104. Surah Al-Humaza

الهمزةThe Traducer · 9 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 104:1

وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۙ Open ayah 104:1 in the Quran reader

ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے

ویل لکل ھمزۃ لمزۃ . عیب چیں ‘ چغل خوروں کے لیے ویل ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ہمزہ اور لمزہ دونوں ہم معنی ہیں ‘ دونوں کا معنی ہے عیب چیں ‘ خوردہ گیر۔ یہ وہ لوگ ہیں جو چغلیاں کھاتے پھرتے ہیں ‘ دوستوں میں پھوٹ پیدا کرا دیتے ہیں اور بےداغ لوگوں کے عیب کے طلبگار رہتے ہیں۔ مقاتل نے کہا : ھُمَزَہ : رُو در رو عیب لگانے والا اور لُمَزَہ پس پشت عیب بیان کرنے والا۔ ابو العالیہ اور حسن بصری (رح) نے اس کے برعکس کہا ہے۔ سعید بن جبیر (رح) اور قتادہ (رح) نے کہا : ہمزہ غیبت کرنے والا ‘ آدمیوں کا گوشت کھانے والا اور لمزہ لوگوں پر طنز کرنے والا ‘ نکتہ چیں۔ ابن زید نے کہا : ہمزہ وہ شخص جو ہاتھوں کے اشارہ سے لوگوں کو مطعون کرے اور دکھ پہنچائے اور لمزہ وہ شخص جو زبان سے نکتہ چینی کرے اور عیب بیان کرے۔ سفیان ثوری نے کہا : ہمزہ زبان سے عیوب بیان کرنے والا اور لمزہ آنکھ کے اشارہ سے عیب بیان کرنے والا۔ ابن کیسان نے کہا : ہمزہ وہ شخص جو اپنے ہم نشین کو اپنے الفاظ سے دکھ پہنچاتا ہے اور لمزہ وہ شخص جو آنکھ یا سر یا ابرو کے اشارہ سے (کسی کے عیب) ظاہر کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں اصل لغت میں ہمزہ کا معنی ہے توڑنا اور چبھونا۔ حدیث میں ہے : اللھم انی اعوذبک من ھمزات الشیاطین۔ الٰہی میں شیطانی کچوکوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور لمزہ کا معنی ہے طعنہ زنی پھر استعمال میں دونوں کا معنی ہوگیا ‘ ایسا ذکر جس سے لوگوں کی آبرو کی شکست ہو اور ان پر طنز کیا جائے۔ ھمزہ ‘ لمزہ کا وزن (فُعْلَۃٌ) خوگر بن جانے پر دلالت کر رہا ہے۔ ضحکۃ شجرۃٌ لعھۃٌ ھمزۃٌ لمزۃٌ۔ اسی شخص کو کہتے ہیں جو ان افعال کا خوگر اور عادی بن گیا ہو۔ حضرت عثمان ؓ اور ابن عمر ؓ نے کہا : ہم برابر سنا کرتے تھے کہ ویل لکل ھمزۃ لمزۃ کا نزول ابی بن خلف کے بارے میں ہوا تھا۔ (ابن ابی حاتم) سدی نے بیان کیا کہ اخنس بن شریق بن وہب ثقفی کے حق میں اس آیت کا نزول ہوا۔ ابن جریر نے رقہ کے باشندوں میں سے ایک شخص کے حوالہ سے بیان کیا کہ جمیل بن عامر کے حق میں اس کا نزول ہوا۔ ابن المنذر نے ابن اسحاق کے حوالہ سے بیان کیا کہ امیہ بن خلف عجمی نے رسول اللہ ﷺ کو عیب چینی اور طنز کے ساتھ دیکھا تھا ‘ اس کے بارے میں یہ پوری سورت اللہ نے اتاری۔ مقاتل نے کہا کہ ولید بن مغیرہ رسول اللہ ﷺ کی غیبت آپ ﷺ کے پیچھے کرتا تھا اور رو در رو طنز کرتا تھا۔ اس کے متعلق اسی سورت کا نزول ہوا۔ اگر آیت کا نزول کسی خاص شخص کے حق میں بھی ہو ‘ تب بھی حکم میں عموم رہیگا ‘ جو شخص مذکورہ کا حامل ہو ‘ اً سکے لیے یہی حکم ہے۔
Ayah 104:2

اِ۟لَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ Open ayah 104:2 in the Quran reader

جو مال جمع کرتا اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے

الذی جمع مالا وعددہ . جس نے مال جوڑا اور گن گن کر رکھ چھوڑا یا آئندہ مصائب کو دور کرنے کیلئے ذخیرہ بنا رکھا۔
Ayah 104:3

یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗۚ Open ayah 104:3 in the Quran reader

(اور) خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کی ہمیشہ کی زندگی کا موجب ہو گا

یحسب ان مالہ اخلدہ . وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال دنیا میں اس کو ہمیشہ رکھے گا۔ وہ دولت مند ہونے کی وجہ سے کبھی نہیں مرے گا۔ گویا اس کا یہ خیال ہے کہ نادار بھوک سے مرجائے گا اور مالدار کبھی نہیں مرے گا۔ اس کلام کا حقیقی مفہوم مراد نہیں ہے کیونکہ کسی مالدار کا بھی یہ خیال نہیں ہوتا کہ وہ کبھی نہیں مرے گا بلکہ بطور کنایہ اس شخص کی مال سے محبت طولانی امید اور موت سے غافل رہنے کا اظہار کیا گیا ہے ‘ یا یہ کلام بطور تعریض ہے کہ حقیقت میں دوامی زندگی عطا کرنے والا تو ایمان اور عمل صالح ہے ‘ مال سے دوامی زندگی حاصل نہیں ہوگی۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چوکور لکیر کھینچی اور مربع خط کے درمیان باہر کو نکلتی ہوئی ایک لکیر اور کھینچی اور اس وسطی لکیر کی جانب دونوں طرف سے آتی ہوئی چھوٹی چھوٹی لکیریں متعدد بنا دیں اور فرمایا : یہ (وسطی لکیر) انسان ہے اور باہر کو نکلا ہوا حصہ انسان کی آرزو ہے اور یہ چھوٹی لکیریں انسانی اغراض ہیں۔ اب اگر ایک (طرف والی) لکیر سے بچ جاتا ہے تو دوسری طرف والی لکیر اس کو نوچتی ہے اور اس سے بچ جاتا ہے تو یہ نوچتی ہے۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چند خطوط کھینچے اور فرمایا : یہ آرزو ہے اور یہ انسان کی موت ہے۔ آدمی اسی حالت میں ہوتا ہے کہ اچانک قریب والا خط (یعنی خط موت) اس پر آ پہنچتا ہے۔ (رواہ البخاری)
Ayah 104:4

كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِ٘ۖ Open ayah 104:4 in the Quran reader

ہر گز نہیں وہ ضرور حطمہ میں ڈالا جائے گا

کلا . امور شنیعہ مذکورہ یعنی خوردہ گیری ‘ غیبت ‘ مال کی محبت اور طول آرزو سے یہ بازداشت ہے (مطلب یہ ہے کہ اس کو ایسا ہرگز نہ کرنا چاہیے) ۔ لینبذن فی الحطمۃ . یہ قسم محذوف کا جواب ہے اور یہ بھی درست ہے کہ کلا بمعنی حقًّا ہو (یعنی بازداشت کے لیے نہ ہو) اور معنئ قسم کے لیے مفید ہو ‘ اس وقت جملہ مذکورہ کا جواب ہوگا : حطمۃ ‘ جھنم کا نام ہے۔ ( حطمٌ توڑ دینا ‘ شکستہ کردینا) جہنم کے اندر جو چیز ڈالی جائے گی ‘ جہنم کی آگ اً س کو توڑ مروڑ دے گی۔ اسی وجہ سے اس کا نام حطمہ ہوا ‘ یعنی اس کو حطمہ کے اندر ضرور پھینکا جائے گا۔
Ayah 104:5

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ Open ayah 104:5 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے حطمہ کیا ہے؟

وما ادراک ما الحطمۃ . جہنم کی ہولناکی ظاہر کرنا مقصود ہے۔ استفہام سوالیہ نہیں ہے۔ پورا جملہ معترضہ جہنم کی عظمت شان کو بتانے کے لیے ذکر کیا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ تم جہنم کی شدت کو نہیں جانتے ‘ اس کی شدت ناقابل تصور ہے۔ اس ابہام کے بعد آئندہ خود ہی توضیح فرما دی۔
Ayah 104:6

نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ Open ayah 104:6 in the Quran reader

وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے

نار اللہ . وہ اللہ کی آگ ہے ‘ اللہ کی طرف نار کی نسبت نار کی عظمت کو ظاہر کر رہی ہے کیونکہ ا سے اللہ کے قہر کا ظہور ہوتا ہے۔ نعوذ باللہ منہا۔ اللہ کی تمام صفات خواہ جلالی ہوں یا جمالی۔ کمال کی اس چوٹ پر پہنچی ہوئی ہیں کہ نہ اس کا اندازہ دماغ کو ہوسکتا ہے ‘ نہ اس سے زیادہ کا تصور ممکن ہے۔ الموقدۃ . یہ آگ کی صفت ہے ‘ یعنی وہ آگ بھڑکائی گئی ہے (فاعل مذکور نہیں کیونکہ اگر فاعل متعین ہو اور فعل ایک ہی فاعل سے مخصوص ہو تو فاعل کو مبہم رکھنا اور ذکر نہ کرنا فعل کی عظمت پر دلالت کرتا ہے) مطلب یہ ہے کہ سوائے خدا کے اس کو بھڑکانے والا کوئی دوسرا نہیں اور خدا کی لگائی ہوئی آگ کو کوئی بجھا نہیں سکتا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہزار برس تک آگ بھڑکائی گئی ‘ یہاں تک کہ سرخ ہوگئی پھر ہزار برس تک بھڑکانے کے بعد سفید ہوگئی پھر ہزار برس تک بھڑکائی تو سیاہ ہوگئی ‘ اب وہ سیاہ تاریک ہے۔ (ترمذی)
Ayah 104:7

الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْئِدَةِؕ Open ayah 104:7 in the Quran reader

جو دلوں پر جا لپٹے گی

التی تطلع علی الافئدۃ . یعنی وہ آگ دلوں تک پہنچے گی۔ اطلاع اور بلوغ (پہنچنا) ہم معنی ہیں۔ عرب کا محاورہ ہے : اِطَّلَعْتَ اَرْضَنَا تو ہماری زمین تک پہنچ گیا۔ ابن مبارک نے اپنی سند سے خالد بن عمران کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آگ دوزخ والوں کو کھالے گی یہاں تک کہ جب دل تک پہنچ جائے گی تو رک جائے گی پھر وہ آدمی دوبارہ ویسا ہی ہوجائے گا جیسا پہلے تھا۔ پھر آگ اس کو لے گی اور دل تک پہنچے گی۔ یہی حالت اس کی ہوتی رہے گی۔ نار اللہ الموقدۃ التی تطلع علی الافئدۃ کا یہی مطلب ہے۔ قرطبی اور کلبی کا بھی یہی قول ہے۔ میں کہتا ہوں ‘ دل کا اس جگہ تذکرہ (چند وجوہ کے تحت کیا گیا ہے): 1) اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ عذاب کا دوام معلوم ہوجائے کیونکہ دنیوی آگ جس کسی کو جلاتی ہے تو دل تک پہنچنے سے پہلے ہی ہلاک کردیتی ہے۔ بخلاف آتش جہنم کے (کہ وہ دل تک پہنچنے کے بعد بھی ہلاک نہیں کرے گی اور سوزش کا عذاب ہمیشہ ہوتا رہے گا) ۔ 2) یا دل کو ذکر کرنے کی یہ وجہ ہے کہ سارے بدن میں دل سب سے زیادہ لطیف اور الم پذیر ہے۔ 3) یا یہ وجہ ہے کہ غلط عقائد کا محل اور برے اعمال کا سرچشمہ قلب ہی ہے گویا یہی آتش جہنم کی پیدائش گاہ ہے۔
Ayah 104:8

اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ Open ayah 104:8 in the Quran reader

(اور) وہ اس میں بند کر دیئے جائیں گے

انھا علیھم موصدۃ . علیھم کا تعلق مؤصدۃٌ سے ہے اور جمع غائب کی ضمیر اس لیے ذکر کی کہ لفظ کل معنوی حیثیت سے جمع ہے۔ یہ پورا جملہ مستانفہ ہے ‘ سوال ہوسکتا تھا کہ دوزخی ‘ دوزخ سے کیوں نہیں نکلیں گے اور کیوں نہ بھاگ سکیں گے۔ اِس سوال کے جواب میں فرمایا : دوزخ (اوپر سے) بند ہوگی۔ موصدۃٌ کا ترجمہ مطبقہ ہے۔ ابن مردویہ ؓ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی مرفوع روایت اس طرح نقل کی ہے۔ اوصدت الباب : میں نے دروازہ بند کردیا۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جب دوزخ کے اندر صرف دوامی دوزخی رہ جائیں گے تو ان کو لوہے کے صندقوں میں بند کردیا جائے گا اور صندوقوں میں لوہے کی کیلیں ٹھونک دی جائیں گی۔ پھر ان صندوقوں کو دوسرے آہنی صندوقوں میں بند کر کے جحیم کی تہ میں پھینک دیا جائے گا اور کوئی دوسرے کے عذاب کو نہ دیکھ سکے گا۔ ابو نعیم اور بیہقی نے حضرت سوید بن غفلہ کی روایت سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے۔
Ayah 104:9

فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۠ Open ayah 104:9 in the Quran reader

(یعنی آگ کے) لمبے لمبے ستونوں میں

فی عمد ممدۃ . یعنی ان کو لمبے ستونوں کے اندر جکڑ دیا جائے گا۔ اِس ترجمہ پر فی عمدٍ کا تعلق موثقین محذوف سے ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ موصدۃ سے متعلق قرار دیا جائے ‘ اس وقت آگ ستونوں کے اندر ہوگی۔ عمد ‘ عمود کی جمع ہے جیسے اَدَم اور اُدُم ‘ ادیم کی جمع ہے یہ قول فراء کا ہے۔ ابو عبیدہ نے عماد کی جمع کہا ہے جیسے اھاب کی جمع اھب ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ ان کو ستونوں میں داخل کرے گا پھر ان پر ایک ستون تانا جائے گا اور ان کی گردنوں میں زنجیریں پڑی ہوں گی اور اوپر سے ایک ستون کے ذریعہ سے ان پر دروازے مسدود کردیئے جائیں گے۔ قتادہ نے کہا : ہم کو اطلاع ملی ہے کہ ان ستونوں کے ذریعہ سے دوزخ میں ان کو عذاب دیا جائے گا۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ عمد ان کو اڑوں کی کیلیں ہوں گی جو دوزخیوں کو اندر کر کے بند کردیئے جائیں گے۔ مقاتل نے کہا : دوزخیوں کو اندر کر کے ان پر دروازے بند کردیئے جائیں گے۔ پھر ان میں آگ کی آہنی کیلیں ٹھونک دی جائیں گی۔ دروازہ مضبوط کردیا جائے گا اور کوئی ان کے پاس داخل نہ ہو سکے گا۔ ممد وہ لمبے اس لمبائی کی وجہ سے زیادہ جمے ہوئے ہوں گے ‘ واللہ اعلم۔ الحمد للہ سورة الہمزۃ ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ