104. Surah Al-Humaza

الهمزةThe Traducer · 9 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 104:1–3

وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۙ Open ayah 104:1 in the Quran reader

کم بختی ہے پس پشت عیب جوئی کرنے والے کے لئے، اور طعنہ دینے والے کے لئے ،

اِ۟لَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ Open ayah 104:2 in the Quran reader

جو مال جمع کرتا (رہتا) ہو، اور اسے گنتا رہتا ہو،

یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗۚ Open ayah 104:3 in the Quran reader

وہ یہ خیال کررہا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا رہے گا،1۔

1۔ یعنی اس کے عمل سے تو ایسا ظاہر ہورہا ہے کہ گویا وہ اپنے مال، دولت، خزانہ کے خلود کا معتقد ہے، جبھی تو اسکے ساتھ اس درجہ اشتعال وانہماک رکھتا ہے۔ انسان دولت کثیر کے ساتھ ہی کیسے کیسے دور دراز کے منصوبے باندھنے اور کیسی کیسی لمبی اسکیمیں بنانے لگتا ہے اور زبان سے کہے یا نہ کہے لیکن بہرحال دل سے تو یہی سمجھنے لگتا ہے کہ اب حلال مشکلات میرے ہاتھ آگیا ہر افتاد کا توڑ اپنی اسی دولت کے زور سے کرلیاکروں گا قرآن مجید نے اپنے جامع وبلیغ لفظوں میں اس ساری بشری ذہینت کیطرف اشارہ کردیا۔ (آیت) ” ویل ..... المزہ “۔ اس میں اجتماعی زندگی کے دو (2) بڑے امراض، پس پشت عیب رکھنے۔ اور رو در رو طعنہ دینے کا علاج آگیا۔ (آیت) ” الذی ...... عددۃ “۔ اس میں اشارہ اس طرف آگیا کہ اجتماعی اخلاقی امراض کی بنیاد زیادہ ترکبر وبخل پر ہوتی ہے اور یہ عموما افرط وحب مال سے پیدا ہوتے ہیں۔ (آیت) ” جمع مالا “۔ غایت حرص وشدت بخل سے مال کے جمع رکھنے کی دھن میں لگا رہتا ہے۔ مال سے طبعی تعلق مذموم نہیں، مذموم اس تعلق میں غلو وانہماک ہے۔ (آیت) ” وعددہ “۔ بار بار کنتے اور حساب کرتے رہنا علامت و دلیل ہے غایب حب مال اور اس میں شغف وانہماک کی، بینک کی پاس بک کی باربار الٹ پلٹ کرتے رہنا، بیجک اور کھاتے اور سیا ہے کے پھیر میں دن رات پڑے رہنا سٹہ اور صرافہ اور (Share Market) کی خبروں کی ٹوہ میں ہر وقت لگے رہنا، یہ سب گننے ہی کے حکم میں داخل ہے مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جمع مال مذموم وہ ہے جو شغف اور محبت کے ساتھ ہو، اور اسی کے آثار میں سے یہ بار بار کا گننا بھی ہے۔
Ayahs 104:4–7

كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِ٘ۖ Open ayah 104:4 in the Quran reader

ہاں ہاں وہ ضرور توڑنے پھوڑنے والی آگ میں جھونکا جائے گا ،

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ Open ayah 104:5 in the Quran reader

اور آپ سمجھے کہ وہ توڑنے پھوڑنے والی آگ ہے کیا ؟

نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ Open ayah 104:6 in the Quran reader

وہ اللہ کی آگ ہے (اللہ کے حکم سے) ، سلگائی ہوئی

الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْئِدَةِؕ Open ayah 104:7 in the Quran reader

جو دلوں تک جاپہنچے گی،2۔

2۔ (اور چونکہ اللہ کے حکم سے سلگائی ہوئی ہے کسی کے بجھائے بجھ بھی نہ سکے گی) یہ سب تفصیل بیان ہورہی ہے آغاز سورت کے لفظ (آیت) ” ویل “ یعنی شامت اور کمبختی کی۔ (آیت) ” تطلع علی الافئدۃ “۔ دلوں تک معا جاپہنچنا، یہ بیان ہے اس آگ کی سرعت نفوذ وسرایت کا، (آیت) ” نار اللہ “۔ اضافت اظہار عظمت واہمیت خصوصی کے لئے ہے، یعنی وہ آگ اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی ہے، دنیا کی کسی آگ پر اسے قیاس نہ کرو، فالاضافۃ للتفخیم اے ھی نار لاکسائر النیران (کبیر) (آیت) ” الحطمۃ “۔ ایسی آگ کہ جو کڑی سی کڑی چیز بھی اس میں پڑے، اس کو بھی وہ توڑ پھوڑ کر رکھ دے۔
Ayahs 104:8–9

اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ Open ayah 104:8 in the Quran reader

وہ ان پر بدن کردی جائے گی ،

فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۠ Open ayah 104:9 in the Quran reader

بڑے بڑے لمبے ستونوں میں،3۔

3۔ یعنی آگ کے ایسے بڑے بڑے شعلے ہوں گے جیسے لمبے لمبے ستون، اور وہ لوگ ان میں مقید ہوں گے، (آیت) ” انھا علیھم مؤصدۃ “۔ یعنی ہر طرف سے دروازے بند کردیئے جائیں گے، دوزخیوں کے لئے کوئی راستہ نکلنے کا نہ رہے گا، ہمیشہ ہی وہیں پڑے جلتے رہیں گے۔