104. Surah Al-Humaza

الهمزةThe Traducer · 9 ayahsمعارف القرآن

Ayah 104:1

وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۙ Open ayah 104:1 in the Quran reader

خرابی ہے ہر طعنہ دینے والے عیب چننے والے کی

خلاصہ تفسیر بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کے لئے جو پس پشت عیب نکالنے الا ہو (اور) رو در رو طعنہ دینے والا ہو جو (بہت حرص کی وجہ سے) مال جمع کرتا ہو اور (اس کی محبت اور اس پر فخر کے سبب) اس کو بار بار گنتا ہو (اس کے برتاؤ سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا) وہ خیال کر رہا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا رہے گا (یعنی مال کی محبت میں ایسا انہماک رکھتا ہو جیسے وہ اس کا معتقد ہے کہ ہو خود بھی ہمیشہ زندہ رہیگا اور اس کا مال بھی ہمیشہ یوں ہی رہے گا حالانکہ یہ مال اس کے پاس) ہرگز نہیں (رہے گا، آگے اس ویل یعنی خربای کی تفصیل ہے کہ) واللہ وہ شخص ایسی آگ میں ڈالا جائے گا جس میں جو کچھ پڑے وہ اس کو توڑ پھوڑ دے، اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ وہ توڑنے پھوڑنے والی آگ کیسی ہے وہ اللہ کی آگ ہے جو (اللہ کے حکم سے) سلگائی گئی ہے (آگ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنیں اس آگ کے سخت اور ہولناک ہونے کی طرف اشارہ ہے اور وہ ایسی ہے) جو (بدن کو لگتے ہی) دلوں تک جا پہنچے گی وہ (آگ) ان پر بند کردی جاویگی (اس طرح سے کہ وہ لوگ آگ کے) بڑے لمبے لمبے سوتنوں میں (گھرے ہوئے ہوں گے) جیسے کسی کو آگ کے صندوقوں میں بند کردیا جائے) معارف وسائل اس سورت میں تین سخت گناہوں پر عذاب شدید کی وعید اور پھر اس عذاب کی شدت کا بیان ہے وہ تین گناہ یہ ہیں ہمز، لمز، جمع مال، ہمز اور لمز چند معانی کے لئے استعمال ہوتے ہیں، اکثر مفسرین نے جس کو اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہمز کے معنی غیبت یعنی کسی کے پیٹھ پیچھے اس کے عیوب کا تذکرہ کرنا ہے اور لمز کے معنے آمنا سامنے کسی کو طعنہ دینے اور برا کہنے کے ہیں، یہ دونوں ہی چیزیں سخت گناہ ہیں۔ غیبت کی وعیدیں قرآن و حدیث میں زیادہ ہیں جس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس گناہ کے اشتعال میں کوئی رکاوٹ سامنے نہیں ہوتی جو اس میں مشغول ہو تو بڑھتا چڑھتا ہی چلا جاتا ہے اس لئے گناہ بڑے سے بڑا اور زیادہ سے زیادہ ہوتا جاتا ہے بخلاف آمنا سامنے کہنے کے کہ وہاں دوسرا بھی مدافعت کے لئے تیار ہوتا ہے اس لئے گناہ میں امتداد نہیں ہوتا، اس کے علاوہ کسی کے پیچھے اس کے عیوب کا تذکرہ اس لئے بھی بڑا ظلم ہے کہ اس کو خبر بھی نہیں کہ مجھ پر کیا الزام لگایا جا رہا ہے کہ اپنی صائی پیش کرسکے۔ اور ایک حیثیت سے لمز زیادہ شدید ہے، کسی کے روبرو اس کو برا کہنا اس کی توہین و تذلیل بھی ہے، اور اس کی ایذا بھی اشد ہے اسی اعتبار سے اس کا عذاب بھی اشد ہے۔ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شرار عباد اللہ تعالیٰ المشاءون بالتمیمة المفرقون بین الاحبة الباعون البرآء العنت یعنی اللہ کے بندوں میں بدترین وہ لوگ ہیں جو چغلخوری کرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان فساد ڈلواتے ہیں اور بےگناہ لوگوں کے عیب تلاش کرتے رہتے ہیں۔
Ayahs 104:2–6

اِ۟لَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ Open ayah 104:2 in the Quran reader

جس نے سمیٹا مال اور گن گن کر رکھا

یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗۚ Open ayah 104:3 in the Quran reader

خیال کرتا ہے کہ اس کا مال سدا کو رہے گا اس کے ساتھ

كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِ٘ۖ Open ayah 104:4 in the Quran reader

کوئی نہیں وہ پھینکا جائے گا اس روندنے والی میں

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ Open ayah 104:5 in the Quran reader

اور تو کیا سمجھا کون ہے وہ روندنے والی

نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ Open ayah 104:6 in the Quran reader

ایک آگ ہے اللہ کی سلگائی ہوئی

تیسری خصلت جس پر عذاب کی وعید اس سورت میں آئی ہے وہ مال کی حرص اور محبت ہے اسی کو آیت میں اس طرح سے تعبیر کیا ہے کہ حرص و محبت مال کی وجہ سے اس کو بار بار گنتا رہتا ہے چونکہ دوسری آیات و روایات اس پر شاید ہیں کہ مطلقاً مال کا جمع رکھنا کوئی حرام و گناہ نہیں اس لئے یہاں بھی مراد وہ جمع کرنا ہے جس میں حقوق واجبہ ادا نہ کئے گئے ہوں یا فخر و تفاخر مقصود ہو یا اس کی محبت میں منہمک ہو کر دین کی ضروریات سے غفلت ہو۔
Ayahs 104:7–9

الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْئِدَةِؕ Open ayah 104:7 in the Quran reader

وہ جھانک لیتی ہے دل کو

اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ Open ayah 104:8 in the Quran reader

ان کو اس میں موند دیا ہے

فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۠ Open ayah 104:9 in the Quran reader

لمبے لمبے ستونوں میں۔

تطلع علی الافدة یعنی یہ جہنم کی آگ دلوں تک پہنچ جائے گی۔ یوں تو ہر آگ کا خاصہ یہی ہے کہ جو چیز اس میں پڑے اس کے سبھی اجزاء کو جلا دیتی ہے انسان اس میں ڈالا جائے گا تو اس کے سارے اعضاء کے ساتھ دل بھی جل جائے گا، یہاں جہنم کی آگ کی یہ خصوصیت اس لئے ذکر کی گئی کہ دنیا کی آگ جب انسان کے بدن کو لگتی ہے تو اس کے دل تک پہنچنے سے پہلے ہی موت واقع ہوجاتی ہے بخلاف جہنم کے کہ اس میں موت تو آتی نہیں تو دل تک آگ کا پہنچنا بحالت حیات ہوتا ہے اور دل کے جلنے کی اذیت اپنی زندگی میں انسان محسوس کرتا ہے۔