104. Surah Al-Humaza

الهمزةThe Traducer · 9 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 104:1–2

وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۙ Open ayah 104:1 in the Quran reader

ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے

اِ۟لَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ Open ayah 104:2 in the Quran reader

جو مال جمع کرتا اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے

) وَيْلٌ) یعنی وعید، وبال اور سخت عذاب ( لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۨ) ہر اس شخص کے لیے جو طعن آمیز اشارے کرنے والا اور عیب جو ہے یعنی جو اپنے فعل سے لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے قول وفعل سے چغل خوری کرتا ہے۔ ھماز اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں میں عیب نکالتا ہے اپنے فعل اور اشاروں سے طعنہ زنی کرتا ہے لماز اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے قول سے لوگوں کے عیب نکالتا ہے اس طعن آمیز اشارے کرنے والے اور چغل خور کی صفت یہ ہے کہ مال جمع کرنے اس کو گننے اور اس پر خوش ہونے کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں بھلائی کے راستوں میں اور صلہ رحمی کے لیے اس مال کو خرچ کرنے میں اسے کوئی رغبت نہیں۔
Ayah 104:3

یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗۚ Open ayah 104:3 in the Quran reader

اور خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اسکی ہمیشہ کی زندگی کا موجب ہوگا

(يَحْسَبُ ) اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے (اَنَّ مَالَهٗٓ اَخْلَدَهٗ ) کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ زندہ رکے گا اس لیے اس کی تمام کدو کاوش اپنا مال بڑھانے میں صرف ہوتی ہے جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی عمر کو بڑھاتا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ بخل اعمال کو ختم اور شہروں کو برباد کردیتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔
Ayahs 104:4–6

كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِ٘ۖ Open ayah 104:4 in the Quran reader

ہر گز نہیں وہ ضرور حطمہ میں ڈالا جائے گا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ Open ayah 104:5 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ حطمہ کیا ہے ؟

نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ Open ayah 104:6 in the Quran reader

وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے

(كَلَّا لَيُنْۢبَذَنَّ ) یعن اسے ضرور پھینکا جائے گا (فِي الْحُطَمَةِ ۔ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ ) حطمہ اور آپ کیا سمجھے کہ حطمہ کیا ہے ؟ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔
Ayahs 104:7–8

الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْئِدَةِؕ Open ayah 104:7 in the Quran reader

جو دلوں پر جا لپٹے گی

اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ Open ayah 104:8 in the Quran reader

اور وہ اس میں بند کردیئے جائیں گے

(الَّتِيْ تَـطَّلِــعُ عَلَي الْاَفْــِٕدَةِ ) جو اپنی شدت کے باعث جسموں کو چھیدتی ہوئی دلوں تک جا پہنچے گی۔ اتنی سخت حرارت کے باوجود وہ اس آگ میں محبوس ہوں گے اس سے باہر نکلنے سے مایوس ہوں گے اس لیے فرمایا (اِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ) یعنی وہ آگ ان پر (ہر طرف سے) بند کردی جائے گی۔
Ayah 104:9

فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۠ Open ayah 104:9 in the Quran reader

یعنی آگ کے لمبے لمبے ستونوں میں

(فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ ) دروازوں کے پیچھے بڑے بڑے ستونوں میں تاکہ وہ اس سے باہر نہ نکل سکیں۔ (کلما ارادو ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا۔ السجدہ 20) جب بھی وہ اس آگ سے نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔ ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔