Ayah 104:1اوپر سورة الہمزہ کا ترجمہ لکھا گیا ہے، اس میں ھُمَزَة اور لُمَزَة کی ہلاکت بتائی ہے یہ دونوں فُعَلَةٌ کے وزن پر ہیں۔ پہلے لفظ کے حروف اصلی ھ م ز، اور دوسرے کلمہ کے حروف اصلی ل، م، ز ہیں۔ یہ دونوں کلمے عیب نکالنے اور عیب دار بتانے پر دلالت کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ بھی وارد ہوئے ہیں اور سورة القلم میں ہے : ﴿وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍۙ0010 هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِيْمٍۙ0011﴾ اور سورة توبہ میں فرمایا ﴿وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ ﴾ اور سورة الحجرات میں فرمایا ﴿وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ ﴾
حضرات مفسرین کرام نے دونوں کلموں کی تحقیق میں بہت کچھ لکھا ہے۔ خلاصہ سب کا یہی ہے کہ دونوں کلمے عیب لگانے، غیبت کرنے، طعن کرنے، آگے پیچھے کسی کی برائی کرنے پر دلالت کرتے ہیں۔ زبان سے برائی بیان کرنا یا ہاتھوں سے یا سر سے یا بھوؤں کے اشارہ سے کسی کو برا بتانا ہنسی اڑانا مجموعی حیثیت سے یہ دونوں کلمے ان چیزوں پر دلالت کرتے ہیں۔ (راجع تفسیر القرطبی صفحہ 181، صفحہ 184 ج 10)
مفسرین نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے یہ آیات اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئیں یہ لوگوں پر طعن کرتا تھا، ابن جریج (رح) کا قول ہے کہ ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں، جو غیر موجودگی میں رسول اللہ ﷺ کی غیبت کرتا تھا اور سامنے بھی آپ کی ذات گرامی کا عیب نکالتا تھا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ ابی بن خلف کے بارے میں اور چوتھا قول یہ ہے کہ جمیل بن عامر کے بارے میں ان کا نزول ہوا۔ سبب نزول جو بھی ہو مفہوم اس کا عام ہے، جو لوگ بھی غیبت کرنے اور عیب لگانے اور بدزبانی اور اشارہ بازی کا مشغلہ رکھتے ہیں اور وہ اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں قرآن کریم میں ان لوگوں کے لیے ویل یعنی ہلاکت بتائی ہے۔ جن لوگوں کو اپنی عمر کی قدر نہیں ہوتی وہ دوسروں کے عیب ڈھونڈنے اور عیب لگانے اور غیبت کرنے اور تہمتیں باندھنے میں اپنی زندگی برباد کرتے ہیں۔ ذکرو فکر اور عبادت میں وقت لگانے کی بجائے ان باتوں میں وقت لگاتے ہیں اور اپنی جان کو ہلاک کرتے ہیں۔ حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 411) ۔ حضرت عبدالرحمن بن غنم اور اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے سب سے اچھے بندے وہ ہیں کہ جب انہیں دیکھا جائے تو اللہ یاد آجائے اور اللہ کے بد ترین بندے وہ ہیں جو چغلی کو لیے پھرتے ہیں دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں جو لوگ برائیوں سے بری ہیں انہیں مصیبت میں ڈالنے کے طلب گار رہتے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 415)
حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں نے صفیہ کا قد بیان کرتے ہوئے یوں کہہ دیا کہ صفیہ اتنی سی ہیں (ان کا قد چھوٹا بتادیا اور وہ بھی ازواج مطہرات میں سے ہیں) آپ نے فرمایا تو نے ایسا کلمہ کہا ہے کہ اگر وہ سمندر میں ملا دیا جائے تو اسے بھی بگاڑ کے رکھ دے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 412) حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ طعنے دینے والا لعنت بکنے والا اور فحش کام میں لگنے والا مومن نہیں ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 413)
غیبت کے بارے میں مستقل مضمون سورة ٴ حجرات کے دوسرے رکوع کی تفسیر میں گزر چکا ہے اس کا مراجعہ کرلیا جائے۔
Ayahs 104:2–3﴿ا۟لَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ002﴾ دنیا سے محبت کرنے والے اسی کو سب کچھ سمجھنے والے جہاں دوسروں کی غیبت و بدگوئی اور عیب تراشی میں وقت گزارتے ہیں وہاں مال سے محبت کرنا بھی ان کا خاص مزاج ہوتا ہے، مال کی محبت کے مظاہرے کئی طرح سے ہوتے ہیں، اولاً مال کو جمع کرنا اور گن گن کر رکھنا، جسے ﴿ ا۟لَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ002﴾ میں بیان فرمایا ہے جب مال جمع کرنے کا ذہن ہوتا ہے تو نہ حلال حرام کا خیال رہتا ہے اور نہ لوگوں کے حق مارنے کو برا سمجھا جاتا ہے اور نہ مال کمانے میں فرائض اور واجبات کے ضائع کرنے سے دکھ ہوتا ہے اور نہ نیکیاں کرنے کی توفیق ہوتی ہے ثانیاً مال جمع کرنے والے مال ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں ان کا خیال ہوتا ہے کہ مال ہی سب کچھ ہے یہ ہمیں دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھے گا (موت کا یقین ہوتے ہوئے رنگ ڈھنگ ایسا ہوتا ہے جیسے مرنا نہیں ہے اور یہ مال ہمیشہ کام دیتا رہے گا) ۔
Ayah 104:4ان لوگوں کے اس مزاج کی تردید کرتے ہوئے فرمایا كَلَّا (ہرگز ایسا نہیں ہے) نہ یہ شخص ہمیشہ دنیا میں رہے گا نہ اس کا مال باقی رہے گا اور اسی پر بس نہیں کہ صرف دنیا میں جان و مال ہلاک ہوں گے بلکہ اس کے آگے بھی مصیبت ہے اور وہ یہ کہ ﴿لَيُنْۢبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِٞۖ004﴾ (اس شخص کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا) دوزخ کے لیے لفظ حطمة استعمال فرمایا ہے جو اس چیز کے لیے بولا جاتا ہے جو کوٹ پیٹ کر بھوسہ بنا کر رکھ دے۔ كما فی آیۃ اخری : ﴿يَجْعَلُهٗ حُطَامًا﴾
Ayah 104:5پھر فرمایا ﴿ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ005﴾ (اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ حطمہ کیا چیز ہے) ﴿نَار اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ006﴾ (وہ اللہ کی آگ ہے جو جلائی گئی ہے) ﴿ الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِؕ007﴾ (جو دلوں پر چڑھ جائے گی) یعنی سارے جسموں کو جلا دے گی یہاں تک کہ دلوں پر چڑھ جائے گی) دنیا میں جب دل جلنے لگے لا محالہ انسان مرجاتا ہے دوزخی لوگ جلیں گے مگر مریں گے نہیں دلوں پر بھی آگ چڑھے گی مگر موت نہ آئے گی۔ سورة النساء میں فرمایا ﴿كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَيْرَهَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ ﴾ (جب بھی ان کی کھال جل چکے گی تو ہم اس پہلی کھال کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے تاکہ عذاب ہی بھگتے رہیں) ۔ سورة اعلیٰ میں فرمایا ﴿لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَ لَا يَحْيٰى 0074﴾ (نہ اس میں مر ہی جائے گا اور نہ جیے گا) ۔
Ayahs 104:6–7فائدہ : ﴿نَار اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ006﴾ (اللہ کی آگ جو جلائی ہوئی ہوگی) اس سے یہ مفہوم ہو رہا ہے کہ دوزخ کی آگ دوزخیوں کے داخل ہونے سے پہلے ہی سے جلائی ہوئی ہوگی ایسا نہیں ہوگا جیسا دنیا میں پہلے ایندھن تیار کرتے ہیں پھر اس ایندھن میں آگ لگاتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دوزخ میں آگ کو ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی پھر ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی پھر ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی لہٰذا اب وہ سیاہ ہے اندھیری ہے۔ (رواہ الترمذی)
اعاذنا اللہ تعالیٰ من سائر انواع العذاب وھو الغفور الوھاب الرحیم التواب
Ayah 104:8پھر اس آگ کی صفت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿اِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ008 ﴾ (بیشک وہ آگ ان پر بند کی ہوئی ہوگی یعنی وہ اندر دوزخ میں ہوں گے، باہر سے دروازے بندکر دیئے گئے ہوں گے) ۔ ﴿ فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ (رح) 009﴾ (وہ ایسے ستونوں میں بند ہوں گے جو دراز یعنی لمبے لمبے بنائے ہوئے ہوں گے) ۔
Ayah 104:9معالم التنزیل میں حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا یہ مطلب نقل کیا ہے کہ ان لوگوں کو ستونوں کے اندر داخل کردیا جائے گا یعنی ستونوں کے ذریعہ دوزخ کے دروازے بند کردیئے جائیں گے اور تفسیر قرطبی میں حضرت ابن عباس ؓ سے یوں نقل کیا ہے کہ ﴿عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ (رح) 009﴾ سے مراد وہ طوق ہیں جو دوزخیوں کے گلے میں ڈال دیئے جائیں گے اور بعض اکابر نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ دوزخی آگ کے بڑے بڑے شعلوں میں ہوں گے جو ستونوں کی طرح ہوں گے اور وہ لوگ اس میں مقید ہوں گے۔