Ayah 104:1ہلاکت ہے ہر اس شخص کے لیے جو (روبرو) طعنے دیتا ہے پیٹھ پیچھے عیب جوئی کرتا ہے۔
ویل کے بارے میں وضاحت کئی مواقع پر گزر چکی ہے اس کا معنی رسوائی، عذاب اور ہلاکت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ جہنم میں ایک وادی ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس سے مراد چغل خور، دوستوں کے درمیان فساد برپاد کرنے والے، پاکباز لوگوں پر عیب لگانے والے ہیں۔ اس تاویل کی بنا پر دونوں کا معنی ایک ہی ہے نبی کریم نے ارشاد فرمایا : شرار عباد اللہ تعالیٰ المشاون بالنمیمۃ المفسدون بین الاحبۃ الباغون للبراء العیب۔ اللہ کے بندوں میں سے سب سے برے چغل خور، دوستوں میں فساد برپا کرنے والے اور پاک باز لوگوں پر عیب لگانے والے ہیں۔
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ الھمزہ سے مراد چغل خور المزہ سے مراد عیب لگانے والے ہیں۔ ابو العالیہ، حضرت حسن بصری، مجاہد اور عطا بن ابی رباح نے کہا : الھمزہ سے مراد ہے جو غیب کرتا ہے۔ اور لوگوں کے سامنے ان پر طعن وتشنیع کرتا ہے اور اللمزہ سے مراد ہے جب آدمی موجود نہ ہو تو پیٹھ کے پیچھے اس کی غیبت کرتا ہے : اس معنی میں حضرت حسان بن ثابت کا شعر ہے :
ھمزتک فاختضعت بذل نفس۔۔۔ بقافیۃ تاجج کا لشواظ
میں نے تیرے ایسے اشعار کے ساتھ غیبت کی جو شعلہ کی طرح بھڑک رہا تھا تو تو اپنے نفس کی ذلت کے ساتھ پست ہوگیا۔
نحاس نے اس قول کو پسند کیا ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومنھم من یلمزک فی الصدقات۔ (التوبہ) ان میں سے کچھ وہ ہیں جو صدقات کے بارے میں آپ پر طعن کرتے ہیں۔ مقاتل نے اس کلام کے مخالف گفتگو کی ہے کہ ھمزۃ اسے کہتے ہیں جو عدم موجود گی میں غیبت کرتا ہے اور لمزۃ اسے کہتے ہیں جو سامنے عیب جوئی کرتا ہے۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا : ھمزہ اسے کہتے ہیں جو لوگوں کے اخلاف کے بارے میں طعن کرتا ہے۔ اور لمزۃ اسے کہتے ہیں جو ان کے نسب میں طعن کرتا ہے۔
ابن زید نے کہا : ھامزا سے کہتے ہیں جو ہاتھ سے لوگوں کو اذیت دیتا ہے اور انہیں مارتا ہے۔ اور لمزۃ اسے کہتے ہیں جو زبان سے انہیں اذیت دیتا ہے اور انہیں عیب لگاتا ہے۔ سفیان ثوری نے کہا : جو زبان سے اذیت دیتا ہے اسے ھمزۃ کہتے ہیں اور جو آنکھ سے اذیت دیتا ہے اسے لمزۃ کہتے ہیں۔ ابن کیسان نے کہا : ھمزۃ اسے کہتے ہیں جو اپنے ہم مجلس افراد کو برے الفاظ کے ساتھ اذیت دیتا ہے اور لمزۃ اسے کہتے ہیں جو اپنی نظریں اپنے ساتھی پر گاڑھ دیتا ہے اور اپنے سر، اپنی آنکھوں اور اپنے آبروؤں سے اشارہ کرتا ہے۔ ایک دفعہ کہا : دونوں برابر ہیں۔ وہ چغل خور اور انسان پر طعن کرنے والا ہے جب وہ غائب ہوجائے۔ زیاد اعاجم نے کہا :
تدلی بودی اذا لا قیتنی کذبا۔۔۔ وان اغیب فانت الھامز اللمزہ
جب تو مجھ سے ملاقات کرتا ہے تو جھوٹ کے عالم میں میری محبت کا وسیلہ پکڑتا ہے اور اگر میں غائب ہوں تو تو چغل خور اور طعن کرنے والا ہے۔
ایک اور شاعر نے کہا :
اذا لقیتک عن سخط تکاشرنی۔۔۔ وان تغیبت کنت الھامزہ اللمزۃ۔
جب میں تجھے ملتا ہوں تو تو ناراضگی کی وجہ سے دانت نکالتا ہے اور جب میں غائب ہوتا ہوں تو تو چغل خور اور طعن کرنے والا ہوتا ہے۔
الشحط کا معنی بعد ہے اور ھمزۃ ایسا اسم ہے جو مبالغہ کے لیے وضع کیا گیا ہے جس طرح کہا جاتا ہے : سخرۃ، ضحکۃ جو مذاق کرتا ہے اور لوگوں کو ہنساتا ہے۔ ابو جعفر محمد بن علی اور اعراج نے ھمزۃ اور لمزۃ میم کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، اگر یہ دونوں سے قرات ثابت ہو تو یہ اسم مفعول کے معنی میں ہوگا۔ یہ وہ آدمی ہوتا ہے جو لوگوں کے سامنے آتا ہے تو لوگ اس کے ساتھ مذاق کرتے ہیں، اس پر ہنستے ہیں اور وہ انہیں غیبت پر برانگیختہ کرتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت ابو وائل، نخعی اور اعمش نے اسے ویل للھمزۃ اللمزۃ پڑھا ہے۔ ھمز کا اصل معنی توڑنا، کسی شی کو سختی سے کاٹنا ہے۔ اس معنی میں ھمز الحرف ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ھمزۃ راسہ میں نے اس کے سر کو توڑ دیا۔ ھمزت الجوز بکفی میں نے ہتھیلی سے اخروٹ توڑا، ایک بدو نے کہا : اتھمز الفارۃ ؟ کیا بلی ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے۔ تو اس نے کہا : اسے بلی ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے۔ْ صحاح میں جو جملہ مذکورہ ہے وہ یہ ہے ایک بدو سے کہا گیا : اتھمز الفارۃ ؟ تو اس نے کہا : اسے بلی ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے۔ پہلا قول ثعلبی کا ہے یہ اس امر پر دال ہے کہ بلی کو ھمزۃ کہتے ہیں۔ عجاج نے کہا :
ومن ھمزنا راسہ تھشما
جس کے سر کو ہم توڑیں تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : ھمز اور لمز کا اصل معنی دھکیلنا اور مارنا ہے : لمزہ یلمزہ لمزا جب وہ اسے مارے اور دھکے دے اس طرح ھمزہ ہے جب وہ اسے دھکے دے اور اسے مارے۔ راجز نے کہا :
ومن ھمزناہ عزہ تبرکعا۔۔۔ علی استہ زوبعۃ او زوبعا
جس کی عزت کو ہم پھاڑ دیں تو وہ اپنی سرین کے بل بگولہ کی صورت میں یا حقیر ہو کر جا گرتا ہے۔
برکعۃ کا معنی ہے چار اعضا پر کھڑا ہونا برکعہ فتبرکع میں نے اسے گرایا تو وہ اپنی سرین کے بل گرگیا ۔ یہ صحاح میں کہا : آیت کریمہ اخنس بن شریق کے حق میں نازل ہوئی جو ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے۔ وہ لوگوں کی غیبت کرتا تھا اور ان کی عیب جوئی کرتا تھا وہ موجود ہوتے یا غائب ہوتے۔ اب جریج نے کہا : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی وہ نبی کریم کی عدم موجودگی میں آپ کی غیبت کرتا اور سامنے بدگوئی کیا کرتا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ آیت ابی بن خلف کے حق میں نازل ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ جمیل بن عامر ثقفی کے حق میں نازل ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ بغیر تخصیص کے عموم کے لیے ہے ؛ یہ اکثر علماء کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ کسی کے ساتھ بھی خاص نہیں بلکہ یہ ہر کسی کے لیے ہے جس کی یہ صفت ہے۔ فراء نے کہا : یہ جائز ہے کہ عام ذکر کیا جائے اور خاص کا قصد کیا جائے ایک کا قصد کیا جب کوئی یہ کہے : لا ازورک ابدا تو تو کہتا ہے : من لم یزرنی فلست بزائرہ یعنی وہ صرف قائل کا ارادہ کرتا ہے یعنی من عموم پر دلالت کرتا ہے ہر کوئی مراد ہونا چاہیے مگر وہ صرف اس فرد کا ارادہ کرتا ہے جس نے یہ بات کہی تھی۔
Ayah 104:2جس نے مال جمع کیا اور گن گن کر رکھا۔
اس نے حادثات زمانہ کے لیے تیار کر کے رکھا۔ جس طرح کرم اور اکرم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اس کی مقدار کو شمار کیا ؛ یہ سدی کا قول ہے۔ ضحاک نے کہا : اس نے اپنے وارث کے لیے اپنا مال تیار کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس نے عدد اور کثرت پر فخر کیا۔ مقصود طاعت میں مال خرچ کرنے سے روکنے پر مذمت کرنا ہے، جس طرح فرمایا : مناع للخیر (ق) اور فرمایا و جمع فاوعی (المعارج) عام قرات جمع ہے۔
ابن عامر، حمزہ اور کسائی نے اسے میم کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ابو عبید نے وعددہ کی وجہ سے اسے ہی اختیار کیا ہے۔
حضرت حسن بصیر، نصر بن عاصم اور ابو العالیہ نے جمع اور عددہ پڑھا ہے۔ اور تضعیف کا اظہار کیا یعنی اس میں ادغام نہیں کیا، کیونکہ اس کی اصول عدہ ہے، یہ بعید ہے کیونکہ مصحف میں دو دالوں کے ساتھ واقع ہے شعر میں بھی اس کی مثل واقع ہے جب انہوں نے ہم جنس حروف میں اظہار کیا تو اس میں تخفیف کا کہا :
مھلا امامۃ قد جریت من خلقی۔۔۔ انی اجود لا اقوام وان ضئنوا۔
اے امامہ ! ٹھہر جا تو نے میرے اخلاق کا تجربہ کرلیا ہے میں لوگوں کے لیے سخاوت کرتا ہوں اگر وہ بخل کریں۔
محل استدلال ضئنوا ہے۔
یہاں شاعر نے ارادہ کیا انہوں نے بخل کیا تو ہم جنس حروف کو الگ الگ ذکر کیا لیکن شعر ضرورت کی جگہ ہے۔ مہدوی نے کہا : جس نے وعددہ میں تخفیف کی ہے تو یہ المال پر معطوف ہوگا پھر ترجمہ ہوگا و جمع عددہ اس نے سامان کو جمع کیا ہم جنس کو ظاہر کرنے کی صورت میں یہ عددہ کلمہ فعل نہیں ہوگا کیونکہ صرف شعر میں استعمال ہوگا۔
Ayahs 104:3–6وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے مال نے اسے لافانی بنا دیا ہے۔ ہرگز نہیں وہ یقینا حطمہ میں پھینک دیا جائے گا۔ اور تم کیا جانو کہ حطمہ کیا ہے ؟ وہ اللہ کی آگ ہے خوب بھڑکائی ہوئی جو دلوں تک جا پہنچے گی۔
وہ یہ گمان کرتا ہے اس کا مال اسے زندہ رکھے گا وہ مرے گا نہیں، یہ سدی نے کہا : عکرمہ نے کہا : معنی ہے مال اس کی عمر میں اضافہ کردے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو وقت گزر چکا ہے اسے زندہ کردے گا۔ یہ ماضی کا صیغہ ہے جو مستقبل کے معنی میں ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ھلک واللہ فلان و دخل النار۔ اللہ کی قسم ! فلاں ہلاک ہوگیا اور آگ میں داخل ہوگیا۔
کلا کا لفظ اس لیے ذکر کیا گیا کہ کافر نے جو وہم کیا اس کا رد کرنا مقصود ہے یعنی وہ ہمیشہ نہیں رہے گا اور اس کا مال باقی نہیں رہے گا۔ کلا کے بارے میں گفتگو مکمل گزر چکی ہے۔ عمر بن عبداللہ جو غفرہ کے غلام تھے نے کہا : جب تو اللہ تعالیٰ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنے کلا تو وہ یہ ارشاد فرماتا ہے تو نے جھوٹ بولا۔
لینبذن، یعنی انہیں پھینک دیا جائے گا۔ حضرت حسن بصری، محمد بن کعب، نصر بن عاصم، مجاہد، حمید اور ابن محصین نے پڑھا۔ لینبذن یعنی تثنیہ کا صیغہ پڑھا تو اس سے مراد وہ اور اس کا مال ہے۔ حضرت حسن بصری سے یہ بھی مروی ہے : لینبذنہ یعنی اس کا مال پھینکا جائے گا۔ ان سے نون کے ساتھ جمع کا صیغہ بھی منقول ہے۔ لننبذنہ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں خبر دیتا ہے کہ وہ مال دار کو پھینکے گا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : لینبذن یعنی ھمزہ، لمزہ، مال اور اس کے جمع کرنے والے سب کو جہنم میں پھینکا جائے گا۔ حطمہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی آگ ہے۔ اسے یہ نام دیا گیا ہے کیونکہ جو چیز بھی اس میں پھینکی جاتی ہے وہ توڑ دیتی ہے اور ریزہ ریزہ کردیتی ہے۔ راجز نے کہا :
انا حطمنا بالقضیب مضعبا۔۔۔ یوم کسرنا انفہ لیغضما۔
ہم نے کھجور کی شاخ کے ساتھ مصعب کا مارا جس روز ہم نے اس کی ناک توڑی تاکہ وہ غضبناک ہو۔
حطمہ جہنم کے طبقات میں سے چھٹا طبقہ ہے ؛ ماوردی نے اسے کلبی سے حکایت بیان کی ہے۔ قشیری نے ان سے یہ روایت نقل کی : حطمہ سے مراد آگ کے گڑھوں میں سے دوسرا گڑھا ہے۔ ضحاک نے کہا : یہ چوتھا گڑھا ہے۔ ابن زید نے کہا : یہ جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
وما ادراک ما الحطمہ۔ حطمہ کی عظمت شان کو بیان کرنے کے لیے استفہامیہ انداذ میں کلام ذکر کی۔ پھر اس کی تفسیر بیان کی کہ یہ کیا ہے۔ فرمایا نار اللہ الموقدۃ۔ جس کو ہزار سال، ہزار سال اور ہزار سال بھڑکا یا گیا۔ یہ ٹھنڈی ہونے والی نہیں اللہ تعالیٰ نے اسے نافرمانوں کے لیے تیار کیا۔
Ayah 104:7محمد بن کعب نے کہا : ان کے جسموں میں جو کچھ ہوگا آگ اسے کھا جائے گی یہاں تک کہ جب ان کے دلوں تک پہنچے گی تو انہیں پھر پیدا کردیا جائے گا وہ انہیں پھر کھانے لگے گی۔ خالد بن ابی عمران نے نبی کریم سے اسی طرح روایت کیا ہے : ان النار تاکل اھلھا حتی اذا طلعت علی افئدتھم انتھت ثم اذا صدروا تعود۔ آگ جہنمیوں کو کھائے گی یہاں تک کہ جب وہ آگ ان کے دلوں تک پہنچے گی تو وہ رک جائے گی پھر جب انہیں پیدا کیا جائے گا تو آگ لوٹ آئے گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان کا یہی معنی ہے : نار اللہ الموقدۃ۔ التی تطلع علی الافئدۃ۔ یہاں دلوں کو خاص کر ذکر کیا گیا ہے کیونکہ دکھ جب دل تک جا پہنچتا ہے تو وہ مریض مرجاتا ہے یعنی وہ میت کی حالت والوں میں سے ہے جبکہ وہ مرتے نہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لا یموت فیھا ولا یحی (طہ) اس میں نہ وہ مرے گا اور نہ زندہ ہوگا۔ یعنی وہ زندہ ہیں مگر مردوں کے حکم میں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تطلع علی الافئدۃ۔ کا معنی ہے وہ آگ جانتی ہے کہ عذاب کی جس مقدار کے وہ مستحق ہیں یہ جملہ بولا جاتا ہے : الطع فلان علی کذا یعنی فلاں اس پر مطلع ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : تدعوا من ادبر وتولی۔ (المعارج) وہ اسے کھینچ لیتی ہے جو پیٹھ پھیرتا ہے اور روگردانی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اذا راتھم من مکان بعید سمعوا لھا تغیظا و زفیرا۔ (الفرقان) جب وہ آگ انہیں دور سے دیکھے گی تو وہ سنیں گے اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا۔
اس آگ کی ان چیزوں سے صفت بیان کی گئی ہے تو یہ کوئی بعید نہیں کہ اس کی علم سے صفت بیان کی جائے۔
Ayah 104:8بیشک وہ (آگ) ان پر بند کردی جائے گی (اس کے شعلے) لمبے لمبے ستونوں کی صورت میں ہوں گی۔
موصدۃ کا معنی ہے مطبقہ، یعنی تہہ در تہہ ہوگی۔ یہ حضرت حسن بصری اور ضحاک کا نقطہ نظر ہے سورة بلد میں اس کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ قریش کی لغت کے مطابق اس کا معنی مغلقہ ہے یعنی بند کردی جائے گی وہ کہتے ہیں : آصدت الماب جب تو دروزے کو بند کردے ؛ یہ مجاہد کا قول ہے ؛ اس معنی میں عبید اللہ بن قیس رقیات کا قول ہے :
ان فی القصر لو دخلنا غزلا۔۔۔ مصفقا موصدا علیہ الحجاب
کاش ! ہم داخل ہوتے بیشک محل میں ایک ہرن ہے جس پر حجاب ڈال دیا گیا ہے۔
Ayah 104:9فی عمد ممددۃ۔ میں فی باء کے معنی میں ہے یعنی اسے لمبے لمبے ستونوں کے ساتھ جکڑ دیا گیا ہے، یہ حضرت ابن مسعود کا قول ہے۔ آپ کی قرات میں بعمد ممدۃ ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں نبی کریم سے مروی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر فرشتے بھیجے گا جن کے ساتھ آگ کے کواڑ، آگ کے کیل اور آگ کے ہی ستون ہوں گے وہ ان پر ان کو اڑوں کو بند کردیں گے، ان پر کیل لگا دیں گے اور ان ستونوں کے ساتھ انہیں باندھ دیا جائے گا کوئی سوراخ باقی نہیں رہے گا جس میں سے راحت داخل ہوسکے اور غم خارج ہوسکے اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر انہیں بھول جائے گا جنتی نعمتوں سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے جہنمی اس کے بعد کبھی بھی مدد طلب نہ کرسکیں گے، گفتگو ختم ہوجائے گی ان کی گفتگو چیخ و پکار ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : انھا علیھم موصدۃ۔ فی عمد ممددۃ۔ کا یہی مفہوم ہے۔ قتادہ نے کہا : عمد کے ساتھ انہیں عذاب دی جائے گا ؛ طبری نے اسے اختیار کیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : عمد ممددۃ سے مراد ان کے گردنوں میں طوق ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : ان کے پاؤں میں بیڑیاں ہیں۔ یہ ابو صالح نے کہا۔ قشیری نے کہا کہ عمد سے مراد کو اڑوں کے کیل ہیں جو جہنمیوں پر بند کردیئے جائیں گے اور ان پر کیل لگا دیئے جائیں گے یہاں تک کہ ان کا غم اور گرمی جہنمیوں پر ہی لوٹے گی۔ تو ان پر کسی قسم کی راحت داخل نہیں ہوگی۔
ایک قول یہ کیا گیا : جہنم کے دروازے ان پر بند کردیئے جائیں گے جبکہ وہ بیڑیوں اور لمبے طوقوں میں جکڑے ہوں گے یہ چھوٹوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اس کے عذاب اور آلام میں انہیں اس کے ساتھ مارا جائے گا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے لمبا زمانہ جو ختم نہ ہو۔ فراء نے کہا : عمد اور عمد دونوں عمود کی جمع ہیں جس طرح ادیم کی جمع آدم اور ادم اور افیق کی جمع افق ہے اور فق آتی ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : عمد عماد کی جمع ہے، جس طرح اھاب کی جمع اھب اور اھب ہے۔ ابو عبیدہ نے عمد کو پسند کیا ہے اسی طرح ابو حاتم کی رائے ہے وہ اس آیت کریمہ سے استدلال کرتے ہیں رفع السموات بغیر عمد ترونھا۔ (الرعد) اس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ستونوں کے جن کو تم دیکھو۔
اس آیت میں علماء نے عمد پر اتفاق کیا ہے۔ جوہری نے کہا : العمود سے مراد گھر کے ستون ہوتے ہیں اس کی جمع قلت اعمدہ ہے جمع کثرت عمد اور عمد ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان، میں اس لفظ عمد کو دونوں طرح پڑھا گیا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : عمود ہر ایسی چیز کو کہتے ہیں جو لمبی ہو خواہ وہ لکڑی کی ہو یا لوہے کی ہو یہ تعمیر کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے جس طرح عماد کی حیثت ہوتی ہے جس طرح جملہ بولتے ہیں : عمدت الشی فانعمد میں نے اسے عماد کے ذریعے سیدھا کیا جس پر اس کا انحصار تھا۔ اعمدتہ یعنی میں نے اس کے نیچے ستون (سہارا والی چیز) بنائی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔