105. Surah Al-Fil
الفيلThe Elephant · 5 ayahsمعارف القرآن
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader
کیا تو نے نہ دیکھا کیسا کیا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ
اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader
کیا نہیں کردیا ان کا داؤ غلط
وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader
اور بھیجے ان پر اڑتے جانور ٹکڑیاں ٹکڑیاں
خلاصہ تفسیر
کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں سے کیا معاملہ کیا (اس استفہام وسوال سے مقصد اس واقعہ کی عظمت اور ہولناک ہونے پر تنبیہ کرنا ہے۔ آگے اس معاملہ کا بیان ہے) کیا ان کی تدبیر کو (جو کعبہ ویران کرنے کے لئے تھی) سرتاپا غلط نہیں کردیا (یہ استفہام وسوال تقریری ہے یعنی واقعہ کی صحت ثابت کرنے کے لئے) اور ان پر غول کے غول پرندے بھیجے جو ان لوگوں پر کنکر کی پتھریاں پھینکتے تھے سو اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح (پامال) کردیا (حاصل یہ کہ احکام الہیہ کی بےحرمتی کرنے والوں کو ایسے عذاب و عقاب سے بےفکر نہ رہنا چاہئے ہوسکتا ہے کہ دنیا ہی میں عذاب آجائے جیسے اصحاب فیل پر آیا ورنہ آخرت کا عذاب تو یقینی ہی ہے)
معارف و مسائل
اس سورت میں اصحاب فیل کے واقعہ کا مختصر بیان ہے کہ انہوں نے بیت اللہ کو مسمار کرنے کے قصد سے ہاتھیوں کی فوج لے کر مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی، حق تعالیٰ نے معمولی پرندوں کے ذریعہ ان کی فوج کو عذاب آسمانی نازل فرما کر نیست و نابود کر کے ان کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
واقعہ فیل آنحضرت ﷺ کی ولادت کے سال میں ہوا۔ یہ واقعہ اس سال میں پیش آیا جس سال میں حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی بعض روایات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور یہی مشہور قول ہے (ابن کثیر) حضرت محدثین نے اس واقعہ کو رسول اللہ ﷺ کا ایک قسم کا معجزہ قرار دیا ہے مگر چونکہ معجزات کا قانون یہ ہے کہ وہ نبی کے دعوائے نبوت کے ساتھ ان کی تصدیق کے لئے ظاہر کئے جاتے ہیں دعوائے نبوت سے پہلے بلکہ نبی کی ولادت سے بھی پہلے حق تعالیٰ بعض اوقات دنیا میں ایسے واقعات اور نشانیاں ظاہر فرماتے ہیں جو خرق عادت ہونے میں مثل معجزہ کے ہوتے ہیں۔ اس طرح کی نشانیوں کو محدثین کی اصطلاح میں ارہاص کہا جاتا ہے جو تاسیس و تمہید کے منیک میں استعمال ہوتا ہے۔ رہص سنگ بنیاد کو کہتے ہیں (قاموس) انبیاء (علیہم السلام) کی دنیا میں تشریف آوری سے یا ان کے دعوائے نبوت سے پہلے بھی حق تعالیٰ کچھ ایسی نشانیاں ظاہر فرماتے ہیں جو معجزات کی قسم سے ہوتی ہیں اور ایسی نشانیاں چونکہ ان کی نبوت کے اثبات کا مقدمہ اور اس قسم کی تمہید و تاسیس ہوتی ہیں اس لئے ان کو ارہاص کہا جاتا ہے نبی کریم ﷺ کی بعثت اور ولادت سے پہلے بھی اس قسم کے ارہاصات متعدد قسم کے ہوئے ہیں۔ اصحاب فیل کو آسمانی عذاب کے ذریعہ بیت اللہ پر حملے سے روک دینا بھی انہی ارہاصات میں سے ہے۔
اصحاب فیل کا واقعہ۔ امام حدیث و تاریخ ابن کثیر نے اس طرح نقل فرمایا ہے کہ یمن پر ملوک حمیر کا قبضہ تھا یہ لوگ مشرک تھے ان کا آخری بادشاہ ذونواس ہے جس نے اس زمانے کے اہل حق یعنی نصاریٰ پر شدید مظالم کئے، اسی نے ایک طویل عریض خندق کھدوا کر اس کو آگ سے بھرا اور جتنے نصرانی بت پرستی کے خلاف ایک اللہ کی عبادت کرنے والے تھے سب کو اس آگ کی خندق میں ڈال کر جلا دیا جن کی تعداد بیس ہزار کے قریب تھی۔ یہی وہ خندق کا واقعہ ہے جس کا ذکر اصحاب الاخدود کے نام سے سورة بروج میں گزرا ہے۔ ان میں دو آدمی کسی طرح اس کی گرفت سے نکل بھاگے اور انہوں نے قیصر ملک شام سے جا کر فریاد کی کہ دونوں اس ملک حمیر نے نصاری پر ایسا ظلم کیا ہے آپ ان کا انتقام لیں۔ قیصر ملک شام نے بادشاہ حبشہ کو خط لکھا یہ بھی نصرانی تھا اور یمن سے قریب تھا کہ آپ اس ظالم سے ظلم کا انتقام لو، اس نے اپنا عظیم لشکر دو کمانڈر (امیر) ارباط اور ابرہہ کی قیادت میں یمن کے اس بادشاہ کے مقابلے پر بھیج دیا، لشکر اس کے ملک پر ٹوٹ پڑا اور پورے یمن کو قوم حمیر کے قبضہ سے آزاد کرایا۔ ملک حمیر ذوالنواس بھاگ نکلا اور دریا میں غرق ہو کر مر گیا۔ اس طرح ارباط و ابرہہ کے ذریعہ میں پر بادشاہ حبشہ کا قبضہ ہوگیا، پھر ارباط اور ابرہہ میں باہمی جنگ ہو کر ارباط مقتول ہوگیا ابرہہ غالب آ گیا اور یہی بادشاہ حبشہ نجاشی کی طرف سے ملک یمن کا حاکم (گورنر) مقر رہو گیا، اس نے یمن پر قبضہ کرنے کے بعد ارادہ کیا کہ یمن میں ایک ایسا شاندار کلیسا بنائے جس کی نظیر دنیا میں نہ ہو۔ اس سے اس کا مقصد یہ تھا کہ یمن کے عرب لوگ جو حج کرنے کے لئے مکہ مکرمہ جاتے ہیں اور بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں یہ لوگ اس کلیسا کی عظمت و شوکت سے مرعوب ہو کر کعبہ کے بجائے اسی کلیسا میں جانے لگیں گے، اس خیال پر اس نے بہت بڑا عالیشیان کلیسا اتنا اونچا تعمیر کیا کہ اس کی بلندی پر نیچے کھڑا ہوا آدمی نظر نہیں ڈال سکتا تھا اور اس کو سونے چاندی اور جواہرات سے مرصع کیا اور پوری مملکت میں اعلان کرا دیا کہ اب یمن سے کوئی کعبہ کے حج کے لئے نہ جائے اس کلیسا میں عبادت کرے۔ عرب میں اگرچہ بت پرستی غالب آگئی تھی مگر دین ابراہیم اور کعبہ کی عظمت و محبت ان کے دلوں میں پیوست تھی اس لئے عدنان اور قحطان اور قریش کے قبائل میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے رات کے وقت کلیسا میں داخل ہو کر اس کو گندگی سے آلودہ کردیا اور بعض روایات میں ہے کہ ان میں سے مسافر قبیلہ نے کلیسا کے قریب اپنی ضروریات کے لئے آگ جلائی اس کی آگ کلیسا میں لگ گئی اور اس کو سخت نقصان پہنچا۔
ابرہہ کو جب اس کی اطلاع ہوئی اور بتلایا گیا کہ کسی قریشی نے یہ کام کیا ہے تو اس نے قسم کھائی کہ میں ان کے کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رہوں گا، ابرہہ نے اس کی تیاری شروع کی اور اپنے بادشاہ نجاشی سے اجازت مانگی اس نے اپنا خاص ہاتھی کہ جس کا نام محمود تھا ابرہہ کے لئے بھیج دیا کہ وہ اس پر سوار ہو کر کعبہ پر حملہ کرے بعض روایات میں ہے کہ یہ سب سے بڑا عظیم الشان ہاتھی تھا جس کی نظیر نہیں پائی جاتی تھی اور اس کے ساتھ آٹھ ہاتھی دوسرے بھی اس لشکر کے لئے بادشاہ حبشہ نے بھیج دیئے تھے۔ ہاتھیوں کی یہ تعداد بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ بیت اللہ کعبہ کے ڈھانے میں ہاتھیوں سے کام لیا جائے۔ تجویز یہ تھی کہ بیت اللہ کے ستونوں میں لوہے کی مضبوط اور طویل زنجیریں باندھ کر ان زنجیروں کو ہاتھیوں کے گلے میں باندھیں اور ان کو ہنکا دیں تو سارا بیت اللہ (معاذ اللہ) فوراً ہی زمین پر آ گرے گا۔
عرب میں جب اس کے حملے کی خبر پھیلی تو سارا عرب مقابلہ کے لئے تیار ہوگیا۔ یمن کے عروب میں ایک شخص ذونفرنامی تھا اس نے عربوں کی قیادت اختیار کی اور عرب لوگ اس کے گرد جمع ہو کر مقابلہ کے لئے تیار ہوگئے اور ابرہہ کے خلاف جنگ کی مگر اللہ تعالیٰ کو تو یہ منظور تھا کہ ابرہہ کی شکست اور اس کی رسوائی نمایاں ہو کر دنیا کے سامنے آئے اس لئے یہ عرب میں کامیاب نہ ہوئے، ابرہہ نے ان کو شکست دے دی اور ذونفر کو قید کرلیا اور آگے روانہ ہوگیا اس کے بعد جب وہ قبیلہ خثعم کے مقام پر پہنچا تو اس قبیلہ کے سردار نفیل بن حبیب نے پورے قبیلہ کے ساتھ ابرہہ کا مقابلہ کیا مگر ابرہہ کے لشکر نے ان کو بھی شکست دے دی اور نفیل بن حبیب کو بھی قید کرلیا اور ارادہ ان کے قتل کا کیا مگر پھر یہ سمجھ کر ان کو زندہ رکھا ان سے ہم راستوں کا پتہ معلوم کرلیں گے، اس کے بعد جب یہ لشکر طائف کے قریب پہنچا تو طائف کے باشندے قبیلہ ثقیف پچھلے قبائل کی جنگ اور ابرہہ کی فتح کے واقعات سن چکے تھے انہوں نے اپنی خیر منانے کا فیصلہ کیا اور یہ کہ طائف میں جو ہم نے ایک عظیم الشان بت خانہ لات کے نام سے بنا رکھا ہے یہ اس کو نہ چھیڑے تو ہم اس کا مقابلہ نہ کریں، انہوں نے ابرہہ سے مل کر یہ بھی طے کرلیا کہ ہم تمہاری امداد اور رہنمائی کے لئے اپنا ایک سردار ابورغال تمہاے ر ساتھ بھیج دیتے ہیں، ابرہہ اس پر راضی ہو کر ابورغال کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ کے قریب ایک مقام مغمس پر پہنچ گیا جہاں قریش مکہ کے اونٹ چر رہے تھے، ابرہہ کے لشکر نے سب سے پہلے ان پر حملہ کر کے اونٹ گرفتار کر لئے جن میں دو سو اونٹ رسول اللہ ﷺ کے جدا مجد عبدالمطلب رئیس قریش کے بھی تھے ابرہہ نے یہاں پہنچ کر اپنا ایک سفیر کو شہر مکہ میں بھیجا کہ وہ قریش کے سرداروں کے پاس جا کر اطلاع کر دے کہ ہم تم سے جنگ کے لئے نہیں آئے، ہمارا مقصد کعبہ کو ڈھانا ہے اگر تم نے اس میں رکاوٹ نہ ڈالی تو تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ چنانچہ جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوا تو سب نے اس کو عدئ المطلب کا پتہ دیا کہ وہ سب سے بڑے سردار قریش کے ہیں چنانچہ اس نے عبدالمطلب سے گفتگو کی اور ابرہہ کا پیغام پہنچا دی۔ ابن اسحاق کی روایت کے مطابق عبدالمطلب نے یہ جواب دیا کہ ہم بھی ابرہہ سے جنگ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، نہ ہمارے پاس اتنی طاقت ہے کہ اس کا مقابلہ کرسکیں۔ البتہ میں یہ بتائے دیتا ہوں کہ یہ اللہ کا گھر اور اس کے خلیل ابراہیم ؑ کا بنایا ہوا ہے وہ خود اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے اللہ سے جنگ کا ارادہ ہے تو جو چاہے کرے پھر دیکھ کہ اللہ تعالیٰ کیا معاملہ کرتے ہیں۔ حناطہ نے عبدالمطلب سے کہا کہ تو پھر آپ میرے ساتھ چلیں میں آپ کو ابرہہ سے ملاتا ہوں۔ ابرہہ نے جب عبدالمطلب کو دیکھا کہ بڑے وجیہ آدمی ہیں تو ان کو دیکھ کر اپنے تخت سے نیچے اتر کر بیٹھ گیا اور عبدالطلب کو اپنی برابر بٹھایا اور اپنے ترجمان سے کہا کہ عبدالمطلب سے پوچھے کہ وہ کس غرض سے آئے ہیں، عبدالطلب نے کہا کہ میری ضرورت تو اتنی ہے کہ میرے اونٹ جو آپ کے لشکر نے گرفتار کر لئے ہیں ان کو چھوڑ دیں۔ ابرہہ نے ترجمان کے ذریعہ عبدالملب سے کہا کہ جب میں نے آپ کو اول دیکھا تو میرے دل میں آپ کی بڑی وقعت و عزت ہوئی مگر آپ کی گفتگو نے اس کو بالکل ختم کردیا کہ آپ مجھ سے صرف اپنے دو سو اونٹوں کی بات کر رہے ہیں اور یہ معلوم ہے کہ میں آپ کا کعبہ جو آپ کا دین ہے اس کو ڈھانے کے لئے آیا ہوں اس کے متعلق آپ نے کوئی گفتگو نہیں کی۔ عبدالمطلب نے جواب دیا کہ اونٹوں کا مالک تو میں ہوں مجھے ان کی فکر ہوئی اور بیت اللہ کا میں مالک نہیں بلکہ اس کا مالک ایک عظیم ہستی ہے وہ اپنے گھر کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔ ابرہہ نے کہا کہ تمہارا خدا اس کو میرے ہاتھ سے نہ بچا سکے گا۔ عبدالمطلب نے کہا کہ پھر تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو اور بعض روایات میں ہے کہ عبدالمطلب کیساتھ اور بھی قریش کے چند سردار گئے تھے اور انہوں نے ابرہہ نے کے سامنے یہ پیش کش کی کہ اگر آپ بیت اللہ پر دست اندازی نہ کریں اور لوٹ جائیں تو ہم پورے تہامہ کی ایک تہائی پیداوار آپ کو بطور خراج ادا کرتے رہیں گے مگر ابرہہ نے اس کے ماننے سے انکار کردیا۔ عبدالمطلب کے اونٹ ابرہہ نے واپس کردیئے وہ اپنے اونٹ لے کر واپس آئے تو بیت اللہ کے دروازے کا حلقہ پکڑ کر دعاء میں مشغول ہوئے اور قریش کی ایک بڑی جماعت ساتھ تھی سب نے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں کہ ابرہہ کے عظیم لشکر کا مقابلہ ہمارے تو بس میں نہیں، آپ ہی اپنے بیت کی حفاظت کا انتظام فرما دیں، الحاج وزاری کے ساتھ دعا کرنے کے بعد عبدالمطلب مکہ مکرمہ کے کے دوسرے لوگوں کو ساتھ لے کر مختلف پہاڑوں پر پھیل گئے ان کو یہ یقین تھا کہ اس کے لشکر پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے گا، اسی یقین کی بنا پر انہوں نے ابرہہ سے خود اپنے اونٹوں کا مطالبہ کیا، بیت اللہ کے متعلق گفتگو کرنا اسلئے پسند نہ کیا کہ خود تو اس کے مقابلے کی طاقت نہ تھی اور دوسری طرف یہ بھی یقین رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بےبسی پر رحم فرما کر دشمن کی قوت اور اس کے عزائم کو خاک میں ملا دیں گے صبح ہوئی تو ابرہہ نے بیت اللہ پر چڑھائی کی تیاری کی اور اپنے ہاتھی محمود نامی کو آگے چلنے کے لئے تیار کیا۔ نفیل بن حبیب جن کو راستہ سے ابرہہ نے گرفتار کیا تھا اس وقت وہ آگے بڑھے اور ہاتھی کا کان پکڑ کر کہنے لگے تو جہاں سے آیا ہے وہیں صحیح سالم لوٹ جا، کیونکہ تو اللہ کے بلد امین (محفوظ شہر) میں ہے یہ کہہ کر اس کا کان چھوڑ دیا، ہاتھی یہ سنتے ہی بیٹھ گیا، ہاتھی بانوں نے اس کو اٹھانا چلانا چاہا لیکن وہ اپنی جگہ سے نہ ہلا، اس کو بڑے بڑے آہنی تبروں سے مارا گیا، اس کی بھی پروانہ کی، اس کی ناک میں آنکڑا لوہے کا ڈال دیا پھر بھی وہ کھڑا نہ ہوا، اس وقت ان لوگوں نے اس کو یمن کی طرف لوٹانا چاہا تو فوراً کھڑا ہوگیا پھر شام کی طرف چلانا چاہا تو چلنے لگا پھر مشرق کی طرف چلایا تو چلنے لگا، ان سب اطراف میں چلانے کے بعد پھر اس کو مکہ مکرمہ کی طرف چلانے لگے تو پھر بیٹھ گیا۔
قدرت حق جل شانہ کا یہ کرشمہ تو یہاں ظاہر ہوا۔ دوسری طرف دریا کی طرف سے کچھ پرندوں کی قطاریں آتی دکھائی دیں جن میں سے ہر ایک کے ساتھ تین کنکریاں چنے یا مسور کی برابر تھیں ایک چونچ میں اور دو پنجوں میں واقدی کی روایت میں ہے کہ پرندے عجیب طرح کے تھے جو اس سے پہلے نہیں دیکھے گئے، حبثہ میں کبوتر سے چھوٹے تھے ان کے پنجے سرخ تھے، ہر پنجے میں ایک کنکر اور ایک چونچ میں لئے آتے دکھائی دیتے اور فوراً ہی ابرہہ کے لشکر کے اوپر چھا گئے، یہ کنکریں جو ہر ایک کے ساتھ تھیں ان کو ابرہہ کے لشکر پر گرایا۔ ایک ایک کنکر نے وہ کام کیا جو ریوالور کی گولی بھی نہیں کرسکتی کہ جس پر پڑتی اس کے بدن کو چھیدتی ہوئی زمین میں گھس جاتی تھی۔ یہ عذاب دیکھ کر ہاتھی سب بھاگ کھڑے ہوئے، صرف ایک ہاتھی رہ گیا تھا جو اس کنکری سے ہلاک ہوا اور لشکر کے سب آدمی اس موقع پر ہلاک نہیں ہوئے بلکہ مختلف اطراف میں بھاگے ان سب کا یہ حال ہوا کہ راستہ میں مر مر کر گر گئے ابرہہ کو چونکہ سخت سزا دینا تھی یہ فوراً ہلاک نہیں ہوا مگر اس کے جسم میں ایسا زہر سرایت کر گیا کہ اس کا ایک ایک جوڑ گل سڑ کر گرنے لگا اسی حال میں اس کو واپس یمن لایا گیا، دا الحکومت صنعا، پہنچ کر اس کا سارا بدن ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بہ گیا اور مرگیا۔ ابرہہ کے ہاتھی محمود کے ساتھ دو ہاتھی بان یہیں مکہ مکرمہ میں رہ گئے مگر اس طرح کہ دونوں اندھے اور اپاہج ہوگئے تھے۔ محمد بن اسحاق نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے ان دونوں کو اس حالت میں دیکھا ہے کہ وہ اندھے اور اپاہج تھے اور حضرت صدیقہ عائشہ کی بہن اسماء نے فرمایا کہ میں نے دونوں اپاہج اندھوں کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھا ہے۔ اصحاب فیل کے اسی واقعہ کے متعلق اس سورت میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا ہے۔
الم ترکیف فعل ربک باصحب الفیل یہاں المر تر فرمایا جس کے معنے ہیں کیا آپ نے نہیں دیکھا حالانکہ یہ واقعہ آپ کی ولادت باسعادت سے کچھ دن پہلے کا ہے، آپ کے دیکھنے کا یہاں بظاہر کوئی موقع نہیں تھا مگر جو واقعہ یقینی ایسا ہو کہ عام طور پر مشاہدہ کیا گیا ہو اس کے علم کو بھی لفظ رویت سے تعبیر کردیا جاتا ہے کہ گویا یہ آنکھوں دیکھا واقعہ ہے اور ایک حد تک دیکھنا بھی ثابت ہے جیسا کہ اوپر گزرا ہے کہ حضرت صدیقہ عائشہ اور اسماء ؓ نے ہاتھی بانوں کو اندھا اور اپاہج بھیک مانگتے دیکھا ہے۔
تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader
پھینکتے تھے ان پر پتھریاں کنکر کی
بحجارة من سجیل سجیل بکسر سین سنگ گل کا معرب کیا ہوا لفظ ہے جس کے معنے ہیں ایسی کنکریں جو تر مٹی کو آگ میں پکانے سے بنتی ہے اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کنکریں بھی خود کوئی طاقت نہ رکھتی تھیں معمولی گارے اور آگ سے بنی ہوئی تھیں مگر بقدرت حق سبحانہ، انہوں نے ریوالور کی گولیوں سے زیادہ کام کیا۔
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader
پھر کر ڈالا ان کو جیسے بھس کھایا ہوا۔
فجعلھم کعصف ماکول عصف، بھوسہ کو کہتے ہیں اول تو خود بھوسہ ہی منتشر تنکے ہوتے ہیں، پھر جبکہ اس کو کیک جانور نے چبا بھی لیا ہو تو تنکے بھی اپنے حال پر نہیں رہتے۔ ابرہہ کے لشکر میں جس پر یہ کنکر پڑی ہے اس کا یہی حال ہوگیا ہے۔ اصحاب فیل کے اس عجیب و غریب واقعہ نے پورے عرب کے دلوں میں قریش کی عظمت بڑھا دی اور سب ماننے لگے کہ یہ لوگ اللہ والے ہیں ان کی طرف سے خود حق تعالیٰ جل شانہ نے ان کے دشمن کو ہلاک کردیا (قرطبی) اسی عظمت کا یہ اثر تھا کہ قریش مکہ مختلف ملکوں کا سفر بغرض تجارت کرتے تھے اور راستہ میں کوئی ان کو نقصان نہ پہنچاتا حالانکہ اس وقت دوسروں کے لئے کوئی سفر ایسے خطرات سے خالی نہیں تھا۔ قریش کے انہی سفروں کا ذکر آگے اگلی سورت سورة قریش میں کر کے ان کو شکر نعمت کی طرف دعوت دی گئی ہے۔
تمت سورة الفیل بحمد اللہ تعالیٰ