104. Surah Al-Humaza

الهمزةThe Traducer · 9 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 104:1–9

وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۙ Open ayah 104:1 in the Quran reader

ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے

اِ۟لَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ Open ayah 104:2 in the Quran reader

جو مال جمع کرتا اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے

یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗۚ Open ayah 104:3 in the Quran reader

اور خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اسکی ہمیشہ کی زندگی کا موجب ہوگا

كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِ٘ۖ Open ayah 104:4 in the Quran reader

ہر گز نہیں وہ ضرور حطمہ میں ڈالا جائے گا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ Open ayah 104:5 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ حطمہ کیا ہے ؟

نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ Open ayah 104:6 in the Quran reader

وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے

الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْئِدَةِؕ Open ayah 104:7 in the Quran reader

جو دلوں پر جا لپٹے گی

اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ Open ayah 104:8 in the Quran reader

اور وہ اس میں بند کردیئے جائیں گے

فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۠ Open ayah 104:9 in the Quran reader

یعنی آگ کے لمبے لمبے ستونوں میں

1۔ 9۔ دنیا میں اگر آگ آدمی کے جسم میں اس طرح لگے کہ دل تک پہنچ جائے تو آدمی فوراً مرجائے کیونکہ دل پر کوئی صدمہ پہنچے تو آدمی اس کی برداشت نہیں کرسکتا دوزخ کے عذاب میں یہ ایک اور سخت تکلیف ہے کہ دوزخی شخص ناقابل برداشت عذاب متواتر جھیلے گا اور پھر بےحیا زیست جیتا رہے گا۔ اسی واسطے سبح اسم میں فرمایا کہ دوزخی لوگ نہ زندوں میں ہوں گے نہ مردوں میں تفسیر ابن منذر 1 ؎ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ میں بعض شخصوں کو چغل خوری اور لوگوں کی نقلیں لگانے کی عادت تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تنبیہ میں یہ سورة نازل فرمائی۔ دوزخ کے دروازے اس طرح بند کئے جائیں گے کہ کہیں سے روشنی نظر نہ آئے گی اور تین ہزار برس کے سلگانے سے دوزخ کی آگ کا رنگ تو کالا ہے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اس واسطے دوزخ میں بالکل اندھیرا ہوگا اور آگ کے لمبے لمبے ایک طرح کے ستون کی صورت کے تابوت ہوں گے جن میں بعض دوزخیوں کو بند کرکے اوپر سے کیلیں جڑ دی جائیں گی وہی ذکر اس سورة میں ہے۔ (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 392 ج 6۔ )