105. Surah Al-Fil

الفيلThe Elephant · 5 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 105:1–5

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟

اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader

کیا ان کا داؤ غلط نہیں گیا ؟ (گیا)

وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader

اور ان پر جھلڑ کے جھلڑ جانور بیجھے

تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader

جو ان پر کھنگر کی پتھریاں پھینکتے تھے

فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader

تو ان کو ایسا کردیا جیسے کھایا ہوا بھس

1۔ 5۔ اس سورة میں جو قصہ ہے اس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیہقی مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ جب یوسف ذونو اس نے ان عیسائی مذہب کے لوگوں کو آگ میں جلا کر ہلاک کیا جن کا ذکر والسماء ذات البروج میں گزر چکا ہے تو حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے اپنے دو امیروں کو مع لشکر کے یوسف کی سرکوبی کو یمن روانہ کیا۔ ان دو امیروں میں ایک امیر ابرہہ تھا جو یوسف کو شکست دے کر آخر کو یمن کا مستقل امیر بن گیا اور اس نے یمن میں ایک گرجا بنا کر یہ چاہا کہ کعبہ کی طرح اس گرجا کی زیارت کو خلقت آیا کرے۔ جب یہ اپنے اس ارادہ میں کامیاب نہ ہوا تو جل گیا اور ایک بڑا لشکر مع چند ہاتھیوں کے اپنے ساتھ لے کر کعبہ کے ڈھانے کی نیت سے مکہ کو آیا اور اس کے حدود مکہ میں پہنچتے ہی اللہ تعالیٰ نے ایک طرح کے پرند جانور پیدا کئے۔ جن کی چونچ اور دونوں پنجوں میں ایک قسم کی کنکریاں تھیں۔ اللہ کے حکم سے ان پرند جانوروں نے وہ کنکریاں ابرہہ کے لشکر پر پھینکیں جس سے ابرہہ مع اپنے لشکر کے ہلاک ہوگیا اگرچہ اس بات میں علماء نے اختلاف کیا ہے کہ جس سال یہ قصہ پیش آیا۔ آنحضرت ﷺ کی پیدائش اسی سال کی ہے یا آپ کے پیدائش سے پہلے یہ قصہ گزرا ہے لیکن حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور سلف نے یہی امر صحیح قرار 1 ؎ دیا ہے کہ جس سال یہ قصہ پیش آیا اسی سال اس قصہ کے ایک مہینہ بیس روز کے بعد آپ کی پیدائش ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے قریش کو اپنی نعمت یاد دلائی ہے کہ یمن حبشہ کے بادشاہ کو اللہ تعالیٰ غارت نہ کرتا تو جس امن سے قریش آج بیٹھے ہیں وہ امن ان کو کہاں نصیب ہوتا۔ صحیحین کی حدیث مشہور ہے کہ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے فرمایا جس اللہ کے گھر پر ہاتھی والوں کا بس نہ چل سکا ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا تسلط اس پر کرا دیا۔ (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 549 ج 4۔ ) 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 549 ج 4۔