں ہیں، ان پر اس کے دروازے بند کردیئے گئے۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں، ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ان ستونوں کے ذریعے سے دوزخ میں ان کو عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ 9۔ دنیا میں اگر آگ آدمی کے جسم میں اس طرح لگے کہ دل تک پہنچ جائے تو آدمی فوراً مرجائے کیونکہ دل پر کوئی صدمہ پہنچے تو آدمی اس کی برداشت نہیں کرسکتا دوزخ کے عذاب میں یہ ایک اور سخت تکلیف ہے کہ دوزخی شخص ناقابل برداشت عذاب متواتر جھیلے گا اور پھر بےحیا زیست جیتا رہے گا۔ اسی واسطے سبح اسم میں فرمایا کہ دوزخی لوگ نہ زندوں میں ہوں گے نہ مردوں میں تفسیر ابن منذر 1 ؎ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ میں بعض شخصوں کو چغل خوری اور لوگوں کی نقلیں لگانے کی عادت تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تنبیہ میں یہ سورة نازل فرمائی۔ دوزخ کے دروازے اس طرح بند کئے جائیں گے کہ…
Read the full tafseer →(فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ ) دروازوں کے پیچھے بڑے بڑے ستونوں میں تاکہ وہ اس سے باہر نہ نکل سکیں۔ (کلما ارادو ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا۔ السجدہ 20) جب بھی وہ اس آگ سے نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔ ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →( 9) دوزخیوں کی ذلت اور بےبسی کی تصویر کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ جکڑے ہوں گے لمبے لمبے ستونوں میں، تاکہ اس کے لیے وہاں سے ہلنے جلنے کا بھی کوئی موقع باقی نہ رہے، اور ایسا منکر اور باغی شخص وہاں پر لگاتار جلتا بھنتا رہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ان دروازوں کا ایسے کافروں پر اس طرح بند کردیا جانا اس بات کا ایک اظہار و ثبوت ہوگا کہ اب انہوں نے ہمیشہ ہمیش کے لیے اس میں رہنا ہے اس سے نکلنے کی اب کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہیں ہوگی، باقی دوزخ کے ان دروازوں کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ سو یہ غیب کے ان حقائق میں سے ہے جن کو پوری طرح سمجھنا اور جاننا ہمارے بس میں نہیں، بس ان کو ویسے ہی مانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بد کردار انسان اور دوزخ تشریح : اس سورت میں دوزخ کے ایک خاص درجے کا ذکر کیا گیا ہے جو خاص برائیاں کرنے والوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جس طرح جنت میں درجات مقرر ہیں اسی طرح دوزخ میں بھی درجات بنائے گئے ہیں۔ یعنی اعمال کے مطابق سزا جزا دی جائے گی۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو دنیا میں دوسروں کو طعنہ زنی ' عیب جوئی سے تنگ کرتے ہیں۔ یعنی دوسروں کی عزت خراب کرتے ہیں اور مال سے محبت اس قدر رکھتے ہیں کہ جہاں ضرورت ہو وہاں بھی خرچ نہیں کرتے انتہائی بخیل اور تنـگ نظر لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی ہر وقت اسی چکر میں رہتے ہیں کہ کیسے مال بڑھتا رہے کم نہ ہو۔ مثل مشہور ہے کہ 99 کے چکر میں ہی رہتے ہیں کہ بس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة الھمزہ۔ آیات 1 تا 9۔ اسرار ومعارف۔ بہت بڑی خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اسلام پر عمل کرنے کی بجائے طعنہ زنی اختیار کی اور اعتراضا تراشتے رہے بات صرف یہ تھی کہ وہ دولت دنیا سمیٹنا چاہتے تھے حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر مال بڑھاتے رہے اور گن گن کر خوش ہوتے رہے کہ شاید ہمیشہ ان کے پاس رہے گا ایسا ہرگز نہ ہوگا یہاں سے سب چھوڑ کر جانا ہے اور آخرت میں روندنے والی جہنم میں پھینکے جائیں گے جو جہنم کا وہ حصہ ہے جس کی آگ اتنی سخٹ ہے کہ کہیں بدن کو چھوجائے تو شعلہ دل میں جابھڑکتا ہے اور ایسے لوگوں کونہ صرف ان میں ڈالا جائے گا بلکہ یہ اس کے بڑے بڑے ستونوں میں گھرے ہوں گے اور اوپر سے بند…
Read the full tafseer →ف 8 یا یہ مطلب ہے کہ ” آگ کے شعلے لمبے لمبے ستونوں کی طرح بلند ہوں گے۔
Read the full tafseer →(104:9) فی عمد ممددۃ : لمبے ستونوں کے اندر۔ اس کا تعلق مؤصدۃ سے ہے۔ عمد : عمود کی جمع ہے بمعنی ستون۔ یعنی اس آگ کے شعلے لمبے لمبے ستونوں کی صورت میں بلند ہوں گے نہ وہ بجھیں گے اور نہ ان دوزخیوں کے دردو الم میں تخفیف ہوگی۔ ممددۃ اسم مفعول واحد مؤنث تمدید (تفعیل) مصدر لانبے کئے گئے۔ لانبے لانبے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
لغات القرآن۔ ویل۔ خرابی۔ بربادی۔ ھمزۃ۔ طعنے دینے والا۔ لمزۃ۔ عیب تلاش کرنے والا۔ عدد۔ اس نے گنا۔ اخلد۔ ہمیشہ رہے گا۔ لینبذن۔ البتہ ضرور پھینکا جائے گا۔ الموقدۃ۔ بھڑکائی گئی۔ تطلع۔ جا پہنچے گی۔ عمد۔ ستون۔ ممددۃ۔ لمبے لمبے۔ تشریح : دین اسلام میں حلال اور جائز طریقے سے مال و دولت حاصل کرنے، سرمایہ رکھنے اور سرمایہ دار کہلانے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ اگر مال و دولت اللہ کی رضا و خوشنودی اور اس کے بندوں کی خدمت اور مدد کے لئے ہو تو یہ ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ البتہ دین اسلام نے اس سرمایہ پرستی کو حرام قرار دیا ہے جس کا مقصد صرف ذاتی آرام و سکون اور دوسروں کو ستانا اور بداخلاقیوں کو عام کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(ف 5) یاد رہے یہ آگ بندوں کی نہیں اللہ کی سلگائی ہوئی ہے اس کی کیفیت کچھ نہ پوچھ بڑی سمجھدار ہے دلوں کو جھانک لیتی ہیے جس دل میں ایمان نہ ہوجلائے جس میں کفر ہو جلاڈالے اس کی سوزش بدن کو لگتے ہیں فورا دلوں تک نفوذ کرجائے گی بلکہ ایک طرح دل سے شروع ہوکر جسموں میں سرایت کرجائے گی اور باوجودیکہ قلوب وارواح جسموں کی طرح جلیں گے اس پر بھی مجرم مرنے نہ پائیں گے دوزخی تمنا کرے گا کہ کاش موت آکر اس عذاب کا خاتمہ کردے لیکن یہ آرزو پوری نہ ہوگی، آگے فرمایا کہ کفار کو دوزخ میں ڈال کر دروازے بند کردیے جائیں گے کوئی راستہ نکلنے کانہ رہے گا، ہمیشہ اسی میں پڑے جلتے رہیں گے اور دوزخیوں کو لمبے لمبے ستونوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
[1] حُطمہ نکلا ہے حطم سے جس کے معنی توڑنے اور ٹکڑے ٹکڑے کردینے کے ہیں۔ یہاں حطمہ سے مراد دوزخ ہے کہ جو چیز بھی اس میں پھینکی جائے گی اسے وہ اپنی گہرائی اور آگ کی وجہ سے توڑ پھوڑ کر رکھ دے گی۔
Read the full tafseer →ف 1: دنیا میں یہ لوگ اپنے آپ کو معزز سمجھے ہوئے ہیں ۔ مگر ان کا ٹھکانا ایسی جگہ ہے جو ان کے نشہ وذلت اور غرور کو توڑ کررہے گی اور جانتے ہو کہ یہ غرور اور تبختر کو توڑ دینے والی چیز کون ہے ۔ یہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے ۔ جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جائے گی ۔ یہ آگ لمبے لمبے شعلوں میں گھرے ہوں گے اور یوں معلوم ہوں گے کہ گویا طویل ستونون میں کھڑے ہیں ۔
Read the full tafseer →(9) ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ بڑے بڑے ستونوں میں بندھے ہوئے ہوں گے۔ یعنی یا تو آگ کے شعلے اس قدر بلند ہوں گے جیسے لمبے لمبے ستون ان ستونوں میں گھرے ہوئے ہوں گے یا یہ مطلب ہے کہ دوزخ پر سر پوش رکھ کر اس پر آگے کے لمبے لمبے ستون ڈال دیئے جائیں گے تاکہ سر پوشی نہ کھل سکے یا یہ مطلب ہے کہ آگ کے ستونوں سے باندھے جائیں گے اور جکڑدیئے جائیں گے تاکہ کوئی حرکت نہ کرسکیں اور ہلنے جلنے میں جو تخفیف حاصل ہوتی ہے وہ نہ ہو یا یہ معنی ہوں کہ دوزخ کے دروازے بند کر کیا ن میں لمبے لمبے ستون اڑا دیئے جائیں گے تاکہ کوڑا نہ کھل سکیں۔ بہرحال عذاب کی غلظت شدت اور دوام ہے۔ اعاذنا اللہ منھا ومن شرھا من حرھا۔ تم تفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 5۔ یعنی آگ کے اتنے بڑے بڑے شعلے ہوں گے اور وہ لوگ اس آگ میں مقید ہوں گے۔
Read the full tafseer →وہ لوگ اس آگ میں لمبے لمبے ستونوں میں بندھے ہوئے ہوں گے 9 ؎ (عمد) ستون ، عمود اور عماد کی جمع ہے۔ ( ممددۃ) اسم مفعول واحد مؤنث ۔ تمدید مصدر باب تفعیل ۔ لمبے کیے گئے ۔ اس کا اصل مادہ م د د ہے اور مد یمد کے معنی کھینچنے اور لمبا کرنے کے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ دوزخ کی آگ کے شعلے بہت لمبے لمبے ہوں گے جو اپنی لپیٹ میں دھاڑ کرلینے کے لیے تیار ہوں گے اور لمبے لمبے ستونوں کی طرح بلند ہوں گے جو نہ تو بجھیں گے اور نہ ہی ان کے درد و الم میں کوئی تخفیف ہوگی پھر اس طرح ان کی سزا کٹے گی اور جوں جوں ان کی سزا کٹتی جائے گی دوزخ سے ان کو نکال لیا جائے گا اور اس میں وہی بد بخت رہ جائیں گے جو ابدی عذاب میں جلنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
Verse [ 104:7] تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ (that will peep into the hearts). In other words, the fire of Hell will reach their hearts. The basic property of fire is to burn every particle of the things that fall into it. When people are put into the Hell-fire, it will devour every limb and organ of the body until it reaches their heart, but the person will not die. This characteristic of the Hell-fire is especially highlighted in the verse because the fire of this world kills the person even before reaching the heart. The fire of the Hell, on the other hand, will reach the heart in the…
Read the full tafseer →9 Fi amad-im-mumaddahah can have several meanings (1) That the gates of Hell will be closed and tall columns will be erected on them; (2) that the culprits will be tied to the tall columns; (3) according to Ibn `Abbas, the flames of the fire shall be rising high like tall columns.
Read the full tafseer →