103. Surah Al-Asr

العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 103:1–3

وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader

عصر کی قسم

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader

کہ انسان نقصان میں ہے

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے

1۔ 3۔ اگرچہ مفسرین سلف نے لفظ عصر کے طرح طرح کے معنی کئے ہیں لیکن مشہور قول حضر عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہی ہے کہ عصر کے معنی اس سورة میں زمانہ کے ہیں اس واسطے امام بخاری 3 ؎ نے اسی قول کو لیا ہے زمانہ کے دو جز رات دن ہیں دنیا بھر کے عجائبات قدرت میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ پیدائش میں سب انسان حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں لیکن عادت میں کوئی نیک ہے دنیا کی چند روزہ زیست میں عقبیٰ کی راحت کے اسباب مہیا کرنا ہے اور دوسروں کو بھی نیک راستہ سے لگانا ہے اور کوئی لہو و لعب میں اپنی زندلی ضائع کرتا ہے اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا ہے اور یہی بات اس سورة کے معنی کا حاصل ہے نیک خیال دل میں جمے رہنے کے لئے دو صحابہ جب آپس میں ملا کرتے تھے تو اس سورة کو پڑھا کرتے تھے حق سے مراد ایمان اور توحید اور دین کی اور حق باتیں ہیں۔ حق اور صبر پر باہمی وصتت کے معنی ادائے طاعات اور ترک ممنوعات شرعیہ پر باہمی تاکید کا رکھنا۔ اسی تاکید کی غرض سے صحابہ باہمی ملاقات کے وقت اس سورة کو پڑتا کرتے تھے کہ ایک شخص سے دوسرے کو نیک عمل پر قائم رہنے اور برے کام سے بچنے کی یاد دہی ہوجائے کیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث میں آیا ہے کہ آدمی یا تو خاموش رہے اور اگر بات کرے تو نیک بات کرے۔ حق بات پر قائم رہنے کے لئے اور ناحق بات سے بچنے کے لئے صبر و تحمل درکار ہے۔ اس لئے فرمایا : (3 ؎ صحیح بخاری۔ تفسیر سورة العصر۔ ص 541 ج 2۔ ) 4 ؎ صحیح بخاری۔ باب من کان یومن باللہ والیوم الاخر فلا یوذ جارہ ص 889 ج 2۔