104. Surah Al-Humaza

الهمزةThe Traducer · 9 ayahsسراج البیان

Ayahs 104:1–8

وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۙ Open ayah 104:1 in the Quran reader

ہر ایک عیب پکڑنے والے غیبت کرنے والے کی خرابی ہے

اِ۟لَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ Open ayah 104:2 in the Quran reader

جس نے مال جمع کیا اور گن گن کر رکھا (اور خدا کا حق نہ دیا)

یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗۚ Open ayah 104:3 in the Quran reader

سمجھتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ اسے رکھے گا

كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِ٘ۖ Open ayah 104:4 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، وہ روندنے والی میں پھینکا جائے گا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ Open ayah 104:5 in the Quran reader

اور تو کیا سمجھا کیا ہے روندنے والی

نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ Open ayah 104:6 in the Quran reader

اللہ کی سلگائی ہوئی آگ

الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْئِدَةِؕ Open ayah 104:7 in the Quran reader

وہ آگ جو دلوں کو جھانک لیتی ہے

اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ Open ayah 104:8 in the Quran reader

اس آگ میں وہ بند کردیئے جائیں گے

سورة الھمزہ اس سورة سے کوئی متعین شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ صنادید قریش کی اخلاقی حالت عام طور پر یہی تھی کہ یہ لوگ مسلمانوں کی تنقیص کرتے ۔ ان کے عیوب بھری محفلوں میں ازراہ کبروتبختر بیان کرتے اور ہنستے ۔ اور سب سے بڑا عیب جو ان کی نظر میں کھٹکتا تھا ، وہ ان کی خدا دوستی اور توحید سے محبت تھی ۔ اس بنا پر یہ لوگ دلوں میں بغض اور حسد کی آگ پنہاں رکھتے تھے اور موقع بموقع ملعن وتشنیع سے ان کے دلوں کو چھیدتے ۔ دن رات مال کی محبت اور حصول میں سرمست رہتے ۔ گن گن کر لاتے اور لالاکر گنتے اور یہ سمجھتے کہ یہ دولت و ثروت ہمیشہ ان کے پاس رہیگی ۔ فرمایا کہ یہ خیال محض غلط ہے ۔ ع ایں خیال است ومحال است وجنوں حل لغات :۔ تواصوا ۔ تلقین کی ۔ فہمائش کی ھمزۃ ۔ چغل خور ۔ پس پشت عیب نکالنے والا لمزۃ ۔ طعن وتشنیع کرنے والا ۔
Ayah 104:9

فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۠ Open ayah 104:9 in the Quran reader

لمبے لمبے ستونوں میں

ف 1: دنیا میں یہ لوگ اپنے آپ کو معزز سمجھے ہوئے ہیں ۔ مگر ان کا ٹھکانا ایسی جگہ ہے جو ان کے نشہ وذلت اور غرور کو توڑ کررہے گی اور جانتے ہو کہ یہ غرور اور تبختر کو توڑ دینے والی چیز کون ہے ۔ یہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے ۔ جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جائے گی ۔ یہ آگ لمبے لمبے شعلوں میں گھرے ہوں گے اور یوں معلوم ہوں گے کہ گویا طویل ستونون میں کھڑے ہیں ۔