104. Surah Al-Humaza

الهمزةThe Traducer · 9 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

پہلی آیت کے لفظ ھمزۃ کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانہ نزول

زمانۂ نزول اس کے مکی ہونے پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے۔ اور اس کے مضمون اور انداز بیان پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ بھی مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے۔

موضوع اور مضمون

اس میں چند ایسی اخلاقی برائیوں کی مذمت کی گئی ہے جو جاہلیت کے معاشرے میں زرپرست مالداروں کے اندر پائی جاتی تھیں، جنہیں ہر عرب جانتا تھا کہ یہ برائیاں فی الواقع اس کے معاشرے میں موجود ہیں، اور جن کو سب ہی برا سمجھتے تھے، کسی کا بھی یہ خیال نہ تھا کہ یہ کوئی خوبیاں ہیں۔ اس گھناؤنے کردار کو پیش کرنے کے بعد یہ بتایا گیا ہے کہ آخرت میں ان لوگوں کا کیا انجام ہوگا جن کا یہ کردار ہے۔ یہ دونوں باتیں (یعنی ایک طرف یہ کردار اور دوسری طرف آخرت میں اس کا یہ انجام) ایسے انداز سے بیان کی گئی ہیں جس سے سامع کا ذہن خود بخود اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ اس طرح کے کردار کا یہی انجام ہونا چاہیے، اور چونکہ دنیا میں ایسے کردار والوں کو کوئی سزا نہیں ملتی، بلکہ وہ پھلتے پھولتے نظر آتے ہیں، اس لیے آخرت کا برپا ہونا قطعی ناگزیر ہے۔ اس سورت کو اگر ان سورتوں کے تسلسل میں رکھ کر دیکھا جائے جو سورة زلزال سے یہاں تک چلی آ رہی ہيں تو آدمی بڑی اچھی طرح یہ سمجھ سکتا ہے کہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور میں کس طریقہ سے اسلام کے عقائد اور اس کی اخلاقی تعلیمات کو لوگوں کے ذہن نشین کیا گيا تھا۔ سورة زلزال میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں انسان کا پورا نامۂ اعمال اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور کوئی ذرہ برابری نیکی یا بدی بھی ایسی نہ ہوگی جو اس نے دنیا میں کی ہو اور وہاں اس کے سامنے نہ آجائے۔ سورة عادیات میں اس لوٹ مار، کشت و خون اور غارت گری کی طرف اشارہ کیا گیا جو عرب میں ہر طرف برپا تھی، پھر یہ احساس دلانے کے بعد کہ خدا کی دی ہوئی طاقتوں کا یہ استعمال اس کی بہت بڑی ناشکری ہے، لوگوں کو یہ بتایا گیا کہ معاملہ اسی دنیا میں ختم نہیں ہوجائے گا، بلکہ موت کے بعد دوسری زندگی میں تمہارے افعال ہی کی نہیں، تمہاری نیتوں تک کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون آدمی کس سلوک کا مستحق ہے۔ سورة قارعہ میں قیامت کا نقشہ پیش کرنے کے بعد لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ آخرت میں انسان کے اچھے یا برے انجام کا انحصار اس پر ہوگا کہ اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے یا ہلکا۔ سورة تکاثر میں اس مادہ پرستانہ ذہنیت پر گرفت کی گئی ہے جس کی وجہ سے لوگ مرتے دم تک بس دنیا کے فائدے اور لذتیں اور عیش و آرام اور جاہ و منزلت زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے اور ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، پھر اس غفلت کے برے انجام سے آگاہ کر کے لوگوں کو بتایا گیا کہ یہ دنیا کوئی خوان یغما نہیں ہے کہ اس پر تم جتنا اور جس طرح چاہو ہاتھ مارو، بلکہ ایک ایک نعمت جو تمہیں یہاں مل رہی ہے اس کے لیے تمہیں اپنے رب کو جواب دینا ہوگا کہ اسے تم نے کیسے حاصل کیا اور حاصل کر کے اس کو کس طرح استعمال کیا۔ سورة عصر میں بالکل دو ٹوک طریقے سے بتادیا گیا کہ نوع انسانی کا ایک ایک فرد، ایک ایک گروہ، ایک ایک قوم، حتٰی کہ پوری دنیائے انسانیت خسارے میں ہے اگر اس کے افراد میں ایمان و عمل صالح نہ ہو اور اس کے معاشرے میں حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کا رواج عام نہ ہو۔ اس کے معاً بعد سورة ھمزہ آتی ہے جس میں جاہلیت کی سرداری کا ایک نمونہ پیش کر کے لوگوں کے سامنے گویا یہ سوال رکھ دیا گیا کہ یہ کردار آخر خسارے کا موجب کیوں نہ ہو ؟

Ayah 104:1

وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۙ Open ayah 104:1 in the Quran reader

تباہی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو (مُنہ در مُنہ) لوگوں پر طعن اور (پیٹھ پیچھے) بُرائیاں کرنے کا خوگر ہے۔ 1

سورة الھمزۃ 1 اصل الفاظ ہیں هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ۔ عربی زبان میں ھمز اور لمز معنی کے اعتبار سے باہم اتنے قریب ہیں کہ کبھی دونوں ہم معنی استعمال ہوتے ہیں اور کبھی دونوں میں فرق ہوتا ہے، مگر ایسا فرق کہ خود اہل زبان میں سے کچھ لوگ ھمز کا جو مفہوم بیان کرتے ہیں، کچھ دوسرے لوگ وہی مفہوم لمز کا بیان کرتے ہیں، اور اس کے برعکس کچھ لوگ لمز کے جو معنی بیان کرتے ہیں وہ دوسرے لوگوں کے نزدیک ھمز کے معنی ہیں۔ یہاں چونکہ دونوں لفظ ایک ساتھ آئے ہیں اور هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اس لیے دونوں ملکر یہ معنی دیتے ہیں کہ اس شخص کی عادت ہی یہ بن گئی ہے کہ وہ دوسروں کی تحقیر و تذلیل کرتا ہے، کسی کو دیکھ کر انگلیاں اٹھاتا اور آنکھوں سے اشارے کرتا ہے، کسی کے نسب پر طعن کرتا ہے، کسی کی ذات میں کیڑے نکالتا ہے، کسی پر منہ در منہ چوٹیں کرتا ہے، کسی کے پیٹھ پیچھے اس کی برائیاں کرتا ہے، کہیں چغلیاں کھا کر اور لگائی بجھائی کر کے دوستوں کو لڑواتا اور کہیں بھائیوں میں پھوٹ ڈلواتا ہے، لوگوں کے برے برے نام رکھتا ہے، ان پر چوٹیں کرتا ہے اور ان کو عیب لگاتا ہے۔
Ayah 104:2

اِ۟لَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ Open ayah 104:2 in the Quran reader

جس نے مال جمع کیا اور اُسے گِن گِن کر رکھا۔ 2

سورة الھمزۃ 2 پہلے فقرے کے بعد یہ دوسرا فقرہ خود بخود یہ معنی دیتا ہے کہ لوگوں کی یہ تحقیر و تذلیل وہ اپنی مال داری کے غرور میں کرتا ہے۔ مال جمع کرنے کے لیے جَمَعَ مَالًا کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن سے مال کی کثرت کا مفہوم نکلتا ہے۔ پھر گن گن کر رکھنے کے الفاظ سے اس شخص کے بخل اور زر پرستی کی تصویر نگاہوں کے سامنے آجاتی ہے۔
Ayah 104:3

یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗۚ Open ayah 104:3 in the Quran reader

وہ سمجھتا ہے کہ اُس کا مال ہمیشہ اُس کے پاس رہے گا۔ 3

سورة الھمزۃ 3 دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ سمجھتا ہے اس کا مال اسے حیات جاوداں بخش دے گا، یعنی دولت جمع کرنے اور اسے گن گن کر رکھنے میں وہ ایسا منہمک ہے کہ اسے اپنی موت یاد نہیں رہی ہے اور اسے کبھی یہ خیال بھی نہیں آتا کہ ایک وقت اس کو یہ سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہوجانا پڑے گا۔
Ayahs 104:4–5

كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِ٘ۖ Open ayah 104:4 in the Quran reader

ہرگز نہیں، وہ شخص تو چَکنا چُور کر دینے والی 4 جگہ میں پھینک دیا جائے گا۔ 5

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ Open ayah 104:5 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ چکنا چور کر دینے والی جگہ؟

سورة الھمزۃ 4 اصل میں لفظ حطمہ استعمال کیا گیا ہے جو حطم سے ہے۔ حطم کے معنی توڑنے، کچل دینے اور ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے کے ہیں۔ جہنم کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جو چیز بھی اس میں پھینکی جائے گی سے وہ اپنی گہرائی اور اپنی آگ کی وجہ سے توڑ کر رکھ دے گی۔ سورة الھمزۃ 5 اصل میں لَيُنْۢبَذَنَّ فرمایا گیا ہے۔ نبذ عربی زبان میں کسی چیز کو بےوقعت اور حقیر سمجھ کر پھینک دینے کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس سے خودبخود یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اپنی مال داری کی وجہ سے وہ دنیا میں اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا ہے، لیکن قیامت کے روز اسے حقارت کے ساتھ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
Ayah 104:6

نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ Open ayah 104:6 in the Quran reader

اللہ کی آگ، 6 خُوب بھڑکائی ہوئی

سورة الھمزۃ 6 قرآن مجید میں اس مقام کے سوا اور کہیں جہنم کی آگ کو اللہ کی آگ نہیں کہا گیا ہے۔ اس مقام پر اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے سے نہ صرف اس کی ہولناکی کا اظہار ہوتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی دولت پا کر غرور وتکبر میں مبتلا ہوجانے والوں کو اللہ کس قدر سخت نفرت اور غضب کی نگاہ سے دیکھتا ہے جس کی وجہ سے اس نے اس آگ کو خاص اپنی آگ کہا ہے جس میں وہ پھینکے جائیں گے۔
Ayah 104:7

الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْئِدَةِؕ Open ayah 104:7 in the Quran reader

جو دلوں تک پہنچے گی۔ 7

سورة الھمزۃ 7 اصل الفاظ ہیں تـطَّلِــعُ عَلَي الْاَفْــِٕدَةِ۔ تطلع اطلاع سے ہے جس کے ایک معنی چڑھنے اور اوپر پہنچ جانے کے ہیں، اور دوسرے معنی باخبر ہونے اور اطلاع پانے کے۔ افئدۃ فواد کی جمع ہے جس کے معنی دل کے ہیں، لیکن یہ لفظ اس عضو کے لیے استعمال نہیں ہوتا جو سینے کے اندر دھڑکتا ہے، بلکہ اس مقام کے لیے استعمال ہوتا ہے جو انسان کے شعور و ادراک اور جذبات و خواہشات اور عقائد و افکار، اور نیتوں اور ارادوں کا مقام ہے۔ دلوں تک اس آگ کے پہنچنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ آگ اس جگہ تک پہنچے گی جو انسان کے برے خیالات، فاسد عقائد، ناپاک خواہشات و جذبات، خبیث نیتوں اور ارادوں کا مرکز ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی وہ آگ دنیا کی آگ کی طرح اندھی نہیں ہوگی کہ مستحق اور غیر مستحق سب کو جلا دے بلکہ وہ ایک ایک مجرم کے دل تک پہنچ کر اس کے جرم کی نوعیت معلوم کرے گی اور ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق عذاب دے گی۔
Ayah 104:8

اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ Open ayah 104:8 in the Quran reader

وہ اُن پر ڈھانک کر بند کر دی جائے گی 8

سورة الھمزۃ 8 یعنی جہنم میں مجرموں کو ڈال کر اوپر سے اس کو بند کردیا جائے گا۔ کوئی دروازہ تو درکنار کوئی جھری تک کھلی ہوئی نہ ہوگی۔
Ayah 104:9

فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۠ Open ayah 104:9 in the Quran reader

(اِس حالت میں کہ وہ) اُونچے اُونچے ستونوں میں (گھِرے ہوئے ہوں گے)۔ 9

سورة الھمزۃ 9 فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جہنم کے دروازوں کو بند کر کے ان پر اونچے اونچے ستون گاڑ دیے جائیں گے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ مجرم اونچے اونچے ستونوں سے بندھے ہوئے ہوں گے۔ تیسرا مطلب ابن عباس نے یہ بیان کیا ہے کہ اس آگ کے شعلے لمبے ستونوں کی شکل میں اٹھ رہے ہوں گے۔